#5751
Narrated `Aisha:The Prophet, during his fatal ailment used to blow (on his hands and pass them) over his body while reciting the Mu'auwidhat (Surat-an-Nas and Surat-al-Falaq). When his disease got aggravated, I used to recite them for him and blow (on his hands) and let him pass his hands over his body because of its blessing. (Ma`mar asked Ibn Shihab: How did he use to do Nafth? He said: He used to blow on his hands and then pass them over his face)
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف صنعانی نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض وفات میں معوذات پڑھ کر پھونکتے تھے پھر جب آپ کے لیے یہ دشوار ہو گیا تو میں آپ پر دم کیا کرتی تھی اور برکت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ آپ کے جسم پر پھیرتی تھی۔ ( معمر نے بیان کیا کہ ) پھر میں نے ابن شہاب سے سوال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح دم کیا کرتے تھے؟ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر پھونک مارتے پھر ان کو چہرے پر پھیر لیتے۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَنْفِثُ عَلَى نَفْسِهِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ، فَلَمَّا ثَقُلَ كُنْتُ أَنَا أَنْفِثُ عَلَيْهِ بِهِنَّ، فَأَمْسَحُ بِيَدِ نَفْسِهِ لِبَرَكَتِهَا. فَسَأَلْتُ ابْنَ شِهَابٍ كَيْفَ كَانَ يَنْفِثُ قَالَ يَنْفِثُ عَلَى يَدَيْهِ، ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ.
#5752
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) once came out to us and said, "Some nations were displayed before me. A prophet would pass in front of me with one man, and another with two men, and another with a group of people. and another with nobody with him. Then I saw a great crowd covering the horizon and I wished that they were my followers, but it was said to me, 'This is Moses and his followers.' Then it was said to me, 'Look'' I looked and saw a big gathering with a large number of people covering the horizon. It was said, "Look this way and that way.' So I saw a big crowd covering the horizon. Then it was said to me, "These are your followers, and among them there are 70,000 who will enter Paradise without (being asked about their) accounts. " Then the people dispersed and the Prophet (ﷺ) did not tell who those 70,000 were. So the companions of the Prophet (ﷺ) started talking about that and some of them said, "As regards us, we were born in the era of heathenism, but then we believed in Allah and His Apostle . We think however, that these (70,000) are our offspring." That talk reached the Prophet (ﷺ) who said, "These (70,000) are the people who do not draw an evil omen from (birds) and do not get treated by branding themselves and do not treat with Ruqya, but put their trust (only) in their Lord." then 'Ukasha bin Muhsin got up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Am I one of those (70,000)?" The Prophet (ﷺ) said, "Yes." Then another person got up and said, "Am I one of them?" The Prophet (ﷺ) said, " 'Ukasha has anticipated you
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے حصین بن نمیر نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمارے پاس باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ ( خواب میں ) مجھ پر تمام امتیں پیش کی گئیں۔ بعض نبی گزرتے اور ان کے ساتھ ( ان کی اتباع کرنے والا ) صرف ایک ہوتا۔ بعض گزرتے اور ان کے ساتھ دو ہوتے بعض کے ساتھ پوری جماعت ہوتی اور بعض کے ساتھ کوئی بھی نہ ہوتا پھر میں نے ایک بڑی جماعت دیکھی جس سے آسمان کا کنارہ ڈھک گیا تھا میں سمجھا کہ یہ میری ہی امت ہو گی لیکن مجھ سے کہا گیا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی امت کے لوگ ہیں پھر مجھ سے کہا کہ دیکھو میں نے ایک بہت بڑی جماعت دیکھی جس نے آسمانوں کا کنارہ ڈھانپ لیا ہے۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ ادھر دیکھو، ادھر دیکھو، میں نے دیکھا کہ بہت سی جماعتیں ہیں جو تمام افق پر محیط تھیں۔ کہا گیا کہ یہ آپ کہ امت ہے اور اس میں سے ستر ہزار وہ لوگ ہوں گے جو بے حساب جنت میں داخل کئے جائیں گے پھر صحابہ مختلف جگہوں میں اٹھ کر چلے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپس میں اس کے متعلق مذاکرہ کیا اور کہا کہ ہماری پیدائش تو شرک میں ہوئی تھی البتہ بعد میں ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے لیکن یہ ستر ہزار ہمارے بیٹے ہوں گے جو پیدائش ہی سے مسلمان ہیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ستر ہزار وہ لوگ ہوں گے جو بدفالی نہیں کرتے، نہ منتر سے جھاڑ پھونک کراتے ہیں اور نہ داغ لگاتے ہیں بلکہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ سن کر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ فرمایا کہ ہاں۔ ایک دوسرے صاحب سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عکاشہ تم سے بازی لے گئے کہ تم سے پہلے عکاشہ کے لیے جو ہونا تھا ہو چکا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا فَقَالَ " عُرِضَتْ عَلَىَّ الأُمَمُ فَجَعَلَ يَمُرُّ النَّبِيُّ مَعَهُ الرَّجُلُ وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الرَّجُلاَنِ، وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الرَّهْطُ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، وَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الأُفُقَ فَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ أُمَّتِي، فَقِيلَ هَذَا مُوسَى وَقَوْمُهُ. ثُمَّ قِيلَ لِي انْظُرْ. فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الأُفُقَ فَقِيلَ لِي انْظُرْ هَكَذَا وَهَكَذَا. فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الأُفُقَ فَقِيلَ هَؤُلاَءِ أُمَّتُكَ، وَمَعَ هَؤُلاَءِ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ". فَتَفَرَّقَ النَّاسُ وَلَمْ يُبَيَّنْ لَهُمْ، فَتَذَاكَرَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا أَمَّا نَحْنُ فَوُلِدْنَا فِي الشِّرْكِ، وَلَكِنَّا آمَنَّا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَلَكِنْ هَؤُلاَءِ هُمْ أَبْنَاؤُنَا، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " هُمُ الَّذِينَ لاَ يَتَطَيَّرُونَ، وَلاَ يَسْتَرْقُونَ، وَلاَ يَكْتَوُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ". فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ أَمِنْهُمْ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " نَعَمْ ". فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ أَمِنْهُمْ أَنَا فَقَالَ " سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ ".
#5753
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "There is neither 'Adwa (no contagious disease is conveyed to others without Allah's permission) nor Tiyara, but an evil omen may be in three a woman, a house or an animal
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن عمر نے، کہا کہ ہم سے یونس بن یزید ایلی نے، ان سے سالم نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”امراض میں چھوت چھات کی اور بدشگونی کی کوئی اصل نہیں اور اگر نحوست ہوتی تو یہ صرف تین چیزوں میں ہوتی عورت میں، گھر میں اور گھوڑے میں۔“
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ، وَالشُّؤْمُ فِي ثَلاَثٍ فِي الْمَرْأَةِ، وَالدَّارِ، وَالدَّابَّةِ ".
#5754
Narrated Abu Huraira:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "There is no Tiyara, and the best omen is the Fal." They asked, "What is the Fal?" He said, "A good word that one of you hears (and takes as a good omen)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا ہم کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بدشگونی کی کوئی اصل نہیں البتہ نیک فال لینا کچھ برا نہیں ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: نیک فال کیا چیز ہے؟ فرمایا ”کوئی ایسی بات سننا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ طِيَرَةَ، وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ ". قَالُوا وَمَا الْفَأْلُ قَالَ " الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ ".
#5755
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "There is no Tiyara and the best omen is the Fal," Somebody said, "What is the Fal, O Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, "A good word that one of you hears (and takes as a good omen)
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بدشگونی کی کوئی اصل نہیں اور اس میں بہتر فال نیک ہے۔“ لوگوں نے پوچھا کہ نیک فال کیا ہے یا رسول اللہ؟ فرمایا ”کلمہ صالحہ ( نیک بات ) جو تم میں سے کوئی سنے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ طِيَرَةَ، وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ ". قَالَ وَمَا الْفَأْلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ ".
#5756
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) said, "No 'Adwa (no contagious disease is conveyed to others without Allah's permission), nor Tiyara, but I like the good Fal, i.e., the good word
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چھوت لگ جانے کی کوئی اصل نہیں اور نہ بدشگونی کی کوئی اصل ہے اور مجھے اچھی فال پسند ہے۔“ یعنی کوئی کلمہ خیر اور نیک بات جو کسی کے منہ سے سنی جائے ( جیسا کہ اوپر بیان ہوا ) ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ الصَّالِحُ، الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ ".
#5757
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "There is no 'Adwa, nor Tiyara, nor Hama, nor Safar
ہم سے محمد بن حکم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے نضر بن شمیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو اسرائیل نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ابوحصین (عثمان بن عاصم اسدی) نے خبر دی، انہیں ابوصالح ذکوان نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چھوت لگ جانا بدشگونی یا الو یا صفر کی نحوست یہ کوئی چیز نہیں ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ عَدْوَى، وَلاَ طِيَرَةَ، وَلاَ هَامَةَ، وَلاَ صَفَرَ ".
#5758
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) gave his verdict about two ladies of the Hudhail tribe who had fought each other and one of them had hit the other with a stone. The stone hit her `Abdomen and as she was pregnant, the blow killed the child in her womb. They both filed their case with the Prophet (ﷺ) and he judged that the blood money for what was in her womb. was a slave or a female slave. The guardian of the lady who was fined said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall I be fined for a creature that has neither drunk nor eaten, neither spoke nor cried? A case like that should be nullified." On that the Prophet (ﷺ) said, "This is one of the brothers of soothsayers
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں کے بارے میں جنہوں نے جھگڑا کیا تھا یہاں تک کہ ان میں سے ایک عورت ( ام عطیف بنت مروح ) نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا ( جس کا نام ملیکہ بنت عویمر تھا ) وہ پتھر عورت کے پیٹ میں جا کر لگا۔ یہ عورت حاملہ تھی اس لیے اس کے پیٹ کا بچہ ( پتھر کی چوٹ سے ) مر گیا۔ یہ معاملہ دونوں فریق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو آپ نے فیصلہ کیا کہ عورت کے پیٹ کے بچہ کی دیت ایک غلام یا باندی آزاد کرنا ہے جس عورت پر تاوان واجب ہوا تھا اس کے ولی ( حمل بن مالک بن نابغہ ) نے کہا یا رسول اللہ! میں ایسی چیز کی دیت کیسے دے دوں جس نے نہ کھایا نہ پیا نہ بولا اور نہ ولادت کے وقت اس کی آواز ہی سنائی دی؟ ایسی صورت میں تو کچھ بھی دیت نہیں ہو سکتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ یہ شخص تو کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ اقْتَتَلَتَا، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ، فَأَصَابَ بَطْنَهَا وَهْىَ حَامِلٌ، فَقَتَلَتْ وَلَدَهَا الَّذِي فِي بَطْنِهَا فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَضَى أَنَّ دِيَةَ مَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ، فَقَالَ وَلِيُّ الْمَرْأَةِ الَّتِي غَرِمَتْ كَيْفَ أَغْرَمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لاَ شَرِبَ، وَلاَ أَكَلَ، وَلاَ نَطَقَ، وَلاَ اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلّ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ ".
#5759
Narrated Abu Huraira:Two ladies (had a fight) and one of them hit the other with a stone on the `Abdomen and caused her to abort. The Prophet (ﷺ) judged that the victim be given either a slave or a female slave (as blood-money). Narrated Ibn Shihab: Sa`id bin Al-Musayyab said, "Allah's Messenger (ﷺ) judged that in case of child killed in the womb of its mother, the offender should give the mother a slave or a female slave in recompense The offender said, How can I be fined for killing one who neither ate nor drank, neither spoke nor cried: a case like that should be denied ' On that Allah's Messenger (ﷺ) said 'He is one of the brothers of the foretellers
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ، رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا، فَقَضَى فِيهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ. وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي الْجَنِينِ يُقْتَلُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ. فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لاَ أَكَلَ، وَلاَ شَرِبَ، وَلاَ نَطَقَ، وَلاَ اسْتَهَلَّ، وَمِثْلُ ذَلِكَ بَطَلْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ ".
#5760
Narrated Abu Huraira:Two ladies (had a fight) and one of them hit the other with a stone on the `Abdomen and caused her to abort. The Prophet (ﷺ) judged that the victim be given either a slave or a female slave (as blood-money). Narrated Ibn Shihab: Sa`id bin Al-Musayyab said, "Allah's Messenger (ﷺ) judged that in case of child killed in the womb of its mother, the offender should give the mother a slave or a female slave in recompense The offender said, How can I be fined for killing one who neither ate nor drank, neither spoke nor cried: a case like that should be denied ' On that Allah's Messenger (ﷺ) said 'He is one of the brothers of the foretellers
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ، رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا، فَقَضَى فِيهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ. وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي الْجَنِينِ يُقْتَلُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ. فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لاَ أَكَلَ، وَلاَ شَرِبَ، وَلاَ نَطَقَ، وَلاَ اسْتَهَلَّ، وَمِثْلُ ذَلِكَ بَطَلْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ ".
#5761
Narrated Abu Mas`ud:The Prophet (ﷺ) forbade the utilization of the price of a dog, the earnings of prostitute and the earnings of a foreteller
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث نے اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زنا کی اجرت اور کاہن کی کہانت کی وجہ سے ملنے والے ہدیہ سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ.
#5762
Narrated `Aisha:Some people asked Allah's Messenger (ﷺ) about the fore-tellers He said. ' They are nothing" They said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Sometimes they tell us of a thing which turns out to be true." Allah's Messenger (ﷺ) said, "A Jinn snatches that true word and pours it Into the ear of his friend (the fore-teller) (as one puts something into a bottle) The foreteller then mixes with that word one hundred lies
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں یحییٰ بن عروہ بن زبیر نے، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی کوئی بنیاد نہیں۔ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! بعض اوقات وہ ہمیں ایسی چیزیں بھی بتاتے ہیں جو صحیح ہو جاتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کلمہ حق ہوتا ہے۔ اسے کاہن کسی جننی سے سن لیتا ہے وہ جننی اپنے دوست کاہن کے کان میں ڈال جاتا ہے اور پھر یہ کاہن اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر بیان کرتے ہیں۔ علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہ عبدالرزاق اس کلمہ «تلك الكلمة من الحق» کو مرسلاً روایت کرتے تھے پھر انہوں نے کہا مجھ کو یہ خبر پہنچی کہ عبدالرزاق اس کے بعد اس کو مسنداً عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَاسٌ عَنِ الْكُهَّانِ. فَقَالَ " لَيْسَ بِشَىْءٍ ". فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَا أَحْيَانًا بِشَىْءٍ فَيَكُونُ حَقًّا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ، يَخْطَفُهَا مِنَ الْجِنِّيِّ، فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ، فَيَخْلِطُونَ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ ". قَالَ عَلِيٌّ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ مُرْسَلٌ، الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ. ثُمَّ بَلَغَنِي أَنَّهُ أَسْنَدَهُ بَعْدَهُ.
#5763
Narrated `Aisha:A man called Labid bin al-A'sam from the tribe of Bani Zaraiq worked magic on Allah's Messenger (ﷺ) till Allah's Messenger (ﷺ) started imagining that he had done a thing that he had not really done. One day or one night he was with us, he invoked Allah and invoked for a long period, and then said, "O `Aisha! Do you know that Allah has instructed me concerning the matter I have asked him about? Two men came to me and one of them sat near my head and the other near my feet. One of them said to his companion, "What is the disease of this man?" The other replied, "He is under the effect of magic.' The first one asked, 'Who has worked the magic on him?' The other replied, "Labid bin Al-A'sam.' The first one asked, 'What material did he use?' The other replied, 'A comb and the hairs stuck to it and the skin of pollen of a male date palm.' The first one asked, 'Where is that?' The other replied, '(That is) in the well of Dharwan;' " So Allah's Messenger (ﷺ) along with some of his companions went there and came back saying, "O `Aisha, the color of its water is like the infusion of Henna leaves. The tops of the date-palm trees near it are like the heads of the devils." I asked. "O Allah's Messenger (ﷺ)? Why did you not show it (to the people)?" He said, "Since Allah cured me, I disliked to let evil spread among the people." Then he ordered that the well be filled up with earth
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ اشعری نے بیان کیا، کہا ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بنی زریق کے ایک شخص یہودی لبید بن اعصم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا تھا اور اس کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کے متعلق خیال کرتے کہ آپ نے وہ کام کر لیا ہے حالانکہ آپ نے وہ کام نہ کیا ہوتا۔ ایک دن یا ( راوی نے بیان کیا کہ ) ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف رکھتے تھے اور مسلسل دعا کر رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ! تمہیں معلوم ہے اللہ سے جو بات میں پوچھ رہا تھا، اس نے اس کا جواب مجھے دے دیا۔ میرے پاس دو ( فرشتے جبرائیل و میکائیل علیہما السلام ) آئے۔ ایک میرے سر کی طرف کھڑا ہو گیا اور دوسرا میرے پاؤں کی طرف۔ ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے پوچھا ان صاحب کی بیماری کیا ہے؟ دوسرے نے کہا کہ ان پر جادو ہوا ہے۔ اس نے پوچھا کس نے جادو کیا ہے؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے۔ پوچھا کس چیز میں؟ جواب دیا کہ کنگھے اور سر کے بال میں جو نر کھجور کے خوشے میں رکھے ہوئے ہیں۔ سوال کیا اور یہ جادو ہے کہاں؟ جواب دیا کہ زروان کے کنویں میں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں پر اپنے چند صحابہ کے ساتھ تشریف لے گئے اور جب واپس آئے تو فرمایا عائشہ! اس کا پانی ایسا ( سرخ ) تھا جیسے مہندی کا نچوڑ ہوتا ہے اور اس کے کھجور کے درختوں کے سر ( اوپر کا حصہ ) شیطان کے سروں کی طرح تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے اس جادو کو باہر کیوں نہیں کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے عافیت دے دی اس لیے میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ اب میں خواہ مخواہ لوگوں میں اس برائی کو پھیلاؤں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جادو کا سامان کنگھی بال خرما کا غلاف ہوتے ہیں اسی میں دفن کرا دیا۔ عیسیٰ بن یونس کے ساتھ اس حدیث کو ابواسامہ اور ابوضمرہ ( انس بن عیاض ) اور ابن ابی الزناد تینوں نے ہشام سے یوں روایت کیا اور لیث بن مسور اور سفیان بن عیینہ نے ہشام سے یوں روایت کیا ہے «في مشط ومشاقة.، المشاطة» اسے کہتے ہیں جو بال کنگھی کرنے میں نکلیں سر یا داڑھی کے اور «مشاقة.» روئی کے تار یعنی سوت کے تار کو کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ سَحَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ يُقَالُ لَهُ لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ، حَتَّى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّىْءَ وَمَا فَعَلَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهْوَ عِنْدِي لَكِنَّهُ دَعَا وَدَعَا ثُمَّ قَالَ " يَا عَائِشَةُ، أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ، أَتَانِي رَجُلاَنِ فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي، وَالآخَرُ عِنْدَ رِجْلَىَّ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ مَا وَجَعُ الرَّجُلِ فَقَالَ مَطْبُوبٌ. قَالَ مَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ. قَالَ فِي أَىِّ شَىْءٍ قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ، وَجُفِّ طَلْعِ نَخْلَةٍ ذَكَرٍ. قَالَ وَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ ". فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ فَقَالَ " يَا عَائِشَةُ كَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ، أَوْ كَأَنَّ رُءُوسَ نَخْلِهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ ". قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ أَسْتَخْرِجُهُ قَالَ " قَدْ عَافَانِي اللَّهُ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُثَوِّرَ عَلَى النَّاسِ فِيهِ شَرًّا ". فَأَمَرَ بِهَا فَدُفِنَتْ. تَابَعَهُ أَبُو أُسَامَةَ وَأَبُو ضَمْرَةَ وَابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ هِشَامٍ. وَقَالَ اللَّيْثُ وَابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ هِشَامٍ فِي مُشْطٍ وَمُشَاقَةٍ. يُقَالُ الْمُشَاطَةُ مَا يَخْرُجُ مِنَ الشَّعَرِ إِذَا مُشِطَ، وَالْمُشَاقَةُ مِنْ مُشَاقَةِ الْكَتَّانِ.
#5764
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Avoid the Mubiqat, i.e., shirk and witchcraft
مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے ثور بن زید نے، ان سے ابوالغیث نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تباہ کر دینے والی چیز اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے اس سے بچو اور جادو کرنے کرانے سے بھی بچو۔“
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اجْتَنِبُوا الْمُوبِقَاتِ الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ ".
#5765
Narrated Aisha:Magic was worked on Allah's Messenger (ﷺ) so that he used to think that he had sexual relations with his wives while he actually had not (Sufyan said: That is the hardest kind of magic as it has such an effect). Then one day he said, "O `Aisha do you know that Allah has instructed me concerning the matter I asked Him about? Two men came to me and one of them sat near my head and the other sat near my feet. The one near my head asked the other. What is wrong with this man?' The latter replied the is under the effect of magic The first one asked, Who has worked magic on him?' The other replied Labid bin Al-A'sam, a man from Bani Zuraiq who was an ally of the Jews and was a hypocrite.' The first one asked, What material did he use)?' The other replied, 'A comb and the hair stuck to it.' The first one asked, 'Where (is that)?' The other replied. 'In a skin of pollen of a male date palm tree kept under a stone in the well of Dharwan' '' So the Prophet (ﷺ) went to that well and took out those things and said "That was the well which was shown to me (in a dream) Its water looked like the infusion of Henna leaves and its date-palm trees looked like the heads of devils." The Prophet (ﷺ) added, "Then that thing was taken out' I said (to the Prophet (ﷺ) ) "Why do you not treat yourself with Nashra?" He said, "Allah has cured me; I dislike to let evil spread among my people
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے سفیان بن عیینہ سے سنا، کہا کہ سب سے پہلے یہ حدیث ہم سے ابن جریج نے بیان کی، وہ بیان کرتے تھے کہ مجھ سے یہ حدیث آل عروہ نے عروہ سے بیان کی، اس لیے میں نے ( عروہ کے بیٹے ) ہشام سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے ہم سے اپنے والد ( عروہ ) سے بیان کیا کہ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا گیا تھا اور اس کا آپ پر یہ اثر ہوا تھا آپ کو خیال ہوتا کہ آپ نے ازواج مطہرات میں سے کسی کے ساتھ ہمبستری کی ہے حالانکہ آپ نے کی نہیں ہوتی۔ سفیان ثوری نے بیان کیا کہ جادو کی یہ سب سے سخت قسم ہے جب اس کا یہ اثر ہو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! تمہیں معلوم ہے اللہ تعالیٰ سے جو بات میں نے پوچھی تھی اس کا جواب اس نے کب کا دے دیا ہے۔ میرے پاس دو فرشتے آئے ایک میرے سر کے پاس کھڑا ہو گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس۔ جو فرشتہ میرے سر کی طرف کھڑا تھا اس نے دوسرے سے کہا ان صاحب کا کیا حال ہے؟ دوسرے نے جواب دیا کہ ان پر جادو کر دیا گیا ہے۔ پوچھا کہ کس نے ان پر جادو کیا ہے؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے یہ یہودیوں کے حلیف بنی زریق کا ایک شخص تھا اور منافق تھا۔ سوال کیا کہ کس چیز میں ان پر جادو کیا ہے؟ جواب دیا کہ کنگھے اور بال میں۔ پوچھا جادو ہے کہاں؟ جواب دیا کہ نر کھجور کے خوشے میں جو زروان کے کنویں کے اندر رکھے ہوئے پتھر کے نیچے دفن ہے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں پر تشریف لے گئے اور جادو اندر سے نکالا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی وہ کنواں ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا اس کا پانی مہندی کے عرق جیسا رنگین تھا اور اس کے کھجور کے درختوں کے سر شیطانوں کے سروں جیسے تھے۔ بیان کیا کہ پھر وہ جادو کنویں میں سے نکالا گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے کہا آپ نے اس جادو کا توڑ کیوں نہیں کرایا۔ فرمایا: ہاں اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دی اب میں لوگوں میں ایک شور ہونا پسند نہیں کرتا۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُيَيْنَةَ، يَقُولُ أَوَّلُ مَنْ حَدَّثَنَا بِهِ ابْنُ جُرَيْجٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي آلُ، عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ، فَسَأَلْتُ هِشَامًا عَنْهُ فَحَدَّثَنَا عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُحِرَ حَتَّى كَانَ يَرَى أَنَّهُ يَأْتِي النِّسَاءَ وَلاَ يَأْتِيهِنَّ. قَالَ سُفْيَانُ وَهَذَا أَشَدُّ مَا يَكُونُ مِنَ السِّحْرِ إِذَا كَانَ كَذَا. فَقَالَ " يَا عَائِشَةُ أَعَلِمْتِ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ، أَتَانِي رَجُلاَنِ فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي، وَالآخَرُ عِنْدَ رِجْلَىَّ، فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رَأْسِي لِلآخَرِ مَا بَالُ الرَّجُلِ قَالَ مَطْبُوبٌ. قَالَ وَمَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ أَعْصَمَ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ حَلِيفٌ لِيَهُودَ، كَانَ مُنَافِقًا. قَالَ وَفِيمَ قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاقَةٍ. قَالَ وَأَيْنَ قَالَ فِي جُفِّ طَلْعَةٍ ذَكَرٍ، تَحْتَ رَعُوفَةٍ، فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ ". قَالَتْ فَأَتَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْبِئْرَ حَتَّى اسْتَخْرَجَهُ فَقَالَ " هَذِهِ الْبِئْرُ الَّتِي أُرِيتُهَا، وَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ، وَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ ". قَالَ فَاسْتُخْرِجَ، قَالَتْ فَقُلْتُ أَفَلاَ أَىْ تَنَشَّرْتَ. فَقَالَ " أَمَا وَاللَّهِ فَقَدْ شَفَانِي، وَأَكْرَهُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ شَرًّا ".
#5766
Narrated `Aisha:Magic was worked on Allah's Messenger (ﷺ) so that he began to imagine that he had done something although he had not. One day while he was with me, he invoked Allah and invoked for a long period and then said, "O `Aisha! Do you know that Allah has instructed me regarding the matter I asked Him about?" I asked, "What is that, O Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, "Two men came to me; one of them sat near my head and the other sat near my feet. One of them asked his companion, 'What is the disease of this man?' The other replied, 'He is under the effect of magic.' The first one asked, 'Who has worked magic on him?" The other replied, 'Labid bin A'sam, a Jew from the tribe of Bani Zuraiq.' The (first one asked), 'With what has it been done?' The other replied, 'With a a comb and the hair stuck to it and a skin of the pollen of a male datepalm tree.' The first one asked, 'Where is it?' The other replied, 'In the well of Dharwan.' Then the Prophet (ﷺ) went along with some of his companions to that well and looked at that and there were date palms near to it. Then he returned to me and said, 'By Allah the water of that well was (red) like the infusion of Henna leaves and its date-palms were like the heads of devils" I said, O Allah's Messenger (ﷺ)! Did you take those materials out of the pollen skin?" He said, 'No! As for me Allah has healed me and cured me and I was afraid that (by Showing that to the people) I would spread evil among them when he ordered that the well be filled up with earth, and it was filled up with earth
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا گیا تھا اور اس کا اثر یہ تھا کہ آپ کو خیال ہوتا کہ آپ کوئی چیز کر چکے ہیں حالانکہ وہ چیز نہ کی ہوتی ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف رکھتے تھے اور مسلسل دعائیں کر رہے تھے، پھر فرمایا: عائشہ! تمہیں معلوم ہے اللہ تعالیٰ سے جو بات میں نے پوچھی تھی اس کا جواب اس نے مجھے دے دیا ہے۔ میں نے عرض کی وہ کیا بات ہے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس دو فرشتے ( جبرائیل و میکائیل علیہما السلام ) آئے اور ایک میرے سر کے پاس کھڑا ہو گیا اور دوسرا پاؤں کی طرف پھر ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا ان صاحب کی تکلیف کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا کہ ان پر جادو کیا گیا ہے۔ پوچھا کس نے ان پر جادو کیا ہے؟ فرمایا بنی زریق کے لبید بن اعصم یہودی نے، پوچھا کس چیز میں؟ جواب دیا کہ کنگھے اور بال میں جو نر کھجور کے خوشے میں رکھا ہوا ہے۔ پوچھا اور وہ جادو رکھا کہاں ہے؟ جواب دیا کہ ذروان کے کنویں میں۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کے ساتھ اس کنویں پر تشریف لے گئے اور اسے دیکھا وہاں کھجور کے درخت بھی تھے پھر آپ واپس عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لائے اور فرمایا صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم! اس کا پانی مہندی کے عرق جیسا ( سرخ ) ہے اور اس کے کھجور کے درخت شیاطین کے سروں جیسے ہیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کنگھی بال وغیرہ غلاف سے نکلوائے یا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، سن لو اللہ نے تو مجھ کو شفاء دے دی، تندرست کر دیا اب میں ڈرا کہیں لوگوں میں ایک شور نہ پھیلے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سامان کے گاڑ دینے کا حکم دیا وہ گاڑ دیا گیا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سُحِرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّىْءَ وَمَا فَعَلَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهْوَ عِنْدِي دَعَا اللَّهَ وَدَعَاهُ، ثُمَّ قَالَ " أَشَعَرْتِ يَا عَائِشَةُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ ". قُلْتُ وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " جَاءَنِي رَجُلاَنِ، فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالآخَرُ عِنْدَ رِجْلَىَّ، ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ مَا وَجَعُ الرَّجُلِ قَالَ مَطْبُوبٌ. قَالَ وَمَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ، الْيَهُودِيُّ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ. قَالَ فِيمَا ذَا قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ، وَجُفِّ طَلْعَةٍ ذَكَرٍ. قَالَ فَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي بِئْرِ ذِي أَرْوَانَ ". قَالَ فَذَهَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَى الْبِئْرِ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَعَلَيْهَا نَخْلٌ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَ " وَاللَّهِ لَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ، وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ ". قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَأَخْرَجْتَهُ قَالَ " لاَ، أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَافَانِي اللَّهُ وَشَفَانِي، وَخَشِيتُ أَنْ أُثَوِّرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا ". وَأَمَرَ بِهَا فَدُفِنَتْ.
#5767
Narrated `Abdullah bin `Umar:Two men came from the East and addressed the people who wondered at their eloquent speeches On that Allah's Messenger (ﷺ) said. Some eloquent speech is as effective as magic
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں زید بن اسلم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ دو آدمی پورب کی طرف ( ملک عراق ) سے ( سنہ 9 ھ میں ) مدینہ آئے اور لوگوں کو خطاب کیا لوگ ان کی تقریر سے بہت متاثر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض تقریریں بھی جادو بھری ہوتی ہیں یا یہ فرمایا کہ بعض تقریر جادو ہوتی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما أَنَّهُ قَدِمَ رَجُلاَنِ مِنَ الْمَشْرِقِ، فَخَطَبَا، فَعَجِبَ النَّاسُ لِبَيَانِهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا ـ أَوْ ـ إِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ لَسِحْرٌ ".
#5768
Narrated Saud:The Prophet (ﷺ) said, "If somebody takes some `Ajwa dates every morning, he will not be affected by poison or magic on that day till night." (Another narrator said seven dates)
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان بن معاویہ فزاری نے بیان کیا، کہا ہم کو ہاشم بن ہاشم بن عقبہ نے خبر دی، کہا ہم کو عامر بن سعد نے خبر دی اور ان سے ان کے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص روزانہ چند عجوہ کھجوریں کھا لیا کرے اسے اس دن رات تک زہر اور جادو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ علی بن عبداللہ مدینی کے سوا دوسرے راوی نے بیان کیا کہ سات کھجوریں کھا لیا کرے۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، أَخْبَرَنَا هَاشِمٌ، أَخْبَرَنَا عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَنِ اصْطَبَحَ كُلَّ يَوْمٍ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً، لَمْ يَضُرُّهُ سَمٌّ وَلاَ سِحْرٌ ذَلِكَ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ ". وَقَالَ غَيْرُهُ " سَبْعَ تَمَرَاتٍ ".
#5769
Narrated Saud:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "If Somebody takes seven 'Ajwa dates in the morning, neither magic nor poison will hurt him that day
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابواسامہ حماد بن اسامہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے ہاشم بن ہاشم نے بیان کیا کہ میں نے عامر بن سعد سے سنا، انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھا لیں اس دن اسے نہ زہر نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ جادو۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ، سَمِعْتُ سَعْدًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ تَصَبَّحَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً، لَمْ يَضُرُّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ سَمٌّ وَلاَ سِحْرٌ ".
#5770
Narrated Abu Huraira: The Prophet (ﷺ) said, 'No 'Adwa (i.e. no contagious disease is conveyed to others without Allah's permission); nor (any evil omen in the month of) Safar; nor Hama" A bedouin said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What about the camels which, when on the sand (desert) look like deers, but when a mangy camel mixes with them they all get infected with mange?" On that Allah's Apostle said, "Then who conveyed the (mange) disease to the first (mangy) camel?
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت لگ جانا، صفر کی نحوست اور الو کی نحوست کوئی چیز نہیں۔ ایک دیہاتی نے کہا: یا رسول اللہ! پھر اس اونٹ کے متعلق کیا کہا جائے گا جو ریگستان میں ہرن کی طرح صاف چمکدار ہوتا ہے لیکن خارش والا اونٹ اسے مل جاتا ہے اور اسے بھی خارش لگا دیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی؟
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ عَدْوَى، وَلاَ صَفَرَ، وَلاَ هَامَةَ ". فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا بَالُ الإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ، فَيُخَالِطُهَا الْبَعِيرُ الأَجْرَبُ فَيُجْرِبُهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَمَنْ أَعْدَى الأَوَّلَ ".
#5771
Narrated Abu Huraira: Allah's Messenger (ﷺ) said: The cattle (sheep, cows, camels, etc.) suffering from a disease should not be mixed up with healthy cattle, (or said: "Do not put a patient with a healthy person ). " (as a precaution)
اور ابوسلمہ سے روایت ہے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنے بیمار اونٹوں کو کسی کے صحت مند اونٹوں میں نہ لے جائے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پہلی حدیث کا انکار کیا۔ ہم نے ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ) عرض کیا کہ آپ ہی نے ہم سے یہ حدیث نہیں بیان کی ہے کہ چھوت یہ نہیں ہوتا پھر وہ ( غصہ میں ) حبشی زبان بولنے لگے۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ اس حدیث کے سوا میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اور کوئی حدیث بھولتے نہیں دیکھا۔
وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، بَعْدُ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُورِدَنَّ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ ". وَأَنْكَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ حَدِيثَ الأَوَّلِ قُلْنَا أَلَمْ تُحَدِّثْ أَنَّهُ لاَ عَدْوَى فَرَطَنَ بِالْحَبَشِيَّةِ. قَالَ أَبُو سَلَمَةَ فَمَا رَأَيْتُهُ نَسِيَ حَدِيثًا غَيْرَهُ.
#5772
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "there is neither 'Adwa nor Tiyara, and an evil omen is only in three: a horse, a woman and a house
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ اور حمزہ نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت لگ جانے کی کوئی حقیقت نہیں ہے، بدشگونی کی کوئی اصل نہیں۔ ( اگر ممکن ہوتی تو ) نحوست تین چیزوں میں ہوتی، گھوڑے میں، عورت میں اور گھر میں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَحَمْزَةُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ عَدْوَى، وَلاَ طِيَرَةَ، إِنَّمَا الشُّؤْمُ فِي ثَلاَثٍ فِي الْفَرَسِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالدَّارِ ".
#5773
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "No 'Adwa." Abu Huraira also said: The Prophet (ﷺ) said, "The cattle suffering from a disease should not be mixed up with healthy cattle (or said "Do not put a patient with a healthy person as a precaution.") Abu Huraira also said: Allah's Messenger (ﷺ) said, "No 'Adwa." A bedouin got up and said, "Don't you see how camels on the sand look like deer but when a mangy camel mixes with them, they all get infected with mange?" On that the Prophet (ﷺ) said, "Then who conveyed the (mange) disease to the first camel?
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ عَدْوَى ". قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تُورِدُوا الْمُمْرِضَ عَلَى الْمُصِحِّ ". وَعَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ عَدْوَى ". فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ أَرَأَيْتَ الإِبِلَ تَكُونُ فِي الرِّمَالِ أَمْثَالَ الظِّبَاءِ فَيَأْتِيهِ الْبَعِيرُ الأَجْرَبُ فَتَجْرَبُ. قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " فَمَنْ أَعْدَى الأَوَّلَ ".
#5774
#5775