#1101
Narrated Hafs bin `Asim:Ibn `Umar went on a journey and said, "I accompanied the Prophet (ﷺ) and he did not offer optional prayers during the journey, and Allah says: 'Verily! In Allah's Messenger (ﷺ) you have a good example to follow
ہم سے یحییٰ بن سلیمان کوفی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمر بن محمد بن یزید نے بیان کیا کہ حفص بن عاصم بن عمر نے ان سے بیان کیا کہ میں نے سفر میں سنتوں کے متعلق عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا آپ نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا ہوں۔ میں نے آپ کو سفر میں کبھی سنتیں پڑھتے نہیں دیکھا اور اللہ جل ذکرہ کا ارشاد ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ، حَدَّثَهُ قَالَ سَافَرَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ فَقَالَ صَحِبْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ أَرَهُ يُسَبِّحُ فِي السَّفَرِ، وَقَالَ اللَّهُ جَلَّ ذِكْرُهُ {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ}.
#1102
Narrated Ibn `Umar:I accompanied Allah's Messenger (ﷺ) and he never offered more than two rak`at during the journey. Abu Bakr, `Umar and `Uthman used to do the same
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے عیسیٰ بن حفص بن عاصم نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں دو رکعت ( فرض ) سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے۔ ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عِيسَى بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَانَ لاَ يَزِيدُ فِي السَّفَرِ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَذَلِكَ ـ رضى الله عنهم.
#1103
Narrated Ibn Abu Laila:Only Um Hani told us that she had seen the Prophet (ﷺ) offering the Duha (forenoon prayer). She said, "On the day of the conquest of Mecca, the Prophet (ﷺ) took a bath in my house and offered eight rak`at. I never saw him praying such a light prayer but he performed perfect prostration and bowing
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے ابن ابی لیلیٰ نے، انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی نے یہ خبر نہیں دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہاں ام ہانی رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر غسل کیا تھا اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعتیں پڑھی تھیں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اتنی ہلکی پھلکی نماز پڑھتے نہیں دیکھا البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ پوری طرح کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ مَا أَنْبَأَ أَحَدٌ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الضُّحَى غَيْرُ أُمِّ هَانِئٍ ذَكَرَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ اغْتَسَلَ فِي بَيْتِهَا، فَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، فَمَا رَأَيْتُهُ صَلَّى صَلاَةً أَخَفَّ مِنْهَا، غَيْرَ أَنَّهُ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ.
#1104
Narrated `Abdullah bin Amir that his father had told him that he had seen the Prophet (ﷺ) praying Nawafil at night on the back of his Mount on a journey, facing whatever direction it took
اور لیث بن سعد رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ نے بیان کیا کہ انہیں ان کے باپ نے خبر دی کہ انہوں نے خود دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( رات میں ) سفر میں نفل نمازیں سواری پر پڑھتے تھے، وہ جدھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جاتی ادھر ہی سہی۔
وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى السُّبْحَةَ بِاللَّيْلِ فِي السَّفَرِ عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ.
#1105
Narrated Salim bin `Abdullah:Ibn `Umar said, "Allah's Messenger (ﷺ) used to pray the Nawafil on the back of his Mount (carriage) by signs facing any direction." Ibn `Umar used to do the same
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے اور انہیں سالم بن عبداللہ بن عمر نے اپنے باپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی کی پیٹھ پر خواہ اس کا منہ کسی طرف ہوتا نفل نماز سر کے اشاروں سے پڑھتے تھے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُسَبِّحُ عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ حَيْثُ كَانَ وَجْهُهُ، يُومِئُ بِرَأْسِهِ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ.
#1106
Narrated Salim's father:The Prophet (ﷺ) used to offer the Maghrib and `Isha' prayers together whenever he was in a hurry on a journey
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے زہری سے سنا، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے باپ عبداللہ بن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر سفر میں جلد چلنا منظور ہوتا تو مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھتے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ.
#1107
Narrated Ibn `Abbas: Allah's Messenger (ﷺ) used to offer the Zuhr and `Asr prayers together on journeys, and also used to offer the Maghrib and `Isha' prayers together. Narrated Anas bin Malik: The Prophet (ﷺ) used to offer the Maghrib and the `Isha' prayers together on journeys
اور ابراہیم بن طہمان نے کہا کہ ان سے حسین معلم نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ملا کر پڑھتے، اسی طرح مغرب اور عشاء کی بھی ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنِ الْحُسَيْنِ الْمُعَلِّمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَجْمَعُ بَيْنَ صَلاَةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ إِذَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ سَيْرٍ، وَيَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ.
#1108
Narrated Anas:Allah's Messenger (ﷺ) used to offer these two prayers together on journeys i.e. the Maghrib and the `Isha
اور ابن طہمان ہی نے بیان کیا کہ ان سے حسین نے، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے حفص بن عبیداللہ بن انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔ اس روایت کی متابعت علی بن مبارک اور حرب نے یحییٰ سے کی ہے۔ یحییٰ، حفص سے اور حفص انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مغرب اور عشاء ) ایک ساتھ ملا کر پڑھی تھیں۔
وَعَنْ حُسَيْنٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَجْمَعُ بَيْنَ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي السَّفَرِ. وَتَابَعَهُ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ وَحَرْبٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ حَفْصٍ عَنْ أَنَسٍ جَمَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم.
#1109
Narrated Az-Zuhri:Salim told me, "`Abdullah bin `Umar said, 'I saw Allah's Messenger (ﷺ) delaying the Maghrib prayer till he offered it along with the `Isha prayer whenever he was in a hurry during the journey.' " Salim said, "Abdullah bin `Umar used to do the same whenever he was in a hurry during the journey. After making the call for Iqama, for the Maghrib prayer he used to offer three rak`at and then perform Taslim. After waiting for a short while, he would pronounce the Iqama for the `Isha' prayer and offer two rak`at and perform Taslim. He never prayed any Nawafil in between the two prayers or after the `Isha' prayers till he got up in the middle of the night (for Tahajjud prayer)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے سالم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی۔ آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب جلدی سفر طے کرنا ہوتا تو مغرب کی نماز مؤخر کر دیتے۔ پھر اسے عشاء کے ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔ سالم نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اگر سفر سرعت کے ساتھ طے کرنا چاہتے تو اسی طرح کرتے تھے۔ مغرب کی تکبیر پہلے کہی جاتی اور آپ تین رکعت مغرب کی نماز پڑھ کر سلام پھیر دیتے۔ پھر معمولی سے توقف کے بعد عشاء کی تکبیر کہی جاتی اور آپ اس کی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیتے۔ دونوں نمازوں کے درمیان ایک رکعت بھی سنت وغیرہ نہ پڑھتے اور اسی طرح عشاء کے بعد بھی نماز نہیں پڑھتے تھے۔ یہاں تک کہ درمیان شب میں آپ اٹھتے ( اور تہجد ادا کرتے ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ فِي السَّفَرِ يُؤَخِّرُ صَلاَةَ الْمَغْرِبِ، حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ. قَالَ سَالِمٌ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَفْعَلُهُ إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ، وَيُقِيمُ الْمَغْرِبَ فَيُصَلِّيهَا ثَلاَثًا، ثُمَّ يُسَلِّمُ، ثُمَّ قَلَّمَا يَلْبَثُ حَتَّى يُقِيمَ الْعِشَاءَ، فَيُصَلِّيهَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ وَلاَ يُسَبِّحُ بَيْنَهَا بِرَكْعَةٍ، وَلاَ بَعْدَ الْعِشَاءِ بِسَجْدَةٍ حَتَّى يَقُومَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ.
#1110
Narrated Anas bin Malik:Whenever the Prophet (ﷺ) started a journey before noon, he used to delay the Zuhr prayer till the time of `Asr and then offer them together; and if the sun declined (at noon) he used to offer the Zuhr prayer and then ride (for the journey)
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا ہم سے حرب بن شداد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے حفص بن عبیداللہ بن انس نے بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ نے ان سے یہ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دو نمازوں یعنی مغرب اور عشاء کو سفر میں ایک ساتھ ملا کر پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، أَنَّ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلاَتَيْنِ فِي السَّفَرِ. يَعْنِي الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ.
#1111
Narrated Anas bin Malik:Whenever the Prophet (ﷺ) started the journey before noon, he used to delay the Zuhr prayer till the time for the `Asr prayer and then he would dismount and pray them together; and whenever the sun declined before he started the journey he used to offer the Zuhr prayer and then ride (for the journey)
ہم سے حسان واسطی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے مفضل بن فضالہ نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر سورج ڈھلنے سے پہلے سفر شروع کرتے تو ظہر کی نماز عصر تک نہ پڑھتے پھر ظہر اور عصر ایک ساتھ پڑھتے اور اگر سورج ڈھل چکا ہوتا تو پہلے ظہر پڑھ لیتے پھر سوار ہوتے۔
حَدَّثَنَا حَسَّانُ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا، وَإِذَا زَاغَتْ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ.
#1112
Narrated Anas bin Malik:Whenever the Prophet (ﷺ) started on a journey before noon, he used to delay the Zuhr prayer till the time for the 'Asr prayer and then he would dismount and offer them together; and whenever the sun declined before he started on a journey he used to offer the Zuhr prayers and then ride (for journey)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے مفضل بن فضالہ نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے سفر شروع کرتے تو ظہر عصر کا وقت آنے تک نہ پڑھتے۔ پھر کہیں ( راستے میں ) ٹھہرتے اور ظہر اور عصر ملا کر پڑھتے لیکن اگر سفر شروع کرنے سے پہلے سورج ڈھل چکا ہوتا تو پہلے ظہر پڑھتے پھر سوار ہوتے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ، ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا، فَإِنْ زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ.
#1113
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) prayed in his house while sitting during his illness and the people prayed behind him standing and he pointed to them to sit down. When he had finished the prayer, he said, "The Imam is to be followed and so when he bows you should bow; and when he lifts his head you should also do the same
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے باپ عروہ نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں بیٹھ کر نماز پڑھائی، بعض لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھنے لگے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے اس لیے جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِهِ وَهْوَ شَاكٍ، فَصَلَّى جَالِسًا وَصَلَّى وَرَاءَهُ قَوْمٌ قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا ".
#1114
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) fell down from a horse and his right side was either injured or scratched, so we went to inquire about his health. The time for the prayer became due and he offered the prayer while sitting and we prayed while standing. He said, "The Imam is to be followed; so if he says Takbir, you should also say Takbir, and if he bows you should also bow; and when he lifts his head you should also do the same and if he says: Sami`a l-lahu liman hamidah (Allah hears whoever sends his praises to Him) you should say: Rabbana walakal-Hamd (O our Lord! All the praises are for You.") (See Hadith No. 656 Vol)
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری سے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر پڑے اور اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں پہلو پر زخم آ گئے۔ ہم مزاج پرسی کے لیے گئے تو نماز کا وقت آ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی۔ ہم نے بھی بیٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی موقع پر فرمایا تھا کہ امام اس لیے ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے۔ اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَقَطَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ فَرَسٍ فَخُدِشَ ـ أَوْ فَجُحِشَ ـ شِقُّهُ الأَيْمَنُ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَصَلَّى قَاعِدًا فَصَلَّيْنَا قُعُودًا وَقَالَ " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ".
#1115
Narrated `Imran bin Husain:(who had piles) I asked Allah's Messenger (ﷺ) about the praying of a man while sitting. He said, "If he prays while standing it is better and he who prays while sitting gets half the reward of that who prays standing; and whoever prays while Lying gets half the reward of that who prays while sitting
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں روح بن عبادہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں حسین نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن بریدہ نے، انہیں عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ( دوسری سند ) اور ہمیں اسحاق بن منصور نے خبر دی، کہا کہ ہمیں عبدالصمد نے خبر دی، کہا کہ میں نے اپنے باپ عبدالوارث سے سنا، کہا کہ ہم سے حسین نے بیان کیا اور ان سے ابن بریدہ نے کہا کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، وہ بواسیر کے مریض تھے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی آدمی کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افضل یہی ہے کہ کھڑے ہو کر پڑھے کیونکہ بیٹھ کر پڑھنے والے کو کھڑے ہو کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملتا ہے اور لیٹے لیٹے پڑھنے والے کو بیٹھ کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَأَلَ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ـ وَكَانَ مَبْسُورًا ـ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَلاَةِ الرَّجُلِ قَاعِدًا فَقَالَ " إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَهْوَ أَفْضَلُ، وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ ".
#1116
Narrated `Abdullah bin Buraida:`Imran bin Husain had piles. Once Abu Ma mar narrated from `Imran bin Husain had said, "I asked the Prophet (ﷺ) about the prayer of a person while sitting. He said, 'It is better for one to pray standing; and whoever prays sitting gets half the reward of that who prays while standing; and whoever prays while Lying gets half the reward of that who prays while sitting
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حسین معلم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن بریدہ نے کہ عمران بن حصین نے جنہیں بواسیر کا مرض تھا۔ اور کبھی ابومعمر نے یوں کہا کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنا افضل ہے لیکن اگر کوئی بیٹھ کر نماز پڑھے تو کھڑے ہو کر پڑھنے والے سے اسے آدھا ثواب ملے گا اور لیٹ کر پڑھنے والے کو بیٹھ کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملے گا۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) فرماتے ہیں کہ حدیث کے الفاظ میں «نائم» «مضطجع» کے معنی میں ہے یعنی لیٹ کر نماز پڑھنے والا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ـ وَكَانَ رَجُلاً مَبْسُورًا ـ وَقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ مَرَّةً عَنْ عِمْرَانَ، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَلاَةِ الرَّجُلِ وَهْوَ قَاعِدٌ فَقَالَ " مَنْ صَلَّى قَائِمًا فَهْوَ أَفْضَلُ، وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ نَائِمًا عِنْدِي مُضْطَجِعًا هَا هُنَا.
#1117
Narrated `Imran bin Husain: I had piles, so I asked the Prophet (ﷺ) about the prayer. He said, "Pray while standing and if you can't, pray while sitting and if you cannot do even that, then pray Lying on your side
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے امام عبداللہ بن مبارک نے، ان سے ابراہیم بن طہمان نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے حسین مکتب نے (جو بچوں کو لکھنا سکھاتا تھا) بیان کیا، ان سے ابن بریدہ نے اور ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا کہ مجھے بواسیر کا مرض تھا۔ اس لیے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور اگر اس کی بھی نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ لو۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ الْمُكْتِبُ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَتْ بِي بَوَاسِيرُ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّلاَةِ فَقَالَ " صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ ".
#1118
Narrated Aisha:(the mother of the faithful believers) I never saw Allah's Messenger (ﷺ) offering the night prayer while sitting except in his old age and then he used to recite while sitting and whenever he wanted to bow he would get up and recite thirty or forty verses (while standing) and then bow
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے باپ عروہ بن زبیر نے اور انہیں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بیٹھ کر نماز پڑھتے نہیں دیکھا البتہ جب آپ ضعیف ہو گئے تو قرآت قرآن نماز میں بیٹھ کر کرتے تھے، پھر جب رکوع کا وقت آتا تو کھڑے ہو جاتے اور پھر تقریباً تیس یا چالیس آیتیں پڑھ کر رکوع کرتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا لَمْ تَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي صَلاَةَ اللَّيْلِ قَاعِدًا قَطُّ حَتَّى أَسَنَّ، فَكَانَ يَقْرَأُ قَاعِدًا حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ، فَقَرَأَ نَحْوًا مِنْ ثَلاَثِينَ آيَةً أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً، ثُمَّ رَكَعَ.
#1119
Narrated `Aisha:(the mother of the faithful believers) Allah's Messenger (ﷺ) (in his last days) used to pray sitting. He would recite while sitting, and when thirty or forty verses remained from the recitation he would get up and recite them while standing and then he would bow and prostrate. He used to do the same in the second rak`a. After finishing the Prayer he used to look at me and if I was awake he would talk to me and if I was asleep, he would lie down
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے عبداللہ بن یزید اور عمر بن عبیداللہ کے غلام ابوالنضر سے خبر دی، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، انہیں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز بیٹھ کر پڑھنا چاہتے تو قرآت بیٹھ کر کرتے۔ جب تقریباً تیس چالیس آیتیں پڑھنی باقی رہ جاتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے۔ پھر رکوع اور سجدہ کرتے پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے۔ نماز سے فارغ ہونے پر دیکھتے کہ میں جاگ رہی ہوں تو مجھ سے باتیں کرتے لیکن اگر میں سوتی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی لیٹ جاتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، وَأَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهْوَ جَالِسٌ، فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ نَحْوٌ مِنْ ثَلاَثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا وَهْوَ قَائِمٌ، ثُمَّ يَرْكَعُ ثُمَّ يَسْجُدُ، يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، فَإِذَا قَضَى صَلاَتَهُ نَظَرَ، فَإِنْ كُنْتُ يَقْظَى تَحَدَّثَ مَعِي، وَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً اضْطَجَعَ.
#1120
Narrated Ibn `Abbas:When the Prophet (ﷺ) got up at night to offer the Tahajjud prayer, he used to say: Allahumma lakal-hamd. Anta qaiyyimus-samawati wal-ard wa man fihinna. Walakal-hamd, Laka mulkus-samawati wal-ard wa man fihinna. Walakal-hamd, anta nurus-samawati wal-ard. Wa lakal-hamd, anta-l-haq wa wa'duka-lhaq, wa liqa'uka Haq, wa qauluka Haq, wal-jannatu Han wan-naru Haq wannabiyuna Haq. Wa Muhammadun, sallal-lahu'alaihi wasallam, Haq, was-sa'atu Haq. Allahumma aslamtu Laka wabika amantu, wa 'Alaika tawakkaltu, wa ilaika anabtu wa bika khasamtu, wa ilaika hakamtu faghfir li ma qaddamtu wama akh-khartu wama as-rartu wama'a lantu, anta-l-muqaddim wa anta-l-mu akh-khir, la ilaha illa anta (or la ilaha ghairuka). (O Allah! All the praises are for you, You are the Holder of the Heavens and the Earth, And whatever is in them. All the praises are for You; You have the possession of the Heavens and the Earth And whatever is in them. All the praises are for You; You are the Light of the Heavens and the Earth And all the praises are for You; You are the King of the Heavens and the Earth; And all the praises are for You; You are the Truth and Your Promise is the truth, And to meet You is true, Your Word is the truth And Paradise is true And Hell is true And all the Prophets (Peace be upon them) are true; And Muhammad is true, And the Day of Resurrection is true. O Allah ! I surrender (my will) to You; I believe in You and depend on You. And repent to You, And with Your help I argue (with my opponents, the non-believers) And I take You as a judge (to judge between us). Please forgive me my previous And future sins; And whatever I concealed or revealed And You are the One who make (some people) forward And (some) backward. There is none to be worshipped but you . Sufyan said that `Abdul Karim Abu Umaiya added to the above, 'Wala haula Wala quwata illa billah' (There is neither might nor power except with Allah)
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سلیمان بن ابی مسلم نے بیان کیا، ان سے طاؤس نے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا پڑھتے۔ «اللهم لك الحمد أنت قيم السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد، لك ملك السموات والأرض ومن فيهن، ولك الحمد أنت نور السموات والأرض، ولك الحمد أنت الحق، ووعدك الحق، ولقاؤك حق، وقولك حق، والجنة حق، والنار حق، والنبيون حق، ومحمد صلى الله عليه وسلم حق، والساعة حق، اللهم لك أسلمت، وبك آمنت وعليك توكلت، وإليك أنبت، وبك خاصمت، وإليك حاكمت، فاغفر لي ما قدمت وما أخرت، وما أسررت وما أعلنت، أنت المقدم وأنت المؤخر، لا إله إلا أنت، لا إله غيرك» ( ترجمہ ) ”اے میرے اللہ! ہر طرح کی تعریف تیرے ہی لیے زیبا ہے، تو آسمان اور زمین اور ان میں رہنے والی تمام مخلوق کا سنبھالنے والا ہے اور حمد تمام کی تمام بس تیرے ہی لیے مناسب ہے آسمان اور زمین اور ان کی تمام مخلوقات پر حکومت صرف تیرے ہی لیے ہے اور تعریف تیرے ہی لیے ہے، تو آسمان اور زمین کا نور ہے اور تعریف تیرے ہی لیے زیبا ہے، تو سچا ہے، تیرا وعدہ سچا، تیری ملاقات سچی، تیرا فرمان سچا ہے، جنت سچ ہے، دوزخ سچ ہے، انبیاء سچے ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں اور قیامت کا ہونا سچ ہے۔ اے میرے اللہ! میں تیرا ہی فرماں بردار ہوں اور تجھی پر ایمان رکھتا ہوں، تجھی پر بھروسہ ہے، تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں، تیرے ہی عطا کئے ہوئے دلائل کے ذریعہ بحث کرتا ہوں اور تجھی کو حکم بناتا ہوں۔ پس جو خطائیں مجھ سے پہلے ہوئیں اور جو بعد میں ہوں گی ان سب کی مغفرت فرما، خواہ وہ ظاہر ہوئی ہوں یا پوشیدہ۔ آگے کرنے والا اور پیچھے رکھنے والا تو ہی ہے۔ معبود صرف تو ہی ہے۔ یا ( یہ کہا کہ ) تیرے سوا کوئی معبود نہیں“۔ ابوسفیان نے بیان کیا کہ عبدالکریم ابوامیہ نے اس دعا میں یہ زیادتی کی ہے ( «لا حول ولا قوة إلا بالله» ) سفیان نے بیان کیا کہ سلیمان بن مسلم نے طاؤس سے یہ حدیث سنی تھی، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتَهَجَّدُ قَالَ " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ، لَكَ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَقَوْلُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ ـ أَوْ لاَ إِلَهَ غَيْرُكَ ـ ". قَالَ سُفْيَانُ وَزَادَ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ " وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ ". قَالَ سُفْيَانُ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ سَمِعَهُ مِنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
#1121
Narrated Salim's father:In the lifetime of the Prophet (ﷺ) whosoever saw a dream would narrate it to Allah's Messenger (ﷺ). I had a wish of seeing a dream to narrate it to Allah's Messenger (ﷺ) I was a grown up boy and used to sleep in the Mosque in the lifetime of the Prophet. I saw in the dream that two angels caught hold of me and took me to the Fire which was built all round like a built well and had two poles in it and the people in it were known to me. I started saying, "I seek refuge with Allah from the Fire." Then I met another angel who told me not to be afraid. I narrated the dream to Hafsa who told it to Allah's Messenger (ﷺ). The Prophet said, "Abdullah is a good man. I wish he prayed Tahajjud." After that `Abdullah (i.e. Salim's father) used to sleep but a little at night
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ،. وَحَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا فَأَقُصَّهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكُنْتُ غُلاَمًا شَابًّا، وَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَىِّ الْبِئْرِ، وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ، وَإِذَا فِيهَا أُنَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ ـ قَالَ ـ فَلَقِيَنَا مَلَكٌ آخَرُ فَقَالَ لِي لَمْ تُرَعْ. فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ، لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ". فَكَانَ بَعْدُ لاَ يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلاَّ قَلِيلاً.
#1122
Narrated Salim's father:In the lifetime of the Prophet (ﷺ) whosoever saw a dream would narrate it to Allah's Messenger (ﷺ). I had a wish of seeing a dream to narrate it to Allah's Messenger (ﷺ) I was a grown up boy and used to sleep in the Mosque in the lifetime of the Prophet. I saw in the dream that two angels caught hold of me and took me to the Fire which was built all round like a built well and had two poles in it and the people in it were known to me. I started saying, "I seek refuge with Allah from the Fire." Then I met another angel who told me not to be afraid. I narrated the dream to Hafsa who told it to Allah's Messenger (ﷺ). The Prophet said, "Abdullah is a good man. I wish he prayed Tahajjud." After that `Abdullah (i.e. Salim's father) used to sleep but a little at night
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ،. وَحَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا فَأَقُصَّهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكُنْتُ غُلاَمًا شَابًّا، وَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَىِّ الْبِئْرِ، وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ، وَإِذَا فِيهَا أُنَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ ـ قَالَ ـ فَلَقِيَنَا مَلَكٌ آخَرُ فَقَالَ لِي لَمْ تُرَعْ. فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ، لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ". فَكَانَ بَعْدُ لاَ يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلاَّ قَلِيلاً.
#1123
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) used to offer eleven rak`at and that was his prayer. He used to prolong the prostration to such an extent that one could recite fifty verses (of the Qur'an) before he would lift his head. He used to pray two rak`at (Sunna) before the Fajr prayer and then used to lie down on his right side till the call-maker came and informed him about the prayer
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے عروہ نے خبر دی اور انہیں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( رات میں ) گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی نماز تھی۔ لیکن اس کے سجدے اتنے لمبے ہوا کرتے کہ تم میں سے کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اٹھانے سے قبل پچاس آیتیں پڑھ سکتا تھا ( اور طلوع فجر ہونے پر ) فجر کی نماز سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت سنت پڑھتے۔ اس کے بعد دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔ آخر مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لیے بلانے آتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، كَانَتْ تِلْكَ صَلاَتَهُ، يَسْجُدُ السَّجْدَةَ مِنْ ذَلِكَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، وَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلاَةِ الْفَجْرِ، ثُمَّ يَضْطَجِعُ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُنَادِي لِلصَّلاَةِ.
#1124
Narrated Jundab:The Prophet (ﷺ) became sick and did not get up (for Tahajjud prayer) for a night or two
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے اسود بن قیس سے بیان کیا، کہا کہ میں نے جندب رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ایک یا دو رات تک ( نماز کے لیے ) نہ اٹھ سکے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ سَمِعْتُ جُنْدَبًا، يَقُولُ اشْتَكَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَةً أَوْ لَيْلَتَيْنِ.
#1125
Narrated Jundab bin `Abdullah:Gabriel did not come to the Prophet (for some time) and so one of the Quraish women said, "His Satan has deserted him." So came the Divine Revelation: "By the forenoon And by the night When it is still! Your Lord (O Muhammad) has neither Forsaken you Nor hated you
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں سفیان ثوری نے اسود بن قیس سے خبر دی، ان سے جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام ( ایک مرتبہ چند دنوں تک ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( وحی لے کر ) نہیں آئے تو قریش کی ایک عورت ( ام جمیل ابولہب کی بیوی ) نے کہا کہ اب اس کے شیطان نے اس کے پاس آنے سے دیر لگائی۔ اس پر یہ سورت اتری «والضحى * والليل إذا سجى * ما ودعك ربك وما قلى» ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ احْتَبَسَ جِبْرِيلُ صلى الله عليه وسلم عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَبْطَأَ عَلَيْهِ شَيْطَانُهُ. فَنَزَلَتْ {وَالضُّحَى * وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى * مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى}