#4851
Narrated Jarir bin `Abdullah:We were in the company of the Prophet (ﷺ) on a fourteenth night (of the lunar month), and he looked at the (full) moon and said, "You will see your Lord as you see this moon, and you will have no trouble in looking at Him. So, whoever can, should not miss the offering of prayers before sunrise (Fajr prayer) and before sunset (`Asr prayer)." Then the Prophet (ﷺ) recited: 'And celebrate the praises of your Lord before the rising of the sun and before (its) setting
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے جریر نے، ان سے اسمٰعیل نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے چودہویں رات تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کی طرف دیکھا اور پھر فرمایا کہ یقیناً تم اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔ اس کی رؤیت میں تم دھکم پیل نہیں کرو گے ( بلکہ بڑے اطمینان سے ایک دوسرے کو دھکا دیئے بغیر دیکھو گے ) اس لیے اگر تمہارے لیے ممکن ہو تو سورج نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے نماز نہ چھوڑو۔ پھر آپ نے آیت «وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل الغروب» ”اور اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے رہئیے آفتاب نکلنے سے پہلے اور چھپنے سے پہلے۔“ کی تلاوت کی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا جُلُوسًا لَيْلَةً مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ فَقَالَ " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا، لاَ تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لاَ تُغْلَبُوا عَلَى صَلاَةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا ". ثُمَّ قَرَأَ {وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ}
#4852
Narrated Mujahid:Ibn `Abbas said, "Allah ordered His Prophet to celebrate Allah's praises after all prayers." He refers to His Statement: 'After the prayers
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے ورقہ نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے، ان سے مجاہد نے بیان کیا، کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں تمام نمازوں کے بعد تسبیح پڑھنے کا حکم دیا تھا۔ آپ کا مقصد اللہ تعالیٰ کا ارشاد «وأدبار السجود» کی تشریح کرنا تھا۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَرَهُ أَنْ يُسَبِّحَ، فِي أَدْبَارِ الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا. يَعْنِي قَوْلَهُ {وَأَدْبَارَ السُّجُودِ}
#4853
Narrated Um Salama:I complained to Allah's Messenger (ﷺ) that I was sick, so he said, "Perform the Tawaf (of Ka`ba at Mecca) while riding behind the people (who are performing the Tawaf on foot)." So I performed the Tawaf while Allah's Messenger (ﷺ) was offering the prayer by the side of the Ka`ba and was reciting: 'By the Mount (Sinai) and by a Decree Inscribed
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، انہیں عروہ نے، انہیں زینب بنت ابی سلمہ نے اور ان سے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ( حج کے موقع پر ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں بیمار ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سواری پر بیٹھ کر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرے چنانچہ میں نے طواف کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خانہ کعبہ کے پہلو میں نماز پڑھتے ہوئے سورۃ والطور و کتاب مسطور کی تلاوت کر رہے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ، وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ ". فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ.
#4854
Narrated Jubair bin Mut`im:I heard the Prophet (ﷺ) reciting Surat at-Tur in the Maghrib prayer, and when he reached the Verse: 'Were they created by nothing, Or were they themselves the creators, Or did they create the Heavens and the Earth? Nay, but they have no firm belief Or do they own the treasures of Your Lord? Or have they been given the authority to do as they like...' (52.35-37) my heart was about to fly (when I realized this firm argument)
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے اصحاب نے زہری کے واسطہ سے بیان کیا، ان سے محمد بن جبیر بن مطعم نے اور ان سے ان کے والد جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور پڑھ رہے تھے۔ جب آپ سورۃ والطور اس آیت پر پہنچے «أم خلقوا من غير شىء أم هم الخالقون * أم خلقوا السموات والأرض بل لا يوقنون * أم عندهم خزائن ربك أم هم المسيطرون» ”کیا یہ لوگ بغیر کسی کے پیدا کئے پیدا ہو گئے یا یہ خود ( اپنے ) خالق ہیں؟ یا انہوں نے آسمان اور زمین کو پیدا کر لیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ان میں یقین ہی نہیں۔ کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار کے خزانے ہیں یا یہ لوگ حاکم ہیں۔“ تو میرا دل اڑنے لگا۔ سفیان نے بیان کیا لیکن میں نے زہری سے سنا ہے وہ محمد بن جبیر بن مطعم سے روایت کرتے تھے، ان سے ان کے والد ( جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ والطور پڑھتے سنا ( سفیان نے کہا کہ ) میرے ساتھیوں نے اس کے بعد جو اضافہ کیا ہے وہ میں نے زہری سے نہیں سنا۔
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثُونِي عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ فَلَمَّا بَلَغَ هَذِهِ الآيَةَ {أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَىْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ * أَمْ خَلَقُوا السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ بَلْ لاَ يُوقِنُونَ * أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُسَيْطِرُونَ} كَادَ قَلْبِي أَنْ يَطِيرَ. قَالَ سُفْيَانُ فَأَمَّا أَنَا فَإِنَّمَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ. لَمْ أَسْمَعْهُ زَادَ الَّذِي قَالُوا لِي.
#4855
Narrated Masruq:I said to `Aisha, "O Mother! Did Prophet Muhammad see his Lord?" Aisha said, "What you have said makes my hair stand on end ! Know that if somebody tells you one of the following three things, he is a liar: Whoever tells you that Muhammad saw his Lord, is a liar." Then Aisha recited the Verse: 'No vision can grasp Him, but His grasp is over all vision. He is the Most Courteous Well-Acquainted with all things.' (6.103) 'It is not fitting for a human being that Allah should speak to him except by inspiration or from behind a veil.' (42.51) `Aisha further said, "And whoever tells you that the Prophet knows what is going to happen tomorrow, is a liar." She then recited: 'No soul can know what it will earn tomorrow.' (31.34) She added: "And whoever tells you that he concealed (some of Allah's orders), is a liar." Then she recited: 'O Apostle! Proclaim (the Message) which has been sent down to you from your Lord..' (5.67) `Aisha added, "But the Prophet (ﷺ) saw Gabriel in his true form twice
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے وکیع نے، ان سے اسمٰعیل بن ابی خالد نے، ان سے عامر نے اور ان سے مسروق نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اے ایمان والوں کی ماں! کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات میں اپنے رب کو دیکھا تھا؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تم نے ایسی بات کہی کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے کیا تم ان تین باتوں سے بھی ناواقف ہو؟ جو شخص بھی تم میں سے یہ تین باتیں بیان کرے وہ جھوٹا ہے جو شخص یہ کہتا ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج میں اپنے رب کو دیکھا تھا وہ جھوٹا ہے۔ پھر انہوں نے آیت «لا تدركه الأبصار وهو يدرك الأبصار وهو اللطيف الخبير» سے لے کر «من وراء حجاب» تک کی تلاوت کی اور کہا کہ کسی انسان کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ سے بات کرے سوا اس کے کہ وحی کے ذریعہ ہو یا پھر پردے کے پیچھے سے ہو اور جو شخص تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آنے والے کل کی بات جانتے تھے وہ بھی جھوٹا ہے۔ اس کے لیے انہوں نے آیت «وما تدري نفس ماذا تكسب غدا» یعنی ”اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل کیا کرے گا۔“ کی تلاوت فرمائی۔ اور جو شخص تم میں سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ دین میں کوئی بات چھپائی تھی وہ بھی جھوٹا ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی «يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك» یعنی اے رسول! پہنچا دیجئیے وہ سب کچھ جو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر اتارا گیا ہے۔ ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دو مرتبہ دیکھا تھا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ يَا أُمَّتَاهْ هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم رَبَّهُ فَقَالَتْ لَقَدْ قَفَّ شَعَرِي مِمَّا قُلْتَ، أَيْنَ أَنْتَ مِنْ ثَلاَثٍ مَنْ حَدَّثَكَهُنَّ فَقَدْ كَذَبَ، مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ. ثُمَّ قَرَأَتْ {لاَ تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ} {وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلاَّ وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ} وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ فَقَدْ كَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ {وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا} وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ كَتَمَ فَقَدْ كَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ} الآيَةَ، وَلَكِنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ فِي صُورَتِهِ مَرَّتَيْنِ.
#4856
Narrated `Abdullah:Regarding the Verses: 'And was at a distance of but two bow-lengths or (even) nearer; So did (Allah) convey the Inspiration to His slave (Gabriel) and then he Gabriel) conveyed (that to Muhammad...' (53.9-10) Ibn Mas`ud narrated to us that the Prophet (ﷺ) had seen Gabriel with six hundred wings
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، ان سے عبدالوحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زر بن حبیش سے سنا اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے آیت «فكان قاب قوسين أو أدنى * فأوحى إلى عبده ما أوحى» یعنی ”صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا تھا بلکہ اور بھی کم۔ پھر اللہ نے اپنے بندہ پر وحی نازل کی جو کچھ بھی نازل کیا“ کے متعلق بیان کیا کہ ہم سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دیکھا تھا ان کے چھ سو پر تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ زِرًّا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، {فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى * فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى} قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ.
#4857
Narrated Ash-Shaibani:I asked Zirr about the Statement of Allah: 'And was at a distance of but two bow-lengths or (even) nearer. So did Allah convey the Inspiration to His slave (Gabriel) and then he (Gabriel) conveyed that to Muhammad.' (53.10) He said, "Abdullah (bin Mas`ud) informed us that Muhammad had seen Gabriel with six hundred wings
ہم سے طلق بن غنام نے بیان کیا، ان سے زائدہ بن قدامہ کوفی نے بیان کیا، ان سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا کہ میں نے زر بن حبیش سے اس آیت کے بارے میں پوچھا «فكان قاب قوسين أو أدنى * فأوحى إلى عبده ما أوحى» الخ یعنی سو دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا بلکہ اور بھی کم۔ پھر اللہ نے اپنے بندے پر وحی کی جو کچھ بھی نازل کیا تو انہوں نے بیان کیا کہ ہمیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا تھا جن کے چھ سو پر تھے۔
حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ سَأَلْتُ زِرًّا عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى {فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى * فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى} قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَنَّ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم رَأَى جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ.
#4858
Narrated `Abdullah:(regarding the revelation) Truly he (Muhammad) did see of the signs of his Lord; the Greatest!' (53.18) The Prophet (ﷺ) saw a green screen covering the horizon
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آیت «لقد رأى من آيات ربه الكبرى» یعنی ”آپ نے اپنے رب کی عظیم نشانیاں دیکھیں“ کے متعلق بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «رفرف» ( سبز فرش ) کو دیکھا جس نے آسمان کے کناروں کو ڈھانپ لیا تھا۔
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه – {لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى} قَالَ رَأَى رَفْرَفًا أَخْضَرَ قَدْ سَدَّ الأُفُقَ.
#4859
Narrated Ibn `Abbas:(regarding His Statement about the Lat and the `Uzza: Lat was originally a man who used to mix Sawiq for the pilgrim)
ہم سے مسلم بن ابراہیم فراہیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاشھب جعفر بن حیان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوالجوزاء نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لات اور عزیٰ کے حال میں کہا کہ لات ایک شخص کو کہتے تھے وہ حاجیوں کے لیے ستو گھولتا تھا۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْهَبِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما فِي قَوْلِهِ {اللاَّتَ وَالْعُزَّى} كَانَ الَّلاَتُ رَجُلاً يَلُتُّ سَوِيقَ الْحَاجِّ.
#4860
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whomever takes an oath in which he mentions Lat and `Uzza (forgetfully), should say: None has the right to be worshipped but Allah, and whoever says to his companion. 'Come along, let us gamble' must give alms (as an expiation)
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں زہری نے، انہیں حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص قسم کھائے اور کہے کہ قسم ہے لات اور عزیٰ کی تو اسے تجدید ایمان کے لیے کہنا چاہئے «لا إله إلا الله» اور جو شخص اپنے ساتھی سے یہ کہے کہ آؤ جوا کھیلیں تو اسے صدقہ دینا چاہئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ وَاللاَّتِ وَالْعُزَّى. فَلْيَقُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ. وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ تَعَالَ أُقَامِرْكَ. فَلْيَتَصَدَّقْ ".
#4861
Narrated `Urwa:I asked `Aisha (regarding the Sai between As Safa and Al-Marwa). She said, "Out of reverence to the idol Manat which was placed in Al-Mushallal, those who used to assume Ihram in its name, used not to perform Sai between As-Safa and Al-Marwa, so Allah revealed: 'Verily! The As-Safa and Al-Marwa (two mountains at Mecca) are among the symbols of Allah.' (2.158). Thereupon, Allah's Messenger (ﷺ) and the Muslims used to perform Sai (between them)." Sufyan said: The (idol) Manat was at Al-Mushallal in Qudaid. `Aisha added, "The Verse was revealed in connection with the Ansar. They and (the tribe of) Ghassan used to assume Ihram in the name of Manat before they embraced Islam." `Aisha added, "There were men from the Ansar who used to assume Ihram in the name of Manat which was an idol between Mecca and Medina. They said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We used not to perform the Tawaf (Sai) between As-Safa and Al-Marwa out of reverence to Manat
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ میں نے عروہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ منات بت کے نام پر احرام باندھتے جو مقام مشلل میں تھا، وہ صفا اور مروہ کے درمیان ( حج و عمرہ میں ) سعی نہیں کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی «إن الصفا والمروة من شعائر الله» ”بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان طواف کیا اور مسلمانوں نے بھی طواف کیا۔ سفیان نے کہا کہ ”مناۃ“ مقام قدید پر مشلل میں تھا اور عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا کہ ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ اسلام سے پہلے انصار اور غسان کے لوگ منات کے نام پر احرام باندھتے تھے، پہلی حدیث کی طرح۔ اور معمر نے زہری سے بیان کیا، ان سے عروہ نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ قبیلہ انصار کے کچھ لوگ منات کے نام کا احرام باندھتے تھے۔ منات ایک بت تھا جو مکہ اور مدینہ کے درمیان رکھا ہوا تھا ( اسلام لانے کے بعد ) ان لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم منات کی تعظیم کے لیے صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہیں کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، سَمِعْتُ عُرْوَةَ، قُلْتُ لِعَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ فَقَالَتْ إِنَّمَا كَانَ مَنْ أَهَلَّ بِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي بِالْمُشَلَّلِ لاَ يَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ} فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْمُسْلِمُونَ. قَالَ سُفْيَانُ مَنَاةُ بِالْمُشَلَّلِ مِنْ قُدَيْدٍ. وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ نَزَلَتْ فِي الأَنْصَارِ كَانُوا هُمْ وَغَسَّانُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ. مِثْلَهُ. وَقَالَ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ كَانَ رِجَالٌ مِنَ الأَنْصَارِ مِمَّنْ كَانَ يُهِلُّ لِمَنَاةَ ـ وَمَنَاةُ صَنَمٌ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ـ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ كُنَّا لاَ نَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ تَعْظِيمًا لِمَنَاةَ. نَحْوَهُ.
#4862
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) performed a prostration when he finished reciting Surat-an-Najm, and all the Muslims and pagans and Jinns and human beings prostrated along with him
ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم میں سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ مسلمانوں نے اور تمام مشرکوں اور جنات و انسانوں نے بھی سجدہ کیا۔ عبدالوارث کے ساتھ اس حدیث کو ابراہیم بن طہمان نے بھی ایوب سے روایت کیا اور اسمٰعیل بن علیہ نے اپنی روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ سَجَدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالنَّجْمِ وَسَجَدَ مَعَهُ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْجِنُّ وَالإِنْسُ. تَابَعَهُ ابْنُ طَهْمَانَ عَنْ أَيُّوبَ. وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ عُلَيَّةَ ابْنَ عَبَّاسٍ.
#4863
Narrated `Abdullah:The first Sura in which a prostration was mentioned, was Sura An-Najm (The Star). Allah's Messenger (ﷺ) prostrated (while reciting it), and everybody behind him prostrated except a man whom I saw taking a hand-full of dust in his hand and prostrated on it. Later I saw that man killed as an infidel, and he was Umaiya bin Khalaf
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، کہا ہم کو ابواحمد زبیری نے خبر دی، کہا ہم کو اسرائیل نے خبر دی، ان سے ابواسحاق نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سب سے پہلے نازل ہونے والی سجدہ والی سورت سورۃ النجم ہے۔ بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس کی تلاوت کے بعد ) سجدہ کیا اور جتنے لوگ آپ کے پیچھے تھے سب ہی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا، سوا ایک شخص کے، میں نے دیکھا کہ اس نے اپنی ہتھیلی میں مٹی اٹھائی اور اسی پر سجدہ کر لیا۔ بعد میں ( بدر کی لڑائی میں ) میں نے اسے دیکھا کہ کفر کی حالت میں وہ قتل کیا ہوا پڑا ہے۔ وہ شخص امیہ بن خلف تھا۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَوَّلُ سُورَةٍ أُنْزِلَتْ فِيهَا سَجْدَةٌ {وَالنَّجْمِ}. قَالَ فَسَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَجَدَ مَنْ خَلْفَهُ، إِلاَّ رَجُلاً رَأَيْتُهُ أَخَذَ كَفًّا مِنْ تُرَابٍ فَسَجَدَ عَلَيْهِ، فَرَأَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ قُتِلَ كَافِرًا، وَهْوَ أُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ.
#4864
Narrated Ibn Masud:During the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) the moon was split into two parts; one part remained over the mountain, and the other part went beyond the mountain. On that, Allah's Messenger (ﷺ) said, "Witness this miracle
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ اور سفیان نے اور ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے ابومعمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہو گیا تھا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر اور دوسرا اس کے پیچھے چلا گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی موقع پر ہم سے فرمایا تھا کہ گواہ رہنا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، وَسُفْيَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِرْقَتَيْنِ، فِرْقَةً فَوْقَ الْجَبَلِ وَفِرْقَةً دُونَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اشْهَدُوا ".
#4865
Narrated `Abdullah:The moon was cleft asunder while we were in the company of the Prophet, and it became two parts. The Prophet (ﷺ) said, Witness, witness (this miracle)
ہم سے علی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن ابی نجیح نے خبر دی، انہیں مجاہد نے، انہیں ابومعمر نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ چاند پھٹ گیا تھا اور اس وقت ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ چنانچہ اس کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ لوگو گواہ رہنا، گواہ رہنا۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَصَارَ فِرْقَتَيْنِ، فَقَالَ لَنَا " اشْهَدُوا، اشْهَدُوا ".
#4866
Narrated Ibn `Abbas:The moon was cleft asunder during the lifetime of the Prophet
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے بکر نے بیان کیا، ان سے جعفر نے، ان سے عراک بن مالک نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ گیا تھا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي بَكْرٌ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ فِي زَمَانِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
#4867
Narrated Anas:The people of Mecca asked the Prophet (ﷺ) to show them a sign (miracle). So he showed them (the miracle) of the cleaving of the moon
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مکہ والوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ دکھانے کو کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چاند کے پھٹ جانے کا معجزہ دکھایا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً فَأَرَاهُمُ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ.
#4868
Narrated Anas:The moon was cleft asunder into two parts
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا تھا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ فِرْقَتَيْنِ.
#4869
Narrated `Abdullah bin Masud:The Prophet (ﷺ) used to recite: "Fahal-min-Maddakir (then is there any that will receive admonition?)
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «فهل من مدكر» پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ {فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ}
#4870
Narrated `Abdullah bin Masud:The Prophet (ﷺ) used to recite: "Fahal-min-Maddakir (then is there any that will receive admonition?)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے ابواسحاق نے، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «فهل من مدكر» ( سو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟ ) پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ {فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ}.
#4871
Narrated Abu 'Is-haq:A man asked Al-Aswad, 'is it 'Fahal min-Muddakir' or'..Mudhdhakir?" Al Aswad replied, 'I have heard `Abdullah bin Masud reciting it, 'Fahal-min Muddakir'; I too, heard the Prophet (ﷺ) reciting it 'Fahal-min-Muddakir' with 'd
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے انہوں نے ایک شخص کو اسود سے پوچھتے سنا کہ سورۃ القمر میں آیت «فهل من مدكر» ہے یا «فهل من مذكر» ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا وہ «فهل من مدكر» پڑھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی «فهل من مدكر» پڑھتے سنا ہے ( دال مہملہ سے ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلاً، سَأَلَ الأَسْوَدَ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ أَوْ مُذَّكِرٍ فَقَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَؤُهَا {فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ} قَالَ وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَؤُهَا {فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ} دَالاً.
#4872
Narrated `Abdullah bin Masud: The Prophet (ﷺ) used to recite: "Fahal-min-Maddakir (then is there any that will receive admonition?)
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو ہمارے والد عثمان نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں ابی اسحاق نے، انہیں اسود نے اور انہیں ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «فهل من مدكر» الآیۃ ( دال مہملہ سے ) ۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ {فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ} الآيَةَ.
#4873
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) recited: 'Fahal-min Muddakir': 'And verily, We have destroyed nations like unto you; then is there any that will receive admonition?
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «فهل من مدكر» ( دال مہملہ سے ) پڑھا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ {فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ، ولقد أهلكنا أشياعكم فهل من مُدَّكِرٍ}
#4874
Narrated `Abdullah:I recited before the Prophet (ﷺ) 'Fahal-min-Mudhdhakir'. The Prophet (ﷺ) said, "It is Fahal-min Muddakir
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو وکیع نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے، ان سے ابواسحاق نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے «فهل من مذكر» پڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ «فهل من مدكر» ( یعنی دال مہملہ سے پڑھو ) ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَهَلْ مِنْ مُذَّكِرٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم {فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ}
#4875
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) while in a tent on the day of the Battle of Badr, said, "O Allah! I request you (to fulfill) Your promise and contract! O Allah! If You wish that you will not be worshipped henceforth.." On that Abu Bakr held the Prophet (ﷺ) by the hand and said, "That is enough, O Allah's Messenger (ﷺ) You have appealed to your Lord too pressingly," while the Prophet (ﷺ) was putting on his armor. So Allah's Messenger (ﷺ) went out, reciting Their multitude will be put to flight, and they will show their backs
ہم سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن یحییٰ ذہلی نے بیان کیا، کہا ہم سے عفان بن مسلم نے بیان کیا، ان سے وہیب نے کہا ہم سے خالد حذاء نے ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جبکہ آپ بدر کی لڑائی کے دن ایک خیمے میں تھے اور یہ دعا کر رہے تھے کہ اے اللہ! میں تجھے تیرا عہد اور وعدہ نصرت یاد دلاتا ہوں۔ اے اللہ! تیری مرضی ہے اگر تو چاہے ( ان تھوڑے سے مسلمانوں کو بھی ہلاک کر دے ) پھر آج کے بعد تیری عبادت باقی نہیں رہے گی۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور عرض کیا: بس یا رسول اللہ! آپ نے اپنے رب سے بہت ہی الحاح و زاری سے دعا کر لی ہے۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زرہ پہنے ہوئے چل پھر رہے تھے اور آپ خیمہ سے نکلے تو زبان مبارک پر یہ آیت تھی «سيهزم الجمع ويولون الدبر» ”سو عنقریب ( کافروں کی ) جماعت شکست کھائے گی اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،. وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ وُهَيْبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَهْوَ فِي قُبَّةٍ يَوْمَ بَدْرٍ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اللَّهُمَّ إِنْ تَشَأْ لاَ تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ ". فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِهِ فَقَالَ حَسْبُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلْحَحْتَ عَلَى رَبِّكَ. وَهْوَ يَثِبُ فِي الدِّرْعِ، فَخَرَجَ وَهْوَ يَقُولُ " {سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ}."