#1426
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "The best charity is that which is practiced by a wealthy person. And start giving first to your dependents
ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ انہیں یونس نے، انہیں زہری نے، انہوں نے کہا مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی ‘ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین خیرات وہ ہے جس کے دینے کے بعد آدمی مالدار رہے۔ پھر صدقہ پہلے انہیں دو جو تمہاری زیر پرورش ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ".
#1427
Narrated Hakim bin Hizam:The Prophet (ﷺ) said, "The upper hand is better than the lower hand (i.e. he who gives in charity is better than him who takes it). One should start giving first to his dependents. And the best object of charity is that which is given by a wealthy person (from the money which is left after his expenses). And whoever abstains from asking others for some financial help, Allah will give him and save him from asking others, Allah will make him self-sufficient
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، وَخَيْرُ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ ". وَعَنْ وُهَيْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ بِهَذَا.
#1428
Narrated Hakim bin Hizam:The Prophet (ﷺ) said, "The upper hand is better than the lower hand (i.e. he who gives in charity is better than him who takes it). One should start giving first to his dependents. And the best object of charity is that which is given by a wealthy person (from the money which is left after his expenses). And whoever abstains from asking others for some financial help, Allah will give him and save him from asking others, Allah will make him self-sufficient
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، وَخَيْرُ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ ". وَعَنْ وُهَيْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ بِهَذَا.
#1429
Narrated Ibn `Umar:I heard Allah's Messenger (ﷺ) while he was on the pulpit speaking about charity, to abstain from asking others for some financial help and about begging others, saying, "The upper hand is better than the lower hand. The upper hand is that of the giver and the lower (hand) is that of the beggar
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب نے ‘ ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ ( دوسری سند ) اور ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ‘ ان سے مالک نے ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کہ آپ منبر پر تشریف رکھتے تھے۔ آپ نے صدقہ اور کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانے کا اور دوسروں سے مانگنے کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اوپر کا ہاتھ خرچ کرنے والے کا ہے اور نیچے کا ہاتھ مانگنے والے کا۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ح. وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَذَكَرَ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ وَالْمَسْأَلَةَ " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، فَالْيَدُ الْعُلْيَا هِيَ الْمُنْفِقَةُ، وَالسُّفْلَى هِيَ السَّائِلَةُ ".
#1430
Narrated `Uqba bin Al-Harith:Once the Prophet (ﷺ) offered the `Asr prayer and then hurriedly went to his house and returned immediately. I (or somebody else) asked him (as to what was the matter) and he said, "I left at home a piece of gold which was from the charity and I disliked to let it remain a night in my house, so I got it distributed
ہم سے ابوعاصم نبیل نے عمر بن سعید سے بیان کیا ‘ ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی پھر جلدی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد باہر تشریف لے آئے۔ اس پر میں نے پوچھا یا کسی اور نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں گھر کے اندر صدقہ کے سونے کا ایک ٹکڑا چھوڑ آیا تھا مجھے یہ بات پسند نہیں آئی کہ اسے تقسیم کئے بغیر رات گزاروں پس میں نے اس کو بانٹ دیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ الْحَارِثِ ـ رضى الله عنه ـ حَدَّثَهُ قَالَ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْعَصْرَ، فَأَسْرَعَ ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ خَرَجَ، فَقُلْتُ أَوْ قِيلَ لَهُ فَقَالَ " كُنْتُ خَلَّفْتُ فِي الْبَيْتِ تِبْرًا مِنَ الصَّدَقَةِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُبَيِّتَهُ فَقَسَمْتُهُ ".
#1431
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) went out for the `Id prayer on the `Id day and offered a two rak`at prayer; and he neither offered a prayer before it or after it. Then he went towards the women along with Bilal. He preached them and ordered them to give in charity. And some (amongst the women) started giving their forearm bangles and earrings
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عدی بن ثابت نے بیان کیا ‘ ان سے سعید بن جبیر نے ‘ ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن نکلے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عیدگاہ میں ) دو رکعت نماز پڑھائی۔ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کی طرف آئے۔ بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعظ و نصیحت کی اور ان کو صدقہ کرنے کے لیے حکم فرمایا۔ چنانچہ عورتیں کنگن اور بالیاں ( بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ) ڈالنے لگیں۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَدِيٌّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ عِيدٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلُ وَلاَ بَعْدُ، ثُمَّ مَالَ عَلَى النِّسَاءِ وَمَعَهُ بِلاَلٌ، فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْقُلْبَ وَالْخُرْصَ.
#1432
Narrated Abu Burda bin Abu Musa:that his father said, "Whenever a beggar came to Allah's Messenger (ﷺ) or he was asked for something, he used to say (to his companions), "Help and recommend him and you will receive the reward for it; and Allah will bring about what He will through His Prophet's tongue
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوبردہ بن عبداللہ بن ابی بردہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوبردہ بن ابی موسیٰ نے بیان کیا ‘ اور ان سے ان کے باپ ابوموسیٰ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اگر کوئی مانگنے والا آتا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی حاجت پیش کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام سے فرماتے کہ تم سفارش کرو کہ اس کا ثواب پاؤ گے اور اللہ پاک اپنے نبی کی زبان سے جو فیصلہ چاہے گا وہ دے گا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا جَاءَهُ السَّائِلُ، أَوْ طُلِبَتْ إِلَيْهِ حَاجَةٌ قَالَ " اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا، وَيَقْضِي اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم مَا شَاءَ ".
#1433
Narrated Asma:The Prophet (ﷺ) said to me, "Do not withhold your money, (for if you did so) Allah would withhold His blessings from you." Narrated `Abda: The Prophet (ﷺ) said, "Do not withhold your money by counting it (i.e. hoarding it), (for if you did so), Allah would also withhold His blessings from you
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں عبدہ نے ہشام سے خبر دی ’ انہیں ان کی بیوی فاطمہ بنت منذر نے اور ان سے اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خیرات کو مت روک ورنہ تیرا رزق بھی روک دیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ قَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُوكِي فَيُوكَى عَلَيْكِ ". حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ عَبْدَةَ، وَقَالَ، " لاَ تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ "
#1434
Narrated Asma' bint Abu Bakr:that she had gone to the Prophet (ﷺ) and he said, "Do not shut your money bag; otherwise Allah too will withhold His blessings from you. Spend (in Allah's Cause) as much as you can afford
ہم سے ابوعاصم (ابوعاصم ضحاک) نے بیان کیا اور ان سے ابن جریج نے بیان کیا۔ (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ‘ ان سے حجاج بن محمد نے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا کہ مجھے ابن ابی ملیکہ نے خبر دی ‘ انہیں عباد بن عبداللہ بن زبیر نے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( مال کو ) تھیلی میں بند کر کے نہ رکھنا ورنہ اللہ پاک بھی تمہارے لیے اپنے خزانے میں بندش لگا دے گا۔ جہاں تک ہو سکے لوگوں میں خیر خیرات تقسیم کرتی رہ۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لاَ تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ، ارْضَخِي مَا اسْتَطَعْتِ ".
#1435
Narrated Abu Wail:Hudhaifa said, "`Umar said, 'Who amongst you remembers the statement of Allah's Messenger (ﷺ) about afflictions'?' I said, 'I know it as the Prophet (ﷺ) had said it.' `Umar said, 'No doubt, you are bold. How did he say it?' I said, 'A man's afflictions (wrong deeds) concerning his wife, children and neighbors are expiated by (his) prayers, charity, and enjoining good.' (The sub-narrator Sulaiman added that he said, 'The prayer, charity, enjoining good and forbidding evil.') `Umar said, 'I did not mean that, but I ask about that affliction which will spread like the waves of the sea.' I said, 'O chief of the believers! You need not be afraid of it as there is a closed door between you and it.' He asked, 'Will the door be broken or opened?' I replied, 'No, it will be broken.' He said, 'Then, if it is broken, it will never be closed again?' I replied, 'Yes.' " Then we were afraid to ask what that door was, so we asked Masruq to inquire, and he asked Hudhaifa regarding it. Hudhaifa said, "The door was `Umar. "We further asked Hudhaifa whether `Umar knew what that door meant. Hudhaifa replied in the affirmative and added, "He knew it as one knows that there will be a night before the tomorrow morning
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے جریر نے اعمش سے بیان کیا ‘ ان سے ابووائل نے ‘ انہوں نے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ فتنہ سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث آپ لوگوں میں کس کو یاد ہے؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا میں اس طرح یاد رکھتا ہوں جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بیان فرمایا تھا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہیں اس کے بیان پر جرات ہے۔ اچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کے بارے میں کیا فرمایا تھا؟ میں نے کہا کہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ) انسان کی آزمائش ( فتنہ ) اس کے خاندان ‘ اولاد اور پڑوسیوں میں ہوتی ہے اور نماز ‘ صدقہ اور اچھی باتوں کے لیے لوگوں کو حکم کرنا اور بری باتوں سے منع کرنا اس فتنے کا کفارہ بن جاتی ہیں۔ اعمش نے کہا ابووائل کبھی یوں کہتے تھے۔ نماز اور صدقہ اور اچھی باتوں کا حکم دینا بری بات سے روکنا ‘ یہ اس فتنے کو مٹا دینے والے نیک کام ہیں۔ پھر اس فتنے کے متعلق عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میری مراد اس فتنہ سے نہیں۔ میں اس فتنے کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں جو سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مارتا ہوا پھیلے گا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ میں نے کہا کہ امیرالمؤمنین آپ اس فتنے کی فکر نہ کیجئے آپ کے اور اس فتنہ کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ وہ دروازہ توڑ دیا جائے گا یا صرف کھولا جائے گا۔ انہوں نے بتلایا نہیں بلکہ وہ دروازہ توڑ دیا جائے گا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب دروازہ توڑ دیا جائے گا تو پھر کبھی بھی بند نہ ہو سکے گا ابووائل نے کہا کہ ہاں پھر ہم رعب کی وجہ سے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے یہ نہ پوچھ سکے کہ وہ دروازہ کون ہے؟ اس لیے ہم نے مسروق سے کہا کہ تم پوچھو۔ انہوں نے کہا کہ مسروق رحمتہ اللہ علیہ نے پوچھا تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دروازہ سے مراد خود عمر رضی اللہ عنہ ہی تھے۔ ہم نے پھر پوچھا تو کیا عمر رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ آپ کی مراد کون تھی؟ انہوں نے کہا ہاں جیسے دن کے بعد رات کے آنے کو جانتے ہیں اور یہ اس لیے کہ میں نے جو حدیث بیان کی وہ غلط نہیں تھی۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ أَيُّكُمْ يَحْفَظُ حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْفِتْنَةِ قَالَ قُلْتُ أَنَا أَحْفَظُهُ كَمَا قَالَ. قَالَ إِنَّكَ عَلَيْهِ لَجَرِيءٌ فَكَيْفَ قَالَ قُلْتُ فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ تُكَفِّرُهَا الصَّلاَةُ وَالصَّدَقَةُ وَالْمَعْرُوفُ. قَالَ سُلَيْمَانُ قَدْ كَانَ يَقُولُ " الصَّلاَةُ وَالصَّدَقَةُ، وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْىُ عَنِ الْمُنْكَرِ ". قَالَ لَيْسَ هَذِهِ أُرِيدُ، وَلَكِنِّي أُرِيدُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ. قَالَ قُلْتُ لَيْسَ عَلَيْكَ بِهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بَأْسٌ، بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا باب مُغْلَقٌ. قَالَ فَيُكْسَرُ الْبَابُ أَوْ يُفْتَحُ. قَالَ قُلْتُ لاَ. بَلْ يُكْسَرُ. قَالَ فَإِنَّهُ إِذَا كُسِرَ لَمْ يُغْلَقْ أَبَدًا. قَالَ قُلْتُ أَجَلْ. فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَهُ مَنِ الْبَابُ فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ سَلْهُ. قَالَ فَسَأَلَهُ. فَقَالَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ. قَالَ قُلْنَا فَعَلِمَ عُمَرُ مَنْ تَعْنِي قَالَ نَعَمْ، كَمَا أَنَّ دُونَ غَدٍ لَيْلَةً، وَذَلِكَ أَنِّي حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالأَغَالِيطِ.
#1436
Narrated Hakim bin Hizam:I said to Allah's Messenger (ﷺ), "Before embracing Islam I used to do good deeds like giving in charity, slave-manumitting, and the keeping of good relations with Kith and kin. Shall I be rewarded for those deeds?" The Prophet (ﷺ) replied, "You became Muslim with all those good deeds (Without losing their reward)
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ہشام نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی ‘ انہیں عروہ نے اور ان سے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ان نیک کاموں سے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں جنہیں میں جاہلیت کے زمانہ میں صدقہ ‘ غلام آزاد کرنے اور صلہ رحمی کی صورت میں کیا کرتا تھا۔ کیا ان کا مجھے ثواب ملے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنی ان تمام نیکیوں کے ساتھ اسلام لائے ہو جو پہلے گزر چکی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ أَشْيَاءَ كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ صَدَقَةٍ أَوْ عَتَاقَةٍ وَصِلَةِ رَحِمٍ فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَجْرٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَلَفَ مِنْ خَيْرٍ ".
#1437
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) said, "When a woman gives in charity from her husband's meals without wasting the property of her husband, she will get a reward for it, and her husband too will get a reward for what he earned and the storekeeper will have the reward likewise
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے جریر نے اعمش سے بیان کیا ‘ ان سے ابووائل نے ‘ ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بیوی اپنے خاوند کے کھانے میں سے کچھ صدقہ کرے اور اس کی نیت اسے برباد کرنے کی نہیں ہوتی تو اسے بھی اس کا ثواب ملتا ہے اور اس کے خاوند کو کمانے کا ثواب ملتا ہے۔ اسی طرح خزانچی کو بھی اس کا ثواب ملتا ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا تَصَدَّقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُهَا، وَلِزَوْجِهَا بِمَا كَسَبَ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ ".
#1438
Narrated Abu Musa:The Prophet (ﷺ) said, "An honest Muslim storekeeper who carries out the orders of his master and pays fully what he has been ordered to give with a good heart and pays to that person to whom he was ordered to pay, is regarded as one of the two charitable persons
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ ان سے برید بن عبداللہ نے ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «خازن» مسلمان امانتدار جو کچھ بھی خرچ کرتا ہے اور بعض دفعہ فرمایا وہ چیز پوری طرح دیتا ہے جس کا اسے سرمایہ کے مالک کی طرف سے حکم دیا گیا اور اس کا دل بھی اس سے خوش ہے اور اسی کو دیا ہے جسے دینے کے لیے مالک نے کہا تھا تو وہ دینے والا بھی صدقہ دینے والوں میں سے ایک ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْخَازِنُ الْمُسْلِمُ الأَمِينُ الَّذِي يُنْفِذُ ـ وَرُبَّمَا قَالَ يُعْطِي ـ مَا أُمِرَ بِهِ كَامِلاً مُوَفَّرًا طَيِّبٌ بِهِ نَفْسُهُ، فَيَدْفَعُهُ إِلَى الَّذِي أُمِرَ لَهُ بِهِ، أَحَدُ الْمُتَصَدِّقَيْنِ ".
#1439
Narrated 'Aishah:The Prophet (ﷺ) said, "If a woman gives in charity from her husband's house ..." (See next hadith)
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی ‘ کہا کہ ہم سے منصور بن معمر اور اعمش دونوں نے بیان کیا ‘ ان سے ابووائل نے ‘ ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے کہ جب کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر ( کے مال ) سے صدقہ کرے۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، وَالأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَعْنِي إِذَا تَصَدَّقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا.
#1440
Narrate Aisha:The Prophet (ﷺ) said, "If a woman gives in charity from her husband's house .." The Prophet (ﷺ) also said, "If a lady gives meals (in charity) from her husband's house without spoiling her husband's property, she will get a reward and her husband will also get a reward likewise. The husband will get a reward because of his earnings and the woman because of her spending
(دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے عمر بن حفص نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے باپ حفص بن غیاث نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا ‘ ان سے ابووائل شقیق نے ‘ ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بیوی اپنے شوہر کے مال میں سے کسی کو کھلائے اور اس کا ارادہ گھر کو بگاڑنے کا بھی نہ ہو تو اسے اس کا ثواب ملتا ہے اور شوہر کو بھی ویسا ہی ثواب ملتا ہے اور خزانچی کو بھی ویسا ہی ثواب ملتا ہے۔ شوہر کو کمانے کی وجہ سے ثواب ملتا ہے اور عورت کو خرچ کرنے کی وجہ سے۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَطْعَمَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ، لَهَا أَجْرُهَا، وَلَهُ مِثْلُهُ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ، لَهُ بِمَا اكْتَسَبَ، وَلَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ ".
#1441
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) said, "When a woman gives in charity from her house meals in Allah's Cause without spoiling her husband's property, she will get a reward for it, and her husband will also get the reward for his earnings and the storekeeper will get a reward likewise
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر بن عبدالحمید نے منصور سے بیان کیا، ان سے ابووائل شقیق نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب عورت اپنے گھر کے کھانے کی چیز سے اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور اس کا ارادہ گھر کو بگاڑنے کا نہ ہو تو اسے اس کا ثواب ملے گا اور شوہر کو کمانے کا ثواب ملے گا ‘ اسی طرح خزانچی کو بھی ایسا ہی ثواب ملے گا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ بَيْتِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ فَلَهَا أَجْرُهَا، وَلِلزَّوْجِ بِمَا اكْتَسَبَ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ ".
#1442
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Every day two angels come down from Heaven and one of them says, 'O Allah! Compensate every person who spends in Your Cause,' and the other (angel) says, 'O Allah! Destroy every miser
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے میرے بھائی ابوبکر بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ ان سے سلیمان بن بلال نے ‘ ان سے معاویہ بن ابی مزرد نے ‘ ان سے ابوالحباب سعید بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ جب بندے صبح کو اٹھتے ہیں تو دو فرشتے آسمان سے نہ اترتے ہوں۔ ایک فرشتہ تو یہ کہتا ہے کہ اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ دے۔ اور دوسرا کہتا ہے کہ اے اللہ! «ممسك» اور بخیل کے مال کو تلف کر دے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي مُزَرِّدٍ، عَنْ أَبِي الْحُبَابِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيهِ إِلاَّ مَلَكَانِ يَنْزِلاَنِ فَيَقُولُ أَحَدُهُمَا اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا، وَيَقُولُ الآخَرُ اللَّهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا ".
#1443
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "The example of a miser and an almsgiver is like the example of two persons wearing iron cloaks." Allah's Messenger (ﷺ) also said, "The example of an almsgiver and a miser is like the example of two persons who have two iron cloaks on them from their breasts to their collar bones, and when the almsgiver wants to give in charity, the cloak becomes capacious till it covers his whole body to such an extent that it hides his fingertips and covers his footprints (obliterates his tracks). (1) And when the miser wants to spend, it (the iron cloak) sticks and every ring gets stuck to its place and he tries to widen it, but it did not become wide
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ طاؤس نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال ایسے دو شخصوں کی طرح ہے جن کے بدن پر لوہے کے دو کرتے ہیں۔ ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی ‘ کہا کہ ہمیں ابوالزناد نے خبر دی کہ عبداللہ بن ہرمز اعرج نے ان سے بیان کیا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا کہ بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ایسے دو شخصوں کی سی ہے جن کے بدن پر لوہے کے دو کرتے ہوں چھاتیوں سے ہنسلی تک۔ خرچ کرنے کا عادی ( سخی ) خرچ کرتا ہے تو اس کے تمام جسم کو ( وہ کرتہ ) چھپا لیتا ہے یا ( راوی نے یہ کہا کہ ) تمام جسم پر وہ پھیل جاتا ہے اور اس کی انگلیاں اس میں چھپ جاتی ہے اور چلنے میں اس کے پاؤں کا نشان مٹتا جاتا ہے۔ لیکن بخیل جب بھی خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کرتے کا ہر حلقہ اپنی جگہ سے چمٹ جاتا ہے۔ بخیل اسے کشادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں ہو پاتا۔ عبداللہ بن طاؤس کے ساتھ اس حدیث کو حسن بن مسلم نے بھی طاؤس سے روایت کیا ‘ اس میں دو کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ، عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ ". وَحَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ، عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، مِنْ ثُدِيِّهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا، فَأَمَّا الْمُنْفِقُ فَلاَ يُنْفِقُ إِلاَّ سَبَغَتْ ـ أَوْ وَفَرَتْ ـ عَلَى جِلْدِهِ حَتَّى تُخْفِيَ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ، وَأَمَّا الْبَخِيلُ فَلاَ يُرِيدُ أَنْ يُنْفِقَ شَيْئًا إِلاَّ لَزِقَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَكَانَهَا، فَهُوَ يُوَسِّعُهَا وَلاَ تَتَّسِعُ ". تَابَعَهُ الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ فِي الْجُبَّتَيْنِ.
#1444
See previous hadith
اور حنظلہ نے طاؤس سے دو زرہیں نقل کیا ہے اور لیث بن سعد نے کہا مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے عبدالرحمٰن بن ہر مز سے سنا کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر یہی حدیث بیان کی اس میں دو زرہیں ہیں۔
وَقَالَ حَنْظَلَةُ عَنْ طَاوُسٍ، " جُنَّتَانِ ". وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي جَعْفَرٌ، عَنِ ابْنِ هُرْمُزٍ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " جُنَّتَانِ ".
#1445
Narrated Abu Burda:from his father from his grandfather that the Prophet (ﷺ) said, "Every Muslim has to give in charity." The people asked, "O Allah's Prophet! If someone has nothing to give, what will he do?" He said, "He should work with his hands and benefit himself and also give in charity (from what he earns)." The people further asked, "If he cannot find even that?" He replied, "He should help the needy who appeal for help." Then the people asked, "If he cannot do that?" He replied, "Then he should perform good deeds and keep away from evil deeds and this will be regarded as charitable deeds
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سعید بن ابی بردہ نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ ابوبردہ نے ان کے دادا ابوموسیٰ اشعری سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مسلمان پر صدقہ کرنا ضروری ہے۔ لوگوں نے پوچھا اے اللہ کے نبی! اگر کسی کے پاس کچھ نہ ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اپنے ہاتھ سے کچھ کما کر خود کو بھی نفع پہنچائے اور صدقہ بھی کرے۔ لوگوں نے کہا اگر اس کی طاقت نہ ہو؟ فرمایا کہ پھر کسی حاجت مند فریادی کی مدد کرے۔ لوگوں نے کہا اگر اس کی بھی سکت نہ ہو۔ فرمایا پھر اچھی بات پر عمل کرے اور بری باتوں سے باز رہے۔ اس کا یہی صدقہ ہے۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ ". فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ قَالَ " يَعْمَلُ بِيَدِهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ ". قَالُوا فَإِنْ لَمْ يَجِدْ قَالَ " يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ ". قَالُوا فَإِنْ لَمْ يَجِدْ. قَالَ " فَلْيَعْمَلْ بِالْمَعْرُوفِ، وَلْيُمْسِكْ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهَا لَهُ صَدَقَةٌ ".
#1446
Narrated Um 'Atiyya:A sheep was sent to me (Nusaiba Al-Ansariya) (in charity) and I sent some of it to `Aisha. The Prophet asked `Aisha for something to eat. `Aisha replied that there was nothing except what Nusaiba Al-Ansariya had sent of that sheep. The Prophet (ﷺ) said to her, "Bring it as it has reached its place
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوشہاب نے بیان کیا ‘ ان سے خالد حذاء نے ‘ ان سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ نسیبہ نامی ایک انصاری عورت کے ہاں کسی نے ایک بکری بھیجی ( یہ نسیبہ نامی انصاری عورت خود ام عطیہ رضی اللہ عنہا ہی کا نام ہے ) ۔ اس بکری کا گوشت انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں بھی بھیج دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا کہ تمہارے پاس کھانے کو کوئی چیز ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اور تو کوئی چیز نہیں البتہ اس بکری کا گوشت جو نسیبہ رضی اللہ عنہا نے بھیجا تھا ‘ وہ موجود ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہی لاؤ اب اس کا کھانا درست ہو گیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ بُعِثَ إِلَى نُسَيْبَةَ الأَنْصَارِيَّةِ بِشَاةٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ مِنْهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عِنْدَكُمْ شَىْءٌ ". فَقُلْتُ لاَ إِلاَّ مَا أَرْسَلَتْ بِهِ نُسَيْبَةُ مِنْ تِلْكَ الشَّاةِ فَقَالَ " هَاتِ فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا ".
#1447
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "There is no Zakat on less than five camels and also there is no Zakat on less than five Awaq (of silver). (5 Awaq = 22 Fransa Riyals of Yemen or 200 Dirhams.) And there is no Zakat on less than five Awsuq. (A special measure of food-grains, and one Wasq equals 60 Sa's.) (For gold 20, Dinars i.e. equal to 12 Guinea English. No Zakat for less than 12 Guinea (English) of gold or for silver less than 22 Fransa Riyals of Yemen.) Narrated Abi Sa`id Al-Khudri: I heard the Prophet (ﷺ) saying (as above)
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی ‘ انہیں عمرو بن یحییٰ مازنی نے ‘ انہیں ان کے باپ یحییٰ نے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ اونٹ سے کم میں زکوٰۃ نہیں اور پانچ اوقیہ سے کم ( چاندی ) میں زکوٰۃ نہیں۔ اسی طرح پانچ وسق سے کم ( غلہ ) میں زکوٰۃ نہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ مِنَ الإِبِلِ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ ". حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، سَمِعَ أَبَاهُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ـ رضى الله عنه ـ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا.
#1448
Narrated Anas:Abu Bakr wrote to me what Allah had instructed His Apostle (ﷺ) to do regarding the one who had to pay one Bint Makhad (i.e. one year-old she-camel) as Zakat, and he did not have it but had got Bint Labun (two year old she-camel). (He wrote that) it could be accepted from him as Zakat, and the collector of Zakat would return him 20 Dirhams or two sheep; and if the Zakat payer had not a Bint Makhad, but he had Ibn Labun (a two year old he-camel) then it could be accepted as his Zakat, but he would not be paid anything
ہم سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا۔ کہا کہ مجھ سے میرے والد عبداللہ بن مثنی نے بیان کیا۔ کہا کہ مجھ سے ثمامہ بن عبداللہ نے بیان کیا۔ ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں ( اپنے دور خلافت میں فرض زکوٰۃ سے متعلق ہدایت دیتے ہوئے ) اللہ اور رسول کے حکم کے مطابق یہ فرمان لکھا کہ جس کا صدقہ ”بنت مخاض“ تک پہنچ گیا ہو اور اس کے پاس ”بنت مخاض“ نہیں بلکہ ”بنت لبون“ ہے۔ تو اس سے وہی لے لیا جائے گا اور اس کے بدلہ میں صدقہ وصول کرنے والا بیس درہم یا دو بکریاں زائد دیدے گا اور اگر اس کے پاس ”بنت مخاض“ نہیں ہے بلکہ ”ابن لبون“ ہے تو یہ ”ابن لبون“ ہی لے لیا جائے گا اور اس صورت میں کچھ نہیں دیا جائے گا ‘ وہ مادہ یا نر اونٹ جو تیسرے سال میں لگا ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ، أَنَّ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ كَتَبَ لَهُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ رَسُولَهُ صلى الله عليه وسلم " وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بِنْتَ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ بِنْتُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ بِنْتُ مَخَاضٍ عَلَى وَجْهِهَا، وَعِنْدَهُ ابْنُ لَبُونٍ فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَىْءٌ ".
#1449
Narrated Ibn `Abbas:I am a witness that Allah's Messenger (ﷺ) offered the Id prayer before delivering the sermon and then he thought that the women would not be able to hear him (because of the distance), so he went to them along with Bilal who was spreading his garment. The Prophet (ﷺ) advised and ordered them to give in charity. So the women started giving their ornaments (in charity). (The sub-narrator Aiyub pointed towards his ears and neck meaning that they gave ornaments from those places such as earrings and necklaces)
ہم سے مؤمل بن ہشام نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اسماعیل نے ایوب سے بیان کیا اور ان سے عطاء بن ابی رباح نے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتلایا اس وقت میں موجود تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سے پہلے نماز ( عید ) پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ عورتوں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں پہنچی ‘ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس بھی آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے جو اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو وعظ سنایا اور ان سے صدقہ کرنے کے لیے فرمایا اور عورتیں ( اپنا صدقہ بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ) ڈالنے لگیں۔ یہ کہتے وقت ایوب نے اپنے کان اور گلے کی طرف اشارہ کیا۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ، فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ، فَأَتَاهُنَّ وَمَعَهُ بِلاَلٌ نَاشِرَ ثَوْبِهِ فَوَعَظَهُنَّ، وَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي، وَأَشَارَ أَيُّوبُ إِلَى أُذُنِهِ وَإِلَى حَلْقِهِ.
#1450
Narrated Anas:Abu Bakr wrote to me what was made compulsory by Allah's Messenger (ﷺ) and that was (regarding the payments of Zakat): Neither the property of different people may be taken together nor the joint property may be split for fear of (paying more, or receiving less) Zakat
ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ثمامہ نے بیان کیا ‘ اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں وہی چیز لکھی تھی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضروری قرار دیا تھا۔ یہ کہ زکوٰۃ ( کی زیادتی ) کے خوف سے جدا جدا مال کو یکجا اور یکجا مال کو جدا جدا نہ کیا جائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ، أَنَّ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ كَتَبَ لَهُ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَلاَ يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، وَلاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ، خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ ".