#151
Narrated Anas:Whenever Allah's Messenger (ﷺ) went to answer the call of nature, I along with another boy from us used to go behind him with a tumbler full of water
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، وہ عطاء بن ابی میمونہ سے نقل کرتے ہیں، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لیے نکلتے، میں اور ایک لڑکا دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جاتے تھے اور ہمارے ساتھ پانی کا ایک برتن ہوتا تھا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ ـ هُوَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ـ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِهِ تَبِعْتُهُ أَنَا وَغُلاَمٌ مِنَّا مَعَنَا إِدَاوَةٌ مِنْ مَاءٍ.
#152
Narrated Anas bin Malik:Whenever Allah's Messenger (ﷺ) went to answer the call of nature, I along with another boy used to carry a tumbler full of water (for cleaning the private parts) and a short spear (or stick)
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ان سے محمد بن جعفر نے، ان سے شعبہ نے عطاء بن ابی میمونہ کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء میں جاتے تو میں اور ایک لڑکا پانی کا برتن اور نیزہ لے کر چلتے تھے۔ پانی سے آپ طہارت کرتے تھے، ( دوسری سند سے ) نضر اور شاذان نے اس حدیث کی شعبہ سے متابعت کی ہے۔ عنزہ لاٹھی کو کہتے ہیں جس پر پھلکا لگا ہوا ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْخُلُ الْخَلاَءَ، فَأَحْمِلُ أَنَا وَغُلاَمٌ إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ، وَعَنَزَةً، يَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ. تَابَعَهُ النَّضْرُ وَشَاذَانُ عَنْ شُعْبَةَ. الْعَنَزَةُ عَصًا عَلَيْهِ زُجٌّ.
#153
Narrated Abu Qatada:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whenever anyone of you drinks water, he should not breathe in the drinking utensil, and whenever anyone of you goes to a lavatory, he should neither touch his penis nor clean his private parts with his right hand
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر کے واسطے سے بیان کیا، وہ عبداللہ بن ابی قتادہ سے، وہ اپنے باپ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب تم میں سے کوئی پانی پئے تو برتن میں سانس نہ لے اور جب بیت الخلاء میں جائے تو اپنی شرمگاہ کو داہنے ہاتھ سے نہ چھوئے اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ ـ هُوَ الدَّسْتَوَائِيُّ ـ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَتَنَفَّسْ فِي الإِنَاءِ، وَإِذَا أَتَى الْخَلاَءَ فَلاَ يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَلاَ يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهِ ".
#154
Narrated Abu Qatada:The Prophet (ﷺ) said, "Whenever anyone of you makes water he should not hold his penis or clean his private parts with his right hand. (And while drinking) one should not breathe in the drinking utensil
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے اوزاعی نے یحییٰ بن کثیر کے واسطے سے بیان کیا، وہ عبداللہ بن ابی قتادہ کے واسطے سے بیان کرتے ہیں، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو اپنا عضو اپنے داہنے ہاتھ سے نہ پکڑے، نہ داہنے ہاتھ سے طہارت کرے، نہ ( پانی پیتے وقت ) برتن میں سانس لے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَأْخُذَنَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَلاَ يَسْتَنْجِي بِيَمِينِهِ، وَلاَ يَتَنَفَّسْ فِي الإِنَاءِ ".
