العربية
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو السَّمْحِ، قَالَ كُنْتُ خَادِمَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَجِيءَ بِالْحَسَنِ أَوِ الْحُسَيْنِ فَبَالَ عَلَى صَدْرِهِ فَأَرَادُوا أَنْ يَغْسِلُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " رُشَّهُ فَإِنَّهُ يُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ وَيُرَشُّ عَلَى بَوْلِ الْغُلاَمِ " .
English
Abu Samh said:"I was a servant of the Prophet, and Hasan and Husain was brought to him and (the infant) urinated on his chest. They wanted to wash it, but the Messenger of Allah said: 'Sprinkle water on it, for the urine of a girl should be washed, but the urine of a boy should be sprinkled over with water اردو
ابوسمح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم تھا، آپ کے پاس حسن یا حسین کو لایا گیا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر پیشاب کر دیا، لوگوں نے اسے دھونا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر پانی چھڑک دو، اس لیے کہ بچی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جاتا ہے ۔