#6751
Narrated `Aisha:I bought Barira (a female slave). The Prophet (ﷺ) said (to me), "Buy her as the Wala' is for the manumitted." Once she was given a sheep (in charity). The Prophet (ﷺ) said, "It (the sheep) is a charitable gift for her (Barira) and a gift for us." Al-Hakam said, "Barira's husband was a free man." Ibn `Abbas said, 'When I saw him, he was a slave
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے بریرہ رضی اللہ عنہ کو خریدنا چاہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں خرید لے، ولاء تو اس کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کر دے اور بریرہ رضی اللہ عنہ کو ایک بکری ملی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کے لیے صدقہ تھی لیکن ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ حکم نے بیان کیا کہ ان کے شوہر آزاد تھے۔ حکم کا قول مرسل منقول ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے انہیں غلام دیکھا تھا۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اشْتَرِيهَا، فَإِنَّ الْوَلاَءَ لِمَنْ أَعْتَقَ ". وَأُهْدِيَ لَهَا شَاةٌ فَقَالَ " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ ". قَالَ الْحَكَمُ وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا، وَقَوْلُ الْحَكَمِ مُرْسَلٌ. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَأَيْتُهُ عَبْدًا.
#6752
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "The Wala' is for the manumitted (of the slave)
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ولاء اسی کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کر دے۔“
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ".
#6753
Narrated `Abdullah:The Muslims did not free slaves as Sa'iba, but the People of the Pre-Islamic Period of Ignorance used to do so
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوقیس نے، ان سے ہزیل نے انہوں نے عبداللہ سے نقل کیا، انہوں نے فرمایا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا مسلمان سائبہ نہیں بناتے اور دور جاہلیت میں مشرکین سائبہ بناتے تھے۔
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ إِنَّ أَهْلَ الإِسْلاَمِ لا يُسَيِّبُونَ، وَإِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يُسَيِّبُونَ.
#6754
Narrated Al-Aswad:`Aisha bought Barira in order to manumit her, but her masters stipulated that her Wala' (after her death) would be for them. `Aisha said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have bought Barira in order to manumit her, but her masters stipulated that her Wala' will be for them." The Prophet (ﷺ) said, "Manumit her as the Wala is for the one who manumits (the slave)," or said, "The one who pays her price." Then `Aisha bought and manumitted her. After that, Barira was given the choice (by the Prophet) (to stay with her husband or leave him). She said, "If he gave me so much and so much (money) I would not stay with him." (Al-Aswad added: Her husband was a free man.) The sub-narrator added: The series of the narrators of Al-Aswad's statement is incomplete. The statement of Ibn `Abbas, i.e., when I saw him he was a slave, is more authentic
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ بریرہ کو انہوں نے آزاد کرنے کے لیے خریدنا چاہا لیکن ان کے نائکوں نے اپنے ولاء کی شرط لگا دی عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ! میں نے آزاد کرنے کے لیے بریرہ کو خریدنا چاہا لیکن ان کے مالکوں نے اپنے لیے ان کی ولاء کی شرط لگا دی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں آزاد کر دے، ولاء تو آزاد کرنے والے کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔ بیان کیا کہ پھر میں نے انہیں خریدا اور آزاد کر دیا اور میں نے بریرہ کو اختیار دیا ( کہ چاہیں تو شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہیں ورنہ علیحدہ بھی ہو سکتی ہیں ) تو انہوں نے شوہر سے علیحدگی کو پسند کیا اور کہا کہ مجھے اتنا اتنا مال بھی دیا جائے تو میں پہلے شوہر کے ساتھ نہیں رہوں گی۔ اسود نے بیان کیا کہ ان کے شوہر آزاد تھے۔ اسود کا قول منقطع ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول صحیح ہے کہ میں نے انہیں غلام دیکھا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ، لِتُعْتِقَهَا، وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلاَءَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ لأُعْتِقَهَا، وَإِنَّ أَهْلَهَا يَشْتَرِطُونَ وَلاَءَهَا. فَقَالَ " أَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ". أَوْ قَالَ " أَعْطَى الثَّمَنَ ". قَالَ فَاشْتَرَتْهَا فَأَعْتَقَتْهَا. قَالَ وَخُيِّرَتْ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا وَقَالَتْ لَوْ أُعْطِيتُ كَذَا وَكَذَا مَا كُنْتُ مَعَهُ. قَالَ الأَسْوَدُ وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا. قَوْلُ الأَسْوَدِ مُنْقَطِعٌ، وَقَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَأَيْتُهُ عَبْدًا. أَصَحُّ.
#6755
Narrated `Ali:We have no Book to recite except the Book of Allah (Qur'an) and this paper. Then `Ali took out the paper, and behold ! There was written in it, legal verdicts about the retaliation for wounds, the ages of the camels (to be paid as Zakat or as blood money). In it was also written: 'Medina is a sanctuary from Air (mountain) to Thaur (mountain). So whoever innovates in it an heresy (something new in religion) or commits a crime in it or gives shelter to such an innovator, will incur the curse of Allah, the angels and all the people, and none of his compulsory or optional good deeds will be accepted on the Day of Resurrection. And whoever (a freed slave) takes as his master (i.e. be-friends) some people other than hi real masters without the permission of his real masters, will incur the curse of Allah, the angels and all the people, and none of his compulsory, or optional good deeds will be accepted on the Day of Resurrection. And the asylum granted by any Muslim is to be secured by all the Muslims, even if it is granted by one of the lowest social status among them; and whoever betrays a Muslim, in this respect will incur the curse of Allah, the angels, and all the people, and none of his Compulsory or optional good deeds will be accepted on the Day of Resurrection
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ ہمارے پاس کوئی کتاب نہیں ہے جسے ہم پڑھیں، سوا اللہ کی کتاب قرآن کے اور اس کے علاوہ یہ صحیفہ بھی ہے۔ بیان کیا کہ پھر وہ صحیفہ نکالا تو اس میں زخموں ( کے قصاص ) اور اونٹوں کی زکوٰۃ کے مسائل تھے۔ راوی نے بیان کیا کہ اس میں یہ بھی تھا کے عیر سے ثور تک مدینہ حرم ہے جس نے اس دین میں کوئی نئی بات پیدا کی یا نئی بات کرنے والے کو پناہ دی تو اس پر اللہ اور فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے اور قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل مقبول نہ ہو گا اور جس نے اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر دوسرے لوگوں سے مولات قائم کر لی تو اس پر فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے، قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل مقبول نہ ہو گا اور مسلمانوں کا ذمہ ( قول و قرار، کسی کو پناہ دینا وغیرہ ) ایک ہے۔ ایک ادنی مسلمان کے پناہ دینے کو بھی قائم رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ پس جس نے کسی مسلمان کی دی ہوئی پناہ کو توڑا، اس پر اللہ کی، فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل قبول نہیں کیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ عَلِيٌّ ـ رضى الله عنه مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ إِلاَّ كِتَابُ اللَّهِ، غَيْرَ هَذِهِ الصَّحِيفَةِ. قَالَ فَأَخْرَجَهَا فَإِذَا فِيهَا أَشْيَاءُ مِنَ الْجِرَاحَاتِ وَأَسْنَانِ الإِبِلِ. قَالَ وَفِيهَا الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ، وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ، يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ.
#6756
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) forbade the selling of the Wala' (of slaves) or giving it as a present
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کے تعلق کو بیچنے، اس کو ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الْوَلاَءِ وَعَنْ هِبَتِهِ.
#6757
Narrated Ibn `Umar:That Aisha, the mother of the Believers, intended to buy a slave girl in order to manumit her. The slave girl's master said, "We are ready to sell her to you on the condition that her Wala should be for us." Aisha mentioned that to Allah's Messenger (ﷺ) who said, "This (condition) should not prevent you from buying her, for the Wala is for the one who manumits (the slave)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک کنیز کو آزاد کرنے کے لیے خریدنا چاہا تو کنیز کے مالکوں نے کہا کہ ہم بیچ سکتے ہیں لیکن ولاء ہمارے ساتھ ہو گی۔ ام المؤمنین نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شرط کو مانع نہ بننے دو، ولاء ہمیشہ اسی کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا فَقَالَ أَهْلُهَا نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلاَءَهَا لَنَا. فَذَكَرَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لاَ يَمْنَعُكِ ذَلِكِ، فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ".
#6758
Narrated Al-Aswad:Aisha said, "I bought Barira and her masters stipulated that the Wala would be for them." Aisha mentioned that to the Prophet (ﷺ) and he said, "Manumit her, as the Wala is for the one who gives the silver (i.e. pays the price for freeing the slave)." Aisha added, "So I manumitted her. After that, the Prophet caller her (Barira) and gave her the choice to go back to her husband or not. She said, "If he gave me so much and so much (money) I would not stay with him." So she selected her ownself (i.e. refused to go back to her husband)
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو جریر نے خبر دی، انہیں منصور نے، انہیں ابراہیم نے، انہیں اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے بریرہ کو خریدنا چاہا تو ان کے مالکوں نے شرط لگائی کہ ولاء ان کے ساتھ قائم ہو گی۔ میں نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں آزاد کر دو، ولاء قیمت ادا کرنے والے ہی کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔ بیان کیا کہ پھر میں نے آزاد کر دیا۔ پھر انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور ان کے شوہر کے معاملہ میں اختیار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجھے یہ یہ چیزیں بھی وہ دیدے تو میں اس کے ساتھ رات گزارنے کے لیے تیار نہیں۔ چنانچہ اس نے شوہر سے علیحدگی کو پسند کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلاَءَهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَعْتِقِيهَا فَإِنَّ الْوَلاَءَ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ ". قَالَتْ فَأَعْتَقْتُهَا ـ قَالَتْ ـ فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا فَقَالَتْ لَوْ أَعْطَانِي كَذَا وَكَذَا مَا بِتُّ عِنْدَهُ. فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا.
#6759
Narrated Ibn `Umar:When Aisha intended to buy Barira, she said to the Prophet, "Barira's masters stipulated that they will have the Wala." The Prophet (ﷺ) said (to Aisha), "Buy her, as the Wala is for the one who manumits
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدنا چاہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یہ لوگ ولاء کی شرط لگاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خرید لو، ولاء تو اسی کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے ( آزاد کرائے ) ۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَرَادَتْ عَائِشَةُ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَقَالَتْ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّهُمْ يَشْتَرِطُونَ الْوَلاَءَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اشْتَرِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ".
#6760
Narrated Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The wala is for the one who gives the silver (pays the price) and does the favor (of manumission after paying the price)
ہم سے ابن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو وکیع نے خبر دی، انہیں سفیان نے، انہیں منصور نے، انہیں ابراہیم نے، انہیں اسود نے، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ولاء اس کے ساتھ قائم ہو گی جو قیمت دے اور احسان کرے ( آزاد کر کے)
حَدَّثَنَا ابْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ، وَوَلِيَ النِّعْمَةَ ".
#6761
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) said, "The freed slave belongs to the people who have freed him," or said something similar
ہم سے آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے معاویہ بن قرہ اور قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی گھرانے کا غلام اسی کا ایک فرد ہوتا ہے“ «أو كما قال.» ۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ، وَقَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ". أَوْ كَمَا قَالَ.
#6762
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) said, "The son of the sister of some people is from them or from their own selves
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی گھرانے کا بھانجا اس کا ایک فرد ہے۔“ ( «منهم .» یا «من أنفسهم» کے الفاظ فرمائے ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ ". أَوْ " مِنْ أَنْفُسِهِمْ ".
#6763
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, " If somebody dies (among the Muslims) leaving some property, the property will go to his heirs; and if he leaves a debt or dependants, we will take care of them
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی نے، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے مال چھوڑا ( اپنی موت کے بعد ) وہ اس کے وارثوں کا ہے اور جس نے قرض چھوڑا ہے وہ ہمارے ذمہ ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ تَرَكَ مَالاً فَلِوَرَثَتِهِ، وَمَنْ تَرَكَ كَلاًّ فَإِلَيْنَا ".
#6764
Narrated Usama bin Zaid:the Prophet (ﷺ) said, "A Muslim cannot be the heir of a disbeliever, nor can a disbeliever be the heir of a Muslim
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے علی بن حسین نے بیان کیا، ان سے عمر بن عثمان نے بیان کیا اور ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسلمان باپ کافر بیٹے کا وارث نہیں ہوتا اور نہ کافر بیٹا مسلمان باپ کا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلاَ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ ".
#6765
Narrated `Aisha:Sa`d bin Abi Waqqas and 'Abu bin Zam`a had a dispute over a boy. Sa`d said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! This (boy) is the son of my brother, `Utba bin Abi Waqqas who told me to be his custodian as he was his son. Please notice to whom he bears affinity." And 'Abu bin Zam`a said, "This is my brother, O Allah's Messenger (ﷺ)! He was born on my father's bed by his slave girl." Then the Prophet (ﷺ) looked at the boy and noticed evident resemblance between him and `Utba, so he said, "He (the toy) is for you, O 'Abu bin Zam`a, for the boy is for the owner of the bed, and the stone is for the adulterer. Screen yourself before the boy, O Sauda bint Zam`a." `Aisha added: Since then he had never seen Sauda
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہا کا ایک لڑکے کے بارے میں جھگڑا ہوا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا لڑکا ہے، اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ اس کا لڑکا ہے آپ اس کی مشابہت اس میں دیکھئیے اور عبد بن زمعہ نے کہا کہ میرا بھائی ہے یا رسول اللہ! میرے والد کے بستر پر ان کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے کی صورت دیکھی تو اس کی عتبہ کے ساتھ صاف مشابہت واضح تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عبد! لڑکا بستر والے کا ہوتا ہے اور زانی کے حصہ میں پتھر ہیں اور اے سودہ بنت زمعہ! ( ام المؤمنین رضی اللہ عنہا ) اس لڑکے سے پردہ کیا کر چنانچہ پھر اس لڑکے نے ام المؤمنین کو نہیں دیکھا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتِ اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلاَمٍ فَقَالَ سَعْدٌ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَىَّ أَنَّهُ ابْنُهُ، انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ. وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ هَذَا أَخِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ. فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى شَبَهِهِ فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ فَقَالَ " هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ ". قَالَتْ فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ.
#6766
Narrated Sa`d:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Whoever claims to be the son of a person other than his father, and he knows that person is not his father, then Paradise will be forbidden for him." I mentioned that to Abu Bakra, and he said, "My ears heard that and my heart memorized it from Allah's Messenger (ﷺ)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ـ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ ـ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَعْدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، وَهْوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ ". فَذَكَرْتُهُ لأَبِي بَكْرَةَ فَقَالَ وَأَنَا سَمِعَتْهُ أُذُنَاىَ، وَوَعَاهُ، قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
#6767
Narrated Sa`d:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Whoever claims to be the son of a person other than his father, and he knows that person is not his father, then Paradise will be forbidden for him." I mentioned that to Abu Bakra, and he said, "My ears heard that and my heart memorized it from Allah's Messenger (ﷺ)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ـ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ ـ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَعْدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، وَهْوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ ". فَذَكَرْتُهُ لأَبِي بَكْرَةَ فَقَالَ وَأَنَا سَمِعَتْهُ أُذُنَاىَ، وَوَعَاهُ، قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
#6768
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Do not deny your fathers (i.e. claim to be the sons of persons other than your fathers), and whoever denies his father, is charged with disbelief
ہم سے اصبغ بن الفرج نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو عمرو نے خبر دی، انہیں جعفر بن ربیعہ نے، انہیں عراک نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنے باپ کا کوئی انکار نہ کرے کیونکہ جو اپنے باپ سے منہ موڑتا ہے ( اور اپنے کو دوسرے کا بیٹا ظاہر کرتا ہے تو ) یہ کفر ہے۔“
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ فَهُوَ كُفْرٌ ".
#6769
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "There were two women with whom there were their two sons. A wolf came and took away the son of one of them. That lady said to her companion, 'The wolf has taken your son.' The other said, 'But it has taken your son.' So both of them sought the judgment of (the Prophet) David who judged that the boy should be given to the older lady. Then both of them went to (the Prophet) Solomon, son of David and informed him of the case. Solomon said, 'Give me a knife so that I may cut the child into two portions and give one half to each of you.' The younger lady said, 'Do not do so; may Allah bless you ! He is her child.' On that, he gave the child to the younger lady." Abu Huraira added: By Allah! I had never heard the word 'Sakkin' as meaning knife, except on that day, for we used to call it "Mudya
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا کہ ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دو عورتیں تھیں اور ان کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے، پھر بھیڑیا آیا اور ایک بچے کو اٹھا کر لے گیا اس نے اپنی ساتھی عورت سے کہا کہ بھیڑیا تیرے بچے کو لے گیا ہے، دوسری عورت نے کہا کہ وہ تو تیرا بچہ لے گیا ہے۔ وہ دونوں عورتیں اپنا مقدمہ داؤد علیہ السلام کے پاس لائیں تو آپ نے فیصلہ بڑی کے حق میں کر دیا۔ وہ دونوں نکل کر سلیمان بن داؤد علیہما السلام کے پاس گئیں اور انہیں واقعہ کی اطلاع دی۔ سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ چھری لاؤ میں لڑکے کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کو ایک ایک دوں گا۔ اس پر چھوٹی عورت بول اٹھی کہ ایسا نہ کیجئے آپ پر اللہ رحم کرے، یہ بڑی ہی کا لڑکا ہے لیکن آپ علیہ السلام نے فیصلہ چھوٹی عورت کے حق میں کیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ واللہ! میں نے «سكين» چھری کا لفظ سب سے پہلی مرتبہ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ) اس دن سنا تھا اور ہم اس کے لیے ( اپنے قبیلہ میں ) «مدية.» کا لفظ بولتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كَانَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا، جَاءَ الذِّئْبُ فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ لِصَاحِبَتِهَا إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ. وَقَالَتِ الأُخْرَى إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ. فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى، فَخَرَجَتَا عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ ـ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ ـ فَأَخْبَرَتَاهُ فَقَالَ ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا. فَقَالَتِ الصُّغْرَى لاَ تَفْعَلْ يَرْحَمُكَ اللَّهُ. هُوَ ابْنُهَا. فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ بِالسِّكِّينِ قَطُّ إِلاَّ يَوْمَئِذٍ، وَمَا كُنَّا نَقُولُ إِلاَّ الْمُدْيَةَ.
#6770
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) once entered upon me in a very happy mood, with his features glittering with joy, and said, "O `Aisha! won't you see that Mujazziz (a Qa'if) looked just now at Zaid bin Haritha and Usama bin Zaid and said, 'These feet (of Usama and his father) belong to each other." (See Hadith No. 755, Vol)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں ایک مرتبہ بہت خوش خوش تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمک رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم نے نہیں دیکھا، مجزز ( ایک قیافہ شناس ) نے ابھی ابھی زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے ( صرف پاؤں دیکھے ) اور کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَىَّ مَسْرُورًا تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ فَقَالَ " أَلَمْ تَرَىْ أَنَّ مُجَزِّزًا نَظَرَ آنِفًا إِلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ ".
#6771
Narrated `Aisha:Once Allah's Messenger (ﷺ) entered upon me and he was in a very happy mood and said, "O `Aisha: Don't you know that Mujazziz Al-Mudliji entered and saw Usama and Zaid with a velvet covering on them and their heads were covered while their feet were uncovered. He said, 'These feet belong to each other
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عروہ نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش تھے اور فرمایا ”عائشہ! تم نے دیکھا نہیں، مجزز مدلجی آیا اور اس نے اسامہ اور زید ( رضی اللہ عنہما ) کو دیکھا، دونوں کے جسم پر ایک چادر تھی، جس نے دونوں کے سروں کو ڈھک لیا تھا اور ان کے صرف پاؤں کھلے ہوئے تھے تو اس نے کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ وَهْوَ مَسْرُورٌ فَقَالَ " يَا عَائِشَةُ أَلَمْ تَرَىْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ فَرَأَى أُسَامَةَ وَزَيْدًا وَعَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ، قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا، فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ ".
#6772
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "When an adulterer commits illegal sexual intercourse, then he is not a believer at the time he is doing it; and when somebody drinks an alcoholic drink, then he is not believer at the time of drinking, and when a thief steals, he is not a believer at the time when he is stealing; and when a robber robs and the people look at him, then he is not a believer at the time of doing it." Abu Huraira in another narration, narrated the same from the Prophet (ﷺ) with the exclusion of robbery
مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب بھی زنا کرنے والا زنا کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں رہتا، جب بھی کوئی شراب پینے والا شراب پیتا ہے تو وہ مؤمن نہیں رہتا، جب بھی کوئی چوری کرنے والا چوری کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں رہتا، جب بھی کوئی لوٹنے والا لوٹتا ہے کہ لوگ نظریں اٹھا اٹھا کر اسے دیکھنے لگتے ہیں تو وہ مؤمن نہیں رہتا۔“ اور ابن شہاب سے روایت ہے، ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ نے بیان کیا ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سوا لفظ «نهبة.» کے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهْوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُ وَهْوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهْوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَنْتَهِبُ نُهْبَةً يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ وَهْوَ مُؤْمِنٌ ". وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ، إِلاَّ النُّهْبَةَ.
#6773
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) beat a drunk with palm-leaf stalks and shoes. And Abu Bakr gave (such a sinner) forty lashes
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (دوسری سند) ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے پر چھڑی اور جوتے سے مارا تھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے مارے۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ح حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ضَرَبَ فِي الْخَمْرِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ، وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ.
#6774
Narrated `Uqba bin Al-Harith:An-Nu`man or the son of An-Nu`man was brought to the Prophet (ﷺ) on a charge of drunkenness. So the Prophet ordered all the men present in the house, to beat him. So all of them beat him, and I was also one of them who beat him with shoes
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے، ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نعیمان یا ابن نعیمان کو شراب کے نشہ میں لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں موجود لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں ماریں، انہوں نے مارا عقبہ کہتے ہیں میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اس کو جوتوں سے مارا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ جِيءَ بِالنُّعَيْمَانِ أَوْ بِابْنِ النُّعَيْمَانِ شَارِبًا، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَنْ كَانَ بِالْبَيْتِ أَنْ يَضْرِبُوهُ. قَالَ فَضَرَبُوهُ، فَكُنْتُ أَنَا فِيمَنْ ضَرَبَهُ بِالنِّعَالِ.
#6775
Narrated' `Uqba bin Al-Harith:An-Nu`man or the son of An-Nu`man was brought to the Prophet (ﷺ) in a state of intoxication. The Prophet felt it hard (was angry) and ordered all those who were present in the house, to beat him. And they beat him, using palm-leaf stalks and shoes, and I was among those who beat him
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے عبداللہ بن ابی ملکہ نے اور ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نعیمان یا ابن نعیمان کو لایا گیا، وہ نشہ میں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ ناگوار گزرا اور آپ نے گھر میں موجود لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں ماریں۔ چنانچہ لوگوں نے انہیں لکڑی اور جوتوں سے مارا اور میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اسے مارا تھا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِنُعَيْمَانَ أَوْ بِابْنِ نُعَيْمَانَ وَهْوَ سَكْرَانُ فَشَقَّ عَلَيْهِ، وَأَمَرَ مَنْ فِي الْبَيْتِ أَنْ يَضْرِبُوهُ، فَضَرَبُوهُ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ، وَكُنْتُ فِيمَنْ ضَرَبَهُ.