#155
Narrated Abu Huraira:I followed the Prophet (ﷺ) while he was going out to answer the call of nature. He used not to look this way or that. So, when I approached near him he said to me, "Fetch for me some stones for ' cleaning the privates parts (or said something similar), and do not bring a bone or a piece of dung." So I brought the stones in the corner of my garment and placed them by his side and I then went away from him. When he finished (from answering the call of nature) he used, them
ہم سے احمد بن محمد المکی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عمرو بن یحییٰ بن سعید بن عمرو المکی نے اپنے دادا کے واسطے سے بیان کیا۔ وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک مرتبہ ) رفع حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( چلتے وقت ) ادھر ادھر نہیں دیکھا کرتے تھے۔ تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گیا۔ ( مجھے دیکھ کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پتھر ڈھونڈ دو، تاکہ میں ان سے پاکی حاصل کروں، یا اسی جیسا ( کوئی لفظ ) فرمایا اور فرمایا کہ ہڈی اور گوبر نہ لانا۔ چنانچہ میں اپنے دامن میں پتھر ( بھر کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں رکھ دئیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہٹ گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( قضاء حاجت سے ) فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھروں سے استنجاء کیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو الْمَكِّيُّ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ اتَّبَعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَخَرَجَ لِحَاجَتِهِ، فَكَانَ لاَ يَلْتَفِتُ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقَالَ " ابْغِنِي أَحْجَارًا أَسْتَنْفِضْ بِهَا ـ أَوْ نَحْوَهُ ـ وَلاَ تَأْتِنِي بِعَظْمٍ وَلاَ رَوْثٍ ". فَأَتَيْتُهُ بِأَحْجَارٍ بِطَرَفِ ثِيَابِي فَوَضَعْتُهَا إِلَى جَنْبِهِ وَأَعْرَضْتُ عَنْهُ، فَلَمَّا قَضَى أَتْبَعَهُ بِهِنَّ.
#156
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) went out to answer the call of nature and asked me to bring three stones. I found two stones and searched for the third but could not find it. So I took a dried piece of dung and brought it to him. He took the two stones and threw away the dung and said, "This is a filthy thing
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے ابواسحاق کے واسطے سے نقل کیا، ابواسحاق کہتے ہیں کہ اس حدیث کو ابوعبیدہ نے ذکر نہیں کیا۔ لیکن عبدالرحمٰن بن الاسود نے اپنے باپ سے ذکر کیا، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رفع حاجت کے لیے گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ میں تین پتھر تلاش کر کے آپ کے پاس لاؤں۔ لیکن مجھے دو پتھر ملے۔ تیسرا ڈھونڈا مگر مل نہ سکا۔ تو میں نے خشک گوبر اٹھا لیا۔ اس کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھر ( تو ) لے لیے ( مگر ) گوبر پھینک دیا اور فرمایا یہ خود ناپاک ہے۔ ( اور یہ حدیث ) ابراہم بن یوسف نے اپنے باپ سے بیان کی۔ انہوں نے ابواسحاق سے سنا، ان سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ لَيْسَ أَبُو عُبَيْدَةَ ذَكَرَهُ وَلَكِنْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ أَتَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْغَائِطَ، فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَهُ بِثَلاَثَةِ أَحْجَارٍ، فَوَجَدْتُ حَجَرَيْنِ، وَالْتَمَسْتُ الثَّالِثَ فَلَمْ أَجِدْهُ، فَأَخَذْتُ رَوْثَةً، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ وَقَالَ " هَذَا رِكْسٌ ". وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ.
#157
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) performed ablution by washing the body parts only once
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے سفیان نے زید بن اسلم کے واسطے سے بیان کیا، وہ عطاء بن یسار سے، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو میں ہر عضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَرَّةً مَرَّةً.
#158
Narrated `Abdullah bin Zaid:The Prophet (ﷺ) performed ablution by washing the body parts twice
ہم سے حسین بن عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم کے واسطے سے بیان کیا، وہ عباد بن تمیم سے نقل کرتے ہیں، وہ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو میں اعضاء کو دو دو بار دھویا۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ.
#159
Narrated Humran: (the slave of 'Uthman) I saw 'Uthman bin 'Affan asking for a tumbler of water (and when it was brought) he poured water over his hands and washed them thrice and then put his right hand in the water container and rinsed his mouth, washed his nose by putting water in it and then blowing it out. then he washed his face and forearms up to the elbows thrice, passed his wet hands over his head and washed his feet up to the ankles thrice. Then he said, "Allah's Messenger (ﷺ) said 'If anyone performs ablution like that of mine and offers a two-rak'at prayer during which he does not think of anything else (not related to the present prayer) then his past sins will be forgiven
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ الاویسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، وہ ابن شہاب سے نقل کرتے ہیں، انہیں عطاء بن یزید نے خبر دی، انہیں حمران عثمان کے مولیٰ نے خبر دی کہ انہوں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے ( حمران سے ) پانی کا برتن مانگا۔ ( اور لے کر پہلے ) اپنی ہتھیلیوں پر تین مرتبہ پانی ڈالا پھر انہیں دھویا۔ اس کے بعد اپنا داہنا ہاتھ برتن میں ڈالا۔ اور ( پانی لے کر ) کلی کی اور ناک صاف کی، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور کہنیوں تک تین بار دونوں ہاتھ دھوئے پھر اپنے سر کا مسح کیا پھر ( پانی لے کر ) ٹخنوں تک تین مرتبہ اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص میری طرح ایسا وضو کرے، پھر دو رکعت پڑھے، جس میں اپنے نفس سے کوئی بات نہ کرے۔ تو اس کے گذشتہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُوَيْسِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، رَأَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ دَعَا بِإِنَاءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى كَفَّيْهِ ثَلاَثَ مِرَارٍ فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الإِنَاءِ فَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا، وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلاَثَ مِرَارٍ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلاَثَ مِرَارٍ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، لاَ يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ".
#160
After performing the ablution 'Uthman said, "I am going to tell you a Hadith which I would not have told you, had I not been compelled by a certain Holy Verse (the sub narrator 'Urwa said:This verse is: "Verily, those who conceal the clear signs and the guidance which we have sent down...)" (2:159). I heard the Prophet (ﷺ) saying, 'If a man performs ablution perfectly and then offers the compulsory congregational prayer, Allah will forgive his sins committed between that (prayer) and the (next) prayer till he offers it
اور روایت کی عبدالعزیز نے ابراہیم سے، انہوں نے صالح بن کیسان سے، انہوں نے ابن شہاب سے، لیکن عروہ حمران سے روایت کرتے ہیں کہ جب عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کیا تو فرمایا میں تم کو ایک حدیث سناتا ہوں، اگر قرآن پاک کی ایک آیت ( نازل ) نہ ہوتی تو میں یہ حدیث تم کو نہ سناتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جب بھی کوئی شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے اور ( خلوص کے ساتھ ) نماز پڑھتا ہے تو اس کے ایک نماز سے دوسری نماز کے پڑھنے تک کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ عروہ کہتے ہیں وہ آیت یہ ہے «إن الذين يكتمون ما أنزلنا من البينات» ( جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ) جو لوگ اللہ کی اس نازل کی ہوئی ہدایت کو چھپاتے ہیں جو اس نے لوگوں کے لیے اپنی کتاب میں بیان کی ہے۔ ان پر اللہ کی لعنت ہے اور ( دوسرے ) لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے۔
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ قَالَ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَلَكِنْ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ عَنْ حُمْرَانَ،، فَلَمَّا تَوَضَّأَ عُثْمَانُ قَالَ أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا لَوْلاَ آيَةٌ مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَتَوَضَّأُ رَجُلٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ، وَيُصَلِّي الصَّلاَةَ إِلاَّ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلاَةِ حَتَّى يُصَلِّيَهَا ". قَالَ عُرْوَةُ الآيَةُ {إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ}.
#161
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever performs ablution should clean his nose with water by putting the water in it and then blowing it out, and whoever cleans his private parts with stones should do it with odd number of stones
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا انہیں یونس نے زہری کے واسطے سے خبر دی، کہا انہیں ابوادریس نے بتایا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اسے چاہیے کہ ناک صاف کرے اور جو پتھر سے استنجاء کرے اسے چاہیے کہ طاق عدد ( یعنی ایک یا تین یا پانچ ہی ) سے کرے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ ".
#162
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "If anyone of you performs ablution he should put water in his nose and then blow it out and whoever cleans his private parts with stones should do so with odd numbers. And whoever wakes up from his sleep should wash his hands before putting them in the water for ablution, because nobody knows where his hands were during sleep
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو مالک نے ابوالزناد کے واسطے سے خبر دی، وہ اعرج سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا كہ جب تم سے كوئی وضو كرے تو اسے چاہیئے كہ اپنی ناك میں پانی دے (پھر) اسے صاف كرے اور جو شخص پتھروں سے استنجاء كرے اسے چاہیئے كہ بے جوڑ (یعنی ایك یا تین) سے استنجاء كرے . اور جب تم سے كوئی سو كر اٹھے تو وضو كے پانی میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے اسے دھولے . كیونكہ تم میں سے كوئی نہیں جانتا كہ رات كو اس كا ہاتھ كہاں رہا ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ ثُمَّ لِيَنْثُرْ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلْيَغْسِلْ يَدَهُ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي وَضُوئِهِ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لاَ يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ ".
#163
Narrated `Abdullah bin `Amr:The Prophet (ﷺ) remained behind us on a journey. He joined us while we were performing ablution for the `Asr prayer which was overdue and we were just passing wet hands over our feet (not washing them thoroughly) so he addressed us in a loud voice saying twice , "Save your heels from the fire
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، ان سے ابوعوانہ نے، وہ ابوبشر سے، وہ یوسف بن ماہک سے، وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ( ایک مرتبہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں ہم سے پیچھے رہ گئے۔ پھر ( تھوڑی دیر بعد ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو پا لیا اور عصر کا وقت آ پہنچا تھا۔ ہم وضو کرنے لگے اور ( اچھی طرح پاؤں دھونے کی بجائے جلدی میں ) ہم پاؤں پر مسح کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ويل للأعقاب من النار» ”ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے“ دو مرتبہ یا تین مرتبہ فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ تَخَلَّفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنَّا فِي سَفْرَةٍ سَافَرْنَاهَا، فَأَدْرَكَنَا وَقَدْ أَرْهَقْنَا الْعَصْرَ، فَجَعَلْنَا نَتَوَضَّأُ وَنَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا، فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ " وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ". مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا.
#164
Narrated Humran:(the freed slave of `Uthman bin `Affan) I saw `Uthman bin `Affan asking (for a tumbler of water) to perform ablution (and when it was brought) he poured water from it over his hands and washed them thrice and then put his right hand in the water container and rinsed his mouth and washed his nose by putting water in it and then blowing it out. Then he washed his face thrice and (then) forearms up to the elbows thrice, then passed his wet hands over his head and then washed each foot thrice. After that `Uthman said, "I saw the Prophet (ﷺ) performing ablution like this of mine, and he said, 'If anyone performs ablution like that of mine and offers a two-rak`at prayer during which he does not think of anything else (not related to the present prayer) then his past sins will be forgiven
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے زہری کے واسطے سے خبر دی، کہا ہم کو عطاء بن یزید نے حمران مولیٰ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے واسطے سے خبر دی، انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا اور اپنے دونوں ہاتھوں پر برتن سے پانی ( لے کر ) ڈالا۔ پھر دونوں ہاتھوں کو تین دفعہ دھویا۔ پھر اپنا داہنا ہاتھ وضو کر کے پانی میں ڈالا۔ پھر کلی کی، پھر ناک میں پانی دیا، پھر ناک صاف کی۔ پھر تین دفعہ اپنا منہ دھویا اور کہنیوں تک تین دفعہ ہاتھ دھوئے، پھر اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر ہر ایک پاؤں تین دفعہ دھویا۔ پھر فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ میرے اس وضو جیسا وضو فرمایا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص میرے اس وضو جیسا وضو کرے اور ( حضور قلب سے ) دو رکعت پڑھے جس میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حُمْرَانَ، مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ رَأَى عُثْمَانَ دَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ مِنْ إِنَائِهِ، فَغَسَلَهُمَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْوَضُوءِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ، وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلاَثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ كُلَّ رِجْلٍ ثَلاَثًا، ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا وَقَالَ " مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، لاَ يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ".
#165
Narrated Muhammad Ibn Ziyad:I heard Abu Huraira saying as he passed by us while the people were performing ablution from a utensil containing water, "Perform ablution perfectly and thoroughly for Abul-Qasim (the Prophet) said, 'Save your heels from the Hell-fire
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ ہمارے پاس سے گزرے اور لوگ لوٹے سے وضو کر رہے تھے۔ آپ نے کہا اچھی طرح وضو کرو کیونکہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( خشک ) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ وَكَانَ يَمُرُّ بِنَا وَالنَّاسُ يَتَوَضَّئُونَ مِنَ الْمِطْهَرَةِ ـ قَالَ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ فَإِنَّ أَبَا الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ".
#166
Narrated `Ubaid Ibn Juraij:I asked `Abdullah bin `Umar, "O Abu `Abdur-Rahman! I saw you doing four things which I never saw being done by anyone of you companions?" `Abdullah bin `Umar said, "What are those, O Ibn Juraij?" I said, "I never saw you touching any corner of the Ka`ba except these (two) facing south (Yemen) and I saw you wearing shoes made of tanned leather and dyeing your hair with Hinna (a kind of red dye). I also noticed that whenever you were in Mecca, the people assume Ihram on seeing the new moon crescent (1st of Dhul-Hijja) while you did not assume the Ihlal (Ihram) -(Ihram is also called Ihlal which means 'Loud calling' because a Muhrim has to recite Talbiya aloud when assuming the state of Ihram) - till the 8th of Dhul-Hijja (Day of Tarwiya). `Abdullah replied, "Regarding the corners of Ka`ba, I never saw Allah's Messenger (ﷺ) touching except those facing south (Yemen) and regarding the tanned leather shoes, no doubt I saw Allah's Messenger (ﷺ) wearing non-hairy shoes and he used to perform ablution while wearing the shoes (i.e. wash his feet and then put on the shoes). So I love to wear similar shoes. And about the dyeing of hair with Hinna; no doubt I saw Allah's Messenger (ﷺ) dyeing his hair with it and that is why I like to dye (my hair with it). Regarding Ihlal, I did not see Allah's Messenger (ﷺ) assuming Ihlal till he set out for Hajj (on the 8th of Dhul-Hijja)
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو مالک نے سعید المقبری کے واسطے سے خبر دی، وہ عبیداللہ بن جریج سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر سے کہا اے ابوعبدالرحمٰن! میں نے تمہیں چار ایسے کام کرتے ہوئے دیکھا ہے جنھیں تمہارے ساتھیوں کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ وہ کہنے لگے، اے ابن جریج! وہ کیا ہیں؟ ابن جریج نے کہا کہ میں نے طواف کے وقت آپ کو دیکھا کہ دو یمانی رکنوں کے سوا کسی اور رکن کو آپ نہیں چھوتے ہو۔ ( دوسرے ) میں نے آپ کو بستی جوتے پہنے ہوئے دیکھا اور ( تیسرے ) میں نے دیکھا کہ آپ زرد رنگ استعمال کرتے ہو اور ( چوتھی بات ) میں نے یہ دیکھی کہ جب آپ مکہ میں تھے، لوگ ( ذی الحجہ کا ) چاند دیکھ کر لبیک پکارنے لگتے ہیں۔ ( اور ) حج کا احرام باندھ لیتے ہیں اور آپ آٹھویں تاریخ تک احرام نہیں باندھتے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ ( دوسرے ) ارکان کو تو میں یوں نہیں چھوتا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یمانی رکنوں کے علاوہ کسی اور رکن کو چھوتے ہوئے نہیں دیکھا اور رہے جوتے، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے جوتے پہنے ہوئے دیکھا کہ جن کے چمڑے پر بال نہیں تھے اور آپ انہیں کو پہنے پہنے وضو فرمایا کرتے تھے، تو میں بھی انہی کو پہننا پسند کرتا ہوں اور زرد رنگ کی بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زرد رنگ رنگتے ہوئے دیکھا ہے۔ تو میں بھی اسی رنگ سے رنگنا پسند کرتا ہوں اور احرام باندھنے کا معاملہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت تک احرام باندھتے ہوئے نہیں دیکھا جب تک آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر نہ چل پڑتی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا. قَالَ وَمَا هِيَ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ رَأَيْتُكَ لاَ تَمَسُّ مِنَ الأَرْكَانِ إِلاَّ الْيَمَانِيَيْنِ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْهِلاَلَ وَلَمْ تُهِلَّ أَنْتَ حَتَّى كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَمَّا الأَرْكَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمَسُّ إِلاَّ الْيَمَانِيَيْنِ، وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَلْبَسُ النَّعْلَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا، وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْبُغُ بِهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا، وَأَمَّا الإِهْلاَلُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ.
#167
Narrated Um-`Atiya:That the Prophet (ﷺ) at the time of washing his deceased daughter had said to them, "Start from the right side beginning with those parts which are washed in ablution
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے خالد نے حفصہ بنت سیرین کے واسطے سے نقل کیا، وہ ام عطیہ سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ( مرحومہ ) صاحبزادی ( زینب رضی اللہ عنہا ) کو غسل دینے کے وقت فرمایا تھا کہ غسل داہنی طرف سے دو، اور اعضاء وضو سے غسل کی ابتداء کرو۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لَهُنَّ فِي غُسْلِ ابْنَتِهِ " ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا ".
#168
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) used to like to start from the right side on wearing shoes, combing his hair and cleaning or washing himself and on doing anything else
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، انہیں اشعث بن سلیم نے خبر دی، ان کے باپ نے مسروق سے سنا، وہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوتا پہننے، کنگھی کرنے، وضو کرنے اور اپنے ہر کام میں داہنی طرف سے کام کی ابتداء کرنے کو پسند فرمایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ فِي تَنَعُّلِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَطُهُورِهِ وَفِي شَأْنِهِ كُلِّهِ.
#169
Narrated Anas bin Malik:I saw Allah's Messenger (ﷺ) when the `Asr prayer was due and the people searched for water to perform ablution but they could not find it. Later on (a pot full of) water for ablution was brought to Allah's Apostle. He put his hand in that pot and ordered the people to perform ablution from it. I saw the water springing out from underneath his fingers till all of them performed the ablution (it was one of the miracles of the Prophet)
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو مالک نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے خبر دی، وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نماز عصر کا وقت آ گیا، لوگوں نے پانی تلاش کیا، جب انہیں پانی نہ ملا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( ایک برتن میں ) وضو کے لیے پانی لایا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا ہاتھ ڈال دیا اور لوگوں کو حکم دیا کہ اسی ( برتن ) سے وضو کریں۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا آپ کی انگلیوں کے نیچے سے پانی ( چشمے کی طرح ) ابل رہا تھا۔ یہاں تک کہ ( قافلے کے ) آخری آدمی نے بھی وضو کر لیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحَانَتْ صَلاَةُ الْعَصْرِ، فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِوَضُوءٍ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ الإِنَاءِ يَدَهُ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ. قَالَ فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ.
#170
Narrated Ibn Seereen:I said to `Abida, "I have some of the hair of the Prophet (ﷺ) which I got from Anas or from his family." `Abida replied. "No doubt if I had a single hair of that it would have been dearer to me than the whole world and whatever is in it
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے عاصم کے واسطے سے بیان کیا، وہ ابن سیرین سے نقل کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عبیدہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ بال ( مبارک ) ہیں، جو ہمیں انس رضی اللہ عنہ سے یا انس رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کی طرف سے ملے ہیں۔ ( یہ سن کر ) عبیدہ نے کہا کہ اگر میرے پاس ان بالوں میں سے ایک بال بھی ہو تو وہ میرے لیے ساری دنیا اور اس کی ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے۔
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ قُلْتُ لِعَبِيدَةَ عِنْدَنَا مِنْ شَعَرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَصَبْنَاهُ مِنْ قِبَلِ أَنَسٍ، أَوْ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ أَنَسٍ فَقَالَ لأَنْ تَكُونَ عِنْدِي شَعَرَةٌ مِنْهُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا.
#171
Narrated Anas:When Allah's Messenger (ﷺ) got his head shaved, Abu- Talha was the first to take some of his hair
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو سعید بن سلیمان نے خبر دی انہوں نے، کہا ہم سے عباد نے ابن عون کے واسطے سے بیان کیا۔ وہ ابن سیرین سے، وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حجۃ الوداع میں ) جب سر کے بال منڈوائے تو سب سے پہلے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال لیے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا حَلَقَ رَأْسَهُ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَوَّلَ مَنْ أَخَذَ مِنْ شَعَرِهِ.
#172
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "If a dog drinks from the utensil of anyone of you it is essential to wash it seven times
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہیں امام مالک نے ابوالزناد سے خبر دی، وہ اعرج سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں سے ( کچھ ) پی لے تو اس کو سات مرتبہ دھو لو ( تو پاک ہو جائے گا ) ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعًا ".
#173
Narrated Abu Huraira: The Prophet (ﷺ) said, "A man saw a dog eating mud from (the severity of) thirst. So, that man took a shoe (and filled it) with water and kept on pouring the water for the dog till it quenched its thirst. So Allah approved of his deed and made him to enter Paradise
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالصمد نے خبر دی، کہا ہم کو عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے اپنے باپ سے سنا، وہ ابوصالح سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص نے ایک کتے کو دیکھا، جو پیاس کی وجہ سے گیلی مٹی کھا رہا تھا۔ تو اس شخص نے اپنا موزہ لیا اور اس سے پانی بھر کر پلانے لگا، حتیٰ کہ اس کو خوب سیراب کر دیا۔ اللہ نے اس شخص کے اس کام کی قدر کی اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، سَمِعْتُ أَبِي، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " أَنَّ رَجُلاً رَأَى كَلْبًا يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ، فَأَخَذَ الرَّجُلُ خُفَّهُ فَجَعَلَ يَغْرِفُ لَهُ بِهِ حَتَّى أَرْوَاهُ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ ".
#174
And narrated Hamza bin 'Abdullah:My father said. "During the lifetime of Allah's Apostle, the dogs used to urinate, and pass through the mosques (come and go), nevertheless they never used to sprinkle water on it (urine of the dog)
احمد بن شبیب نے کہا کہ ہم سے میرے والد نے یونس کے واسطے سے بیان کیا، وہ ابن شہاب سے نقل کرتے ہیں، انہوں نے کہا مجھ سے حمزہ بن عبداللہ نے اپنے باپ (یعنی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کے واسطے سے بیان کیا۔ وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتے مسجد میں آتے جاتے تھے لیکن لوگ ان جگہوں پر پانی نہیں چھڑکتے تھے۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَتِ الْكِلاَبُ تَبُولُ وَتُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِي الْمَسْجِدِ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَكُونُوا يَرُشُّونَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ.
#175
Narrated `Adi bin Hatim:I asked the Prophet (about the hunting dogs) and he replied, "If you let loose (with Allah's name) your tamed dog after a game and it hunts it, you may eat it, but if the dog eats of (that game) then do not eat it because the dog has hunted it for itself." I further said, "Sometimes I send my dog for hunting and find another dog with it. He said, "Do not eat the game for you have mentioned Allah's name only on sending your dog and not the other dog
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے ابن ابی السفر کے واسطے سے بیان کیا، وہ شعبی سے نقل فرماتے ہیں، وہ عدی بن حاتم سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( کتے کے شکار کے متعلق ) دریافت کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تو اپنے سدھائے ہوئے کتے کو چھوڑے اور وہ شکار کر لے تو، تو اس ( شکار ) کو کھا اور اگر وہ کتا اس شکار میں سے خود ( کچھ ) کھا لے تو، تو ( اس کو ) نہ کھائیو۔ کیونکہ اب اس نے شکار اپنے لیے پکڑا ہے۔ میں نے کہا کہ بعض دفعہ میں ( شکار کے لیے ) اپنے کتے چھوڑتا ہوں، پھر اس کے ساتھ دوسرے کتے کو بھی پاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ پھر مت کھا۔ کیونکہ تم نے «بسم الله» اپنے کتے پر پڑھی تھی۔ دوسرے کتے پر نہیں پڑھی۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ فَقَتَلَ فَكُلْ، وَإِذَا أَكَلَ فَلاَ تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَى نَفْسِهِ ". قُلْتُ أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ مَعَهُ كَلْبًا آخَرَ قَالَ " فَلاَ تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى كَلْبٍ آخَرَ ".