#676
Narrated Al-Aswad:That he asked `Aisha "What did the Prophet (ﷺ) use to do in his house?" She replied, "He used to keep himself busy serving his family and when it was the time for prayer he would go for it
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حکم بن عتبہ نے ابراہیم نخعی سے بیان کیا، انہوں نے اسود بن یزید سے، انہوں نے کہا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کیا کرتے تھے آپ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے کام کاج یعنی اپنے گھر والیوں کی خدمت کیا کرتے تھے اور جب نماز کا وقت ہوتا تو فوراً ( کام کاج چھوڑ کر ) نماز کے لیے چلے جاتے تھے۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ مَا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ قَالَتْ كَانَ يَكُونُ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ ـ تَعْنِي خِدْمَةَ أَهْلِهِ ـ فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ.
#677
Narrated Aiyub:Abu Qilaba said, "Malik bin Huwairith came to this Mosque of ours and said, 'I pray in front of you and my aim is not to lead the prayer but to show you the way in which the Prophet (ﷺ) used to pray.' " I asked Abu Qilaba, "How did he use to pray?' " He replied, "(The Prophet (ﷺ) used to pray) like this Sheikh of ours and the Sheikh used to sit for a while after the prostration, before getting up after the first rak`a
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب سختیانی نے ابوقلابہ عبداللہ بن زید سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مالک بن حویرث (صحابی) ایک دفعہ ہماری اس مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تم لوگوں کو نماز پڑھاؤں گا اور میری نیت نماز پڑھنے کی نہیں ہے، میرا مقصد صرف یہ ہے کہ تمہیں نماز کا وہ طریقہ سکھا دوں جس طریقہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا کرتے تھے۔ میں نے ابوقلابہ سے پوچھا کہ انہوں نے کس طرح نماز پڑھی تھی؟ انہوں نے بتلایا کہ ہمارے شیخ ( عمر بن سلمہ ) کی طرح۔ شیخ جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو ذرا بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہوتے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ جَاءَنَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ فِي مَسْجِدِنَا هَذَا فَقَالَ إِنِّي لأُصَلِّي بِكُمْ، وَمَا أُرِيدُ الصَّلاَةَ، أُصَلِّي كَيْفَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي. فَقُلْتُ لأَبِي قِلاَبَةَ كَيْفَ كَانَ يُصَلِّي قَالَ مِثْلَ شَيْخِنَا هَذَا. قَالَ وَكَانَ شَيْخًا يَجْلِسُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ قَبْلَ أَنْ يَنْهَضَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى.
#678
Narrated Abu Musa:"The Prophet (ﷺ) became sick and when his disease became aggravated, he said, "Tell Abu Bakr to lead the prayer." `Aisha said, "He is a softhearted man and would not be able to lead the prayer in your place." The Prophet (ﷺ) said again, "Tell Abu Bakr to lead the people in prayer." She repeated the same reply but he said, "Tell Abu Bakr to lead the people in prayer. You are the companions of Joseph." So the messenger went to Abu Bakr (with that order) and he led the people in prayer in the lifetime of the Prophet
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حسین بن علی بن ولید نے زائدہ بن قدامہ سے بیان کیا، انہوں نے عبدالملک بن عمیر سے، کہا کہ مجھ سے ابوبردہ عامر نے بیان کیا، انہوں نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے، آپ نے فرمایا کہ آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور جب بیماری شدت اختیار کر گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر ( رضی اللہ عنہ ) سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا بولیں کہ وہ نرم دل ہیں جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان کے لیے نماز پڑھانا مشکل ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پھر وہی بات کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ نماز پڑھائیں، تم لوگ صواحب یوسف ( زلیخا ) کی طرح ( باتیں بناتی ) ہو۔ آخر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آدمی بلانے آیا اور آپ نے لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی نماز پڑھائی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ مَرِضَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ فَقَالَ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ". قَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّهُ رَجُلٌ رَقِيقٌ، إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ. قَالَ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " فَعَادَتْ فَقَالَ " مُرِي أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ ". فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
#679
Narrated `Aisha:the mother of the believers: Allah's Messenger (ﷺ) in his illness said, "Tell Abu Bakr to lead the people in prayer." I said to him, "If Abu Bakr stands in your place, the people would not hear him owing to his (excessive) weeping. So please order `Umar to lead the prayer." `Aisha added I said to Hafsa, "Say to him: If Abu Bakr should lead the people in the prayer in your place, the people would not be able to hear him owing to his weeping; so please, order `Umar to lead the prayer." Hafsa did so but Allah's Apostle said, "Keep quiet! You are verily the Companions of Joseph. Tell Abu Bakr to lead the people in the prayer. " Hafsa said to `Aisha, "I never got anything good from you
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے ہشام بن عروہ سے خبر دی، انہوں نے اپنے باپ عروہ بن زبیر سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری میں فرمایا کہ ابوبکر ( رضی اللہ عنہ ) سے نماز پڑھانے کے لیے کہو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ ابوبکر آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو روتے روتے وہ ( قرآن مجید ) سنا نہ سکیں گے، اس لیے آپ عمر رضی اللہ عنہ سے کہئے کہ وہ نماز پڑھائیں۔ آپ فرماتی تھیں کہ میں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ وہ بھی کہیں کہ اگر ابوبکر آپ کی جگہ کھڑے ہوئے تو روتے روتے لوگوں کو ( قرآن ) نہ سنا سکیں گے۔ اس لیے عمر رضی اللہ عنہ سے کہئے کہ وہ نماز پڑھائیں۔ حفصہ رضی اللہ عنہا ( ام المؤمنین اور عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ) نے بھی اسی طرح کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خاموش رہو۔ تم صواحب یوسف کی طرح ہو۔ ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ پس حفصہ رضی اللہ عنہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا۔ بھلا مجھ کو کہیں تم سے بھلائی پہنچ سکتی ہے؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي مَرَضِهِ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ". قَالَتْ عَائِشَةُ قُلْتُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ. فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ. فَفَعَلَتْ حَفْصَةُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَهْ، إِنَّكُنَّ لأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ ". فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ مَا كُنْتُ لأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًا.
#680
Narrated Az-Zuhri:Anas bin Malik Al-Ansari, told me, "Abu Bakr used to lead the people in prayer during the fatal illness of the Prophet (ﷺ) till it was Monday. When the people aligned (in rows) for the prayer the Prophet (ﷺ) lifted the curtain of his house and started looking at us and was standing at that time. His face was (glittering) like a page of the Qur'an and he smiled cheerfully. We were about to be put to trial for the pleasure of seeing the Prophet, Abu Bakr retreated to join the row as he thought that the Prophet (ﷺ) would lead the prayer. The Prophet (ﷺ) beckoned us to complete the prayer and he let the curtain fall. On the same day he died
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے خبر دی، کہا کہ مجھے انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ نے خبر دی…. آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والے، آپ کے خادم اور صحابی تھے…. کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الموت میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز پڑھاتے تھے۔ پیر کے دن جب لوگ نماز میں صف باندھے کھڑے ہوئے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجرہ کا پردہ ہٹائے کھڑے ہوئے، ہماری طرف دیکھ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک ( حسن و جمال اور صفائی میں ) گویا مصحف کا ورق تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا کر ہنسنے لگے۔ ہمیں اتنی خوشی ہوئی کہ خطرہ ہو گیا کہ کہیں ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے ہی میں نہ مشغول ہو جائیں اور نماز توڑ دیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ الٹے پاؤں پیچھے ہٹ کر صف کے ساتھ آ ملنا چاہتے تھے۔ انہوں نے سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لا رہے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اشارہ کیا کہ نماز پوری کر لو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ڈال دیا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اسی دن ہو گئی۔ ( «اناللہ و انا الیہ راجعون»)
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الأَنْصَارِيُّ ـ وَكَانَ تَبِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَخَدَمَهُ وَصَحِبَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الاِثْنَيْنِ وَهُمْ صُفُوفٌ فِي الصَّلاَةِ، فَكَشَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سِتْرَ الْحُجْرَةِ يَنْظُرُ إِلَيْنَا، وَهْوَ قَائِمٌ كَأَنَّ وَجْهَهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ، ثُمَّ تَبَسَّمَ يَضْحَكُ، فَهَمَمْنَا أَنْ نَفْتَتِنَ مِنَ الْفَرَحِ بِرُؤْيَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ، وَظَنَّ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَارِجٌ إِلَى الصَّلاَةِ، فَأَشَارَ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَتِمُّوا صَلاَتَكُمْ، وَأَرْخَى السِّتْرَ، فَتُوُفِّيَ مِنْ يَوْمِهِ.
#681
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) did not come out for three days. The people stood for the prayer and Abu Bakr went ahead to lead the prayer. (In the meantime) the Prophet (ﷺ) caught hold of the curtain and lifted it. When the face of the Prophet (ﷺ) appeared we had never seen a scene more pleasing than the face of the Prophet (ﷺ) as it appeared then. The Prophet (ﷺ) beckoned to Abu Bakr to lead the people in the prayer and then let the curtain fall. We did not see him (again) till he died
ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمر منقری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا۔ کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، آپ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( ایام بیماری میں ) تین دن تک باہر تشریف نہیں لائے۔ ان ہی دنوں میں ایک دن نماز قائم کی گئی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھنے کو تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حجرہ مبارک کا ) پردہ اٹھایا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دکھائی دیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے پاک و مبارک سے زیادہ حسین منظر ہم نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ( قربان اس حسن و جمال کے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھنے کے لیے اشارہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ گرا دیا اور اس کے بعد وفات تک کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے پر قادر نہ ہو سکا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَمْ يَخْرُجِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثًا، فَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَقَدَّمُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْحِجَابِ فَرَفَعَهُ، فَلَمَّا وَضَحَ وَجْهُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا نَظَرْنَا مَنْظَرًا كَانَ أَعْجَبَ إِلَيْنَا مِنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ وَضَحَ لَنَا، فَأَوْمَأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَتَقَدَّمَ، وَأَرْخَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْحِجَابَ، فَلَمْ يُقْدَرْ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَ.
