#5876
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) had a golden ring made for himself, and when he wore it. he used to turn its stone toward the palm of his! hand. So the people too had gold made for themselves. The Prophet (ﷺ) then ascended the pulpit, and after glorifying and praising Allah, he said, "I had it made for me, but now I will never wear it again." He threw it away, and then the people threw away their rings too. (Juwairiya, a subnarrator, said: I think Anas said that the Prophet (ﷺ) was wearing the ring in his right hand
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ایک سونے کی انگوٹھی بنوائی اور پہننے میں آپ اس کا رنگ اندر کی طرف رکھتے تھے۔ آپ کی دیکھا دیکھی لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنا لیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور اللہ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا میں نے بھی سونے کی انگوٹھی بنوائی تھی۔ ( حرمت نازل ہونے کے بعد ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب میں اسے نہیں پہنوں گا۔ پھر آپ نے وہ انگوٹھی پھینک دی اور لوگوں نے بھی اپنی سونے کی انگوٹھیوں کو پھینک دیا۔ جویریہ نے بیان کیا کہ مجھے یہی یاد ہے کہ نافع نے ”داہنے ہاتھ میں“ بیان کیا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، جَعَلَ فَصَّهُ فِي بَطْنِ كَفِّهِ إِذَا لَبِسَهُ، فَاصْطَنَعَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ مِنْ ذَهَبٍ، فَرَقِيَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ فَقَالَ " إِنِّي كُنْتُ اصْطَنَعْتُهُ، وَإِنِّي لاَ أَلْبَسُهُ ". فَنَبَذَهُ فَنَبَذَ النَّاسُ. قَالَ جُوَيْرِيَةُ وَلاَ أَحْسِبُهُ إِلاَّ قَالَ فِي يَدِهِ الْيُمْنَى.
#5877
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) took a silver ring and had 'Muhammad, the Apostle' of Allah' engraved on it. The Prophet then said (to us), 'I have a silver ring with 'Muhammad, the Messenger of Allah engraved on it, so none of you should have the same engraving on his ring
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس میں یہ نقش کھدوایا «محمد رسول الله» اور لوگوں سے کہہ دیا کہ میں نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوا کر اس پر «محمد رسول الله» نقش کروایا ہے۔ اس لیے اب کوئی شخص یہ نقش اپنی انگوٹھی پر نہ کھدوائے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، وَنَقَشَ فِيهِ، مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ. وَقَالَ " إِنِّي اتَّخَذْتُ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، وَنَقَشْتُ فِيهِ، مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ. فَلاَ يَنْقُشَنَّ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِهِ ".
#5878
Narrated Anas:that when Abu Bakr became the Caliph, he wrote a letter to him (and stamped it with the Prophet's ring) and the engraving of the ring was in three lines: Muhammad in one line, 'Apostle' in another line, and 'Allah' in a third line
مجھ سے عبداللہ انصاری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد عبداللہ بن مثنیٰ نے بیان کیا، ان سے ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ جب خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مجھ کو زکوٰۃ کے مسائل لکھوا دیئے اور انگوٹھی ( مہر ) کا نقش تین سطروں میں تھا ایک سطر میں ”محمد“ دوسری سطر میں ”رسول“ اور تیسری سطر میں ”اللہ“۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ لَمَّا اسْتُخْلِفَ كَتَبَ لَهُ، وَكَانَ نَقْشُ الْخَاتَمِ ثَلاَثَةَ أَسْطُرٍ. مُحَمَّدٌ سَطْرٌ، وَرَسُولُ سَطْرٌ، وَاللَّهِ سَطْرٌ.
#5879
Anas added:The ring of the Prophet (ﷺ) was in his hand, and after him, in Abu Bakr's hand, and then in `Umar's hand after Abu Bakr. When `Uthman was the Caliph, once he was sitting at the well of Aris. He removed the ring from his hand and while he was trifling with it, dropped into the well. We kept on going to the well with `Uthman for three days looking for the ring, and finally the well was drained, but the ring was not found
امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے امام احمد بن حنبل نے اتنا اور روایت کیا، کہا مجھ سے محمد بن عبداللہ انصاری نے، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے، ان سے ثمامہ بن عبداللہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی وفات تک آپ کے ہاتھ میں رہی۔ آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ آیا تو وہ اریس کے کنویں پر ایک مرتبہ بیٹھے، بیان کیا کہ پھر انگوٹھی نکالی اور اسے الٹنے پلٹنے لگے کہ اتنے میں وہ ( کنویں میں ) گر گئی۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہم تین دن تک اسے ڈھونڈتے رہے اور کنویں کا سارا پانی بھی کھینچ ڈالا لیکن وہ انگوٹھی نہیں ملی۔
وَزَادَنِي أَحْمَدُ حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي يَدِهِ، وَفِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ بَعْدَهُ، وَفِي يَدِ عُمَرَ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ جَلَسَ عَلَى بِئْرِ أَرِيسَ ـ قَالَ ـ فَأَخْرَجَ الْخَاتَمَ، فَجَعَلَ يَعْبَثُ بِهِ فَسَقَطَ قَالَ فَاخْتَلَفْنَا ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مَعَ عُثْمَانَ فَنَنْزَحُ الْبِئْرَ فَلَمْ نَجِدْهُ.
#5880
Narrated Ibn `Abbas:I offered the `Id prayer with the Prophet (ﷺ) and he offered prayer before the Khutba (sermon). ibn `Abbas added: After the prayer the Prophet (ﷺ) came towards (the rows of) the women and ordered them to give alms, and the women started putting their big and small rings in the garment of Bilal
ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو حسن بن مسلم نے خبر دی، انہیں طاؤس نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ میں عیدالفطر کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی اور ابن وہب نے جریج سے یہ لفظ بڑھائے کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے مجمع کی طرف گئے ( اور صدقہ کی ترغیب دلائی ) تو عورتیں بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں چھلے دار انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ. وَزَادَ ابْنُ وَهْبٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ فَأَتَى النِّسَاءَ فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِيمَ فِي ثَوْبِ بِلاَلٍ.
#5881
Narrated ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) came out on the day of `Id and offered a two-rak`at prayer, and he did not pray any rak`a before it, nor after it. Then he went towards the women and ordered them to give alms. The women started donating their earring and necklaces
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ثابت نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن ( آبادی سے باہر ) گئے اور دو رکعت نماز پڑھائی آپ نے اس سے پہلے اور اس کے بعد کوئی دوسری نفل نماز نہیں پڑھی پھر آپ عورتوں کے مجمع کی طرف آئے اور انہیں صدقہ کا حکم فرمایا۔ چنانچہ عورتیں اپنی بالیاں اور خوشبو اور مشک کے ہار صدقہ میں دینے لگیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ عِيدٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، لَمْ يُصَلِّ قَبْلُ وَلاَ بَعْدُ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تَصَدَّقُ بِخُرْصِهَا وَسِخَابِهَا.
#5882
Narrated `Aisha:A necklace belonging to Asma' was lost, and the Prophet (ﷺ) sent men in its search. The time for the prayer became due and they were without ablution and they could not find water; therefore they prayed without ablution, They mentioned that to the Prophet (ﷺ) . Then Allah revealed the Verse of Tayammum. (`Aisha added: that she had borrowed (the necklace) from Asma
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اسماء رضی اللہ عنہا کا ہار ( جو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے عاریت پر لیا تھا ) گم ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تلاش کرنے کے لیے چند صحابہ کو بھیجا اسی دوران میں نماز کا وقت ہو گیا اور لوگ بلا وضو ( وضو کے بغیر ) تھے چونکہ پانی بھی موجود نہیں تھا، اس لیے سب نے بلا وضو نماز پڑھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو تیمم کی آیت نازل ہوئی۔ ابن نمیر نے یہ اضافہ کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ وہ ہار انہوں نے اسماء سے عاریتاً لیا تھا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ هَلَكَتْ قِلاَدَةٌ لأَسْمَاءَ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي طَلَبِهَا رِجَالاً، فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ وَلَيْسُوا عَلَى وُضُوءٍ وَلَمْ يَجِدُوا مَاءً، فَصَلَّوْا وَهُمْ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ. زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ.
#5883
Narrated Ibn `Abbas:"The Prophet (ﷺ) offered a two-rak`at prayer on `Id day and he did not offer any (Nawafil prayer) before or after it. He then went towards the women, and Bilal was accompanying him, and ordered them to give alms. And so the women started giving their earrings (etc)
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عدی بن ثابت نے خبر دی، کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن دو رکعتیں پڑھائیں نہ اس کے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد پھر آپ عورتوں کی طرف تشریف لائے، آپ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ نے عورتوں کو صدقہ کا حکم فرمایا تو وہ اپنی بالیاں بلال رضی اللہ عنہ کی جھولی میں ڈالنے لگیں۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَدِيٌّ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدًا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى يَوْمَ الْعِيدِ رَكْعَتَيْنِ، لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلاَ بَعْدَهَا ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلاَلٌ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي قُرْطَهَا.
#5884
Narrated Abu Huraira:I was with Allah's Messenger (ﷺ) in one of the Markets of Medina. He left (the market) and so did I. Then he asked thrice, "Where is the small (child)?" Then he said, "Call Al-Hasan bin `Ali." So Al-Hasan bin `Ali got up and started walking with a necklace (of beads) around his neck. The Prophet (ﷺ) stretched his hand out like this, and Al-Hasan did the same. The Prophet (ﷺ) embraced him and said, "O Allah! I love him, so please love him and love those who love him." Since Allah's Messenger (ﷺ) said that. nothing has been dearer to me than Al-Hasan
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا، کہا ہم کو یحییٰ بن آدم نے خبر دی، کہا ہم سے ورقاء بن عمر نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن ابی یزید نے، ان سے نافع بن جبیر نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مدینہ کے بازاروں میں سے ایک بازار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو میں پھر آپ کے ساتھ واپس ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچہ کہاں ہے۔ یہ آپ نے تین مرتبہ فرمایا۔ حسن بن علی کو بلاؤ۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہما آ رہے تھے اور ان کی گردن میں ( خوشبودار لونگ وغیرہ کا ) ہار پڑا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس طرح پھیلایا کہ ( آپ حسن رضی اللہ عنہ کو گلے سے لگانے کے لیے ) اور حسن رضی اللہ عنہ نے بھی اپنا ہاتھ پھیلایا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر اور ان سے بھی محبت کر جو اس سے محبت رکھیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے بعد کوئی شخص بھی حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے زیادہ مجھے پیارا نہیں تھا۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سُوقٍ مِنْ أَسْوَاقِ الْمَدِينَةِ فَانْصَرَفَ فَانْصَرَفْتُ فَقَالَ " أَيْنَ لُكَعُ ـ ثَلاَثًا ـ ادْعُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ ". فَقَامَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يَمْشِي وَفِي عُنُقِهِ السِّخَابُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ هَكَذَا، فَقَالَ الْحَسَنُ بِيَدِهِ، هَكَذَا فَالْتَزَمَهُ فَقَالَ " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ، فَأَحِبَّهُ، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَمَا كَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَىَّ مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ بَعْدَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا قَالَ.
#5885
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) cursed those men who are in the similitude (assume the manners) of women and those women who are in the similitude (assume the manners) of men
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت بھیجی جو عورتوں جیسا چال چلن اختیار کریں اور ان عورتوں پر لعنت بھیجی جو مردوں جیسا چال چلن اختیار کریں۔ غندر کے ساتھ اس حدیث کو عمرو بن مرزوق نے بھی شعبہ سے روایت کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ. تَابَعَهُ عَمْرٌو أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ.
#5886
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) cursed effeminate men (those men who are in the similitude (assume the manners of women) and those women who assume the manners of men, and he said, "Turn them out of your houses ." The Prophet (ﷺ) turned out such-and-such man, and `Umar turned out such-and-such woman
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخنث مردوں پر اور مردوں کی چال چلن اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی اور فرمایا کہ ان زنانہ بننے والے مردوں کو اپنے گھروں سے باہر نکال دو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں ہیجڑے کو نکالا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ نے فلاں ہیجڑے کو نکالا تھا۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَعَنَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ، وَالْمُتَرَجِّلاَتِ مِنَ النِّسَاءِ وَقَالَ " أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ ". قَالَ فَأَخْرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فُلاَنًا، وَأَخْرَجَ عُمَرُ فُلاَنًا.
#5887
Narrated Um Salama:that once the Prophet (ﷺ) was in her house, and an effeminate man was there too. The effeminate man said to `Abdullah, (Um Salama's brother) "0 `Abdullah! If Ta'if should be conquered tomorrow, I recommend you the daughter of Ghailan, for she is so fat that she has four curves in the front (of her belly) and eight at the back." So the Prophet (ﷺ) said (to his wives) "These effeminate (men) should not enter upon you (your houses)
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہیں عروہ نے خبر دی، انہیں زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی اور انہیں ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف رکھتے تھے۔ گھر میں ایک مخنث بھی تھا، اس نے ام سلمہ رضی اللہ عنہما کے بھائی عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا عبداللہ! اگر کل تمہیں طائف پر فتح حاصل ہو جائے تو میں تمہیں بنت غیلان ( بادیہ نامی ) کو دکھلاؤں گا وہ جب سامنے آتی ہے تو ( اس کے موٹاپے کی وجہ سے ) چار سلوٹیں دکھائی دیتی ہیں اور جب پیٹھ پھیرتی ہے تو آٹھ سلوٹیں دکھائی دیتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب یہ شخص تم لوگوں کے پاس نہ آیا کرے۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ سامنے سے چار سلوٹوں کا مطلب یہ ہے کہ ( موٹے ہونے کی وجہ سے ) اس کے پیٹ میں چار سلوٹیں پڑی ہوئی ہیں اور جب وہ سامنے آتی ہے تو وہ دکھائی دیتی ہیں اور آٹھ سلوٹوں سے پیچھے پھرتی ہے کا مفہوم ہے ( آگے کی ) ان چاروں سلوٹوں کے کنارے کیونکہ یہ دونوں پہلوؤں کو گھیرے ہوئے ہوتے ہیں اور پھر وہ مل جاتی ہیں اور حدیث میں «بثمان» کا لفظ ہے حالانکہ از روئے قائدہ نحو کے «بثمانية.» ہونا تھا کیونکہ مراد آٹھ اطراف یعنی کنارے ہیں اور «لأطراف»، «طرف» کی جمع ہے اور «طرف» کا لفظ مذکر ہے۔ مگر چونکہ «لأطراف» کا لفظ مذکور نہ تھا اس لیے «بثمان» بھی کہنا درست ہوا۔
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، أَنَّ عُرْوَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ عِنْدَهَا وَفِي الْبَيْتِ مُخَنَّثٌ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ أَخِي أُمِّ سَلَمَةَ يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنْ فُتِحَ لَكُمْ غَدًا الطَّائِفُ، فَإِنِّي أَدُلُّكَ عَلَى بِنْتِ غَيْلاَنَ، فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَدْخُلَنَّ هَؤُلاَءِ عَلَيْكُنَّ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ يَعْنِي أَرْبَعَ عُكَنِ بَطْنِهَا، فَهْىَ تُقْبِلُ بِهِنَّ، وَقَوْلُهُ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ. يَعْنِي أَطْرَافَ هَذِهِ الْعُكَنِ الأَرْبَعِ، لأَنَّهَا مُحِيطَةٌ بِالْجَنْبَيْنِ حَتَّى لَحِقَتْ وَإِنَّمَا قَالَ بِثَمَانٍ. وَلَمْ يَقُلْ بِثَمَانِيَةٍ. وَوَاحِدُ الأَطْرَافِ وَهْوَ ذَكَرٌ، لأَنَّهُ لَمْ يَقُلْ ثَمَانِيَةَ أَطْرَافٍ.
#5888
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "To get the moustaches cut 'short is characteristic of the Fitra
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے حنظلہ بن ابی ہانی نے، ان سے نافع نے بیان کیا، (امام بخاری رحمہ اللہ نے) کہا کہ اس حدیث کو ہمارے اصحاب نے مکی سے روایت کیا، انہوں نے بحوالہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مونچھ کے بال کتروانا پیدائشی سنت ہے۔“
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ أَصْحَابُنَا عَنِ الْمَكِّيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مِنَ الْفِطْرَةِ قَصُّ الشَّارِبِ ".
#5889
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Five practices are characteristics of the Fitra: circumcision, shaving the pubic region, clipping the nails and cutting the moustaches short
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ زہری نے ہم سے بیان کیا (سفیان نے کہا) ہم سے زہری نے سعید بن مسیب سے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے) روایت کیا کہ پانچ چیزیں ( فرمایا کہ ) پانچ چیزیں ختنہ کرانا، موئے زیر ناف مونڈنا، بغل کے بال نوچنا، ناخن ترشوانا اور مونچھ کم کرانا پیدائشی سنتوں میں سے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رِوَايَةً " الْفِطْرَةُ خَمْسٌ ـ أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ ـ الْخِتَانُ، وَالاِسْتِحْدَادُ، وَنَتْفُ الإِبْطِ، وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ ".
#5890
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "To shave the pubic hair. to clip the nails and to cut the moustaches short, are characteristics of the Fitra
ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسحاق بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے حنظلہ سے سنا، انہوں نے نافع سے بیان کیا اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”موئے زیر ناف مونڈنا، ناخن ترشوانا اور مونچھ کترانا پیدائشی سنتیں ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مِنَ الْفِطْرَةِ حَلْقُ الْعَانَةِ، وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ ".
#5891
Narrated Abu Huraira:I heard the Prophet (ﷺ) saying. "Five practices are characteristics of the Fitra: circumcision, shaving the pubic hair, cutting the moustaches short, clipping the nails, and depilating the hair of the armpits
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پانچ چیزیں ختنہ کرانا، زیر ناف مونڈنا، مونچھ کترانا، ناخن ترشوانا اور بغل کے بال نوچنا پیدائشی سنتیں ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْفِطْرَةُ خَمْسٌ الْخِتَانُ، وَالاِسْتِحْدَادُ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ، وَنَتْفُ الآبَاطِ ".
#5892
Narrated Nafi`:Ibn `Umar said, The Prophet (ﷺ) said, 'Do the opposite of what the pagans do. Keep the beards and cut the moustaches short.' Whenever Ibn `Umar performed the Hajj or `Umra, he used to hold his beard with his hand and cut whatever remained outside his hold
ہم سے محمد بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے، انہوں نے کہا ہم سے عمر بن محمد بن زید نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم مشرکین کے خلاف کرو، داڑھی چھوڑ دو اور مونچھیں کترواؤ۔“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی ( ہاتھ سے ) پکڑ لیتے اور ( مٹھی ) سے جو بال زیادہ ہوتے انہیں کتروا دیتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ، وَفِّرُوا اللِّحَى، وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ ". وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا حَجَّ أَوِ اعْتَمَرَ قَبَضَ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَمَا فَضَلَ أَخَذَهُ.
#5893
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Cut the moustaches short and leave the beard (as it is)
مجھ سے محمد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہمیں عبدہ نے خبر دی، انہیں عبیداللہ بن عمر نے خبر دی، انہیں نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مونچھیں خوب کتروایا لیا کرو اور داڑھی کو بڑھاؤ۔“
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " انْهَكُوا الشَّوَارِبَ، وَأَعْفُوا اللِّحَى ".
#5894
Narrated Muhammad bin Seereen:I asked Anas, "Did the Prophet (ﷺ) dye his hair?" Anas replied, "The Prophet (ﷺ) did not have except a few grey hairs
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب استعمال کیا تھا؟ بولے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ہی بہت کم سفید ہوئے تھے۔
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا أَخَضَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَمْ يَبْلُغِ الشَّيْبَ إِلاَّ قَلِيلاً.
#5895
Narrated Thabit:Anas was asked whether the Prophet (ﷺ) used a a hair dye or not. He replied, "The Prophet (ﷺ) did not have enough grey hair to dye, (such that) if I wanted to count the fading hairs in his beard (I could have)
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خضاب کے متعلق سوال کیا گیا تو احول نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خضاب کی نوبت ہی نہیں آئی تھی اگر میں آپ کی داڑھی کے سفید بال گننا چاہتا تو گن سکتا تھا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ خِضَابِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّهُ لَمْ يَبْلُغْ مَا يَخْضِبُ، لَوْ شِئْتُ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتِهِ فِي لِحْيَتِهِ.
#5896
Narrated IsraiI:`Uthman bin `Abdullah bin Mauhab said, "My people sent me with a bowl of water to Um Salama." Isra'il approximated three fingers ('indicating the small size of the container in which there was some hair of the Prophet. `Uthman added, "If any person suffered from evil eye or some other disease, he would send a vessel (containing water) to Um Salama. I looked into the container (that held the hair of the Prophet) and saw a few red hairs in it
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے عثمان بن عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہ میرے گھر والوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پانی کا ایک پیالہ لے کر بھیجا ( راوی حدیث ) اسرائیل راوی نے تین انگلیاں بند کر لیں یعنی وہ اتنی چھوٹی پیالی تھی اس پیالی میں بالوں کا ایک گچھا تھا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں میں سے کچھ بال تھے۔ عثمان نے کہا جب کسی شخص کو نظر لگ جاتی یا اور کوئی بیماری ہوتی تو وہ اپنا پانی کا برتن بی بی ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج دیتا۔ ( وہ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ڈبو دیتیں ) عثمان نے کہا کہ میں نے نلکی کو دیکھا ( جس میں موئے مبارک رکھے ہوئے تھے ) تو سرخ سرخ بال دکھائی دیئے۔
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ أَرْسَلَنِي أَهْلِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ ـ وَقَبَضَ إِسْرَائِيلُ ثَلاَثَ أَصَابِعَ ـ مِنْ فِضَّةٍ فِيهِ شَعَرٌ مِنْ شَعَرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ إِذَا أَصَابَ الإِنْسَانَ عَيْنٌ أَوْ شَىْءٌ بَعَثَ إِلَيْهَا مِخْضَبَهُ، فَاطَّلَعْتُ فِي الْجُلْجُلِ فَرَأَيْتُ شَعَرَاتٍ حُمْرًا.
#5897
Narrated `Uthman bin `Abdullah bin Mauhab:I went to Um Salama and she brought out for us some of the dyed hair of the Prophet
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلام بن ابی مطیع نے بیان کیا، ان سے عثمان بن عبداللہ بن موہب نے کہ میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند بال نکال کر دکھائے جن پر خضاب لگا ہوا تھا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سَلاَّمٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا شَعَرًا مِنْ شَعَرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَخْضُوبًا.
#5898
Ibn Mauhab also said that Um Salama had shown him the red hair of the Prophet
اور ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، ان سے نصیر بن ابی الاشعث نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن موہب نے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بال دکھایا جو سرخ تھا۔
وَقَالَ لَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا نُصَيْرُ بْنُ أَبِي الأَشْعَثِ، عَنِ ابْنِ مَوْهَبٍ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، أَرَتْهُ شَعَرَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَحْمَرَ.
#5899
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Jews and Christians do not dye their hair so you should do the opposite of what they do
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے زہری نے بیان کیا ان سے ابوسلمہ اور سلیمان بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہود و نصاریٰ خضاب نہیں لگاتے تم ان کے خلاف کرو یعنی خضاب لگایا کرو۔
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لاَ يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ ".
#5900
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) was neither conspicuously tall, nor short; neither, very white, nor tawny. His hair was neither much curled, nor very straight. Allah sent him (as an Apostle) at the age of forty (and after that) he stayed for ten years in Mecca, and for ten more years in Medina. Allah took him unto Him at the age of sixty, and he scarcely had ten white hairs on his head and in his beard
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک بن انس نے بیان کیا، ان سے ربیعہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے ان سے سنا کہ وہ بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت لمبے نہیں تھے اور نہ آپ چھوٹے قد کے ہی تھے ( بلکہ آپ کا بیچ والا قد تھا ) نہ آپ بالکل سفید بھورے تھے اور نہ گندم گوں ہی تھے، آپ کے بال گھونگھریالے الجھے ہوئے نہیں تھے اور نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیس سال کی عمر میں رسول بنایا دس سال آپ نے ( نبوت کے بعد ) مکہ مکرمہ میں قیام کیا اور دس سال مدینہ منورہ میں اور تقریباً ساٹھ سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی۔ وفات کے وقت آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ، وَلاَ بِالْقَصِيرِ، وَلَيْسَ بِالأَبْيَضِ الأَمْهَقِ، وَلَيْسَ بِالآدَمِ، وَلَيْسَ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ، وَلاَ بِالسَّبْطِ، بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً، فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ، وَتَوَفَّاهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً، وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ.