#5051
Narrated Abu Mas'ud:The Prophet (ﷺ) said, "If somebody recites the last two Verses of Surat al-Baqara at night, it will be sufficient for him
قَالَ عَلِيٌّ قَالَ سُفْيَانُ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، أَخْبَرَهُ عَلْقَمَةُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، وَلَقِيتُهُ، وَهْوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَذَكَرَ قَوْلَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " أَنَّ مَنْ قَرَأَ بِالآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ ".
#5052
Narrated `Abdullah bin `Amr bin Al `As:My father got me married to a lady of a noble family, and often used to ask my wife about me, and she used to reply, "What a wonderful man he is! He never comes to my bed, nor has he approached me since he married me." When this state continued for a long period, my father told the story to the Prophet who said to my father, "Let me meet him." Then I met him and he asked me, "How do you fast?" I replied, "I fast daily," He asked, "How long does it take you to finish the recitation of the whole Qur'an?" I replied, "I finish it every night." On that he said, "Fast for three days every month and recite the Qur'an (and finish it) in one month." I said, "But I have power to do more than that." He said, "Then fast for three days per week." I said, "i have the power to do more than that." He said, "Therefore, fast the most superior type of fasting, (that is, the fasting of (prophet) David who used to fast every alternate day; and finish the recitation of the whole Qur'an In seven days." I wish I had accepted the permission of Allah's Messenger (ﷺ) as I have become a weak old man. It is said that `Abdullah used to recite one-seventh of the Qur'an during the day-time to some of his family members, for he used to check his memorization of what he would recite at night during the daytime so that it would be easier for him to read at night. And whenever he wanted to gain some strength, he used to give up fasting for some days and count those days to fast for a similar period, for he disliked to leave those things which he used to do during the lifetime of the Prophet
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے مغیرہ بن مقسم نے، ان سے مجاہد بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میرے والد عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے میرا نکاح ایک شریف خاندان کی عورت ( ام محمد بنت محمیہ ) سے کر دیا تھا اور ہمیشہ اس کی خبرگیری کرتے رہتے تھے اور ان سے باربار اس کے شوہر ( یعنی خود ان ) کے متعلق پوچھتے رہتے تھے۔ میری بیوی کہتی کہ بہت اچھا مرد ہے۔ البتہ جب سے میں ان کے نکاح میں آئی ہوں انہوں نے اب تک ہمارے بستر پر قدم بھی نہیں رکھا نہ میرے کپڑے میں کبھی ہاتھ ڈالا۔ جب بہت دن اسی طرح ہو گئے تو والد صاحب نے مجبور ہو کر اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے اس کی ملاقات کراؤ۔ چنانچہ میں اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ روزہ کس طرح رکھتے ہو۔ میں نے عرض کیا کہ روزانہ پھر دریافت فرمایا قرآن مجید کس طرح ختم کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا ہر رات۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مہینے میں تین دن روزے رکھو اور قرآن ایک مہینے میں ختم کرو۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر بلا روزے کے رہو اور ایک دن روزے سے۔ میں نے عرض کیا مجھے اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر وہ روزہ رکھو جو سب سے افضل ہے، یعنی داؤد علیہ السلام کا روزہ، ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو اور قرآن مجید سات دن میں ختم کرو۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کاش میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصت قبول کر لی ہوتی کیونکہ اب میں بوڑھا اور کمزور ہو گیا ہوں۔ حجاج نے کہا کہ آپ اپنے گھر کے کسی آدمی کو قرآن مجید کا ساتواں حصہ یعنی ایک منزل دن میں سنا دیتے تھے۔ جتنا قرآن مجید آپ رات کے وقت پڑھتے اسے پہلے دن میں سنا رکھتے تاکہ رات کے وقت آسانی سے پڑھ سکیں اور جب ( قوت ختم ہو جاتی اور نڈھال ہو جاتے اور ) قوت حاصل کرنا چاہتے تو کئی کئی دن روزہ نہ رکھتے کیونکہ آپ کو یہ پسند نہیں تھا کہ جس چیز کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے وعدہ کر لیا ہے ( ایک دن روزہ رکھنا ایک دن افطار کرنا ) اس میں سے کچھ بھی چھوڑیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بعض راویوں نے تین دن میں اور بعض نے پانچ دن میں۔ لیکن اکثر نے سات راتوں میں ختم کی حدیث روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ أَنْكَحَنِي أَبِي امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ فَكَانَ يَتَعَاهَدُ كَنَّتَهُ فَيَسْأَلُهَا عَنْ بَعْلِهَا فَتَقُولُ نِعْمَ الرَّجُلُ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يَطَأْ لَنَا فِرَاشًا وَلَمْ يُفَتِّشْ لَنَا كَنَفًا مُذْ أَتَيْنَاهُ فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَيْهِ ذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " الْقَنِي بِهِ ". فَلَقِيتُهُ بَعْدُ فَقَالَ " كَيْفَ تَصُومُ ". قَالَ كُلَّ يَوْمٍ. قَالَ " وَكَيْفَ تَخْتِمُ ". قَالَ كُلَّ لَيْلَةً. قَالَ " صُمْ فِي كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةً وَاقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ ". قَالَ قُلْتُ أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ " صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فِي الْجُمُعَةِ ". قُلْتُ أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ " أَفْطِرْ يَوْمَيْنِ وَصُمْ يَوْمًا ". قَالَ قُلْتُ أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ " صُمْ أَفْضَلَ الصَّوْمِ صَوْمِ دَاوُدَ صِيَامَ يَوْمٍ وَإِفْطَارَ يَوْمٍ وَاقْرَأْ فِي كُلِّ سَبْعِ لَيَالٍ مَرَّةً ". فَلَيْتَنِي قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَاكَ أَنِّي كَبِرْتُ وَضَعُفْتُ فَكَانَ يَقْرَأُ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ السُّبْعَ مِنَ الْقُرْآنِ بِالنَّهَارِ وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ يَعْرِضُهُ مِنَ النَّهَارِ لِيَكُونَ أَخَفَّ عَلَيْهِ بِاللَّيْلِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَتَقَوَّى أَفْطَرَ أَيَّامًا وَأَحْصَى وَصَامَ مِثْلَهُنَّ كَرَاهِيةَ أَنْ يَتْرُكَ شَيْئًا فَارَقَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ فِي ثَلاَثٍ وَفِي خَمْسٍ وَأَكْثَرُهُمْ عَلَى سَبْعٍ.
#5053
Narrated `Abdullah bin `Amr:The Prophet (ﷺ) asked me, "How long does it take you to finish the recitation of the whole Qur'an?
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ قرآن مجید تم کتنے دن میں ختم کر لیتے ہو؟
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " فِي كَمْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ ".
#5054
Narrated `Abdullah bin `Amr:Allah's Messenger (ﷺ) said to me, "Recite the whole Qur'an in one month's time." I said, "But I have power (to do more than that)." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Then finish the recitation of the Qur'an in seven days, and do not finish it in less than this period
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو عبیداللہ بن موسیٰ نے خبر دی، انہیں شیبان نے، انہیں یحییٰ بن ابی کثیر نے، انہیں بنی زہرہ کے مولیٰ محمد بن عبدالرحمٰن نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے، یحییٰ نے کہا اور میں خیال کرتا ہوں شاید میں نے یہ حدیث خود ابوسلمہ سے سنی ہے۔ بلاواسطہ (محمد بن عبدالرحمٰن کے) خیر ابوسلمہ نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ہر مہینے میں قرآن کا ایک ختم کیا کرو میں نے عرض کیا مجھ کو تو زیادہ پڑھنے کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا سات راتوں میں ختم کیا کرو اس سے زیادہ مت پڑھ۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ـ قَالَ وَأَحْسِبُنِي قَالَ ـ سَمِعْتُ أَنَا مِنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ ". قُلْتُ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً حَتَّى قَالَ " فَاقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ وَلاَ تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ ".
#5055
Narrated `Abdullah (bin Mas`ud):Allah's Messenger (ﷺ) said (to me), "Recite the Qur'an to me." I said, "Shall I recite (it) to you while it has been revealed to you?" He said, "I like to hear it from another person." So I recited Surat An-Nisa (The Women) till I reached the Verse: 'How (will it be) then when We bring from each nation a witness, and We bring you (O Muhammad) as a witness against these people.' (4.41) Then he said to me, "Stop!" Thereupon I saw his eyes overflowing with tears
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید نے خبر دی، انہیں سفیان ثوری نے، انہیں سلیمان نے، انہیں ابراہیم نخعی نے، انہیں عبیدہ سلمانی نے اور انہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے، یحییٰ بن قطان نے کہا اس حدیث کا کچھ ٹکڑا اعمش نے ابراہیم سے سنا ہے کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ يَحْيَى بَعْضُ الْحَدِيثِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم. ـ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ الأَعْمَشُ وَبَعْضُ الْحَدِيثِ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَعَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْرَأْ عَلَىَّ ". قَالَ قُلْتُ أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ قَالَ " إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي ". قَالَ فَقَرَأْتُ النِّسَاءَ حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاَءِ شَهِيدًا}. قَالَ لِي " كُفَّ ـ أَوْ أَمْسِكْ ـ ". فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَذْرِفَانِ.
#5056
Narrated `Abdullah bin Masud:The Prophet (ﷺ) said to me, "Recite Qur'an to me." I said to him. "Shall I recite (it) to you while it has been revealed to you?" He said, "I like to hear it from another person
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے عبیدہ سلمانی نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے قرآن مجید پڑھ کر سناؤ۔ میں نے عرض کیا: کیا میں سناؤں؟آپ پر تو قرآن مجید نازل ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں کسی سے سننا محبوب رکھتا ہوں۔
حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْرَأْ عَلَىَّ ". قُلْتُ أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ قَالَ " إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي ".
#5057
Narrated `Ali:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "In the last days (of the world) there will appear young people with foolish thoughts and ideas. They will give good talks, but they will go out of Islam as an arrow goes out of its game, their faith will not exceed their throats. So, wherever you find them, kill them, for there will be a reward for their killers on the Day of Resurrection
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے خیثمہ بن عبدالرحمٰن کوفی نے، ان سے سوید بن غفلہ نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آخری زمانہ میں ایک قوم پیدا ہو گی نوجوانوں اور کم عقلوں کی۔ یہ لوگ ایسا بہترین کلام پڑھیں گے جو بہترین خلق کا ( پیغمبر کا ) ہے یا ایسا کلام پڑھیں گے جو سارے خلق کے کلاموں سے افضل ہے۔ ( یعنی حدیث یا آیت پڑھیں گے اس سے سند لائیں گے ) لیکن اسلام سے وہ اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کو پار کر کے نکل جاتا ہے ان کا ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا تم انہیں جہاں بھی پاؤ قتل کر دو۔ کیونکہ ان کا قتل قیامت میں اس شخص کے لیے باعث اجر ہو گا جو انہیں قتل کر دے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ عَلِيٌّ رضى الله عنه سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَأْتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ حُدَثَاءُ الأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الأَحْلاَمِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ، يَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلاَمِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لاَ يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ، فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
#5058
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "There will appear some people among you whose prayer will make you look down upon yours, and whose fasting will make you look down upon yours, but they will recite the Qur'an which will not exceed their throats (they will not act on it) and they will go out of Islam as an arrow goes out through the game whereupon the archer would examine the arrowhead but see nothing, and look at the unfeathered arrow but see nothing, and look at the arrow feathers but see nothing, and finally he suspects to find something in the lower part of the arrow
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن سعید انصاری نے، انہیں محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں ایک قوم ایسی پیدا ہو گی کہ تم اپنی نماز کو ان کی نماز کے مقابلہ میں حقیر سمجھو گے، ان کے روزوں کے مقابلہ میں تمہیں اپنے روزے اور ان کے عمل کے مقابلہ میں تمہیں اپنا عمل حقیر نظر آئے گا اور وہ قرآن مجید کی تلاوت بھی کریں گے لیکن قرآن مجید ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ دین سے وہ اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کو پار کرتے ہوئے نکل جاتا ہے اور وہ بھی اتنی صفائی کے ساتھ ( کہ تیر چلانے والا ) تیر کے پھل میں دیکھتا ہے تو اس میں بھی ( شکار کے خون وغیرہ کا ) کوئی اثر نظر نہیں آتا۔ اس سے اوپر دیکھتا ہے وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔ تیر کے پر کو دیکھتا ہے اور وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔ بس سوفار میں کچھ شبہ گزرتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَخْرُجُ فِيكُمْ قَوْمٌ تَحْقِرُونَ صَلاَتَكُمْ مَعَ صَلاَتِهِمْ، وَصِيَامَكُمْ مَعَ صِيَامِهِمْ، وَعَمَلَكُمْ مَعَ عَمَلِهِمْ، وَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينَ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَنْظُرُ فِي النَّصْلِ فَلاَ يَرَى شَيْئًا، وَيَنْظُرُ فِي الْقِدْحِ فَلاَ يَرَى شَيْئًا، وَيَنْظُرُ فِي الرِّيشِ فَلاَ يَرَى شَيْئًا، وَيَتَمَارَى فِي الْفُوقِ ".
#5059
Narrated Abu Musa:The Prophet (ﷺ) said, "The example of a believer who recites the Qur'an and acts on it, like a citron which tastes nice and smells nice. And the example of a believer who does not recite the Qur'an but acts on it, is like a date which tastes good but has no smell. And the example of a hypocrite who recites the Qur'an is like a Raihana (sweet basil) which smells good but tastes bitter And the example of a hypocrite who does not recite the Qur'an is like a colocynth which tastes bitter and has a bad smell
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس بن مالک نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس مومن کی مثال جو قرآن مجید پڑھتا ہے اور اس پر عمل بھی کرتا ہے میٹھے لیموں کی سی ہے جس کا مزا بھی لذت دار اور خوشبو بھی اچھی اور وہ مومن جو قرآن پڑھتا تو نہیں لیکن اس پر عمل کرتا ہے اس کی مثال کھجور کی ہے جس کا مزہ تو عمدہ ہے لیکن خوشبو کے بغیر اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ریحان کی سی ہے جس کی خوشبو تو اچھی ہوتی ہے لیکن مزا کڑوا ہوتا ہے اور اس منافق کی مثال جو قرآن بھی نہیں پڑھتا اندرائن کے پھل کی سی ہے جس کا مزہ بھی کڑوا ہوتا ہے ( راوی کو شک ہے ) کہ لفظ «مر» ہے یا «خبيث» اور اس کی بو بھی خراب ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمُؤْمِنُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهِ كَالأُتْرُجَّةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ، وَالْمُؤْمِنُ الَّذِي لاَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهِ كَالتَّمْرَةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلاَ رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَالرَّيْحَانَةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لاَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَالْحَنْظَلَةِ، طَعْمُهَا مُرٌّ ـ أَوْ خَبِيثٌ ـ وَرِيحُهَا مُرٌّ ".
#5060
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) said, "Recite (and study) the Qur'an as long as you agree about its interpretation, but if you have any difference of opinion (as regards to its interpretation and meaning) then you should stop reciting it (for the time being)
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ابوعمران جونی نے اور ان سے جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن مجید اس وقت تک پڑھو جب تک اس میں دل لگے، جب جی اچاٹ ہونے لگے تو پڑھنا بند کر دو۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ قُلُوبُكُمْ، فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا عَنْهُ ".
#5061
Narrated Jundub:The Prophet (ﷺ) said, "Recite (and study) the Qur'an as long as you agree about its interpretation, but when you have any difference of opinion (as regards its interpretation and meaning) then you should stop reciting it (for the time being)
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ان سے سلام بن ابی مطیع نے بیان کیا، ان سے ابوعمران جونی نے اور ان سے جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس قرآن کو جب ہی تک پڑھو جب تک تمہارے دل ملے جلے یا لگے رہیں۔ جب اختلاف اور جھگڑا کرنے لگو تو اٹھ کھڑے ہو۔ ( قرآن مجید پڑھنا موقوف کر دو ) سلام کے ساتھ اس حدیث کو حارث بن عبید اور سعید بن زید نے بھی ابوعمران جونی سے روایت کیا اور حماد بن سلمہ اور ابان نے اس کو مرفوع نہیں بلکہ موقوفاً روایت کیا ہے اور غندر محمد بن جعفر نے بھی شعبہ سے، انہوں نے ابوعمران سے یوں روایت کیا کہ میں نے جندب سے سنا، وہ کہتے تھے۔ ( لیکن موقوفاً روایت کیا ) اور عبداللہ بن عون نے اس کو ابوعمران سے، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے ان کا قول روایت کیا ( مرفوعاً نہیں کیا ) اور جندب کی روایت زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سَلاَّمُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ جُنْدَبٍ، قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا عَنْهُ ". تَابَعَهُ الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَأَبَانُ. وَقَالَ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ سَمِعْتُ جُنْدَبًا قَوْلَهُ. وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ عُمَرَ قَوْلَهُ، وَجُنْدَبٌ أَصَحُّ وَأَكْثَرُ.
#5062
Narrated `Abdullah:That he heard a man reciting a Quranic Verse which he had heard the Prophet (ﷺ) reciting in a different way. So he took that man to the Prophet (and told him the story). The Prophet (ﷺ) said, "Both of you are reciting in a correct way, so carry on reciting." The Prophet (ﷺ) further added, "The nations which were before you were destroyed (by Allah) because they differed
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے عبدالملک بن میسرہ نے، ان سے نزال بن سبرہ نے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک صاحب ( ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ) کو ایک آیت پڑھتے سنا، وہی آیت انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے خلاف سنی تھی۔ ( ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ) پھر میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دونوں صحیح ہو ( اس لیے اپنے اپنے طور پر پڑھو۔ ) ( شعبہ کہتے ہیں کہ ) میرا غالب گمان یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ ( اختلاف و نزاع نہ کیا کرو ) کیونکہ تم سے پہلے کی امتوں نے اختلاف کیا اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کر دیا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلاً، يَقْرَأُ آيَةً، سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خِلاَفَهَا، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " كِلاَكُمَا مُحْسِنٌ فَاقْرَآ ـ أَكْبَرُ عِلْمِي قَالَ ـ فَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ اخْتَلَفُوا فَأَهْلَكَهُمْ ".
#5063
Narrated Anas bin Malik:A group of three men came to the houses of the wives of the Prophet (ﷺ) asking how the Prophet (ﷺ) worshipped (Allah), and when they were informed about that, they considered their worship insufficient and said, "Where are we from the Prophet (ﷺ) as his past and future sins have been forgiven." Then one of them said, "I will offer the prayer throughout the night forever." The other said, "I will fast throughout the year and will not break my fast." The third said, "I will keep away from the women and will not marry forever." Allah's Messenger (ﷺ) came to them and said, "Are you the same people who said so-and-so? By Allah, I am more submissive to Allah and more afraid of Him than you; yet I fast and break my fast, I do sleep and I also marry women. So he who does not follow my tradition in religion, is not from me (not one of my followers)
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، کہا ہم کو حمید بن ابی حمید طویل نے خبر دی، انہوں نے انس بن مالک سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ تین حضرات ( علی بن ابی طالب، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہم ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آپ کی عبادت کے متعلق پوچھنے آئے، جب انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بتایا گیا تو جیسے انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہا کہ ہمارا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا مقابلہ! آپ کی تو تمام اگلی پچھلی لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ آج سے میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دوں گا۔ تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے جدائی اختیار کر لوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان سے پوچھا کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں؟ سن لو! اللہ تعالیٰ کی قسم! اللہ رب العالمین سے میں تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔ میں تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں لیکن میں اگر روزے رکھتا ہوں تو افطار بھی کرتا ہوں۔ نماز پڑھتا ہوں ( رات میں ) اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں۔ «فمن رغب عن سنتي فليس مني» میرے طریقے سے جس نے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ جَاءَ ثَلاَثَةُ رَهْطٍ إِلَى بُيُوتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَسْأَلُونَ عَنْ عِبَادَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أُخْبِرُوا كَأَنَّهُمْ تَقَالُّوهَا فَقَالُوا وَأَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ. قَالَ أَحَدُهُمْ أَمَّا أَنَا فَإِنِّي أُصَلِّي اللَّيْلَ أَبَدًا. وَقَالَ آخَرُ أَنَا أَصُومُ الدَّهْرَ وَلاَ أُفْطِرُ. وَقَالَ آخَرُ أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ فَلاَ أَتَزَوَّجُ أَبَدًا. فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَنْتُمُ الَّذِينَ قُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لأَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ، لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي ".
#5064
Narrated 'Urwa:that he asked `Aisha about the Statement of Allah: 'If you fear that you shall not be able to deal justly with the orphan girls, then marry (other) women of your choice, two or three or four; but if you fear that you shall not be able to deal justly (with them), then only one, or (the captives) that your right hands possess. That will be nearer to prevent you from doing injustice.' (4.3) `Aisha said, "O my nephew! (This Verse has been revealed in connection with) an orphan girl under the guardianship of her guardian who is attracted by her wealth and beauty and intends to marry her with a Mahr less than what other women of her standard deserve. So they (such guardians) have been forbidden to marry them unless they do justice to them and give them their full Mahr, and they are ordered to marry other women instead of them
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے حسان بن ابراہیم سے سنا، انہوں نے یونس بن یزید ایلی سے، ان سے زہری نے، کہا مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى فانكحوا ما طاب لكم من النساء مثنى وثلاث ورباع فإن خفتم أن لا تعدلوا فواحدة أو ما ملكت أيمانكم ذلك أدنى أن لا تعولوا» کے متعلق پوچھا ”اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیموں سے انصاف نہ کر سکو گے تو جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لو۔ دو دو سے، خواہ تین تین سے، خواہ چار چار سے، لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم انصاف نہیں کر سکو گے تو پھر ایک ہی پر بس کرو یا جو لونڈی تمہاری ملک میں ہو، اس صورت میں قوی امید ہے کہ تم ظلم و زیادتی نہ کر سکو گے۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بھانجے! آیت میں ایسی یتیم مالدار لڑکی کا ذکر ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو۔ وہ لڑکی کے مال اور اس کے حسن کی وجہ سے اس کی طرف مائل ہو اور اس سے معمولی مہر پر شادی کرنا چاہتا ہو تو ایسے شخص کو اس آیت میں ایسی لڑکی سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ہاں اگر اس کے ساتھ انصاف کر سکتا ہو اور پورا مہر ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اجازت ہے، ورنہ ایسے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ اپنی پرورش میں یتیم لڑکیوں کے سوا اور دوسری لڑکیوں سے شادی کر لیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، سَمِعَ حَسَّانَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى {وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ لاَ تَعُولُوا}. قَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِي، الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا، فَيَرْغَبُ فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا، يُرِيدُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِأَدْنَى مِنْ سُنَّةِ صَدَاقِهَا، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلاَّ أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ فَيُكْمِلُوا الصَّدَاقَ، وَأُمِرُوا بِنِكَاحِ مَنْ سِوَاهُنَّ مِنَ النِّسَاءِ.
#5065
Narrated 'Alqama:While I was with `Abdullah, `Uthman met him at Mina and said, "O Abu `Abdur-Rahman ! I have something to say to you." So both of them went aside and `Uthman said, "O Abu `Abdur-Rah. man! Shall we marry you to a virgin who will make you remember your past days?" When `Abdullah felt that he was not in need of that, he beckoned me (to join him) saying, "O 'Alqama!" Then I heard him saying (in reply to `Uthman), "As you have said that, (I tell you that) the Prophet (ﷺ) once said to us, 'O young people! Whoever among you is able to marry, should marry, and whoever is not able to marry, is recommended to fast, as fasting diminishes his sexual power
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے علقمہ بن قیس نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، ان سے عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں ملاقات کی اور کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! مجھے آپ سے ایک کام ہے پھر وہ دونوں تنہائی میں چلے گئے۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا اے ابوعبدالرحمٰن! کیا آپ منظور کریں گے کہ ہم آپ کا نکاح کسی کنواری لڑکی سے کر دیں جو آپ کو گزرے ہوئے ایام یاد دلا دے۔ چونکہ عبداللہ رضی اللہ عنہ اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے تھے اس لیے انہوں نے مجھے اشارہ کیا اور کہا: علقمہ! میں جب ان کی خدمت میں پہنچا تو وہ کہہ رہے تھے کہ اگر آپ کا یہ مشورہ ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا تھا اے نوجوانو! تم میں جو بھی شادی کی طاقت رکھتا ہو اسے نکاح کر لینا چاہئے کیونکہ یہ خواہش نفسانی کو توڑ دے گا۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ فَلَقِيَهُ عُثْمَانُ بِمِنًى فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً. فَخَلَيَا فَقَالَ عُثْمَانُ هَلْ لَكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي أَنْ نُزَوِّجَكَ بِكْرًا، تُذَكِّرُكَ مَا كُنْتَ تَعْهَدُ، فَلَمَّا رَأَى عَبْدُ اللَّهِ أَنْ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى هَذَا أَشَارَ إِلَىَّ فَقَالَ يَا عَلْقَمَةُ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهْوَ يَقُولُ أَمَا لَئِنْ قُلْتَ ذَلِكَ لَقَدْ قَالَ لَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ ".
#5066
Narrated `Abdullah:We were with the Prophet (ﷺ) while we were young and had no wealth. So Allah's Messenger (ﷺ) said, "O young people! Whoever among you can marry, should marry, because it helps him lower his gaze and guard his modesty (i.e. his private parts from committing illegal sexual intercourse etc.), and whoever is not able to marry, should fast, as fasting diminishes his sexual power
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمارہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ میں علقمہ اور اسود ( رحمہم اللہ ) کے ساتھ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے ہم سے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نوجوان تھے اور ہمیں کوئی چیز میسر نہیں تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ نوجوانوں کی جماعت! تم میں جسے بھی نکاح کرنے کے لیے مالی طاقت ہو اسے نکاح کر لینا چاہئے کیونکہ یہ نظر کو نیچی رکھنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا عمل ہے اور جو کوئی نکاح کی بوجہ غربت طاقت نہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کی خواہشات نفسانی کو توڑ دے گا۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَارَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ دَخَلْتُ مَعَ عَلْقَمَةَ وَالأَسْوَدِ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم شَبَابًا لاَ نَجِدُ شَيْئًا فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهُ صلى الله عليه وسلم " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ ".
#5067
Narrated 'Ata:We presented ourselves along with Ibn `Abbas at the funeral procession of Maimuna at a place called Sarif. Ibn `Abbas said, "This is the wife of the Prophet (ﷺ) so when you lift her bier, do not Jerk it or shake it much, but walk smoothly because the Prophet (ﷺ) had nine wives and he used to observe the night turns with eight of them, and for one of them there was no night turn
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عطا بن ابی رباح نے خبر دی کہا کہ ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازہ میں شریک تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہیں جب تم ان کا جنازہ اٹھاؤ تو زور زور سے حرکت نہ دینا بلکہ آہستہ آہستہ نرمی کے ساتھ جنازہ کو لے کر چلنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی وفات کے وقت آپ کے نکاح میں نو بیویاں تھیں آٹھ کے لیے تو آپ نے باری مقرر کر رکھی تھی لیکن ایک کی باری نہیں تھی۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، قَالَ حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ بِسَرِفَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَذِهِ زَوْجَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلاَ تُزَعْزِعُوهَا وَلاَ تُزَلْزِلُوهَا وَارْفُقُوا، فَإِنَّهُ كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تِسْعٌ، كَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ وَلاَ يَقْسِمُ لِوَاحِدَةٍ.
#5068
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) used to go round (have sexual relations with) all his wives in one night, and he had nine wives
ہم سے مسدد نے بیان کیا۔ کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ایک ہی رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نو بیویاں تھیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے خلیفہ ابن خیاط نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر یہی حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ، وَلَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ. وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسًا، حَدَّثَهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
#5069
Narrated Sa`id bin Jubair:Ibn `Abbas asked me, "Are you married?" I replied, "No." He said, "Marry, for the best person of this (Muslim) nation (i.e., Muhammad) of all other Muslims, had the largest number of wives
ہم سے علی بن حکم انصاری نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے رقبہ نے، ان سے طلحہ الیامی نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دریافت فرمایا کہ تم نے شادی کر لی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شادی کر لو کیونکہ اس امت کے بہترین شخص جو تھے ( یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) ان کی بہت سی بیویاں تھیں۔ بعضوں نے یوں ترجمہ کیا ہے کہ اس امت میں اچھے وہی لوگ ہیں جن کی بہت عورتیں ہوں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ رَقَبَةَ، عَنْ طَلْحَةَ الْيَامِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ هَلْ تَزَوَّجْتَ قُلْتُ لاَ. قَالَ فَتَزَوَّجْ فَإِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الأُمَّةِ أَكْثَرُهَا نِسَاءً.
#5070
Narrated `Umar bin Al-Khattab:The Prophet (ﷺ) said, "The rewards (of deeds) are according to the intention, and everybody will get the reward for what he has intended. So whoever emigrated for Allah's and His Apostle's sake, his emigration was for Allah and His Apostle; and whoever emigrated for worldly benefits, or to marry a woman, then his emigration was for the thing for what he emigrated for
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے محمد بن ابراہیم بن حارث نے، ان سے علقمہ بن وقاص نے اور ان سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملتا ہے جس کی وہ نیت کرے۔ اس لیے جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہو، اسے اللہ اور اس کے رسول کی رضا حاصل ہو گی لیکن جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کی نیت سے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے ارادہ سے ہو، اس کی ہجرت اسی کے لیے ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الْعَمَلُ بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا لاِمْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ ".
#5071
Narrated Ibn Masud:We used to fight in the holy battles in the company of the Prophet (ﷺ) and we had no wives with us. So we said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall we get castrated?" The Prophet (ﷺ) forbade us to do so
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے قیس نے بیان کیا اور ان سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا کرتے تھے اور ہمارے ساتھ بیویاں نہیں تھیں۔ اس لیے ہم نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم اپنے آپ کو خصی کیوں نہ کر لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي قَيْسٌ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا نَغْزُو مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلَيْسَ لَنَا نِسَاءٌ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ نَسْتَخْصِي فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ.
#5072
Narrated Anas bin Malik:`Abdur-Rahman bin `Auf came (from Mecca to Medina) and the Prophet (ﷺ) made a bond of brotherhood between him and Sa`d bin Ar-Rabi` Al-Ansari. Al-Ansari had two wives, so he suggested that `Abdur- Rahman take half, his wives and property. `Abdur-Rahman replied, "May Allah bless you with your wives and property. Kindly show me the market." So `Abdur-Rahman went to the market and gained (in bargains) some dried yoghurt and some butter. After a few days the Prophet (ﷺ) saw `Abdur-Rahman with some yellow stains on his clothes and asked him, "What is that, O `Abdur-Rahman?" He replied, "I had married an Ansari woman." The Prophet (ﷺ) asked, "How much Mahr did you give her?" He replied, "The weight of one (date) stone of gold." The Prophet (ﷺ) said, "Offer a banquet, even with one sheep
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے حمید طویل نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ( ہجرت کر کے مدینہ ) آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ کرایا۔ سعد انصاری رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دو بیویاں تھیں۔ انہوں نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ ان کے اہل ( بیوی ) اور مال میں سے آدھے لیں۔ اس پر عبدالرحمٰن نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اہل اور آپ کے مال میں برکت دے، مجھے تو بازار کا راستہ بتا دو۔ چنانچہ آپ بازار آئے اور یہاں آپ نے کچھ پنیر اور کچھ گھی کی تجارت کی اور نفع کمایا۔ چند دنوں کے بعد ان پر زعفران کی زردی لگی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ عبدالرحمٰن یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ انہیں مہر میں کیا دیا عرض کیا کہ ایک گٹھلی برابر سونا دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ولیمہ کر اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَآخَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيِّ وَعِنْدَ الأَنْصَارِيِّ امْرَأَتَانِ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ أَنْ يُنَاصِفَهُ أَهْلَهُ وَمَالَهُ فَقَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ، فَأَتَى السُّوقَ فَرَبِحَ شَيْئًا مِنْ أَقِطٍ وَشَيْئًا مِنْ سَمْنٍ فَرَآهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ أَيَّامٍ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ فَقَالَ " مَهْيَمْ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ ". فَقَالَ تَزَوَّجْتُ أَنْصَارِيَّةً. قَالَ " فَمَا سُقْتَ ". قَالَ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ. قَالَ " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ".
#5073
Narrated Sa`d bin Abi Waqqas:Allah's Messenger (ﷺ) forbade `Uthman bin Maz'un to abstain from marrying (and other pleasures) and if he had allowed him, we would have gotten ourselves castrated
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی، انہوں نے سعید بن مسیب سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «تبتل» یعنی عورتوں سے الگ رہنے کی زندگی سے منع فرمایا تھا۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اجازت دے دیتے تو ہم تو خصی ہی ہو جاتے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ التَّبَتُّلَ، وَلَوْ أَذِنَ لَهُ لاَخْتَصَيْنَا.
#5074
Narrated Sa`d bin Abi Waqqas:The Prophet (ﷺ) prevented `Uthman bin Mazun from that (not marrying), and had he allowed him, we would have got ourselves castrated
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی اور انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو عورت سے الگ رہنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اس کی اجازت دے دیتے تو ہم بھی اپنے آپ کو خصی بنا لیتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ لَقَدْ رَدَّ ذَلِكَ ـ يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ـ عَلَى عُثْمَانَ، وَلَوْ أَجَازَ لَهُ التَّبَتُّلَ لاَخْتَصَيْنَا.
#5075
Narrated 'Abdullah: We used to participate in the holy battles led by Allah's Messenger (ﷺ) and we had nothing (no wives) with us. So we said, "Shall we get ourselves castrated?" He forbade us that and then allowed us to marry women with a temporary contract (2) and recited to us: -- 'O you who believe ! Make not unlawful the good things which Allah has made lawful for you, but commit no transgression
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے، ان سے اسمٰعیل بن ابی خالد بجلی نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کو جایا کرتے تھے اور ہمارے پاس روپیہ نہ تھا ( کہ ہم شادی کر لیتے ) اس لیے ہم نے عرض کیا ہم اپنے کو خصی کیوں نہ کرا لیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا۔ پھر ہمیں اس کی اجازت دے دی کہ ہم کسی عورت سے ایک کپڑے پر ( ایک مدت تک کے لیے ) نکاح کر لیں۔ آپ نے ہمیں قرآن مجید کی یہ آیت پڑھ کر سنائی «يا أيها الذين آمنوا لا تحرموا طيبات ما أحل الله لكم ولا تعتدوا إن الله لا يحب المعتدين» کہ ”ایمان لانے والو! وہ پاکیزہ چیزیں مت حرام کرو جو تمہارے لیے اللہ تعالیٰ نے حلال کی ہیں اور حد سے آگے نہ بڑھو، بیشک اللہ حد سے آگے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَيْسَ لَنَا شَىْءٌ فَقُلْنَا أَلاَ نَسْتَخْصِي فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَنْكِحَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ، ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلاَ تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ}.