#5526
Narrated Al-Bara' and Ibn Abi `Aufa:The Prophet (ﷺ) prohibited the eating of donkey's meat
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَدِيٌّ، عَنِ الْبَرَاءِ، وَابْنِ أَبِي أَوْفَى، رضى الله عنهم قَالاَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ.
#5527
Narrated Abu Tha'alba: Allah's Messenger (ﷺ) prohibited the eating of donkey's meat. Narrated Az-Zuhri: The Prophet (ﷺ) prohibited the eating of beasts having fangs
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں ابوادریس نے خبر دی اور ان سے ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھے کا گوشت کھانا حرام قرار دیا تھا۔ اس روایت کی متابعت زبیدی اور عقیل نے ابن شہاب سے کی ہے۔ مالک، معمر، ماجشون، یونس اور ابن اسحاق نے زہری سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر پھاڑ کر کھانے والے درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا إِدْرِيسَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا ثَعْلَبَةَ قَالَ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لُحُومَ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ. تَابَعَهُ الزُّبَيْدِيُّ وَعُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ. وَقَالَ مَالِكٌ وَمَعْمَرٌ وَالْمَاجِشُونُ وَيُونُسُ وَابْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ.
#5528
Narrated Anas bin Malik:Someone came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "The donkeys have been (slaughtered and) eaten. Another man came and said, "The donkeys have been destroyed." On that the Prophet (ﷺ) ordered a caller to announce to the people: Allah and His Apostle forbid you to eat the meat of donkeys, for it is impure.' Thus the pots were turned upside down while the (donkeys') meat was boiling in them
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، انہیں ایوب نے، انہیں محمد نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صاحب آئے اور عرض کیا کہ میں نے گدھے کا گوشت کھا لیا ہے پھر دوسرے صاحب آئے اور کہا کہ میں نے گدھے کا گوشت کھا لیا ہے پھر تیسرے صاحب آئے اور کہا کہ گدھے ختم ہو گئے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کے ذریعہ لوگوں میں اعلان کرایا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول تمہیں پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں کیونکہ وہ ناپاک ہیں چنانچہ اسی وقت ہانڈیاں الٹ دی گئیں حالانکہ وہ ( گدھے کے ) گوشت سے جوش مار رہی تھیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَهُ جَاءٍ فَقَالَ أُكِلَتِ الْحُمُرُ، ثُمَّ جَاءَهُ جَاءٍ فَقَالَ أُكِلَتِ الْحُمُرُ. ثُمَّ جَاءَهُ جَاءٍ فَقَالَ أُفْنِيَتِ الْحُمُرُ. فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ، فَإِنَّهَا رِجْسٌ. فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ وَإِنَّهَا لَتَفُورُ بِاللَّحْمِ.
#5529
Narrated `Amr:I said to Jabir bin Zaid, "The people claim that Allah's Messenger (ﷺ) forbade the eating of donkey's meat." He said, "Al-Hakam bin `Amr Al-Ghifari used to say so when he was with us, but Ibn `Abbas, the great religious learned man, refused to give a final verdict and recited:-- 'Say: I find not in that which has been inspired to me anything forbidden to be eaten by one who wishes to eat it, unless it be carrion, blood poured forth or the flesh of swine
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عمرو نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ نے ہمیں بصرہ میں یہی بتایا تھا لیکن علم کے سمندر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے انکار کیا اور ( استدلال میں ) اس آیت کی تلاوت کی «قل لا أجد فيما أوحي إلى محرما» ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ حُمُرِ الأَهْلِيَّةِ فَقَالَ قَدْ كَانَ يَقُولُ ذَاكَ الْحَكَمُ بْنُ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ عِنْدَنَا بِالْبَصْرَةِ، وَلَكِنْ أَبَى ذَاكَ الْبَحْرُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَقَرَأَ {قُلْ لاَ أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَىَّ مُحَرَّمًا}
#5530
Narrated Abu Tha`laba:Allah's Messenger (ﷺ) forbade the eating of the meat of beasts having fangs
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ابوادریس خولانی نے اور وہ ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر پھاڑ کھانے والے درندوں کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا۔ اس روایت کی متابعت یونس، معمر، ابن عیینہ اور ماجشون نے زہری کی سند سے کی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ. تَابَعَهُ يُونُسُ وَمَعْمَرٌ وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَالْمَاجِشُونُ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
#5531
Narrated `Abdullah bin `Abbas:Once Allah's Messenger (ﷺ) passed by a dead sheep and said (to the people), "Why don't you use its hide?" They said, "But it is dead," He said, "Only eating it, is prohibited
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مری ہوئی بکری کے قریب سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا؟ لوگوں نے کہا کہ یہ تو مری ہوئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صرف اس کا کھانا حرام کیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ فَقَالَ " هَلاَّ اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا ". قَالُوا إِنَّهَا مَيِّتَةٌ. قَالَ " إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا ".
#5532
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) passed by a dead goat and said, "There is no harm if its owners benefit from its skin
ہم سے خطاب بن عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن حمیر نے بیان کیا، ان سے ثابت بن عجلان نے بیان کیا، انہوں نے سعید بن جبیر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرے ہوئے بکرے کے پاس سے گزرے تو فرمایا کہ اس کے مالکوں کو کیا ہو گیا ہے اگر وہ اس کے چمڑے کو کام میں لاتے ( تو بہتر ہوتا ) ۔
حَدَّثَنَا خَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عَجْلاَنَ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِعَنْزٍ مَيْتَةٍ فَقَالَ " مَا عَلَى أَهْلِهَا لَوِ انْتَفَعُوا بِإِهَابِهَا ".
#5533
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "None is wounded in Allah's Cause but will come on the Day of Resurrection with his wound bleeding. The thing that will come out of his wound will be the color of blood, but its smell will be the smell of musk
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا ہم سے عمارہ بن قعقاع نے بیان کیا، ان سے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو زخمی بھی اللہ کے راستے میں زخمی ہو گیا ہو اسے قیامت کے دن اس حالت میں اٹھایا جائے گا کہ اس کے زخم سے جو خون جاری ہو گا اس کا رنگ تو خون ہی جیسا ہو گا مگر اس میں مشک جیسی خوشبو ہو گی۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ مَكْلُومٍ يُكْلَمُ فِي اللَّهِ إِلاَّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَكَلْمُهُ يَدْمَى، اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ وَالرِّيحُ رِيحُ مِسْكٍ ".
#5534
Narrated Abu Musa:The Prophet (ﷺ) said, 'The example of a good pious companion and an evil one is that of a person carrying musk and another blowing a pair of bellows. The one who is carrying musk will either give you some perfume as a present, or you will buy some from him, or you will get a good smell from him, but the one who is blowing a pair of bellows will either burn your clothes or you will get a bad smell from him
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ نے، ان سے بردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نیک اور برے دوست کی مثال مشک ساتھ رکھنے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے ( جس کے پاس مشک ہے اور تم اس کی محبت میں ہو ) وہ اس میں سے یا تمہیں کچھ تحفہ کے طور پر دے گا یا تم اس سے خرید سکو گے یا ( کم از کم ) تم اس کی عمدہ خوشبو سے تو محظوظ ہو ہی سکو گے اور بھٹی دھونکنے والا یا تمہارے کپڑے ( بھٹی کی آگ سے ) جلا دے گا یا تمہیں اس کے پاس سے ایک ناگوار بدبودار دھواں پہنچے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ، فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً ".
#5535
Narrated Anas bin Malik:Once we provoked a rabbit at Marr-az-Zahran. The people chased it till they got tired. Then I caught It and brought it to Abu Talha, who slaughtered it and then sent both its pelvic pieces (or legs) to the Prophet, and the Prophet (ﷺ) accepted the present
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن زید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے ایک خرگوش کا پیچھا کیا۔ ہم مرالظہران میں تھے۔ لوگ اس کے پیچھے دوڑے اور تھک گئے پھر میں نے اسے پکڑ لیا اور اسے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا۔ انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کے دونوں کولہے یا ( راوی نے بیان کیا کہ ) اس کی دونوں رانیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قبول فرمایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا وَنَحْنُ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَسَعَى الْقَوْمُ فَلَغَبُوا، فَأَخَذْتُهَا فَجِئْتُ بِهَا إِلَى أَبِي طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا، فَبَعَثَ بِوَرِكَيْهَا ـ أَوْ قَالَ بِفَخِذَيْهَا ـ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَبِلَهَا.
#5536
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "I do not eat mastigure, but I do not prohibit its eating
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ساہنہ میں خود نہیں کھاتا لیکن اسے حرام بھی نہیں قرار دیتا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الضَّبُّ لَسْتُ آكُلُهُ وَلاَ أُحَرِّمُهُ ".
#5537
Narrated Khalid bin Al-Walid:Allah's Messenger (ﷺ) and I entered the house of Maimuna. A roasted mastigure was served. Allah's Messenger (ﷺ) stretched his hand out (to eat of it) but some woman said, "Inform Allah's Messenger (ﷺ) of what he is about to eat." So they said, "It is mastigure, O Allah's Messenger (ﷺ)!" He withdrew his hand, whereupon I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Is it unlawful?" He said, "No, but this is not found in the land of my people, so I dislike it." So I pulled the mastigure towards me and ate it while Allah's Messenger (ﷺ) was looking at me
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوامامہ بن سہل نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا اور ان سے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھنا ہوا ساہنہ لایا گیا آپ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا لیکن بعض عورتوں نے کہا کہ آپ جو کھانا دیکھ رہے ہیں اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دو، عورتوں نے کہا کہ یہ ساہنہ ہے یا رسول اللہ! چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ حرام ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں لیکن چونکہ یہ ہمارے ملک میں نہیں پایا جاتا اس لیے طبیعت اس سے انکار کرتی ہے۔ خالد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور کھایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْتَ مَيْمُونَةَ فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ أَخْبِرُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَا يُرِيدُ أَنْ يَأْكُلَ. فَقَالُوا هُوَ ضَبٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَرَفَعَ يَدَهُ، فَقُلْتُ أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ " لاَ، وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ ". قَالَ خَالِدٌ فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْظُرُ.
#5538
Narrated Maimuna:A mouse fell into the butter-fat and died. The Prophet (ﷺ) was asked about that. He said, "Throw away the mouse and the butter-fat that surrounded it, and eat the rest of the butter-fat (As-Samn)
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک چوہا گھی میں پڑ کر مر گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چوہے کو اور اس کے چاروں طرف سے گھی کو پھینک دو اور باقی گھی کو کھاؤ۔ سفیان سے کہا گیا کہ معمر اس حدیث کو زہری سے بیان کرتے ہیں کہ ان سے سعید بن مسیب اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے یہ حدیث زہری سے صرف عبیداللہ سے بیان کرتے سنی ہے کہ ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے، ان سے میمونہ رضی اللہ عنہا نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور میں نے یہ حدیث ان سے بارہا سنی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يُحَدِّثُهُ عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ فَأْرَةً، وَقَعَتْ، فِي سَمْنٍ فَمَاتَتْ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْهَا فَقَالَ " أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَكُلُوهُ ". قِيلَ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ مَعْمَرًا يُحَدِّثُهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ مَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ إِلاَّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ مِرَارًا.
#5539
Narrated Az-Zhuri:regarding an animal, e.g., a mouse or some other animal that had fallen into solid or liquid oil or butter-fat: I had been informed that a mouse had died in butter-fat whereupon Allah's Messenger (ﷺ) ordered that the butter-fat near it be thrown away and the rest of the butter-fat can be eaten
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں محمد بن عبداللہ بن شہاب زہری نے کہ اگر کوئی جانور چوہا یا کوئی اور جمے ہوئے یا غیر جمے ہوئے گھی یا تیل میں پڑ جائے تو اس کے متعلق کہا کہ ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوہے کہ متعلق جو گھی میں مر گیا تھا، حکم دیا کہ اسے اور اس کے چاروں طرف سے گھی نکال کر پھینک دیا جائے اور پھر باقی گھی کھایا گیا۔ ہمیں یہ حدیث عبیداللہ بن عبداللہ کی سند سے پہنچی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الدَّابَّةِ، تَمُوتُ فِي الزَّيْتِ وَالسَّمْنِ وَهْوَ جَامِدٌ أَوْ غَيْرُ جَامِدٍ، الْفَأْرَةِ أَوْ غَيْرِهَا قَالَ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِفَأْرَةٍ مَاتَتْ فِي سَمْنٍ، فَأَمَرَ بِمَا قَرُبَ مِنْهَا فَطُرِحَ ثُمَّ أُكِلَ، عَنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ.
#5540
Narrated Maimuna:The Prophet (ﷺ) was asked about a mouse that had fallen into butter-fat (and died). He said, "Throw away the mouse and the portion of butter-fat around it, and eat the rest
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبداللہ بن عبداللہ نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اور ان سے میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چوہے کا حکم پوچھا گیا جو گھی میں گر گیا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چوہے کو اور اس کے چاروں طرف سے گھی کو پھینک دو پھر باقی گھی کھا لو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ ـ رضى الله عنهم ـ قَالَتْ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ فَأْرَةٍ سَقَطَتْ فِي سَمْنٍ فَقَالَ " أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَكُلُوهُ ".
#5541
Narrated Salim:that Ibn `Umar disliked the branding of animals on the face. Ibn `Umar said, "The Prophet (ﷺ) forbade beating (animals) on the face
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے حنظلہ نے، ان سے سالم نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ وہ چہرے پر نشان لگانے کو ناپسند کرتے تھے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر مارنے سے منع کیا ہے۔ عبیداللہ بن موسیٰ کے ساتھ اس حدیث کو قتیبہ بن سعید نے بھی روایت کیا، کہا ہم کو عمرو بن محمد عنقزی نے خبر دی، انہوں نے حنظلہ سے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ تُعْلَمَ الصُّورَةُ،. وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُضْرَبَ. تَابَعَهُ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا الْعَنْقَزِيُّ عَنْ حَنْظَلَةَ وَقَالَ تُضْرَبُ الصُّورَةُ.
#5542
Narrated Anas:I brought a brother of mine to the Prophet (ﷺ) to do Tahnik for him while the Prophet (ﷺ) was in a sheep fold of his, and I saw him branding a sheep. (The sub-narrator said: I think Anas said, branding it on the ear)
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن زید نے ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بھائی ( عبداللہ بن ابی طلحہ نومولود ) کو لایا تاکہ آپ اس کی تحنیک فرما دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اونٹوں کے باڑے میں تشریف رکھتے تھے۔ میں نے دیکھا کہ آپ ایک بکری کو داغ رہے تھے ( شعبہ نے کہا کہ ) میں سمجھتا ہوں کہ ( ہشام نے ) کہا کہ اس کے کانوں کو داغ رہے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِأَخٍ لِي يُحَنِّكُهُ، وَهْوَ فِي مِرْبَدٍ لَهُ، فَرَأَيْتُهُ يَسِمُ شَاةً ـ حَسِبْتُهُ قَالَ ـ فِي آذَانِهَا.
#5543
Narrated Rait' bin Khadij:I said to the Prophet, "We will be facing the enemy tomorrow and we have no knives (for slaughtering)' He said, "If you slaughter the animal with anything that causes its blood to flow out, and if Allah's Name is mentioned on slaughtering it, eat of it, unless the killing instrument is a tooth or nail. I will tell you why: As for the tooth, it is a bone; and as for the nail, it is the knife of Ethiopians." The quick ones among the people got the war booty while the Prophet (ﷺ) was behind the people. So they placed the cooking pots on the fire, but the Prophet (ﷺ) ordered the cooking pots to be turned upside down. Then he distributed (the war booty) among them, considering one camel as equal to ten sheep. Then a camel belonging to the first party of people ran away and they had no horses with them, so a man shot it with an arrow whereby Allah stopped it. The Prophet (ﷺ) said, "Of these animals there are some which are as wild as wild beasts. So, if anyone of them runs away like this, do like this (shoot it with an arrow)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسروق نے بیان کیا، ان سے عبایہ بن رفاعہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبایہ کے دادا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ کل ہمارا دشمن سے مقابلہ ہو گا اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو آلہ خون بہا دے اور ( جانوروں کو ذبح کرتے وقت ) اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اسے کھاؤ بشرطیکہ ذبح کا آلہ دانت اور ناخن نہ ہو اور میں اس کی وجہ تمہیں بتاؤں گا۔ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے اور جلدی کرنے والے لوگ آگے بڑھ گئے تھے اور غنیمت پر قبضہ کر لیا تھا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے کے صحابہ کے ساتھ تھے چنانچہ ( آگے پہنچنے والوں نے جانور ذبح کر کے ) ہانڈیاں پکنے کے لیے چڑھا دیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں الٹ دینے کا حکم فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت لوگوں کے درمیان تقسیم کی۔ اس تقسیم میں ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر آپ نے قرار دیا تھا پھر آگے کے لوگوں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ گیا۔ لوگوں کے پاس گھوڑے نہیں تھے پھر ایک شخص نے اس اونٹ پر تیر مارا اور اللہ تعالیٰ نے اسے روک لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جانور بھی کبھی وحشی جانوروں کی طرح بدکنے لگتے ہیں۔ اس لیے جب ان میں سے کوئی ایسا کرے تو تم بھی ان کے ساتھ ایسا ہی کرو۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّنَا نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا، وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى. فَقَالَ " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ فَكُلُوا، مَا لَمْ يَكُنْ سِنٌّ وَلاَ ظُفُرٌ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفْرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ ". وَتَقَدَّمَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَأَصَابُوا مِنَ الْغَنَائِمِ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي آخِرِ النَّاسِ فَنَصَبُوا قُدُورًا فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ وَقَسَمَ بَيْنَهُمْ وَعَدَلَ بَعِيرًا بِعَشْرِ شِيَاهٍ، ثُمَّ نَدَّ بَعِيرٌ مِنْ أَوَائِلِ الْقَوْمِ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ خَيْلٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ اللَّهُ. فَقَالَ " إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا فَعَلَ مِنْهَا هَذَا فَافْعَلُوا مِثْلَ هَذَا ".
#5544
Narrated Rafi` bin Khadij:While we were with the Prophet. on a journey, one of the camels ran away. A man shot it with an arrow and stopped it. The Prophet (ﷺ) said, "Of these camels some are as wild as wild beasts, so if one of them runs away and you cannot catch it, then do like this (shoot it with an arrow)." I said, "O Allah's Apostle! Sometimes when we are in battles or on a journey we want to slaughter (animals) but we have no knives." He said, "Listen! If you slaughter the animal with anything that causes its blood to flow out, and if Allah's Name is mentioned on slaughtering it, eat of it, provided that the slaughtering instrument is not a tooth or a nail, as the tooth is a bone and the nail is the knife of Ethiopians
ہم سے ابن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عمر بن عبید الطنافسی نے خبر دی، انہیں سعید بن مسروق نے، ان سے عبایہ بن رفاعہ نے، ان سے ان کے دادا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ ایک اونٹ بدک کر بھاگ پڑا، پھر ایک آدمی نے تیر سے اسے مارا اور اللہ تعالیٰ نے اسے روک دیا۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اونٹ بھی بعض اوقات جنگلی جانوروں کی طرح بدکتے ہیں، اس لیے ان میں سے جو تمہارے قابو سے باہر ہو جائیں، ان کے ساتھ ایسا ہی کیا کرو۔ رافع نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اکثر غزوات اور دوسرے سفروں میں رہتے ہیں اور جانور ذبح کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمارے پاس چھریاں نہیں ہوتیں۔ فرمایا کہ دیکھ لیا کرو جو آلہ خون بہا دے یا ( آپ نے بجائے «نهر» کے ) «أنهر» فرمایا اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ۔ البتہ دانت اور ناخن نہ ہو کیونکہ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبش والوں کی چھری ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ جَدِّهِ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَنَدَّ بَعِيرٌ مِنَ الإِبِلِ ـ قَالَ ـ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، قَالَ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ لَهَا أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا ". قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَكُونُ فِي الْمَغَازِي وَالأَسْفَارِ فَنُرِيدُ أَنْ نَذْبَحَ فَلاَ تَكُونُ مُدًى قَالَ " أَرِنْ مَا نَهَرَ ـ أَوْ أَنْهَرَ ـ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ فَكُلْ، غَيْرَ السِّنِّ وَالظُّفُرِ، فَإِنَّ السِّنَّ عَظْمٌ، وَالظُّفُرَ مُدَى الْحَبَشَةِ ".
#5545
Narrated Al-Bara:The Prophet (ﷺ) said (on the day of Idal-Adha), "The first thing we will do on this day of ours, is to offer the (`Id) prayer and then return to slaughter the sacrifice. Whoever does so, he acted according to our Sunna (tradition), and whoever slaughtered (the sacrifice) before the prayer, what he offered was just meat he presented to his family, and that will not be considered as Nusak (sacrifice)." (On hearing that) Abu Burda bin Niyar got up, for he had slaughtered the sacrifice before the prayer, and said, "I have got a six month old ram." The Prophet (ﷺ) said, 'Slaughter it (as a sacrifice) but it will not be sufficient for any-one else (as a sacrifice after you). Al-Bara' added: The Prophet (ﷺ) said, "Whoever slaughtered (the sacrifice) after the prayer, he slaughtered it at the right time and followed the tradition of the Muslims
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے زبید ایامی نے، ان سے شعبی نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج ( عید الاضحی کے دن ) کی ابتداء ہم نماز ( عید ) سے کریں گے پھر واپس آ کر قربانی کریں گے جو اس طرح کرے گا وہ ہماری سنت کے مطابق کرے گا لیکن جو شخص ( نماز عید سے ) پہلے ذبح کرے گا تو اس کی حیثیت صرف گوشت کی ہو گی جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے تیار کر لیا ہے قربانی وہ قطعاً بھی نہیں۔ اس پر ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے ( نماز عید سے پہلے ہی ) ذبح کر لیا تھا اور عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا بکرا ہے ( کیا اس کی دوبارہ قربانی اب نماز کے بعد کر لوں؟ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی قربانی کر لو لیکن تمہارے بعد یہ کسی اور کے لیے کافی نہیں ہو گا۔ مطرف نے عامر سے بیان کیا اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز عید کے بعد قربانی کی اس کی قربانی پوری ہو گی اور اس نے مسلمانوں کی سنت کے مطابق عمل کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ الإِيَامِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، مَنْ فَعَلَهُ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلُ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لأَهْلِهِ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَىْءٍ ". فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ وَقَدْ ذَبَحَ فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً. فَقَالَ " اذْبَحْهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ". قَالَ مُطَرِّفٌ عَنْ عَامِرٍ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلاَةِ تَمَّ نُسُكُهُ، وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ ".
#5546
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever slaughtered the sacrifice before the prayer, he just slaughtered it for himself, and whoever slaughtered it after the prayer, he slaughtered it at the right time and followed the tradition of the Muslims
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی اس نے اپنی ذات کے لیے جانور ذبح کیا اور جس نے نماز عید کے بعد قربانی کی اس کی قربانی پوری ہوئی۔ اس نے مسلمانوں کی سنت کو پا لیا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَإِنَّمَا ذَبَحَ لِنَفْسِهِ، وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ، وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ ".
#5547
Narrated `Uqba bin 'Amir Al-Juhani:that the Prophet (ﷺ) distributed among his companions some animals for sacrifice (to be slaughtered on `Id-al-Adha). `Uqba's share was a Jadha'a (a six month old goat). `Uqba said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I get in my share of Jadha'a (a six month old ram)." The Prophet (ﷺ) said, "Slaughter it as a sacrifice
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے اور ان سے بعجہ الجہنی نے اور ان سے عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں قربانی کے جانور تقسیم کئے۔ عقبہ رضی اللہ عنہ کے حصہ میں ایک سال سے کم کا بکری کا بچہ آیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے حصہ میں تو ایک سال سے کم کا بچہ آیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کی قربانی کر لو۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ بَعْجَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ قَسَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَصْحَابِهِ ضَحَايَا، فَصَارَتْ لِعُقْبَةَ جَذَعَةٌ. فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَارَتْ جَذَعَةٌ. قَالَ " ضَحِّ بِهَا ".
#5548
Narrated `Aisha:that the Prophet (ﷺ) entered upon her when she had her menses at Sarif before entering Mecca, and she was weeping (because she was afraid that she would not be able to perform the Hajj). The Prophet (ﷺ) said, "What is wrong with you? Have you got your period?" She said, "Yes." He said, "This is a matter Allah has decreed for all the daughters of Adam, so perform all the ceremonies of Hajj like the others, but do not perform the Tawaf around the Ka`ba." `Aisha added: When we were at Mina, beef was brought to me and I asked, "What is this?" They (the people) said, "Allah's Messenger (ﷺ) has slaughtered some cows as sacrifices on behalf of his wives
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) ان کے پاس آئے وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے مقام سرف میں حائضہ ہو گئی تھیں۔ اس وقت آپ رو رہی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے کیا تمہیں حیض کا خون آنے لگا ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی بیٹیوں کے مقدر میں لکھ دیا ہے۔ تم حاجیوں کی طرح تمام اعمال حج ادا کر لو بس بیت اللہ کا طواف نہ کرو، پھر جب ہم منیٰ میں تھے تو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا وَحَاضَتْ بِسَرِفَ، قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَ مَكَّةَ وَهْىَ تَبْكِي فَقَالَ " مَا لَكِ أَنَفِسْتِ ". قَالَتْ نَعَمْ. قَالَ " إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ ". فَلَمَّا كُنَّا بِمِنًى أُتِيتُ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالُوا ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَزْوَاجِهِ بِالْبَقَرِ.
#5549
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) said on the day of Nahr, "Whoever has slaughtered his sacrifice before the prayer, should repeat it (slaughter another sacrifice)." A man got up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! This is a day on which meat is desired." He then mentioned his neighbors saying, "I have a six month old ram which is to me better than the meat of two sheep." The Prophet (ﷺ) allowed him to slaughter it as a sacrifice, but I do not know whether this permission was valid for other than that man or not. The Prophet (ﷺ) then went towards two rams and slaughtered them, and then the people went towards some sheep and distributed them among themselves
ہم سے صدقہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن علیہ نے خبر دی، انہیں ایوب نے، انہیں محمد بن سیرین نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن فرمایا کہ جس نے نماز عید سے پہلے قربانی ذبح کر لی ہے وہ دوبارہ قربانی کرے اس پر ایک صاحب نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ وہ دن ہے جس میں گوشت کھانے کی خواہش ہوتی ہے پھر انہوں نے اپنے پڑوسیوں کا ذکر کیا اور ( کہا کہ ) میرے پاس ایک سال سے کم کا بکری کا بچہ ہے جس کا گوشت دو بکریوں کے گوشت سے بہتر ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ اجازت دوسروں کو بھی ہے یا نہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف مڑے اور انہیں ذبح کیا پھر لوگ بکریوں کی طرف بڑھے اور انہیں تقسیم کر کے ( ذبح کیا ) ۔
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ " مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَلْيُعِدْ ". فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ ـ وَذَكَرَ جِيرَانَهُ ـ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ. فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَلاَ أَدْرِي أَبَلَغَتِ الرُّخْصَةُ مَنْ سِوَاهُ أَمْ لاَ، ثُمَّ انْكَفَأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا، وَقَامَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا أَوْ قَالَ فَتَجَزَّعُوهَا.
#5550
Narrated Abu Bakra:The Prophet (ﷺ) said, "Time has come back to its original state which it had on the day Allah created the Heavens and the Earth. The year is twelve months, four of which are sacred, three of them are in succession, namely Dhul-Qa'da, Dhul Hijja and Muharram, (the fourth being) Rajab Mudar which is between Juma'da (ath-thamj and Sha'ban. The Prophet (ﷺ) then asked, "Which month is this?" We said, "Allah and his Apostle know better." He kept silent so long that we thought that he would call it by a name other than its real name. He said, "Isn't it the month of Dhul-Hijja?" We said, "Yes." He said, "Which town is this?" We said, "Allah and His Apostle know better." He kept silent so long that we thought that he would call it t,y a name other than its real name. He said, "isn't it the town (of Mecca)?" We replied, "Yes." He said, "What day is today?" We replied, "Allah and His Apostle know better." He kept silent so long that we thought that he would call it by a name other than its real name. He said, "Isn't it the day of Nahr?" We replied, "Yes." He then said, "Your blood, properties and honor are as sacred to one another as this day of yours in this town of yours in this month of yours. You will meet your Lord, and He will ask you about your deeds. Beware! Do not go astray after me by cutting the necks of each other. It is incumbent upon those who are present to convey this message to those who are absent, for some of those to whom it is conveyed may comprehend it better than some of those who have heard it directly." (Muhammad, the sub-narrator, on mentioning this used to say: The Prophet then said, "No doubt! Haven't I delivered (Allah's) Message (to you)? Haven't I delivered Allah's message (to you)?
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے، ان سے ابن ابی بکرہ نے اور ان سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمانہ پھر کر اسی حالت پر آ گیا ہے جس حالت پر اس دن تھا جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدا کئے تھے۔ سال بارہ مہینہ کا ہوتا ہے ان میں چار حرمت کے مہینے ہیں، تین پے در پے ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم اور ایک مضر کا رجب جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان میں پڑتا ہے۔ ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ) یہ کون سا مہینہ ہے، ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ ہم نے سمجھا کہ شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا ذی الحجہ ہی ہے۔ پھر فرمایا یہ کون سا شہر ہے؟ ہم نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو اس کا زیادہ علم ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا کہ شاید آپ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ بلدہ ( مکہ مکرمہ ) نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ دن کون سا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول کو اس کا بہتر علم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا کہ آپ اس کا کوئی اور نام تجویز کریں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ قربانی کا دن ( یوم النحر ) نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پس تمہارا خون، تمہارے اموال۔ محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ ( ابن ابی بکرہ نے ) یہ بھی کہا کہ اور تمہاری عزت تم پر ( ایک کی دوسرے پر ) اس طرح باحرمت ہیں جس طرح اس دن کی حرمت تمہارے اس شہر میں اور اس مہینہ میں ہے اور عنقریب اپنے رب سے ملو گے اس وقت وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا آ گاہ ہو جاؤ میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ تم میں سے بعض بعض دوسرے کی گردن مارنے لگے۔ ہاں جو یہاں موجود ہیں وہ ( میرا یہ پیغام ) غیر موجود لوگوں کو پہنچا دیں۔ ممکن ہے کہ بعض وہ جنہیں یہ پیغام پہنچایا جائے بعض ان سے زیادہ اسے محفوظ کرنے والے ہوں جو اسے سن رہے ہیں۔ اس پر محمد بن سیرین کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آگاہ ہو جاؤ کیا میں نے ( اس کا پیغام تم کو ) پہنچا دیا ہے۔ آگاہ ہو جاؤ کیا میں نے پہنچا دیا ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الزَّمَانُ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ، السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا، مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ، ثَلاَثٌ مُتَوَالِيَاتٌ ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ، أَىُّ شَهْرٍ هَذَا ". قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ " أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ ". قُلْنَا بَلَى. قَالَ " أَىُّ بَلَدٍ هَذَا ". قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ " أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ ". قُلْنَا بَلَى. قَالَ " فَأَىُّ يَوْمٍ هَذَا ". قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ " أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ ". قُلْنَا بَلَى. قَالَ " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ ـ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَحْسِبُهُ قَالَ ـ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ، وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، أَلاَ فَلاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلاَّلاً، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، أَلاَ لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يَبْلُغُهُ أَنْ يَكُونَ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ ـ وَكَانَ مُحَمَّدٌ إِذَا ذَكَرَهُ قَالَ صَدَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ـ أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ ".