#1951
Narrated Abu Sa`id:The Prophet (ﷺ) said, "Isn't it true that a woman does not pray and does not fast on menstruating? And that is the defect (a loss) in her religion
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے زید بن اسلم نے بیان کیا، ان سے عیاض نے اور ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا جب عورت حائضہ ہوتی ہے تو نماز اور روزے نہیں چھوڑ دیتی؟ یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدٌ، عَنْ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ، وَلَمْ تَصُمْ فَذَلِكَ نُقْصَانُ دِينِهَا ".
#1952
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever died and he ought to have fasted (the missed days of Ramadan) then his guardians must fast on his behalf
ہم سے محمد بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن موسیٰ ابن اعین نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے عمرو بن حارث نے، ان سے عبیداللہ بن ابی جعفر نے، ان سے محمد بن جعفر نے کہا، ان سے عروہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کے ذمہ روزے واجب ہوں تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھ دے، موسیٰ کے ساتھ اس حدیث کو ابن وہب نے بھی عمرو سے روایت کیا اور یحییٰ بن ایوب سختیانی نے بھی ابن ابی جعفر سے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ، حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ ". تَابَعَهُ ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرٍو. وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ.
#1953
Narrated Ibn `Abbas:A man came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! My mother died and she ought to have fasted one month (for her missed Ramadan). Shall I fast on her behalf?" The Prophet (ﷺ) replied in the affirmative and said, "Allah's debts have more right to be paid." In another narration a woman is reported to have said, "My sister died..." Narrated Ibn `Abbas: A woman said to the Prophet (ﷺ) "My mother died and she had vowed to fast but she didn't fast." In another narration Ibn `Abbas is reported to have said, "A woman said to the Prophet, "My mother died while she ought to have fasted for fifteen days
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے زائدہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم بطین نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ! میری ماں کا انتقال ہو گیا اور ان کے ذمے ایک مہینے کے روزے باقی رہ گئے ہیں۔ کیا میں ان کی طرف سے قضاء رکھ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ضرور، اللہ تعالیٰ کا قرض اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اسے ادا کر دیا جائے۔ سلیمان اعمش نے بیان کیا کہ حکم اور سلمہ نے کہا جب مسلم بطین نے یہ حدیث بیان کیا تو ہم سب وہیں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان دونوں حضرات نے فرمایا کہ ہم نے مجاہد سے بھی سنا تھا کہ وہ یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے۔ ابوخالد سے روایت ہے کہ اعمش نے بیان کیا ان سے حکم، مسلم بطین اور سلمہ بن کہیل نے، ان سے سعید بن جبیر، عطاء اور مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میری ”بہن“ کا انتقال ہو گیا ہے پھر یہی قصہ بیان کیا، یحییٰ اور سعید اور ابومعاویہ نے کہا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے مسلم نے، ان سے سعید نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے زید ابن ابی انیسہ نے، ان سے حکم نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور ان پر نذر کا ایک روزہ واجب تھا اور ابوحریز عبداللہ بن حسین نے بیان کیا، کہا ہم سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور ان پر پندرہ دن کے روزے واجب تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ، وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ، أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا قَالَ " نَعَمْ ـ قَالَ ـ فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى ". قَالَ سُلَيْمَانُ فَقَالَ الْحَكَمُ وَسَلَمَةُ، وَنَحْنُ جَمِيعًا جُلُوسٌ حِينَ حَدَّثَ مُسْلِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ ـ قَالاَ ـ سَمِعْنَا مُجَاهِدًا يَذْكُرُ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ الْحَكَمِ، وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَطَاءٍ، وَمُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَتِ امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ. وَقَالَ يَحْيَى وَأَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَتِ امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ. وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَتِ امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ نَذْرٍ. وَقَالَ أَبُو حَرِيزٍ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَتِ امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَاتَتْ أُمِّي وَعَلَيْهَا صَوْمُ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا.
#1954
Narrated `Umar bin Al-Khattab:Allah's Messenger (ﷺ) said, "When night falls from this side and the day vanishes from this side and the sun sets, then the fasting person should break his fast
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَا هُنَا، وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ".
#1955
Narrated `Abdullah bin Abi `Aufa:We were in the company of the Prophet (ﷺ) on a journey and he was fasting, and when the sun set, he addressed somebody, "O so-and-so, get up and mix Sawiq with water for us." He replied, "O Allah's Apostle! (Will you wait) till it is evening?" The Prophet (ﷺ) said, "Get down and mix Sawiq with water for us." He replied, "O Allah's Messenger (ﷺ)! (If you wait) till it is evening." The Prophet (ﷺ) said again, "Get down and mix Sawiq with water for us." He replied, "It is still daytime."(1) The Prophet (ﷺ) said again, "Get down and mix Sawiq with water for us." He got down and mixed Sawiq for them. The Prophet (ﷺ) drank it and then said, "When you see night falling from this side, the fasting person should break his fast
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ، وَهُوَ صَائِمٌ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ لِبَعْضِ الْقَوْمِ " يَا فُلاَنُ قُمْ، فَاجْدَحْ لَنَا ". فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَمْسَيْتَ. قَالَ " انْزِلْ، فَاجْدَحْ لَنَا ". قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَوْ أَمْسَيْتَ. قَالَ " انْزِلْ، فَاجْدَحْ لَنَا ". قَالَ إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا. قَالَ " انْزِلْ، فَاجْدَحْ لَنَا ". فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُمْ، فَشَرِبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ " إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ".
#1956
Narrated `Abdullah bin Abi `Aufa:We were traveling with Allah's Messenger (ﷺ) and he was fasting, and when the sun set, he said to (someone), "Get down and mix Sawiq with water for us." He replied, "O Allah's Messenger (ﷺ)! (Will you wait) till it is evening?" The Prophet (ﷺ) again said, "Get down and mix Sawiq with water for us." He replied, "O Allah's Messenger (ﷺ)! It is still daytime." The Prophet (ﷺ) said again, "Get down and mix Sawiq with water for us." So, he got down and carried out that order. The Prophet (ﷺ) then said, "When you see night falling from this side, the fasting person should break his fast," and he beckoned with his finger towards the east
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں جا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے، جب سورج غروب ہوا تو آپ نے ایک شخص سے فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول، انہوں نے کہا یا رسول اللہ! تھوڑی دیر اور ٹھہرئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول انہوں نے پھر یہی کہا کہ یا رسول اللہ! ابھی تو دن باقی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اتر کر ستو ہمارے لیے گھول، چنانچہ انہوں نے اتر کر ستو گھولا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ رات کی تاریکی ادھر سے آ گئی تو روزہ دار کو روزہ افطار کر لینا چاہئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ صَائِمٌ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ " انْزِلْ، فَاجْدَحْ لَنَا ". قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَمْسَيْتَ. قَالَ " انْزِلْ، فَاجْدَحْ لَنَا ". قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا. قَالَ " انْزِلْ، فَاجْدَحْ لَنَا ". فَنَزَلَ، فَجَدَحَ، ثُمَّ قَالَ " إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ". وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ.
#1957
Narrated Sahl bin Sa`d:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The people will remain on the right path as long as they hasten the breaking of the fast
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوحازم سلمہ بن دینار نے، انہیں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میری امت کے لوگوں میں اس وقت تک خیر باقی رہے گی، جب تک وہ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ ".
#1958
Narrated Ibn Abi `Aufa:I was with the Prophet (ﷺ) on a journey, and he observed the fast till evening. The Prophet (ﷺ) said to a man, "Get down and mix Sawiq with water for me." He replied, "Will you wait till it is evening?" The Prophet said, "Get down and mix Sawiq with water for me; when you see night falling from this side, the fasting person should break his fast
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، ان سے سلیمان شیبانی نے اور ان سے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے، جب شام ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا کہ ( اونٹ سے ) اتر کر میرے لیے ستو گھول، اس نے کہا: یا رسول اللہ! اگر شام ہونے کا کچھ اور انتظار فرمائیں تو بہتر ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اتر کر میرے لیے ستو گھول ( وقت ہو گیا ہے ) جب تم یہ دیکھ لو کہ رات ادھر مشرق سے آ گئی تو روزہ دار کے روزہ کھولنے کا وقت ہو گیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ، فَصَامَ حَتَّى أَمْسَى، قَالَ لِرَجُلٍ " انْزِلْ، فَاجْدَحْ لِي ". قَالَ لَوِ انْتَظَرْتَ حَتَّى تُمْسِيَ. قَالَ " انْزِلْ، فَاجْدَحْ لِي، إِذَا رَأَيْتَ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ".
#1959
Narrated Abu Usama from Hisham bin 'Urwa from Fatima:Asma bint Abi Bakr said, "We broke our fast during the lifetime of the Prophet (ﷺ) on a cloudy day and then the sun appeared." Hisham was asked, "Were they ordered to fast in lieu of that day?" He replied, "It had to be made up for." Ma`mar said, "I heard Hisham saying, "I don't know whether they fasted in lieu of that day or not
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے فاطمہ بنت منذر نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ نے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بادل تھا۔ ہم نے جب افطار کر لیا تو سورج نکل آیا۔ اس پر ہشام ( راوی حدیث ) سے کہا گیا کہ پھر انہیں اس روزے کی قضاء کا حکم ہوا تھا؟ تو انہوں نے بتلایا کہ قضاء کے سوا اور چارہ کار ہی کیا تھا؟ اور معمر نے کہا کہ میں نے ہشام سے یوں سنا ”مجھے معلوم نہیں کہ ان لوگوں نے قضاء کی تھی یا نہیں۔“
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَتْ أَفْطَرْنَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ غَيْمٍ، ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ. قِيلَ لِهِشَامٍ فَأُمِرُوا بِالْقَضَاءِ قَالَ بُدٌّ مِنْ قَضَاءٍ. وَقَالَ مَعْمَرٌ سَمِعْتُ هِشَامًا لاَ أَدْرِي أَقْضَوْا أَمْ لاَ.
#1960
Narrated Ar-Rubai' bint Mu'awwidh:"The Prophet (ﷺ) sent a messenger to the village of the Ansar in the morning of the day of 'Ashura' (10th of Muharram) to announce: 'Whoever has eaten something should not eat but complete the fast, and whoever is observing the fast should complete it.' "She further said, "Since then we used to fast on that day regularly and also make our boys fast. We used to make toys of wool for the boys and if anyone of them cried for food, he was given those toys till it was the time of the breaking of the fast
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، ان سے خالد بن ذکوان نے بیان کیا، ان سے ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ عاشورہ کی صبح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے محلوں میں کہلا بھیجا کہ صبح جس نے کھا پی لیا ہو وہ دن کا باقی حصہ ( روزہ دار کی طرح ) پورے کرے اور جس نے کچھ کھایا پیا نہ ہو وہ روزے سے رہے۔ ربیع نے کہا کہ پھر بعد میں بھی ( رمضان کے روزے کی فرضیت کے بعد ) ہم اس دن روزہ رکھتے اور اپنے بچوں سے بھی رکھواتے تھے۔ انہیں ہم اون کا ایک کھلونا دے کر بہلائے رکھتے۔ جب کوئی کھانے کے لیے روتا تو وہی دے دیتے، یہاں تک کہ افطار کا وقت آ جاتا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ، قَالَتْ أَرْسَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم غَدَاةَ عَاشُورَاءَ إِلَى قُرَى الأَنْصَارِ " مَنْ أَصْبَحَ مُفْطِرًا فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ، وَمَنْ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلْيَصُمْ ". قَالَتْ فَكُنَّا نَصُومُهُ بَعْدُ، وَنُصَوِّمُ صِبْيَانَنَا، وَنَجْعَلُ لَهُمُ اللُّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ، فَإِذَا بَكَى أَحَدُهُمْ عَلَى الطَّعَامِ أَعْطَيْنَاهُ ذَاكَ، حَتَّى يَكُونَ عِنْدَ الإِفْطَارِ.
#1961
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) said, "Do not practice Al-Wisal (fasting continuously without breaking one's fast in the evening or eating before the following dawn)." The people said to the Prophet, "But you practice Al- Wisal?" The Prophet (ﷺ) replied, "I am not like any of you, for I am given food and drink (by Allah) during the night
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، کہا کہ مجھ سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( بلا سحر و افطار ) پے در پے روزے نہ رکھا کرو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ مجھے ( اللہ تعالیٰ کی طرف سے ) کھلایا اور پلایا جاتا ہے یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) میں اس طرح رات گزارتا ہوں کہ مجھے کھلایا اور پلایا جاتا رہتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تُوَاصِلُوا ". قَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ. قَالَ " لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ، إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى، أَوْ إِنِّي أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى ".
#1962
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) forbade Al-Wisal. The people said (to him), "But you practice it?" He said, "I am not like you, for I am given food and drink by Allah
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال سے منع فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ آپ تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں، مجھے تو کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْوِصَالِ. قَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ. قَالَ " إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى ".
#1963
Narrated Abu Sa`id:That he had heard the Prophet (ﷺ) saying, "Do not fast continuously (practice Al-Wisal), and if you intend to lengthen your fast, then carry it on only till the Suhur (before the following dawn)." The people said to him, "But you practice (Al-Wisal), O Allah's Messenger (ﷺ)!" He replied, "I am not similar to you, for during my sleep I have One Who makes me eat and drink
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، ان سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یزید بن ہاد نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن خباب نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلسل ( بلاسحری و افطاری ) روزے نہ رکھو، ہاں اگر کوئی ایسا کرنا ہی چاہے تو وہ سحری کے وقت تک ایسا کر سکتا ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی یا رسول اللہ! آپ تو ایسا کرتے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ میں تو رات اس طرح گزارتا ہوں کہ ایک کھلانے والا مجھے کھلاتا ہے اور ایک پلانے والا مجھے پلاتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تُوَاصِلُوا، فَأَيُّكُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوَاصِلَ فَلْيُوَاصِلْ حَتَّى السَّحَرِ ". قَالُوا فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ لِي مُطْعِمٌ يُطْعِمُنِي وَسَاقٍ يَسْقِينِ ".
#1964
Narrated Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) forbade Al-Wisal out of mercy to them. They said to him, "But you practice Al- Wisal?" He said, "I am not similar to you, for my Lord gives me food and drink
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے باپ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پے در پے روزہ سے منع کیا تھا۔ امت پر رحمت و شفقت کے خیال سے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں تمہاری طرح نہیں ہوں مجھے میرا رب کھلاتا اور پلاتا ہے۔ عثمان نے ( اپنی روایت میں ) ”امت پر رحمت و شفقت کے خیال سے“ کے الفاظ ذکر نہیں کئے ہیں۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدٌ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْوِصَالِ، رَحْمَةً لَهُمْ فَقَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ. قَالَ " إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ، إِنِّي يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لَمْ يَذْكُرْ عُثْمَانُ رَحْمَةً لَهُمْ.
#1965
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) forbade Al-Wisal in fasting. So, one of the Muslims said to him, "But you practice Al- Wisal. O Allah's Messenger (ﷺ)!" The Prophet (ﷺ) replied, "Who amongst you is similar to me? I am given food and drink during my sleep by my Lord." So, when the people refused to stop Al-Wisal (fasting continuously), the Prophet (ﷺ) fasted day and night continuously along with them for a day and then another day and then they saw the crescent moon (of the month of Shawwal). The Prophet (ﷺ) said to them (angrily), "If It (the crescent) had not appeared, I would have made you fast for a longer period." That was as a punishment for them when they refused to stop (practicing Al-Wisal)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل ( کئی دن تک سحری و افطاری کے بغیر ) روزہ رکھنے سے منع فرمایا تھا۔ اس پر ایک آدمی نے مسلمانوں میں سے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری طرح تم میں سے کون ہے؟ مجھے تو رات میں میرا رب کھلاتا ہے، اور وہی مجھے سیراب کرتا ہے۔ لوگ اس پر بھی جب صوم وصال رکھنے سے نہ رکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو دن تک وصال کیا۔ پھر عید کا چاند نکل آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر چاند نہ دکھائی دیتا تو میں اور کئی دن وصال کرتا، گویا جب صوم و صال سے وہ لوگ نہ رکے تو آپ نے ان کو سزا دینے کے لیے یہ کہا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " وَأَيُّكُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ ". فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا، ثُمَّ رَأَوُا الْهِلاَلَ، فَقَالَ " لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ ". كَالتَّنْكِيلِ لَهُمْ، حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا.
#1966
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said twice, "(O you people) Be cautious! Do not practice Al-Wisal." The people said to him, "But you practice Al-Wisal?" The Prophet (ﷺ) replied, "My Lord gives me food and drink during my sleep. Do that much of deeds which is within your ability
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبار فرمایا، تم لوگ وصال سے بچو! عرض کیا گیا کہ آپ تو وصال کرتے ہیں، اس پر آپ نے فرمایا کہ رات میں مجھے میرا رب کھلاتا اور وہی مجھے سیراب کرتا ہے۔ پس تم اتنی ہی مشقت اٹھاؤ جتنی تم طاقت رکھتے ہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ ". مَرَّتَيْنِ قِيلَ إِنَّكَ تُوَاصِلُ. قَالَ " إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ، فَاكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ ".
#1967
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not fast continuously day and night (practice Al-Wisal) and if anyone of you intends to fast continuously day and night, he should continue till the Suhur time." They said, "But you practice Al-Wisal, O Allah's Messenger (ﷺ)!" The Prophet (ﷺ) said, "I am not similar to you;. during my sleep I have One Who makes me eat and drink
ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز ابن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے یزید بن ہاد نے، ان سے عبداللہ بن خباب نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے، صوم وصال نہ رکھو۔ اور اگر کسی کا ارادہ ہی وصال کا ہو تو سحری کے وقت تک وصال کر لے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی، یا رسول اللہ! آپ تو وصال کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ رات کے وقت ایک کھلانے والا مجھے کھلاتا ہے اور ایک پلانے والا مجھے پلاتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تُوَاصِلُوا، فَأَيُّكُمْ أَرَادَ أَنْ يُوَاصِلَ فَلْيُوَاصِلْ حَتَّى السَّحَرِ ". قَالُوا فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ، يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ لِي مُطْعِمٌ يُطْعِمُنِي وَسَاقٍ يَسْقِينِ ".
#1968
Narrated Abu Juhaifa:The Prophet (ﷺ) made a bond of brotherhood between Salman and Abu Ad-Darda.' Salman paid a visit to Abu Ad-Darda' and found Um Ad-Darda' dressed in shabby clothes and asked her why she was in that state. She replied, "Your brother Abu Ad-Darda' is not interested in (the luxuries of) this world." In the meantime Abu Ad-Darda' came and prepared a meal for Salman. Salman requested Abu Ad- Darda' to eat (with him), but Abu Ad-Darda' said, "I am fasting." Salman said, "I am not going to eat unless you eat." So, Abu Ad-Darda' ate (with Salman). When it was night and (a part of the night passed), Abu Ad-Darda' got up (to offer the night prayer), but Salman told him to sleep and Abu Ad- Darda' slept. After sometime Abu Ad-Darda' again got up but Salman told him to sleep. When it was the last hours of the night, Salman told him to get up then, and both of them offered the prayer. Salman told Abu Ad-Darda', "Your Lord has a right on you, your soul has a right on you, and your family has a right on you; so you should give the rights of all those who has a right on you." Abu Ad- Darda' came to the Prophet (ﷺ) and narrated the whole story. The Prophet (ﷺ) said, "Salman has spoken the truth
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جعفر بن عون نے بیان کیا، ان سے ابوالعمیس عتبہ بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے عون بن ابی حجیفہ نے اور ان سے ان کے والد (وہب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ میں ( ہجرت کے بعد ) بھائی چارہ کرایا تھا۔ ایک مرتبہ سلمان رضی اللہ عنہ، ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لیے گئے۔ تو ( ان کی عورت ) ام الدرداء رضی اللہ عنہا کو بہت پراگندہ حال میں دیکھا۔ ان سے پوچھا کہ یہ حالت کیوں بنا رکھی ہے؟ ام الدرداء رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ تمہارے بھائی ابوالدرداء رضی اللہ عنہ ہیں جن کو دنیا کی کوئی حاجت ہی نہیں ہے پھر ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بھی آ گئے اور ان کے سامنے کھانا حاضر کیا اور کہا کہ کھانا کھاؤ، انہوں نے کہا کہ میں تو روزے سے ہوں، اس پر سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں بھی اس وقت تک کھانا نہیں کھاؤں گا جب تک تم خود بھی شریک نہ ہو گے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر وہ کھانے میں شریک ہو گئے ( اور روزہ توڑ دیا ) رات ہوئی تو ابوالدرداء رضی اللہ عنہ عبادت کے لیے اٹھے اور اس مرتبہ بھی سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابھی سو جاؤ۔ پھر جب رات کا آخری حصہ ہوا تو سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اچھا اب اٹھ جاؤ۔ چنانچہ دونوں نے نماز پڑھی۔ اس کے بعد سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہارے رب کا بھی تم پر حق ہے۔ جان کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، اس لیے ہر حق والے کے حق کو ادا کرنا چاہئے، پھر آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سلمان نے سچ کہا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ آخَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ سَلْمَانَ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، فَزَارَ سَلْمَانُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَرَأَى أُمَّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةً. فَقَالَ لَهَا مَا شَأْنُكِ قَالَتْ أَخُوكَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ فِي الدُّنْيَا. فَجَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ، فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا. فَقَالَ كُلْ. قَالَ فَإِنِّي صَائِمٌ. قَالَ مَا أَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ. قَالَ فَأَكَلَ. فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ ذَهَبَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يَقُومُ. قَالَ نَمْ. فَنَامَ، ثُمَّ ذَهَبَ يَقُومُ. فَقَالَ نَمْ. فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قَالَ سَلْمَانُ قُمِ الآنَ. فَصَلَّيَا، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ إِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، فَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ. فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " صَدَقَ سَلْمَانُ ".
#1969
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) used to fast till one would say that he would never stop fasting, and he would abandon fasting till one would say that he would never fast. I never saw Allah's Messenger (ﷺ) fasting for a whole month except the month of Ramadan, and did not see him fasting in any month more than in the month of Sha'ban
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبری دی، انہیں ابوالنضر نے، انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفل روزہ رکھنے لگتے تو ہم ( آپس میں ) کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھنا چھوڑیں گے ہی نہیں۔ اور جب روزہ چھوڑ دیتے تو ہم کہتے کہ اب آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔ میں نے رمضان کو چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی پورے مہینے کا نفلی روزہ رکھتے نہیں دیکھتا اور جتنے روزے آپ شعبان میں رکھتے میں نے کسی مہینہ میں اس سے زیادہ روزے رکھتے آپ کو نہیں دیکھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يَصُومُ. فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ إِلاَّ رَمَضَانَ، وَمَا رَأَيْتُهُ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ.
#1970
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) never fasted in any month more than in the month of Sha'ban. He used to say, "Do those deeds which you can do easily, as Allah will not get tired (of giving rewards) till you get bored and tired (of performing religious deeds)." The most beloved prayer to the Prophet (ﷺ) was the one that was done regularly (throughout the life) even if it were little. And whenever the Prophet (ﷺ) offered a prayer he used to offer it regularly
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان سے زیادہ اور کسی مہینہ میں روزے نہیں رکھتے تھے، شعبان کے پورے دنوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے رہتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ عمل وہی اختیار کرو جس کی تم میں طاقت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ ( ثواب دینے سے ) نہیں تھکتا۔ تم خود ہی اکتا جاؤ گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز کو سب سے زیادہ پسند فرماتے جس پر ہمیشگی اختیار کی جائے خواہ کم ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز شروع کرتے تو اسے ہمیشہ پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ حَدَّثَتْهُ قَالَتْ، لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ شَهْرًا أَكْثَرَ مِنْ شَعْبَانَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ، وَكَانَ يَقُولُ " خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا، وَأَحَبُّ الصَّلاَةِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا دُووِمَ عَلَيْهِ، وَإِنْ قَلَّتْ " وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلاَةً دَاوَمَ عَلَيْهَا.
#1971
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) never fasted a full month except the month of Ramadan, and he used to fast till one could say, "By Allah, he will never stop fasting," and he would abandon fasting till one would say, "By Allah, he will never fast
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رمضان کے سوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پورے مہینے کا روزہ نہیں رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نفل روزہ رکھنے لگتے تو دیکھنے والا کہہ اٹھتا کہ بخدا، اب آپ بے روزہ نہیں رہیں گے اور اسی طرح جب نفل روزہ چھوڑ دیتے تو کہنے والا کہتا کہ واللہ! اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ نہیں رکھیں گے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ مَا صَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم شَهْرًا كَامِلاً قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ، وَيَصُومُ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ لاَ وَاللَّهِ لاَ يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ لاَ وَاللَّهِ لاَ يَصُومُ.
#1972
Narrated Anas:Allah's Messenger (ﷺ) used to leave fasting in a certain month till we thought that he would not fast in that month, and he used to fast in another month till we thought he would not stop fasting at all in that month. And if one wanted to see him praying at night, one could see him (in that condition), and if one wanted to see him sleeping at night, one could see him (in that condition) too
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینہ میں بے روزہ کے رہتے تو ہمیں خیال ہوتا کہ اس مہینہ میں آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔ اسی طرح کسی مہینہ میں نفل روزہ رکھنے لگتے تو ہم خیال کرتے کہ اب اس مہینہ کا ایک دن بھی بے روزے کے نہیں گزرے گا۔ جو جب بھی چاہتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رات میں نماز پڑھتے دیکھ سکتا تھا اور جب بھی چاہتا سوتا ہوا بھی دیکھ سکتا تھا۔ سلیمان نے حمید طویل سے یوں بیان کیا کہ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے روزہ کے متعلق پوچھا تھا۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُفْطِرُ مِنَ الشَّهْرِ، حَتَّى نَظُنَّ أَنْ لاَ يَصُومَ مِنْهُ، وَيَصُومُ حَتَّى نَظُنَّ أَنْ لاَ يُفْطِرَ مِنْهُ شَيْئًا، وَكَانَ لاَ تَشَاءُ تَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلاَّ رَأَيْتَهُ، وَلاَ نَائِمًا إِلاَّ رَأَيْتَهُ. وَقَالَ سُلَيْمَانُ عَنْ حُمَيْدٍ أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسًا فِي الصَّوْمِ.
#1973
Narrated Humaid:I asked Anas about the fasting of the Prophet. He said "Whenever I liked to see the Prophet (ﷺ) fasting in any month, I could see that, and whenever I liked to see him not fasting, I could see that too, and if I liked to see him praying in any night, I could see that, and if I liked to see him sleeping, I could see that, too." Anas further said, "I never touched silk or velvet softer than the hand of Allah's Messenger (ﷺ) and never smelled musk or perfumed smoke more pleasant than the smell of Allah's Messenger (ﷺ)
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابوخالد احمر نے خبر دی، کہا کہ ہم کو حمید نے خبر دی، کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے متعلق پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ جب بھی میرا دل چاہتا کہ آپ کو روزے سے دیکھوں تو میں آپ کو روزے سے ہی دیکھتا۔ اور بغیر روزے کے چاہتا تو بغیر روزے سے ہی دیکھتا۔ رات میں کھڑے ( نماز پڑھتے ) دیکھنا چاہتا تو اسی طرح نماز پڑھتے دیکھتا۔ اور سوتے ہوئے دیکھنا چاہتا تو اسی طرح دیکھتا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے زیادہ نرم و نازک ریشم کے کپڑوں کو بھی نہیں دیکھا۔ اور نہ مشک و عنبر کو آپ کی خوشبو سے زیادہ خوشبودار پایا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا رضى الله عنه عَنْ صِيَامِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَا كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَرَاهُ مِنَ الشَّهْرِ صَائِمًا إِلاَّ رَأَيْتُهُ وَلاَ مُفْطِرًا إِلاَّ رَأَيْتُهُ، وَلاَ مِنَ اللَّيْلِ قَائِمًا إِلاَّ رَأَيْتُهُ، وَلاَ نَائِمًا إِلاَّ رَأَيْتُهُ، وَلاَ مَسِسْتُ خَزَّةً وَلاَ حَرِيرَةً أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَلاَ شَمِمْتُ مِسْكَةً وَلاَ عَبِيرَةً أَطْيَبَ رَائِحَةً مِنْ رَائِحَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
#1974
Narrated `Abdullah bin `Amr bin Al-`As:"Once Allah's Messenger (ﷺ) came to me," and then he narrated the whole narration, i.e. your guest has a right on you, and your wife has a right on you. I then asked about the fasting of David. The Prophet (ﷺ) replied, "Half of the year," (i.e. he used to fast on every alternate day)
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ہارون بن اسماعیل نے خبر دی، کہا کہ ہم سے علی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے۔ پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی، یعنی تمہارے ملاقاتیوں کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔ اس پر میں نے پوچھا اور داؤد علیہ السلام کا روزہ کیسا تھا؟ تو آپ نے فرمایا کہ ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن بے روزہ رہنا صوم داؤدی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ الْحَدِيثَ يَعْنِي " إِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ". فَقُلْتُ وَمَا صَوْمُ دَاوُدَ قَالَ " نِصْفُ الدَّهْرِ ".
#1975
Narrated `Abdullah bin `Amr bin Al-`As:Allah's Messenger (ﷺ) said to me, "O `Abdullah! Have I not been informed that you fast during the day and offer prayers all the night." `Abdullah replied, "Yes, O Allah's Messenger (ﷺ)!" The Prophet (ﷺ) said, "Don't do that; fast for few days and then give it up for few days, offer prayers and also sleep at night, as your body has a right on you, and your wife has a right on you, and your guest has a right on you. And it is sufficient for you to fast three days in a month, as the reward of a good deed is multiplied ten times, so it will be like fasting throughout the year." I insisted (on fasting) and so I was given a hard instruction. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have power." The Prophet (ﷺ) said, "Fast like the fasting of the Prophet David (ﷺ) and do not fast more than that." I said, "How was the fasting of the Prophet of Allah, David (ﷺ)?" He said, "Half of the year," (i.e. he used to fast on every alternate day). Afterwards when `Abdullah became old, he used to say, "It would have been better for me if I had accepted the permission of the Prophet (which he gave me i.e. to fast only three days a month)
ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم کو اوزاعی نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عبداللہ! کیا یہ خبر صحیح ہے کہ تم دن میں تو روزہ رکھتے ہو اور ساری رات نماز پڑھتے ہو؟ میں نے عرض کی صحیح ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا، کہ ایسا نہ کر، روزہ بھی رکھ اور بے روزہ کے بھی رہ۔ نماز بھی پڑھ اور سوؤ بھی۔ کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور تم سے ملاقات کرنے والوں کا بھی تم پر حق ہے بس یہی کافی ہے کہ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھ لیا کرو، کیونکہ ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ملے گا اور اس طرح یہ ساری عمر کا روزہ ہو جائے گا، لیکن میں نے اپنے پر سختی چاہی تو مجھ پر سختی کر دی گئی۔ میں نے عرض کی، یا رسول اللہ! میں اپنے میں قوت پاتا ہوں۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ پھر اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کا روزہ رکھ اور اس سے آگے نہ بڑھ، میں نے پوچھا اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کا روزہ کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن بے روزہ رہا کرتے تھے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ بعد میں جب ضعیف ہو گئے تو کہا کرتے تھے کاش! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی رخصت مان لیتا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عَبْدَ اللَّهِ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ ". فَقُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " فَلاَ تَفْعَلْ، صُمْ وَأَفْطِرْ، وَقُمْ وَنَمْ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ كُلَّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا، فَإِنَّ ذَلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ ". فَشَدَّدْتُ، فَشُدِّدَ عَلَىَّ، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً. قَالَ " فَصُمْ صِيَامَ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَلاَ تَزِدْ عَلَيْهِ ". قُلْتُ وَمَا كَانَ صِيَامُ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ قَالَ " نِصْفَ الدَّهْرِ ". فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ بَعْدَ مَا كَبِرَ يَا لَيْتَنِي قَبِلْتُ رُخْصَةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.