#682
Narrated Hamza bin `Abdullah:My father said, "When Allah's Messenger (ﷺ) became seriously ill, he was told about the prayer. He said, 'Tell Abu Bakr to lead the people in the prayer.' `Aisha said, 'Abu Bakr is a softhearted man and he would be overpowered by his weeping if he recited the Qur'an.' He said to them, 'Tell him (Abu Bakr) to lead the prayer. The same reply was given to him. He said again, 'Tell him to lead the prayer. You (women) are the companions of Joseph
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یونس بن یزید ایلی نے ابن شہاب سے بیان کیا، انہوں نے حمزہ بن عبداللہ سے، انہوں نے اپنے باپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدت اختیار کر گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے لیے کہا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ ابوبکر کچے دل کے آدمی ہیں۔ جب وہ قرآن مجید پڑھتے ہیں تو بہت رونے لگتے ہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان ہی سے کہو کہ نماز پڑھائیں۔ دوبارہ انہوں نے پھر وہی عذر دہرایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ ان سے نماز پڑھانے کے لیے کہو۔ تم تو بالکل صواحب یوسف کی طرح ہو۔ اس حدیث کی متابعت محمد بن ولید زبیدی اور زہری کے بھتیجے اور اسحاق بن یحییٰ کلبی نے زہری سے کی ہے اور عقیل اور معمر نے زہری سے، انہوں نے حمزہ بن عبداللہ بن عمر سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَعُهُ قِيلَ لَهُ فِي الصَّلاَةِ فَقَالَ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ". قَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ، إِذَا قَرَأَ غَلَبَهُ الْبُكَاءُ. قَالَ " مُرُوهُ فَيُصَلِّي " فَعَاوَدَتْهُ. قَالَ " مُرُوهُ فَيُصَلِّي، إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ ". تَابَعَهُ الزُّبَيْدِيُّ وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى الْكَلْبِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ. وَقَالَ عُقَيْلٌ وَمَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حَمْزَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
#683
Narrated Hisham ibn `Urwa's father:`Aisha said, "Allah's Messenger (ﷺ) ordered Abu Bakr to lead the people in the prayer during his illness and so he led them in prayer." `Urwa, a sub narrator, added, "Allah's Messenger (ﷺ) felt a bit relieved and came out and Abu Bakr was leading the people. When Abu Bakr saw the Prophet (ﷺ) he retreated but the Prophet beckoned him to remain there. Allah's Messenger (ﷺ) sat beside Abu Bakr. Abu Bakr was following the prayer of Allah's Messenger (ﷺ) and the people were following the prayer of Abu Bakr
ہم سے زکریا بن یحییٰ بلخی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد عروہ سے خبر دی، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے۔ آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری میں حکم دیا کہ ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ اس لیے آپ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے۔ عروہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے آپ کو کچھ ہلکا پایا اور باہر تشریف لائے۔ اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے۔ انہوں نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنا چاہا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے انہیں اپنی جگہ قائم رہنے کا حکم فرمایا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بازو میں بیٹھ گئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی پیروی کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ، فَكَانَ يُصَلِّي بِهِمْ. قَالَ عُرْوَةُ فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَفْسِهِ خِفَّةً، فَخَرَجَ فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ اسْتَأْخَرَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنْ كَمَا أَنْتَ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِذَاءَ أَبِي بَكْرٍ إِلَى جَنْبِهِ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ.
#684
Narrated Sahl bin Sa`d As-Sa`idi:Allah's Messenger (ﷺ) went to establish peace among Bani `Amr bin `Auf. In the meantime the time of prayer was due and the Mu'adh-dhin went to Abu Bakr and said, "Will you lead the prayer, so that I may pronounce the Iqama?" Abu Bakr replied in the affirmative and led the prayer. Allah's Messenger (ﷺ) came while the people were still praying and he entered the rows of the praying people till he stood in the (first row). The people clapped their hands. Abu Bakr never glanced sideways in his prayer but when the people continued clapping, Abu Bakr looked and saw Allah's Messenger (ﷺ). Allah's Messenger (ﷺ) beckoned him to stay at his place. Abu Bakr raised his hands and thanked Allah for that order of Allah's Messenger (ﷺ) and then he retreated till he reached the first row. Allah's Messenger (ﷺ) went forward and led the prayer. When Allah's Messenger (ﷺ) finished the prayer, he said, "O Abu Bakr! What prevented you from staying when I ordered you to do so?" Abu Bakr replied, "How can Ibn Abi Quhafa (Abu Bakr) dare to lead the prayer in the presence of Allah's Messenger (ﷺ)?" Then Allah's Messenger (ﷺ) said, "Why did you clap so much? If something happens to anyone during his prayer he should say Subhan Allah. If he says so he will be attended to, for clapping is for women
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابوحازم سلمہ بن دینار سے خبر دی، انہوں نے سہل بن سعد ساعدی (صحابی رضی اللہ عنہ) سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی عمرو بن عوف میں ( قباء میں ) صلح کرانے کے لیے گئے، پس نماز کا وقت آ گیا۔ مؤذن ( بلال رضی اللہ عنہ نے ) ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آ کر کہا کہ کیا آپ نماز پڑھائیں گے۔ میں تکبیر کہوں۔ ابوبکر رضی اللہ نے فرمایا کہ ہاں چنانچہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کر دی۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو لوگ نماز میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں سے گزر کر پہلی صف میں پہنچے۔ لوگوں نے ایک ہاتھ کو دوسرے پر مارا ( تاکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر آگاہ ہو جائیں ) لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں کسی طرف توجہ نہیں دیتے تھے۔ جب لوگوں نے متواتر ہاتھ پر ہاتھ مارنا شروع کیا تو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ متوجہ ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے انہیں اپنی جگہ رہنے کے لیے کہا۔ ( کہ نماز پڑھائے جاؤ ) لیکن انہوں نے اپنے ہاتھ اٹھا کر اللہ کا شکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو امامت کا اعزاز بخشا، پھر بھی وہ پیچھے ہٹ گئے اور صف میں شامل ہو گئے۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔ نماز سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر جب میں نے آپ کو حکم دے دیا تھا پھر آپ ثابت قدم کیوں نہ رہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے کہ ابوقحافہ کے بیٹے ( یعنی ابوبکر ) کی یہ حیثیت نہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نماز پڑھا سکیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ عجیب بات ہے۔ میں نے دیکھا کہ تم لوگ بکثرت تالیاں بجا رہے تھے۔ ( یاد رکھو ) اگر نماز میں کوئی بات پیش آ جائے تو سبحان اللہ کہنا چاہئے جب وہ یہ کہے گا تو اس کی طرف توجہ کی جائے گی اور یہ تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ فَحَانَتِ الصَّلاَةُ فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ أَتُصَلِّي لِلنَّاسِ فَأُقِيمَ قَالَ نَعَمْ. فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسُ فِي الصَّلاَةِ، فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ، فَصَفَّقَ النَّاسُ ـ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لاَ يَلْتَفِتُ فِي صَلاَتِهِ ـ فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ يَدَيْهِ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ " يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ ". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ مَا كَانَ لاِبْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيقَ مَنْ رَابَهُ شَىْءٌ فِي صَلاَتِهِ فَلْيُسَبِّحْ، فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ، وَإِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ ".
#685
Narrated Malik bin Huwairith:We went to the Prophet (ﷺ) and we were all young men and stayed with him for about twenty nights. The Prophet (ﷺ) was very merciful. He said, "When you return home, impart religious teachings to your families and tell them to offer perfectly such and such a prayer at such and such a time and such and such a prayer at such and such a time. And at the time of the prayer one of you should pronounce the Adhan and the oldest of you should lead the prayer
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں حماد بن زید نے خبر دی ایوب سختیانی سے، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ملک سے حاضر ہوئے۔ ہم سب ہم عمر نوجوان تھے۔ تقریباً بیس راتیں ہم آپ کی خدمت میں ٹھہرے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے ہی رحم دل تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ہماری غربت کا حال دیکھ کر ) فرمایا کہ جب تم لوگ اپنے گھروں کو جاؤ تو اپنے قبیلہ والوں کو دین کی باتیں بتانا اور ان سے نماز پڑھنے کے لیے کہنا کہ فلاں نماز فلاں وقت اور فلاں نماز فلاں وقت پڑھیں۔ اور جب نماز کا وقت ہو جائے تو کوئی ایک اذان دے اور جو عمر میں بڑا ہو وہ امامت کرائے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ شَبَبَةٌ، فَلَبِثْنَا عِنْدَهُ نَحْوًا مِنْ عِشْرِينَ لَيْلَةً، وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَحِيمًا فَقَالَ " لَوْ رَجَعْتُمْ إِلَى بِلاَدِكُمْ فَعَلَّمْتُمُوهُمْ، مُرُوهُمْ فَلْيُصَلُّوا صَلاَةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، وَصَلاَةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، وَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ ".
#686
Narrated `Itban bin Malik Al-Ansari:The Prophet (came to my house and) asked permission for entering and I allowed him. He asked, "Where do you like me to pray in your house?" I pointed to a place which I liked. He stood up for prayer and we aligned behind him and he finished the prayer with Taslim and we did the same
ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا کہ ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی، کہا کہ مجھے محمود بن ربیع نے خبر دی، کہا کہ میں نے عتبان بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میرے گھر تشریف لانے کی ) اجازت چاہی اور میں نے آپ کو اجازت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم لوگ اپنے گھر میں جس جگہ پسند کرو میں نماز پڑھ دوں میں جہاں چاہتا تھا اس کی طرف میں نے اشارہ کیا۔ پھر آپ کھڑے ہو گئے اور ہم نے آپ کے پیچھے صف باندھ لی۔ پھر آپ نے جب سلام پھیرا تو ہم نے بھی سلام پھیرا۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ سَمِعْتُ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ الأَنْصَارِيَّ، قَالَ اسْتَأْذَنَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَذِنْتُ لَهُ فَقَالَ " أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ ". فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أُحِبُّ، فَقَامَ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا.
#687
Narrated 'Ubaidullah Ibn `Abdullah bin `Utba:I went to `Aisha and asked her to describe to me the illness of Allah's Messenger (ﷺ). `Aisha said, "Yes. The Prophet became seriously ill and asked whether the people had prayed. We replied, 'No. O Allah's Apostle! They are waiting for you.' He added, 'Put water for me in a trough." `Aisha added, "We did so. He took a bath and tried to get up but fainted. When he recovered, he again asked whether the people had prayed. We said, 'No, they are waiting for you. O Allah's Messenger (ﷺ),' He again said, 'Put water in a trough for me.' He sat down and took a bath and tried to get up but fainted again. Then he recovered and said, 'Have the people prayed?' We replied, 'No, they are waiting for you. O Allah's Apostle.' He said, 'Put water for me in the trough.' Then he sat down and washed himself and tried to get up but he fainted. When he recovered, he asked, 'Have the people prayed?' We said, 'No, they are waiting for you. O Allah's Messenger (ﷺ)! The people were in the mosque waiting for the Prophet (ﷺ) for the `Isha prayer. The Prophet (ﷺ) sent for Abu Bakr to lead the people in the prayer. The messenger went to Abu Bakr and said, 'Allah's Messenger (ﷺ) orders you to lead the people in the prayer.' Abu Bakr was a softhearted man, so he asked `Umar to lead the prayer but `Umar replied, 'You are more rightful.' So Abu Bakr led the prayer in those days. When the Prophet (ﷺ) felt a bit better, he came out for the Zuhr prayer with the help of two persons one of whom was Al-`Abbas. while Abu Bakr was leading the people in the prayer. When Abu Bakr saw him he wanted to retreat but the Prophet (ﷺ) beckoned him not to do so and asked them to make him sit beside Abu Bakr and they did so. Abu Bakr was following the Prophet (in the prayer) and the people were following Abu Bakr. The Prophet (prayed) sitting." 'Ubaidullah added "I went to `Abdullah bin `Abbas and asked him, Shall I tell you what Aisha has told me about the fatal illness of the Prophet?' Ibn `Abbas said, 'Go ahead. I told him her narration and he did not deny anything of it but asked whether `Aisha told me the name of the second person (who helped the Prophet (ﷺ) ) along with Al-Abbas. I said. 'No.' He said, 'He was `Ali (Ibn Abi Talib)
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں زائدہ بن قدامہ نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے خبر دی، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، انہوں نے کہا کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا، کاش! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی حالت آپ ہم سے بیان کرتیں، ( تو اچھا ہوتا ) انہوں نے فرمایا کہ ہاں ضرور سن لو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض بڑھ گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے عرض کی جی نہیں یا رسول اللہ! لوگ آپ کا انتظام کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے لیے ایک لگن میں پانی رکھ دو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ہم نے پانی رکھ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر غسل کیا۔ پھر آپ اٹھنے لگے، لیکن آپ بیہوش ہو گئے۔ جب ہوش ہوا تو پھر آپ نے پوچھا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے۔ ہم نے عرض کی نہیں، یا رسول اللہ! لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پھر ) فرمایا کہ لگن میں میرے لیے پانی رکھ دو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے پھر پانی رکھ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر غسل فرمایا۔ پھر اٹھنے کی کوشش کی لیکن ( دوبارہ ) پھر آپ بیہوش ہو گئے۔ جب ہوش ہوا تو آپ نے پھر یہی فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے۔ ہم نے عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ! لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ لگن میں پانی لاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر غسل کیا۔ پھر اٹھنے کی کوشش کی، لیکن پھر آپ بیہوش ہو گئے۔ پھر جب ہوش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہم نے عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ لوگ مسجد میں عشاء کی نماز کے لیے بیٹھے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آدمی بھیجا اور حکم فرمایا کہ وہ نماز پڑھا دیں۔ بھیجے ہوئے شخص نے آ کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو نماز پڑھانے کے لیے حکم فرمایا ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بڑے نرم دل انسان تھے۔ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم نماز پڑھاؤ، لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں۔ آخر ( بیماری ) کے دنوں میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھاتے رہے۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مزاج کچھ ہلکا معلوم ہوا تو دو مردوں کا سہارا لے کر جن میں ایک عباس رضی اللہ عنہ تھے ظہر کی نماز کے لیے گھر سے باہر تشریف لائے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے، جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنا چاہا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے انہیں روکا کہ پیچھے نہ ہٹو! پھر آپ نے ان دونوں مردوں سے فرمایا کہ مجھے ابوبکر کے بازو میں بٹھا دو۔ چنانچہ دونوں نے آپ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بازو میں بٹھا دیا۔ راوی نے کہا کہ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کر رہے تھے اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی پیروی کر رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے بیٹھے نماز پڑھ رہے تھے۔ عبیداللہ نے کہا کہ پھر میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں گیا اور ان سے عرض کی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں جو حدیث بیان کی ہے کیا میں وہ آپ کو سناؤں؟ انہوں نے فرمایا کہ ضرور سناؤ۔ میں نے یہ حدیث سنا دی۔ انہوں نے کسی بات کا انکار نہیں کیا۔ صرف اتنا کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان صاحب کا نام بھی تم کو بتایا جو عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ میں نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا وہ علی رضی اللہ عنہ تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ أَلاَ تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ بَلَى، ثَقُلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَصَلَّى النَّاسُ ". قُلْنَا لاَ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ. قَالَ " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ ". قَالَتْ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ فَذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ صلى الله عليه وسلم " أَصَلَّى النَّاسُ ". قُلْنَا لاَ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ ". قَالَتْ فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ " أَصَلَّى النَّاسُ ". قُلْنَا لاَ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ "، فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ " أَصَلَّى النَّاسُ ". فَقُلْنَا لاَ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ـ وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ لِصَلاَةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ ـ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى أَبِي بَكْرٍ بِأَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ـ وَكَانَ رَجُلاً رَقِيقًا ـ يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ. فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ. فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الأَيَّامَ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلاَةِ الظُّهْرِ، وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِأَنْ لاَ يَتَأَخَّرَ. قَالَ " أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ ". فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ. قَالَ فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي وَهْوَ يَأْتَمُّ بِصَلاَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسُ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ، وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَاعِدٌ. قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ أَلاَ أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ هَاتِ. فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَدِيثَهَا، فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قُلْتُ لاَ. قَالَ هُوَ عَلِيٌّ.
#688
Narrated Aisha:the mother of the believers: Allah's Messenger (ﷺ) during his illness prayed at his house while sitting whereas some people prayed behind him standing. The Prophet (ﷺ) beckoned them to sit down. On completion of the prayer, he said, 'The Imam is to be followed: bow when he bows, raise up your heads (stand erect) when he raises his head and when he says, 'Sami`a l-lahu liman hamidah' (Allah heard those who sent praises to Him) say then 'Rabbana wa laka l-hamd' (O our Lord! All the praises are for You), and if he prays sitting then pray sitting
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے ہشام بن عروہ سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے باپ عروہ سے انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ آپ نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ بیماری کی حالت میں میرے ہی گھر میں نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ اس لیے جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِهِ وَهْوَ شَاكٍ، فَصَلَّى جَالِسًا وَصَلَّى وَرَاءَهُ قَوْمٌ قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا ".
#689
Narrated Anas bin Malik:Once Allah's Messenger (ﷺ) rode a horse and fell down and the right side (of his body) was injured. He offered one of the prayers while sitting and we also prayed behind him sitting. When he completed the prayer, he said, "The Imam is to be followed. Pray standing if he prays standing and bow when he bows; rise when he rises; and if he says, 'Sami`a l-lahu-liman hamidah, say then, 'Rabbana wa laka lhamd' and pray standing if he prays standing and pray sitting (all of you) if he prays sitting." Humaid said: The saying of the Prophet (ﷺ) "Pray sitting, if he (Imam) prays sitting" was said in his former illness (during his early life) but the Prophet (ﷺ) prayed sitting afterwards (in the last illness) and the people were praying standing behind him and the Prophet (ﷺ) did not order them to sit. We should follow the latest actions of the Prophet
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سے گر پڑے۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں پہلو پر زخم آئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز پڑھی۔ جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر پڑھ رہے تھے۔ اس لیے ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا کہ امام اس لیے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے۔ اس لیے جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ جب وہ رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ اور جب وہ «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ حمیدی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول ”جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو۔“ کے متعلق کہا ہے کہ یہ ابتداء میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرانی بیماری کا واقعہ ہے۔ اس کے بعد آخری بیماری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بیٹھ کر نماز پڑھی تھی اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر اقتداء کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت لوگوں کو بیٹھنے کی ہدایت نہیں فرمائی اور اصل یہ ہے کہ جو فعل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری ہو اس کو لینا چاہئے اور پھر جو اس سے آخری ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ، فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ، فَصَلَّى صَلاَةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهْوَ قَاعِدٌ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ. وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ الْحُمَيْدِيُّ قَوْلُهُ " إِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا ". هُوَ فِي مَرَضِهِ الْقَدِيمِ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا وَالنَّاسُ خَلْفَهُ قِيَامًا، لَمْ يَأْمُرْهُمْ بِالْقُعُودِ، وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالآخِرِ فَالآخِرِ مِنْ فِعْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
#690
Narrated Abu 'Is-haq:As above
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، نَحْوَهُ بِهَذَا.
#691
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Isn't he who raises his head before the Imam afraid that Allah may transform his head into that of a donkey or his figure (face) into that of a donkey?
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن زیاد سے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں وہ شخص جو ( رکوع یا سجدہ میں ) امام سے پہلے اپنا سر اٹھا لیتا ہے اس بات سے نہیں ڈرتا کہ کہیں اللہ پاک اس کا سر گدھے کے سر کی طرح بنا دے یا اس کی صورت کو گدھے کی سی صورت بنا دے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَمَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ ـ أَوْ لاَ يَخْشَى أَحَدُكُمْ ـ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلَ الإِمَامِ أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ ".
#692
Narrated Ibn `Umar:When the earliest emigrants came to Al-`Usba [??] a place in Quba', before the arrival of the Prophet- Salim, the slave of Abu Hudhaifa, who knew the Qur'an more than the others used to lead them in prayer
ہم سے ابراہیم بن المنذر حزامی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا انہوں نے عبیداللہ عمری سے، انہوں نے نافع سے انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ جب پہلے مہاجرین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے بھی پہلے قباء کے مقام عصبہ میں پہنچے تو ان کی امامت ابوحذیفہ کے غلام سالم رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے۔ آپ کو قرآن مجید سب سے زیادہ یاد تھا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الأَوَّلُونَ الْعُصْبَةَ ـ مَوْضِعٌ بِقُبَاءٍ ـ قَبْلَ مَقْدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَؤُمُّهُمْ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا.
#693
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) said, "Listen and obey (your chief) even if an Ethiopian whose head is like a raisin were made your chief
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوالتیاح یزید بن حمید ضبعی نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اپنے حاکم کی ) سنو اور اطاعت کرو، خواہ ایک ایسا حبشی ( غلام تم پر ) کیوں نہ حاکم بنا دیا جائے جس کا سر سوکھے ہوئے انگور کے برابر ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا، وَإِنِ اسْتُعْمِلَ حَبَشِيٌّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ ".
#694
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "If the Imam leads the prayer correctly then he and you will receive the rewards but if he makes a mistake (in the prayer) then you will receive the reward for the prayer and the sin will be his
ہم سے فضل بن سہل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حسن بن موسیٰ اشیب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام لوگوں کو نماز پڑھاتے ہیں۔ پس اگر امام نے ٹھیک نماز پڑھائی تو اس کا ثواب تمہیں ملے گا اور اگر غلطی کی تو بھی ( تمہاری نماز کا ) ثواب تم کو ملے گا اور غلطی کا وبال ان پر رہے گا۔
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الأَشْيَبُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يُصَلُّونَ لَكُمْ، فَإِنْ أَصَابُوا فَلَكُمْ، وَإِنْ أَخْطَئُوا فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ ".
#695
Narrated 'Ubaid-Ullah bin Adi bin Khiyar:I went to 'Uthman bin Affan while he was besieged, and said to him, "You are the chief of all Muslims in general and you see what has befallen you. We are led in the Salat (prayer) by a leader of Al-Fitan (trials and afflictions etc.) and we are afraid of being sinful in following him." 'Uthman said. "As-Salat (the prayers) is the best of all deeds so when the people do good deeds do the same with them and when they do bad deeds, avoid those bad deeds." Az-Zuhri said, "In our opinion one should not offer Salat behind an effeminate person unless there is no alternative
امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے کہا کہ ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام زہری نے حمید بن عبدالرحمٰن سے نقل کیا۔ انہوں نے عبیداللہ بن عدی بن خیار سے کہ وہ خود عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ جب کہ باغیوں نے ان کو گھیر رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہی عام مسلمانوں کے امام ہیں مگر آپ پر جو مصیبت ہے وہ آپ کو معلوم ہے۔ ان حالات میں باغیوں کا مقررہ امام نماز پڑھا رہا ہے۔ ہم ڈرتے ہیں کہ اس کے پیچھے نماز پڑھ کر گنہگار نہ ہو جائیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا نماز تو جو لوگ کام کرتے ہیں ان کاموں میں سب سے بہترین کام ہے۔ تو وہ جب اچھا کام کریں تم بھی اس کے ساتھ مل کر اچھا کام کرو اور جب وہ برا کام کریں تو تم ان کی برائی سے الگ رہو اور محمد بن یزید زبیدی نے کہا کہ امام زہری نے فرمایا کہ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہیجڑے کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ مگر ایسی ہی لاچاری ہو تو اور بات ہے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو۔
قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ خِيَارٍ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ـ رضى الله عنه ـ وَهْوَ مَحْصُورٌ فَقَالَ إِنَّكَ إِمَامُ عَامَّةٍ، وَنَزَلَ بِكَ مَا تَرَى وَيُصَلِّي لَنَا إِمَامُ فِتْنَةٍ وَنَتَحَرَّجُ. فَقَالَ الصَّلاَةُ أَحْسَنُ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ، فَإِذَا أَحْسَنَ النَّاسُ فَأَحْسِنْ مَعَهُمْ، وَإِذَا أَسَاءُوا فَاجْتَنِبْ إِسَاءَتَهُمْ. وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ قَالَ الزُّهْرِيُّ لاَ نَرَى أَنْ يُصَلَّى خَلْفَ الْمُخَنَّثِ إِلاَّ مِنْ ضَرُورَةٍ لاَ بُدَّ مِنْهَا.
#696
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) said to Abu-Dhar, "Listen and obey (your chief) even if he is an Ethiopian with a head like a raisin
ہم سے محمد بن ابان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا شعبہ سے، انہوں نے ابوالتیاح سے، انہوں نے انس بن مالک سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوذر سے فرمایا ( حاکم کی ) سن اور اطاعت کر۔ خواہ وہ ایک ایسا حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو جس کا سر منقے کے برابر ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لأَبِي ذَرٍّ " اسْمَعْ وَأَطِعْ، وَلَوْ لِحَبَشِيٍّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ ".
#697
Narrated Ibn `Abbas:Once I passed the night in the house of my aunt Maimuna. Allah's Messenger (ﷺ) offered the `Isha' prayer and then came to the house and offered four rak`at and slept. Later on, he woke up and stood for the prayer and I stood on his left side. He drew me to his right and prayed five rak`at and then two. He then slept till I heard him snoring (or heard his breath sounds). Afterwards he went out for the morning prayer
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے حکم سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے کہ انہوں نے بتلایا کہ ایک رات میں اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر پر رہ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز کے بعد جب ان کے گھر تشریف لائے تو یہاں چار رکعت نماز پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے پھر نماز ( تہجد کے لیے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے ( اور نماز پڑھنے لگے ) تو میں بھی اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف کھڑا ہو گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی داہنی طرف کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعت نماز پڑھی۔ پھر دو رکعت ( سنت فجر ) پڑھ کر سو گئے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹے کی آواز بھی سنی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز کے لیے برآمد ہوئے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ ـ أَوْ قَالَ خَطِيطَهُ ـ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ.
#698
Narrated Ibn `Abbas:One night I slept at the house of (my aunt) Maimuna and the Prophet (ﷺ) was there on that night. He performed ablution and stood up for the prayer. I joined him and stood on his left side but he drew me to his right and prayed thirteen rak`at and then slept till I heard his breath sounds. And whenever he slept, he used to breathe with audible sounds. The Mu'adh-dhin came to the Prophet (ﷺ) and he went out and prayed the morning prayer) without repeating the ablution
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عمرو بن حارث مصری نے عبد ربہ بن سعید سے بیان کیا، انہوں نے مخرمہ بن سلیمان سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے۔ آپ نے بتلایا کہ میں ایک رات ام المؤمنین میمونہ کے ہاں سو گیا۔ اس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی وہیں سونے کی باری تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ کر دائیں طرف کر دیا۔ پھر تیرہ رکعت ( وتر سمیت ) نماز پڑھی اور سو گئے۔ یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سوتے تو خراٹے لیتے تھے۔ پھر مؤذن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد ( فجر کی ) نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ عمرو نے بیان کیا میں نے یہ حدیث بکیر بن عبداللہ کے سامنے بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ یہ حدیث مجھ سے کریب نے بھی بیان کی تھی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ نِمْتُ عِنْدَ مَيْمُونَةَ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ عَلَى يَسَارِهِ، فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ ـ وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ ـ ثُمَّ أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ، فَخَرَجَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ. قَالَ عَمْرٌو فَحَدَّثْتُ بِهِ بُكَيْرًا فَقَالَ حَدَّثَنِي كُرَيْبٌ بِذَلِكَ.
#699
Narrated Ibn `Abbas:Once I passed the night in the house of my aunt Maimuna. The Prophet (ﷺ) stood for the night prayer and I joined him and stood on his left side but he drew me to his right by holding me by the head
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سختیانی سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن سعید بن جبیر سے، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ آپ نے بتلایا کہ میں نے ایک دفعہ اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گذاری۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہو گیا۔ میں ( غلطی سے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا سر پکڑ کے دائیں طرف کر دیا۔ ( تاکہ صحیح طور پر کھڑا ہو جاؤں ) ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَقُمْتُ أُصَلِّي مَعَهُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَ بِرَأْسِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ.
#700
Narrated Mu`adh bin Jabal:I used to pray the `Isha prayer with the Prophet (ﷺ) and then go to lead my people in the prayer
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے عمرو بن دینار سے بیان کیا، انہوں نے جابر بن عبداللہ سے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے پھر واپس آ کر اپنی قوم کی امامت کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، كَانَ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ.