#2626
Hasan
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from this father, from his grandfather that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever kills deliberately, he will be handed over to the heirs of the victim. If they want, they may kill him, or if they want, they may accept the blood money, which is thirty Hiqqah, thirty Jadha'ah and forty Khalifah. This is the blood money for deliberate slaying. Whatever is settled by reconciliation belongs to them, and that is a binding covenant.”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قصداً کسی کو قتل کر دیا، تو قاتل کو مقتول کے وارثوں کے حوالہ کر دیا جائے گا، وہ چاہیں تو اسے قتل کر دیں، اور چاہیں تو دیت لے لیں، دیت ( خوں بہا ) میں تیس حقہ، تیس جذعہ اور چالیس حاملہ اونٹنیاں ہیں، قتل عمد کی دیت یہی ہے، اور باہمی صلح سے جو بھی طے پائے وہ مقتول کے ورثاء کو ملے گا، اور سخت دیت یہی ہے۔ ۱؎
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قَتَلَ عَمْدًا دُفِعَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْقَتِيلِ فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوا وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ وَذَلِكَ ثَلاَثُونَ حِقَّةً وَثَلاَثُونَ جَذَعَةً وَأَرْبَعُونَ خَلِفَةً وَذَلِكَ عَقْلُ الْعَمْدِ مَا صُولِحُوا عَلَيْهِ فَهُوَ لَهُمْ وَذَلِكَ تَشْدِيدُ الْعَقْلِ " .
#2627
Sahih
It was narrated from Abdullah bin 'Amr that the Prophet (ﷺ) said:“Killing by mistake that resembles intentionally, is killing with a whip or stick, for which the blood money is one hundred camels, of which forty should be pregnant she-camels in middle of their pregnancies, with their young in their wombs.” Another chain reports a similar hadith
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمداً و قصداً قتل کے مشابہ یعنی غلطی سے قتل کیا جانے والا وہ ہے جو کوڑے یا ڈنڈے سے مر جائے، اس میں سو اونٹ دیت ( خون بہا ) کے ہیں جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " قَتِيلُ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ قَتِيلُ السَّوْطِ وَالْعَصَا مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ أَرْبَعُونَ مِنْهَا خَلِفَةً فِي بُطُونِهَا أَوْلاَدُهَا " . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
#2628
Hasan
It was narrated from Ibn Umar that :the Messenger of Allah (ﷺ) stood up on the Day of the conquest of Makkah, on the steps of the Ka'bah. He praised and glorified Allah (SWT), then he said: “Praise is to Allah (SWT) who has fulfilled His promise, granted victory to His slave and defeated the Confederates alone. The one who is killed by mistake is the one who is killed with a whip or a stick; for him the blood money is one hundred camels, of which forty should be pregnant she-camels with their youngs in their wombs. Every custom of Ignorance period, and every blood claim, is beneath these two feet of mine (i.e. is abolished), except for the custodianship of the Ka'bah and the provision of water for the pilgrims, which I confirm still belong to the people to whom they belonged before.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی سیڑھیوں پر کھڑے ہوئے، اللہ کی تعریف کی، اس کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی، اور کفار کے گروہوں کو اس نے اکیلے ہی شکست دے دی، آگاہ رہو! غلطی سے قتل ہونے والا وہ ہے جو کوڑے اور لاٹھی سے مارا جائے، اس میں ( دیت کے ) سو اونٹ لازم ہیں، جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں ان کے پیٹ میں بچے ہوں، خبردار! زمانہ جاہلیت کی ہر رسم اور اس میں جو بھی خون ہوا ہو سب میرے ان پیروں کے تلے ہیں ۱؎ سوائے بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کو پانی پلانے کے، سن لو! میں نے ان دونوں چیزوں کو انہیں کے پاس رہنے دیا ہے جن کے پاس وہ پہلے تھے ۲؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، سَمِعَهُ مِنَ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَهُوَ عَلَى دَرَجِ الْكَعْبَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ فَقَالَ " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ أَلاَ إِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ قَتِيلَ السَّوْطِ وَالْعَصَا فِيهِ مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ مِنْهَا أَرْبَعُونَ خَلِفَةً فِي بُطُونِهَا أَوْلاَدُهَا أَلاَ إِنَّ كَلَّ مَأْثُرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَدَمٍ تَحْتَ قَدَمَىَّ هَاتَيْنِ إِلاَّ مَا كَانَ مِنْ سِدَانَةِ الْبَيْتِ وَسِقَايَةِ الْحَاجِّ أَلاَ إِنِّي قَدْ أَمْضَيْتُهُمَا لأَهْلِهِمَا كَمَا كَانَا " .
#2629
Daif
It was narrated from Ibn 'Abbas that :the Messenger of Allah (ﷺ) set the blood money at twelve thousand (Dirham)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کے بارہ ہزار درہم مقرر کئے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ جَعَلَ الدِّيَةَ اثْنَىْ عَشَرَ أَلْفًا .
#2630
Hasan
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever is killed by mistake, his blood money in camels is thirty Bint Makhad (a one-year-old she-camel), thirty Bint Labun (a two-year-old she-camel), thirty Hiqqah (a three-year-old she-camel) and ten Bani Labun (two-years-old male-camel).” The Messenger of Allah (ﷺ) used to fix the value (of the blood money for accidental killing) among town-dwellers at four hundred Dinar or the equivalent value in silver. When he calculated the price in terms of camels (for Bedouins), it would vary from one time to another. When prices roses, the value (in dinars) would rise: and when prices fell, the value (in Dinar) would fall. At the time of the Messenger of Allah (ﷺ) the value was between four hundred and eight hundred dinar, or the equivalent value in silver, eight thousand Dirham. And the Messenger of Allah (ﷺ) ruled that if a person's blood money was paid in cattle, among those who kept cattle, the amount was two hundred cows; and if person's blood money was paid in sheep, among those who kept sheep, the value was two thousand sheep. (Hasan)
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غلطی سے مارا جائے اس کا خون بہا تیس اونٹنیاں ہیں، جو ایک سال پورے کر کے دوسرے میں لگ گئی ہوں، اور تیس اونٹنیاں جو دو سال پورے کر کے تیسرے میں لگ گئی ہوں، اور تیس اونٹنیاں وہ جو تین سال پورے کر کے چوتھے سال میں لگ گئی ہوں، اور دو دو سال کے دس اونٹ ہیں جو تیسرے سال میں داخل ہو گئے ہوں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گاؤں والوں پر دیت ( خون بہا ) کی قیمت چار سو دینار لگائی یا اتنی ہی قیمت کی چاندی، یہ قیمت وقت کے حساب سے بدلتی رہتی، اونٹ مہنگے ہوتے تو دیت بھی زیادہ ہوتی اور جب سستے ہوتے تو دیت بھی کم ہو جاتی، لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیت کی قیمت چار سو دینار سے آٹھ سو دینار تک پہنچ گئی، اور چاندی کے حساب سے آٹھ ہزار درہم ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فیصلہ فرمایا: گائے والوں سے دو سو گائیں اور بکری والوں سے دو ہزار بکریاں ( دیت میں ) لی جائیں ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيُّ، أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ قُتِلَ خَطَأً فَدِيَتُهُ مِنَ الإِبِلِ ثَلاَثُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ وَثَلاَثُونَ ابْنَةَ لَبُونٍ وَثَلاَثُونَ حِقَّةً وَعَشَرَةُ بَنِي لَبُونٍ " . وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَوِّمُهَا عَلَى أَهْلِ الْقُرَى أَرْبَعَمِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عَدْلَهَا مِنَ الْوَرِقِ وَيُقَوِّمُهَا عَلَى أَزْمَانِ الإِبِلِ إِذَا غَلَتْ رَفَعَ فِي ثَمَنِهَا وَإِذَا هَانَتْ نَقَصَ مِنْ ثَمَنِهَا عَلَى نَحْوِ الزَّمَانِ مَا كَانَ فَبَلَغَ قِيمَتُهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا بَيْنَ الأَرْبَعِمِائَةِ دِينَارٍ إِلَى ثَمَانِمِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عَدْلُهَا مِنَ الْوَرِقِ ثَمَانِيَةُ آلاَفِ دِرْهَمٍ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ مَنْ كَانَ عَقْلُهُ فِي الْبَقَرِ عَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَىْ بَقَرَةٍ وَمَنْ كَانَ عَقْلُهُ فِي الشَّاءِ عَلَى أَهْلِ الشَّاءِ أَلْفَىْ شَاةٍ .
#2631
Daif
It was narrated from 'Abdullah bin Masud that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The blood money of one who killed by mistake is twenty Hiqqah (three-year-old she camels), twenty Jadha'ah (four year old she camels), twenty Bint Makhad (one year old she camel), twenty Bint Labun (two year old she camels), and twenty Bani Makhad (one year old she camels).”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل ( غلطی سے قتل ) کی دیت بیس اونٹنیاں تین تین سال کی جو چوتھے میں لگی ہوں، بیس اونٹنیاں چار چار سال کی جو پانچویں میں لگ گئی ہوں، بیس اونٹنیاں ایک ایک سال کی جو دوسرے سال میں لگ گئی ہوں، بیس اونٹنیاں دو دو سال کی جو تیسرے سال میں لگ گئی ہوں، اور بیس اونٹ ہیں جو ایک ایک سال کے ہوں اور دوسرے سال میں لگ گئے ہوں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا الصَّبَّاحُ بْنُ مُحَارِبٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فِي دِيَةِ الْخَطَإِ عِشْرُونَ حِقَّةً وَعِشْرُونَ جَذَعَةً وَعِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ وَعِشْرُونَ بِنْتَ لَبُونٍ وَعِشْرُونَ بَنِي مَخَاضٍ ذُكُورٍ " .
#2632
Daif
It was narrated from 'Ikrimah, from Ibn 'Abbas, that :the Prophet (ﷺ) set the blood money at twelve thousand (Dirham). He said: “This is what Allah says: 'And they could not find any cause to do so except that Allah and his Messenger (ﷺ) had enriched them of His bounty.'” He said: “By their taking the blood money.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت بارہ ہزار درہم مقرر فرمائی، اور فرمان الٰہی «وما نقموا إلا أن أغناهم الله ورسوله من فضله» ( سورۃ التوبہ: ۷۴ ) کفار اسی بات سے غصہ ہوئے کہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنی مہربانی سے انہیں مالدار کر دیا کا یہی مطلب ہے کہ دیت لینے سے ان ( مسلمانوں ) کو مالدار کر دیا۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَعَلَ الدِّيَةَ اثْنَىْ عَشَرَ أَلْفًا قَالَ ذَلِكَ قَوْلُهُ {وَمَا نَقَمُوا إِلاَّ أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ} قَالَ بِأَخْذِهِمُ الدِّيَةَ .
#2633
Sahih
It was narrated that Mughirah bin Shu'bah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) ruled that the blood money must be paid by the 'Aqilah.”
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: دیت عاقلہ ( قاتل اور اس کے خاندان والوں ) کے ذمہ ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالدِّيَةِ عَلَى الْعَاقِلَةِ .
#2634
Sahih
It was narrated from Miqdam Ash-Shami that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“I am the heir of the one who has no heir, and I will pay blood money on his behalf and inherit from him, and the maternal uncle is the heir of the one who has no heir; he pays the blood money on his behalf and inherits from him.'”
مقدام شامی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا وارث میں ہوں، اس کی طرف سے دیت بھی ادا کروں گا اور اس کا ترکہ بھی لوں گا، اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو، وہ اس کی دیت بھی ادا کرے گا، اور ترکہ بھی پائے گا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ، عَنِ الْمِقْدَامِ الشَّامِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَا وَارِثُ مَنْ لاَ وَارِثَ لَهُ أَعْقِلُ عَنْهُ وَأَرِثُهُ وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لاَ وَارِثَ لَهُ يَعْقِلُ عَنْهُ وَيَرِثُهُ " .
#2635
Batil
It was narrated from Ibn 'Abbas, who attributed it to the Prophet (ﷺ):“Whoever kills out of folly or for tribal motives, using a rock, a whip, or a stick; he must pay the blood money for killing by mistake. Whoever kills deliberately, he is to be killed in retaliation. Whoever tries to prevent that, upon him is the curse of Allah, the angels and all the people, and no change nor equitable exchange will be accepted from him.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اندھا دھند فساد ( بلوہ ) میں یا تعصب کی وجہ سے پتھر، کوڑے یا ڈنڈے سے مار دیا جائے، تو قاتل پر قتل خطا کی دیت لازم ہو گی، اور اگر قصداً مارا جائے، تو اس میں قصاص ہے، جو شخص قصاص یا دیت میں حائل ہو تو اس پر لعنت اللہ کی ہے، اس کے فرشتوں کی، اور سب لوگوں کی، اس کا نہ فرض قبول ہو گا نہ نفل ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ قَتَلَ فِي عِمِّيَّةٍ أَوْ عَصَبِيَّةٍ بِحَجَرٍ أَوْ سَوْطٍ أَوْ عَصًا فَعَلَيْهِ عَقْلُ الْخَطَإِ وَمَنْ قَتَلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدٌ وَمَنْ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ " .
#2636
Daif
Nimran bin Jariyah narrated from his father that :a man struck another man on the wrist with his sword and severed it, not at the joint. He appealed to the Prophet (ﷺ) who ordered that the Diyah be paid. The man said: “O Messenger of Allah (ﷺ), I want retaliation.” He said: “Take the compensation and may Allah bless you therein.” And he did not rule that he be allowed retaliation
جاریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کی کلائی پر تلوار ماری جس سے وہ کٹ گئی، لیکن جوڑ پر سے نہیں، پھر زخمی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دیت ( خون بہا ) دینے کا حکم فرمایا، وہ بولا: اللہ کے رسول! میں قصاص لینا چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیت لے لو، اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اس میں برکت دے، اور اس کے لیے قصاص کا فیصلہ نہیں فرمایا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَعَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ دَهْثَمِ بْنِ قُرَّانَ، حَدَّثَنِي نِمْرَانُ بْنُ جَارِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، ضَرَبَ رَجُلاً عَلَى سَاعِدِهِ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا مِنْ غَيْرِ مَفْصِلٍ فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ لَهُ بِالدِّيَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ الْقِصَاصَ . فَقَالَ " خُذِ الدِّيَةَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا " . وَلَمْ يَقْضِ لَهُ بِالْقِصَاصِ .
#2637
Hasan
It was narrated from 'Abbas bin 'Abdul-Muttalib that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There is no retaliation for a head wound that does not reach the brain, a spear wound that does not penetrate deeply, or a wound that dislocates a bone.”
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو زخم دماغ یا پیٹ تک پہنچ جائے، یا ہڈی ٹوٹ کر اپنی جگہ سے ہٹ جائے، تو اس میں قصاص نہ ہو گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنِ ابْنِ صُهْبَانَ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ قَوَدَ فِي الْمَأْمُومَةِ وَلاَ الْجَائِفَةِ وَلاَ الْمُنَقِّلَةِ " .
#2638
Sahih
It was narrated from 'Aishah that :the Messenger of Allah (ﷺ) sent Abu Jahm bin Hudhaifah to collect Sadaqah. A man disputed with him concerning his Sadaqah, and Abu Jahm struck him and wounded his head. They came to Prophet (ﷺ) and said: “Compensatory money, O Messenger of Allah (ﷺ)!” The Prophet (ﷺ) said: “You will have such and such,” but they did not accept that. He said: “You will have such and such,” and they agreed. Then the Prophet (ﷺ) said: “I am going to address the people and tell them that you agreed.” They said: “Yes.” So the Prophet (ﷺ) addressed (the people) and said: “These people of Laith came to me seeking compensatory money, and I have offered them such and such. Do you agree?” They said: “No.” The Emigrants wanted to attack them, but the Prophet (ﷺ) told them not to, so they refrained. Then he called them and offered them more and said: “Do you agree?” They said: “Yes.” He said: “I am going to address the people and tell them that you agreed.” They said: “Yes.” So the Prophet (ﷺ) addressed (the people) then said: “Do you Agree?” They said: “Yes.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کو مصدق ( عامل صدقہ ) بنا کر بھیجا، زکاۃ کے سلسلے میں ان کا ایک شخص سے جھگڑا ہو گیا، ابوجہم رضی اللہ عنہ نے اسے مارا تو اس کا سر پھٹ گیا، وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور قصاص کا مطالبہ کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا تم اتنا اتنا مال لے لو ، وہ راضی نہیں ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا اتنا اتنا مال ( اور ) لے لو ، تو وہ راضی ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں لوگوں کے سامنے خطبہ دوں، اور تم لوگوں کی رضا مندی کی خبر سناؤں؟ کہنے لگے: ٹھیک ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: یہ لیث کے لوگ میرے پاس آئے اور قصاص لینا چاہتے تھے، میں نے ان سے اتنا اتنا مال لینے کی پیشکش کی اور پوچھا: کیا وہ اس پر راضی ہیں ؟ کہنے لگے: نہیں، ( ان کے اس رویہ پر ) مہاجرین نے ان کو مارنے پیٹنے کا ارادہ کیا، آپ صلی اللہعلیہ وسلم نے انہیں باز رہنے کو کہا، تو وہ رک گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا اور کچھ اضافہ کر دیا، اور پوچھا: کیا اب راضی ہیں ؟ انہوں نے اقرار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: کیا میں خطبہ دوں اور لوگوں کو تمہاری رضا مندی کی اطلاع دے دوں ؟ جواب دیا: ٹھیک ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، اور پھر کہا: تم راضی ہو ؟ جواب دیا: جی ہاں ۱؎۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے محمد بن یحییٰ کو کہتے سنا کہ معمر اس حدیث کو روایت کرنے میں منفرد ہیں، میں نہیں جانتا کہ ان کے علاوہ کسی اور نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ أَبَا جَهْمِ بْنَ حُذَيْفَةَ مُصَدِّقًا فَلاَجَّهُ رَجُلٌ فِي صَدَقَتِهِ فَضَرَبَهُ أَبُو جَهْمٍ فَشَجَّهُ فَأَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا الْقَوَدَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَكُمْ كَذَا وَكَذَا " . فَلَمْ يَرْضَوْا فَقَالَ " لَكُمْ كَذَا وَكَذَا " . فَرَضُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ " . قَالُوا نَعَمْ . فَخَطَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنَّ هَؤُلاَءِ اللَّيْثِيِّينِ أَتَوْنِي يُرِيدُونَ الْقَوَدَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِمْ كَذَا وَكَذَا أَرَضِيتُمْ " . قَالُوا لاَ . فَهَمَّ بِهِمُ الْمُهَاجِرُونَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَكُفُّوا فَكَفُّوا ثُمَّ دَعَاهُمْ فَزَادَهُمْ فَقَالَ " أَرَضِيتُمْ " . قَالُوا نَعَمْ . قَالَ " إِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ " . قَالُوا نَعَمْ . فَخَطَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ " أَرَضِيتُمْ " . قَالُوا نَعَمْ . قَالَ ابْنُ مَاجَهْ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى يَقُولُ تَفَرَّدَ بِهَذَا مَعْمَرٌ لاَ أَعْلَمُ رَوَاهُ غَيْرُهُ .
#2639
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) ruled concerning a fetus that (the blood money) was a slave, male and female. The one against whom this verdict was passed said: ' Should we pay blood money for one who neither ate, drunk, shouted, nor cried, (at the moment of birth)? One such as this should be overlooked .' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'This man speaks like a poet. (But the blood money for a fetus is) a slave, male, or female.'”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین ( پیٹ کے بچے کی دیت ) میں ایک غلام یا ایک لونڈی کا فیصلہ فرمایا، تو جس کے خلاف فیصلہ ہوا وہ بولا: کیا ہم اس کی دیت دیں جس نے نہ پیا ہو نہ کھایا ہو، نہ چیخا ہو نہ چلایا ہو، ایسے کی دیت کو تو لغو مانا جائے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو شاعروں جیسی بات کرتا ہے؟ پیٹ کے بچہ میں ایک غلام یا لونڈی ( دیت ) ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ أَنَعْقِلُ مَنْ لاَ شَرِبَ وَلاَ أَكَلْ وَلاَ صَاحَ وَلاَ اسْتَهَلّ وَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ هَذَا لَيَقُولُ بِقَوْلِ شَاعِرٍ فِيهِ غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ " .
#2640
Sahih
It was narrated that Miswar bin Makhramah said:“Umar bin Khattab consulted the people concerning a woman who had been caused to miscarry. Al-Mughirah bin Shu'bah said: 'I saw the messenger of Allah (ﷺ) rule that a slave, male or female, be given as blood money (for a fetus).' 'Umar said: 'Bring me someone who will testify alongside you. So he brought Muhammad bin Maslamah to testify along with him.'”
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پیٹ سے گر جانے والے بچے کے بارے میں مشورہ لیا، تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ فرمایا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنی اس بات کے لیے گواہ لاؤ، تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ گواہی دی ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ اسْتَشَارَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ النَّاسَ فِي إِمْلاَصِ الْمَرْأَةِ يَعْنِي سِقْطَهَا فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ . فَقَالَ عُمَرُ ائْتِنِي بِمَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ . فَشَهِدَ مَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ .
#2641
Sahih Isnaad
It was narrated from 'Umar bin Khattab that :he asked the people about the ruling of the Prophet (ﷺ) concerning that - concerning a fetus. Hamal bin Malik bin Nabighah stood up and said: “I was between my two wives and one of them struck the other with a tent-pole, killing her and a fetus. The Messenger of Allah (ﷺ) ruled that the blood money for the fetus was a slave, and that she would be killed in retaliation.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے جنین ( پیٹ کے بچے ) کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تلاش کیا، تو حمل بن مالک رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: میری دو بیویاں تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمے کی لکڑی سے مارا جس سے وہ اور اس کے پیٹ میں جو بچہ تھا دونوں مر گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین ( پیٹ کے بچہ ) میں ایک غلام یا ایک لونڈی دینے کا، اور عورت کو عورت کے قصاص میں قتل کا فیصلہ فرمایا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ نَشَدَ النَّاسَ قَضَاءَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ يَعْنِي فِي الْجَنِينِ فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ فَقَالَ كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ لِي فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِمِسْطَحٍ فَقَتَلَتْهَا وَقَتَلَتْ جَنِينَهَا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ وَأَنْ تُقْتَلَ بِهَا .
#2642
Sahih
It was narrated from Sa'eed bin Musayyab that 'Umar used to say:“The blood money is for the near male relatives from the father's side and the wife does not inherit anything from the blood money of her husband,” until Ad-Dahhak bin Sufyan wrote to him, and told him that the Prophet (ﷺ) ruled that the wife of Ashyam bin Dibabi should inherit from the blood money of her husband
سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ دیت ( خون بہا ) قاتل کے خاندان والوں کے ذمہ ہے، اور عورت کو اپنے شوہر کی دیت میں سے کچھ نہیں ملے گا، یہاں تک کہ ضحاک بن سفیان نے ان کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشیم ضبابی رضی اللہ عنہ کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت میں سے ترکہ دلایا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ الدِّيَةُ لِلْعَاقِلَةِ وَلاَ تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا حَتَّى كَتَبَ إِلَيْهِ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَرَّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا .
#2643
Sahih
It was narrated from 'Ubadah bin Samit:That the Prophet (ﷺ) ruled that Hamal bin Malik Hudhali Al-Lihyani should inherit from his wife who was killed by his other wife
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمل بن مالک ہذلی لحیانی رضی اللہ عنہ کو ان کی بیوی کی دیت میں سے میراث دلائی جس کو ان کی دوسری بیوی نے قتل کر دیا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ خَالِدٍ النُّمَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَضَى لِحَمَلِ بْنِ مَالِكٍ الْهُذَلِيِّ اللِّحْيَانِيِّ بِمِيرَاثِهِ مِنَ امْرَأَتِهِ الَّتِي قَتَلَتْهَا امْرَأَتُهُ الأُخْرَى .
#2644
Hasan
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his grandfather, that :the Messenger of Allah (ﷺ) ruled that the blood money for the people of the book is half of that of the blood money for the Muslims, and they are the Jews and Christians
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: دونوں اہل کتاب کی دیت مسلمان کی دیت کے مقابلہ میں آدھی ہے، اور دونوں اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، . أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى أَنَّ عَقْلَ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ نِصْفُ عَقْلِ الْمُسْلِمِينَ وَهُمُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى .
#2645
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The killer does not inherit.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاتل وارث نہیں ہو گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْقَاتِلُ لاَ يَرِثُ " .
#2646
Sahih
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib that :Abu Qatadah, a man from Banu Mudlij, killed his son, and 'Umar took one hundred camels from him, thirty Hiqqah, thirty Jadha'ah and forty Khalifah. Then he said: “Where is the brother of slain? I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'The killer does not inherit.'”
عمرو بن شعیب کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی مدلج کے ابوقتادہ نامی شخص نے اپنے بیٹے کو مار ڈالا جس پر عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے دیت کے سو اونٹ لیے: تیس حقے، تیس جذعے، اور چالیس حاملہ اونٹنیاں، پھر فرمایا: مقتول کا بھائی کہاں ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: قاتل کے لیے کوئی میراث نہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ، - رَجُلٌ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ - قَتَلَ ابْنَهُ فَأَخَذَ مِنْهُ عُمَرُ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ ثَلاَثِينَ حِقَّةً وَثَلاَثِينَ جَذَعَةً وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً . فَقَالَ أَيْنَ أَخُو الْمَقْتُولِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَيْسَ لِقَاتِلٍ مِيرَاثٌ " .
#2647
Hasan
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, that his grandfather said:“The Messenger of Allah (ﷺ) ruled that a woman's blood money (if she kills someone) should be paid by her male relatives on her father's side, whoever they are, and they should not inherit anything from her, except what is left over after her heirs have been taken their shares. If she is killed than her blood money is to be shared among her heirs, since they are the ones who may kill the one who killed her.”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت پر واجب دیت کو اس کے عصبہ ( باپ کے رشتہ دار ) ادا کریں گے، لیکن اس عورت کی میراث سے انہیں وہی حصہ ملے گا جو ورثاء سے بچ جائے گا، اگر عورت قتل کر دی جائے، تو اس کی دیت اس کے ورثاء کے درمیان تقسیم ہو گی، اور وہی اس کے قاتل کو قتل کریں گے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَعْقِلَ الْمَرْأَةَ عَصَبَتُهَا مَنْ كَانُوا وَلاَ يَرِثُوا مِنْهَا شَيْئًا إِلاَّ مَا فَضَلَ عَنْ وَرَثَتِهَا وَإِنْ قُتِلَتْ فَعَقْلُهَا بَيْنَ وَرَثَتِهَا فَهُمْ يَقْتُلُونَ قَاتِلَهَا " .
#2648
Sahih
It was narrated that Jabir said:“The Messenger of Allah (ﷺ) ruled that the blood money should be paid by the near male relations from the father's side of the killer, and the such relatives of slain woman said: 'O Messenger of Allah (ﷺ),her legacy is for us.' He said: 'No, her legacy is for her husband and children.'”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے عصبہ ( باپ کے رشتہ داروں ) پر ٹھہرائی تو مقتولہ کے عصبہ نے کہا: اس کی میراث کے حقدار ہم ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میراث اس کے شوہر اور اس کے لڑکے کو ملے گی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الدِّيَةَ عَلَى عَاقِلَةِ الْقَاتِلَةِ فَقَالَتْ عَاقِلَةُ الْمَقْتُولَةِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِيرَاثُهَا لَنَا . قَالَ " لاَ مِيرَاثُهَا لِزَوْجِهَا وَوَلَدِهَا " .
#2649
Sahih
It was narrated that Anas said:“Rubai, the paternal aunt of Anas, broke the tooth of a girl and they (her family) asked (the girl's family) to let her off, but they refused. They offered to pay compensatory money, but they refused. So they came to Prophet (ﷺ) who ordered retaliation. Anas bin Nadr said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), will the tooth of Rubai' be broken? By the One Who sent you with the truth, it will not be broken!' The Prophet (ﷺ) said: 'O Anas, what Allah has decreed is retaliation.' So the people accepted that and forgave her. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'there are among the slaves of Allah those who, if they swear by Allah, Allah fulfills their oath.'”
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کی پھوپھی ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا نے ایک لڑکی کے سامنے کا دانت توڑ ڈالا، تو ربیع کے لوگوں نے معافی مانگی، لیکن لڑکی کی جانب کے لوگ معافی پر راضی نہیں ہوئے، پھر انہوں نے دیت کی پیش کش کی، تو انہوں نے دیت لینے سے بھی انکار کر دیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم دیا، تو انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ربیع کا دانت توڑا جائے گا؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، ایسا نہیں ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انس! اللہ کی کتاب قصاص کا حکم دیتی ہے ، پھر لوگ معافی پر راضی ہو گئے، اور اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ کی قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری کر دیتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَسَرَتِ الرُّبَيِّعُ عَمَّةُ أَنَسٍ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ فَطَلَبُوا الْعَفْوَ فَأَبَوْا فَعَرَضَ عَلَيْهِمُ الأَرْشَ فَأَبَوْا فَأَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ . فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُكْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لاَ تُكْسَرُ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا أَنَسُ كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ " . قَالَ فَرَضِيَ الْقَوْمُ فَعَفَوْا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ " .
#2650
Sahih
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Teeth are all the same; the incisor and the molar are the same.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( دیت کے معاملہ میں ) سب دانت برابر ہیں، سامنے کے دانت اور داڑھ برابر ہیں ۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الأَسْنَانُ سَوَاءٌ الثَّنِيَّةُ وَالضِّرْسُ سَوَاءٌ " .