#6476
Narrated Abu Shuraih Al-Khuza`i:My ears heard and my heart grasped (the statement which) the Prophet (ﷺ) said, "The period for keeping one's guest is three days (and don't forget) his reward." It was asked, "What is his reward?" He said, "In the first night and the day he should be given a high class quality of meals; and whoever believes in Allah and the Last Day, should entertain his guest generously; and whoever believes in Allah and the Last Day should talk what is good (sense) or keep quiet
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا، ان سے ابوشریح خزاعی نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میرے دونوں کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے یاد رکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا ”مہمانی تین دن کی ہوتی ہے مگر جو لازمی ہے وہ تو پوری کرو۔“ پوچھا گیا لازمی کتنی ہے؟ فرمایا کہ ایک دن اور ایک رات اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اپنے مہمان کی خاطر کرے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے ورنہ چپ رہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ سَمِعَ أُذُنَاىَ، وَوَعَاهُ، قَلْبِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الضِّيَافَةُ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ جَائِزَتُهُ ". قِيلَ مَا جَائِزَتُهُ قَالَ " يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا، أَوْ لِيَسْكُتْ ".
#6477
Narrated Abu Huraira:That he heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "A slave of Allah may utter a word without thinking whether it is right or wrong, he may slip down in the Fire as far away a distance equal to that between the east
مجھ سے ابرہیم بن حمزہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے یزید بن عبداللہ نے، ان سے محمد بن ابراہیم نے، ان سے عیسیٰ بن طلحہ تیمی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بندہ ایک بات زبان سے نکالتا ہے اور اس کے متعلق سوچتا نہیں ( کتنی کفر اور بےادبی کی بات ہے ) جس کی وجہ سے وہ دوزخ کے گڑھے میں اتنی دور گر پڑتا ہے جتنا مغرب سے مشرق دور ہے۔“
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مَا يَتَبَيَّنُ فِيهَا، يَزِلُّ بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مِمَّا بَيْنَ الْمَشْرِقِ ".
#6478
Narrated Abu Huraira:The Prophet; said, "A slave (of Allah) may utter a word which pleases Allah without giving it much importance, and because of that Allah will raise him to degrees (of reward): a slave (of Allah) may utter a word (carelessly) which displeases Allah without thinking of its gravity and because of that he will be thrown into the Hell-Fire
مجھ سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، انہوں نے ابوالنضر سے سنا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ یعنی ابن دینار نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوصالح نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بندہ اللہ کی رضا مندی کے لیے ایک بات زبان سے نکالتا ہے اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر اسی کی وجہ سے اللہ اس کے درجے بلند کر دیتا ہے اور ایک دوسرا بندہ ایک ایسا کلمہ زبان سے نکالتا ہے جو اللہ کی ناراضگی کا باعث ہوتا ہے اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم میں چلا جاتا ہے۔“
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، سَمِعَ أَبَا النَّضْرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ـ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ـ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ لاَ يُلْقِي لَهَا بَالاً، يَرْفَعُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَاتٍ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ لاَ يُلْقِي لَهَا بَالاً يَهْوِي بِهَا فِي جَهَنَّمَ ".
#6479
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said Allah will give shade to seven (types of people) under His Shade (on the Day of Resurrection). (one of them will be) a person who remembers Allah and his eyes are then flooded with tears
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات طرح کے لوگ وہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے سایہ میں پناہ دے گا۔ ( ان میں ) ایک وہ شخص بھی ہے جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ، رَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ ".
#6480
Narrated Hudhaifa:The Prophet (ﷺ) said, "There was a man amongst the people who had suspicion as to the righteousness of his deeds. Therefore he said to his family, 'If I die, take me and burn my corpse and throw my ashes into the sea on a hot (or windy) day.' They did so, but Allah, collected his particles and asked (him), What made you do what you did?' He replied, 'The only thing that made me do it, was that I was afraid of You.' So Allah forgave him
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے ربعی بن حراش نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پچھلی امتوں میں کا، ایک شخص جسے اپنے برے عملوں کا ڈر تھا۔ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ جب میں مر جاؤں تو میری لاش ریزہ ریزہ کر کے گرم دن میں اٹھا کے دریا میں ڈال دینا۔ اس کے گھر والوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا پھر اللہ تعالیٰ نے اسے جمع کیا اور اس سے پوچھا کہ یہ جو تم نے کیا اس کی وجہ کیا ہے؟ اس شخص نے کہا کہ پروردگار مجھے اس پر صرف تیرے خوف نے آمادہ کیا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت فرما دی۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يُسِيءُ الظَّنَّ بِعَمَلِهِ، فَقَالَ لأَهْلِهِ إِذَا أَنَا مُتُّ فَخُذُونِي فَذَرُّونِي، فِي الْبَحْرِ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ، فَفَعَلُوا بِهِ، فَجَمَعَهُ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ مَا حَمَلَكَ عَلَى الَّذِي صَنَعْتَ قَالَ مَا حَمَلَنِي إِلاَّ مَخَافَتُكَ. فَغَفَرَ لَهُ ".
#6481
Narrated Abu Sa`id:The Prophet (ﷺ) mentioned a man from the previous generation or from the people preceding your age whom Allah had given both wealth and children. The Prophet (ﷺ) said, "When the time of his death approached, he asked his children, 'What type of father have I been to you?' They replied: You have been a good father. He said, 'But he (i.e. your father) has not stored any good deeds with Allah (for the Hereafter): if he should face Allah, Allah will punish him. So listen, (O my children), when I die, burn my body till I become mere coal and then grind it into powder, and when there is a stormy wind, throw me (my ashes) in it.' So he took a firm promise from his children (to follow his instructions). And by Allah they (his sons) did accordingly(fulfilled their promise.) Then Allah said, "Be"' and behold! That man was standing there! Allah then said. "O my slave! What made you do what you did?" That man said, "Fear of You." So Allah forgave him
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، کہا میں نے اپنے والد سے سنا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے عقبہ بن عبدالغافر نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھلی امتوں کے ایک شخص کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مال و اولاد عطا فرمائی تھی۔ فرمایا کہ جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے لڑکوں سے پوچھا، باپ کی حیثیت سے میں نے کیسا اپنے آپ کو ثابت کیا؟ لڑکوں نے کہا کہ بہترین باپ۔ پھر اس شخص نے کہا کہ اس نے اللہ کے پاس کوئی نیکی نہیں جمع کی ہے۔ قتادہ نے «لم يبتئر» کی تفسیر «لم يدخر» کہ نہیں جمع کی، سے کی ہے۔ اور اس نے یہ بھی کہا کہ اگر اسے اللہ کے حضور میں پیش کیا گیا تو اللہ تعالیٰ اسے عذاب دے گا ( اس نے اپنے لڑکوں سے کہا کہ ) دیکھو، جب میں مر جاؤں تو میری لاش کو جلا دینا اور جب میں کوئلہ ہو جاؤں تو مجھے پیس دینا اور کسی تیز ہوا کے دن مجھے اس میں اڑا دینا۔ اس نے اپنے لڑکوں سے اس پر وعدہ لیا چنانچہ لڑکوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہو جا۔ چنانچہ وہ ایک مرد کی شکل میں کھڑا نظر آیا۔ پھر فرمایا، میرے بندے! یہ جو تو نے کرایا ہے اس پر تجھے کس چیز نے آمادہ کیا تھا؟ اس نے کہا کہ تیرے خوف نے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا بدلہ یہ دیا کہ اس پر رحم فرمایا۔ میں نے یہ حدیث عثمان سے بیان کی تو انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سلمان سے سنا۔ البتہ انہوں نے یہ لفظ بیان کیے کہ ”مجھے دریا میں بہا دینا“ یا جیسا کہ انہوں نے بیان کیا اور معاذ نے بیان کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، انہوں نے عقبہ سے سنا، انہوں نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم "ذَكَرَ رَجُلاً فِيمَنْ كَانَ سَلَفَ أَوْ قَبْلَكُمْ آتَاهُ اللَّهُ مَالاً وَوَلَدًا ـ يَعْنِي أَعْطَاهُ قَالَ ـ فَلَمَّا حُضِرَ قَالَ لِبَنِيهِ أَىَّ أَبٍ كُنْتُ قَالُوا خَيْرَ أَبٍ. قَالَ فَإِنَّهُ لَمْ يَبْتَئِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا ـ فَسَّرَهَا قَتَادَةُ لَمْ يَدَّخِرْ ـ وَإِنْ يَقْدَمْ عَلَى اللَّهِ يُعَذِّبْهُ فَانْظُرُوا، فَإِذَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي، حَتَّى إِذَا صِرْتُ فَحْمًا فَاسْحَقُونِي ـ أَوْ قَالَ فَاسْهَكُونِي ـ ثُمَّ إِذَا كَانَ رِيحٌ عَاصِفٌ فَأَذْرُونِي فِيهَا. فَأَخَذَ مَوَاثِيقَهُمْ عَلَى ذَلِكَ وَرَبِّي فَفَعَلُوا فَقَالَ اللَّهُ كُنْ. فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ أَىْ عَبْدِي مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ قَالَ مَخَافَتُكَ ـ أَوْ فَرَقٌ مِنْكَ ـ فَمَا تَلاَفَاهُ أَنْ رَحِمَهُ اللَّهُ ". فَحَدَّثْتُ أَبَا عُثْمَانَ فَقَالَ سَمِعْتُ سَلْمَانَ غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ فَأَذْرُونِي فِي الْبَحْرِ. أَوْ كَمَا حَدَّثَ. وَقَالَ مُعَاذٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعْتُ عُقْبَةَ، سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
#6482
Narrated Abu Musa:Allah's Messenger (ﷺ) said. "My example and the example of the message with which Allah has sent me is like that of a man who came to some people and said, "I have seen with my own eyes the enemy forces, and I am a naked warner (to you) so save yourself, save yourself! A group of them obeyed him and went out at night, slowly and stealthily and were safe, while another group did not believe him and thus the army took them in the morning and destroyed them
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے ان سے ابوبردہ نے، اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری اور جو کچھ کلام اللہ نے میرے ساتھ بھیجا ہے اس کی مثال ایک ایسے شخص جیسی ہے جو اپنی قوم کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے ( تمہارے دشمن کا ) لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور میں واضح ڈرانے والا ہوں۔ پس بھاگو، پس بھاگو ( اپنی جان بچاؤ ) اس پر ایک جماعت نے اس کی بات مان لی اور رات ہی رات اطمینان سے کسی محفوظ جگہ پر نکل گئے اور نجات پائی۔ لیکن دوسری جماعت نے اسے جھٹلایا اور دشمن کے لشکر نے صبح کے وقت اچانک انہیں آ لیا اور تباہ کر دیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَثَلِي وَمَثَلُ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى قَوْمًا فَقَالَ رَأَيْتُ الْجَيْشَ بِعَيْنَىَّ، وَإِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْعُرْيَانُ فَالنَّجَا النَّجَاءَ. فَأَطَاعَتْهُ طَائِفَةٌ فَأَدْلَجُوا عَلَى مَهْلِهِمْ فَنَجَوْا، وَكَذَّبَتْهُ طَائِفَةٌ فَصَبَّحَهُمُ الْجَيْشُ فَاجْتَاحَهُمْ ".
#6483
Narrated Abu Huraira:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "My example and the example of the people is that of a man who made a fire, and when it lighted what was around it, Moths and other insects started falling into the fire. The man tried (his best) to prevent them, (from falling in the fire) but they overpowered him and rushed into the fire. The Prophet (ﷺ) added: Now, similarly, I take hold of the knots at your waist (belts) to prevent you from falling into the Fire, but you insist on falling into it
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اور لوگوں کی مثال ایک ایسے شخص کی ہے جس نے آگ جلائی، جب اس کے چاروں طرف روشنی ہو گئی تو پروانے اور یہ کیڑے مکوڑے جو آگ پر گرتے ہیں اس میں گرنے لگے اور آگ جلانے والا انہیں اس میں سے نکالنے لگا لیکن وہ اس کے قابو میں نہیں آئے اور آگ میں گرتے رہے۔ اسی طرح میں تمہاری کمر کو پکڑ کر آگ سے تمہیں نکالتا ہوں اور تم ہو کہ اسی میں گرتے جاتے ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا، فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ جَعَلَ الْفَرَاشُ وَهَذِهِ الدَّوَابُّ الَّتِي تَقَعُ فِي النَّارِ يَقَعْنَ فِيهَا، فَجَعَلَ يَنْزِعُهُنَّ وَيَغْلِبْنَهُ فَيَقْتَحِمْنَ فِيهَا، فَأَنَا آخُذُ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَأَنْتُمْ تَقْتَحِمُونَ فِيهَا ".
#6484
Narrated `Abdullah bin `Amr:The Prophet (ﷺ) said, "A Muslim is the one who avoids harming Muslims with his tongue or his hands. And a Muhajir (an emigrant) is the one who gives up (abandons) all what Allah has forbidden
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا، ان سے عامر نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسلمان وہ ہے جو مسلمانوں کو اپنی زبان اور ہاتھ سے ( تکلیف پہنچنے سے ) محفوظ رکھے اور مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں سے رک جائے جس سے اللہ نے منع کیا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ ".
#6485
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "If you knew that which I know you would laugh little and weep much
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر تمہیں وہ معلوم ہو جائے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ كَانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ".
#6486
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) said, "If you knew that which I know, you would laugh little and weep much
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن انس نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر تمہیں وہ معلوم ہوتا جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔“
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم "لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا"
#6487
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The (Hell) Fire is surrounded by all kinds of desires and passions, while Paradise is surrounded by all kinds of disliked undesirable things
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دوزخ خواہشات نفسانی سے ڈھک دی گئی ہے اور جنت مشکلات اور دشواریوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ، وَحُجِبَتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ ".
#6488
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) said, "Paradise is nearer to any of you than the Shirak (leather strap) of his shoe, and so is the (Hell) Fire
ہم سے موسیٰ بن مسعود نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے منصور اور اعمش نے بیان کیا، ان سے ابووائل نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے اور اسی طرح دوزخ بھی۔“
حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الْجَنَّةُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ، وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِكَ ".
#6489
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "The truest poetic verse ever said by a poet, is: Indeed! Everything except Allah, is perishable
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے سچا شعر جسے شاعر نے کہا ہے یہ ہے ”ہاں اللہ کے سوا تمام چیزیں بےبنیاد ہیں۔“
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَهُ الشَّاعِرُ أَلاَ كُلُّ شَىْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلُ ".
#6490
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "If anyone of you looked at a person who was made superior to him in property and (in good) appearance, then he should also look at the one who is inferior to him
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں نے کوئی شخص کسی ایسے آدمی کو دیکھے جو مال اور شکل و صورت میں اس سے بڑھ کر ہے تو اسے ایسے شخص کا دھیان کرنا چاہئے جو اس سے کم درجہ کا ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا نَظَرَ أَحَدُكُمْ إِلَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْمَالِ وَالْخَلْقِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ ".
#6491
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) narrating about his Lord I'm and said, "Allah ordered (the appointed angels over you) that the good and the bad deeds be written, and He then showed (the way) how (to write). If somebody intends to do a good deed and he does not do it, then Allah will write for him a full good deed (in his account with Him); and if he intends to do a good deed and actually did it, then Allah will write for him (in his account) with Him (its reward equal) from ten to seven hundred times to many more times: and if somebody intended to do a bad deed and he does not do it, then Allah will write a full good deed (in his account) with Him, and if he intended to do it (a bad deed) and actually did it, then Allah will write one bad deed (in his account)
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جعد ابوعثمان نے بیان کیا، ان سے ابورجاء عطاردی نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں مقدر کر دی ہیں اور پھر انہیں صاف صاف بیان کر دیا ہے۔ پس جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیا لیکن اس پر عمل نہ کر سکا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ایک مکمل نیکی کا بدلہ لکھا ہے اور اگر اس نے ارادہ کے بعد اس پر عمل بھی کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اپنے یہاں دس گنا سے سات سو گنا تک نیکیاں لکھی ہیں اور اس سے بڑھ کر اور جس نے کسی برائی کا ارادہ کیا اور پھر اس پر عمل نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اپنے یہاں نیکی لکھی ہے اور اگر اس نے ارادہ کے بعد اس پر عمل بھی کر لیا تو اپنے یہاں اس کے لیے ایک برائی لکھی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا جَعْدٌ أَبُو عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ قَالَ " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ، ثُمَّ بَيَّنَ ذَلِكَ فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً، فَإِنْ هُوَ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً، فَإِنْ هُوَ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً ".
#6492
Narrated Ghailan:Anas said "You people do (bad) deeds (commit sins) which seem in your eyes as tiny (minute) than hair while we used to consider those (very deeds) during the life-time of the Prophet (ﷺ) as destructive sins
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے مہدی نے بیان کیا، ان سے غیلان نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے کہا کہ تم ایسے ایسے عمل کرتے ہو جو تمہاری نظر میں بال سے زیادہ باریک ہیں ( تم اسے حقیر سمجھتے ہو، بڑا گناہ نہیں سمجھتے ) اور ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ان کاموں کو ہلاک کر دینے والا سمجھتے تھے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ حدیث میں جو لفظ «موبقات» ہے اس کا معنی ہلاک کرنے والے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، عَنْ غَيْلاَنَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالاً هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعَرِ، إِنْ كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْمُوبِقَاتِ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي بِذَلِكَ الْمُهْلِكَاتِ.
#6493
Narrated Sa`d bin Sahl As-Sa`idi:The Prophet (ﷺ) looked at a man fighting against the pagans and he was one of the most competent persons fighting on behalf of the Muslims. The Prophet (ﷺ) said, "Let him who wants to look at a man from the dwellers of the (Hell) Fire, look at this (man)." Another man followed him and kept on following him till he (the fighter) was injured and, seeking to die quickly, he placed the blade tip of his sword between his breasts and leaned over it till it passed through his shoulders (i.e., committed suicide)." The Prophet (ﷺ) added, "A person may do deeds that seem to the people as the deeds of the people of Paradise while in fact, he is from the dwellers of the (Hell) Fire: and similarly a person may do deeds that seem to the people as the deeds of the people of the (Hell) Fire while in fact, he is from the dwellers of Paradise. Verily, the (results of) deeds done, depend upon the last actions
ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو مشرکین سے جنگ میں مصروف تھا، یہ شخص مسلمانوں کے صاحب مال و دولت لوگوں میں سے تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی چاہتا ہے کہ کسی جہنمی کو دیکھے تو وہ اس شخص کو دیکھے۔ اس پر ایک صحابی اس شخص کے پیچھے لگ گئے وہ شخص برابر لڑتا رہا اور آخر زخمی ہو گیا۔ پھر اس نے چاہا کہ جلدی مر جائے۔ پس اپنی تلوار ہی کی دھار اپنے سینے کے درمیان رکھ کر اس پر اپنے آپ کو ڈال دیا اور تلوار اس کے شانوں کو چیرتی ہوئی نکل گئی ( اس طرح وہ خودکشی کر کے مر گیا ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ لوگوں کی نظر میں اہل جنت کے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جہنم میں سے ہوتا ہے۔ ایک دوسرا بندہ لوگوں کی نظر میں اہل جہنم کے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے اور اعمال کا اعتبار تو خاتمہ پر موقوف ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ نَظَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى رَجُلٍ يُقَاتِلُ الْمُشْرِكِينَ، وَكَانَ مِنْ أَعْظَمِ الْمُسْلِمِينَ غَنَاءً عَنْهُمْ فَقَالَ " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا ". فَتَبِعَهُ رَجُلٌ فَلَمْ يَزَلْ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى جُرِحَ، فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ. فَقَالَ بِذُبَابَةِ سَيْفِهِ، فَوَضَعَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، فَتَحَامَلَ عَلَيْهِ، حَتَّى خَرَجَ مِنْ بَيْنِ كَتِفَيْهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ فِيمَا يَرَى النَّاسُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَيَعْمَلُ فِيمَا يَرَى النَّاسُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ وَهْوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّمَا الأَعْمَالُ بِخَوَاتِيمِهَا ".
#6494
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:A bedouin came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Who is the best of mankind!" The Prophet said, "A man who strives for Allah's Cause with his life and property, and also a man who lives (all alone) in a mountain path among the mountain paths to worship his Lord and save the people from his evil
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھ سے عطاء بن یزید نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ سوال کیا گیا: اے اللہ کے رسول! محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے اوزاعی نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یزید لیثی نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: یا رسول اللہ! کون شخص سب سے اچھا ہے؟ فرمایا کہ وہ شخص جس نے اپنی جان اور مال کے ذریعہ جہاد کیا اور وہ شخص جو کسی پہاڑ کی کھوہ میں ٹھہرا ہوا اپنے رب کی عبادت کرتا ہے اور لوگوں کو اپنی برائی سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس روایت کی متابعت زبیدی، سلیمان بن کثیر اور نعمان نے زہری سے کی۔ اور معمر نے زہری سے بیان کیا، ان سے عطاء یا عبیداللہ نے، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور یونس و ابن مسافر اور یحییٰ بن سعید نے ابن شہاب ( زہری ) سے بیان کیا، ان سے عطاء نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ، حَدَّثَهُ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ النَّاسِ خَيْرٌ قَالَ " رَجُلٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، وَرَجُلٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَعْبُدُ رَبَّهُ، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ ". تَابَعَهُ الزُّبَيْدِيُّ وَسُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ وَالنُّعْمَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ. وَقَالَ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءٍ أَوْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ يُونُسُ وَابْنُ مُسَافِرٍ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
#6495
Narrated Abu Sa`id:I heard from the Prophet (ﷺ) saying, "There will come a time upon the people when the best property of a Muslim will be sheep which he will take to the tops of mountains and to the places of rainfall, run away with his religion (in order to save it) from afflictions
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ماجشون نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے، ان سے ان کے والد نے اور انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا جب ایک مسلمان کا سب سے بہتر مال بھیڑیں ہوں گی وہ انہیں لے کر پہاڑ کی چوٹیوں اور بارش کی جگہوں پر چلا جائے گا، اس دن وہ اپنے دین کو لے کر فسادوں سے ڈر کر وہاں سے بھاگ جائے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الْمَاجِشُونُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ خَيْرُ مَالِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ الْغَنَمُ، يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ ".
#6496
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "When honesty is lost, then wait for the Hour." It was asked, "How will honesty be lost, O Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, "When authority is given to those who do not deserve it, then wait for the Hour
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہلال بن علی نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب امانت ضائع کی جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔“ پوچھا: یا رسول اللہ! امانت کس طرح ضائع کی جائے گی؟ فرمایا ”جب کام نااہل لوگوں کے سپرد کر دئیے جائیں تو قیامت کا انتظار کرو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا هِلاَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا ضُيِّعَتِ الأَمَانَةُ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ ". قَالَ كَيْفَ إِضَاعَتُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " إِذَا أُسْنِدَ الأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ، فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ ".
#6497
Narrated Hudhaifa:Allah's Messenger (ﷺ) narrated to us two narrations, one of which I have seen (happening) and I am waiting for the other. He narrated that honesty was preserved in the roots of the hearts of men (in the beginning) and then they learnt it (honesty) from the Qur'an, and then they learnt it from the (Prophet's) Sunna (tradition). He also told us about its disappearance, saying, "A man will go to sleep whereupon honesty will be taken away from his heart, and only its trace will remain, resembling the traces of fire. He then will sleep whereupon the remainder of the honesty will also be taken away (from his heart) and its trace will resemble a blister which is raised over the surface of skin, when an ember touches one's foot; and in fact, this blister does not contain anything. So there will come a day when people will deal in business with each other but there will hardly be any trustworthy persons among them. Then it will be said that in such-and-such a tribe there is such-and-such person who is honest, and a man will be admired for his intelligence, good manners and strength, though indeed he will not have belief equal to a mustard seed in his heart." The narrator added: There came upon me a time when I did not mind dealing with anyone of you, for if he was a Muslim, his religion would prevent him from cheating; and if he was a Christian, his Muslim ruler would prevent him from cheating; but today I cannot deal except with so-and-so and so-and-so. (See Hadith No. 208, Vol)
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ان سے زید بن وہب نے، کہا ہم سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو حدیثیں ارشاد فرمائیں۔ ایک کا ظہور تو میں دیکھ چکا ہوں اور دوسری کا منتظر ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ امانت لوگوں کے دلوں کی گہرائیوں میں اترتی ہے۔ پھر قرآن شریف سے، پھر حدیث شریف سے اس کی مضبوطی ہوتی جاتی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس کے اٹھ جانے کے متعلق ارشاد فرمایا کہ آدمی ایک نیند سوئے گا اور ( اسی میں ) امانت اس کے دل سے ختم ہو گی اور اس بےایمانی کا ہلکا نشان پڑ جائے گا۔ پھر ایک اور نیند لے گا اب اس کا نشان چھالے کی طرح ہو جائے گا جیسے تو پاؤں پر ایک چنگاری لڑھکائے تو ظاہر میں ایک چھالا پھول آتا ہے اس کو پھولا دیکھتا ہے، پر اندر کچھ نہیں ہوتا۔ پھر حال یہ ہو جائے گا کہ صبح اٹھ کر لوگ خرید و فروخت کریں گے اور کوئی شخص امانت دار نہیں ہو گا، کہا جائے گا کہ بنی فلاں میں ایک امانت دار شخص ہے۔ کسی شخص کے متعلق کہا جائے گا کہ کتنا عقلمند ہے، کتنا بلند حوصلہ ہے اور کتنا بہادر ہے۔ حالانکہ اس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ( امانت ) نہیں ہو گا۔“ ( حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) میں نے ایک ایسا وقت بھی گزارا ہے کہ میں اس کی پروا نہیں کرتا تھا کہ کس سے خرید و فروخت کرتا ہوں۔ اگر وہ مسلمان ہوتا تو اس کو اسلام ( بےایمانی سے ) روکتا تھا۔ اگر وہ نصرانی ہوتا تو اس کا مددگار اسے روکتا تھا لیکن اب میں فلاں اور فلاں کے سوا کسی سے خرید و فروخت ہی نہیں کرتا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا حُذَيْفَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدِيثَيْنِ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الآخَرَ، حَدَّثَنَا " أَنَّ الأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ، ثُمَّ عَلِمُوا مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ عَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ ". وَحَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِهَا قَالَ " يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ، فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْوَكْتِ، ثُمَّ يَنَامُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ فَيَبْقَى أَثَرُهَا مِثْلَ الْمَجْلِ، كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ فَنَفِطَ، فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا، وَلَيْسَ فِيهِ شَىْءٌ، فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ فَلاَ يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الأَمَانَةَ، فَيُقَالُ إِنَّ فِي بَنِي فُلاَنٍ رَجُلاً أَمِينًا. وَيُقَالُ لِلرَّجُلِ مَا أَعْقَلَهُ وَمَا أَظْرَفَهُ وَمَا أَجْلَدَهُ. وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ، وَلَقَدْ أَتَى عَلَىَّ زَمَانٌ وَمَا أُبَالِي أَيَّكُمْ بَايَعْتُ لَئِنْ كَانَ مُسْلِمًا رَدَّهُ الإِسْلاَمُ، وَإِنْ كَانَ نَصْرَانِيًّا رَدَّهُ عَلَىَّ سَاعِيهِ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَمَا كُنْتُ أُبَايِعُ إِلاَّ فُلاَنًا وَفُلاَنًا ". قَالَ الْفِرَبْرِيُّ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ حَدَّثْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ عَاصِمٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدٍ يَقُولُ قَالَ الأَصْمَعِيُّ وَأَبُو عَمْرٍو وَغَيْرُهُمَا جَذْرُ قُلُوبِ الرِّجَالِ الْجَذْرُ الأَصْلُ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ، وَالْوَكْتُ أَثَرُ الشَّىْءِ الْيَسِيرُ مِنْهُ، وَالْمَجْلُ أَثَرُ الْعَمَلِ فِي الْكَفِّ إِذَا غَلُظَ.
#6498
Narrated `Abdullah bin `Umar:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "People are just like camels, out of one hundred, one can hardly find a single camel suitable to ride
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو سالم بن عبداللہ نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کی مثال اونٹوں کی سی ہے قریب ہے کہ تو ان میں سے ایک کو بھی سواری کے قابل نہ پائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّمَا النَّاسُ كَالإِبِلِ الْمِائَةُ لاَ تَكَادُ تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً ".
#6499
Narrated Jundub:The Prophet (ﷺ) said, "He who lets the people hear of his good deeds intentionally, to win their praise, Allah will let the people know his real intention (on the Day of Resurrection), and he who does good things in public to show off and win the praise of the people, Allah will disclose his real intention (and humiliate him)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، کہا مجھ سے سلمہ بن کہیل نے بیان کیا۔ (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے سلمہ نے بیان کیا کہ میں نے جندب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور میں نے آپ کے سوا کسی کو یہ کہتے نہیں سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، چنانچہ میں ان کے قریب پہنچا تو میں نے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( کسی نیک کام کے نتیجہ میں ) جو شہرت کا طالب ہو اللہ تعالیٰ اس کی بدنیتی قیامت کے دن سب کو سنا دے گا۔ اسی طرح جو کوئی لوگوں کو دکھانے کے لیے نیک کام کرے گا اللہ بھی قیامت کے دن اس کو سب لوگوں کو دکھلا دے گا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ،. وَحَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ جُنْدَبًا، يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم غَيْرَهُ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ، وَمَنْ يُرَائِي يُرَائِي اللَّهُ بِهِ ".
#6500
Narrated Mu`adh bin Jabal:While I was riding behind the Prophet (ﷺ) as a companion rider and there was nothing between me and him except the back of the saddle, he said, "O Mu`adh!" I replied, "Labbaik O Allah's Messenger (ﷺ)! And Sa`daik!" He proceeded for a while and then said, "O Mu`adh!" I said, "Labbaik and Sa`daik, O Allah's Messenger (ﷺ)!" He then proceeded for another while and said, "O Mu`adh bin Jabal!" I replied, "Labbaik, O Allah's Messenger (ﷺ), and Sa`daik!" He said, "Do you know what is Allah's right on His slaves?" I replied, "Allah and His Apostle know better." He said, "Allah's right on his slaves is that they should worship Him and not worship anything besides Him." He then proceeded for a while, and again said, "O Mu`adh bin Jabal!" I replied. "Labbaik, O Allah's Messenger (ﷺ), and Sa`daik." He said, "Do you know what is (Allah's) slaves' (people's) right on Allah if they did that?" I replied, "Allah and His Apostle know better." He said, "The right of (Allah's) slaves on Allah is that He should not punish them (if they did that)
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمام بن حارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ سوا کجاوہ کے آخری حصہ کے میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے معاذ! میں نے عرض کیا لبیک وسعدیک، یا رسول اللہ! پھر تھوڑی دیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے پھر فرمایا، اے معاذ! میں نے عرض کیا لبیک وسعدیک یا رسول اللہ! پھر تھوڑی دیر مزید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے۔ پھر فرمایا، اے معاذ! میں نے عرض کیا لبیک وسعدیک یا رسول اللہ! فرمایا، تمہیں معلوم ہے کہ اللہ کا اپنے بندوں پر کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا، اللہ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ اللہ ہی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر چلتے رہے اور فرمایا، اے معاذ بن جبل! میں نے عرض کیا لبیک وسعدیک یا رسول اللہ! فرمایا، تمہیں معلوم ہے کہ جب بندے یہ کر لیں تو ان کا اللہ پر کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا کہ بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا رَدِيفُ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلاَّ آخِرَةُ الرَّحْلِ فَقَالَ " يَا مُعَاذُ ". قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ " يَا مُعَاذُ ". قُلْتُ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ " يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ ". قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ. قَالَ " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ ". قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ " حَقُّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ أَنْ يَعْبُدُوهُ، وَلاَ يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ". ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ " يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ ". قُلْتُ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ. قَالَ " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوهُ ". قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ " حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لاَ يُعَذِّبَهُمْ ".