#2251
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) bought some foodstuff (barley) from a Jew on credit and mortgaged his iron armor to him (the armor stands for a guarantor)
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یعلیٰ بن عبیداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے بیان کیا ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے ادھار غلہ خریدا اور اپنی ایک لوہے کی زرہ اس کے پاس گروی رکھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَعَامًا مِنْ يَهُودِيٍّ بِنَسِيئَةٍ، وَرَهَنَهُ دِرْعًا لَهُ مِنْ حَدِيدٍ.
#2252
Narrated Al-A`mash:We argued at Ibrahim's dwelling place about mortgaging in Salam. He said, "Aisha said, 'The Prophet (ﷺ) bought some foodstuff from a Jew on credit and the payment was to be made by a definite period, and he mortgaged his iron armor to him
ہم سے محمد بن محبوب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم نے ابراہیم نخعی کے سامنے بیع سلم میں گروی رکھنے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا ہم سے اسود نے بیان کیا، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے ایک مقررہ مدت کے لیے غلہ خریدا اور اس کے پاس اپنی لوہے کی زرہ گروی رکھ دی تھی۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ تَذَاكَرْنَا عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ الرَّهْنَ فِي السَّلَفِ فَقَالَ حَدَّثَنِي الأَسْوَدُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اشْتَرَى مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ، وَارْتَهَنَ مِنْهُ دِرْعًا مِنْ حَدِيدٍ.
#2253
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) came to Medina and the people used to pay in advance the prices of fruits to be delivered within two to three years. The Prophet (ﷺ) said (to them), "Buy fruits by paying their prices in advance on condition that the fruits are to be delivered to you according to a fixed specified measure within a fixed specified period." Ibn Najih said, " ... by specified measure and specified weight
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ پھلوں میں دو اور تین سال تک کے لیے بیع سلم کیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی کہ پھلوں میں بیع سلم مقررہ پیمانے اور مقررہ مدت کے لیے کیا کرو۔ اور عبداللہ بن ولید نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا، ان سے ابن ابی نجیح نے بیان کیا، اس روایت میں یوں ہے کہ ”پیمانے اور وزن کی تعیین کے ساتھ“ ( بیع سلم ہونی چاہئیے ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثِّمَارِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلاَثَ، فَقَالَ " أَسْلِفُوا فِي الثِّمَارِ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ ". وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، وَقَالَ، " فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ ".
#2254
Narrated Muhammad bin Abi Al-Mujalid:Abu Burda and `Abdullah bin Shaddad sent me to `Abdur Rahman bin Abza and `Abdullah bin Abi `Aufa to ask them about the Salaf (Salam). They said, "We used to get war booty while we were with Allah's Messenger (ﷺ) and when the peasants of Sham came to us we used to pay them in advance for wheat, barley, and oil to be delivered within a fixed period." I asked them, "Did the peasants own standing crops or not?" They replied, "We never asked them about it
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُجَالِدٍ، قَالَ أَرْسَلَنِي أَبُو بُرْدَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى فَسَأَلْتُهُمَا عَنِ السَّلَفِ،. فَقَالاَ كُنَّا نُصِيبُ الْمَغَانِمَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَانَ يَأْتِينَا أَنْبَاطٌ مِنْ أَنْبَاطِ الشَّأْمِ فَنُسْلِفُهُمْ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى. قَالَ قُلْتُ أَكَانَ لَهُمْ زَرْعٌ، أَوْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ زَرْعٌ قَالاَ مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ عَنْ ذَلِكَ.
#2255
Narrated Muhammad bin Abi Al-Mujalid:Abu Burda and `Abdullah bin Shaddad sent me to `Abdur Rahman bin Abza and `Abdullah bin Abi `Aufa to ask them about the Salaf (Salam). They said, "We used to get war booty while we were with Allah's Messenger (ﷺ) and when the peasants of Sham came to us we used to pay them in advance for wheat, barley, and oil to be delivered within a fixed period." I asked them, "Did the peasants own standing crops or not?" They replied, "We never asked them about it
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُجَالِدٍ، قَالَ أَرْسَلَنِي أَبُو بُرْدَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى فَسَأَلْتُهُمَا عَنِ السَّلَفِ،. فَقَالاَ كُنَّا نُصِيبُ الْمَغَانِمَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَانَ يَأْتِينَا أَنْبَاطٌ مِنْ أَنْبَاطِ الشَّأْمِ فَنُسْلِفُهُمْ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى. قَالَ قُلْتُ أَكَانَ لَهُمْ زَرْعٌ، أَوْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ زَرْعٌ قَالاَ مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ عَنْ ذَلِكَ.
#2256
Narrated `Abdullah:The people used to sell camels on the basis of Habal-al-Habala. The Prophet (ﷺ) forbade such sale. Nafi` explained Habal-al-Habala by saying. "The camel is to be delivered to the buyer after the she-camel gives birth
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہیں جویریہ نے خبر دی، انہیں نافع نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لوگ اونٹ وغیرہ حمل کے حمل ہونے کی مدت تک کے لیے بیچتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ نافع نے «حبل الحبلة» کی تفسیر یہ کی ”یہاں تک کہ اونٹنی کے پیٹ میں جو کچھ ہے وہ اسے جن لے۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانُوا يَتَبَايَعُونَ الْجَزُورَ إِلَى حَبَلِ الْحَبَلَةِ، فَنَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْهُ. فَسَّرَهُ نَافِعٌ أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ مَا فِي بَطْنِهَا.
#2257
Narrated Jabir bin `Abdullah:Allah's Messenger (ﷺ) gave a verdict regarding Shuf'a in every undivided joint thing (property). But if the limits are defined (or demarcated) or the ways and streets are fixed, then there is no pre-emption
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس چیز میں شفعہ کا حق دیا تھا جو ابھی تقسیم نہ ہوئی ہو۔ لیکن جب حدود مقرر ہو گئیں اور راستے بدل دیئے گئے تو پھر حق شفعہ باقی نہیں رہتا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ فَلاَ شُفْعَةَ.
#2258
Narrated `Amr bin Ash-Sharid:While I was standing with Sa`d bin Abi Waqqas, Al-Miswar bin Makhrama came and put his hand on my shoulder. Meanwhile Abu Rafi`, the freed slave of the Prophet (ﷺ) came and asked Sa`d to buy from him the (two) dwellings which were in his house. Sa`d said, "By Allah I will not buy them." Al- Miswar said, "By Allah, you shall buy them." Sa`d replied, "By Allah, I will not pay more than four thousand (Dirhams) by installments." Abu Rafi` said, "I have been offered five hundred Dinars (for it) and had I not heard the Prophet (ﷺ) saying, 'The neighbor has more right than anyone else because of his nearness, I would not give them to you for four-thousand (Dirhams) while I am offered five-hundred Dinars (one Dinar equals ten Dirhams) for them." So, he sold it to Sa`d
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا مجھ کو ابراہیم بن میسرہ نے خبر دی، انہیں عمرو بن شرید نے، کہا کہ میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑا تھا کہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور اپنا ہاتھ میرے شانے پر رکھا۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ابورافع رضی اللہ عنہ بھی آ گئے اور فرمایا کہ اے سعد! تمہارے قبیلہ میں جو میرے دو گھر ہیں، انہیں تم خرید لو۔ سعد رضی اللہ عنہ بولے کہ بخدا میں تو انہیں نہیں خریدوں گا۔ اس پر مسور رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نہیں جی تمہیں خریدنا ہو گا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر میں چار ہزار سے زیادہ نہیں دے سکتا۔ اور وہ بھی قسط وار۔ ابورافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے پانچ سو دینار ان کے مل رہے ہیں۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ نہ سنا ہوتا کہ پڑوسی اپنے پڑوس کا زیادہ حقدار ہے۔ تو میں ان گھروں کو چار ہزار پر تمہیں ہرگز نہ دیتا۔ جب کہ مجھے پانچ سو دینار ان کے مل رہے ہیں۔ چنانچہ وہ دونوں گھر ابورافع رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ کو دے دئیے۔
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، قَالَ وَقَفْتُ عَلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فَجَاءَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى إِحْدَى مَنْكِبَىَّ إِذْ جَاءَ أَبُو رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا سَعْدُ ابْتَعْ مِنِّي بَيْتَىَّ فِي دَارِكَ. فَقَالَ سَعْدٌ وَاللَّهِ مَا أَبْتَاعُهُمَا. فَقَالَ الْمِسْوَرُ وَاللَّهِ لَتَبْتَاعَنَّهُمَا. فَقَالَ سَعْدٌ وَاللَّهِ لاَ أَزِيدُكَ عَلَى أَرْبَعَةِ آلاَفٍ، مُنَجَّمَةٍ أَوْ مُقَطَّعَةٍ. قَالَ أَبُو رَافِعٍ لَقَدْ أُعْطِيتُ بِهَا خَمْسَمِائَةِ دِينَارٍ، وَلَوْلاَ أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ ". مَا أَعْطَيْتُكَهَا بِأَرْبَعَةِ آلاَفٍ، وَأَنَا أُعْطَى بِهَا خَمْسَمِائَةِ دِينَارٍ. فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ.
#2259
Narrated Aisha:I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have two neighbors and would like to know to which of them I should give presents." He replied, "To the one whose door is nearer to you
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا (دوسری سند) اور مجھ سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے شبابہ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوعمران نے بیان کیا، کہا کہ میں نے طلحہ بن عبداللہ سے سنا، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا یا رسول اللہ! میرے دو پڑوسی ہیں، میں ان دونوں میں سے کس کے پاس ہدیہ بھیجوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا دروازہ تجھ سے زیادہ قریب ہو۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ، قَالَ سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي جَارَيْنِ، فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي قَالَ " إِلَى أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا ".
#2260
Narrated Abu Musa Al-Ash`ari:The Prophet (ﷺ) said, "The honest treasurer who gives willingly what he is ordered to give, is one of the two charitable persons, (the second being the owner)
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ یزید بن عبداللہ نے کہا کہ میرے دادا، ابوبردہ عامر نے مجھے خبر دی اور انہیں ان کے باپ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، امانت دار خزانچی جو اس کو حکم دیا جائے، اس کے مطابق دل کی فراخی کے ساتھ ( صدقہ ادا کر دے ) وہ بھی ایک صدقہ کرنے والوں ہی میں سے ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَدِّي أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم " الْخَازِنُ الأَمِينُ الَّذِي يُؤَدِّي مَا أُمِرَ بِهِ طَيِّبَةً نَفْسُهُ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقَيْنِ ".
#2261
Narrated Abu Musa:I went to the Prophet (ﷺ) with two men from Ash`ari tribe. I said (to the Prophet), "I do not know that they want employment." The Prophet (ﷺ) said, "No, we do not appoint for our jobs anybody who demands it earnestly
ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے قرۃ بن خالد نے کہا کہ مجھ سے حمید بن ہلال نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ نے بیان کیا اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا۔ میرے ساتھ ( میرے قبیلہ ) اشعر کے دو مرد اور بھی تھے۔ میں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ دونوں صاحبان حاکم بننے کے طلب گار ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص حاکم بننے کا خود خواہشمند ہو، اسے ہم ہرگز حاکم نہیں بنائیں گے۔ ( یہاں راوی کو شک ہے کہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ «لن» یا لفظ «لا» استعمال فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَعِي رَجُلاَنِ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ، فَقُلْتُ مَا عَلِمْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ. فَقَالَ " لَنْ أَوْ لاَ نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ ".
#2262
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Allah did not send any prophet but shepherded sheep." His companions asked him, "Did you do the same?" The Prophet (ﷺ) replied, "Yes, I used to shepherd the sheep of the people of Mecca for some Qirats
ہم سے احمد بن محمد مکی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عمرو بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے ان کے دادا سعید بن عمرو نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ علیہم نے پوچھا کیا آپ نے بھی بکریاں چرائی ہیں؟ فرمایا کہ ہاں! کبھی میں بھی مکہ والوں کی بکریاں چند قیراط کی تنخواہ پر چرایا کرتا تھا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلاَّ رَعَى الْغَنَمَ ". فَقَالَ أَصْحَابُهُ وَأَنْتَ فَقَالَ " نَعَمْ كُنْتُ أَرْعَاهَا عَلَى قَرَارِيطَ لأَهْلِ مَكَّةَ ".
#2263
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) and Abu Bakr employed a (pagan) man from the tribe of Bani Ad-Dail and the tribe of Bani 'Abu bin `Adi as a guide. He was an expert guide and he broke the oath contract which he had to abide by with the tribe of Al-`Asi bin Wail and he was on the religion of Quraish pagans. The Prophet (ﷺ) and Abu Bakr had confidence in him and gave him their riding camels and told him to bring them to the Cave of Thaur after three days. So, he brought them their two riding camels after three days and both of them (The Prophet (ﷺ) and Abu Bakr) set out accompanied by 'Amir bin Fuhaira and the Dili guide who guided them below Mecca along the road leading to the sea-shore
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں عروہ بن زبیر نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ( ہجرت کرتے وقت ) بنو دیل کے ایک مرد کو نوکر رکھا جو بنو عبد بن عدی کے خاندان سے تھا۔ اور اسے بطور ماہر راہبر مزدوری پر رکھا تھا ( حدیث کے لفظ ) «خريت» کے معنی راہبری میں ماہر کے ہیں۔ اس نے اپنا ہاتھ پانی وغیرہ میں ڈبو کر عاص بن وائل کے خاندان سے عہد کیا تھا اور وہ کفار قریش ہی کے دین پر تھا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس پر بھروسہ تھا۔ اسی لیے اپنی سواریاں انہوں نے اسے دے دیں اور غار ثور پر تین رات کے بعد اس سے ملنے کی تاکید کی تھی۔ وہ شخص تین راتوں کے گزرتے ہی صبح کو دونوں حضرات کی سواریاں لے کر وہاں حاضر ہو گیا۔ اس کے بعد یہ حضرات وہاں سے عامر بن فہیرہ اور اس دیلی راہبر کو ساتھ لے کر چلے۔ یہ شخص ساحل کے کنارے سے آپ کو لے کر چلا تھا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ وَاسْتَأْجَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ رَجُلاً مِنْ بَنِي الدِّيلِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ بْنِ عَدِيٍّ هَادِيًا خِرِّيتًا ـ الْخِرِّيتُ الْمَاهِرُ بِالْهِدَايَةِ ـ قَدْ غَمَسَ يَمِينَ حِلْفٍ فِي آلِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ، وَهْوَ عَلَى دِينِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ، فَأَمِنَاهُ فَدَفَعَا إِلَيْهِ رَاحِلَتَيْهِمَا، وَوَعَدَاهُ غَارَ ثَوْرٍ بَعْدَ ثَلاَثِ لَيَالٍ، فَأَتَاهُمَا بِرَاحِلَتَيْهِمَا، صَبِيحَةَ لَيَالٍ ثَلاَثٍ، فَارْتَحَلاَ، وَانْطَلَقَ مَعَهُمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ، وَالدَّلِيلُ الدِّيلِيُّ فَأَخَذَ بِهِمْ أَسْفَلَ مَكَّةَ وَهْوَ طَرِيقُ السَّاحِلِ.
#2264
Narrated Aisha:(the wife of the Prophet) Allah's Messenger (ﷺ) and Abu Bakr hired a man from the tribe of Bani-Ad-Dil as an expert guide who was a pagan (follower of the religion of the pagans of Quraish). The Prophet (ﷺ) and Abu Bakr gave him their two riding camels and took a promise from him to bring their riding camels in the morning of the third day to the Cave of Thaur
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عقیل نے کہ ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بنو دیل کے ایک ماہر راہبر سے مزدوری طے کر لی تھی۔ وہ شخص کفار قریش کے دین پر تھا۔ ان دونوں حضرات نے اپنی دونوں اونٹنیاں اس کے حوالے کر دی تھیں اور کہہ دیا تھا کہ تین راتوں کے بعد صبح سویرے ہی سواروں کے ساتھ غار ثور پر آ جائے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ وَاسْتَأْجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ رَجُلاً مِنْ بَنِي الدِّيلِ، هَادِيًا خِرِّيتًا وَهْوَ عَلَى دِينِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ، فَدَفَعَا إِلَيْهِ رَاحِلَتَيْهِمَا، وَوَاعَدَاهُ غَارَ ثَوْرٍ بَعْدَ ثَلاَثِ لَيَالٍ بِرَاحِلَتَيْهِمَا صُبْحَ ثَلاَثٍ.
#2265
Narrated Ya`la bin Umaiya:I fought in Jaish-al-Usra (Ghazwa of Tabuk) along with the Prophet (ﷺ) and in my opinion that was the best of my deeds. Then I had an employee, who quarrel led with someone and one of the them bit and cut the other's finger and caused his own tooth to fall out. He then went to the Prophet (with a complaint) but the Prophet (ﷺ) canceled the suit and said to the complainant, "Did you expect him to let his finger in your mouth so that you might snap and cut it (as does a stallion camel)?" Narrated Ibn Juraij from `Abdullah bin Abu Mulaika from his grandfather a similar story: A man bit the hand of another man and caused his own tooth to fall out, but Abu Bakr judged that he had no right for compensation (for the broken tooth)
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَكَانَ مِنْ أَوْثَقِ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي، فَكَانَ لِي أَجِيرٌ، فَقَاتَلَ إِنْسَانًا، فَعَضَّ أَحَدُهُمَا إِصْبَعَ صَاحِبِهِ، فَانْتَزَعَ إِصْبَعَهُ، فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ فَسَقَطَتْ، فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ وَقَالَ " أَفَيَدَعُ إِصْبَعَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا ـ قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ ـ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ ". قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ جَدِّهِ، بِمِثْلِ هَذِهِ الصِّفَةِ أَنَّ رَجُلاً، عَضَّ يَدَ رَجُلٍ، فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، فَأَهْدَرَهَا أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه.
#2266
Narrated Ya`la bin Umaiya:I fought in Jaish-al-Usra (Ghazwa of Tabuk) along with the Prophet (ﷺ) and in my opinion that was the best of my deeds. Then I had an employee, who quarrel led with someone and one of the them bit and cut the other's finger and caused his own tooth to fall out. He then went to the Prophet (with a complaint) but the Prophet (ﷺ) canceled the suit and said to the complainant, "Did you expect him to let his finger in your mouth so that you might snap and cut it (as does a stallion camel)?" Narrated Ibn Juraij from `Abdullah bin Abu Mulaika from his grandfather a similar story: A man bit the hand of another man and caused his own tooth to fall out, but Abu Bakr judged that he had no right for compensation (for the broken tooth)
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَكَانَ مِنْ أَوْثَقِ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي، فَكَانَ لِي أَجِيرٌ، فَقَاتَلَ إِنْسَانًا، فَعَضَّ أَحَدُهُمَا إِصْبَعَ صَاحِبِهِ، فَانْتَزَعَ إِصْبَعَهُ، فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ فَسَقَطَتْ، فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ وَقَالَ " أَفَيَدَعُ إِصْبَعَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا ـ قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ ـ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ ". قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ جَدِّهِ، بِمِثْلِ هَذِهِ الصِّفَةِ أَنَّ رَجُلاً، عَضَّ يَدَ رَجُلٍ، فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، فَأَهْدَرَهَا أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه.
#2267
Narrated Ubai bin Ka`b:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Both of them (Moses and Al-Khadir) proceeded on till they reached a wall which was about to fall." Sa`d said [?? or Sa`id], "(Al-Khadir pointed) with his hands (towards the wall) and then raised his hands and the wall became straightened up." Ya`la said, "I think Sa`id [?? or Sa`d] said, 'He (Khadir) passed his hand over it and it was straightened up." (Moses said to him), "if you had wanted, you could have taken wages for it." Sa`id [?? or Sa`d] said, "Wages with which to buy food
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، کہا کہ مجھے یعلیٰ بن مسلم اور عمرو بن دینار نے سعید سے خبر دی۔ یہ دونوں حضرات (سعید بن جبیر سے اپنی روایتوں میں) ایک دوسرے سے کچھ زیادہ روایت کرتے ہیں۔ ابن جریج نے کہا میں نے یہ حدیث اوروں سے بھی سنی ہے۔ وہ بھی سعید بن جبیر سے نقل کرتے تھے کہ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا، اور ان سے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پھر وہ دونوں ( موسیٰ اور خضر علیہما السلام ) چلے۔ تو انہیں ایک گاؤں میں ایک دیوار ملی جو گرنے ہی والی تھی۔ سعید نے کہا خضر علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا اور ہاتھ اٹھایا، وہ دیوار سیدھی ہو گئی۔ یعلیٰ نے کہا میرا خیال ہے کہ سعید نے کہا، خضر علیہ السلام نے دیوار کو اپنے ہاتھ سے چھوا، اور وہ سیدھی ہو گئی، تب موسیٰ علیہ السلام بولے کہ اگر آپ چاہتے تو اس کام کی مزدوری لے سکتے تھے۔ سعید نے کہا کہ ( موسیٰ علیہ السلام کی مراد یہ تھی کہ ) کوئی ایسی چیز مزدوری میں ( آپ کو لینی چاہئیے تھی ) جسے ہم کھا سکتے ( کیونکہ بستی والوں نے ان کو کھانا نہیں کھلایا تھا ) ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ، وَغَيْرُهُمَا قَالَ قَدْ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُهُ عَنْ سَعِيدٍ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ حَدَّثَنِي أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَانْطَلَقَا فَوَجَدَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ ". قَالَ سَعِيدٌ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَاسْتَقَامَ، قَالَ يَعْلَى حَسِبْتُ أَنَّ سَعِيدًا قَالَ. فَمَسَحَهُ بِيَدِهِ فَاسْتَقَامَ {قَالَ} "لَوْ شِئْتَ لاَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا ". قَالَ سَعِيدٌ أَجْرًا نَأْكُلُهُ.
#2268
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "Your example and the example of the people of the two Scriptures (i.e. Jews and Christians) is like the example of a man who employed some laborers and asked them, 'Who will work for me from morning till midday for one Qirat?' The Jews accepted and carried out the work. He then asked, Who will work for me from midday up to the `Asr prayer for one Qirat?' The Christians accepted and fulfilled the work. He then said, 'Who will work for me from the `Asr till sunset for two Qirats?' You, Muslims have accepted the offer. The Jews and the Christians got angry and said, 'Why should we work more and get lesser wages?' (Allah) said, 'Have I withheld part of your right?' They replied in the negative. He said, 'It is My Blessing, I bestow upon whomever I wish
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ان سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال ایسی ہے کہ کسی شخص نے کئی مزدور کام پر لگائے اور کہا کہ میرا کام ایک قیراط پر صبح سے دوپہر تک کون کرے گا؟ اس پر یہودیوں نے ( صبح سے دوپہر تک ) اس کا کام کیا۔ پھر اس نے کہا کہ آدھے دن سے عصر تک ایک قیراط پر میرا کام کون کرے گا؟ چنانچہ یہ کام پھر نصاریٰ نے کیا، پھر اس شخص نے کہا کہ عصر کے وقت سے سورج ڈوبنے تک میرا کام دو قیراط پر کون کرے گا؟ اور تم ( امت محمدیہ ) ہی وہ لوگ ہو ( جن کو یہ درجہ حاصل ہوا ) اس پر یہود و نصاریٰ نے برا مانا، وہ کہنے لگے کہ کام تو ہم زیادہ کریں اور مزدوری ہمیں کم ملے، پھر اس شخص نے کہا کہ اچھا یہ بتاؤ کیا تمہارا حق تمہیں پورا نہیں ملا؟ سب نے کہا کہ ہمیں تو ہمارا پورا حق مل گیا۔ اس شخص نے کہا کہ پھر یہ میرا فضل ہے میں جسے چاہوں زیادہ دوں۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ أُجَرَاءَ فَقَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ غُدْوَةَ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ، ثُمَّ قَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلاَةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ فَعَمِلَتِ النَّصَارَى ثُمَّ، قَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنَ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ عَلَى قِيرَاطَيْنِ فَأَنْتُمْ هُمْ، فَغَضِبَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، فَقَالُوا مَا لَنَا أَكْثَرَ عَمَلاً، وَأَقَلَّ عَطَاءً قَالَ هَلْ نَقَصْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ قَالُوا لاَ. قَالَ فَذَلِكَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ ".
#2269
Narrated `Abdullah bin `Umar bin Al-Khattab:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Your example and the example of Jews and Christians is like the example of a man who employed some laborers to whom he said, 'Who will work for me up to midday for one Qirat each?' The Jews carried out the work for one Qirat each; and then the Christians carried out the work up to the `Asr prayer for one Qirat each; and now you Muslims are working from the `Asr prayer up to sunset for two Qirats each. The Jews and Christians got angry and said, 'We work more and are paid less.' The employer (Allah) asked them, 'Have I usurped some of your right?' They replied in the negative. He said, 'That is My Blessing, I bestow upon whomever I wish
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے چند مزدور کام پر لگائے اور کہا کہ ایک ایک قیراط پر آدھے دن تک میری مزدوری کون کرے گا؟ پس یہود نے ایک قیراط پر یہ مزدوری کی۔ پھر نصاریٰ نے بھی ایک قیراط پر کام کیا۔ پھر تم لوگوں نے عصر سے مغرب تک دو دو قیراط پر کام کیا۔ اس پر یہود و نصاریٰ غصہ ہو گئے کہ ہم نے تو زیادہ کام کیا اور مزدوری ہم کو کم ملی۔ اس پر اس شخص نے کہا کہ کیا میں نے تمہارا حق ذرہ برابر بھی مارا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ نہیں۔ پھر اس شخص نے کہا کہ یہ میرا فضل ہے جسے چاہوں زیادہ دیتا ہوں۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَالْيَهُودُ وَالنَّصَارَى كَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالاً فَقَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ، ثُمَّ عَمِلَتِ النَّصَارَى عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ، ثُمَّ أَنْتُمُ الَّذِينَ تَعْمَلُونَ مِنْ صَلاَةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغَارِبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ، فَغَضِبَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى وَقَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ عَمَلاً وَأَقَلُّ عَطَاءً، قَالَ هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ شَيْئًا قَالُوا لاَ. فَقَالَ فَذَلِكَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ ".
#2270
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Allah said, 'I will be an opponent to three types of people on the Day of Resurrection: -1. One who makes a covenant in My Name, but proves treacherous; -2. One who sells a free person and eats his price; and -3. One who employs a laborer and takes full work from him but does not pay him for his lab our
ہم سے یوسف بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن سلیم نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن امیہ نے، ان سے سعید بن ابی سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ تین قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ جن کا قیامت میں میں خود مدعی بنوں گا۔ ایک تو وہ شخص جس نے میرے نام پہ عہد کیا، اور پھر وعدہ خلافی کی۔ دوسرا وہ جس نے کسی آزاد آدمی کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی اور تیسرا وہ شخص جس نے کسی کو مزدور کیا، پھر کام تو اس سے پورا لیا، لیکن اس کی مزدوری نہ دی۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " قَالَ اللَّهُ تَعَالَى ثَلاَثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِهِ أَجْرَهُ ".
#2271
Narrated Abu Musa:The Prophet (ﷺ) said, "The example of Muslims, Jews and Christians is like the example of a man who employed laborers to work for him from morning till night for specific wages. They worked till midday and then said, 'We do not need your money which you have fixed for us and let whatever we have done be annulled.' The man said to them, 'Don't quit the work, but complete the rest of it and take your full wages.' But they refused and went away. The man employed another batch after them and said to them, 'Complete the rest of the day and yours will be the wages I had fixed for the first batch.' So, they worked till the time of `Asr prayer. Then they said, "Let what we have done be annulled and keep the wages you have promised us for yourself.' The man said to them, 'Complete the rest of the work, as only a little of the day remains,' but they refused. Thereafter he employed another batch to work for the rest of the day and they worked for the rest of the day till the sunset, and they received the wages of the two former batches. So, that was the example of those people (Muslims) and the example of this light (guidance) which they have accepted willingly
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے یزید بن عبداللہ نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مسلمانوں کی اور یہود و نصاریٰ کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے چند آدمیوں کو مزدور کیا کہ یہ سب اس کا ایک کام صبح سے رات تک مقررہ اجرت پر کریں۔ چنانچہ کچھ لوگوں نے یہ کام دوپہر تک کیا۔ پھر کہنے لگے کہ ہمیں تمہاری اس مزدوری کی ضرورت نہیں ہے جو تم نے ہم سے طے کی ہے بلکہ جو کام ہم نے کر دیا وہ بھی غلط رہا۔ اس پر اس شخص نے کہا کہ ایسا نہ کرو۔ اپنا کام پورا کر لو اور اپنی پوری مزدوری لے جاؤ، لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور کام چھوڑ کر چلے گئے۔ آخر اس نے دوسرے مزدور لگائے اور ان سے کہا کہ باقی دن پورا کر لو تو میں تمہیں وہی مزدوری دوں گا جو پہلے مزدوروں سے طے کی تھی۔ چنانچہ انہوں نے کام شروع کیا، لیکن عصر کی نماز کا وقت آیا تو انہوں نے بھی یہی کیا کہ ہم نے جو تمہارا کام کر دیا ہے وہ بالکل بیکار رہا۔ وہ مزدوری بھی تم اپنے ہی پاس رکھو جو تم نے ہم سے طے کی تھی۔ اس شخص نے ان کو سمجھایا کہ اپنا باقی کام پورا کر لو۔ دن بھی اب تھوڑا ہی باقی رہ گیا ہے، لیکن وہ نہ مانے، آخر اس شخص نے دوسرے مزدور لگائے کہ یہ دن کا جو حصہ باقی رہ گیا ہے اس میں یہ کام کر دیں۔ چنانچہ ان لوگوں نے سورج غروب ہونے تک دن کے بقیہ حصہ میں کام پورا کیا اور پہلے اور دوسرے مزدوروں کی مزدوری بھی سب ان ہی کو ملی۔ تو مسلمانوں کی اور اس نور کی جس کو انہوں نے قبول کیا، یہی مثال ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَثَلُ الْمُسْلِمِينَ وَالْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ قَوْمًا يَعْمَلُونَ لَهُ عَمَلاً يَوْمًا إِلَى اللَّيْلِ عَلَى أَجْرٍ مَعْلُومٍ، فَعَمِلُوا لَهُ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ فَقَالُوا لاَ حَاجَةَ لَنَا إِلَى أَجْرِكَ الَّذِي شَرَطْتَ لَنَا، وَمَا عَمِلْنَا بَاطِلٌ، فَقَالَ لَهُمْ لاَ تَفْعَلُوا أَكْمِلُوا بَقِيَّةَ عَمَلِكُمْ، وَخُذُوا أَجْرَكُمْ كَامِلاً، فَأَبَوْا وَتَرَكُوا، وَاسْتَأْجَرَ أَجِيرَيْنِ بَعْدَهُمْ فَقَالَ لَهُمَا أَكْمِلاَ بَقِيَّةَ يَوْمِكُمَا هَذَا، وَلَكُمَا الَّذِي شَرَطْتُ لَهُمْ مِنَ الأَجْرِ. فَعَمِلُوا حَتَّى إِذَا كَانَ حِينُ صَلاَةِ الْعَصْرِ قَالاَ لَكَ مَا عَمِلْنَا بَاطِلٌ، وَلَكَ الأَجْرُ الَّذِي جَعَلْتَ لَنَا فِيهِ. فَقَالَ لَهُمَا أَكْمِلاَ بَقِيَّةَ عَمَلِكُمَا، فَإِنَّ مَا بَقِيَ مِنَ النَّهَارِ شَىْءٌ يَسِيرٌ. فَأَبَيَا، وَاسْتَأْجَرَ قَوْمًا أَنْ يَعْمَلُوا لَهُ بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ، فَعَمِلُوا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ، وَاسْتَكْمَلُوا أَجْرَ الْفَرِيقَيْنِ كِلَيْهِمَا، فَذَلِكَ مَثَلُهُمْ وَمَثَلُ مَا قَبِلُوا مِنْ هَذَا النُّورِ ".
#2272
Narrated `Abdullah bin `Umar:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "Three men from among those who were before you, set out together till they reached a cave at night and entered it. A big rock rolled down the mountain and closed the mouth of the cave. They said (to each other), Nothing could save you from this rock but to invoke Allah by giving reference to the righteous deed which you have done (for Allah's sake only).' So, one of them said, 'O Allah! I had old parents and I never provided my family (wife, children etc.) with milk before them. One day, by chance I was delayed, and I came late (at night) while they had slept. I milked the sheep for them and took the milk to them, but I found them sleeping. I disliked to provide my family with the milk before them. I waited for them and the bowl of milk was in my hand and I kept on waiting for them to get up till the day dawned. Then they got up and drank the milk. O Allah! If I did that for Your Sake only, please relieve us from our critical situation caused by this rock.' So, the rock shifted a little but they could not get out." The Prophet (ﷺ) added, "The second man said, 'O Allah! I had a cousin who was the dearest of all people to me and I wanted to have sexual relations with her but she refused. Later she had a hard time in a famine year and she came to me and I gave her one-hundred-and-twenty Dinars on the condition that she would not resist my desire, and she agreed. When I was about to fulfill my desire, she said: It is illegal for you to outrage my chastity except by legitimate marriage. So, I thought it a sin to have sexual intercourse with her and left her though she was the dearest of all the people to me, and also I left the gold I had given her. O Allah! If I did that for Your Sake only, please relieve us from the present calamity.' So, the rock shifted a little more but still they could not get out from there." The Prophet (ﷺ) added, "Then the third man said, 'O Allah! I employed few laborers and I paid them their wages with the exception of one man who did not take his wages and went away. I invested his wages and I got much property thereby. (Then after some time) he came and said to me: O Allah's slave! Pay me my wages. I said to him: All the camels, cows, sheep and slaves you see, are yours. He said: O Allah's slave! Don't mock at me. I said: I am not mocking at you. So, he took all the herd and drove them away and left nothing. O Allah! If I did that for Your Sake only, please relieve us from the present suffering.' So, that rock shifted completely and they got out walking
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے خبر دی، ان سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلی امت کے تین آدمی کہیں سفر میں جا رہے تھے۔ رات ہونے پر رات گزارنے کے لیے انہوں نے ایک پہاڑ کے غار میں پناہ لی، اور اس میں اندر داخل ہو گئے۔ اتنے میں پہاڑ سے ایک چٹان لڑھکی اور اس نے غار کا منہ بند کر دیا۔ سب نے کہا کہ اب اس غار سے تمہیں کوئی چیز نکالنے والی نہیں، سوا اس کے کہ تم سب، اپنے سب سے زیادہ اچھے عمل کو یاد کر کے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔ اس پر ان میں سے ایک شخص نے اپنی دعا شروع کی کہ اے اللہ! میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے اور میں روزانہ ان سے پہلے گھر میں کسی کو بھی دودھ نہیں پلاتا تھا، نہ اپنے بال بچوں کو، اور نہ اپنے غلام وغیرہ کو۔ ایک دن مجھے ایک چیز کی تلاش میں رات ہو گئی اور جب میں گھر واپس ہوا تو وہ ( میرے ماں باپ ) سو چکے تھے۔ پھر میں نے ان کے لیے شام کا دودھ نکالا۔ جب ان کے پاس لایا تو وہ سوئے ہوئے تھے۔ مجھے یہ بات ہرگز اچھی معلوم نہیں ہوئی کہ ان سے پہلے اپنے بال بچوں یا اپنے کسی غلام کو دودھ پلاؤں، اس لیے میں ان کے سرہانے کھڑا رہا۔ دودھ کا پیالہ میرے ہاتھ میں تھا اور میں ان کے جاگنے کا انتظار کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ اب میرے ماں باپ جاگے اور انہوں نے اپنا شام کا دودھ اس وقت پیا، اے اللہ! اگر میں نے یہ کام محض تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو اس چٹان کی آفت کو ہم سے ہٹا دے۔ اس دعا کے نتیجہ میں وہ غار تھوڑا سا کھل گیا۔ مگر نکلنا اب بھی ممکن نہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر دوسرے نے دعا کی، اے اللہ! میرے چچا کی ایک لڑکی تھی۔ جو سب سے زیادہ مجھے محبوب تھی، میں نے اس کے ساتھ برا کام کرنا چاہا، لیکن اس نے نہ مانا۔ اسی زمانہ میں ایک سال قحط پڑا۔ تو وہ میرے پاس آئی میں نے اسے ایک سو بیس دینار اس شرط پر دیئے کہ وہ خلوت میں مجھے سے برا کام کرائے۔ چنانچہ وہ راضی ہو گئی۔ اب میں اس پر قابو پا چکا تھا۔ لیکن اس نے کہا کہ تمہارے لیے میں جائز نہیں کرتی کہ اس مہر کو تم حق کے بغیر توڑو۔ یہ سن کر میں اپنے برے ارادے سے باز آ گیا اور وہاں سے چلا آیا۔ حالانکہ وہ مجھے سب سے بڑھ کر محبوب تھی اور میں نے اپنا دیا ہوا سونا بھی واپس نہیں لیا۔ اے اللہ! اگر یہ کام میں نے صرف تیری رضا کے لیے کیا تھا تو ہماری اس مصیبت کو دور کر دے۔ چنانچہ چٹان ذرا سی اور کھسکی، لیکن اب بھی اس سے باہر نہیں نکلا جا سکتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور تیسرے شخص نے دعا کی۔ اے اللہ! میں نے چند مزدور کئے تھے۔ پھر سب کو ان کی مزدوری پوری دے دی، مگر ایک مزدور ایسا نکلا کہ وہ اپنی مزدوری ہی چھوڑ گیا۔ میں نے اس کی مزدوری کو کاروبار میں لگا دیا اور بہت کچھ نفع حاصل ہو گیا پھر کچھ دنوں کے بعد وہی مزدور میرے پاس آیا اور کہنے لگا اللہ کے بندے! مجھے میری مزدوری دیدے، میں نے کہا یہ جو کچھ تو دیکھ رہا ہے۔ اونٹ، گائے، بکری اور غلام یہ سب تمہاری مزدوری ہی ہے۔ وہ کہنے لگا اللہ کے بندے! مجھ سے مذاق نہ کر۔ میں نے کہا میں مذاق نہیں کرتا، چنانچہ اس شخص نے سب کچھ لیا اور اپنے ساتھ لے گیا۔ ایک چیز بھی اس میں سے باقی نہیں چھوڑی۔ تو اے اللہ! اگر میں نے یہ سب کچھ تیری رضا مندی حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو تو ہماری اس مصیبت کو دور کر دے۔ چنانچہ وہ چٹان ہٹ گئی اور وہ سب باہر نکل کر چلے گئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " انْطَلَقَ ثَلاَثَةُ رَهْطٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حَتَّى أَوَوُا الْمَبِيتَ إِلَى غَارٍ فَدَخَلُوهُ، فَانْحَدَرَتْ صَخْرَةٌ مِنَ الْجَبَلِ فَسَدَّتْ عَلَيْهِمُ الْغَارَ فَقَالُوا إِنَّهُ لاَ يُنْجِيكُمْ مِنْ هَذِهِ الصَّخْرَةِ إِلاَّ أَنْ تَدْعُوا اللَّهَ بِصَالِحِ أَعْمَالِكُمْ. فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمُ اللَّهُمَّ كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ، وَكُنْتُ لاَ أَغْبِقُ قَبْلَهُمَا أَهْلاً وَلاَ مَالاً، فَنَأَى بِي فِي طَلَبِ شَىْءٍ يَوْمًا، فَلَمْ أُرِحْ عَلَيْهِمَا حَتَّى نَامَا، فَحَلَبْتُ لَهُمَا غَبُوقَهُمَا فَوَجَدْتُهُمَا نَائِمَيْنِ وَكَرِهْتُ أَنْ أَغْبِقَ قَبْلَهُمَا أَهْلاً أَوْ مَالاً، فَلَبِثْتُ وَالْقَدَحُ عَلَى يَدَىَّ أَنْتَظِرُ اسْتِيقَاظَهُمَا حَتَّى بَرَقَ الْفَجْرُ، فَاسْتَيْقَظَا فَشَرِبَا غَبُوقَهُمَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَفَرِّجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِيهِ مِنْ هَذِهِ الصَّخْرَةِ، فَانْفَرَجَتْ شَيْئًا لاَ يَسْتَطِيعُونَ الْخُرُوجَ ". قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وَقَالَ الآخَرُ اللَّهُمَّ كَانَتْ لِي بِنْتُ عَمٍّ كَانَتْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَىَّ، فَأَرَدْتُهَا عَنْ نَفْسِهَا، فَامْتَنَعَتْ مِنِّي حَتَّى أَلَمَّتْ بِهَا سَنَةٌ مِنَ السِّنِينَ، فَجَاءَتْنِي فَأَعْطَيْتُهَا عِشْرِينَ وَمِائَةَ دِينَارٍ عَلَى أَنْ تُخَلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِهَا، فَفَعَلَتْ حَتَّى إِذَا قَدَرْتُ عَلَيْهَا قَالَتْ لاَ أُحِلُّ لَكَ أَنْ تَفُضَّ الْخَاتَمَ إِلاَّ بِحَقِّهِ. فَتَحَرَّجْتُ مِنَ الْوُقُوعِ عَلَيْهَا، فَانْصَرَفْتُ عَنْهَا وَهْىَ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَىَّ وَتَرَكْتُ الذَّهَبَ الَّذِي أَعْطَيْتُهَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِيهِ. فَانْفَرَجَتِ الصَّخْرَةُ، غَيْرَ أَنَّهُمْ لاَ يَسْتَطِيعُونَ الْخُرُوجَ مِنْهَا. قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ الثَّالِثُ اللَّهُمَّ إِنِّي اسْتَأْجَرْتُ أُجَرَاءَ فَأَعْطَيْتُهُمْ أَجْرَهُمْ، غَيْرَ رَجُلٍ وَاحِدٍ تَرَكَ الَّذِي لَهُ وَذَهَبَ فَثَمَّرْتُ أَجْرَهُ حَتَّى كَثُرَتْ مِنْهُ الأَمْوَالُ، فَجَاءَنِي بَعْدَ حِينٍ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَدِّ إِلَىَّ أَجْرِي. فَقُلْتُ لَهُ كُلُّ مَا تَرَى مِنْ أَجْرِكَ مِنَ الإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ وَالرَّقِيقِ. فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ لاَ تَسْتَهْزِئْ بِي. فَقُلْتُ إِنِّي لاَ أَسْتَهْزِئُ بِكَ. فَأَخَذَهُ كُلَّهُ فَاسْتَاقَهُ فَلَمْ يَتْرُكْ مِنْهُ شَيْئًا، اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِيهِ. فَانْفَرَجَتِ الصَّخْرَةُ فَخَرَجُوا يَمْشُونَ ".
#2273
Narrated Abu Mas'ud Al-Ansari:Whenever Allah's Messenger (ﷺ) ordered us to give in charity we would go to the market and work as porters to earn a Mudd (two handfuls) (of foodstuff) but now some of us have one-hundred thousand Dirhams or Dinars. (The sub-narrator) Shaqiq said, "I think Abu Mas`ud meant himself by saying (some of us)
ہم سے سعید بن یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ (یحییٰ بن سعید قریش) نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شفیق نے اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ ہم سے سعید بن یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ ( یحییٰ بن سعید قریش ) نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شفیق نے اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَمَرَ بِالصَّدَقَةِ انْطَلَقَ أَحَدُنَا إِلَى السُّوقِ فَيُحَامِلُ فَيُصِيبُ الْمُدَّ، وَإِنَّ لِبَعْضِهِمْ لَمِائَةَ أَلْفٍ، قَالَ مَا نُرَاهُ إِلاَّ نَفْسَهُ.
#2274
Narrated Tawus:Ibn `Abbas said, "The Prophet (ﷺ) forbade the meeting of caravans (on the way) and ordained that no townsman is permitted to sell things on behalf of a bedouin." I asked Ibn `Abbas, "What is the meaning of his saying, 'No townsman is permitted to sell things on behalf of a bedouin.' " He replied, "He should not work as a broker for him
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، ان سے معمر نے بیان کیا، ان سے ابن طاؤس نے، ان سے ان کے باپ نے، اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( تجارتی ) قافلوں سے ( منڈی سے آگے جا کر ) ملاقات کرنے سے منع فرمایا تھا۔ اور یہ کہ شہری دیہاتی کا مال نہ بیچیں، میں نے پوچھا، اے ابن عباس رضی اللہ عنہما! ”شہری دیہاتی کا مال نہ بیچیں“ کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ مراد یہ ہے کہ ان کے دلال نہ بنیں۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ، وَلاَ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ. قُلْتُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ مَا قَوْلُهُ لاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ لاَ يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا.
#2275
Narrated Khabbab:I was a blacksmith and did some work for Al-`As bin Wail. When he owed me some money for my work, I went to him to ask for that amount. He said, "I will not pay you unless you disbelieve in Muhammad." I said, "By Allah! I will never do that till you die and be resurrected." He said, "Will I be dead and then resurrected after my death?" I said, "Yes." He said, "There I will have property and offspring and then I will pay you your due." Then Allah revealed. 'Have you seen him who disbelieved in Our signs, and yet says: I will be given property and offspring?
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے مسلم بن صبیح نے، ان سے مسروق نے، ان سے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں لوہار تھا، میں نے عاص بن وائل ( مشرک ) کا کام کیا۔ جب میری بہت سی مزدوری اس کے سر چڑھ گئی تو میں اس کے پاس تقاضا کرنے آیا، وہ کہنے لگا کہ اللہ کی قسم! میں تمہاری مزدوری اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پھر جاؤ۔ میں نے کہا، اللہ کی قسم! یہ تو اس وقت بھی نہ ہو گا جب تو مر کے دوبارہ زندہ ہو گا۔ اس نے کہا، کیا میں مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا؟ میں نے کہا کہ ہاں! اس پر وہ بولا پھر کیا ہے۔ وہیں میرے پاس مال اور اولاد ہو گی اور وہیں میں تمہارا قرض ادا کر دوں گا۔ اس پر قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی «أفرأيت الذي كفر بآياتنا وقال لأوتين مالا وولدا» ”اے پیغمبر! کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا، اور کہا کہ مجھے ضرور وہاں مال و اولاد دی جائے گی۔“
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، حَدَّثَنَا خَبَّابٌ، قَالَ كُنْتُ رَجُلاً قَيْنًا فَعَمِلْتُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ فَاجْتَمَعَ لِي عِنْدَهُ فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ لاَ أَقْضِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ. فَقُلْتُ أَمَا وَاللَّهِ حَتَّى تَمُوتَ ثُمَّ تُبْعَثَ فَلاَ. قَالَ وَإِنِّي لَمَيِّتٌ ثُمَّ مَبْعُوثٌ قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ فَإِنَّهُ سَيَكُونُ لِي ثَمَّ مَالٌ وَوَلَدٌ فَأَقْضِيكَ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى {أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالاً وَوَلَدًا}