#5576
Narrated Abu Huraira:On the night Allah's Messenger (ﷺ) was taken on a night journey (Miraj) two cups, one containing wine and the other milk, were presented to him at Jerusalem. He looked at it and took the cup of milk. Gabriel said, "Praise be to Allah Who guided you to Al-Fitra (the right path); if you had taken (the cup of) wine, your nation would have gone astray
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا مجھ کو سعید بن مسیب نے خبر دی اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( بیت المقدس کے شہر ) ایلیاء میں شراب اور دودھ کے دو پیالے پیش کئے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا پیالہ لے لیا۔ اس پر جبرائیل علیہ السلام نے کہا اس اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں جس نے آپ کو دین فطرت کی طرف چلنے کی ہدایت فرمائی۔ اگر آپ نے شراب کا پیالہ لے لیا ہوتا تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔ شعیب کے ساتھ اس حدیث کو معمر، ابن الہاد، عثمان بن عمر اور زبیدی نے زہری سے نقل کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِإِيلِيَاءَ بِقَدَحَيْنِ مِنْ خَمْرٍ، وَلَبَنٍ فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا، ثُمَّ أَخَذَ اللَّبَنَ، فَقَالَ جِبْرِيلُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ، وَلَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ. تَابَعَهُ مَعْمَرٌ وَابْنُ الْهَادِ وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ وَالزُّبَيْدِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
#5577
Narrated Anas:I heard from Allah's Messenger (ﷺ) a narration which none other than I will narrate to you. The Prophet, said, "From among the portents of the our are the following: General ignorance (in religious affairs) will prevail, (religious) knowledge will decrease, illegal sexual intercourse will prevail, alcoholic drinks will be drunk (in abundance), men will decrease and women will increase so much so that for every fifty women there will be one man to look after them
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی جو تم سے اب میرے سوا کوئی اور نہیں بیان کرے گا ( کیونکہ اب میرے سوا کوئی صحابی زندہ موجود نہیں رہا ہے ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ جہالت غالب ہو جائے گی اور علم کم ہو جائے گا، زناکاری بڑھ جائے گی، شراب کثرت سے پی جانے لگے گی، عورتیں بہت ہو جائیں گی، یہاں تک کہ پچاس پچاس عورتوں کی نگرانی کرنے والا صرف ایک ہی مرد رہ جائے گا۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدِيثًا لاَ يُحَدِّثُكُمْ بِهِ غَيْرِي قَالَ " مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَظْهَرَ الْجَهْلُ، وَيَقِلَّ الْعِلْمُ، وَيَظْهَرَ الزِّنَا، وَتُشْرَبَ الْخَمْرُ، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ، وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ، حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً قَيِّمُهُنَّ رَجُلٌ وَاحِدٌ ".
#5578
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "An adulterer, at the time he is committing illegal sexual intercourse is not a believer; and a person, at the time of drinking an alcoholic drink is not a believer; and a thief, at the time of stealing, is not a believer." Ibn Shihab said: `Abdul Malik bin Abi Bakr bin `Abdur-Rahman bin Al- Harith bin Hisham told me that Abu Bakr used to narrate that narration to him on the authority of Abu Huraira. He used to add that Abu Bakr used to mention, besides the above cases, "And he who robs (takes illegally something by force) while the people are looking at him, is not a believer at the time he is robbing (taking)
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابن مسیب سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص جب زنا کرتا ہے تو عین زنا کرتے وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب وہ شراب پیتا ہے تو عین شراب پیتے وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب چور چوری کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اور ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عبدالملک بن ابی بکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے خبر دی، ان سے ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ۔ پھر انہوں نے بیان کیا کہ ابوبکر بن عبدالرحمٰن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں امور مذکورہ کے ساتھ اتنا اور زیادہ کرتے تھے کہ کوئی شخص ( دن دھاڑے ) اگر کسی بڑی پونجی پر اس طور ڈاکہ ڈالتا ہے کہ لوگ دیکھتے کے دیکھتے رہ جاتے ہیں تو وہ مومن رہتے ہوئے یہ لوٹ مار نہیں کرتا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَابْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولاَنِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهْوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهْوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهْوَ مُؤْمِنٌ ". قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُحَدِّثُهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ثُمَّ يَقُولُ كَانَ أَبُو بَكْرٍ يُلْحِقُ مَعَهُنَّ " وَلاَ يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ، يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ أَبْصَارَهُمْ فِيهَا حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهْوَ مُؤْمِنٌ ".
#5579
Narrated Ibn `Umar:"Alcoholic drinks were prohibited (by Allah) when there was nothing of it (special kind of wine) in Medina
ہم سے حسن بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے جو مغول کے صاحبزادے ہیں، بیان کیا ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب شراب حرام کی گئی تو انگور کی شراب مدینہ منورہ میں نہیں ملتی تھی۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ـ هُوَ ابْنُ مِغْوَلٍ ـ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَقَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ، وَمَا بِالْمَدِينَةِ مِنْهَا شَىْءٌ.
#5580
Narrated Anas:"Alcoholic drinks were prohibited at the time we could rarely find wine made from grapes in Medina, for most of our liquors were made from unripe and ripe dates
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوشہاب عبدربہ بن نافع نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یونس نے، ان سے ثابت بنانی نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب شراب ہم پر حرام کی گئی تو مدینہ منورہ میں انگور کی شراب بہت کم ملتی تھی۔ عام استعمال کی شراب کچی اور پکی کھجور سے تیار کی جاتی تھی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ حُرِّمَتْ عَلَيْنَا الْخَمْرُ حِينَ حُرِّمَتْ وَمَا نَجِدُ ـ يَعْنِي بِالْمَدِينَةِ ـ خَمْرَ الأَعْنَابِ إِلاَّ قَلِيلاً، وَعَامَّةُ خَمْرِنَا الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ.
#5581
Narrated Ibn `Umar:`Umar stood up on the pulpit and said, "Now then, prohibition of alcoholic drinks have been revealed, and these drinks are prepared from five things, i.e.. grapes, dates, honey, wheat or barley And an alcoholic drink is that, that disturbs the mind
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ان سے ابوحیان نے، کہا ہم سے عامر نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر رضی اللہ عنہ ممبر پر کھڑے ہوئے اور کہا امابعد! جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو وہ پانچ چیزوں سے بنتی تھی انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جَو اور شراب ( خمر ) وہ ہے جو عقل کو زائل کر دے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَامَ عُمَرُ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ أَمَّا بَعْدُ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَهْىَ مِنْ خَمْسَةٍ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ، وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ.
#5582
Narrated Anas bin Malik:I was serving Abu 'Ubaida, Abu Talha and Ubai bin Ka`b with a drink prepared from ripe and unripe dates. Then somebody came to them and said, "Alcoholic drinks have been prohibited." (On hearing that) Abu Talha said, "Get up. O Anas, and pour (throw) it out! So I poured (threw) it out
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مالک بن انس نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ابوعبیدہ، ابوطلحہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم کو کچی اور پکی کھجور سے تیار کی ہوئی شراب پلا رہا تھا کہ ایک آنے والے نے آ کر بتایا کہ شراب حرام کر دی گئی ہے۔ اس وقت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انس اٹھو اور شراب کو بہا دو چنانچہ میں نے اسے بہا دیا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ وَأَبَا طَلْحَةَ وَأُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ مِنْ فَضِيخِ زَهْوٍ وَتَمْرٍ فَجَاءَهُمْ آتٍ فَقَالَ إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ. فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ قُمْ يَا أَنَسُ فَأَهْرِقْهَا. فَأَهْرَقْتُهَا.
#5583
Narrated Anas:While I was waiting on my uncles and serving them with (wine prepared from) dates----and I was the youngest of them----it was said, "Alcoholic drinks have been prohibited." So they said (to me), "Throw it away." So I threw it away
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ایک قبیلہ میں کھڑا میں اپنے چچاؤں کو کھجور کی شراب پلا رہا تھا میں ان میں سب سے کم عمر تھا۔ کسی نے کہا کہ شراب حرام کر دی گئی۔ ان حضرات نے کہا کہ اب اسے پھینک دو۔ چنانچہ ہم نے شراب پھینک دی۔ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وہ کس چیز کی شراب بنتی تھی؟ فرمایا کہ تازہ پکی ہوئی اور کچی کھجوروں کی۔ ابوبکر بن انس نے کہا کہ ان کی شراب ( کھجور کی ) ہوتی تھی تو انس رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار نہیں کیا اور مجھ سے میرے بعض اصحاب نے بیان کیا کہ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ اس زمانہ میں ان کی شراب اکثر کچی اور پکی کھجور سے تیار کی جاتی تھی۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ كُنْتُ قَائِمًا عَلَى الْحَىِّ أَسْقِيهِمْ ـ عُمُومَتِي وَأَنَا أَصْغَرُهُمُ ـ الْفَضِيخَ، فَقِيلَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ. فَقَالُوا أَكْفِئْهَا. فَكَفَأْتُهَا. قُلْتُ لأَنَسٍ مَا شَرَابُهُمْ قَالَ رُطَبٌ وَبُسْرٌ. فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ وَكَانَتْ خَمْرَهُمْ. فَلَمْ يُنْكِرْ أَنَسٌ. وَحَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِي أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا يَقُولُ كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ.
#5584
Narrated Anas bin Malik:Alcoholic drinks were prohibited. At that time these drinks used to be prepared from unripe and ripe dates
ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یوسف ابومعشر براء نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے سعید بن عبداللہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے بکر بن عبداللہ نے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب شراب حرام کی گئی تو وہ کچی اور پختہ کھجوروں سے تیار کی جاتی تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَّاءُ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ الْخَمْرَ حُرِّمَتْ، وَالْخَمْرُ يَوْمَئِذٍ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ.
#5585
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) was asked about Al-Bit. He said, "All drinks that intoxicate are unlawful (to drink)
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «بتع» کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بھی پینے والی چیز نشہ لاوے وہ حرام ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْبِتْعِ فَقَالَ " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهْوَ حَرَامٌ ".
#5586
Narrated 'Aisha: Allah's Messenger (ﷺ) was asked about Al-Bit a liquor prepared from honey which the Yemenites used to drink. Allah's Messenger (ﷺ) said, "All drinks that intoxicate are unlawful (to drink)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ کو ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «بتع» کے متعلق سوال کیا گیا۔ یہ مشروب شہد سے تیار کیا جاتا تھا اور یمن میں اس کا عام رواج تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو چیز بھی نشہ لانے والی ہو وہ حرام ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْبِتْعِ وَهْوَ نَبِيذُ الْعَسَلِ، وَكَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ يَشْرَبُونَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهْوَ حَرَامٌ ".
#5587
Anas bin Malik said: Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not make drinks in Ad-Dubba' nor in Al-Muzaffat. Abu Huraira used to add to them Al-Hantam and An-Naqir
اور زہری سے روایت ہے، کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”دباء“ اور ”مزفت“ میں نبیذ نہ بنایا کرو اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ ”حنتم“ اور ”نقیر“ کا بھی اضافہ کیا کرتے تھے۔
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَنْتَبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ، وَلاَ فِي الْمُزَفَّتِ ". وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُلْحِقُ مَعَهَا الْحَنْتَمَ وَالنَّقِيرَ.
#5588
Narrated Ibn `Umar:`Umar delivered a sermon on the pulpit of Allah's Messenger (ﷺ), saying, "Alcoholic drinks were prohibited by Divine Order, and these drinks used to be prepared from five things, i.e., grapes, dates, wheat, barley and honey. Alcoholic drink is that, that disturbs the mind." `Umar added, "I wish Allah's Apostle had not left us before he had given us definite verdicts concerning three matters, i.e., how much a grandfather may inherit (of his grandson), the inheritance of Al-Kalala (the deceased person among whose heirs there is no father or son), and various types of Riba(1 ) (usury)
ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ابوحیان تمیمی نے، ان سے شعبی نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے کہا جب شراب کی حرمت کا حکم ہوا تو وہ پانچ چیزوں سے بنتی تھی۔ انگور سے، کھجور سے، گیہوں سے، جَو اور شہد سے اور «خمر» ( شراب ) وہ ہے جو عقل کو مخمور کر دے اور تین مسائل ایسے ہیں کہ میری تمنا تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جدا ہونے سے پہلے ہمیں ان کا حکم بتا جاتے، دادا کا مسئلہ، کلالہ کا مسئلہ اور سود کے چند مسائل۔ ابوحیان نے بیان کیا کہ میں نے شعبی سے پوچھا: اے ابوعمرو! ایک ایسا شربت ہے جو سندھ میں چاول سے بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں پائی جاتی تھی یا کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نہ تھی اور فرج ابن منہال نے بھی اس حدیث کو حماد بن سلمہ سے بیان کیا اور ان سے ابوحیان نے اس میں انگور کے بجائے کشمش ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ خَطَبَ عُمَرُ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، وَهْىَ مِنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالْعَسَلِ، وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ، وَثَلاَثٌ وَدِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يُفَارِقْنَا حَتَّى يَعْهَدَ إِلَيْنَا عَهْدًا الْجَدُّ وَالْكَلاَلَةُ وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا. قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا عَمْرٍو فَشَىْءٌ يُصْنَعُ بِالسِّنْدِ مِنَ الرُّزِّ. قَالَ ذَاكَ لَمْ يَكُنْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَوْ قَالَ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ. وَقَالَ حَجَّاجُ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ أَبِي حَيَّانَ مَكَانَ الْعِنَبِ الزَّبِيبَ.
#5589
Narrated 'Umar: "Alcoholic drinks are prepared from five things, i.e., raisins, dates. wheat, barley and honey
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی السفر نے بیان کیا، ان سے شعبی نے ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ شراب پانچ چیزوں سے بنتی تھی کشمش، کھجور، گیہوں، جَو اور شہد سے۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ الْخَمْرُ يُصْنَعُ مِنْ خَمْسَةٍ مِنَ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالْعَسَلِ.
#5590
Narrated Abu 'Amir or Abu Malik Al-Ash'ari: that he heard the Prophet (ﷺ) saying, "From among my followers there will be some people who will consider illegal sexual intercourse, the wearing of silk, the drinking of alcoholic drinks and the use of musical instruments, as lawful. And there will be some people who will stay near the side of a mountain and in the evening their shepherd will come to them with their sheep and ask them for something, but they will say to him, 'Return to us tomorrow.' Allah will destroy them during the night and will let the mountain fall on them, and He will transform the rest of them into monkeys and pigs and they will remain so till the Day of Resurrection
اور ہشام بن عمار نے بیان کیا کہ ان سے صدقہ بن خالد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید نے، ان سے عطیہ بن قیس کلابی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن غنم اشعری نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابوعامر رضی اللہ عنہ یا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: اللہ کی قسم! انہوں نے جھوٹ نہیں بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ایسے برے لوگ پیدا ہو جائیں گے جو زناکاری، ریشم کا پہننا، شراب پینا اور گانے بجانے کو حلال بنا لیں گے اور کچھ متکبر قسم کے لوگ پہاڑ کی چوٹی پر ( اپنے بنگلوں میں رہائش کرنے کے لیے ) چلے جائیں گے۔ چرواہے ان کے مویشی صبح و شام لائیں گے اور لے جائیں گے۔ ان کے پاس ایک فقیر آدمی اپنی ضرورت لے کر جائے گا تو وہ ٹالنے کے لیے اس سے کہیں گے کہ کل آنا لیکن اللہ تعالیٰ رات کو ان کو ( ان کی سرکشی کی وجہ سے ) ہلاک کر دے گا پہاڑ کو ( ان پر ) گرا دے گا اور ان میں سے بہت سوں کو قیامت تک کے لیے بندر اور سور کی صورتوں میں مسخ کر دے گا۔
وَقَالَ هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنَا عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ الْكِلاَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ الأَشْعَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عَامِرٍ ـ أَوْ أَبُو مَالِكٍ ـ الأَشْعَرِيُّ وَاللَّهِ مَا كَذَبَنِي سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْحِرَ وَالْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ، وَلَيَنْزِلَنَّ أَقْوَامٌ إِلَى جَنْبِ عَلَمٍ يَرُوحُ عَلَيْهِمْ بِسَارِحَةٍ لَهُمْ، يَأْتِيهِمْ ـ يَعْنِي الْفَقِيرَ ـ لِحَاجَةٍ فَيَقُولُوا ارْجِعْ إِلَيْنَا غَدًا. فَيُبَيِّتُهُمُ اللَّهُ وَيَضَعُ الْعَلَمَ، وَيَمْسَخُ آخَرِينَ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ".
#5591
Narrated Sahl:Abu Usaid As-Sa`idi came and invited Allah's Messenger (ﷺ) on the occasion of his wedding. His wife who was the bride, was serving them. Do you know what drink she prepared for Allah's Messenger (ﷺ) ? She had soaked some dates in water in a Tur overnight
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا کہ میں نے سہل بن سعد ساعدی سے سنا، انہوں نے کہا کہ ابواسید مالک بن ربیع آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ولیمہ کی دعوت دی، ان کی بیوی ہی سب کام کر رہی تھیں حالانکہ وہ نئی دلہن تھیں۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے انہوں نے پتھر کے کونڈے میں رات کے وقت کھجور بھگو دی تھی۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَهْلاً، يَقُولُ أَتَى أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ فَدَعَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي عُرْسِهِ، فَكَانَتِ امْرَأَتُهُ خَادِمَهُمْ وَهْىَ الْعَرُوسُ. قَالَتْ أَتَدْرُونَ مَا سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْقَعْتُ لَهُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ فِي تَوْرٍ.
#5592
Narrated Jabir:Allah's Messenger (ﷺ) forbade the use of (certain) containers, but the Ansar said, "We cannot dispense with them." The Prophet (ﷺ) then said, "If so, then use them
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبداللہ ابواحمد زبیری نے، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے سالم بن ابی الجعد نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند برتنوں میں نبیذ بھگونے کی ( جن میں شراب بنتی تھی ) ممانعت کر دی تھی پھر انصار نے عرض کیا کہ ہمارے پاس تو دوسرے برتن نہیں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو خیر پھر اجازت ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے اور ان سے سالم بن ابی الجعد نے پھر یہی حدیث روایت کی تھی۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الظُّرُوفِ فَقَالَتِ الأَنْصَارُ إِنَّهُ لاَ بُدَّ لَنَا مِنْهَا. قَالَ " فَلاَ إِذًا ". وَقَالَ خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرٍ بِهَذَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا وَقَالَ فِيهِ لَمَّا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْأَوْعِيَةِ
#5593
Narrated `Abdullah bin `Amr:When the Prophet (ﷺ) forbade the use of certain containers (that were used for preparing alcoholic drinks), somebody said to the Prophet (ﷺ) . "But not all the people can find skins." So he allowed them to use clay jars not covered with pitch
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، وہ سلیمان بن ابی مسلم احول سے، وہ مجاہد سے، وہ ابوعیاض عمرو بن اسود سے اور انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکوں کے سوا اور برتنوں میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہر کسی کو مشک کہاں سے مل سکتی ہے؟ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بن لاکھ لگے گھڑے ( روغن زفت لگے برتن ) میں نبیذ بھگونے کی اجازت دے دی۔ ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے یہی بیان کیا اور اس میں یوں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند برتنوں میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الأَسْقِيَةِ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَيْسَ كُلُّ النَّاسِ يَجِدُ سِقَاءً فَرَخَّصَ لَهُمْ فِي الْجَرِّ غَيْرِ الْمُزَفَّتِ.
#5594
Narrated `Ali:the Prophet (ﷺ) forbade the use of Ad-Dubba' and Al Muzaffat. A'mash also narrated this
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے، کہ ان سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے حارث بن سوید نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور مزفت ( خاص قسم کے برتن جن میں شراب بنتی تھی ) کے استعمال کی بھی ممانعت کر دی تھی۔ ہم سے عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، کہا ان سے اعمش نے یہی حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ. حَدَّثَنَا عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا.
#5595
Narrated Ibrahim:I asked Al-Aswad, "Did you ask `Aisha, Mother of the Believers, about the containers in which it is disliked to prepare (non-alcoholic) drinks?" He said, "Yes, I said to her, 'O Mother of the Believers! What containers did the Prophet (ﷺ) forbid to use for preparing (non-alcoholic) drinks?" She said, 'The Prophet forbade us, (his family), to prepare (non-alcoholic) drinks in Ad-Dubba and Al-Muzaffat.' I asked, 'Didn't you mention Al Jar and Al Hantam?' She said, 'I tell what I have heard; shall I tell you what I have not heard?
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے ابراہیم نخعی نے کہ میں نے اسود بن یزید سے پوچھا کیا تم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تھا کہ کس برتن میں نبیذ ( کھجور کا میٹھا شربت ) بنانا مکروہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں، میں نے عرض کیا ام المؤمنین! کس برتن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خاص گھر والوں کو کدو کی تونبی اور لاکھی برتن میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا تھا۔ ( ابراہیم نخعی نے بیان کیا کہ ) میں نے اسود سے پوچھا انہوں نے گھڑے اور سبز مرتبان کا ذکر نہیں کیا۔ اس نے کہا کہ میں تم سے وہی بیان کرتا ہوں جو میں نے سنا، کیا وہ بھی بیان کر دوں جو میں نے نہ سنا ہو؟
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قُلْتُ لِلأَسْوَدِ هَلْ سَأَلْتَ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَمَّا يُكْرَهُ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ فَقَالَ نَعَمْ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَمَّا نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ قَالَتْ نَهَانَا فِي ذَلِكَ أَهْلَ الْبَيْتِ أَنْ نَنْتَبِذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ. قُلْتُ أَمَا ذَكَرْتِ الْجَرَّ وَالْحَنْتَمَ قَالَ إِنَّمَا أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ، أَفَأُحَدِّثُ مَا لَمْ أَسْمَعْ
#5596
Narrated Ash-Shaibani:I heard `Abdullah bin Abi `Aufa saying, "The Prophet (ﷺ) forbade the use of green jars." I said, "Shall we drink out of white jars?" He said, "No
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز گھڑے سے منع فرمایا تھا، میں نے پوچھا کیا ہم سفید گھڑوں میں پی لیا کریں کہا کہ نہیں۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْجَرِّ الأَخْضَرِ. قُلْتُ أَنَشْرَبُ فِي الأَبْيَضِ قَالَ لاَ.
#5597
Narrated Sahl bin Sa`d:Abu Usaid As Sa`idi invited the Prophet (ﷺ) to his wedding banquet. At that time his wife was serving them and she was the bride. She said, ''Do you know what (kind of syrup) I soaked (made) for Allah's Apostle? I soaked some dates in water in a Tur (bowl) overnight
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن القاری نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے، انہوں نے سہیل بن سعد سے سنا کہ ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے اپنے ولیمہ کی دعوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی، اس دن ان کی بیوی ( ام اسید سلامہ ) ہی مہمانوں کی خدمت کر رہی تھیں۔ زوجہ ابواسید نے کہا تم جانتے ہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کس چیز کا شربت تیار کیا تھا پتھر کے کونڈے میں رات کے وقت کچھ کھجوریں بھگو دی تھیں اور دوسرے دن صبح کو آپ کو پلا دی تھی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، دَعَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لِعُرْسِهِ، فَكَانَتِ امْرَأَتُهُ خَادِمَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَهْىَ الْعَرُوسُ. فَقَالَتْ مَا تَدْرُونَ مَا أَنْقَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْقَعْتُ لَهُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ فِي تَوْرٍ.
#5598
Narrated Abu Al-Juwairiyya:I asked Ibn `Abbas about Al-Badhaq. He said, "Muhammad prohibited alcoholic drinks before It was called Al-Badhaq (by saying), 'Any drink that intoxicates is unlawful.' I said, 'What about good lawful drinks?' He said,'Apart from what is lawful and good, all other things are unlawful and not good (unclean Al-Khabith)
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں ابوالجویریہ نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «باذق» ( انگور کا شیرہ ہلکی آنچ دیا ہوا ) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم «باذق» کے وجود سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو گئے تھے جو چیز بھی نشہ لائے وہ حرام ہے۔ ابوالجویریہ نے کہا کہ «باذق» تو حلال و طیب ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ انگور حلال و طیب تھا جب اس کی شراب بن گئی تو وہ حرام خبیث ہے ( نہ کہ حلال و طیب ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْبَاذَقِ،. فَقَالَ سَبَقَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم الْبَاذَقَ، فَمَا أَسْكَرَ فَهْوَ حَرَامٌ. قَالَ الشَّرَابُ الْحَلاَلُ الطَّيِّبُ. قَالَ لَيْسَ بَعْدَ الْحَلاَلِ الطَّيِّبِ إِلاَّ الْحَرَامُ الْخَبِيثُ.
#5599
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) used to like sweet edible things and honey
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ (عروہ بن زبیر) نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حلوا اور شہد کو دوست رکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ.
#5600
Narrated Anas:While I was serving Abu Talha. Abu Dujana and Abu Suhail bin Al-Baida' with a drink made from a mixture of unripe and ripe dates, alcoholic drinks, were made unlawful, whereupon I threw it away, and I was their butler and the youngest of them, and we used to consider that drink as an alcoholic drink in those days
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان نے کیا کہ میں نے ابوطلحہ، ابودجانہ اور سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہم کو کچی کھجور کی ملی ہوئی نبیذ پلا رہا تھا کہ شراب حرام کر دی گئی اور میں نے موجودہ شراب پھینک دی۔ میں ہی انہیں پلا رہا تھا میں سب سے کم عمر تھا۔ ہم اس نبیذ کو اس وقت شراب ہی سمجھتے تھے اور عمرو بن حارث راوی نے بیان کیا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ إِنِّي لأَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ وَأَبَا دُجَانَةَ وَسُهَيْلَ ابْنَ الْبَيْضَاءِ خَلِيطَ بُسْرٍ وَتَمْرٍ إِذْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ، فَقَذَفْتُهَا وَأَنَا سَاقِيهِمْ وَأَصْغَرُهُمْ، وَإِنَّا نَعُدُّهَا يَوْمَئِذٍ الْخَمْرَ. وَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ سَمِعَ أَنَسًا.