#2051
Narrated An-Nu`man bin Bashir:The Prophet (ﷺ) said "Both legal and illegal things are obvious, and in between them are (suspicious) doubtful matters. So whoever forsakes those doubtful things lest he may commit a sin, will definitely avoid what is clearly illegal; and whoever indulges in these (suspicious) doubtful things bravely, is likely to commit what is clearly illegal. Sins are Allah's Hima (i.e. private pasture) and whoever pastures (his sheep) near it, is likely to get in it at any moment
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابراہیم بن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عون نے، ان سے شعبی نے، انہوں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) اور ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابوفروہ نے، ان سے شعبی نے، کہا کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا، اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (تیسری سند) اور ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابوفروہ نے، انہوں نے شعبی سے سنا، انہوں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (چوتھی سند) اور ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں ابوفروہ نے، انہیں شعبی نے اور ان سے سے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حلال بھی کھلا ہوا ہے اور حرام بھی ظاہر ہے لیکن ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں۔ پس جو شخص ان چیزوں کو چھوڑے جن کے گناہ ہونے یا نہ ہونے میں شبہ ہے وہ ان چیزوں کو تو ضروری ہی چھوڑ دے گا جن کا گناہ ہونا ظاہر ہے لیکن جو شخص شبہ کی چیزوں کے کرنے کی جرات کرے گا تو قریب ہے کہ وہ ان گناہوں میں مبتلا ہو جائے جو بالکل واضح طور پر گناہ ہیں ( لوگو یاد رکھو ) گناہ اللہ تعالیٰ کی چراگاہ ہے جو ( جانور بھی ) چراگاہ کے اردگرد چرے گا اس کا چراگاہ کے اندر چلا جانا غیر ممکن نہیں۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ـ رضى الله عنه ـ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الْحَلاَلُ بَيِّنٌ، وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ، فَمَنْ تَرَكَ مَا شُبِّهَ عَلَيْهِ مِنَ الإِثْمِ كَانَ لِمَا اسْتَبَانَ أَتْرَكَ، وَمَنِ اجْتَرَأَ عَلَى مَا يَشُكُّ فِيهِ مِنَ الإِثْمِ أَوْشَكَ أَنْ يُوَاقِعَ مَا اسْتَبَانَ، وَالْمَعَاصِي حِمَى اللَّهِ، مَنْ يَرْتَعْ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكْ أَنْ يُوَاقِعَهُ ".
#2052
Narrated `Abdullah bin Abu Mulaika:`Uqba bin Al-Harith said that a black woman came and claimed that she had suckled both of them (i.e. `Uqba and his wife). So, he mentioned that to the Prophet (ﷺ) who turned his face from him and smiled and said, "How (can you keep your wife), and it was said (that both of you were suckled by the same woman)?" His wife was the daughter of Abu Ihab-al-Tamimi
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی حسین نے خبر دی، ان سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے بیان کیا، ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہ ایک سیاہ فام خاتون آئیں اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے ان دونوں ( عقبہ اور ان کی بیوی ) کو دودھ پلایا ہے۔ عقبہ نے اس امر کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا اور مسکرا کر فرمایا۔ اب جب کہ ایک بات کہہ دی گئی تو تم دونوں ایک ساتھ کس طرح رہ سکتے ہو۔ ان کے نکاح میں ابواہاب تمیمی کی صاحب زادی تھیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ امْرَأَةً، سَوْدَاءَ جَاءَتْ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْهُمَا، فَذَكَرَ لِلنَّبِيِّ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، وَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم. قَالَ " كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ ". وَقَدْ كَانَتْ تَحْتَهُ ابْنَةُ أَبِي إِهَابٍ التَّمِيمِيِّ.
#2053
Narrated Aisha:`Utba bin Abu Waqqas took a firm promise from his brother Sa`d bin Abu Waqqas to take the son of the slave-girl of Zam`a into his custody as he was his (i.e. `Utba's) son. In the year of the Conquest (of Mecca) Sa`d bin Abu Waqqas took him, and said that he was his brother's son, and his brother took a promise from him to that effect. 'Abu bin Zam`a got up and said, "He is my brother and the son of the slave-girl of my father and was born on my father's bed." Then they both went to the Prophet (ﷺ) Sa`d said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! He is the son of my brother and he has taken a promise from me that I will take him." 'Abu bin Zam`a said, "(He is) my brother and the son of my father's slave-girl and was born on my father's bed." Allah's Messenger (ﷺ) said, "The boy is for you. O 'Abu bin Zam`a." Then the Prophet (ﷺ) said, "The son is for the bed (i.e. the man on whose bed he was born) and stones (disappointment and deprivation) for the one who has done illegal sexual intercourse." The Prophet (ﷺ) told his wife Sauda bint Zam`a to screen herself from that boy as he noticed a similarity between the boy and `Utba. So, the boy did not see her till he died
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عتبہ بن ابی وقاص ( کافر ) نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص ( مسلمان ) کو ( مرتے وقت ) وصیت کی تھی کہ زمعہ کی باندی کا لڑکا میرا ہے۔ اس لیے اسے تم اپنے قبضہ میں لے لینا۔ انہوں نے کہا کہ فتح مکہ کے سال سعد رضی اللہ عنہ بن ابی وقاص نے اسے لے لیا، اور کہا کہ یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اور وہ اس کے متعلق مجھے وصیت کر گئے ہیں، لیکن عبد بن زمعہ نے اٹھ کر کہا کہ میرے باپ کی لونڈی کا بچہ ہے، میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ آخر دونوں یہ مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اور مجھے اس کی انہوں نے وصیت کی تھی۔ اور عبد بن زمعہ نے عرض کیا، یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا لڑکا ہے۔ انہیں کے بستر پر اس کی پیدائش ہوئی ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عبد بن زمعہ! لڑکا تو تمہارے ہی ساتھ رہے گا۔ اس کے بعد فرمایا، بچہ اسی کا ہوتا ہے جو جائز شوہر یا مالک ہو جس کے بستر پر وہ پیدا ہوا ہو۔ اور حرام کار کے حصہ میں پتھروں کی سزا ہے۔ پھر سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی تھیں، فرمایا کہ اس لڑکے سے پردہ کیا کر، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ کی شباہت اس لڑکے میں محسوس کر لی تھی۔ اس کے بعد اس لڑکے نے سودہ رضی اللہ عنہ کو کبھی نہ دیکھا یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي فَاقْبِضْهُ. قَالَتْ فَلَمَّا كَانَ عَامَ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَقَالَ ابْنُ أَخِي، قَدْ عَهِدَ إِلَىَّ فِيهِ. فَقَامَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ، فَقَالَ أَخِي، وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ. فَتَسَاوَقَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنُ أَخِي، كَانَ قَدْ عَهِدَ إِلَىَّ فِيهِ. فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ ". ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ". ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " احْتَجِبِي مِنْهُ ". لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ، فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ.
#2054
Narrated `Adi bin Hatim:I asked Allah's Messenger (ﷺ) about Al Mirad (i.e. a sharp-edged piece of wood or a piece of wood provided with a piece of iron used for hunting). He replied, "If the game is hit by its sharp edge, eat it, and if it is hit by its broad side, do not eat it, for it has been beaten to death." I asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I release my dog by the name of Allah and find with it at the game, another dog on which I have not mentioned the name of Allah, and I do not know which one of them caught the game." Allah's Messenger (ﷺ) said (to him), 'Don't eat it as you have mentioned the name of Allah on your dog and not on the other dog
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبداللہ بن ابی سفر نے خبر دی، انہیں شعبی نے، ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «معراض» ( تیر کے شکار ) کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس کے دھار کی طرف سے لگے تو کھا۔ اگر چوڑائی سے لگے تو مت کھا۔ کیونکہ وہ مردار ہے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اپنا کتا ( شکار کے لیے ) چھوڑتا ہوں اور بسم اللہ پڑھ لیتا ہوں، پھر اس کے ساتھ مجھے ایک ایسا کتا اور ملتا ہے جس پر میں نے بسم اللہ نہیں پڑھی ہے۔ میں یہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ دونوں میں کون سے کتے نے شکار پکڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایسے شکار کا گوشت نہ کھا۔ کیونکہ تو نے بسم اللہ تو اپنے کتے کے لیے پڑھی ہے۔ دوسرے کے لیے تو نہیں پڑھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ " إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلاَ تَأْكُلْ، فَإِنَّهُ وَقِيذٌ ". قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُرْسِلُ كَلْبِي وَأُسَمِّي، فَأَجِدُ مَعَهُ عَلَى الصَّيْدِ كَلْبًا آخَرَ لَمْ أُسَمِّ عَلَيْهِ، وَلاَ أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَ. قَالَ " لاَ تَأْكُلْ، إِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى الآخَرِ ".
#2055
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) passed by a fallen date and said, "Were it not for my doubt that this might have been given in charity, I would have eaten it." And narrated Abu Huraira the Prophet (ﷺ) said, "I found a datefruit fallen on my bed
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے طلحہ بن مصرف نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گری ہوئی کھجور پر گزرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس کے صدقہ ہونے کا شبہ نہ ہوتا تو میں اسے کھا لیتا۔ اور ہمام بن منبہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں اپنے بستر پر پڑی ہوئی ایک کھجور پاتا ہوں۔
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِتَمْرَةٍ مَسْقُوطَةٍ فَقَالَ " لَوْلاَ أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً لأَكَلْتُهَا ". وَقَالَ هَمَّامٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَجِدُ تَمْرَةً سَاقِطَةً عَلَى فِرَاشِي ".
#2056
Narrated `Abbas bin Tamim:that his uncle said: "The Prophet (ﷺ) was asked: If a person feels something during his prayer; should one interrupt his prayer?" The Prophet (ﷺ) said: No! You should not give it up unless you hear a sound or smell something." Narrated Ibn Abi Hafsa: Az-Zuhri said, "There is no need of repeating ablution unless you detect a smell or hear a sound
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عباد بن تمیم نے اور ان سے ان کے چچا عبداللہ بن زید مازنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک ایسے شخص کا ذکر آیا جسے نماز میں کچھ شبہ ہوا نکلنے کا ہو جاتا ہے۔ آیا اسے نماز توڑ دینی چاہئے؟ فرمایا کہ نہیں۔ جب تک وہ آواز نہ سن لے یا بدبو نہ محسوس کر لے ( اس وقت تک نماز نہ توڑے ) ابن ابی حفصہ نے زہری سے بیان کیا ( ایسے شخص پر ) وضو واجب نہیں جب تک حدث کی بدبو نہ محسوس کرے یا آواز نہ سن لے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الرَّجُلُ يَجِدُ فِي الصَّلاَةِ شَيْئًا، أَيَقْطَعُ الصَّلاَةَ قَالَ " لاَ، حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا ". وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَفْصَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ لاَ وُضُوءَ إِلاَّ فِيمَا وَجَدْتَ الرِّيحَ أَوْ سَمِعْتَ الصَّوْتَ.
#2057
Narrated `Aisha:Some people said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Meat is brought to us by some people and we are not sure whether the name of Allah has been mentioned on it or not (at the time of slaughtering the animals)." Allah's Messenger (ﷺ) said (to them), "Mention the name of Allah and eat it
ہم سے احمد بن مقدام عجلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن طفاوی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد (عروہ بن زبیر) نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! بہت سے لوگ ہمارے یہاں گوشت لاتے ہیں۔ ہمیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ کا نام انہوں نے ذبح کے وقت لیا تھا یا نہیں؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بسم اللہ پڑھ کے اسے کھا لیا کرو۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ،، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ قَوْمًا، قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ قَوْمًا يَأْتُونَنَا بِاللَّحْمِ لاَ نَدْرِي أَذَكَرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ أَمْ لاَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " سَمُّوا اللَّهَ عَلَيْهِ وَكُلُوهُ ".
#2058
Narrated Jabir:While we were offering the prayer with the Prophet (ﷺ) a caravan carrying food came from Sham. The people looked towards the caravan (and went to it) and only twelve persons remained with the Prophet. So, the Divine Inspiration came; "But when they see some bargain or some amusement, they disperse headlong to it
ہم سے طلق بن غنام نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زائدہ بن قدامہ نے بیان کیا، ان سے حصین نے، ان سے سالم بن ابی الجعد نے کہ مجھ سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ( یعنی خطبہ سن رہے تھے ) کہ ملک شام سے کچھ اونٹ کھانے کا سامان تجارت لے کر آئے۔ ( سب نمازی ) لوگ ان کی طرف متوجہ ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ آدمیوں کے سوا اور کوئی باقی نہ رہا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها» ”جب وہ مال تجارت یا کوئی تماشا دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي جَابِرٌ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ أَقْبَلَتْ مِنَ الشَّأْمِ عِيرٌ، تَحْمِلُ طَعَامًا، فَالْتَفَتُوا إِلَيْهَا، حَتَّى مَا بَقِيَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ اثْنَا عَشَرَ رَجُلاً فَنَزَلَتْ {وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا}
#2059
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "A time will come when one will not care how one gains one's money, legally or illegally
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان کوئی پرواہ نہیں کرے گا کہ جو اس نے حاصل کیا ہے وہ حلال سے ہے یا حرام سے ہے۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، لاَ يُبَالِي الْمَرْءُ مَا أَخَذَ مِنْهُ أَمِنَ الْحَلاَلِ أَمْ مِنَ الْحَرَامِ ".
#2060
Narrated Abu Al-Minhal:I used to practice money exchange, and I asked Zaid bin 'Arqam about it, and he narrated what the Prophet said in the following: Abu Al-Minhal said, "I asked Al-Bara' bin `Azib and Zaid bin Arqam about practicing money exchange. They replied, 'We were traders in the time of Allah's Messenger (ﷺ) and I asked Allah's Messenger (ﷺ) about money exchange. He replied, 'If it is from hand to hand, there is no harm in it; otherwise it is not permissible
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، قَالَ كُنْتُ أَتَّجِرُ فِي الصَّرْفِ، فَسَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ـ رضى الله عنه ـ فَقَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم. وَحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ، يَقُولُ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالاَ كُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّرْفِ فَقَالَ " إِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلاَ بَأْسَ، وَإِنْ كَانَ نَسَاءً فَلاَ يَصْلُحُ ".
#2061
Narrated Abu Al-Minhal:I used to practice money exchange, and I asked Zaid bin 'Arqam about it, and he narrated what the Prophet said in the following: Abu Al-Minhal said, "I asked Al-Bara' bin `Azib and Zaid bin Arqam about practicing money exchange. They replied, 'We were traders in the time of Allah's Messenger (ﷺ) and I asked Allah's Messenger (ﷺ) about money exchange. He replied, 'If it is from hand to hand, there is no harm in it; otherwise it is not permissible
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، قَالَ كُنْتُ أَتَّجِرُ فِي الصَّرْفِ، فَسَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ـ رضى الله عنه ـ فَقَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم. وَحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ، يَقُولُ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالاَ كُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّرْفِ فَقَالَ " إِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلاَ بَأْسَ، وَإِنْ كَانَ نَسَاءً فَلاَ يَصْلُحُ ".
#2062
Narrated 'Ubaid bin `Umair:Abu Musa asked `Umar to admit him but he was not admitted as `Umar was busy, so Abu Musa went back. When `Umar finished his job he said, "Didn't I hear the voice of `Abdullah bin Qais? Let him come in." `Umar was told that he had left. So, he sent for him and on his arrival, he (Abu Musa) said, "We were ordered to do so (i.e. to leave if not admitted after asking permission thrice). `Umar told him, "Bring witness in proof of your statement." Abu Musa went to the Ansar's meeting places and asked them. They said, "None amongst us will give this witness except the youngest of us, Abu Sa`id Al-Khudri. Abu Musa then took Abu Sa`id Al-Khudri (to `Umar) and `Umar said, surprisingly, "Has this order of Allah's Messenger (ﷺ) been hidden from me?" (Then he added), "I used to be busy trading in markets
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو مخلد بن یزید نے خبر دی، کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عطا بن ابی رباح نے خبر دی، انہیں عبید بن عمیر نے کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملنے کی اجازت چاہی لیکن اجازت نہیں ملی۔ غالباً آپ اس وقت کام میں مشغول تھے۔ اس لیے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ واپس لوٹ گئے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ فارغ ہوئے تو فرمایا کیا میں نے عبداللہ بن قیس ( ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ) کی آواز نہیں سنی تھی۔ انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو۔ کہا گیا وہ لوٹ کر چلے گئے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بلا لیا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہمیں اسی کا حکم ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ) تھا ( کہ تین مرتبہ اجازت چاہنے پر اگر اندر جانے کی اجازت نہ ملے تو واپس لوٹ جانا چاہئے ) اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اس حدیث پر کوئی گواہ لاؤ۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ انصار کی مجلس میں گئے اور ان سے اس حدیث کے متعلق پوچھا ( کہ کیا کسی نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ) ان لوگوں نے کہا کہ اس کی گواہی تو تمہارے ساتھ وہ دے گا جو ہم سب میں بہت ہی کم عمر ہے۔ وہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لے گئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حکم مجھ سے پوشیدہ رہ گیا۔ افسوس کہ مجھے بازاروں کی خرید و فروخت نے مشغول رکھا۔ آپ کی مراد تجارت سے تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ، اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، وَكَأَنَّهُ كَانَ مَشْغُولاً فَرَجَعَ أَبُو مُوسَى، فَفَرَغَ عُمَرُ فَقَالَ أَلَمْ أَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ائْذَنُوا لَهُ قِيلَ قَدْ رَجَعَ. فَدَعَاهُ. فَقَالَ كُنَّا نُؤْمَرُ بِذَلِكَ. فَقَالَ تَأْتِينِي عَلَى ذَلِكَ بِالْبَيِّنَةِ. فَانْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسِ الأَنْصَارِ، فَسَأَلَهُمْ. فَقَالُوا لاَ يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا إِلاَّ أَصْغَرُنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ. فَذَهَبَ بِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ. فَقَالَ عُمَرُ أَخَفِيَ عَلَىَّ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَلْهَانِي الصَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ. يَعْنِي الْخُرُوجَ إِلَى تِجَارَةٍ.
#2063
Abu Hurairah (ra) said, "Allah's Messenger (ﷺ) mentioned a person from Bani Israel who travelled by sea and carried out his needs." Then he narrated the whole story. (See Hadith no)
لیث نے کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا۔ جس نے سمندر کا سفر کیا تھا اور اپنی ضرورت پوری کی تھی۔ پھر پوری حدیث بیان کی۔
وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلاً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، خَرَجَ فِي الْبَحْرِ فَقَضَى حَاجَتَهُ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ. حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بِهَذَا.
#2064
Narrated Jabir:A caravan arrived (at Medina) while we were offering the Jumua prayer with the Prophet. The people left out for the caravan, with the exception of twelve persons. Then this Verse was revealed: 'But when they see some bargain or some amusement, they disperse headlong to it and leave you standing
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے حصین نے بیان کیا، ان سے سالم بن ابی الجعد نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( تجارتی ) اونٹوں ( کا قافلہ ) آیا۔ ہم اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ ( کے خطبہ ) میں شریک تھے۔ بارہ صحابہ کے سوا باقی تمام حضرات ادھر چلے گئے اس پر یہ آیت اتری «وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما» ”جب سوداگری یا تماشا دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں۔“
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَقْبَلَتْ عِيرٌ، وَنَحْنُ نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْجُمُعَةَ، فَانْفَضَّ النَّاسُ إِلاَّ اثْنَىْ عَشَرَ رَجُلاً، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا }
#2065
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) said, "If a woman gives in charity from her house meals without wasting (i.e. being extravagant), she will get the reward for her giving, and her husband will also get the reward for his earning and the storekeeper will also get a similar reward. The acquisition of the reward of none of them will reduce the reward of the others
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابووائل نے، ان سے مسروق نے، اور ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب عورت اپنے گھر کا کھانا ( غلہ وغیرہ ) بشرطیکہ گھر بگاڑنے کی نیت نہ ہو خرچ کرے تو اسے خرچ کرنے کا ثواب ملتا ہے اور اس کے شوہر کو کمانے کا اور خزانچی کو بھی ایسا ہی ثواب ملتا ہے ایک کا ثواب دوسرے کے ثواب کو کم نہیں کرتا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ بَيْتِهَا، غَيْرَ مُفْسِدَةٍ، كَانَ لَهَا أَجْرُهَا بِمَا أَنْفَقَتْ، وَلِزَوْجِهَا بِمَا كَسَبَ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ، لاَ يَنْقُصُ بَعْضُهُمْ أَجْرَ بَعْضٍ شَيْئًا ".
#2066
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "If a woman gives something (i.e. in charity) from her husband's earnings without his permission, she will get half his reward
مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے بیان کیا، ان سے ہمام نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر عورت اپنے شوہر کی کمائی اس کی اجازت کے بغیر بھی ( اللہ کے راستے میں ) خرچ کرتی ہے تو اسے آدھا ثواب ملتا ہے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ كَسْبِ زَوْجِهَا عَنْ غَيْرِ أَمْرِهِ، فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِهِ ".
#2067
Narrated Anas bin Malik:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "whoever desires an expansion in his sustenance and age, should keep good relations with his Kith and kin
ہم سے محمد بن یعقوب کرمانی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حسان بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا، ان سے محمد بن مسلم نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کیا کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ جو شخص اپنی روزی میں کشادگی چاہتا ہو یا عمر کی دارازی چاہتا ہو تو اسے چاہئیے کہ صلہ رحمی کرے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْكِرْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ رِزْقُهُ أَوْ يُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ ".
#2068
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) purchased food grains from a Jew on credit and mortgaged his iron armor to him
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا کہ ابراہیم نخعی کی مجلس میں ہم نے ادھار لین دین میں ( سامان ) گروی رکھنے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے اسود نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے کچھ غلہ ایک مدت مقرر کر کے ادھا خریدا اور اپنی لوہے کی ایک زرہ اس کے پاس گروی رکھی۔
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ ذَكَرْنَا عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ الرَّهْنَ فِي السَّلَمِ فَقَالَ حَدَّثَنِي الأَسْوَدُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اشْتَرَى طَعَامًا مِنْ يَهُودِيٍّ إِلَى أَجَلٍ، وَرَهَنَهُ دِرْعًا مِنْ حَدِيدٍ.
#2069
Narrated Qatada:Anas went to the Prophet (ﷺ) with barley bread having some dissolved fat on it. The Prophet (ﷺ) had mortgaged his armor to a Jew in Medina and took from him some barley for his family. Anas heard him saying, "The household of Muhammad did not possess even a single Sa of wheat or food grains for the evening meal, although he has nine wives to look after." (See Hadith No)
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسباط ابوالیسع بصریٰ نے، کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جَو کی روٹی اور بدبودار چربی ( سالن کے طور پر ) لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت اپنی زرہ مدینہ میں ایک یہودی کے یہاں گروی رکھی تھی اور اس سے اپنے گھر والوں کے لیے قرض لیا تھا۔ میں نے خود آپ کو یہ فرماتے سنا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے میں کوئی شام ایسی نہیں آئی جس میں ان کے پاس ایک صاع گیہوں یا ایک صاع کوئی غلہ موجود رہا ہو، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھر والیوں کی تعداد نو تھی۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، ح. حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ أَبُو الْيَسَعِ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ مَشَى إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِخُبْزِ شَعِيرٍ، وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ، وَلَقَدْ رَهَنَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم دِرْعًا لَهُ بِالْمَدِينَةِ عِنْدَ يَهُودِيٍّ، وَأَخَذَ مِنْهُ شَعِيرًا لأَهْلِهِ، وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ " مَا أَمْسَى عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم صَاعُ بُرٍّ وَلاَ صَاعُ حَبٍّ، وَإِنَّ عِنْدَهُ لَتِسْعَ نِسْوَةٍ ".
#2070
Narrated `Aisha:When Abu Bakr As-Siddiq was chosen Caliph, he said, "My people know that my profession was not incapable of providing substance to my family. And as I will be busy serving the Muslim nation, my family will eat from the National Treasury of Muslims, and I will practice the profession of serving the Muslims
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو فرمایا، میری قوم جانتی ہے کہ میرا ( تجارتی ) کاروبار میرے گھر والوں کی گذران کے لیے کافی رہا ہے، لیکن اب میں مسلمانوں کے کام میں مشغول ہو گیا ہوں، اس لیے آل ابوبکر اب بیت المال میں سے کھائے گی، اور ابوبکر مسلمانوں کا مال تجارت بڑھاتا رہے گا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ لَمَّا اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ قَالَ لَقَدْ عَلِمَ قَوْمِي أَنَّ حِرْفَتِي لَمْ تَكُنْ تَعْجِزُ عَنْ مَئُونَةِ أَهْلِي، وَشُغِلْتُ بِأَمْرِ الْمُسْلِمِينَ، فَسَيَأْكُلُ آلُ أَبِي بَكْرٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَيَحْتَرِفُ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ.
#2071
Narrated Aisha:The companions of Allah's Messenger (ﷺ) used to practice manual labor, so their sweat used to smell, and they were advised to take a bath
مجھ سے محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوالاسود نے بیان کیا، ان سے عروہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے کام اپنے ہی ہاتھوں سے کیا کرتے تھے اور ( زیادہ محنت و مشقت کی وجہ سے ) ان کے جسم سے ( پسینے کی ) بو آ جاتی تھی۔ اس لیے ان سے کہا گیا کہ اگر تم غسل کر لیا کرو تو بہتر ہو گا۔ اس کی روایت ہمام نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے باپ سے اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کی ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عُمَّالَ أَنْفُسِهِمْ، وَكَانَ يَكُونُ لَهُمْ أَرْوَاحٌ فَقِيلَ لَهُمْ لَوِ اغْتَسَلْتُمْ. رَوَاهُ هَمَّامٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ.
#2072
Narrated Al-Miqdam:The Prophet (ﷺ) said, "Nobody has ever eaten a better meal than that which one has earned by working with one's own hands. The Prophet of Allah, David (ﷺ) used to eat from the earnings of his manual labor
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، انہیں ثور نے خبر دی، انہیں خالد بن معدان نے اور انہیں مقدام رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی انسان نے اس شخص سے بہتر روزی نہیں کھائی، جو خود اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتا ہے اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام بھی اپنے ہاتھ سے کام کر کے روزی کھایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ ـ رضى الله عنه ـ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا أَكَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ، وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ دَاوُدَ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ كَانَ يَأْكُلُ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ ".
#2073
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The Prophet David (ﷺ) used not to eat except from the earnings of his manual labor
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں معمر نے خبر دی، انہیں ہمام بن منبہ نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ داؤد علیہ السلام صرف اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَّ دَاوُدَ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ كَانَ لاَ يَأْكُلُ إِلاَّ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ ".
#2074
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "No doubt, it is better for any one of you to cut a bundle of wood and carry it over his back rather than to ask someone who may or may not give him
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام ابی عبید نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص جو لکڑی کا گھٹا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے، اس سے بہتر ہے جو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے چاہئیے وہ اسے کچھ دیدے یا نہ دے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لأَنْ يَحْتَطِبَ أَحَدُكُمْ حُزْمَةً عَلَى ظَهْرِهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ أَحَدًا، فَيُعْطِيَهُ أَوْ يَمْنَعَهُ ".
#2075
Narrated Az-Zubair bin Al-Awwam:The Prophet (ﷺ) said, "One would rather take a rope and cut wood and carry it than ask others
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی اپنی رسیوں کو سنبھال لے اور ان میں لکڑی باندھ کر لائے تو وہ اس سے بہتر ہے جو لوگوں سے مانگتا ہے پھرتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ أَحْبُلَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ ".