#2926
Sahih
It was narrated that ‘Aishah said:“I put perfume on the Messenger of Allah (ﷺ) for his Ihram before he entered into it, and when he exited Ihram before he returned.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام کے وقت احرام باندھنے سے قبل خوشبو لگائی، اور احرام کھولنے کے وقت بھی طواف افاضہ کرنے سے پہلے۔ سفیان کی روایت میں یہ بھی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: خوشبو میں نے اپنے انہی دونوں ہاتھوں سے لگائی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ - قَالَ سُفْيَانُ - بِيَدَىَّ هَاتَيْنِ .
#2927
Sahih
It was narrated that ‘Aishah said:“It is as if I can see the races of perfume in the parting (of hair) of the Messenger of Allah (ﷺ), while he is reciting the Talbiyah.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، اور آپ لبیک کہہ رہے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ يُلَبِّي .
#2928
Daif
It was narrated that ‘Aishah said:“It is as if I can see the traces of perfume in the parting (of hair) of the Messenger of Allah (ﷺ) after three days, and he was a Muhrim.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ گویا میں تین دن بعد تک خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، اور آپ احرام کی حالت میں ہیں۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَأَنِّي أَرَى وَبِيصَ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بَعْدَ ثَلاَثَةٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ .
#2929
Sahih
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that a man asked the Messenger of Allah (ﷺ), what clothes may the Muhrim wear? The Messenger of Allah (ﷺ) said:“He should not wear a shirt, or turbans (or head cover), pants or pajamas, hooded cloaks and no leather socks, unless he cannot find sandals, in which case he may wear leather socks but should cut them to below the ankles. And he should not wear any clothes that have been touched (dyed) with saffron or Wars.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: محرم کون سے کپڑے پہنے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: قمیص، عمامے ( پگڑیاں ) ، پاجامے، ٹوپیاں، اور موزے نہ پہنے، البتہ اگر جوتے میسر نہ ہوں تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کر لے، اور کوئی ایسا لباس بھی نہ پہنے جس میں زعفران یا ورس لگی ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ يَلْبَسُ الْقُمُصَ وَلاَ الْعَمَائِمَ وَلاَ السَّرَاوِيلاَتِ وَلاَ الْبَرَانِسَ وَلاَ الْخِفَافَ إِلاَّ أَنْ لاَ يَجِدَ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ وَلاَ تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ أَوِ الْوَرْسُ " .
#2930
Sahih
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Umar said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade the Muhrim to wear a garment dyed with Wars or saffron.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو ورس ( خوشبودار گھاس ) اور زعفران سے رنگا کپڑا پہننے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِوَرْسٍ أَوْ زَعْفَرَانٍ .
#2931
Sahih
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“I heard the Prophet (ﷺ) delivering a sermon – (one of the narrators) Hisham said: ‘On the pulpit’ – and he said: ‘Whoever does not have a waist wrap, let him wear pants or pajamas, and whoever does not have sandals, let him wear leather socks.’” In his narration, Hisham said: “If he does not find any, then let him wear pants or pajamas.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا ( ہشام نے اپنی روایت میں منبر پر کا اضافہ کیا ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے تہ بند میسر نہ ہو تو وہ پاجامہ پہن لے، اور جسے جوتے نہ مل سکیں وہ موزے پہن لے ، ہشام اپنی روایت میں کہتے ہیں: وہ پاجامے پہنے جب تہ بند نہ ہو ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَخْطُبُ - قَالَ هِشَامٌ عَلَى الْمِنْبَرِ - فَقَالَ " مَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ وَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ " . وَقَالَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ " فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ إِلاَّ أَنْ يَفْقِدَ " .
#2932
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever does not have sandals let him wear leather socks, and let him cut them to below the ankle.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو جوتے نہ پائے تو وہ موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کر لے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ " .
#2933
Hasan
It was narrated that Asma’ bint Abu Bakr said:“We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) until, when we were in ‘Arj, we stopped to camp. The Messenger of Allah (ﷺ) sat, with ‘Aishah by his side, and I was sitting beside Abu Bakr. Our mount* and the mount of Abu Bakr was one, under the care of the slave of Abu Bakr. The slave looked and his camel was not with him, so he said to him: ‘Where is your camel?’ He said: ‘I lost it yesterday.’ He said: ‘You have one camel with you and you lost it?’ He started to beat him, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Look at what this Muhrim is doing!’”
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج کے لیے ) نکلے، جب مقام عرج میں پہنچے تو ہم نے پڑاؤ ڈال دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس بیٹھ گئیں، اور میں ( اپنے والد ) ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس، اس سفر میں میرا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سامان اٹھانے والا اونٹ ایک تھا جو ابوبکر کے غلام کے ساتھ تھا، اتنے میں غلام آیا، اس کے ساتھ اونٹ نہیں تھا تو انہوں نے اس سے پوچھا: تمہارا اونٹ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا: کل رات کہیں غائب ہو گیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تمہارے ساتھ ایک ہی اونٹ تھا، اور وہ بھی تم نے گم کر دیا، پھر وہ اسے مارنے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: دیکھو اس محرم کو کیا کر رہا ہے ؟ ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ نَزَلْنَا فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَعَائِشَةُ إِلَى جَنْبِهِ وَأَنَا إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ وَكَانَتْ زِمَالَتُنَا وَزِمَالَةُ أَبِي بَكْرٍ وَاحِدَةً مَعَ غُلاَمِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ فَطَلَعَ الْغُلاَمُ وَلَيْسَ مَعَهُ بَعِيرُهُ فَقَالَ لَهُ أَيْنَ بَعِيرُكَ قَالَ أَضْلَلْتُهُ الْبَارِحَةَ . قَالَ مَعَكَ بَعِيرٌ وَاحِدٌ تُضِلُّهُ قَالَ فَطَفِقَ يَضْرِبُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْمُحْرِمِ مَا يَصْنَعُ " .
#2934
Sahih
It was narrated from Ibrahim bin ‘Abdullah bin Hunain, from his father, that ‘Abdullah bin ‘Abbas and Miswar bin Makhramah disagreed at Abwa’. Abdullah bin ‘Abbas said that the Muhrim may wash his head, and Miswar said that the Muhrim may not wash his head. Ibn ‘Abbas sent me to Abu Ayyub Al-Ansari to ask him about that, and I found him taking a bath near the well, screened with a piece of cloth. I greeted him with Salam, and he said:“Who is this?” I said: “I am ‘Abdullah bin Hunain. ‘Abdullah bin ‘Abbas sent me to you to ask you how the Messenger of Allah (ﷺ) used to wash his head when he was in Ihram.” He said: “Abu Ayyub put his hand on the cloth and lowered it until his head appeared, then he said to someone who was pouring water for him, Pour water. So he poured water on his head. Then he rubbed his head with his hands, forwards and backwards, and said: ‘This is what I saw him (ﷺ) doing.’”
عبداللہ بن حنین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم کے درمیان مقام ابواء میں اختلاف ہوا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: محرم اپنا سر دھو سکتا ہے، اور مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں دھو سکتا، چنانچہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، تاکہ میں ان سے اس سلسلے میں معلوم کروں، میں نے انہیں کنویں کے کنارے دو لکڑیوں کے درمیان ایک کپڑے کی آڑ لیے ہوئے نہاتے پایا، میں نے سلام عرض کیا، تو انہوں نے پوچھا: کون ہے؟ میں نے کہا: میں عبداللہ بن حنین ہوں، مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ میں آپ سے معلوم کروں کہ حالت احرام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو کیسے دھوتے تھے، ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا اور اسے جھکایا یہاں تک کہ مجھے ان کا سر دکھائی دینے لگا، پھر ایک شخص سے جو پانی ڈال رہا تھا، کہا: پانی ڈالو، تو اس نے آپ کے سر پر پانی ڈالا، پھر آپ نے اپنے ہاتھوں سے سر کو ملا، اور دونوں ہاتھ سر کے آگے سے لے گئے، اور پیچھے سے لائے، پھر بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، اخْتَلَفَا بِالأَبْوَاءِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ . وَقَالَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ لاَ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ . فَأَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ وَهُوَ يَسْتَتِرُ بِثَوْبٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَنْ هَذَا قُلْتُ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُنَيْنٍ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ قَالَ فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ حَتَّى بَدَا لِي رَأْسُهُ ثُمَّ قَالَ لإِنْسَانٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ اصْبُبْ . فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ . ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُهُ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَفْعَلُ .
#2935
Daif
It was narrated that ‘Aishah said:“We were with the Prophet (ﷺ), and we were in Ihram. When a rider met us we would lower our garments from the top of our heads, and when he has gone, we would lift them up again.” Another chain reports a similar hadith
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام کی حالت میں تھے، جب ہمیں کوئی سوار ملتا تو ہم اپنا کپڑا اپنے سروں کے اوپر سے لٹکا لیتے، اور جب سوار آگے بڑھ جاتا تو ہم اسے اٹھا لیتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ "كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَإِذَا لَقِيَنَا الرَّاكِبُ أَسْدَلْنَا ثِيَابَنَا مِنْ فَوْقِ رُءُوسِنَا فَإِذَا جَاوَزَنَا رَفَعْنَاهَا". حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِنَحْوِهِ .
#2936
Sahih
It was narrated from Abu Bakr bin ‘Abdullah bin Zubair from his grandmother – he (the narrator) said:“I do not know if it was Asma’ bint Abu Bakr or Su’da bint ‘Awf’ – that the Messenger of Allah (ﷺ) entered upon Duba’ah bint ‘Abdul-Muttalib and said: “What is keeping you, O my aunt, from performing Hajj?” She said: “I am a sick woman, and I am afraid of being prevented (from completing Hajj).” He said: ‘Enter Ihram and stipulate the condition that you will exit Ihram from the point where you are prevented.’”
ابوبکر بن عبداللہ بن زبیر اپنی جدّہ (دادی یا نانی) سے روایت کرتے ہیں (راوی کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ وہ اسماء بنت ابی بکر ہیں یا سعدیٰ بنت عوف) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا: پھوپھی جان! حج کرنے میں آپ کے لیے کون سی چیز رکاوٹ ہے ؟ انہوں نے عرض کیا: میں ایک بیمار عورت ہوں اور مجھے اندیشہ ہے کہ میں پہنچ نہیں سکوں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ احرام باندھ لیں اور شرط کر لیں کہ جس جگہ بہ سبب بیماری آگے نہیں جا سکوں گی، وہیں حلال ہو جاؤں گی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ جَدَّتِهِ، - قَالَ لاَ أَدْرِي أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَوْ سُعْدَى بِنْتِ عَوْفٍ . أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ دَخَلَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ " مَا يَمْنَعُكِ يَا عَمَّتَاهُ مِنَ الْحَجِّ " . فَقَالَتْ أَنَا امْرَأَةٌ سَقِيمَةٌ وَأَنَا أَخَافُ الْحَبْسَ . قَالَ " فَأَحْرِمِي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلَّكِ حَيْثُ حُبِسْتِ " .
#2937
Sahih
It was narrated that Duba’ah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon me when I was unwell. He said: ‘Do you intend to perform Hajj this year?’ I said: ‘I am sick, O Messenger of Allah.’ He said: ‘Go for Hajj and say: “I will exit Ihram from the point where I am prevented.’”
ضباعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میں اس وقت بیمار تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا امسال آپ کا ارادہ حج کرنے کا نہیں ہے ؟ میں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں بیمار ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج کرو اور یوں ( نیت میں ) کہو: اے اللہ جہاں تو مجھے روک دے گا میں وہیں حلال ہو جاؤں گی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، وَوَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ضُبَاعَةَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَنَا شَاكِيَةٌ فَقَالَ " أَمَا تُرِيدِينَ الْحَجَّ الْعَامَ " قُلْتُ إِنِّي لَعَلِيلَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " حُجِّي وَقُولِي مَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي " .
#2938
Sahih
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:Duba’ah bint Zubair bin ‘Abdul- Muttalib came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: “I am a heavy woman and I want to go for Hajj. How should I enter Ihram?” He said: “Enter Ihram and stipulate the condition that you will exit Ihram from the point where you are prevented.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں ایک بھاری بھر کم عورت ہوں، اور میں حج کا ارادہ بھی رکھتی ہوں، تو میں تلبیہ کیسے پکاروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم تلبیہ پکارو اور ( اللہ سے ) شرط کر لو کہ جہاں تو مجھے روکے گا، میں وہیں حلال ہو جاؤں گی ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا، وَعِكْرِمَةَ، يُحَدِّثَانِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَتْ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَكَيْفَ أُهِلُّ قَالَ " أَهِلِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي " .
#2939
Daif
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Abbas said:“The Prophets used to enter the Haram walking barefoot. They would circumambulate the House and complete all the rituals barefoot and walking.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انبیاء کرام ( علیہ السلام ) حرم میں پیدل اور ننگے پاؤں داخل ہوتے تھے، اور بیت اللہ کا طواف کرتے تھے، اور حج کے سارے ارکان ننگے پاؤں اور پیدل چل کر ادا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ صَبِيحٍ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ حَسَّانَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَتِ الأَنْبِيَاءُ تَدْخُلُ الْحَرَمَ مُشَاةً حُفَاةً وَيَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ وَيَقْضُونَ الْمَنَاسِكَ حُفَاةً مُشَاةً .
#2940
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) used to enter Makkah from the upper mountain pass and when he left, he would leave from the lower mountain pass
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں «ثنية العليا» بلند گھاٹی سے داخل ہوتے، اور جب نکلتے تو «ثنية السفلى» نشیبی گھاٹی سے نکلتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَدْخُلُ مَكَّةَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا وَإِذَا خَرَجَ خَرَجَ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى .
#2941
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet (ﷺ) entered Makkah by day
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دن میں داخل ہوئے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ دَخَلَ مَكَّةَ نَهَارًا .
#2942
Sahih
It was narrated that Usamah bin Zaid said:“I said: ‘O Messenger of Allah, where will you stay tomorrow?’ That was during his Hajj. He said: ‘Has ‘Aqil left us any house?’ Then he said: ‘Tomorrow we will stay in the valley of Banu Kinanah, Muhassab where the Quraish swore an oath of disbelief.’” That was where the Banu Kinana had sworn an oath with the Quriash against Banu Hashim, that they would not intermarry with them or engage in trade with them. Ma’mar said: “Zuhri said: Khaif means a valley.’”
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کل ( مکہ میں ) کہاں اتریں گے؟ یہ بات آپ کے حج کے دوران کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر باقی چھوڑا ہے ؟ ۱؎ پھر فرمایا: ہم کل «خیف بنی کنانہ» یعنی محصب میں اتریں گے، جہاں قریش نے کفر پر قسم کھائی تھی، اور وہ یہ تھی کہ بنی کنانہ نے قریش سے عہد کیا تھا کہ وہ بنی ہاشم سے نہ تو شادی بیاہ کریں گے اور نہ ان سے تجارتی لین دین ۲؎۔ زہری کہتے ہیں کہ «خیف» وادی کو کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا وَذَلِكَ فِي حَجَّتِهِ قَالَ " وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلاً " . ثُمَّ قَالَ " نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ - يَعْنِي الْمُحَصَّبَ - حَيْثُ قَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْكُفْرِ " . وَذَلِكَ أَنَّ بَنِي كِنَانَةَ حَالَفَتْ قُرَيْشًا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنْ لاَ يُنَاكِحُوهُمْ وَلاَ يُبَايِعُوهُمْ . قَالَ مَعْمَرٌ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَالْخَيْفُ الْوَادِي .
#2943
Sahih
It was narrated that ‘Abdullah bin Sarjis said:“I saw the bald forehead of ‘Umar bin Khattab when he kissed the Black Stone and said: ‘I am kissing you, although I know that you are only a stone and you can neither cause harm nor bring benefit. Had I not seen the Messenger of Allah (ﷺ) kissing you, I would not have kissed you.’”
عبداللہ بن سرجس کہتے ہیں کہ میں نے «اصیلع» یعنی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کو چوم رہے تھے، اور کہہ رہے تھے: میں تجھے چوم رہا ہوں حالانکہ مجھے معلوم ہے کہ تو ایک پتھر ہے، جو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے نہ فائدہ، اور میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے نہ چومتا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ رَأَيْتُ الأُصَيْلِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ وَيَقُولُ إِنِّي لأُقَبِّلُكَ وَإِنِّي لأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لاَ تَضُرُّ وَلاَ تَنْفَعُ وَلَوْلاَ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ .
#2944
Sahih
It was narrated that Sa’eed bin Jubair said:I heard Ibn ‘Abbas say: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “This Stone will be brought on the Day of Resurrection, and it will be given two eyes with which to see, and a tongue with which to speak, and it will bear witness for those who touched it in sincerity.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پتھر قیامت کے دن آئے گا اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھ رہا ہو گا، ایک زبان ہو گی جس سے وہ بول رہا ہو گا، اور گواہی دے گا اس شخص کے حق میں جس نے حق کے ساتھ اسے چھوا ہو گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ الرَّازِيُّ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لَيَأْتِيَنَّ هَذَا الْحَجَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ يَشْهَدُ عَلَى مَنْ يَسْتَلِمُهُ بِحَقٍّ " .
#2945
Very Daif
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“The Messenger of Allah (ﷺ) turned to face the Stone, then he put his lips on it and wept for a long time. Then he turned and saw ‘Umar bin Khattab weeping. He said: ‘O ‘Umar, this is the place where tears should be shed.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کی طرف رخ کیا، پھر اپنے دونوں ہونٹ اس پر رکھ دئیے، اور دیر تک روتے رہے، پھر ایک طرف نظر اٹھائی تو دیکھا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی رو رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! اس جگہ آنسو بہائے جاتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا خَالِي، يَعْلَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْحَجَرَ ثُمَّ وَضَعَ شَفَتَيْهِ عَلَيْهِ يَبْكِي طَوِيلاً ثُمَّ الْتَفَتَ فَإِذَا هُوَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَبْكِي فَقَالَ " يَا عُمَرُ هَاهُنَا تُسْكَبُ الْعَبَرَاتُ " .
#2946
Sahih
It was narrated from Salim bin ‘Abdullah that his father said:“The Messenger of Allah (ﷺ) did not touch the corners of the Ka’bah apart from the Black Corner (i.e., the corner where the Black Stone is) and the one that is next to it facing the houses of Banu Jumah (i.e., the Yemenite Corner).”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بجز حجر اسود اور اس کے جو اس سے قریب ہے یعنی رکن یمانی جو بنی جمح کے محلے کی طرف ہے بیت اللہ کے کسی کونے کا استلام نہیں فرماتے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَسْتَلِمُ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ إِلاَّ الرُّكْنَ الأَسْوَدَ وَالَّذِي يَلِيهِ مِنْ نَحْوِ دُورِ الْجُمَحِيِّينَ .
#2947
Hasan
It was narrated that Safiyyah bint Shaibah said:“When the Messenger of Allah (ﷺ) saw that things had settled down, in the year of the Conquest (of Makkah), he performed Tawaf on his camel, touching the corner with a staff in his hand. Then he entered the House and found a dove made of aloeswood. He broke it, then he stood at the door of the Ka’bah and threw it out, and I was watching him.”
صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب فتح مکہ کے سال اطمینان ہوا تو آپ نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، آپ حجر اسود کا استلام ایک لکڑی سے کر رہے تھے جو آپ کے ہاتھ میں تھی، پھر کعبہ میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ اس میں لکڑی کی بنی ہوئی کبوتر کی مورت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے توڑ دیا، پھر کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور اسے پھینک دیا، اس وقت میں آپ کو دیکھ رہی تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، قَالَتْ لَمَّا اطْمَأَنَّ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَامَ الْفَتْحِ طَافَ عَلَى بَعِيرِهِ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ بِيَدِهِ ثُمَّ دَخَلَ الْكَعْبَةَ فَوَجَدَ فِيهَا حَمَامَةَ عَيْدَانٍ فَكَسَرَهَا ثُمَّ قَامَ عَلَى بَابِ الْكَعْبَةِ فَرَمَى بِهَا وَأَنَا أَنْظُرُهُ .
#2948
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet (ﷺ) performed Tawaf on a camel during the Farewell Pilgrimage, touching the corner with a staff
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، اور آپ ایک چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ طَافَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ .
#2949
Sahih
Ma’ruf bin Kharrabudh Al-Makki narrated:“I heard Abu Tufail, ‘Amir bin Wathilah, say: ‘I saw the Prophet (ﷺ) performing Tawaf on his camel, touching the corner with his staff and kissing the staff.’”
ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سواری پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا، آپ حجر اسود کا استلام چھڑی سے کر رہے تھے، اور چھڑی کا بوسہ لے رہے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا مَعْرُوفُ بْنُ خَرَّبُوذَ الْمَكِّيُّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ، عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنِهِ وَيُقَبِّلُ الْمِحْجَنَ .
#2950
Sahih
It was narrated from Nafi’, from Ibn ‘Umar that when the Messenger of Allah (ﷺ) performed Tawaf around the House for the first time, he walked briskly with short steps in the first three circuits, and walked normally in the last four, starting and ending at the Hijr.* And Ibn ‘Umar used to do that
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ کا پہلا طواف ( طواف قدوم ) کرتے تو تین چکروں میں رمل کرتے ( یعنی طواف میں قریب قریب قدم رکھ کے تیز چلتے ) اور چار چکروں میں عام چال چلتے اور یہ چکر حجر اسود پر شروع کر کے حجر اسود پر ہی ختم کرتے، ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ الطَّوَافَ الأَوَّلَ رَمَلَ ثَلاَثَةً وَمَشَى أَرْبَعَةً مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ .