#5826
Narrated Sa`d:On the day of the battle of Uhud, on the right and on the left of the Prophet (ﷺ) were two men wearing white clothes, and I had neither seen them before, nor did I see them afterwards
ہم سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن بشر نے خبر دی، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ احد کے موقع پر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں دو آدمیوں کو ( جو فرشتے تھے ) دیکھا وہ سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے میں نے انہیں نہ اس سے پہلے دیکھا اور نہ اس کے بعد کبھی دیکھا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ رَأَيْتُ بِشِمَالِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَبِيَمِينِهِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ يَوْمَ أُحُدٍ، مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلاَ بَعْدُ.
#5827
Narrated Abu Dharr:I came to the Prophet (ﷺ) while he was wearing white clothes and sleeping. Then I went back to him again after he had got up from his sleep. He said, "Nobody says: 'None has the right to be worshipped but Allah' and then later on he dies while believing in that, except that he will enter Paradise." I said, "Even if he had committed illegal sexual intercourse and theft?" He said. 'Even if he had committed illegal sexual intercourse and theft." I said, "Even if he had committed illegal sexual intercourse and theft?" He said. 'Even if he had committed illegal sexual intercourse and theft." I said, 'Even it he had committed illegal sexual intercourse and theft?' He said, "Even if he had committed illegal sexual intercourse and theft, inspite of the Abu Dharr's dislike. Abu `Abdullah said, "This is at the time of death or before it if one repents and regrets and says "None has the right to be worshipped but Allah. He will be forgiven his sins
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے حسین نے، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے، ان سے یحییٰ بن یعمر نے بیان کیا، ان سے ابو اسود دیلی نے بیان کیا اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کے جسم مبارک پر سفید کپڑا تھا اور آپ سو رہے تھے پھر دوبارہ حاضر ہوا تو آپ بیدار ہو چکے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس بندہ نے بھی کلمہ «لا إله إلا الله» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کو مان لیا اور پھر اسی پر وہ مرا تو جنت میں جائے گا۔ میں نے عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو، میں نے پھر عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔ فرمایا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔ میں نے ( حیرت کی وجہ سے پھر ) عرض کیا چاہے اس زنا کیا ہو یا اس نے چوری کی ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاہے اس نے زنا کیا ہو چاہے اس نے چوری کی ہو۔ ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔ ابوذر رضی اللہ عنہ بعد میں جب بھی یہ حدیث بیان کرتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ابوذر کے «على رغم» ( «وإن رغم أنف أبي ذر.» ) ضرور بیان کرتے۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا یہ صورت کہ ( صرف کلمہ سے جنت میں داخل ہو گا ) یہ اس وقت ہو گی جب موت کے وقت یا اس سے پہلے ( گناہوں سے ) توبہ کی اور کہا کہ «لا إله إلا الله» اس کی مغفرت ہو جائے گی۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا الأَسْوَدِ الدِّيلِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ ـ رضى الله عنه ـ حَدَّثَهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ أَبْيَضُ وَهْوَ نَائِمٌ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَقَدِ اسْتَيْقَظَ فَقَالَ " مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ. ثُمَّ مَاتَ عَلَى ذَلِكَ، إِلاَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ ". قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ". قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ". قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي ذَرٍّ ". وَكَانَ أَبُو ذَرٍّ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا قَالَ وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَرٍّ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ هَذَا عِنْدَ الْمَوْتِ أَوْ قَبْلَهُ، إِذَا تَابَ وَنَدِمَ وَقَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ. غُفِرَ لَهُ.
#5828
Narrated Aba `Uthman An-Nahdi:While we were with `Utba bin Farqad at Adharbijan, there came `Umar's letter indicating that Allah's Apostle had forbidden the use of silk except this much, then he pointed with his index and middle fingers. To our knowledge, by that he meant embroidery
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم سے قتادہ نے، کہا کہ میں نے ابوعثمان نہدی سے سنا کہ ہمارے پاس عمر رضی اللہ عنہ کا مکتوب ( خط ) آیا ہم اس وقت عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ آذر بائیجان میں تھے ( اس میں لکھا تھا ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کے استعمال سے ( مردوں کو ) منع کیا ہے سوا اتنے کے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھے کے قریب کی اپنی دونوں انگلیوں کے اشارے سے اس کی مقدار بتائی۔ ابوعثمان نہدی نے بیان کیا کہ ہماری سمجھ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اس سے ( کپڑے وغیرہ ریشم کے ) پھول بوٹے بنانے سے تھی۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ، أَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ وَنَحْنُ مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ بِأَذْرَبِيجَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ، إِلاَّ هَكَذَا، وَأَشَارَ بِإِصْبَعَيْهِ اللَّتَيْنِ تَلِيَانِ الإِبْهَامَ قَالَ فِيمَا عَلِمْنَا أَنَّهُ يَعْنِي الأَعْلاَمَ.
#5829
Narrated Abu `Uthman:While we were at Adharbijan, `Umar wrote to us: 'Allah's Messenger (ﷺ) forbade wearing silk except this much. Then the Prophet (ﷺ) approximated his two fingers (index and middle fingers) (to illustrate that) to us.' Zuhair (the sub-narrator) raised up his middle and index fingers
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، ان سے عاصم نے بیان، ان سے ابوعثمان نے بیان کیا کہ ہمیں عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا اس وقت ہم آذر بائیجان میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا تھا سوا اتنے کے اور اس کی وضاحت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انگلیوں کے اشارے سے کی تھی۔ زہیر ( راوی حدیث ) نے بیچ کی اور شہادت کی انگلیاں اٹھا کر بتایا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ وَنَحْنُ بِأَذْرَبِيجَانَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ إِلاَّ هَكَذَا، وَصَفَّ لَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِصْبَعَيْهِ. وَرَفَعَ زُهَيْرٌ الْوُسْطَى وَالسَّبَّابَةَ.
#5830
Narrated Abu `Uthman:While we were with `Utba. `Umar wrote to us: The Prophet (ﷺ) said, "There is none who wears silk in this world except that he will wear nothing of it in the Hereafter." ' Abu `Uthman pointed out with his middle and index fingers. This hadith has also been narrated by Abu `Uthman
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے تیمی نے بیان کیا اور ان سے ابوعثمان نے بیان کیا کہ ہم عتبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دنیا میں ریشم جو شخص بھی پہنے گا اسے آخرت میں نہیں پہنایا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ كُنَّا مَعَ عُتْبَةَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يُلْبَسُ الْحَرِيرُ فِي الدُّنْيَا، إِلاَّ لَمْ يُلْبَسْ فِي الآخِرَةِ مِنْهُ ". حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ،، وَأَشَارَ أَبُو عُثْمَانَ، بِإِصْبَعَيْهِ الْمُسَبِّحَةِ وَالْوُسْطَى.
#5831
Narrated Ibn Abi Laila:While Hudhaifa was at Al-Madain, he asked for water whereupon the chief of the village brought him water in a silver cup. Hudhaifa threw it at him and said, "I have thrown it only because I have forbidden him to use it, but he does not stop using it. Allah's Messenger (ﷺ) said, 'Gold, silver, silk and Dibaj (a kind of silk) are for them (unbelievers) in this world and for you (Muslims) in the hereafter
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے، ان سے ابن ابی لیلیٰ نے بیان کیا کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے۔ انہوں نے پانی مانگا۔ ایک دیہاتی چاندی کے برتن میں پانی لایا۔ انہوں نے اسے پھینک دیا اور کہا کہ میں نے صرف اسے اس لیے پھینکا ہے کہ میں اس شخص کو منع کر چکا ہوں ( کہ چاندی کے برتن میں مجھے کھانا اور پانی نہ دیا کرو ) لیکن وہ نہیں مانا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سونا، چاندی، ریشم اور دیبا ان ( کفار ) کے لیے دنیا میں ہے اور تمہارے ( مسلمانوں ) کے لیے آخرت میں۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ كَانَ حُذَيْفَةُ بِالْمَدَايِنِ فَاسْتَسْقَى، فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بِمَاءٍ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَرَمَاهُ بِهِ وَقَالَ إِنِّي لَمْ أَرْمِهِ إِلاَّ أَنِّي نَهَيْتُهُ فَلَمْ يَنْتَهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ وَالْحَرِيرُ وَالدِّيبَاجُ هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَلَكُمْ فِي الآخِرَةِ ".
#5832
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) said, Whoever wears silk in this world shall not wear it in the Hereafter
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، شعبہ نے بیان کیا کہ اس پر میں نے پوچھا کیا یہ روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے؟ عبدالعزیز نے بیان کیا کہ قطعاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مرد ریشمی لباس دنیا میں پہنے گا وہ آخرت میں اسے ہرگز نہیں پہن سکے گا۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ أَعَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ شَدِيدًا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا فَلَنْ يَلْبَسَهُ فِي الآخِرَةِ ".
#5833
Narrated Thabit:I heard Ibn Az-Zubair delivering a sermon, saying, "Muhammad said, 'Whoever wears silk in this world, shall not wear it in the Hereafter
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے بیان کیا کہ میں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس مرد نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں اسے نہیں پہن سکے گا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ، يَخْطُبُ يَقُولُ قَالَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الآخِرَةِ ".
#5834
Narrated Ibn Az-Zubair:I heard `Umar saying, "The Prophet (ﷺ) said, 'Whoever wears silk in this world, shall not wear it in the Hereafter." This hadith is also narrated through 'Umar ibn al-Khattab
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں ابوذہبان خلیفہ بن کعب نے، کہا کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سنا، کہا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس مرد نے دنیا میں ریشم پہنا وہ اسے آخرت میں نہیں پہن سکے گا۔ اور ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے یزید نے کہ معاذ نے بیان کیا کہ مجھے ام عمرو بنت عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي ذُبْيَانَ، خَلِيفَةَ بْنِ كَعْبٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ سَمِعْتُ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الآخِرَةِ ". وَقَالَ لَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ، قَالَتْ مُعَاذَةُ أَخْبَرَتْنِي أُمُّ عَمْرٍو بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، سَمِعَ عُمَرَ، سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ
#5835
Narrated 'Umar bin Al-Khattab (ra):Allah's Messenger (ﷺ) said, "None wears silk in this world, but he who will have no share in the Hereafter
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے علی مبارک نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے عمران بن حطان نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ریشم کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو۔ بیان کی کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ مجھے ابوحفص یعنی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا میں ریشم تو وہی مرد پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ میں نے اس پر کہا کہ سچ کہا اور ابوحفص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی جھوٹی بات نسبت نہیں کر سکتے اور عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے اور ان سے عمران نے اور پوری حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْحَرِيرِ، فَقَالَتِ ائْتِ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَلْهُ. قَالَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ سَلِ ابْنَ عُمَرَ. قَالَ فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو حَفْصٍ ـ يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ فِي الآخِرَةِ ". فَقُلْتُ صَدَقَ وَمَا كَذَبَ أَبُو حَفْصٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ حَدَّثَنَا حَرْبٌ عَنْ يَحْيَى حَدَّثَنِي عِمْرَانُ. وَقَصَّ الْحَدِيثَ.
#5836
Narrated Al-Bara:The Prophet (ﷺ) was given a silk garment as a gift and we started touching it with our hands and admiring it. On that the Prophet (ﷺ) said, "Do you wonder at this?" We said, "Yes." He said, "The handkerchiefs of Sa`d bin Mu`adh in Paradise are better than this
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا اور ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کا ایک کپڑا ہدیہ میں پیش ہوا تو ہم اسے چھونے لگے اور اس کی ( نرمی و ملائمت پر ) حیرت زدہ ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں اس پر حیرت ہے۔ ہم نے عرض کیا جی ہاں فرمایا، جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے بھی اچھے ہیں۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثَوْبُ حَرِيرٍ، فَجَعَلْنَا نَلْمُسُهُ، وَنَتَعَجَّبُ مِنْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا ". قُلْنَا نَعَمْ. قَالَ " مَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ هَذَا ".
#5837
Narrated Hudhaifa:The Prophet (ﷺ) forbade us to drink out of gold and silver vessels, or eat in it, Ann also forbade the wearing of silk and Dibaj or sitting on it
ہم سے علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ان کے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن ابی نجیح سے سنا، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے اور چاندی کے برتن میں پینے اور کھانے سے منع فرمایا تھا اور ریشم اور دیباج پہننے اور اس پر بیٹھنے سے منع فرمایا تھا۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حُذَيْفَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ نَهَانَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَشْرَبَ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَأَنْ نَأْكُلَ فِيهَا، وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ، وَأَنْ نَجْلِسَ عَلَيْهِ.
#5838
Narrated Ibn Azib:The Prophet (ﷺ) forbade us to use the red Mayathir and to use Al-Qassiy
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، انہیں اشعث بن ابی شعثاء نے، ان سے معاویہ بن سوید بن مقرن نے بیان کیا اور ان سے ابن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سرخ «ميثرة» اور «قسي» کے پہننے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ ابْنِ عَازِبٍ، قَالَ نَهَانَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمَيَاثِرِ الْحُمْرِ وَالْقَسِّيِّ.
#5839
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) allowed Az-Zubair and `Abdur-Rahman to wear silk because they were suffering from an itch
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر اور عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما کو کیونکہ انہیں خارش ہو گئی تھی، ریشم پہننے کی اجازت دی تھی۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ رَخَّصَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِلزُّبَيْرِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ لِحِكَّةٍ بِهِمَا.
#5840
Narrated `Ali bin Abi Talib:The Prophet (ﷺ) gave me a silk suit. I went out wearing it, but seeing the signs of anger on his face, I tore it and distributed it among my wives
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن میسرہ نے اور ان سے زید بن وہب نے کہ علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ریشمی دھاریوں والا ایک جوڑا، حلہ عنایت فرمایا۔ میں اسے پہن کر نکلا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر غصہ کے آثار دیکھے۔ چنانچہ میں نے اس کے ٹکڑے کر کے اپنی عزیز عورتوں میں بانٹ دیئے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَسَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حُلَّةً سِيَرَاءَ، فَخَرَجْتُ فِيهَا، فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَشَقَّقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي.
#5841
Narrated `Abdullah bin `Umar:`Umar saw a silk suit being sold, so he said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Why don't you buy it so that you may wear it when delegates come to you, and also on Fridays?" The Prophet (ﷺ) said, "This is worn only by him who has no share in the Hereafter." Afterwards the Prophet (ﷺ) sent to `Umar a silk suit suitable for wearing. `Umar said to the Prophet, "You have given it to me to wear, yet I have heard you saying about it what you said?" The Prophet (ﷺ) said, "I sent it to you so that you might either sell it or give it to somebody else to wear
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ریشمی دھاریوں والا ایک جوڑا فروخت ہوتے دیکھا تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ! بہتر ہے کہ آپ اسے خرید لیں اور وفود سے ملاقات کے وقت اور جمعہ کے دن اسے زیب تن کیا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے وہ پہنتا ہے جس کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ریشم کی دھاریوں والا ایک جوڑا حلہ بھیجا، ہدیہ کے طور پر۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا آپ نے مجھے یہ جوڑا حلہ عنایت فرمایا ہے حالانکہ میں خود آپ سے اس کے بارے میں وہ بات سن چکا ہوں جو آپ نے فرمائی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں یہ کپڑا اس لیے دیا ہے کہ اسے بیچ دو یا ( عورتوں وغیرہ میں سے ) کسی کو پہنا دو۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنِي جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ تُبَاعُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ ابْتَعْتَهَا، تَلْبَسُهَا لِلْوَفْدِ إِذَا أَتَوْكَ وَالْجُمُعَةِ. قَالَ " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ ". وَأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ حُلَّةَ سِيَرَاءَ حَرِيرٍ، كَسَاهَا إِيَّاهُ فَقَالَ عُمَرُ كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ سَمِعْتُكَ تَقُولُ فِيهَا مَا قُلْتَ فَقَالَ " إِنَّمَا بَعَثْتُ إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا أَوْ تَكْسُوَهَا ".
#5842
Narrated Anas bin Malik:that he had seen Um Kulthum, the daughter of Allah's Messenger (ﷺ) , wearing a red silk garment
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو زرد دھاری دار ریشمی جوڑا پہنے دیکھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّهُ رَأَى عَلَى أُمِّ كُلْثُومٍ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بُرْدَ حَرِيرٍ سِيَرَاءَ.
#5843
Narrated Ibn `Abbas:For one year I wanted to ask `Umar about the two women who helped each other against the Prophet (ﷺ) but I was afraid of him. One day he dismounted his riding animal and went among the trees of Arak to answer the call of nature, and when he returned, I asked him and he said, "(They were) `Aisha and Hafsa." Then he added, "We never used to give significance to ladies in the days of the Pre-Islamic period of ignorance, but when Islam came and Allah mentioned their rights, we used to give them their rights but did not allow them to interfere in our affairs. Once there was some dispute between me and my wife and she answered me back in a loud voice. I said to her, 'Strange! You can retort in this way?' She said, 'Yes. Do you say this to me while your daughter troubles Allah's Messenger (ﷺ)?' So I went to Hafsa and said to her, 'I warn you not to disobey Allah and His Apostle.' I first went to Hafsa and then to Um Salama and told her the same. She said to me, 'O `Umar! It surprises me that you interfere in our affairs so much that you would poke your nose even into the affairs of Allah's Messenger (ﷺ) and his wives.' So she rejected my advice. There was an Ansari man; whenever he was absent from Allah's Messenger (ﷺ) and I was present there, I used to convey to him what had happened (on that day), and when I was absent and he was present there, he used to convey to me what had happened as regards news from Allah's Messenger (ﷺ) . During that time all the rulers of the nearby lands had surrendered to Allah's Messenger (ﷺ) except the king of Ghassan in Sham, and we were afraid that he might attack us. All of a sudden the Ansari came and said, 'A great event has happened!' I asked him, 'What is it? Has the Ghassani (king) come?' He said, 'Greater than that! Allah's Messenger (ﷺ) has divorced his wives! I went to them and found all of them weeping in their dwellings, and the Prophet (ﷺ) had ascended to an upper room of his. At the door of the room there was a slave to whom I went and said, "Ask the permission for me to enter." He admitted me and I entered to see the Prophet (ﷺ) lying on a mat that had left its imprint on his side. Under his head there was a leather pillow stuffed with palm fibres. Behold! There were some hides hanging there and some grass for tanning. Then I mentioned what I had said to Hafsa and Um Salama and what reply Um Salama had given me. Allah's Messenger (ﷺ) smiled and stayed there for twenty nine days and then came down." (See Hadith No. 648, Vol. 3 for details)
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے عبید بن حنین نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں عمر رضی اللہ عنہ سے ان عورتوں کے بارے میں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں اتفاق کر لیا تھا، پوچھنے کا ارادہ کرتا رہا لیکن ان کا رعب سامنے آ جاتا تھا۔ ایک دن ( مکہ کے راستہ میں ) ایک منزل پر قیام کیا اور پیلو کے درختوں میں ( وہ قضائے حاجت کے لیے ) تشریف لے گئے۔ جب قضائے حاجت سے فارغ ہو کر واپس تشریف لائے تو میں نے پوچھا انہوں نے بتلایا کہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما ہیں پھر کہا کہ جاہلیت میں ہم عورتوں کو کوئی حیثیت نہیں دیتے تھے۔ جب اسلام آیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر کیا ( اور ان کے حقوق ) مردوں پر بتائے تب ہم نے جانا کہ ان کے بھی ہم پر کچھ حقوق ہیں لیکن اب بھی ہم اپنے معاملات میں ان کا دخیل بننا پسند نہیں کرتے تھے۔ میرے اور میری بیوی میں کچھ گفتگو ہو گئی اور اس نے تیز و تند جواب مجھے دیا تو میں نے اس سے کہا اچھا اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی۔ اس نے کہا تم مجھے یہ کہتے ہو اور تمہاری بیٹی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تکلیف پہنچاتی ہے۔ میں ( اپنی بیٹی ام المؤمنین ) حفصہ کے پاس آیا اور اس سے کہا میں تجھے تنبیہ کرتا ہوں کہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچانے کے معاملہ میں سب سے پہلے میں ہی حفصہ کے یہاں گیا پھر میں ام سلمہ کے پاس آیا اور ان سے بھی یہی بات کہی لیکن انہوں نے کہا کہ حیرت ہے تم پر عمر! تم ہمارے معاملات میں دخیل ہو گئے ہو۔ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج کے معاملات میں دخل دینا باقی تھا۔ ( سو اب وہ بھی شروع کر دیا ) انہوں نے میری بات رد کر دی۔ قبیلہ انصار کے ایک صحابی تھے جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں موجود نہ ہوتے اور میں حاضر ہوتا تو تمام خبریں ان سے آ کر بیان کرتا تھا اور جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے غیر حاضر ہوتا اور وہ موجود ہوتے تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تمام خبریں مجھے آ کر سناتے تھے۔ آپ کے چاروں طرف جتنے ( بادشاہ وغیرہ ) تھے ان سب سے آپ کے تعلقات ٹھیک تھے۔ صرف شام کے ملک غسان کا ہمیں خوف رہتا تھا کہ وہ کہیں ہم پر حملہ نہ کر دے۔ میں نے جو ہوش و حواس درست کئے تو وہی انصاری صحابی تھے اور کہہ رہے تھے کہ ایک حادثہ ہو گیا۔ میں نے کہا کیا بات ہوئی۔ کیا غسان چڑھ آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بھی بڑا حادثہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی۔ میں جب ( مدینہ ) حاضر ہوا تو تمام ازواج کے حجروں سے رونے کی آواز آ رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ پر چلے گئے تھے اور بالا خانہ کے دروازہ پر ایک نوجوان پہرے دار موجود تھا میں نے اس کے پاس پہنچ کر اس سے کہا کہ میرے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر حاضر ہونے کی اجازت مانگ لو پھر میں اندر گیا تو آپ ایک چٹائی پر تشریف رکھتے تھے جس کے نشانات آپ کے پہلو پر پڑے ہوئے تھے اور آپ کے سر کے نیچے ایک چھوٹا سا چمڑے کا تکیہ تھا۔ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ چند کچی کھالیں لٹک رہی تھیں اور ببول کے پتے تھے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ان باتوں کا ذکر کیا جو میں نے حفصہ اور ام سلمہ سے کہی تھیں اور وہ بھی جو ام سلمہ نے میری بات رد کرتے ہوئے کہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مسکرا دیئے۔ آپ نے اس بالا خانہ میں انتیس دن تک قیام کیا پھر آپ وہاں سے نیچے اتر آئے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَبِثْتُ سَنَةً وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَظَاهَرَتَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلْتُ أَهَابُهُ، فَنَزَلَ يَوْمًا مَنْزِلاً فَدَخَلَ الأَرَاكَ، فَلَمَّا خَرَجَ سَأَلْتُهُ فَقَالَ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ ـ ثُمَّ قَالَ ـ كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ لاَ نَعُدُّ النِّسَاءَ شَيْئًا، فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلاَمُ وَذَكَرَهُنَّ اللَّهُ، رَأَيْنَا لَهُنَّ بِذَلِكَ عَلَيْنَا حَقًّا، مِنْ غَيْرِ أَنْ نُدْخِلَهُنَّ فِي شَىْءٍ مِنْ أُمُورِنَا، وَكَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتِي كَلاَمٌ فَأَغْلَظَتْ لِي فَقُلْتُ لَهَا وَإِنَّكِ لَهُنَاكِ. قَالَتْ تَقُولُ هَذَا لِي وَابْنَتُكَ تُؤْذِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْتُ حَفْصَةَ فَقُلْتُ لَهَا إِنِّي أُحَذِّرُكِ أَنْ تَعْصِي اللَّهَ وَرَسُولَهُ. وَتَقَدَّمْتُ إِلَيْهَا فِي أَذَاهُ، فَأَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ فَقُلْتُ لَهَا. فَقَالَتْ أَعْجَبُ مِنْكَ يَا عُمَرُ قَدْ دَخَلْتَ فِي أُمُورِنَا، فَلَمْ يَبْقَ إِلاَّ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَزْوَاجِهِ، فَرَدَّدَتْ، وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِذَا غَابَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَشَهِدْتُهُ أَتَيْتُهُ بِمَا يَكُونُ، وَإِذَا غِبْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَشَهِدَ أَتَانِي بِمَا يَكُونُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ مَنْ حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدِ اسْتَقَامَ لَهُ، فَلَمْ يَبْقَ إِلاَّ مَلِكُ غَسَّانَ بِالشَّأْمِ، كُنَّا نَخَافُ أَنْ يَأْتِيَنَا، فَمَا شَعَرْتُ إِلاَّ بِالأَنْصَارِيِّ وَهْوَ يَقُولُ إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ. قُلْتُ لَهُ وَمَا هُوَ أَجَاءَ الْغَسَّانِيُّ قَالَ أَعْظَمُ مِنْ ذَاكَ، طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ. فَجِئْتُ فَإِذَا الْبُكَاءُ مِنْ حُجَرِهَا كُلِّهَا، وَإِذَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَدْ صَعِدَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ، وَعَلَى باب الْمَشْرُبَةِ وَصِيفٌ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ اسْتَأْذِنْ لِي. فَدَخَلْتُ فَإِذَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ، وَتَحْتَ رَأْسِهِ مِرْفَقَةٌ مِنْ أَدَمٍ، حَشْوُهَا لِيفٌ، وَإِذَا أُهُبٌ مُعَلَّقَةٌ وَقَرَظٌ، فَذَكَرْتُ الَّذِي قُلْتُ لِحَفْصَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَالَّذِي رَدَّتْ عَلَىَّ أُمُّ سَلَمَةَ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَبِثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ نَزَلَ.
#5844
Narrated Um Salama:One night the Prophet (ﷺ) woke up, saying, "None has the right to be worshipped but Allah! How many afflictions have been sent down tonight, and how many treasures have been sent down (disclosed)! Who will go and wake up (for prayers) the lady dwellers of these rooms? Many well dressed soul (people) in this world, will be naked on the Day of Resurrection
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف صنعانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو معمر بن راشد نے خبر دی، انہیں زہری نے خبر دی، انہیں ہندہ بنت حارث نے خبر دی اور ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت بیدار ہوئے اور کہا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، کیسی کیسی بلائیں اس رات میں نازل ہو رہی ہیں اور کیا کیا رحمتیں اس کے خزانوں سے اتر رہی ہیں۔ کوئی ہے جو ان حجرہ والیوں کو بیدار کر دے۔ دیکھو بہت سی دنیا میں پہننے اوڑھنے والیاں آخرت میں ننگی ہوں گی۔ زہری نے بیان کیا کہ ہندہ اپنی آستینوں میں انگلیوں کے درمیان گھنڈیاں لگاتی تھیں، تاکہ صرف انگلیاں کھلیں اس سے آگے نہ کھلے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَتْنِي هِنْدُ بِنْتُ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتِ اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ اللَّيْلِ وَهْوَ يَقُولُ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، مَاذَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْفِتْنَةِ، مَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْخَزَائِنِ، مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجُرَاتِ، كَمْ مِنْ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَتْ هِنْدٌ لَهَا أَزْرَارٌ فِي كُمَّيْهَا بَيْنَ أَصَابِعِهَا.
#5845
Narrated Um Khalid bint Khalid:Some clothes were presented to Allah's Messenger (ﷺ) as a gift and there was a black Khamisa with it. The Prophet asked (his companions), "To whom do you suggest we give this Khamisa?" The people kept quiet. Then he said, "Bring me Um Khalid," So I was brought to him and he dressed me with it with his own hands and said twice, "May you live so long that you will wear out many garments." He then started looking at the embroidery of that Khamisa and said, "O Um Khalid! This is Sana!" (Sana in Ethiopian language means beautiful.) 'Is-haq, a sub-narrator, said: A woman of my family had told me that she had seen the Khamisa worn by Um Khalid
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن سعید بن عمرو بن سعید بن عاص نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ کپڑے آئے جن میں ایک کالی چادر بھی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے، کسے یہ چادر دی جائے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خاموش رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام خالد کو بلا لاؤ۔ چنانچہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اور مجھے وہ چادر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے عنایت فرمائی اور فرمایا دیر تک جیتی رہو، دو مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ پھر آپ اس چادر کے نقش و نگار کو دیکھنے لگے اور اپنے ہاتھ سے میری طرف اشارہ کر کے فرمایا ام خالد! «سنا . والسنا» یہ حبشی زبان کا لفظ ہے یعنی واہ کیا زیب دیتی ہے۔ اسحاق بن سعید نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے گھر کی ایک عورت نے بیان کیا کہا کہ انہوں نے وہ چادر ام خالد رضی اللہ عنہا کے پاس دیکھی تھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ خَالِدٍ بِنْتُ خَالِدٍ، قَالَتْ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِثِيَابٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ قَالَ " مَنْ تَرَوْنَ نَكْسُوهَا هَذِهِ الْخَمِيصَةَ ". فَأُسْكِتَ الْقَوْمُ. قَالَ " ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ ". فَأُتِيَ بِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَلْبَسَهَا بِيَدِهِ وَقَالَ " أَبْلِي وَأَخْلِقِي ". مَرَّتَيْنِ فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى عَلَمِ الْخَمِيصَةِ، وَيُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَىَّ وَيَقُولُ " يَا أُمَّ خَالِدٍ هَذَا سَنَا ". وَالسَّنَا بِلِسَانِ الْحَبَشِيَّةِ الْحَسَنُ. قَالَ إِسْحَاقُ حَدَّثَتْنِي امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِي أَنَّهَا رَأَتْهُ عَلَى أُمِّ خَالِدٍ.
#5846
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) forbade men to use saffron
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی مرد زعفران کے رنگ کا استعمال کرے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ.
#5847
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) forbade Muhrims to wear clothes dyed with Wars or saffron
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا تھا کہ کوئی محرم ورس یا زعفران سے رنگا ہوا کپڑا پہنے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِوَرْسٍ أَوْ بِزَعْفَرَانٍ.
#5848
Narrated Al-Bara:The Prophet (ﷺ) was of a modest height. I saw him wearing a red suit, and I did not see anything better than him
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے اور انہوں نے براء رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میانہ قد تھے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سرخ جوڑے میں دیکھا آپ سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز میں نے نہیں دیکھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعَ الْبَرَاءَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَرْبُوعًا، وَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْهُ.
#5849
Narrated Al-Bara:The Prophet (ﷺ) ordered us to observe seven things: To visit the sick; follow funeral processions; say 'May Allah bestow His Mercy on you', to the sneezer if he says, 'Praise be to Allah!; He forbade us to wear silk, Dibaj, Qassiy and Istibarq (various kinds of silken clothes); or to use red Mayathir (silkcushions). (See Hadith No. 253 A, Vol)
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے اشعث نے، ان سے معاویہ بن سوید بن مقرن نے اور ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چیزوں کا حکم دیا تھا۔ بیمار کی عیادت کا، جنازہ کے پیچھے چلنے کا، چھینکنے والے کا جواب ( یرحمک اللہ سے ) دینے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ریشم، دیبا، قسی، استبرق اور سرخ زین پوشوں کے استعمال سے بھی منع فرمایا تھا۔
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِسَبْعٍ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَنَهَانَا عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ، وَالدِّيبَاجِ، وَالْقَسِّيِّ، وَالإِسْتَبْرَقِ، وَمَيَاثِرِ الْحُمْرِ.
#5850
Narrated Sa`id Abu Maslama:I asked Anas (bin Malik), "Did the Prophet (ﷺ) use to offer the prayers with his shoes on?" He said, "Yes
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی مسلمہ نے، انہوں نے کہا میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سَعِيدٍ أَبِي مَسْلَمَةَ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا أَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ قَالَ نَعَمْ.