#726
Narrated Ibn `Abbas:I prayed with the Prophet (ﷺ) one night and stood on his left side. Allah's Messenger (ﷺ) caught hold of my head from behind and drew me to his right and then offered the prayer and slept. Later the Mu'adh-dhin came and the Prophet (ﷺ) stood up for prayer without performing ablution
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے داؤد بن عبدالرحمٰن نے عمرو بن دینار سے بیان کیا، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب سے انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے،، آپ نے بتلایا کہ ایک رات میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( آپ کے گھر میں تہجد کی ) نماز پڑھی۔ میں آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے میرا سر پکڑ کر مجھے اپنے دائیں طرف کر دیا۔ پھر نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے جب مؤذن ( نماز کی اطلاع دینے ) آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِرَأْسِي مِنْ وَرَائِي، فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى وَرَقَدَ فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ وَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
#727
Narrated Anas bin Malik:One night an orphan and I offered the prayers behind the Prophet (ﷺ) in my house and my mother (Um Sulaim) was standing behind us (by herself forming a row)
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، وہ اسحٰق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے انہوں نے بتلایا کہ میں نے اور ایک یتیم لڑکے ( ضمیرہ بن ابی ضمیرہ ) نے جو ہمارے گھر میں موجود تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی اور میری والدہ ام سلیم ہمارے پیچھے تھیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ صَلَّيْتُ أَنَا وَيَتِيمٌ، فِي بَيْتِنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا.
#728
Narrated Ibn `Abbas:One night I stood to the left of the Prophet (ﷺ) in the prayer but he caught hold of me by the hand or by the shoulder (arm) till he made me stand on his right and beckoned with his hand (for me) to go from behind (him). (Al-Kashmaihani [??] , Fath-ul-Bari
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ثابت بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عاصم احول نے عامر شعبی سے بیان کیا، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، آپ نے بتلایا کہ میں ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ) نماز ( تہجد ) پڑھنے کے لیے کھڑا ہو گیا۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا سر یا بازو پکڑ کر مجھ کو اپنی دائیں طرف کھڑا کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا تھا کہ پیچھے سے گھوم آؤ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قُمْتُ لَيْلَةً أُصَلِّي عَنْ يَسَارِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَخَذَ بِيَدِي أَوْ بِعَضُدِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، وَقَالَ بِيَدِهِ مِنْ وَرَائِي.
#729
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) used to pray in his room at night. As the wall of the room was low, the people saw him and some of them stood up to follow him in the prayer. In the morning they spread the news. The following night the Prophet (ﷺ) stood for the prayer and the people followed him. This went on for two or three nights. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) did not stand for the prayer the following night, and did not come out. In the morning, the people asked him about it. He replied, that he way afraid that the night prayer might become compulsory
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدہ بن سلیمان نے یحییٰ بن سعید انصاری کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں اپنے حجرہ کے اندر ( تہجد کی ) نماز پڑھتے تھے۔ حجرے کی دیواریں پست تھیں اس لیے لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا اور کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ صبح کے وقت لوگوں نے اس کا ذکر دوسروں سے کیا۔ پھر جب دوسری رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں اس رات بھی کھڑے ہو گئے۔ یہ صورت دو یا تین رات تک رہی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ رہے اور نماز کے مقام پر تشریف نہیں لائے۔ پھر صبح کے وقت لوگوں نے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ڈرا کہ کہیں رات کی نماز ( تہجد ) تم پر فرض نہ ہو جائے۔ ( اس خیال سے میں نے یہاں کا آنا ناغہ کر دیا ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فِي حُجْرَتِهِ، وَجِدَارُ الْحُجْرَةِ قَصِيرٌ، فَرَأَى النَّاسُ شَخْصَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ أُنَاسٌ يُصَلُّونَ بِصَلاَتِهِ، فَأَصْبَحُوا فَتَحَدَّثُوا بِذَلِكَ، فَقَامَ لَيْلَةَ الثَّانِيَةِ، فَقَامَ مَعَهُ أُنَاسٌ يُصَلُّونَ بِصَلاَتِهِ، صَنَعُوا ذَلِكَ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةً، حَتَّى إِذَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَخْرُجْ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ذَكَرَ ذَلِكَ النَّاسُ فَقَالَ " إِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُكْتَبَ عَلَيْكُمْ صَلاَةُ اللَّيْلِ ".
#730
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) had a mat which he used to spread during the day and use as a curtain at night. So a number of people gathered at night facing it and prayed behind him
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن اسماعیل بن ابی فدیک نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی ذئب نے بیان کیا، مقبری کے واسطہ سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چٹائی تھی۔ جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن میں بچھاتے تھے اور رات میں اس کا پردہ کر لیتے تھے۔ پھر چند لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہوئے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھکے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھنے لگے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ لَهُ حَصِيرٌ يَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ، وَيَحْتَجِرُهُ بِاللَّيْلِ، فَثَابَ إِلَيْهِ نَاسٌ، فَصَلَّوْا وَرَاءَهُ.
#731
Narrated Zaid bin Thabit:Allah's Messenger (ﷺ) made a small room in the month of Ramadan (Sa`id said, "I think that Zaid bin Thabit said that it was made of a mat") and he prayed there for a few nights, and so some of his companions prayed behind him. When he came to know about it, he kept on sitting. In the morning, he went out to them and said, "I have seen and understood what you did. You should pray in your houses, for the best prayer of a person is that which he prays in his house except the compulsory prayers
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ابوالنضر سالم سے، انہوں نے بسر بن سعید سے، انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں ایک حجرہ بنا لیا یا اوٹ ( پردہ ) بسر بن سعید نے کہا میں سمجھتا ہوں وہ بورئیے کا تھا۔ آپ نے کئی رات اس میں نماز پڑھی۔ صحابہ میں سے بعض حضرات نے ان راتوں میں آپ کی اقتداء کی۔ جب آپ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے بیٹھ رہنا شروع کیا ( نماز موقوف رکھی ) پھر برآمد ہوئے اور فرمایا تم نے جو کیا وہ مجھ کو معلوم ہے، لیکن لوگو! تم اپنے گھروں میں نماز پڑھتے رہو کیونکہ بہتر نماز آدمی کی وہی ہے جو اس کے گھر میں ہو۔ مگر فرض نماز ( مسجد میں پڑھنی ضروری ہے ) اور عفان بن مسلم نے کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوالنضر ابن ابی امیہ سے سنا، وہ بسر بن سعید سے روایت کرتے تھے، وہ زید بن ثابت سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اتَّخَذَ حُجْرَةً ـ قَالَ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ ـ مِنْ حَصِيرٍ فِي رَمَضَانَ فَصَلَّى فِيهَا لَيَالِيَ، فَصَلَّى بِصَلاَتِهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا عَلِمَ بِهِمْ جَعَلَ يَقْعُدُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ " قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلاَةِ صَلاَةُ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلاَّ الْمَكْتُوبَةَ ". قَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى، سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ، عَنْ بُسْرٍ، عَنْ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
#732
Narrated Anas bin Malik Al-Ansari:Allah's Messenger (ﷺ) rode a horse and fell down and the right side of his body was injured. On that day he prayed one of the prayers sitting and we also prayed behind him sitting. When the Prophet (ﷺ) finished the prayer with Taslim, he said, "The Imam is to be followed and if he prays standing then pray standing, and bow when he bows, and raise your heads when he raises his head; prostrate when he prostrates; and if he says "Sami`a l-lahu liman hamidah", you should say, "Rabbana wa laka l-hamd.:
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے یہ بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعیب نے زہری کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار ہوئے اور ( گر جانے کی وجہ سے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں پہلو میں زخم آ گئے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ اس دن ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی، چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، اس لیے ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ پھر سلام کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ اس لیے جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی کرو اور جب وہ «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الأَنْصَارِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكِبَ فَرَسًا، فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ، قَالَ أَنَسٌ ـ رضى الله عنه ـ فَصَلَّى لَنَا يَوْمَئِذٍ صَلاَةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهْوَ قَاعِدٌ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا، ثُمَّ قَالَ لَمَّا سَلَّمَ " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ".
#733
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) fell from a horse and got injured so he led the prayer sitting and we also prayed sitting. When he completed the prayer he said, "The Imam is to be followed; if he says Takbir then say Takbir, bow if he bows; raise your heads when he raises his head, when he says, 'Sami`a l-lahu liman hamidah say, 'Rabbana laka l-hamd', and prostrate when he prostrates
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب زہری سے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہو گئے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھی اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں بیٹھ کر نماز پڑھی۔ پھر نماز پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو۔ جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ اور جب وہ «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا لك الحمد» اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی کرو۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ خَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ فَصَلَّى لَنَا قَاعِدًا فَصَلَّيْنَا مَعَهُ قُعُودًا، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ " إِنَّمَا الإِمَامُ ـ أَوْ إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ ـ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. فَقُولُوا رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ. وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا ".
#734
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "The Imam is to be followed. Say the Takbir when he says it; bow if he bows; if he says 'Sami`a l-lahu liman hamidah', say, ' Rabbana wa laka l-hamd', prostrate if he prostrates and pray sitting altogether if he prays sitting
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ابوالزناد نے مجھ سے بیان کیا اعرج کے واسطہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو۔ جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ. وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ ".
#735
Narrated Salim bin `Abdullah:My father said, "Allah's Messenger (ﷺ) used to raise both his hands up to the level of his shoulders when opening the prayer; and on saying the Takbir for bowing. And on raising his head from bowing he used to do the same and then say "Sami`a l-lahu liman hamidah, Rabbana wa laka l-hamd." And he did not do that (i.e. raising his hands) in prostrations
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، انہوں نے امام مالک سے، انہوں نے ابن شہاب زہری سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ سے، انہوں نے اپنے باپ (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے، اسی طرح جب رکوع کے لیے «الله اكبر» کہتے اور جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو دونوں ہاتھ بھی اٹھاتے ( رفع یدین کرتے ) اور رکوع سے سر مبارک اٹھاتے ہوئے «سمع الله لمن حمده، ربنا ولك الحمد» کہتے تھے۔ سجدہ میں جاتے وقت رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ، وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا وَقَالَ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ". وَكَانَ لاَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ.
#736
Narrated `Abdullah bin `Umar:I saw that whenever Allah's Messenger (ﷺ) stood for the prayer, he used to raise both his hands up to the shoulders, and used to do the same on saying the Takbir for bowing and on raising his head from it and used to say, "Sami`a l-lahu liman hamidah". But he did not do that (i.e. raising his hands) in prostrations
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا کہ ہم کو یونس بن یزید ایلی نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی، انہوں نے بتلایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو تکبیر تحریمہ کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع یدین کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھ اس وقت مونڈھوں ( کندھوں ) تک اٹھے اور اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کے لیے تکبیر کہتے اس وقت بھی ( رفع یدین ) کرتے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے «سمع الله لمن حمده» البتہ سجدہ میں آپ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، رضى الله عنهما قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ فِي الصَّلاَةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ حِينَ يُكَبِّرُ لِلرُّكُوعِ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَيَقُولُ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ". وَلاَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ.
#737
Narrated Abu Qilaba:I saw Malik bin Huwairith saying Takbir and raising both his hands (on starting the prayers and raising his hands on bowing and also on raising his head after bowing. Malik bin Huwairith said, "Allah's Messenger (ﷺ) did the same
ہم سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ طحان نے بیان کیا خالد حذاء سے، انہوں نے ابوقلابہ سے کہ انہوں نے مالک بن حویرث صحابی کو دیکھا کہ جب وہ نماز شروع کرتے تو تکبیر تحریمہ کے ساتھ رفع یدین کرتے، پھر جب رکوع میں جاتے اس وقت بھی رفع یدین کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی کرتے اور انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، أَنَّهُ رَأَى مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ إِذَا صَلَّى كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَنَعَ هَكَذَا.
#738
Narrated `Abdullah bin `Umar:I saw Allah's Messenger (ﷺ) opening the prayer with the Takbir and raising his hands to the level of his shoulders at the time of saying the Takbir, and on saying the Takbir for bowing he did the same; and when he said, "Sami`a l-lahu liman hamidah ", he did the same and then said, "Rabbana wa laka lhamd." But he did not do the same on prostrating and on lifting the head from it
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز تکبیر تحریمہ سے شروع کرتے اور تکبیر کہتے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھا کر لے جاتے اور جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے تب بھی اسی طرح کرتے اور جب «سمع الله لمن حمده» کہتے تب بھی اسی طرح کرتے اور «ربنا ولك الحمد» کہتے۔ سجدہ کرتے وقت یا سجدے سے سر اٹھاتے وقت اس طرح رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم افْتَتَحَ التَّكْبِيرَ فِي الصَّلاَةِ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ حَتَّى يَجْعَلَهُمَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَهُ، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. فَعَلَ مِثْلَهُ وَقَالَ " رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ". وَلاَ يَفْعَلُ ذَلِكَ حِينَ يَسْجُدُ وَلاَ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ.
#739
Narrated Nafi`:Whenever Ibn `Umar started the prayer with Takbir, he used to raise his hands: whenever he bowed, he used to raise his hands (before bowing) and also used to raise his hands on saying, "Sami`a l-lahu liman hamidah", and he used to do the same on rising from the second rak`a (for the 3rd rak`a). Ibn `Umar said: "The Prophet (ﷺ) used to do the same
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے نافع سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز میں داخل ہوتے تو پہلے تکبیر تحریمہ کہتے اور ساتھ ہی رفع یدین کرتے۔ اسی طرح جب وہ رکوع کرتے تب اور جب «سمع الله لمن حمده» کہتے تب بھی ( رفع یدین کرتے ) دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے اور جب قعدہ اولیٰ سے اٹھتے تب بھی رفع یدین کرتے۔ آپ نے اس فعل کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا۔ ( کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھا کرتے تھے۔)
حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ. وَرَفَعَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَرَوَاهُ ابْنُ طَهْمَانَ عَنْ أَيُّوبَ وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ مُخْتَصَرًا.
#740
Narrated Sahl bin Sa`d:The people were ordered to place the right hand on the left forearm in the prayer. Abu Hazim said, "I knew that the order was from the Prophet (ﷺ)
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا امام مالک رحمہ اللہ سے، انہوں نے ابوحازم بن دینار سے، انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے کہ لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ نماز میں دایاں ہاتھ بائیں کلائی پر رکھیں، ابوحازم بن دینار نے بیان کیا کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آپ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے۔ اسماعیل بن ابی اویس نے کہا کہ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی جاتی تھی یوں نہیں کہا کہ پہنچاتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ الْيَدَ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ الْيُسْرَى فِي الصَّلاَةِ. قَالَ أَبُو حَازِمٍ لاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ يَنْمِي ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. قَالَ إِسْمَاعِيلُ يُنْمَى ذَلِكَ. وَلَمْ يَقُلْ يَنْمِي.
#741
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "You see me facing the Qibla; but, by Allah, nothing is hidden from me regarding your bowing and submissiveness and I see you from behind my back
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے ابوالزناد سے بیان کیا، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ، کیا تم سمجھتے ہو کہ میرا منہ ادھر ( قبلہ کی طرف ) ہے۔ اللہ کی قسم تمہارا رکوع اور تمہارا خشوع مجھ سے کچھ چھپا ہوا نہیں ہے، میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا رہتا ہوں۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي هَا هُنَا وَاللَّهِ مَا يَخْفَى عَلَىَّ رُكُوعُكُمْ وَلاَ خُشُوعُكُمْ، وَإِنِّي لأَرَاكُمْ وَرَاءَ ظَهْرِي ".
#742
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) said, "Perform the bowing and the prostrations properly. By Allah, I see you from behind me (or from behind my back) when you bow or prostrate
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا، وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رکوع اور سجود پوری طرح کیا کرو۔ اللہ کی قسم! میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا رہتا ہوں یا اس طرح کہا کہ پیٹھ پیچھے سے جب تم رکوع کرتے ہو اور سجدہ کرتے ہو ( تو میں تمہیں دیکھتا ہوں ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَقِيمُوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِي ـ وَرُبَّمَا قَالَ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي ـ إِذَا رَكَعْتُمْ وَسَجَدْتُمْ ".
#743
Narrated Anas bin Malik:The Prophet, Abu Bakr and `Umar used to start the prayer with "Al hamdu li l-lahi Rabbi l-`alamin (All praise is but to Allah, Lord of the Worlds)
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے قتادہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نماز «الحمد لله رب العالمين» سے شروع کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الصَّلاَةَ بِ ـ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ}
#744
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) used to keep silent between the Takbir and the recitation of Qur'an and that interval of silence used to be a short one. I said to the Prophet (ﷺ) "May my parents be sacrificed for you! What do you say in the pause between Takbir and recitation?" The Prophet (ﷺ) said, "I say, 'Allahumma, baa`id baini wa baina khatayaya kama baa`adta baina l-mashriqi wa l-maghrib. Allahumma, naqqini min khatayaya kama yunaqqa th-thawbu l-abyadu mina d-danas. Allahumma, ighsil khatayaya bi l-maa'i wa th-thalji wa l-barad (O Allah! Set me apart from my sins (faults) as the East and West are set apart from each other and clean me from sins as a white garment is cleaned of dirt (after thorough washing). O Allah! Wash off my sins with water, snow and hail
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عمارہ بن قعقاع نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوزرعہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر تحریمہ اور قرآت کے درمیان تھوڑی دیر چپ رہتے تھے۔ ابوزرعہ نے کہا میں سمجھتا ہوں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یوں کہا یا رسول اللہ! آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔ آپ اس تکبیر اور قرآت کے درمیان کی خاموشی کے بیچ میں کیا پڑھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں پڑھتا ہوں «اللهم باعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب، اللهم نقني من الخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس، اللهم اغسل خطاياى بالماء والثلج والبرد» اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری کر جتنی مشرق اور مغرب میں ہے۔ اے اللہ! مجھے گناہوں سے اس طرح پاک کر جیسے سفید کپڑا میل سے پاک ہوتا ہے۔ اے اللہ! میرے گناہوں کو پانی، برف اور اولے سے دھو ڈال۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْكُتُ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَبَيْنَ الْقِرَاءَةِ إِسْكَاتَةً ـ قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ هُنَيَّةً ـ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِسْكَاتُكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ مَا تَقُولُ قَالَ " أَقُولُ اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَاىَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَاىَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ ".
#745
Narrated Asma' bint Abi Bakr:The Prophet (ﷺ) once offered the eclipse prayer. He stood for a long time and then did a prolonged bowing. He stood up straight again and kept on standing for a long time, then bowed a long bowing and then stood up straight and then prostrated a prolonged prostration and then lifted his head and prostrated a prolonged prostration. And then he stood up for a long time and then did a prolonged bowing and then stood up straight again and kept on standing for a long time. Then he bowed a long bowing and then stood up straight and then prostrated a prolonged prostration and then lifted his head and went for a prolonged prostration. On completion of the prayer, he said, "Paradise became so near to me that if I had dared, I would have plucked one of its bunches for you and Hell became so near to me that I said, 'O my Lord will I be among those people?' Then suddenly I saw a woman and a cat was lacerating her with its claws. On inquiring, it was said that the woman had imprisoned the cat till it died of starvation and she neither fed it nor freed it so that it could feed itself
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں نافع بن عمر نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے اسماء بنت ابی بکر سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گہن کی نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کھڑے ہوئے تو دیر تک کھڑے رہے پھر رکوع میں گئے تو دیر تک رکوع میں رہے۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا تو دیر تک کھڑے ہی رہے۔ پھر ( دوبارہ ) رکوع میں گئے اور دیر تک رکوع کی حالت میں رہے اور پھر سر اٹھایا، پھر سجدہ کیا اور دیر تک سجدہ میں رہے۔ پھر سر اٹھایا اور پھر سجدہ کیا اور دیر تک سجدہ میں رہے پھر کھڑے ہوئے اور دیر تک کھڑے ہی رہے۔ پھر رکوع کیا اور دیر تک رکوع میں رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور دیر تک کھڑے رہے۔ پھر ( دوبارہ ) رکوع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک رکوع کی حالت میں رہے۔ پھر سر اٹھایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں چلے گئے اور دیر تک سجدہ میں رہے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ جنت مجھ سے اتنی نزدیک ہو گئی تھی کہ اگر میں چاہتا تو اس کے خوشوں میں سے کوئی خوشہ تم کو توڑ کر لا دیتا اور مجھ سے دوزخ بھی اتنی قریب ہو گئی تھی کہ میں بول پڑا کہ میرے مالک میں تو اس میں سے نہیں ہوں؟ میں نے وہاں ایک عورت کو دیکھا۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ مجھے خیال ہے کہ ابن ابی ملیکہ نے بتلایا کہ اس عورت کو ایک بلی نوچ رہی تھی، میں نے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے؟ جواب ملا کہ اس عورت نے اس بلی کو باندھے رکھا تھا تاآنکہ بھوک کی وجہ سے وہ مر گئی، نہ تو اس نے اسے کھانا دیا اور نہ چھوڑا کہ وہ خود کہیں سے کھا لیتی۔ نافع نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ ابن ابی ملیکہ نے یوں کہا کہ نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے وغیرہ کھا لیتی۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى صَلاَةَ الْكُسُوفِ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ " قَدْ دَنَتْ مِنِّي الْجَنَّةُ حَتَّى لَوِ اجْتَرَأْتُ عَلَيْهَا لَجِئْتُكُمْ بِقِطَافٍ مِنْ قِطَافِهَا، وَدَنَتْ مِنِّي النَّارُ حَتَّى قُلْتُ أَىْ رَبِّ وَأَنَا مَعَهُمْ فَإِذَا امْرَأَةٌ ـ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ ـ تَخْدِشُهَا هِرَّةٌ قُلْتُ مَا شَأْنُ هَذِهِ قَالُوا حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا، لاَ أَطْعَمَتْهَا، وَلاَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ ". قَالَ نَافِعٌ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ " مِنْ خَشِيشِ أَوْ خُشَاشِ الأَرْضِ ".
#746
Narrated Abu Ma`mar:We asked Khabbab whether Allah's Messenger (ﷺ) used to recite (the Qur'an) in the Zuhr and the `Asr prayers. He replied in the affirmative. We said, "How did you come to know about it?" He said, "By the movement of his beard
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے عمارہ بن عمیر سے بیان کیا، انہوں نے (عبداللہ بن مخبرہ) ابومعمر سے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ صحابی سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی رکعتوں میں ( فاتحہ کے سوا ) اور کچھ قرآت کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں۔ ہم نے عرض کی کہ آپ لوگ یہ بات کس طرح سمجھ جاتے تھے۔ فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کے ہلنے سے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قَالَ قُلْنَا لِخَبَّابٍ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَالَ نَعَمْ. قُلْنَا بِمَ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ ذَاكَ قَالَ بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ.
#747
Narrated Al-Bara:(And Al-Bara was not a liar) Whenever we offered prayer with the Prophet (ﷺ) and he raised his head from the bowing, we used to remain standing till we saw him prostrating
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابواسحاق عمرو بن عبداللہ سبیعی نے خبر دی، کہا کہ میں نے عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ سے سنا کہ آپ خطبہ دے رہے تھے۔ آپ نے بیان کیا کہ ہم سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور وہ جھوٹے نہیں تھے کہ جب وہ ( صحابہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع سے سر اٹھانے کے بعد اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک دیکھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں چلے گئے ہیں ( اس وقت وہ بھی سجدے میں جاتے ) ۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ، يَخْطُبُ قَالَ حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ، وَكَانَ، غَيْرَ كَذُوبٍ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا صَلَّوْا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامُوا قِيَامًا حَتَّى يَرَوْنَهُ قَدْ سَجَدَ.
#748
Narrated `Abdullah bin `Abbas:Once solar eclipse occurred during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ). He offered the eclipse prayer. His companions asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We saw you trying to take something while standing at your place and then we saw you retreating." The Prophet (ﷺ) said, "I was shown Paradise and wanted to have a bunch of fruit from it. Had I taken it, you would have eaten from it as long as the world remains
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے امام مالک نے زید بن اسلم سے بیان کیا، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سورج گہن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گہن کی نماز پڑھی۔ لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہم نے دیکھا کہ ( نماز میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے کچھ لینے کو آگے بڑھے تھے پھر ہم نے دیکھا کہ کچھ پیچھے ہٹے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جنت دیکھی تو اس میں سے ایک خوشہ لینا چاہا اور اگر میں لے لیتا تو اس وقت تک تم اسے کھاتے رہتے جب تک دنیا موجود ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى، قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلُ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ. قَالَ " إِنِّي أُرِيتُ الْجَنَّةَ، فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا، وَلَوْ أَخَذْتُهُ لأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا ".
#749
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) led us in prayer and then went up to the pulpit and beckoned with both hands towards the Qibla of the mosque and then said, "When I started leading you in prayer, I saw the display of Paradise and Hell on the wall of the mosque (facing the Qibla). I never saw good and bad as I have seen today." He repeated the last statement thrice
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہلال بن علی نے بیان کیا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے۔ آپ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو نماز پڑھائی۔ پھر منبر پر تشریف لائے اور اپنے ہاتھ سے قبلہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ ابھی جب میں نماز پڑھا رہا تھا تو جنت اور دوزخ کو اس دیوار پر دیکھا۔ اس کی تصویریں اس دیوار میں قبلہ کی طرف نمودار ہوئیں تو میں نے آج کی طرح خیر اور شر کبھی نہیں دیکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قول مذکور تین بار فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، قَالَ حَدَّثَنَا هِلاَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ صَلَّى لَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ رَقَا الْمِنْبَرَ، فَأَشَارَ بِيَدَيْهِ قِبَلَ قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ قَالَ " لَقَدْ رَأَيْتُ الآنَ مُنْذُ صَلَّيْتُ لَكُمُ الصَّلاَةَ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ مُمَثَّلَتَيْنِ فِي قِبْلَةِ هَذَا الْجِدَارِ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ " ثَلاَثًا.
#750
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) said, "What is wrong with those people who look towards the sky during the prayer?" His talk grew stern while delivering this speech and he said, "They should stop (looking towards the sky during the prayer); otherwise their eyesight would be taken away
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سعید بن مہران ابن ابی عروبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ لوگوں کا کیا حال ہے جو نماز میں اپنی نظریں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نہایت سختی سے روکا۔ یہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ اس حرکت سے باز آ جائیں ورنہ ان کی بینائی اچک لی جائے گی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُمْ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي صَلاَتِهِمْ ". فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى قَالَ " لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ ".