#6151
Narrated Al-Haitham bin Abu Sinan:that he heard Abu Huraira in his narration, mentioning that the Prophet (ﷺ) said, "A Muslim brother of yours who does not say dirty words." and by that he meant Ibn Rawaha, "said (in verse): 'We have Allah's Messenger (ﷺ) with us who recites the Holy Qur'an in the early morning time. He gave us guidance and light while we were blind and astray, so our hearts are sure that whatever he says, will certainly happen. He does not touch his bed at night, being busy in worshipping Allah while the pagans are sound asleep in their beds
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ہشیم بن ابی سنان نے خبر دی کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ حالات اور قصص کے تحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کر رہے تھے۔ کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے ایک بھائی نے کوئی بری بات نہیں کہی۔ آپ کا اشارہ ابن رواحہ کی طرف تھا ( اپنے اشعار میں ) انہوں نے یوں کہا تھا ”اور ہم میں اللہ کے رسول ہیں جو اس کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں، اس وقت جب فجر کی روشنی پھوٹ کر پھیل جاتی ہے۔ ہمیں انہوں نے گمراہی کے بعد ہدایت کا راستہ دکھایا۔ پس ہمارے دل اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا وہ ضرور واقع ہو گا۔ آپ رات اس طرح گزارتے ہیں کہ ان کا پہلو بستر سے جدا رہتا ہے ( یعنی جاگ کر ) جب کہ کافروں کے بوجھ سے ان کی خواب گاہیں بوجھل ہوئی رہتی ہیں۔“ یونس کے ساتھ اس حدیث کو عقیل نے بھی زہری سے روایت کیا اور محمد بن ولید زبیدی نے زہری سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور عبدالرحمٰن اعرج سے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو روایت کیا۔
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ الْهَيْثَمَ بْنَ أَبِي سِنَانٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، فِي قَصَصِهِ يَذْكُرُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ أَخًا لَكُمْ لاَ يَقُولُ الرَّفَثَ ". يَعْنِي بِذَاكَ ابْنَ رَوَاحَةَ قَالَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ يَتْلُو كِتَابَهُ إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ الْفَجْرِ سَاطِعُ أَرَانَا الْهُدَى بَعْدَ الْعَمَى فَقُلُوبُنَا بِهِ مُوقِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ يَبِيتُ يُجَافِي جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِهِ إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْكَافِرِينَ الْمَضَاجِعُ تَابَعَهُ عُقَيْلٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ. وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ وَالأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
#6152
Narrated Abu Salama bin `Abdur-Rahman bin `Auf:that he heard Hassan bin Thabit Al-Ansari asking the witness of Abu Huraira, saying, "O Abu- Huraira! I beseech you by Allah (to tell me). Did you hear Allah's Messenger (ﷺ) saying' 'O Hassan ! Reply on behalf of Allah's Messenger (ﷺ). O Allah ! Support him (Hassan) with the Holy Spirit (Gabriel).'?" Abu Huraira said, "Yes
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے محمد بن ابی عتیق نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، انہوں نے حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو گواہ بنا کر کہہ رہے تھے کہ اے ابوہریرہ! میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے حسان! اللہ کے رسول کی طرف سے مشرکوں کو جواب دو، اے اللہ! روح القدس کے ذریعہ ان کی مدد کر۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ،. وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيَّ، يَسْتَشْهِدُ أَبَا هُرَيْرَةَ فَيَقُولُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَا حَسَّانُ أَجِبْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَعَمْ.
#6153
Narrated Al-Bara:The Prophet (ﷺ) said to Hassan, "Lampoon them (the pagans) in verse, and Gabriel is with you
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ثابت نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا ان کی ہجو کرو ( یعنی مشرکین قریش کی ) ۔ یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( «هاجهم» کے الفاظ فرمائے ) جبرائیل علیہ السلام تیرے ساتھ ہیں۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِحَسَّانَ " اهْجُهُمْ ـ أَوْ قَالَ هَاجِهِمْ ـ وَجِبْرِيلُ مَعَكَ ".
#6154
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "It is better for a man to fill the inside of his body with pus than to fill it with poetry
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو حنظلہ نے خبر دی، انہیں سالم نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر تم میں سے کوئی شخص اپنا پیٹ پیپ سے بھرے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اسے شعر سے بھرے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا ".
#6155
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ); said, "It is better for anyone of you that the inside of his body be filled with pus which may consume his body, than it be filled with poetry
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوصالح سے سنا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ”اگر تم میں سے کوئی شخص اپنا پیٹ پیپ سے بھر لے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے بھر جائے۔“
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا يَرِيهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا ".
#6156
Narrated `Aisha:Allah, the brother of Abu Al-Qu'ais asked my permission to enter after the verses of Al-Hijab (veiling the ladies) was revealed, and I said, "By Allah, I will not admit him unless I take permission of Allah's Apostle for it was not the brother of Al-Qu'ais who had suckled me, but it was the wife of Al-Qu'ais, who had suckled me." Then Allah's Messenger (ﷺ) entered upon me, and I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! The man has not nursed me but his wife has nursed me." He said, "Admit him because he is your uncle (not from blood relation, but because you have been nursed by his wife), Taribat Yaminuki." `Urwa said, "Because of this reason, ' Aisha used to say: Foster suckling relations render all those things (marriages etc.) illegal which are illegal because of the corresponding blood relations." (See Hadith No. 36, Vol)
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابوقعیس کے بھائی افلح ( میرے رضاعی چچا نے ) مجھ سے پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد اندر آنے کی اجازت چاہی، میں نے کہا کہ اللہ کی قسم جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اجازت نہ دیں گے میں اندر آنے کی اجازت نہیں دوں گی۔ کیونکہ ابوقعیس کے بھائی نے مجھے دودھ نہیں پلایا بلکہ ابوقعیس کی بیوی نے دودھ پلایا ہے۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مرد نے تو مجھے دودھ نہیں پلایا تھا، دودھ تو ان کی بیوی نے پلایا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو، کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں، تمہارے ہاتھ میں مٹی لگے۔ عروہ نے کہا کہ اسی وجہ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ جتنے رشتے خون کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہی سمجھو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ اسْتَأْذَنَ عَلَىَّ بَعْدَ مَا نَزَلَ الْحِجَابُ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لاَ آذَنُ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنَّ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ لَيْسَ هُوَ أَرْضَعَنِي، وَلَكِنْ أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةُ أَبِي الْقُعَيْسِ. فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ لَيْسَ هُوَ أَرْضَعَنِي، وَلَكِنْ أَرْضَعَتْنِي امْرَأَتُهُ. قَالَ " ائْذَنِي لَهُ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ، تَرِبَتْ يَمِينُكِ ". قَالَ عُرْوَةُ فَبِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ حَرِّمُوا مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ.
#6157
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) intended to return home after the performance of the Hajj, and he saw Safiya standing at the entrance of her tent, depressed and sad because she got her menses. The Prophet (ﷺ) said, "Aqra Halqa! --An expression used in the Quraish dialect--"You will detain us." The Prophet (ﷺ) then asked (her), "Did you perform the Tawaf Al-Ifada on the Day of Sacrifice (10th of Dhul-Hijja)?" She said, "Yes." The Prophet (ﷺ) said, "Then you can leave (with us)
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حکم بن عتیبہ نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حج سے ) واپسی کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمے کے دروازہ پر رنجیدہ کھڑی ہیں کیونکہ وہ حائضہ ہو گئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا «عقرى حلقى» ( یہ قریش کا محاورہ ہے ) اب تم ہمیں روکو گی! پھر دریافت فرمایا کیا تم نے قربانی کے دن طواف افاضہ کر لیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں، فرمایا کہ پھر چلو۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ أَرَادَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَنْفِرَ فَرَأَى صَفِيَّةَ عَلَى باب خِبَائِهَا كَئِيبَةً حَزِينَةً لأَنَّهَا حَاضَتْ فَقَالَ " عَقْرَى حَلْقَى ـ لُغَةُ قُرَيْشٍ ـ إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا " ثُمَّ قَالَ " أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ". يَعْنِي الطَّوَافَ قَالَتْ نَعَمْ. قَالَ " فَانْفِرِي إِذًا ".
#6158
Narrated Um Hani:(the daughter of Abu Talib) I visited Allah's Messenger (ﷺ) in the year of the Conquest of Mecca and found him taking a bath, and his daughter, Fatima was screening him. When I greeted him, he said, "Who is it?" I replied, "I am Um Hani, the daughter of Abu Talib." He said, "Welcome, O Um Hani ! " When the Prophet (ﷺ) had finished his bath, he stood up and offered eight rak`at of prayer while he was wrapped in a single garment. When he had finished his prayer, I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! My maternal brother assumes (or claims) that he will murder some man whom I have given shelter, i.e., so-and-so bin Hubaira." Allah's Messenger (ﷺ) said, "O Um Hani! We shelter him whom you have sheltered." Um Hani added, "That happened in the forenoon
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے عمر بن عبیداللہ کے غلام ابوالنضر نے، ان سے ام ہانی بنت ابی طالب کے غلام ابو مرہ نے خبر دی کہ انہوں نے ام ہانی بنت ابی طالب سے سنا۔ انہوں نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے موقع پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ آپ غسل کر رہے ہیں اور آپ کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پردہ کر دیا ہے۔ میں نے سلام کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں؟ میں نے کہا کہ ام ہانی بنت ابی طالب ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ام ہانی! مرحبا ہو۔ جب آپ غسل کر چکے تو کھڑے ہو کر آٹھ رکعات پڑھیں۔ آپ اس وقت ایک کپڑے میں جسم مبارک کو لپیٹے ہوئے تھے۔ جب نماز سے فارغ ہو گئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے بھائی ( علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ) کا خیال ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جسے میں نے امان دے رکھی ہے۔ یعنی فلاں بن ہبیرہ کو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام ہانی جسے تم نے امان دی اسے ہم نے بھی امان دی۔ ام ہانی نے بیان کیا کہ یہ نماز چاشت کی تھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ، تَقُولُ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ، وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ " مَنْ هَذِهِ ". فَقُلْتُ أَنَا أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ. فَقَالَ " مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ ". فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غَسْلِهِ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلاً قَدْ أَجَرْتُهُ فُلاَنُ بْنُ هُبَيْرَةَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ ". قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ وَذَاكَ ضُحًى.
#6159
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) saw a man driving a Badana (a camel for sacrifice) and said (to him). "Ride it." The man said, "It is a Badana." The Prophet (ﷺ) said, "Ride on it." The man said, "It is a Badana." The Prophet (ﷺ) said, Ride on it, woe to you
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ قربانی کے لیے ایک اونٹنی ہانکے لیے جا رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر سوار ہو کر جا، انہوں نے کہا کہ یہ تو قربانی کا جانور ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سوار ہو جا، افسوس «ويلك» دوسری یا تیسری مرتبہ یہ فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ " ارْكَبْهَا ". قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ. قَالَ " ارْكَبْهَا ". قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ. قَالَ " ارْكَبْهَا وَيْلَكَ ".
#6160
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) saw a man driving a Badana (a camel for sacrifice) and said to him, "Ride on it." The man said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! It is a Badana." The Prophet (ﷺ) said, "Ride on it, woe to you!" on the second or third time
مجھ سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، وہ امام مالک سے روایت کرتے ہیں، وہ ابوالزناد سے، وہ اعرج سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ قربانی کا اونٹ ہنکائے جا رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا کہ تو اس پر سوار ہو جا۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو قربانی کا اونٹ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بار یا تیسری بار فرمایا کہ تیری خرابی ہو، تو سوار ہو جا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ لَهُ " ارْكَبْهَا ". قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ. قَالَ " ارْكَبْهَا وَيْلَكَ ". فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ.
#6161
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) was on a journey and he had a black slave called Anjasha, and he was driving the camels (very fast, and there were women riding on those camels). Allah's Messenger (ﷺ) said, "Waihaka (May Allah be merciful to you), O Anjasha! Drive slowly (the camels) with the glass vessels (women)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت بنانی نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے (دوسری سند) اور اس حدیث کو حماد نے ایوب سختیانی سے اور ایوب نے ابوقلابہ سے روایت کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے اور آپ کے ساتھ آپ کا ایک حبشی غلام تھا۔ ان کا نام انجشہ تھا وہ حدی پڑھ رہا تھا ( جس کی وجہ سے سواری تیز چلنے لگی ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”افسوس «ويحك» اے انجشہ! شیشوں کے ساتھ آہستہ آہستہ چل۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،. وَأَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ، وَكَانَ مَعَهُ غُلاَمٌ لَهُ أَسْوَدُ، يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ، يَحْدُو، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ بِالْقَوَارِيرِ ".
#6162
Narrated Abu Bakra:A man praised another man in front of the Prophet. The Prophet (ﷺ) said thrice, "Wailaka (Woe on you) ! You have cut the neck of your brother!" The Prophet (ﷺ) added, "If it is indispensable for anyone of you to praise a person, then he should say, "I think that such-and-such person (is so-and-so), and Allah is the one who will take his accounts (as he knows his reality) and none can sanctify anybody before Allah (and that only if he knows well about that person)
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے خالد نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص نے دوسرے شخص کی تعریف کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افسوس «ويلك» تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی، تین مرتبہ ( یہ فرمایا ) اگر تمہیں کسی کی تعریف ہی کرنی پڑ جائے تو یہ کہو کہ فلاں کے متعلق میرا یہ خیال ہے۔ اگر وہ بات اس کے متعلق جانتا ہو اور اللہ اس کا نگراں ہے میں تو اللہ کے مقابلے میں کسی کو نیک نہیں کہہ سکتا یعنی یوں نہیں کہہ سکتا کہ وہ اللہ کے علم میں بھی نیک ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَثْنَى رَجُلٌ عَلَى رَجُلٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ أَخِيكَ ـ ثَلاَثًا ـ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَادِحًا لاَ مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ أَحْسِبُ فُلاَنًا ـ وَاللَّهُ حَسِيبُهُ ـ وَلاَ أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا. إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ".
#6163
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:While the Prophet (ﷺ) was distributing (war booty etc.) one day, Dhul Khawaisira, a man from the tribe of Bani Tamim, said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Act justly." The Prophets said, "Woe to you! Who else would act justly if I did not act justly?" `Umar said (to the Prophet (ﷺ) ), "Allow me to chop his neck off." The Prophet said, "No, for he has companions (who are apparently so pious that) if anyone of (you compares his prayer with) their prayer, he will consider his prayer inferior to theirs, and similarly his fasting inferior to theirs, but they will desert Islam (go out of religion) as an arrow goes through the victim's body (games etc.) in which case if its Nasl is examined nothing will be seen thereon, and if its Nady is examined, nothing will be seen thereon, and if its Qudhadh is examined, nothing will be seen thereon, for the arrow has gone out too fast even for the excretions and blood to smear over it. Such people will come out at the time of difference among the (Muslim) people and the sign by which they will be recognized, will be a man whose one of the two hands will look like the breast of a woman or a lump of flesh moving loosely." Abu Sa`id added, "I testify that I heard that from the Prophet (ﷺ) and also testify that I was with `Ali when `Ali fought against those people. The man described by the Prophet was searched for among the killed, and was found, and he was exactly as the Prophet (ﷺ) had described him." (See Hadith No. 807, Vol)
مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، ان سے امام اوزاعی نے، ان سے زہری نے، ان سے ابوسلمہ اور ضحاک نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم کر رہے تھے۔ بنی تمیم کے ایک شخص ذوالخویصرۃ نے کہا: یا رسول اللہ! انصاف سے کام لیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، افسوس! اگر میں ہی انصاف نہیں کروں گا تو پھر کون کرے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں تو میں اس کی گردن مار دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ اس کے کچھ ( قبیلہ والے ) ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ تم ان کی نماز کے مقابلہ میں اپنی نماز کو معمولی سمجھو گے اور ان کے روزوں کے مقابلہ میں اپنے روزے کو معمولی سمجھو گے لیکن وہ دین سے اس طرح نکل چکے ہوں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ تیر کے پھل میں دیکھا جائے تو اس پر بھی کوئی نشان نہیں ملے گا۔ اس کی لکڑی پر دیکھا جائے تو اس پر بھی کوئی نشان نہیں ملے گا۔ پھر اس کے دندانوں میں دیکھا جائے اور اس میں بھی کچھ نہیں ملے گا پھر اس کے پر میں دیکھا جائے تو اس میں بھی کچھ نہیں ملے گا۔ ( یعنی شکار کے جسم کو پار کرنے کا کوئی نشان ) تیر لید اور خون کو پار کر کے نکل چکا ہو گا۔ یہ لوگ اس وقت پیدا ہوں گے جب لوگوں میں پھوٹ پڑ جائے گی۔ ( ایک خلیفہ پر متفق نہ ہوں گے ) ان کی نشانی ان کا ایک مرد ( سردار لشکر ) ہو گا۔ جس کا ایک ہاتھ عورت کے پستان کی طرح ہو گا یا ( فرمایا ) گوشت کے لوتھڑے کی طرح تھل تھل ہل رہا ہو گا۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ جب انہوں نے ان خارجیوں سے ( نہروان میں ) جنگ کی تھی۔ مقتولین میں تلاش کی گئی تو ایک شخص انہیں صفات کا لایا گیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی تھیں۔ اس کا ایک ہاتھ پستان کی طرح کا تھا۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَالضَّحَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْسِمُ ذَاتَ يَوْمٍ قِسْمًا فَقَالَ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ ـ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ـ يَا رَسُولَ اللَّهِ اعْدِلْ. قَالَ " وَيْلَكَ مَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ ". فَقَالَ عُمَرُ ائْذَنْ لِي فَلأَضْرِبْ عُنُقَهُ. قَالَ " لاَ، إِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلاَتَهُ مَعَ صَلاَتِهِمْ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمُرُوقِ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يُنْظَرُ إِلَى نَصْلِهِ فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَىْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى رِصَافِهِ فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَىْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى نَضِيِّهِ فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَىْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى قُذَذِهِ فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَىْءٌ، سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ، يَخْرُجُونَ عَلَى حِينِ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ، آيَتُهُمْ رَجُلٌ إِحْدَى يَدَيْهِ مِثْلُ ثَدْىِ الْمَرْأَةِ، أَوْ مِثْلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ ". قَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَشْهَدُ أَنِّي كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ حِينَ قَاتَلَهُمْ، فَالْتُمِسَ فِي الْقَتْلَى، فَأُتِيَ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم.
#6164
Narrated Abu Huraira:A man came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I am ruined!" The Prophet (ﷺ) said, "Waihaka (May Allah be merciful to you) !" The man said, "I have done sexual intercourse with my wife while fasting in Ramadan." The Prophet (ﷺ) said, "Manumit a slave." The man said, " I cannot afford that. " The Prophet (ﷺ) said; "Then fast for two successive months." The man said, " I have no power to do so." The Prophet (ﷺ) said, "Then feed sixty poor persons." The man said, "I have nothing (to feed sixty persons). Later a basket full of dates were brought to the Prophet (ﷺ) and he said (to the man), "Take it and give it in charity." The man said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall I give it to people other than my family? By Him in Whose Hand my life is, there is nobody poorer than me in the whole city of Medina." The Prophet (ﷺ) smiled till his premolar teeth became visible, and said, "Take it." Az-Zuhri said (that the Prophet (ﷺ) said). "Wailaka
ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو امام اوزاعی نے خبر دی، کہا کہ مجھ کو ابن شہاب نے خبر دی، بیان کیا ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں تو تباہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، افسوس ( کیا بات ہوئی؟ ) انہوں نے کہا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک غلام آزاد کر۔ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس غلام ہے ہی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر دو مہینے متواتر روزے رکھ۔ اس نے کہا کہ اس کی مجھ میں طاقت نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔ کہا کہ اتنا بھی میں اپنے پاس نہیں پاتا۔ اس کے بعد کھجور کا ایک ٹوکرا آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے اور صدقہ کر دے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اپنے گھر والوں کے سوا کسی اور کو؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! سارے مدینہ کے دونوں طنابوں یعنی دونوں کناروں میں مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اتنا ہنس دیئے کہ آپ کے آگے کے دندان مبارک دکھائی دینے لگے۔ فرمایا کہ جاؤ تم ہی لے لو۔ اوازاعی کے ساتھ اس حدیث کو یونس نے بھی زہری سے روایت کیا اور عبدالرحمٰن بن خالد نے زہری سے اس حدیث میں بجائے لفظ «ويحك» کے لفظ «ويلك.» روایت کیا ہے ( معنی دونوں کے ایک ہی ہیں ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه أَنَّ رَجُلاً، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ. قَالَ " وَيْحَكَ ". قَالَ وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ. قَالَ " أَعْتِقْ رَقَبَةً ". قَالَ مَا أَجِدُهَا. قَالَ " فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ". قَالَ لاَ أَسْتَطِيعُ. قَالَ " فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ". قَالَ مَا أَجِدُ. فَأُتِيَ بِعَرَقٍ فَقَالَ " خُذْهُ فَتَصَدَّقْ بِهِ ". فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعَلَى غَيْرِ أَهْلِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا بَيْنَ طُنُبَىِ الْمَدِينَةِ أَحْوَجُ مِنِّي. فَضَحِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ قَالَ " خُذْهُ ". تَابَعَهُ يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ. وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَيْلَكَ.
#6165
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:A bedouin said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Inform me about the emigration." The Prophet (ﷺ) said, "Waihaka (May Allah be merciful to you)! The question of emigration is a difficult one. Have you got some camels?" The bedouin said, "Yes." The Prophet (ﷺ) said, "Do you pay their Zakat?" He said, "Yes." The Prophet said, "Go on doing like this from beyond the seas, for Allah will not let your deeds go in vain
ہم سے سلیمان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن شہاب زہری نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یزید لیثی نے اور ان سے ابو سعید خدری نے کہ ایک دیہاتی نے کہا: یا رسول اللہ! ہجرت کے بارے میں مجھے کچھ بتائیے ( اس کی نیت ہجرت کی تھی ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تجھ پر افسوس! ہجرت کو تو نے کیا سمجھا ہے یہ بہت مشکل ہے۔ تمہارے پاس کچھ اونٹ ہیں۔ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تم ان کی زکوٰۃ ادا کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں، فرمایا کہ پھر سات سمندر پار عمل کرتے رہو۔ اللہ تمہارے کسی عمل کے ثواب کو ضائع نہ کرے گا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه أَنَّ أَعْرَابِيًّا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنِ الْهِجْرَةِ. فَقَالَ " وَيْحَكَ إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ شَدِيدٌ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ". قَالَ نَعَمْ. قَالَ " فَهَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا ". قَالَ نَعَمْ. قَالَ " فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا ".
#6166
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "Wailakum" (woe to you) or "waihakum" (May Allah be merciful to you)." Shu`ba is not sure as to which was the right word. "Do not become disbelievers after me by cutting the necks of one another
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے واقد بن محمد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے ان کے والد سے سنا اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، افسوس ( «ويلكم» یا «ويحكم» ) شعبہ نے بیان کیا کہ شک ان کے شیخ ( واقد بن محمد کو ) تھا۔ میرے بعد تم کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ اور نضر نے شعبہ سے بیان کیا «ويحكم» اور عمر بن محمد نے اپنے والد سے «ويلكم» یا «ويحكم» کے لفظ نقل کئے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، سَمِعْتُ أَبِي، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَيْلَكُمْ ـ أَوْ وَيْحَكُمْ قَالَ شُعْبَةُ شَكَّ هُوَ ـ لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ". وَقَالَ النَّضْرُ عَنْ شُعْبَةَ وَيْحَكُمْ. وَقَالَ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ وَيْلَكُمْ أَوْ وَيْحَكُمْ.
#6167
Narrated Anas:A bedouin came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! When will The Hour be established?" The Prophet (ﷺ) said, "Wailaka (Woe to you), What have you prepared for it?" The bedouin said, "I have not prepared anything for it, except that I love Allah and His Apostle." The Prophet (ﷺ) said, "You will be with those whom you love." We (the companions of the Prophet (ﷺ) ) said, "And will we too be so? The Prophet (ﷺ) said, "Yes." So we became very glad on that day. In the meantime, a slave of Al-Mughira passed by, and he was of the same age as I was. The Prophet (ﷺ) said. "If this (slave) should live long, he will not reach the geriatric old age, but the Hour will be established
ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس نے کہ ایک بدوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، افسوس «ويلك» تم نے اس قیامت کے لیے کیا تیاری کر لی ہے؟ انہوں نے عرض کیا میں نے اس کے لیے تو کوئی تیاری نہیں کی ہے البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم قیامت کے دن ان کے ساتھ ہو، جس سے تم محبت رکھتے ہو۔ ہم نے عرض کیا اور ہمارے ساتھ بھی یہی معاملہ ہو گا؟ فرمایا کہ ہاں۔ ہم اس دن بہت زیادہ خوش ہوئے، پھر مغیرہ کے ایک غلام وہاں سے گزرے وہ میرے ہم عمر تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ بچہ زندہ رہا تو اس کے بڑھاپا آنے سے پہلے قیامت قائم ہو جائے گی۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَائِمَةٌ قَالَ " وَيْلَكَ وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا ". قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا إِلاَّ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ. قَالَ " إِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ ". فَقُلْنَا وَنَحْنُ كَذَلِكَ. قَالَ " نَعَمْ ". فَفَرِحْنَا يَوْمَئِذٍ فَرَحًا شَدِيدًا، فَمَرَّ غُلاَمٌ لِلْمُغِيرَةِ وَكَانَ مِنْ أَقْرَانِي فَقَالَ " إِنْ أُخِّرَ هَذَا فَلَنْ يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ". وَاخْتَصَرَهُ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ سَمِعْتُ أَنَسًا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
#6168
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) said, "Everyone will be with those whom he loves
ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انسان اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ".
#6169
Narrated `Abdullah bin Mas`ud:A man came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What do you say about a man who loves some people but cannot catch up with their good deeds?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "Everyone will be with those whom he loves
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود نے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کا اس شخص کے بارے میں کیا ارشاد ہے جو ایک جماعت سے محبت رکھتا ہے لیکن ان سے میل نہیں ہو سکا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔ اس روایت کی متابعت جریر بن حازم، سلیمان بن قرم اور ابوعوانہ نے اعمش سے کی، ان سے ابووائل نے، ان سے عبداللہ بن مسعود نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَقُولُ فِي رَجُلٍ أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمْ يَلْحَقْ بِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ". تَابَعَهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ وَسُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ وَأَبُو عَوَانَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
#6170
Narrated Abu Musa:It was said to the Prophet; , "A man may love some people but he cannot catch up with their good deeds?" The Prophet (ﷺ) said, "Everyone will be with those whom he loves
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا ایک شخص ایک جماعت سے محبت رکھتا ہے لیکن اس سے مل نہیں سکا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔ سفیان کے ساتھ اس روایت کی متابعت ابومعاویہ اور محمد بن عبید نے کی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ قَالَ " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ". تَابَعَهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ.
#6171
Narrated Anas bin Malik:A man asked the Prophet (ﷺ) "When will the Hour be established O Allah's Messenger (ﷺ)?" The Prophet (ﷺ) . said, "What have you prepared for it?" The man said, " I haven't prepared for it much of prayers or fast or alms, but I love Allah and His Apostle." The Prophet (ﷺ) said, "You will be with those whom you love
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو ہمارے والد عثمان مروزی نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں عمرو بن مرہ نے، انہیں سالم بن ابی الجعد نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! قیامت کب قائم ہو گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اس کے لیے بہت ساری نمازیں، روزے اور صدقے نہیں تیار کر رکھے ہیں، لیکن میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کے ساتھ ہو جس سے تم محبت رکھتے ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَتَّى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ". قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ صَلاَةٍ وَلاَ صَوْمٍ وَلاَ صَدَقَةٍ، وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ. قَالَ " أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ ".
#6172
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) said to Ibn Saiyad "I have hidden something for you in my mind; What is it?" He said, "Ad-Dukh." The Prophet (ﷺ) said, "Ikhsa
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے مسلم بن زریر نے بیان کیا، کہا میں نے ابورجاء سے سنا اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا ”میں نے اس وقت اپنے دل میں ایک بات چھپا رکھی ہے، وہ کیا ہے؟“ وہ بولا «الدخ.» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چل دور ہو جا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ، سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاِبْنِ صَائِدٍ " قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا فَمَا هُوَ ". قَالَ الدُّخُّ. قَالَ " اخْسَأْ ".
#6173
Narrated `Abdullah bin `Umar:`Umar bin Al-Khattab set out with Allah's Messenger (ﷺ), and a group of his companions to Ibn Saiyad. They found him playing with the boys in the fort or near the Hillocks of Bani Maghala. Ibn Saiyad was nearing his puberty at that time, and he did not notice the arrival of the Prophet (ﷺ) till Allah's Apostle stroked him on the back with his hand and said, "Do you testify that I am Allah's Messenger (ﷺ)?" Ibn Saiyad looked at him and said, "I testify that you are the Apostle of the unlettered ones (illiterates)". Then Ibn Saiyad said to the Prophets . "Do you testify that I am Allah's Messenger (ﷺ)?" The Prophet denied that, saying, "I believe in Allah and all His Apostles," and then said to Ibn Saiyad, "What do you see?" Ibn Saiyad said, "True people and liars visit me." The Prophet (ﷺ) said, "You have been confused as to this matter." Allah's Messenger (ﷺ) added, "I have kept something for you (in my mind)." Ibn Saiyad said, "Ad-Dukh." The Prophet (ﷺ) said, "Ikhsa (you should be ashamed) for you can not cross your limits." `Umar said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Allow me to chop off h is neck." Allah's Apostle said (to `Umar). "Should this person be him (i.e. Ad-Dajjal) then you cannot over-power him; and should he be someone else, then it will be no use your killing him." `Abdullah bin `Umar added: Later on Allah's Messenger (ﷺ) and Ubai bin Ka`b Al-Ansari (once again) went to the garden in which Ibn Saiyad was present. When Allah's Messenger (ﷺ) entered the garden, he started hiding behind the trunks of the date-palms intending to hear something from Ibn Saiyad before the latter could see him. Ibn Saiyad was Lying on his bed, covered with a velvet sheet from where his mumur were heard. Ibn Saiyad's mother saw the Prophet and said, "O Saf (the nickname of Ibn Saiyad)! Here is Muhammad!" Ibn Saiyad stopped his murmuring. The Prophet (ﷺ) said, "If his mother had kept quiet, then I would have learnt more about him." `Abdullah added: Allah's Messenger (ﷺ) stood up before the people (delivering a sermon), and after praising and glorifying Allah as He deserved, he mentioned the Ad-Dajjal saying, "I warn you against him, and there has been no prophet but warned his followers against him. Noah warned his followers against him but I am telling you about him, something which no prophet has told his people of, and that is: Know that he is blind in one eye where as Allah is not so
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی، کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابن صیاد کی طرف گئے۔ بہت سے دوسرے صحابہ بھی ساتھ تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ چند بچوں کے ساتھ بنی مغالہ کے قلعہ کے پاس کھیل رہا ہے۔ ان دنوں ابن صیاد بلوغ کے قریب تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا اسے احساس نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ آپ نے اس کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ مارا۔ پھر فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ کر کہا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے یعنی ( عربوں کے ) رسول ہیں۔ پھر ابن صیاد نے کہا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اسے دفع کر دیا اور فرمایا، میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا۔ پھر ابن صیاد سے آپ نے پوچھا، تم کیا دیکھتے ہو؟ اس نے کہا کہ میرے پاس سچا اور جھوٹا دونوں آتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لیے معاملہ کو مشتبہ کر دیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے ایک بات اپنے دل میں چھپا رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ وہ «الدخ.» ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دور ہو، اپنی حیثیت سے آگے نہ بڑھ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے اجازت دیں گے کہ اسے قتل کر دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر یہ وہی ( دجال ) ہے تو اس پر غالب نہیں ہوا جا سکتا اور اگر یہ دجال نہیں ہے تو اسے قتل کرنے میں کوئی خیر نہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ، حَتَّى وَجَدَهُ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فِي أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ، وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ، فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ". فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الأُمِّيِّينَ. ثُمَّ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَرَضَّهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ". ثُمَّ قَالَ لاِبْنِ صَيَّادٍ " مَاذَا تَرَى ". قَالَ يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خُلِّطَ عَلَيْكَ الأَمْرُ ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا ". قَالَ هُوَ الدُّخُّ. قَالَ " اخْسَأْ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ ". قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْذَنُ لِي فِيهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ يَكُنْ هُوَ لاَ تُسَلَّطُ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ هُوَ فَلاَ خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ ". قَالَ سَالِمٌ فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ الأَنْصَارِيُّ يَؤُمَّانِ النَّخْلَ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، وَهْوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنِ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ، وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْرَمَةٌ أَوْ زَمْزَمَةٌ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، فَقَالَتْ لاِبْنِ صَيَّادٍ أَىْ صَافِ ـ وَهْوَ اسْمُهُ ـ هَذَا مُحَمَّدٌ. فَتَنَاهَى ابْنُ صَيَّادٍ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ ". قَالَ سَالِمٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ " إِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ وَقَدْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ، لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ، وَلَكِنِّي سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلاً لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ، تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ، وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ". قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ خَسَأْتُ الْكَلْبَ بَعَّدْتُهُ خَاسِئِينَ مُبْعَدِينَ
#6174
سالم نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابی بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر اس کھجور کے باغ کی طرف روانہ ہوئے جہاں ابن صیاد رہتا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں پہنچے تو آپ نے کھجور کی ٹہنیوں میں چھپنا شروع کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ اس سے پہلے کہ وہ دیکھے چھپ کر کسی بہانے ابن صیاد کی کوئی بات سنیں۔ ابن صیاد ایک مخملی چادر کے بستر پر لیٹا ہوا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا۔ ابن صیاد کی ماں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کے تنوں سے چھپ کر آتے ہوئے دیکھ لیا اور اسے بتا دیا کہ اے صاف! ( یہ اس کا نام تھا ) محمد آ رہے ہیں۔ چنانچہ وہ متنبہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس کی ماں اسے متنبہ نہ کرتی تو بات صاف ہو جاتی۔
#6175
سالم نے بیان کیا کہ عبداللہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے مجمع میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی اس کی شان کے مطابق تعریف کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا کہ میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں۔ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس سے نہ ڈرایا ہو۔ نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا لیکن میں اس کی تمہیں ایک ایسی نشانی بتاؤں گا جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی تم جانتے ہو کہ وہ کانا ہو گا اور اللہ کانا نہیں ہے۔