#5276
Narrated Ibn `Abbas:The wife of Thabit bin Qais bin Shammas came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I do not blame Thabit for any defects in his character or his religion, but I am afraid that I (being a Muslim) may become unthankful for Allah's Blessings." On that, Allah's Messenger (ﷺ) said (to her), 'Will you return his garden to him?" She said, "Yes." So she returned his garden to him and the Prophet (ﷺ) told him to divorce her
ہم سے محمد بن عبداللہ بن مبارک مخری نے کہا، کہا ہم سے قراد ابونوح نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ثابت کے دین اور ان کے اخلاق سے مجھے کوئی شکایت نہیں لیکن مجھے خطرہ ہے ( کہ میں ثابت رضی اللہ عنہ کی ناشکری میں نہ پھنس جاؤں ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تم ان کا باغ ( جو انہوں نے مہر میں دیا تھا ) واپس کر سکتی ہو؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ چنانچہ انہوں نے وہ باغ واپس کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ثابت رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے سے جدا کر دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَنْقِمُ عَلَى ثَابِتٍ فِي دِينٍ وَلاَ خُلُقٍ، إِلاَّ أَنِّي أَخَافُ الْكُفْرَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ ". فَقَالَتْ نَعَمْ. فَرَدَّتْ عَلَيْهِ، وَأَمَرَهُ فَفَارَقَهَا.
#5277
Narrated `Ikrima:that Jamila... Then he related the whole ,Hadith, (i.e)
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ان سے حماد بن یزید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے ان سے عکرمہ نے یہی قصہ ( مرسلاً ) نقل کیا اور اس میں خاتون کا نام جمیلہ آیا ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ جَمِيلَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
#5278
Narrated Al-Miswar bin Makhrama Az-Zuhri:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Banu Al-Mughira have asked my leave to let `Ali marry their daughter, but I give no leave to this effect
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ بنی مغیرہ نے اس کی اجازت مانگی ہے کہ علی رضی اللہ عنہ سے وہ اپنی بیٹی کا نکاح کر لیں لیکن میں انہیں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ بَنِي الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُوا فِي أَنْ يَنْكِحَ عَلِيٌّ ابْنَتَهُمْ، فَلاَ آذَنُ ".
#5279
Narrated `Aisha:(the wife of the Prophet) Three traditions were established concerning situations in which Barra was involved: When she was manumitted, she was given the option to keep her husband or leave him; Allah's Messenger (ﷺ) said, "The wala is for the one who manumits, Once Allah's Messenger (ﷺ) entered the house while some meat was being cooked in a pot, but only bread and some soup of the house were placed before, him. He said, "Don't I see the pot containing meat?" They said, "Yes, but that meat was given to Barira in charity (by someone), and you do not eat what it given in charity."The Prophet (ﷺ) said "That meat is alms for her, but for us it is a present
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے، ان سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا سے دین کے تین مسئلے معلوم ہو گئے۔ اول یہ کہ انہیں آزاد کیا گیا اور پھر ان کے شوہر کے بارے میں اختیار دیا گیا ( کہ چاہیں ان کے نکاح میں رہیں ورنہ الگ ہو جائیں ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( انہیں کے بارے میں ) فرمایا کہ ولاء اسی سے قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے اور ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے تو ایک ہانڈی میں گوشت پکایا جا رہا تھا، پھر کھانے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے روٹی اور گھر کا سالن پیش کیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تو دیکھا کہ ہانڈی میں گوشت بھی پک رہا ہے؟ عرض کیا گیا کہ جی ہاں لیکن وہ گوشت بریرہ کو صدقہ میں ملا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے بریرہ کی طرف سے تحفہ ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلاَثُ سُنَنٍ، إِحْدَى السُّنَنِ أَنَّهَا أُعْتِقَتْ، فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا. وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ". وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ فَقَالَ " أَلَمْ أَرَ الْبُرْمَةَ فِيهَا لَحْمٌ ". قَالُوا بَلَى، وَلَكِنْ ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، وَأَنْتَ لاَ تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ. قَالَ " عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ ".
#5280
Narrated Ibn `Abbas:I saw him as a slave, (namely, Barira's husband)
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ اور ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ میں نے انہیں غلام دیکھا تھا۔ آپ کی مراد بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر ( مغیث ) سے تھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَهَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ رَأَيْتُهُ عَبْدًا يَعْنِي زَوْجَ بَرِيرَةَ.
#5281
Narrated Ibn `Abbas:That was Mughith, the slave of Bani so-and-so, i.e., Barira's husband as if I am now looking at him following her (Barira) along the streets of Medina
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ یہ مغیث بنی فلاں کے غلام تھے۔ آپ کا اشارہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کی طرف تھا۔ گویا اس وقت بھی میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ مدینہ کی گلیوں میں وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے پیچھے روتے پھر رہے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ ذَاكَ مُغِيثٌ عَبْدُ بَنِي فُلاَنٍ ـ يَعْنِي زَوْجَ بَرِيرَةَ ـ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ، يَبْكِي عَلَيْهَا.
#5282
Narrated Ibn `Abbas:Barira's husband was a black slave called Mughith, the slave of Bani so-and-so-- as if I am seeing him now, walking behind her along the streets of Medina
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر ایک حبشی غلام تھے۔ ان کا مغیث نام تھا، وہ بنی فلاں کے غلام تھے۔ جیسے وہ منظر اب بھی میری آنکھوں میں ہے کہ وہ مدینہ کی گلیوں میں بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے پیچھے پھر رہے ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ، عَبْدًا لِبَنِي فُلاَنٍ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ وَرَاءَهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ.
#5283
Narrated Ibn `Abbas:Barira's husband was a slave called Mughith, as if I am seeing him now, going behind Barira and weeping with his tears flowing down his beard. The Prophet (ﷺ) said to `Abbas, "O `Abbas ! are you not astonished at the love of Mughith for Barira and the hatred of Barira for Mughith?" The Prophet (ﷺ) then said to Barira, "Why don't you return to him?" She said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Do you order me to do so?" He said, "No, I only intercede for him." She said, "I am not in need of him
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، کہا ہم سے خالد حذاء نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر غلام تھے اور ان کا نام مغیث تھا۔ گویا میں اس وقت اس کو دیکھ رہا ہوں جب وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے پیچھے روتے ہوئے پھر رہے تھے اور آنسوؤں سے ان کی ڈاڑھی تر ہو رہی تھی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: عباس! کیا تمہیں مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کی مغیث سے نفرت پر حیرت نہیں ہوئی؟ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ کاش! تم اس کے بارے میں اپنا فیصلہ بدل دیتیں۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے اس کا حکم فرما رہے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں صرف سفارش کر رہا ہوں۔ انہوں نے اس پر کہا کہ مجھے مغیث کے پاس رہنے کی خواہش نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ زَوْجَ، بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا يَبْكِي، وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِعَبَّاسٍ " يَا عَبَّاسُ أَلاَ تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ، وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا ". فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَوْ رَاجَعْتِهِ ". قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْمُرُنِي قَالَ " إِنَّمَا أَنَا أَشْفَعُ ". قَالَتْ لاَ حَاجَةَ لِي فِيهِ.
#5284
Narrated Al-Aswad:Aisha intended to buy Barira, but her masters stipulated that her wala wound be for them. Aisha mentioned that to the Prophet (ﷺ) who said (to `Aisha), "Buy and manumit her, for the wala is for the one who manumits." Once some meat was brought to the Prophet (ﷺ) and was said, "This meat was given in charity to Barira. " The Prophet (ﷺ) said, "It is an object of charity for Barira and a gift for us." Narrated Adam: Shu`ba related the same Hadith and added: Barira was given the option regarding her husband
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں حکم نے، انہیں ابراہیم نخعی سے اور وہ اسود سے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدنے کا ارادہ کیا لیکن ان کے مالکوں نے کہا کہ وہ اسی شرط پر انہیں بیچ سکتے ہیں کہ بریرہ کا ترکہ ہم لیں اور ان کے ساتھ ولاء ( آزادی کے بعد ) انہیں سے قائم ہو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ انہیں خرید کر آزاد کر دو۔ ترکہ تو اسی کو ملے گا جو لونڈی غلام کو آزاد کرے اور ولاء بھی اسی کے ساتھ قائم ہو سکتی ہے جو آزاد کرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گوشت لایا گیا پھر کہا کہ یہ گوشت بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ کیا گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ان کا تحفہ ہے۔ ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا اور اس روایت میں یہ اضافہ کیا کہ پھر ( آزادی کے بعد ) انہیں ان کے شوہر کے متعلق اختیار دیا گیا ( کہ چاہیں ان کے پاس رہیں اور اگر چاہیں ان سے اپنا نکاح توڑ لیں ) ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ، بَرِيرَةَ، فَأَبَى مَوَالِيهَا إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطُوا الْوَلاَءَ، فَذَكَرَتْ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ". وَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِلَحْمٍ فَقِيلَ إِنَّ هَذَا مَا تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ ". حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَزَادَ فَخُيِّرَتْ مِنْ زَوْجِهَا.
#5285
Narrated Nafi`:Whenever Ibn `Umar was asked about marrying a Christian lady or a Jewess, he would say: "Allah has made it unlawful for the believers to marry ladies who ascribe partners in worship to Allah, and I do not know of a greater thing, as regards to ascribing partners in worship, etc. to Allah, than that a lady should say that Jesus is her Lord although he is just one of Allah's slaves
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اگر یہودی یا انصاری عورتوں سے نکاح کے متعلق سوال کیا جاتا تو وہ کہتے کہ اللہ تعالیٰ نے مشرک عورتوں سے نکاح مومنوں کے لیے حرام قرار دیا ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ اس سے بڑھ کر اور کیا شرک ہو گا کہ ایک عورت یہ کہے کہ اس کے رب عیسیٰ علیہ السلام ہیں حالانکہ وہ اللہ کے مقبول بندوں میں سے ایک مقبول بندے ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ نِكَاحِ النَّصْرَانِيَّةِ، وَالْيَهُودِيَّةِ، قَالَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ الْمُشْرِكَاتِ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَلاَ أَعْلَمُ مِنَ الإِشْرَاكِ شَيْئًا أَكْبَرَ مِنْ أَنْ تَقُولَ الْمَرْأَةُ رَبُّهَا عِيسَى، وَهْوَ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ.
#5286
Narrated Ibn 'Abbas: The pagans were of two kinds as regards their relationship to the Prophet and the Believers. Some of them were those with whom the Prophet was at war and used to fight against, and they used to fight him; the others were those with whom the Prophet (ﷺ) made a treaty, and neither did the Prophet (ﷺ) fight them, nor did they fight him. If a lady from the first group of pagans emigrated towards the Muslims, her hand would not be asked in marriage unless she got the menses and then became clean. When she became clean, it would be lawful for her to get married, and if her husband emigrated too before she got married, then she would be returned to him. If any slave or female slave emigrated from them to the Muslims, then they would be considered free persons (not slaves) and they would have the same rights as given to other emigrants. The narrator then mentioned about the pagans involved with the Muslims in a treaty, the same as occurs in Mujahid's narration. If a male slave or a female slave emigrated from such pagans as had made a treaty with the Muslims, they would not be returned, but their prices would be paid (to the pagans)
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے کہ عطاء راسانی نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین کے لیے مشرکین دو طرح کے تھے۔ ایک تو مشرکین لڑائی کرنے والوں سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے جنگ کرتے تھے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرتے تھے۔ دوسرے عہد و پیمان کرنے والے مشرکین کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے جنگ نہیں کرتے تھے اور نہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرتے تھے اور جب اہل کتاب حرب کی کوئی عورت ( اسلام قبول کرنے کے بعد ) ہجرت کر کے ( مدینہ منورہ ) آتی تو انہیں اس وقت تک پیغام نکاح نہ دیا جاتا یہاں تک کہ انہیں حیض آتا اور پھر وہ اس سے پاک ہوتیں، پھر جب وہ پاک ہو جاتیں تو ان سے نکاح جائز ہو جاتا، پھر اگر ان کے شوہر بھی، ان کے کسی دوسرے شخص سے نکاح کر لینے سے پہلے ہجرت کر کے آ جاتے تو یہ انہیں کو ملتیں اور اگر مشرکین میں سے کوئی غلام یا لونڈی مسلمان ہو کر ہجرت کرتی تو وہ آزاد سمجھے جاتے اور ان کے وہی حقوق ہوتے جو تمام مہاجرین کے تھے۔ پھر عطاء نے معاہد مشرکین کے سلسلے میں مجاہد کی حدیث کی طرح سے صورت حال بیان کی کہ اگر معاہد مشرکین کی کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کر کے آ جاتی تو انہیں ان کے مالک مشرکین کو واپس نہیں کیا جاتا تھا۔ البتہ جو ان کی قیمت ہوتی وہ واپس کر دی جاتی تھی۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَقَالَ، عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، كَانَ الْمُشْرِكُونَ عَلَى مَنْزِلَتَيْنِ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالْمُؤْمِنِينَ، كَانُوا مُشْرِكِي أَهْلِ حَرْبٍ يُقَاتِلُهُمْ وَيُقَاتِلُونَهُ، وَمُشْرِكِي أَهْلِ عَهْدٍ لاَ يُقَاتِلُهُمْ وَلاَ يُقَاتِلُونَهُ، وَكَانَ إِذَا هَاجَرَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ لَمْ تُخْطَبْ حَتَّى تَحِيضَ وَتَطْهُرَ، فَإِذَا طَهُرَتْ حَلَّ لَهَا النِّكَاحُ، فَإِنْ هَاجَرَ زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تَنْكِحَ رُدَّتْ إِلَيْهِ، وَإِنْ هَاجَرَ عَبْدٌ مِنْهُمْ أَوْ أَمَةٌ فَهُمَا حُرَّانِ وَلَهُمَا مَا لِلْمُهَاجِرِينَ. ثُمَّ ذَكَرَ مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ مِثْلَ حَدِيثِ مُجَاهِدٍ وَإِنْ هَاجَرَ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ لِلْمُشْرِكِينَ أَهْلِ الْعَهْدِ لَمْ يُرَدُّوا، وَرُدَّتْ أَثْمَانُهُمْ.
#5287
Narrated Ibn 'Abbas:Qariba, The daughter of Abi Umaiyya, was the wife of 'Umar bin Al-Khattab. 'Umar divorced her and then Mu'awiyya bin Abi Sufyan married her. Similarly, Um Al-Hakam, the daughter of Abi Sufyan was the wife of 'Iyad bin Ghanm Al-Fihri. He divorced her and then 'Abdullah bin 'Uthman Al-Thaqafi married her
اور عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ قریبہ بنت ابی امیہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ( مشرکین سے نکاح کی مخالفت کی آیت کے بعد ) انہیں طلاق دے دی تو معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے ان سے نکاح کر لیا اور ام الحکم بنت ابی سفیان عیاض بن غنم فہری کے نکاح میں تھیں، اس وقت اس نے انہیں طلاق دے دی ( اور وہ مدینہ ہجرت کر کے آ گئیں ) اور عبداللہ بن عثمان ثقفی نے ان سے نکاح کیا۔
وَقَالَ عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، كَانَتْ قَرِيبَةُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَطَلَّقَهَا، فَتَزَوَّجَهَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَكَانَتْ أُمُّ الْحَكَمِ ابْنَةُ أَبِي سُفْيَانَ تَحْتَ عِيَاضِ بْنِ غَنْمٍ الْفِهْرِيِّ فَطَلَّقَهَا، فَتَزَوَّجَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ الثَّقَفِيُّ.
#5288
Narrated `Aisha:(the wife of the Prophet) When believing women came to the Prophet (ﷺ) as emigrants, he used to test them in accordance with the order of Allah. 'O you who believe! When believing women come to you as emigrants, examine them . . .' (60.10) So if anyone of those believing women accepted the above mentioned conditions, she accepted the conditions of faith. When they agreed on those conditions and confessed that with their tongues, Allah's Messenger (ﷺ) would say to them, "Go, I have accepted your oath of allegiance (for Islam). By Allah, and hand of Allah's Messenger (ﷺ) never touched the hand of any woman, but he only used to take their pledge of allegiance orally. By Allah, Allah's Messenger (ﷺ) did not take the pledge of allegiance of the women except in accordance with what Allah had ordered him. When he accepted their pledge of allegiance he would say to them, "I have accepted your oath of allegiance
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے اور ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا کہ ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مومن عورتیں جب ہجرت کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتی تھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آزماتے تھے بوجہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے «يا أيها الذين آمنوا إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن» کہ ”اے وہ لوگو! جو ایمان لے آئے ہو، جب مومن عورتیں تمہارے پاس ہجرت کر کے آئیں تو انہیں آزماؤ“۔ آخر آیت تک۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ان ( ہجرت کرنے والی ) مومن عورتوں میں سے جو اس شرط کا اقرار کر لیتی ( جس کا ذکر اسی سورۃ الممتحنہ میں ہے کہ ”اللہ کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گی“ ) تو وہ آزمائش میں پوری سمجھی جاتی تھی۔ چنانچہ جب وہ اس کا اپنی زبان سے اقرار کر لیتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے کہ اب جاؤ میں نے تم سے عہد لے لیا ہے۔ ہرگز نہیں! واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے ( بیعت لیتے وقت ) کسی عورت کا ہاتھ کبھی نہیں چھوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے صرف زبان سے ( بیعت لیتے تھے ) ۔ واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے صرف انہیں چیزوں کا عہد لیا جن کا اللہ نے آپ کو حکم دیا تھا۔ بیعت لینے کے بعد آپ ان سے فرماتے کہ میں نے تم سے عہد لے لیا ہے۔ یہ آپ صرف زبان سے کہتے کہ میں نے تم سے بیعت لے لی۔
حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ،. وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَتِ الْمُؤْمِنَاتُ إِذَا هَاجَرْنَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَمْتَحِنُهُنَّ بِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَنْ أَقَرَّ بِهَذَا الشَّرْطِ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ فَقَدْ أَقَرَّ بِالْمِحْنَةِ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَقْرَرْنَ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِهِنَّ قَالَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " انْطَلِقْنَ فَقَدْ بَايَعْتُكُنَّ "، لاَ وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ، غَيْرَ أَنَّهُ بَايَعَهُنَّ بِالْكَلاَمِ، وَاللَّهِ مَا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى النِّسَاءِ إِلاَّ بِمَا أَمَرَهُ اللَّهُ يَقُولُ لَهُنَّ إِذَا أَخَذَ عَلَيْهِنَّ " قَدْ بَايَعْتُكُنَّ ". كَلاَمًا.
#5289
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) took an oath that he would abstain from his wives, and at that time his leg had been sprained (dislocated). So he stayed in the Mashruba (an attic room) of his for 29 days. Then he came down, and they (the people) said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! You took an oath to abstain from your wives for one month." He said, "The month is of twenty nine days
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، ان سے ان کے بھائی عبدالحمید نے، ان سے سلیمان بن بلال نے، ان سے حمید طویل نے کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے ایلاء کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں موچ آ گئی تھی۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بالا خانہ میں انتیس دن تک قیام فرمایا، پھر آپ وہاں سے اترے۔ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ نے ایک مہینہ کا ایلاء کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ آلَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ نِسَائِهِ، وَكَانَتِ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، ثُمَّ نَزَلَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ آلَيْتَ شَهْرًا. فَقَالَ " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ".
#5290
Narrated Nafi`:Ibn `Umar used to say about the Ila (which Allah defined (in the Holy Book), "If the period of Ila expires, then the husband has either to retain his wife in a handsome manner or to divorce her as Allah has ordered
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، رضى الله عنهما كَانَ يَقُولُ فِي الإِيلاَءِ الَّذِي سَمَّى اللَّهُ لاَ يَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدَ الأَجَلِ إِلاَّ أَنْ يُمْسِكَ بِالْمَعْرُوفِ، أَوْ يَعْزِمَ بِالطَّلاَقِ، كَمَا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
#5291
Ibn `Umar added:"When the period of four months has expired, the husband should be put in prison so that he should divorce his wife, but the divorce does not occur unless the husband himself declares it. This has been mentioned by `Uthman, `Ali, Abu Ad-Darda, `Aisha and twelve other companions of the Prophet (ﷺ)
وَقَالَ لِي إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، إِذَا مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ يُوقَفُ حَتَّى يُطَلِّقَ، وَلاَ يَقَعُ عَلَيْهِ الطَّلاَقُ حَتَّى يُطَلِّقَ. وَيُذْكَرُ ذَلِكَ عَنْ عُثْمَانَ وَعَلِيٍّ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَعَائِشَةَ وَاثْنَىْ عَشَرَ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
#5292
Narrated Yazid:(the Maula of Munba'ith) The Prophet (ﷺ) was asked regarding the case of a lost sheep. He said, "You should take it, because it is for you, or for your brother, or for the wolf." Then he was asked about a lost camel. He got angry and his face became red and he said (to the questioner), "You have nothing to do with it; it has its feet and its water container with it; it can go on drinking water and eating trees till its owner meets it." And then the Prophet (ﷺ) was asked about a Luqata (money found by somebody). He said, "Remember and recognize its tying material and its container, and make public announcement about it for one year. If somebody comes and identifies it (then give it to him), otherwise add it to your property
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے کہا، ان سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے منبعث کے مولیٰ یزید نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کھوئی ہوئی بکری کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پکڑ لو، کیونکہ یا وہ تمہاری ہو گی ( اگر ایک سال تک اعلان کے بعد اس کا مالک نہ ملا ) ۔ تمہارے کسی بھائی کی ہو گی یا پھر بھیڑیے کی ہو گی ( اگر انہی جنگلوں میں پھرتی رہی ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کھوئے ہوئے اونٹ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ غصہ ہو گئے اور غصہ کی وجہ سے آپ کے دونوں رخسار سرخ ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں اس سے کیا غرض! اس کے پاس ( مضبوط ) کھر ہیں ( جس کی وجہ سے چلنے میں اسے کوئی دشواری نہیں ہو گی ) اس کے پاس مشکیزہ ہے جس سے وہ پانی پیتا رہے گا اور درخت کے پتے کھاتا رہے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پالے گا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی رسی کا ( جس سے وہ بندھا ہو ) اور اس کے ظرف کا ( جس میں وہ رکھا ہو ) اعلان کرو اور اس کا ایک سال تک اعلان کرو، پھر اگر کوئی ایسا شخص آ جائے جو اسے پہچانتا ہو ( اور اس کا مالک ہو تو اسے دے دو ) ورنہ اسے اپنے مال کے ساتھ ملا لو۔ سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ پھر میں ربیعہ بن عبدالرحمٰن سے ملا اور مجھے ان سے اس کے سوا اور کوئی چیز محفوظ نہیں ہے۔ میں نے ان سے پوچھا تھا کہ گم شدہ چیزوں کے بارے میں منبعث کے مولیٰ یزید کی حدیث کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا وہ زید بن خالد سے منقول ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں ( سفیان نے بیان کیا کہ ہاں ) یحییٰ نے بیان کیا کہ ربیعہ نے منبعث کے مولیٰ یزید سے بیان کیا، ان سے زید بن خالد نے۔ سفیان نے بیان کیا کہ پھر میں نے ربیعہ سے ملاقات کی اور ان سے اس کے متعلق پوچھا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ فَقَالَ " خُذْهَا، فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ". وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الإِبِلِ، فَغَضِبَ وَاحْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، وَقَالَ " مَا لَكَ وَلَهَا، مَعَهَا الْحِذَاءُ وَالسِّقَاءُ، تَشْرَبُ الْمَاءَ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ، حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا ". وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ " اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا، وَعَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ مَنْ يَعْرِفُهَا، وَإِلاَّ فَاخْلِطْهَا بِمَالِكَ ". قَالَ سُفْيَانُ فَلَقِيتُ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ـ قَالَ سُفْيَانُ وَلَمْ أَحْفَظْ عَنْهُ شَيْئًا غَيْرَ هَذَا ـ فَقُلْتُ أَرَأَيْتَ حَدِيثَ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ فِي أَمْرِ الضَّالَّةِ، هُوَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ نَعَمْ. قَالَ يَحْيَى وَيَقُولُ رَبِيعَةُ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ. قَالَ سُفْيَانُ فَلَقِيتُ رَبِيعَةَ فَقُلْتُ لَهُ.
#5293
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) performed the Tawaf (around the Ka`ba while riding his camel, and every time he reached the corner (of the Black Stone) he pointed at it with his hand and said, "Allahu Akbar." (Zainab said: The Prophet (ﷺ) said, "An opening has been made in the wall of Gog and Magog like this and this," forming the number 90 (with his thumb and index finger)
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر عبدالملک بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف اپنے اونٹ پر سوار ہو کر کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی رکن کے پاس آتے تو اس کی طرف اشارہ کر کے تکبیر کہتے اور زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یاجوج ماجوج کے دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا ہے اور آپ نے اپنی انگلیوں سے نوے کا عدد بنایا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى بَعِيرِهِ، وَكَانَ كُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ، وَكَبَّرَ. وَقَالَتْ زَيْنَبُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " فُتِحَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ ". وَعَقَدَ تِسْعِينَ.
#5294
Narrated Abu Huraira: Abul Qasim (the Prophet (ﷺ) ) said, "There is an hour (or a moment) of particular significance on Friday. If it happens that a Muslim is offering a prayer and invoking Allah for some good at that very moment, Allah will grant him his request." (The sub-narrator placed the top of his finger on the palm of the other hand between the middle finger and the little one)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن علقمہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ میں ایک گھڑی ایسی آتی ہے جو مسلمان بھی اس وقت کھڑا نماز پڑھے اور اللہ سے کوئی خیر مانگے تو اللہ اسے ضرور دے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس ساعت کی وضاحت کرتے ہوئے ) اپنے دست مبارک سے اشارہ کیا اور اپنی انگلیوں کو درمیانی انگلی اور چھوٹی انگلی کے بیچ میں رکھا جس سے ہم نے سمجھا کہ آپ اس ساعت کو بہت مختصر ہونے کو بتا رہے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم " فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لاَ يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي، فَسَأَلَ اللَّهَ خَيْرًا، إِلاَّ أَعْطَاهُ ". وَقَالَ بِيَدِهِ، وَوَضَعَ أَنْمَلَتَهُ عَلَى بَطْنِ الْوُسْطَى وَالْخِنْصَرِ. قُلْنَا يُزَهِّدُهَا.
#5295
Narrated Anas bin Malik: During the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) a Jew attacked a girl and took some silver ornaments she was wearing and crushed her head. Her relative brought her to the Prophet (ﷺ) while she was in her last breaths, and she was unable to speak. Allah's Messenger (ﷺ) asked her, "Who has hit you? so-and-so?", mentioning somebody other than her murderer. She moved her head, indicating denial. The Prophet (ﷺ) mentioned another person other than the murderer, and she again moved her head indicating denial. Then he asked, "Was it so-and-so?", mentioning the name of her killer. She nodded, agreeing. Then Allah's Messenger (ﷺ); ordered that the head of that Jew be crushed between two stones
اور اویسی نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے شعبہ بن حجاج نے، ان سے ہشام بن یزید نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک یہودی نے ایک لڑکی پر ظلم کیا، اس کے چاندی کے زیورات جو وہ پہنے ہوئے تھی چھین لیے اور اس کا سر کچل دیا۔ لڑکی کے گھر والے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو اس کی زندگی کی بس آخری گھڑی باقی تھی اور وہ بول نہیں سکتی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کس نے مارا ہے؟ فلاں نے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ سے غیر متعلق آدمی کا نام لیا۔ اس لیے اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا کہ نہیں۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے شخص کا نام لیا اور وہ بھی اس واقعہ سے غیر متعلق تھا تو لڑکی نے سر کے اشارہ سے کہا کہ نہیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ فلاں نے تمہیں مارا ہے؟ تو اس لڑکی نے سر کے اشارہ سے ہاں کہا۔
وَقَالَ الأُوَيْسِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ عَدَا يَهُودِيٌّ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى جَارِيَةٍ، فَأَخَذَ أَوْضَاحًا كَانَتْ عَلَيْهَا وَرَضَخَ رَأْسَهَا، فَأَتَى بِهَا أَهْلُهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْىَ فِي آخِرِ رَمَقٍ، وَقَدْ أُصْمِتَتْ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قَتَلَكِ فُلاَنٌ ". لِغَيْرِ الَّذِي قَتَلَهَا، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لاَ، قَالَ فَقَالَ لِرَجُلٍ آخَرَ غَيْرِ الَّذِي قَتَلَهَا، فَأَشَارَتْ أَنْ لاَ، فَقَالَ " فَفُلاَنٌ ". لِقَاتِلِهَا فَأَشَارَتْ أَنْ نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرُضِخَ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ.
#5296
Narrated Ibn `Umar:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Afflictions will emerge from here," pointing towards the East
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ فتنہ ادھر سے اٹھے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْفِتْنَةُ مِنْ هَا هُنَا ". وَأَشَارَ إِلَى الْمَشْرِقِ.
#5297
Narrated `Abdullah bin Abi A'ufa:We were with Allah's Messenger (ﷺ) on a journey, and when the sun set, he said to a man, "Get down and prepare a drink of Sawiq for me." The man said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Will you wait till it is evening?" Allah's Messenger (ﷺ) again said, "Get down and prepare a drink of Sawiq." The man said, "O Allah's Apostle! Will you wait till it is evening, for it is still daytime. " The Prophet (ﷺ) again said, "Get down and prepare a drink of Sawiq." So the third time the man got down and prepared a drink of sawiq for him. Allah's Messenger (ﷺ) drank thereof and pointed with his hand towards the East, saying, "When you see the night falling from this side, then a fasting person should break his fast
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق شیبانی نے اور ان سے عبداللہ بن ابی اوفی نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ جب سورج ڈوب گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی ( بلال رضی اللہ عنہ ) سے فرمایا کہ اتر کر میرے لیے ستو گھول ( کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے تھے ) انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر اندھیرا ہونے دیں تو بہتر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اتر کر ستو گھول۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ اور اندھیرا ہو لینے دیں تو بہتر ہے، ابھی دن باقی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اترو اور ستو گھول لو۔ آخر تیسری مرتبہ کہنے پر انہوں نے اتر کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ستو گھولا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا، پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ رات ادھر سے آ رہی ہے تو روزہ دار کو افطار کر لینا چاہیئے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ لِرَجُلٍ " انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي ". قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَمْسَيْتَ. ثُمَّ قَالَ " انْزِلْ فَاجْدَحْ ". قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَمْسَيْتَ إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا. ثُمَّ قَالَ " انْزِلْ فَاجْدَحْ ". فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ فِي الثَّالِثَةِ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَشْرِقِ فَقَالَ " إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ".
#5298
Narrated 'Abdullah bin Mas'ud: The Prophet (ﷺ) said, "The call (or the Adhan) of Bilal should not stop you from taking the Suhur-meals for Bilal calls (or pronounces the Adhan) so that the one who is offering the night prayer should take a rest, and he does not indicate the daybreak or dawn." The narrator, Yazid, described (how dawn breaks) by stretching out his hands and then separating them wide apart
ہم سے عبداللہ بن سلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سلیمان تیمی نے، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کسی کو ( سحری کھانے سے ) بلال کی پکار نہ روکے یا آپ نے فرمایا کہ ”ان کی اذان“ کیونکہ وہ پکارتے ہیں، یا فرمایا، اذان دیتے ہیں تاکہ اس وقت نماز پڑھنے والا رک جائے۔ اس کا اعلان سے یہ مقصود نہیں ہوتا کہ صبح صادق ہو گئی۔ اس وقت یزید بن زریع نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے ( صبح کاذب کی صورت بتانے کے لیے ) پھر ایک ہاتھ کو دوسرے پر پھیلایا ( صبح صادق کی صورت کے اظہار کے لیے ) ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ نِدَاءُ بِلاَلٍ ـ أَوْ قَالَ أَذَانُهُ ـ مِنْ سَحُورِهِ، فَإِنَّمَا يُنَادِي أَوْ قَالَ يُؤَذِّنُ لِيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ ". وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ كَأَنَّهُ يَعْنِي الصُّبْحَ أَوِ الْفَجْرَ، وَأَظْهَرَ يَزِيدُ يَدَيْهِ ثُمَّ مَدَّ إِحْدَاهُمَا مِنَ الأُخْرَى.
#5299
Narrated Abu Huraira: Allah's Messenger (ﷺ) said, The example of a miser and a generous person is like that of two persons wearing iron cloaks from the breast upto the neck When the generous person spends, the iron cloak enlarges and spread over his skin so much so that it covers his fingertips and obliterates his tracks. As for the miser, as soon as he thinks of spending every ring of the iron cloak sticks to its place (against his body) and he tries to expand it, but it does not expand. The Prophet (ﷺ) pointed with his hand towards his throat
اور لیث نے بیان کیا کہ ان سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بخیل اور سخی کی مثال دو آدمیوں جیسی ہے جن پر لوہے کی دو زرہیں سینے سے گردن تک ہیں۔ سخی جب بھی کوئی چیز خرچ کرتا ہے تو زرہ اس کے چمڑے پر ڈھیلی ہو جاتی ہے اور اس کے پاؤں کی انگلیوں تک پہنچ جاتی ہے ( اور پھیل کر اتنی بڑھ جاتی ہے کہ ) اس کے نشان قدم کو مٹاتی چلتی ہے لیکن بخیل جب بھی خرچ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ اپنی اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے، وہ اسے ڈھیلا کرنا چاہتا ہے لیکن وہ ڈھیلا نہیں ہوتا۔ اس وقت آپ نے اپنی انگلی سے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا۔
وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، مِنْ لَدُنْ ثَدْيَيْهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا، فَأَمَّا الْمُنْفِقُ فَلاَ يُنْفِقُ شَيْئًا إِلاَّ مَادَّتْ عَلَى جِلْدِهِ حَتَّى تُجِنَّ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ، وَأَمَّا الْبَخِيلُ فَلاَ يُرِيدُ يُنْفِقُ إِلاَّ لَزِمَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَوْضِعَهَا، فَهْوَ يُوسِعُهَا فَلاَ تَتَّسِعُ ". وَيُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ إِلَى حَلْقِهِ.
#5300
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Shall I tell you of the best families among the Ansar?" They (the people) said, "Yes, O Allah's Messenger (ﷺ)!" The Prophet (ﷺ) said, "The best are Banu- An-Najjar, and after them are Banu `Abdil Ash-hal, and after them are Banu Al-Harith bin Al-Khazraj, and after them are Banu Sa`ida." The Prophet (ﷺ) then moved his hand by closing his fingers and then opening them like one throwing something, and then said, "Anyhow, there is good in all the families of the Ansar
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے اور انہوں نے انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں بتاؤں کہ قبیلہ انصار کا سب سے بہتر گھرانہ کون سا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ ضرور بتائیے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنو نجار کا۔ اس کے بعد ان کا مرتبہ ہے جو ان سے قریب ہیں یعنی بنو عبدالاشہل کا، ان کے بعد وہ ہیں جو ان سے قریب ہیں، بنی الحارث بن خزرج کا۔ اس کے بعد وہ ہیں جو ان سے قریب ہیں، بنو ساعدہ کا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور اپنی مٹھی بند کی، پھر اسے اس طرح کھولا جیسے کوئی اپنے ہاتھ کی چیز کو پھینکتا ہے پھر فرمایا کہ انصار کے ہر گھرانہ میں خیر ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الأَنْصَارِ ". قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو عَبْدِ الأَشْهَلِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو سَاعِدَةَ ". ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ، فَقَبَضَ أَصَابِعَهُ، ثُمَّ بَسَطَهُنَّ كَالرَّامِي بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ " وَفِي كُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ ".