#4601
Narrated `Aisha:Regarding the Verse:--"If a woman fears cruelty or desertion on her husband's part." (4.128) It is about a man who has a woman (wife) and he does not like her and wants to divorce her but she says to him, "I make you free as regards myself." So this Verse was revealed in this connection
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے آیت «وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا أو إعراضا.» ”اور کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے زیادتی یا بے رغبتی کا خوف ہو“ کے متعلق کہا کہ ایسا مرد جس کے ساتھ اس کی بیوی رہتی ہے، لیکن شوہر کو اس کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں، بلکہ وہ اسے جدا کر دینا چاہتا ہے، اس پر عورت کہتی ہے کہ میں اپنی باری اور اپنا ( نان نفقہ ) معاف کر دیتی ہوں ( تم مجھے طلاق نہ دو ) تو ایسی صورت کے متعلق یہ آیت اسی باب میں اتری۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا}. قَالَتِ الرَّجُلُ تَكُونُ عِنْدَهُ الْمَرْأَةُ لَيْسَ بِمُسْتَكْثِرٍ مِنْهَا يُرِيدُ أَنْ يُفَارِقَهَا فَتَقُولُ أَجْعَلُكَ مِنْ شَأْنِي فِي حِلٍّ. فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِي ذَلِكَ.
#4602
Narrated Al-Aswad:While we were sitting in a circle in `Abdullah's gathering, Hudhaifa came and stopped before us, and greeted us and then said, "People better than you became hypocrites." Al-Aswad said: I testify the uniqueness of Allah! Allah says: "Verily! The hypocrites will be in the lowest depths of the Fire." (4.145) On that `Abdullah smiled and Hudhaifa sat somewhere in the Mosque. `Abdullah then got up and his companions (sitting around him) dispersed. Hudhaifa then threw a pebble at me (to attract my attention). I went to him and he said, "I was surprised at `Abdullah's smile though he understood what I said. Verily, people better than you became hypocrites and then repented and Allah forgave them
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ان سے ان کے باپ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے اسود نے بیان کیا کہ ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حلقہ درس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ہمارے پاس کھڑے ہو کر سلام کیا۔ پھر کہا نفاق میں وہ جماعت مبتلا ہو گئی جو تم سے بہتر تھی۔ اس پر اسود بولے، سبحان اللہ، اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے «إن المنافقين في الدرك الأسفل من النار» کہ ”منافق دوزخ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔“ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسکرانے لگے اور حذیفہ رضی اللہ عنہ مسجد کے کونے میں جا کر بیٹھ گئے۔ اس کے بعد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اٹھ گئے اور آپ کے شاگرد بھی اِدھر اُدھر چلے گئے۔ پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مجھ پر کنکری پھینکی ( یعنی مجھ کو بلایا ) میں حاضر ہو گیا تو کہا کہ مجھے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ہنسی پر حیرت ہوئی حالانکہ جو کچھ میں نے کہا تھا اسے وہ خوب سمجھتے تھے۔ یقیناً نفاق میں ایک جماعت کو مبتلا کیا گیا تھا جو تم سے بہتر تھی، اس لیے کہ پھر انہوں نے توبہ کر لی اور اللہ نے بھی ان کی توبہ قبول کر لی۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ كُنَّا فِي حَلْقَةِ عَبْدِ اللَّهِ فَجَاءَ حُذَيْفَةُ حَتَّى قَامَ عَلَيْنَا، فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لَقَدْ أُنْزِلَ النِّفَاقُ عَلَى قَوْمٍ خَيْرٍ مِنْكُمْ. قَالَ الأَسْوَدُ سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ {إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرَكِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ} فَتَبَسَّمَ عَبْدُ اللَّهِ، وَجَلَسَ حُذَيْفَةُ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ فَتَفَرَّقَ أَصْحَابُهُ، فَرَمَانِي بِالْحَصَا، فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ حُذَيْفَةُ عَجِبْتُ مِنْ ضَحِكِهِ، وَقَدْ عَرَفَ مَا قُلْتُ، لَقَدْ أُنْزِلَ النِّفَاقُ عَلَى قَوْمٍ كَانُوا خَيْرًا مِنْكُمْ، ثُمَّ تَابُوا فَتَابَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ.
#4603
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) said, "None has the right to say that I am better than Jonah bin Matta
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی کے لیے مناسب نہیں کہ مجھے یونس بن متی سے بہتر کہے۔“
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى ".
#4604
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever says that I am better than Jonah bin Matta, is a liar
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فلیح نے بیان کیا، ان سے ہلال نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص یہ کہتا ہے میں یونس بن متی سے بہتر ہوں اس نے جھوٹ کہا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، حَدَّثَنَا هِلاَلٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى فَقَدْ كَذَبَ ".
#4605
Narrated Al-Bara:The last Sura that was revealed was Bara'a, and the last Verse that was revealed was: "They ask you for a legal verdict, Say: Allah directs (thus) about those who leave no descendants or ascendants as heirs
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے اور انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ سب سے آخر میں جو سورت نازل ہوئی وہ سورۃ برات ہے اور ( احکام میراث کے سلسلے میں ) سب سے آخر میں جو آیت نازل ہوئی وہ «يستفتونك قل الله یفتیکم فى الکلالة» ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ بَرَاءَةَ، وَآخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ {يَسْتَفْتُونَكَ }
#4606
Narrated Tariq bin Shihab:The Jews said to `Umar, "You (i.e. Muslims) recite a Verse, and had it been revealed to us, we would have taken the day of its revelation as a day of celebration." `Umar said, "I know very well when and where it was revealed, and where Allah's Messenger (ﷺ) was when it was revealed. (It was revealed on) the day of `Arafat (Hajj Day), and by Allah, I was at `Arafat" Sufyan, a sub-narrator said: I am in doubt whether the Verse:-- "This day I have perfected your religion for you." was revealed on a Friday or not
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے قیس بن اسلم نے اور ان سے طارق بن شہاب نے کہ یہودیوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ لوگ ایک ایسی آیت کی تلاوت کرتے ہیں کہ اگر ہمارے یہاں وہ نازل ہوئی ہوتی تو ہم ( جس دن وہ نازل ہوئی ہوتی ) اس دن عید منایا کرتے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، میں خوب اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ آیت «اليوم أكملت لكم دينكم» کہاں اور کب نازل ہوئی تھی اور جب عرفات کے دن نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں تشریف رکھتے تھے۔ اللہ کی قسم! ہم اس وقت میدان عرفات میں تھے۔ سفیان ثوری نے کہا کہ مجھے شک ہے کہ وہ جمعہ کا دن تھا یا اور کوئی دوسرا دن۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَتِ الْيَهُودُ لِعُمَرَ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ آيَةً لَوْ نَزَلَتْ فِينَا لاَتَّخَذْنَاهَا عِيدًا. فَقَالَ عُمَرُ إِنِّي لأَعْلَمُ حَيْثُ أُنْزِلَتْ، وَأَيْنَ أُنْزِلَتْ، وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ أُنْزِلَتْ يَوْمَ عَرَفَةَ، وَإِنَّا وَاللَّهِ بِعَرَفَةَ ـ قَالَ سُفْيَانُ وَأَشُكُّ كَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَمْ لاَ – {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ}
#4607
Narrated Aisha:The wife of the Prophet (ﷺ) : We set out with Allah's Messenger (ﷺ) on one of his journeys, and when we were at Baida' or at Dhat-al-Jaish, a necklace of mine was broken (and lost). Allah's Messenger (ﷺ) stayed there to look for it, and so did the people along with him. Neither were they at a place of water, nor did they have any water with them. So the people went to Abu Bakr As-Siddiq and said, "Don't you see what `Aisha has done? She has made Allah's Messenger (ﷺ) and the people, stay where there is no water and they have no water with them." Abu Bakr came while Allah's Messenger (ﷺ) was sleeping with his head on my thigh. He said (to me), "You have detained Allah's Messenger (ﷺ) and the people where there is no water, and they have no water with them." So he admonished me and said what Allah wished him to say, and he hit me on my flanks with his hand. Nothing prevented me from moving (because of pain) but the position of Allah's Messenger (ﷺ) on my thigh. So Allah's Messenger (ﷺ) got up when dawn broke and there was no water, so Allah revealed the Verse of Tayammum. Usaid bin Hudair said, "It is not the first blessing of yours, O the family of Abu Bakr." Then we made the camel on which I was riding get up, and found the necklace under it
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد قاسم بن محمد نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ جب ہم مقام بیداء یا ذات الجیش تک پہنچے تو میرا ہار گم ہو گیا۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تلاش کروانے کے لیے وہیں قیام کیا اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قیام کیا۔ وہاں کہیں پانی نہیں تھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ بھی پانی نہیں تھا۔ لوگ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے، ملاحظہ نہیں فرماتے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا کر رکھا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہیں ٹھہرا لیا اور ہمیں بھی، حالانکہ یہاں کہیں پانی نہیں ہے اور نہ کسی کے پاس پانی ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ ( میرے یہاں ) آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سر مبارک میری ران پر رکھ کر سو گئے تھے اور کہنے لگے تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور سب کو روک لیا، حالانکہ یہاں کہیں پانی نہیں ہے اور نہ کسی کے ساتھ پانی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مجھ پر بہت خفا ہوئے اور جو اللہ کو منظور تھا مجھے کہا، سنا اور ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگائے۔ میں نے صرف اس خیال سے کوئی حرکت نہیں کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر اپنا سر رکھے ہوئے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور صبح تک کہیں پانی کا نام و نشان نہیں تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری تو اسید بن حضیر نے کہا کہ آل ابی بکر! یہ تمہاری کوئی پہلی برکت نہیں ہے۔ بیان کیا کہ پھر ہم نے وہ اونٹ اٹھایا جس پر میں سوار تھی تو ہار اسی کے نیچے مل گیا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي، فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْتِمَاسِهِ، وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَقَالُوا أَلاَ تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبِالنَّاسِ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ، فَقَالَ حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسَ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ قَالَتْ عَائِشَةُ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، وَجَعَلَ يَطْعُنُنِي بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي، وَلاَ يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلاَّ مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى فَخِذِي، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ. قَالَتْ فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَإِذَا الْعِقْدُ تَحْتَهُ.
#4608
Narrated Aisha:A necklace of mine was lost at Al-Baida' and we were on our way to Medina. The Prophet (ﷺ) made his camel kneel down and dismounted and laid his head on my lap and slept. Abu Bakr came to me and hit me violently on the chest and said, "You have detained the people because of a necklace." I kept as motionless as a dead person because of the position of Allah's Messenger (ﷺ) ; (on my lap) although Abu Bakr had hurt me (with the slap). Then the Prophet (ﷺ) woke up and it was the time for the morning (prayer). Water was sought, but in vain; so the following Verse was revealed:-- "O you who believe! When you intend to offer prayer.." (5.6) Usaid bin Hudair said, "Allah has blessed the people for your sake, O the family of Abu Bakr. You are but a blessing for them
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد قاسم نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ میرا ہار مقام بیداء میں گم ہو گیا تھا۔ ہم مدینہ واپس آ رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں اپنی سواری روک دی اور اتر گئے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سر مبارک میری گود میں رکھ کر سو رہے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر آ گئے اور میرے سینے پر زور سے ہاتھ مار کر فرمایا کہ ایک ہار کے لیے تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو روک لیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام کے خیال سے میں بےحس و حرکت بیٹھی رہی حالانکہ مجھے تکلیف ہوئی تھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے اور صبح کا وقت ہوا اور پانی کی تلاش ہوئی لیکن کہیں پانی کا نام و نشان نہ تھا۔ اسی وقت یہ آیت اتری «يا أيها الذين آمنوا إذا قمتم إلى الصلاة» الخ۔ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے آل ابی بکر! تمہیں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے باعث برکت بنایا ہے۔ یقیناً تم لوگوں کے لیے باعث برکت ہو۔ تمہارا ہار گم ہوا اللہ نے اس کی وجہ سے تیمم کی آیت نازل فرما دی جو قیامت تک مسلمانوں کے لیے آسانی اور برکت ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ سَقَطَتْ قِلاَدَةٌ لِي بِالْبَيْدَاءِ وَنَحْنُ دَاخِلُونَ الْمَدِينَةَ، فَأَنَاخَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَنَزَلَ، فَثَنَى رَأْسَهُ فِي حَجْرِي رَاقِدًا، أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ فَلَكَزَنِي لَكْزَةً شَدِيدَةً وَقَالَ حَبَسْتِ النَّاسَ فِي قِلاَدَةٍ. فَبِي الْمَوْتُ لِمَكَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ أَوْجَعَنِي، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اسْتَيْقَظَ وَحَضَرَتِ الصُّبْحُ فَالْتُمِسَ الْمَاءُ فَلَمْ يُوجَدْ فَنَزَلَتْ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاَةِ} الآيَةَ. فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ لَقَدْ بَارَكَ اللَّهُ لِلنَّاسِ فِيكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ، مَا أَنْتُمْ إِلاَّ بَرَكَةٌ لَهُمْ.
#4609
Narrated `Abdullah (bin Masud):On the day of Badr, Al-Miqdad said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We do not say to you as the children of Israel said to Moses, 'Go you and your Lord and fight you two; we are sitting here, (5.24) but (we say). "Proceed, and we are with you." That seemed to delight Allah's Messenger (ﷺ) greatly
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے مخارق نے، ان سے طارق بن شہاب نے اور انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے قریب موجود تھا ( دوسری سند ) اور مجھ سے حمدان بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالنضر ( ہاشم بن قاسم ) نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن عبدالرحمٰن اشجعی نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے مخارق بن عبداللہ نے، ان سے طارق بن شہاب نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ بدر کے موقع پر مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: یا رسول اللہ! ہم آپ سے وہ بات نہیں کہیں گے جو بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی «فاذهب أنت وربك فقاتلا إنا ها هنا قاعدون» کہ ”آپ خود اور آپ کے خدا چلے جائیں اور آپ دونوں لڑ بھڑ لیں۔ ہم تو یہاں سے ٹلنے کے نہیں۔“ نہیں! آپ چلئے، ہم آپ کے ساتھ جان دینے کو حاضر ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس بات سے خوشی ہوئی۔ اس حدیث کو وکیع نے بھی سفیان ثوری سے، انہوں نے مخارق سے، انہوں نے طارق سے روایت کیا ہے کہ مقداد رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کیا ( جو اوپر بیان ہوا ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُخَارِقٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ شَهِدْتُ مِنَ الْمِقْدَادِ ح وَحَدَّثَنِي حَمْدَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُخَارِقٍ عَنْ طَارِقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ الْمِقْدَادُ يَوْمَ بَدْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لاَ نَقُولُ لَكَ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى {فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلاَ إِنَّا هَا هُنَا قَاعِدُونَ} وَلَكِنِ امْضِ وَنَحْنُ مَعَكَ. فَكَأَنَّهُ سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. وَرَوَاهُ وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُخَارِقٍ عَنْ طَارِقٍ أَنَّ الْمِقْدَادَ قَالَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
#4610
Narrated Abu Qilaba:That he was sitting behind `Umar bin `Abdul `Aziz and the people mentioned and mentioned (about al-Qasama) and they said (various things), and said that the Caliphs had permitted it. `Umar bin `Abdul `Aziz turned towards Abu Qilaba who was behind him and said. "What do you say, O `Abdullah bin Zaid?" or said, "What do you say, O Abu Qilaba?" Abu Qilaba said, "I do not know that killing a person is lawful in Islam except in three cases: a married person committing illegal sexual intercourse, one who has murdered somebody unlawfully, or one who wages war against Allah and His Apostle." 'Anbasa said, "Anas narrated to us such-and-such." Abu Qilaba said, "Anas narrated to me in this concern, saying, some people came to the Prophet (ﷺ) and they spoke to him saying, 'The climate of this land does not suit us.' The Prophet (ﷺ) said, 'These are camels belonging to us, and they are to be taken out to the pasture. So take them out and drink of their milk and urine.' So they took them and set out and drank of their urine and milk, and having recovered, they attacked the shepherd, killed him and drove away the camels.' Why should there be any delay in punishing them as they murdered (a person) and waged war against Allah and His Apostle and frightened Allah's Messenger (ﷺ) ?" Anbasa said, "I testify the uniqueness of Allah!" Abu Qilaba said, "Do you suspect me?" 'Anbasa said, "No, Anas narrated that (Hadith) to us." Then 'Anbasa added, "O the people of such-and-such (country), you will remain in good state as long as Allah keeps this (man) and the like of this (man) amongst you
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عون نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سلمان ابورجاء، ابوقلابہ کے غلام نے بیان کیا اور ان سے ابوقلابہ نے کہ وہ ( امیرالمؤمنین ) عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ خلیفہ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے ( مجلس میں قسامت کا ذکر آ گیا ) لوگوں نے کہا کہ قسامت میں قصاص لازم ہو گا۔ آپ سے پہلے خلفاء راشدین نے بھی اس میں قصاص لیا ہے۔ پھر عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ابوقلابہ کی طرف متوجہ ہوئے وہ پیچھے بیٹھے ہوئے تھے اور پوچھا: عبداللہ بن زید تمہاری کیا رائے ہے، یا یوں کہا کہ ابوقلابہ! آپ کی کیا رائے ہے؟ میں نے کہا کہ مجھے تو کوئی ایسی صورت معلوم نہیں ہے کہ اسلام میں کسی شخص کا قتل جائز ہو، سوا اس کے کہ کسی نے شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کیا ہو، یا ناحق کسی کو قتل کیا ہو، یا ( پھر ) اللہ اور اس کے رسول سے لڑا ہو ( مرتد ہو گیا ہو ) ۔ اس پر عنبسہ نے کہا کہ ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے اس طرح حدیث بیان کی تھی۔ ابوقلابہ بولے کہ مجھ سے بھی انہوں نے یہ حدیث بیان کی تھی۔ بیان کیا کہ کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام پر بیعت کرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہمیں اس شہر مدینہ کی آب و ہوا موافق نہیں آئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ہمارے یہ اونٹ چرنے جا رہے ہیں تم بھی ان کے ساتھ چلے جاؤ اور ان کا دودھ اور پیشاب پیو ( کیونکہ ان کے مرض کا یہی علاج تھا ) چنانچہ وہ لوگ ان اونٹوں کے ساتھ چلے گئے اور ان کا دودھ اور پیشاب پیا۔ جس سے انہیں صحت حاصل ہو گئی۔ اس کے بعد انہوں نے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے ) کو پکڑ کر قتل کر دیا اور اونٹ لے کر بھاگے۔ اب ایسے لوگوں سے بدلہ لینے میں کیا تامل ہو سکتا تھا۔ انہوں نے ایک شخص کو قتل کیا اور اللہ اور اس کے رسول سے لڑے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوفزدہ کرنا چاہا۔ عنبسہ نے اس پر کہا: سبحان اللہ! میں نے کہا، کیا تم مجھے جھٹلانا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ( نہیں ) یہی حدیث انس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بھی بیان کی تھی۔ میں نے اس پر تعجب کیا کہ تم کو حدیث خوب یاد رہتی ہے۔ ابوقلابہ نے بیان کیا کہ عنبسہ نے کہا، اے شام والو! جب تک تمہارے یہاں ابوقلابہ یا ان جیسے عالم موجود رہیں گے، تم ہمیشہ اچھے رہو گے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَلْمَانُ أَبُو رَجَاءٍ، مَوْلَى أَبِي قِلاَبَةَ عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا خَلْفَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَذَكَرُوا وَذَكَرُوا فَقَالُوا وَقَالُوا قَدْ أَقَادَتْ بِهَا الْخُلَفَاءُ، فَالْتَفَتَ إِلَى أَبِي قِلاَبَةَ وَهْوَ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَقَالَ مَا تَقُولُ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ أَوْ قَالَ مَا تَقُولُ يَا أَبَا قِلاَبَةَ قُلْتُ مَا عَلِمْتُ نَفْسًا حَلَّ قَتْلُهَا فِي الإِسْلاَمِ إِلاَّ رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانٍ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ، أَوْ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ صلى الله عليه وسلم. فَقَالَ عَنْبَسَةُ حَدَّثَنَا أَنَسٌ بِكَذَا وَكَذَا. قُلْتُ إِيَّاىَ حَدَّثَ أَنَسٌ قَالَ قَدِمَ قَوْمٌ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَكَلَّمُوهُ فَقَالُوا قَدِ اسْتَوْخَمْنَا هَذِهِ الأَرْضَ. فَقَالَ " هَذِهِ نَعَمٌ لَنَا تَخْرُجُ، فَاخْرُجُوا فِيهَا، فَاشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ". فَخَرَجُوا فِيهَا فَشَرِبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا وَاسْتَصَحُّوا، وَمَالُوا عَلَى الرَّاعِي فَقَتَلُوهُ، وَاطَّرَدُوا النَّعَمَ، فَمَا يُسْتَبْطَأُ مِنْ هَؤُلاَءِ قَتَلُوا النَّفْسَ وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَخَوَّفُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ. فَقُلْتُ تَتَّهِمُنِي قَالَ حَدَّثَنَا بِهَذَا أَنَسٌ. قَالَ وَقَالَ يَا أَهْلَ كَذَا إِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا بِخَيْرٍ مَا أُبْقِيَ هَذَا فِيكُمْ أَوْ مِثْلُ هَذَا.
#4611
Narrated Anas (bin Malik):Ar-Rubai (the paternal aunt of Anas bin Malik) broke the incisor tooth of a young Ansari girl. Her family demanded the Qisas and they came to the Prophet (ﷺ) who passed the judgment of Qisas. Anas bin An-Nadr (the paternal uncle of Anas bin Malik) said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! By Allah, her tooth will not be broken." The Prophet (ﷺ) said, "O Anas! (The law prescribed in) Allah's Book is Qisas." But the people (i.e. the relatives of the girl) gave up their claim and accepted a compensation. On that Allah's Apostle said, "Some of Allah's worshippers are such that if they take an oath, Allah will fulfill it for them
مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو مروان بن معاویہ فزاری نے خبر دی، انہیں حمید طویل نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ربیع نے جو انس رضی اللہ عنہ کی پھوپھی تھیں، انصار کی ایک لڑکی کے آگے کے دانت توڑ دیئے۔ لڑکی والوں نے قصاص چاہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قصاص کا حکم دیا۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے چچا انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! ان کا دانت نہ توڑ ا جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انس! لیکن کتاب اللہ کا حکم قصاص ہی کا ہے۔ پھر لڑکی والے معافی پر راضی ہو گئے اور دیت لینا منظور کر لیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے بہت سے بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کا نام لے کر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم سچی کر دیتا ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَسَرَتِ الرُّبَيِّعُ ـ وَهْىَ عَمَّةُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَطَلَبَ الْقَوْمُ الْقِصَاصَ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْقِصَاصِ. فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ عَمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ لاَ وَاللَّهِ لاَ تُكْسَرْ سِنُّهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَنَسُ كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ ". فَرَضِيَ الْقَوْمُ وَقَبِلُوا الأَرْشَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ ".
#4612
Narrated `Aisha:Whoever tells that Muhammad concealed part of what was revealed to him, is a liar, for Allah says:-- "O Apostle (Muhammad)! Proclaim (the Message) which has been sent down to you from your Lord
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے شعبی نے، ان سے مسروق نے کہ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، جو شخص بھی تم سے یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ نازل کیا تھا، اس میں سے آپ نے کچھ چھپا لیا تھا، تو وہ جھوٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے «يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك» کہ ”اے پیغمبر! جو کچھ آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے، یہ ( سب ) آپ ( لوگوں تک ) پہنچا دیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم كَتَمَ شَيْئًا مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ، فَقَدْ كَذَبَ، وَاللَّهُ يَقُولُ {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ} الآيَةَ.
#4613
Narrated `Aisha:This Verse: "Allah will not punish you for what is unintentional in your oaths." (5.89) was revealed about a man's statement (during his talk), "No, by Allah," and "Yes, by Allah
ہم سے علی بن سلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ آیت «لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم» ”اللہ تم سے تمہاری فضول قسموں پر پکڑ نہیں کرتا۔“ کسی کے اس طرح قسم کھانے کے بارے میں نازل ہوئی تھی کہ نہیں، اللہ کی قسم، ہاں اللہ کی قسم!۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنِ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ} فِي قَوْلِ الرَّجُلِ لاَ وَاللَّهِ، وَبَلَى وَاللَّهِ.
#4614
Narrated Aisha:That her father (Abu Bakr) never broke his oath till Allah revealed the order of the legal expiation for oath. Abu Bakr said, "If I ever take an oath (to do something) and later find that to do something else is better, then I accept Allah's permission and do that which is better, (and do the legal expiation for my oath)
ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر بن شمیل نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا مجھ کو میرے والد نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ان کے والد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنی قسم کے خلاف کبھی نہیں کیا کرتے تھے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے قسم کے کفارہ کا حکم نازل کر دیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اب اگر اس کے ( یعنی جس کے لیے قسم کھا رکھی تھی ) سوا دوسری چیز مجھے اس سے بہتر معلوم ہوتی ہے تو میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی رخصت پر عمل کرتا ہوں اور وہی کام کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ أَبَاهَا، كَانَ لاَ يَحْنَثُ فِي يَمِينٍ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ كَفَّارَةَ الْيَمِينِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ لاَ أَرَى يَمِينًا أُرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلاَّ قَبِلْتُ رُخْصَةَ اللَّهِ، وَفَعَلْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ.
#4615
Narrated `Abdullah:We used to participate in the holy wars carried on by the Prophet (ﷺ) and we had no women (wives) with us. So we said (to the Prophet (ﷺ) ). "Shall we castrate ourselves?" But the Prophet (ﷺ) forbade us to do that and thenceforth he allowed us to marry a woman (temporarily) by giving her even a garment, and then he recited: "O you who believe! Do not make unlawful the good things which Allah has made lawful for you
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ طحان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو کر جہاد کیا کرتے تھے اور ہمارے ساتھ ہماری بیویاں نہیں ہوتی تھیں۔ اس پر ہم نے عرض کیا کہ ہم اپنے آپ کو خصی کیوں نہ کر لیں۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے روک دیا اور اس کے بعد ہمیں اس کی اجازت دی کہ ہم کسی عورت سے کپڑے ( یا کسی بھی چیز ) کے بدلے میں نکاح کر سکتے ہیں۔ پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی «يا أيها الذين آمنوا لا تحرموا طيبات ما أحل الله لكم» ”اے ایمان والو! اپنے اوپر ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ کرو جو اللہ نے تمہارے لیے جائز کی ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، رضى الله عنه قَالَ كُنَّا نَغْزُو مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلَيْسَ مَعَنَا نِسَاءٌ فَقُلْنَا أَلاَ نَخْتَصِي فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ، فَرَخَّصَ لَنَا بَعْدَ ذَلِكَ أَنْ نَتَزَوَّجَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ، ثُمَّ قَرَأَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ }
#4616
Narrated Ibn `Umar:(The Verse of) prohibiting alcoholic drinks was revealed when there were in Medina five kinds of (alcoholic) drinks none of which was produced from grapes
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن بشر نے خبر دی، ان سے عبدالعزیز بن عمر بن عبدالعزیز نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو مدینہ میں اس وقت پانچ قسم کی شراب استعمال ہوتی تھی۔ لیکن انگوری شراب کا استعمال نہیں ہوتا تھا ( بہرحال وہ بھی حرام قرار پائی ) ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَإِنَّ فِي الْمَدِينَةِ يَوْمَئِذٍ لَخَمْسَةَ أَشْرِبَةٍ، مَا فِيهَا شَرَابُ الْعِنَبِ.
#4617
Narrated Anas bin Malik:We had no alcoholic drink except that which was produced from dates and which you call Fadikh. While I was standing offering drinks to Abu Talha and so-and-so and so-and-so, a man came and said, "Has the news reached you? They said, "What is that?" He said, "Alcoholic drinks have been prohibited. They said, "Spill (the contents of these pots, O Anas!" Then they neither asked about it (alcoholic drinks) nor returned to it after the news from that man
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن علیہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہم لوگ تمہاری «فضيخ» ( کھجور سے بنائی ہوئی شراب ) کے سوا اور کوئی شراب استعمال نہیں کرتے تھے، یہی جس کا نام تم نے «فضيخ» رکھ رکھا ہے۔ میں کھڑا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو پلا رہا تھا اور فلاں اور فلاں کو، کہ ایک صاحب آئے اور کہا: تمہیں کچھ خبر بھی ہے؟ لوگوں نے پوچھا کیا بات ہے؟ انہوں نے بتایا کہ شراب حرام قرار دی جا چکی ہے۔ فوراً ہی ان لوگوں نے کہا: انس رضی اللہ عنہ اب ان شراب کے مٹکوں کو بہا دو۔ انہوں نے بیان کیا کہ ان کی اطلاع کے بعد ان لوگوں نے اس میں سے ایک قطرہ بھی نہ مانگا اور نہ پھر اس کا استعمال کیا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ مَا كَانَ لَنَا خَمْرٌ غَيْرُ فَضِيخِكُمْ هَذَا الَّذِي تُسَمُّونَهُ الْفَضِيخَ. فَإِنِّي لَقَائِمٌ أَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ وَفُلاَنًا وَفُلاَنًا إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ وَهَلْ بَلَغَكُمُ الْخَبَرُ فَقَالُوا وَمَا ذَاكَ قَالَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ. قَالُوا أَهْرِقْ هَذِهِ الْقِلاَلَ يَا أَنَسُ. قَالَ فَمَا سَأَلُوا عَنْهَا وَلاَ رَاجَعُوهَا بَعْدَ خَبَرِ الرَّجُلِ.
#4618
Narrated Jabir:Some people drank alcoholic beverages in the morning (of the day) of the Uhud battle and on the same day they were killed as martyrs, and that was before wine was prohibited
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی، انہیں عمرو نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ احد میں بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم نے صبح صبح شراب پی تھی اور اسی دن وہ سب شہید کر دیئے گئے تھے۔ اس وقت شراب حرام نہیں ہوئی تھی ( اس لیے وہ گنہگار نہیں ٹھہرے ) ۔
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ صَبَّحَ أُنَاسٌ غَدَاةَ أُحُدٍ الْخَمْرَ فَقُتِلُوا مِنْ يَوْمِهِمْ جَمِيعًا شُهَدَاءَ، وَذَلِكَ قَبْلَ تَحْرِيمِهَا.
#4619
Narrated Ibn `Umar:I heard `Umar while he was on the pulpit of the Prophet (ﷺ) saying, "Now then O people! The revelation about the prohibition of alcoholic drinks was revealed; and alcoholic drinks are extracted from five things: Grapes, dates, honey, wheat and barley. And the alcoholic drink is that which confuses and stupefies the mind
ہم سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عیسیٰ اور ابن ادریس نے خبر دی، انہیں ابوحیان نے، انہیں شعبی نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر کھڑے فرما رہے تھے۔ امابعد! اے لوگو! جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو وہ پانچ چیزوں سے تیار کی جاتی تھی۔ انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جَو سے اور شراب ہر وہ پینے کی چیز ہے جو عقل کو زائل کر دے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، وَابْنُ، إِدْرِيسَ عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ عَلَى مِنْبَرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَهْىَ مِنْ خَمْسَةٍ، مِنَ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ، وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ.
#4620
Narrated Anas:The alcoholic drink which was spilled was Al-Fadikh. I used to offer alcoholic drinks to the people at the residence of Abu Talha. Then the order of prohibiting Alcoholic drinks was revealed, and the Prophet ordered somebody to announce that: Abu Talha said to me, "Go out and see what this voice (this announcement ) is." I went out and (on coming back) said, "This is somebody announcing that alcoholic beverages have been prohibited." Abu Talha said to me, "Go and spill it (i.e. the wine)," Then it (alcoholic drinks) was seen flowing through the streets of Medina. At that time the wine was Al-Fadikh. The people said, "Some people (Muslims) were killed (during the battle of Uhud) while wine was in their stomachs." So Allah revealed: "On those who believe and do good deeds there is no blame for what they ate (in the past)
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، کہا ہم سے ثابت نے، ان سے انس بن مالک نے کہ ( حرمت نازل ہونے کے بعد ) جو شراب بہائی گئی تھی وہ «فضيخ.» کی تھی۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ مجھ سے محمد نے ابوالنعمان سے اس زیادتی کے ساتھ بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں صحابہ کی ایک جماعت کو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر شراب پلا رہا تھا کہ شراب کی حرمت نازل ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کو حکم دیا اور انہوں نے اعلان کرنا شروع کیا۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: باہر جا کے دیکھو یہ آواز کیسی ہے۔ بیان کیا کہ میں باہر آیا اور کہا کہ ایک منادی اعلان کر رہا ہے کہ ”خبردار ہو جاؤ، شراب حرام ہو گئی ہے۔“ یہ سنتے ہی انہوں نے مجھ کو کہا کہ جاؤ اور شراب بہا دو۔ راوی نے بیان کیا، مدینہ کی گلیوں میں شراب بہنے لگی۔ راوی نے بیان کیا کہ ان دنوں «فضيخ.» شراب استعمال ہوتی تھی۔ بعض لوگوں نے شراب کو جو اس طرح بہتے دیکھا تو کہنے لگے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں نے شراب سے اپنا پیٹ بھر رکھا تھا اور اسی حالت میں انہیں قتل کر دیا گیا ہے۔ بیان کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا» ”جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور نیک کام کرتے رہتے ہیں، ان پر اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جس کو انہوں نے کھا لیا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ الْخَمْرَ، الَّتِي أُهْرِيقَتِ الْفَضِيخُ. وَزَادَنِي مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ قَالَ كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ فِي مَنْزِلِ أَبِي طَلْحَةَ فَنَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى. فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ اخْرُجْ فَانْظُرْ مَا هَذَا الصَّوْتُ قَالَ فَخَرَجْتُ فَقُلْتُ هَذَا مُنَادٍ يُنَادِي أَلاَ إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ. فَقَالَ لِي اذْهَبْ فَأَهْرِقْهَا. قَالَ فَجَرَتْ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ. قَالَ وَكَانَتْ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ الْفَضِيخَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ قُتِلَ قَوْمٌ وَهْىَ فِي بُطُونِهِمْ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا}.
#4621
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) delivered a sermon the like of which I had never heard before. He said, "If you but knew what I know then you would have laughed little and wept much." On hearing that, the companions of the Prophet (ﷺ) covered their faces and the sound of their weeping was heard. A man said, "Who is my father?" The Prophet (ﷺ) said, "So-and-so." So this Verse was revealed: "Ask not about things which, if made plain to you, may cause you trouble
ہم سے منذر بن ولید بن عبدالرحمٰن جارودی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن انس نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا خطبہ دیا کہ میں نے ویسا خطبہ کبھی نہیں سنا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تمہیں بھی معلوم ہوتا تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنے چہرے چھپا لیے، باوجود ضبط کے ان کے رونے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ ایک صحابی نے اس موقع پر پوچھا: میرے والد کون ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم» کہ ”ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں۔“ اس کی روایت نضر اور روح بن عبادہ نے شعبہ سے کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَارُودِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خُطْبَةً مَا سَمِعْتُ مِثْلَهَا قَطُّ، قَالَ " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ". قَالَ فَغَطَّى أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وُجُوهَهُمْ لَهُمْ خَنِينٌ، فَقَالَ رَجُلٌ مَنْ أَبِي قَالَ فُلاَنٌ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ}. رَوَاهُ النَّضْرُ وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ عَنْ شُعْبَةَ.
#4622
Narrated Ibn `Abbas:Some people were asking Allah's Messenger (ﷺ) questions mockingly. A man would say, "Who is my father?" Another man whose she-camel had gone astray would say, "Where is my she-camel? "So Allah revealed this Verse in this connection: "O you who believe! Ask not about things which, if made plain to you, may cause you trouble
ہم سے فضل بن سہل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالنضر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوخیثمہ نے بیان کیا، ان سے ابوجویریہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بعض لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذاقاً سوالات کیا کرتے تھے۔ کوئی شخص یوں پوچھتا کہ میرا باپ کون ہے؟ کسی کی اگر اونٹنی گم ہو جاتی تو وہ یہ پوچھتے کہ میری اونٹنی کہاں ہو گی؟ ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم» کہ ”اے ایمان والو! ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار گزرے۔“ یہاں تک کہ پوری آیت پڑھ کر سنائی۔
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجُوَيْرِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ قَوْمٌ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتِهْزَاءً، فَيَقُولُ الرَّجُلُ مَنْ أَبِي وَيَقُولُ الرَّجُلُ تَضِلُّ نَاقَتُهُ أَيْنَ نَاقَتِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِمْ هَذِهِ الآيَةَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} حَتَّى فَرَغَ مِنَ الآيَةِ كُلِّهَا.
#4623
Narrated Sa`id bin Al-Musaiyab:Bahira is a she-camel whose milk is kept for the idols and nobody is allowed to milk it; Sa'iba was the she-camel which they used to set free for their gods and nothing was allowed to be carried on it. Abu Huraira said: Allah's Messenger (ﷺ) said, "I saw `Amr bin 'Amir Al-Khuza`i (in a dream) dragging his intestines in the Fire, and he was the first person to establish the tradition of setting free the animals (for the sake of their deities)," Wasila is the she-camel which gives birth to a she-camel as its first delivery, and then gives birth to another she-camel as its second delivery. People (in the Pre-Islamic periods of ignorance) used to let that she camel loose for their idols if it gave birth to two she-camels successively without giving birth to a male camel in between. 'Ham' was the male camel which was used for copulation. When it had finished the number of copulations assigned for it, they would let it loose for their idols and excuse it from burdens so that nothing would be carried on it, and they called it the 'Hami.' Abu Huraira said, "I heard the Prophet (ﷺ) saying so
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ «بحيرة» اس اونٹنی کو کہتے تھے جس کا دودھ بتوں کے لیے روک دیا جاتا اور کوئی شخص اس کے دودھ کو دوہنے کا مجاز نہ سمجھا جاتا اور «سائبة» اس اونٹنی کو کہتے تھے جسے وہ اپنے دیوتاؤں کے نام پر آزاد چھوڑ دیتے اور اس سے باربرداری و سواری وغیرہ کا کام نہ لیتے۔ سعید راوی نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتوں کو جہنم میں گھسیٹ رہا تھا، اس نے سب سے پہلے سانڈ چھوڑنے کی رسم نکالی تھی۔ اور «وصيلة» اس جوان اونٹنی کو کہتے تھے جو پہلی مرتبہ مادہ بچہ جنتی اور پھر دوسری مرتبہ بھی مادہ ہی جنتی، اسے بھی وہ بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے لیکن اسی صورت میں جبکہ وہ برابر دو مرتبہ مادہ بچہ جنتی اور اس درمیان میں کوئی نر بچہ نہ ہوتا۔ اور «حام» وہ نر اونٹ جو مادہ پر شمار سے کئی دفعہ چڑھتا ( اس کے نطفے سے دس بچے پیدا ہو جاتے ) جب وہ اتنی صحبتیں کر چکتا تو اس کو بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے اور بوجھ لادنے سے معاف کر دیتے ( نہ سواری کرتے ) اس کا نام «حام» رکھتے اور ابوالیمان ( حکم بن نافع ) نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہوں نے زہری سے سنا، کہا میں نے سعید بن مسیب سے یہی حدیث سنی جو اوپر گزری۔ سعید نے کہا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ( وہی عمرو بن عامر خزاعی کا قصہ جو اوپر گزرا ) اور یزید بن عبداللہ بن ہاد نے بھی اس حدیث کو ابن شہاب سے روایت کیا۔ انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ الْبَحِيرَةُ الَّتِي يُمْنَعُ دَرُّهَا لِلطَّوَاغِيتِ فَلاَ يَحْلُبُهَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ. وَالسَّائِبَةُ كَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لآلِهَتِهِمْ لاَ يُحْمَلُ عَلَيْهَا شَىْءٌ. قَالَ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، كَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ ". وَالْوَصِيلَةُ النَّاقَةُ الْبِكْرُ تُبَكِّرُ فِي أَوَّلِ نِتَاجِ الإِبِلِ، ثُمَّ تُثَنِّي بَعْدُ بِأُنْثَى. وَكَانُوا يُسَيِّبُونَهُمْ لِطَوَاغِيتِهِمْ إِنْ وَصَلَتْ إِحْدَاهُمَا بِالأُخْرَى لَيْسَ بَيْنَهُمَا ذَكَرٌ. وَالْحَامِ فَحْلُ الإِبِلِ يَضْرِبُ الضِّرَابَ الْمَعْدُودَ، فَإِذَا قَضَى ضِرَابَهُ وَدَعُوهُ لِلطَّوَاغِيتِ وَأَعْفَوْهُ مِنَ الْحَمْلِ فَلَمْ يُحْمَلْ عَلَيْهِ شَىْءٌ وَسَمَّوْهُ الْحَامِيَ. وَقَالَ لي أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، سَمِعْتُ سَعِيدًا، قَالَ يُخْبِرُهُ بِهَذَا قَالَ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ. وَرَوَاهُ ابْنُ الْهَادِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم.
#4624
Narrated Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) said, "I saw Hell and its different portions were consuming each other and saw `Amr dragging his intestines (in it), and he was the first person to establish the tradition of letting animals loose (for the idols)
مجھ سے محمد بن ابی یعقوب ابوعبداللہ کرمانی نے بیان کیا، کہا ہم سے حسان بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جہنم کو دیکھا کہ اس کے بعض حصے بعض دوسرے حصوں کو کھائے جا رہے ہیں اور میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتیں اس میں گھسیٹا پھر رہا تھا۔ یہی وہ شخص ہے جس نے سب سے پہلے سانڈ چھوڑنے کی رسم ایجاد کی تھی۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْكَرْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَرَأَيْتُ عَمْرًا يَجُرُّ قُصْبَهُ، وَهْوَ أَوَّلُ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ ".
#4625
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) delivered a sermon and said, "O people! You will be gathered before Allah barefooted, naked and not circumcised." Then (quoting Qur'an) he said:-- "As We began the first creation, We shall repeat it. A promise We have undertaken: Truly We shall do it.." (21.104) The Prophet (ﷺ) then said, "The first of the human beings to be dressed on the Day of Resurrection, will be Abraham. Lo! Some men from my followers will be brought and then (the angels) will drive them to the left side (Hell-Fire). I will say. 'O my Lord! (They are) my companions!' Then a reply will come (from the Almighty), 'You do not know what they did after you.' I will say as the pious slave (the Prophet Jesus (ﷺ)) said: And I was a witness over them while I dwelt amongst them. When You took me up, You were the Watcher over them and You are a Witness to all things.' (5.117) Then it will be said, "These people have continued to be apostates since you left them
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم کو مغیرہ بن نعمان نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ اے لوگو! تم اللہ کے پاس جمع کئے جاؤ گے، ننگے پاؤں ننگے جسم اور بغیر ختنہ کے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «كما بدأنا أول خلق نعيده وعدا علينا إنا كنا فاعلين» ”جس طرح ہم نے اول بار پیدا کرنے کے وقت ابتداء کی تھی، اسی طرح اسے دوبارہ زندہ کر دیں گے، ہمارے ذمہ وعدہ ہے، ہم ضرور اسے کر کے ہی رہیں گے۔“ آخر آیت تک۔ پھر فرمایا قیامت کے دن تمام مخلوق میں سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو کپڑا پہنایا جائے گا۔ ہاں اور میری امت کے کچھ لوگوں کو لایا جائے گا اور انہیں جہنم کی بائیں طرف لے جایا جائے گا۔ میں عرض کروں گا، میرے رب! یہ تو میرے امتی ہیں؟ مجھ سے کہا جائے گا، آپ کو نہیں معلوم ہے کہ انہوں نے آپ کے بعد نئی نئی باتیں شریعت میں نکالی تھیں۔ اس وقت میں بھی وہی کہوں گا جو عبد صالح عیسیٰ علیہ السلام نے کہا ہو گا «وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم فلما توفيتني كنت أنت الرقيب عليهم» کہ ”میں ان کا حال دیکھتا رہا جب تک میں ان کے درمیان رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا ( جب سے ) تو ہی ان پر نگراں ہے۔“ مجھے بتایا جائے گا کہ آپ کی جدائی کے بعد یہ لوگ دین سے پھر گئے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ إِلَى اللَّهِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلاً ـ ثُمَّ قَالَ ـ {كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ ـ ثُمَّ قَالَ ـ أَلاَ وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلاَئِقِ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ، أَلاَ وَإِنَّهُ يُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَأَقُولُ يَا رَبِّ أُصَيْحَابِي. فَيُقَالُ إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ. فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ {وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ} فَيُقَالُ إِنَّ هَؤُلاَءِ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ ".