#4526
Narrated Nafi`:Whenever Ibn `Umar recited the Qur'an, he would not speak to anyone till he had finished his recitation. Once I held the Qur'an and he recited Surat-al-Baqara from his memory and then stopped at a certain Verse and said, "Do you know in what connection this Verse was revealed? " I replied, "No." He said, "It was revealed in such-and-such connection." Ibn `Umar then resumed his recitation. Nafi` added regarding the Verse:--"So go to your tilth when or how you will" Ibn `Umar said, "It means one should approach his wife in
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ لَمْ يَتَكَلَّمْ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهُ، فَأَخَذْتُ عَلَيْهِ يَوْمًا، فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَكَانٍ قَالَ تَدْرِي فِيمَا أُنْزِلَتْ. قُلْتُ لاَ. قَالَ أُنْزِلَتْ فِي كَذَا وَكَذَا. ثُمَّ مَضَى. وَعَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، {فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} قَالَ يَأْتِيهَا فِي. رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
#4527
Narrated Nafi`:Whenever Ibn `Umar recited the Qur'an, he would not speak to anyone till he had finished his recitation. Once I held the Qur'an and he recited Surat-al-Baqara from his memory and then stopped at a certain Verse and said, "Do you know in what connection this Verse was revealed? " I replied, "No." He said, "It was revealed in such-and-such connection." Ibn `Umar then resumed his recitation. Nafi` added regarding the Verse:--"So go to your tilth when or how you will" Ibn `Umar said, "It means one should approach his wife in
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ لَمْ يَتَكَلَّمْ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهُ، فَأَخَذْتُ عَلَيْهِ يَوْمًا، فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَكَانٍ قَالَ تَدْرِي فِيمَا أُنْزِلَتْ. قُلْتُ لاَ. قَالَ أُنْزِلَتْ فِي كَذَا وَكَذَا. ثُمَّ مَضَى. وَعَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، {فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} قَالَ يَأْتِيهَا فِي. رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
#4528
Narrated Jabir:Jews used to say: "If one has sexual intercourse with his wife from the back, then she will deliver a squint-eyed child." So this Verse was revealed:-- "Your wives are a tilth unto you; so go to your tilth when or how you will
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ یہودی کہتے تھے کہ اگر عورت سے ہمبستری کے لیے کوئی پیچھے سے آئے گا تو بچہ بھینگا پیدا ہو گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» کہ ”تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں، سو اپنے کھیت میں آؤ جدھر سے چاہو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعْتُ جَابِرًا ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَتِ الْيَهُودُ تَقُولُ إِذَا جَامَعَهَا مِنْ وَرَائِهَا جَاءَ الْوَلَدُ أَحْوَلَ. فَنَزَلَتْ {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ}
#4529
Narrated Al-Hasan:The sister of Ma'qil bin Yasar was divorced by her husband who left her till she had fulfilled her term of 'Iddat (i.e. the period which should elapse before she can Remarry) and then he wanted to remarry her but Ma'qil refused, so this Verse was revealed:-- "Do not prevent them from marrying their (former) husbands
ہم سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر عقدی نے بیان کیا، کہا ہم سے عباد بن راشد نے بیان کیا، کہا ہم سے حسن نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میری ایک بہن تھیں۔ ان کو ان کے اگلے خاوند نے نکاح کا پیغام دیا۔ ( دوسری سند ) اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے امام حسن بصری نے اور ان سے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ ( تیسری سند ) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا اور ان سے امام حسن بصری نے کہ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بہن کو ان کے شوہر نے طلاق دے دی تھی لیکن جب عدت گزر گئی اور طلاق بائن ہو گئی تو انہوں نے پھر ان کے لیے پیغام نکاح بھیجا۔ معقل رضی اللہ عنہ نے اس پر انکار کیا، مگر عورت چاہتی تھی تو یہ آیت نازل ہوئی «فلا تعضلوهن أن ينكحن أزواجهن» کہ ”تم انہیں اس سے مت روکو کہ وہ اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کریں۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ كَانَتْ لِي أُخْتٌ تُخْطَبُ إِلَىَّ. وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ،. حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ أُخْتَ، مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا، فَتَرَكَهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، فَخَطَبَهَا فَأَبَى مَعْقِلٌ، فَنَزَلَتْ {فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ}.
#4530
Narrated Ibn Az-Zubair:I said to `Uthman bin `Affan (while he was collecting the Qur'an) regarding the Verse:-- "Those of you who die and leave wives ..." (2.240) "This Verse was abrogated by another Verse. So why should you write it? (Or leave it in the Qur'an)?" `Uthman said. "O son of my brother! I will not shift anything of it from its place
ہم سے امیہ بن بسطام نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے، ان سے حبیب نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے آیت «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا» یعنی ”اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں۔“ کے متعلق عثمان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اس آیت کو دوسری آیت نے منسوخ کر دیا ہے۔ اس لیے آپ اسے ( مصحف میں ) نہ لکھیں یا ( یہ کہا کہ ) نہ رہنے دیں۔ اس پر عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بیٹے! میں ( قرآن کا ) کوئی حرف اس کی جگہ سے نہیں ہٹا سکتا۔
حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ قُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا} قَالَ قَدْ نَسَخَتْهَا الآيَةُ الأُخْرَى فَلِمَ تَكْتُبُهَا أَوْ تَدَعُهَا قَالَ يَا ابْنَ أَخِي، لاَ أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْهُ مِنْ مَكَانِهِ.
#4531
Narrated Mujahi:(regarding the Verse):-- "Those of you who die and leave wives behind. They - (their wives) -- shall wait (as regards their marriage ) for four months and ten days)." (2.234) The widow, according to this Verse, was to spend this period of waiting with her husband's family, so Allah revealed: "Those of you who die and leave wives (i.e. widows) should bequeath for their wives, a year's maintenance and residence without turning them out, but if they leave (their residence), there is no blame on you for what they do with themselves provided it is honorable.' (i.e. lawful marriage) (2.240). So Allah entitled the widow to be bequeathed extra maintenance for seven months and twenty nights, and that is the completion of one year. If she wished she could stay (in her husband's home) according to the will, and she could leave it if she wished, as Allah says: "..without turning them out, but if they leave (the residence), there is no blame on you." So the 'Idda (i.e. four months and ten days as it) is obligatory for her. 'Ata said: Ibn `Abbas said, "This Verse, i.e. the Statement of Allah: "..without turning them out.." cancelled the obligation of staying for the waiting period in her dead husband's house, and she can complete this period wherever she likes." 'Ata' said: If she wished, she could complete her 'Idda by staying in her dead husband's residence according to the will or leave it according to Allah's Statement:-- "There is no blame on you for what they do with themselves." `Ata' added: Later the regulations of inheritance came and abrogated the order of the dwelling of the widow (in her dead husband's house), so she could complete the 'Idda wherever she likes. And it was no longer necessary to provide her with a residence. Ibn `Abbas said, "This Verse abrogated her (i.e. widow's) dwelling in her dead husband's house and she could complete the 'Idda (i.e. four months and ten days) wherever she liked, as Allah's Statement says:--"...without turning them out
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شبل بن عباد نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے اور انہوں نے مجاہد سے آیت «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا» ”اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں۔“ کے بارے میں ( زمانہ جاہلیت کی طرح ) کہا کہ عدت ( یعنی چار مہینے دس دن کی ) تھی جو شوہر کے گھر عورت کو گزارنی ضروری تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج فإن خرجن فلا جناح عليكم فيما فعلن في أنفسهن من معروف» ”اور جو لوگ تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں ان کو چاہیے کہ اپنی بیویوں کے حق میں نفع اٹھانے کی وصیت ( کر جائیں ) کہ وہ ایک سال تک گھر سے نہ نکالی جائیں، لیکن اگر وہ ( خود ) نکل جائیں تو کوئی گناہ تم پر نہیں۔ اگر وہ دستور کے موافق اپنے لیے کوئی کام کریں۔“ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کے لیے سات مہینے اور بیس دن وصیت کے قرار دیئے کہ اگر وہ اس مدت میں چاہے تو اپنے لیے وصیت کے مطابق ( شوہر کے گھر میں ہی ) ٹھہرے اور اگر چاہے تو کہیں اور چلی جائے کہ اگر ایسی عورت کہیں اور چلی جائے تو تمہارے حق میں کوئی گناہ نہیں۔ پس عدت کے ایام تو وہی ہیں جنہیں گزارنا اس پر ضروری ہے ( یعنی چار مہینے دس دن ) ۔ شبل نے کہا ابن ابی نجیح نے مجاہد سے ایسا ہی نقل کیا ہے اور عطا بن ابی رباح نے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا، اس آیت نے اس رسم کو منسوخ کر دیا کہ عورت اپنے خاوند کے گھر والوں کے پاس عدت گزارے۔ اس آیت کی رو سے عورت کو اختیار ملا جہاں چاہے وہاں عدت گزارے اور اللہ پاک کے قول «غير إخراج» کا یہی مطلب ہے۔ عطا نے کہا، عورت اگر چاہے تو اپنے خاوند کے گھر والوں میں عدت گزارے اور خاوند کی وصیت کے موافق اسی کے گھر میں رہے اور اگر چاہے تو وہاں سے نکل جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «فلا جناح عليكم فيما فعلن» ”اگر وہ نکل جائیں تو دستور کے موافق اپنے حق میں جو بات کریں اس میں کوئی گناہ تم پر نہ ہو گا۔“ عطاء نے کہا کہ پھر میراث کا حکم نازل ہوا جو سورۃ نساء میں ہے اور اس نے ( عورت کے لیے ) گھر میں رکھنے کے حکم کو منسوخ قرار دیا۔ اب عورت جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے۔ اسے مکان کا خرچہ دینا ضروری نہیں اور محمد بن یوسف نے روایت کیا، ان سے ورقاء بن عمرو نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے اور ان سے مجاہد نے، یہی قول بیان کیا اور فرزندان ابن ابی نجیح سے نقل کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس آیت نے صرف شوہر کے گھر میں عدت کے حکم کو منسوخ قرار دیا ہے۔ اب وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «غير إخراج» وغیرہ سے ثابت ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا شِبْلٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا} قَالَ كَانَتْ هَذِهِ الْعِدَّةُ تَعْتَدُّ عِنْدَ أَهْلِ زَوْجِهَا وَاجِبٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ} قَالَ جَعَلَ اللَّهُ لَهَا تَمَامَ السَّنَةِ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَصِيَّةً، إِنْ شَاءَتْ سَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ، وَهْوَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى {غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ} فَالْعِدَّةُ كَمَا هِيَ وَاجِبٌ عَلَيْهَا. زَعَمَ ذَلِكَ عَنْ مُجَاهِدٍ. وَقَالَ عَطَاءٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَسَخَتْ هَذِهِ الآيَةُ عِدَّتَهَا عِنْدَ أَهْلِهَا، فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ، وَهْوَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى {غَيْرَ إِخْرَاجٍ}. قَالَ عَطَاءٌ إِنْ شَاءَتِ اعْتَدَّتْ عِنْدَ أَهْلِهِ وَسَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ}. قَالَ عَطَاءٌ ثُمَّ جَاءَ الْمِيرَاثُ فَنَسَخَ السُّكْنَى فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ، وَلاَ سُكْنَى لَهَا. وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ بِهَذَا. وَعَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَسَخَتْ هَذِهِ الآيَةُ عِدَّتَهَا فِي أَهْلِهَا، فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ لِقَوْلِ اللَّهِ {غَيْرَ إِخْرَاجٍ} نَحْوَهُ.
#4532
Narrated Muhammad bin Seereen:I sat in a gathering in which the chiefs of the Ansar were present, and `Abdur-Rahman bin Abu Laila was amongst them. I mentioned the narration of `Abdullah bin `Utba regarding the question of Subai'a bint Al-Harith. `Abdur-Rahman said, "But `Abdullah's uncle used not to say so." I said, "I am too brave if I tell a lie concerning a person who is now in Al-Kufa," and I raised my voice. Then I went out and met Malik bin 'Amir or Malik bin `Auf, and said, "What was the verdict of Ibn Mas`ud about the pregnant widow whose husband had died?" He replied, "Ibn Mas`ud said, 'Why do you impose on her the hard order and don't let her make use of the leave? The shorter Sura of women (i.e. Surat-at- Talaq) was revealed after the longer Sura (i.e. Surat-al-Baqara)." (i.e. Her 'Idda is until she delivers)
ہم سے حبان بن موسیٰ مروزی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے، کہا ہم کو عبداللہ بن عون نے خبر دی، ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ میں انصار کی ایک مجلس میں حاضر ہوا۔ بڑے بڑے انصاری وہاں موجود تھے اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ بھی موجود تھے۔ میں نے وہاں سبیعہ بنت حارث کے باب سے متعلق عبداللہ بن عتبہ کی حدیث کا ذکر کیا۔ عبدالرحمٰن نے کہا لیکن عبداللہ بن عتبہ کے چچا ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) ایسا نہیں کہتے تھے۔ ( محمد بن سیرین نے کہا ) کہ میں نے کہا کہ پھر تو میں نے ایک ایسے بزرگ عبداللہ بن عتبہ کے متعلق جھوٹ بولنے میں دلیری کی ہے کہ جو کوفہ میں ابھی زندہ موجود ہیں۔ میری آواز بلند ہو گئی تھی۔ ابن سیرین نے کہا کہ پھر جب میں باہر نکلا تو راستے میں مالک بن عامر یا مالک بن عوف سے ملاقات ہو گئی۔ ( راوی کو شک ہے کہ یہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے رفیقوں میں سے تھے ) میں نے ان سے پوچھا کہ جس عورت کے شوہر کا انتقال ہو جائے اور وہ حمل سے ہو تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس کی عدت کے متعلق کیا فتویٰ دیتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ تم لوگ اس حاملہ پر سختی کے متعلق کیوں سوچتے ہو اس پر آسانی نہیں کرتے ( اس کو لمبی ) عدت کا حکم دیتے ہو۔ سورۃ نساء چھوٹی ( سورۃ الطلاق ) لمبی سورۃ نساء کے بعد نازل ہوئی ہے اور ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے کہ میں ابوعطیہ مالک بن عامر سے ملا۔
حَدَّثَنَا حِبَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ جَلَسْتُ إِلَى مَجْلِسٍ فِيهِ عُظْمٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَفِيهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، فَذَكَرْتُ حَدِيثَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ فِي شَأْنِ سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَلَكِنَّ عَمَّهُ كَانَ لاَ يَقُولُ ذَلِكَ. فَقُلْتُ إِنِّي لَجَرِيءٌ إِنْ كَذَبْتُ عَلَى رَجُلٍ فِي جَانِبِ الْكُوفَةِ. وَرَفَعَ صَوْتَهُ، قَالَ ثُمَّ خَرَجْتُ فَلَقِيتُ مَالِكَ بْنَ عَامِرٍ أَوْ مَالِكَ بْنَ عَوْفٍ قُلْتُ كَيْفَ كَانَ قَوْلُ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَهْىَ حَامِلٌ فَقَالَ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَتَجْعَلُونَ عَلَيْهَا التَّغْلِيظَ، وَلاَ تَجْعَلُونَ لَهَا الرُّخْصَةَ لَنَزَلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ الطُّولَى. وَقَالَ أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ لَقِيتُ أَبَا عَطِيَّةَ مَالِكَ بْنَ عَامِرٍ.
#4533
Narrated `Ali (through two chains):On the day of Al-Khandaq (the battle of the Trench). the Prophet (ﷺ) said, "They (i.e. pagans prevented us from offering the middle (the Best) Prayer till the sun had set. May Allah fill their graves, their houses (or their bodies) with fire
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حسان نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے، ان سے عبیدہ نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ( دوسری سند ) امام بخاری نے کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن بشیر بن حکم نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حسان نے، کہا کہ مجھ سے محمد بن سیرین نے بیان کیا، ان سے عبیدہ بن عمرو نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے موقع پر فرمایا تھا، ان کفار نے ہمیں درمیانی نماز نہیں پڑھنے دی، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، اللہ ان کی قبروں اور گھروں کو یا ان کے پیٹوں کو آگ سے بھر دے۔ قبروں اور گھروں یا پیٹوں کے لفظوں میں شک یحییٰ بن سعید راوی کی طرف سے ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم. حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ هِشَامٌ حَدَّثَنَا قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ " حَبَسُونَا عَنْ صَلاَةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ مَلأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ أَوْ أَجْوَافَهُمْ ـ شَكَّ يَحْيَى ـ نَارًا ".
#4534
Narrated Zaid bin Arqam:We used to speak while in prayer. One of us used to speak to his brother (while in prayer) about his need, till the Verse was revealed:-- "Guard strictly the (five obligatory) prayers, especially the middle (the Best) (`Asr) Prayer and stand before Allah with obedience (and not to speak to others during the prayers)." Then we were ordered not to speak in the prayers
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے حارث بن شبل نے، ان سے ابوعمرو شیبانی نے اور ان سے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پہلے ہم نماز پڑھتے ہوئے بات بھی کر لیا کرتے تھے، کوئی بھی شخص اپنے دوسرے بھائی سے اپنی کسی ضرورت کے لیے بات کر لیتا تھا۔ یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين» ”سب ہی نمازوں کی پابندی رکھو اور خاص طور پر بیچ والی نماز کی اور اللہ کے سامنے فرماں برداروں کی طرح کھڑے ہوا کرو۔“ اس آیت کے ذریعہ ہمیں نماز میں چپ رہنے کا حکم دیا گیا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلاَةِ يُكَلِّمُ أَحَدُنَا أَخَاهُ فِي حَاجَتِهِ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ.
#4535
Narrated Nafi`:Whenever `Abdullah bin `Umar was asked about Salat-al-Khauf (i.e. prayer of fear) he said, "The Imam comes forward with a group of people and leads them in a one rak`a prayer while another group from them who has not prayed yet, stay between the praying group and the enemy. When those who are with the Imam have finished their one rak`a, they retreat and take the positions of those who have not prayed but they will not finish their prayers with Taslim. Those who have not prayed, come forward to offer a rak`a with the Imam (while the first group covers them from the enemy). Then the Imam, having offered two rak`at, finishes his prayer. Then each member of the two groups offer the second rak`a alone after the Imam has finished his prayer. Thus each one of the two groups will have offered two rak`at. But if the fear is too great, they can pray standing on their feet or riding on their mounts, facing the Qibla or not." Nafi` added: I do not think that `Abdullah bin `Umar narrated this except from Allah's Messenger (ﷺ) (See Hadith No. 451, Vol 5 to know exactly "The Fear Prayer)
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نماز خوف کے متعلق پوچھا جاتا تو وہ فرماتے کہ امام مسلمانوں کی ایک جماعت کو لے کر خود آگے بڑھے اور انہیں ایک رکعت نماز پڑھائے۔ اس دوران میں مسلمانوں کی دوسری جماعت ان کے اور دشمن کے درمیان میں رہے۔ یہ لوگ نماز میں ابھی شریک نہ ہوں، پھر جب امام ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھا چکے جو پہلے اس کے ساتھ تھے تو اب یہ لوگ پیچھے ہٹ جائیں اور ان کی جگہ لے لیں، جنہوں نے اب تک نماز نہیں پڑھی ہے، لیکن یہ لوگ سلام نہ پھیریں۔ اب وہ لوگ آگے بڑھیں جنہوں نے نماز نہیں پڑھی ہے اور امام انہیں بھی ایک رکعت نماز پڑھائے، اب امام دو رکعت پڑھ چکنے کے بعد نماز سے فارغ ہو چکا۔ پھر دونوں جماعتیں ( جنہوں نے الگ الگ امام کے ساتھ ایک ایک رکعت نماز پڑھی تھی ) اپنی باقی ایک ایک رکعت ادا کر لیں۔ جبکہ امام اپنی نماز سے فارغ ہو چکا ہے۔ اس طرح دونوں جماعتوں کی دو دو رکعت پوری ہو جائیں گی۔ لیکن اگر خوف اس سے بھی زیادہ ہے تو ہر شخص تنہا نماز پڑھ لے، پیدل ہو یا سوار، قبلہ کی طرف رخ ہو یا نہ ہو۔ امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ مجھ کو یقین ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر ہی بیان کی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلاَةِ الْخَوْفِ قَالَ يَتَقَدَّمُ الإِمَامُ وَطَائِفَةٌ مِنَ النَّاسِ فَيُصَلِّي بِهِمِ الإِمَامُ رَكْعَةً، وَتَكُونُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ لَمْ يُصَلُّوا، فَإِذَا صَلَّوُا الَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً اسْتَأْخَرُوا مَكَانَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا وَلاَ يُسَلِّمُونَ، وَيَتَقَدَّمُ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا فَيُصَلُّونَ مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ يَنْصَرِفُ الإِمَامُ وَقَدْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَيَقُومُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ فَيُصَلُّونَ لأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً بَعْدَ أَنْ يَنْصَرِفَ الإِمَامُ، فَيَكُونُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ قَدْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَإِنْ كَانَ خَوْفٌ هُوَ أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ صَلَّوْا رِجَالاً، قِيَامًا عَلَى أَقْدَامِهِمْ، أَوْ رُكْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةِ أَوْ غَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا. قَالَ مَالِكٌ قَالَ نَافِعٌ لاَ أُرَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ذَكَرَ ذَلِكَ إِلاَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
#4536
Narrated Ibn Az-Zubair:I said to `Uthman, "This Verse which is in Surat-al-Baqara: "Those of you who die and leave widows behind...without turning them out." has been abrogated by another Verse. Why then do you write it (in the Qur'an)?" `Uthman said. "Leave it (where it is), O the son of my brother, for I will not shift anything of it (i.e. the Qur'an) from its original position
مجھ سے عبداللہ بن ابی اسود نے بیان کیا، کہا ہم سے حمید بن اسود اور یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حبیب بن شہید نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ سورۃ البقرہ کی آیت «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا» یعنی ”جو لوگ تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں۔“ اللہ تعالیٰ کے فرمان «غير إخراج» تک کو دوسری آیت نے منسوخ کر دیا ہے۔ اس کو آپ نے مصحف میں کیوں لکھوایا، چھوڑ کیوں نہیں دیا؟ انہوں نے کہا: میرے بھتیجے! میں کسی آیت کو اس کے ٹھکانے سے بدلنے والا نہیں۔ یہ حمید نے کہا یا کچھ ایسا ہی جواب دیا۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الأَسْوَدِ، وَيَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ قُلْتُ لِعُثْمَانَ هَذِهِ الآيَةُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا} إِلَى قَوْلِهِ {غَيْرَ إِخْرَاجٍ} قَدْ نَسَخَتْهَا الأُخْرَى، فَلِمَ تَكْتُبُهَا قَالَ تَدَعُهَا. يَا ابْنَ أَخِي لاَ أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْهُ مِنْ مَكَانِهِ. قَالَ حُمَيْدٌ أَوْ نَحْوَ هَذَا.
#4537
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "We have more right to be in doubt than Abraham when he said, 'My Lord! Show me how You give life to the dead.' He said, 'Do you not believe?' He said, 'Yes (I believe) but to be stronger in Faith
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ان سے ابن وہب نے بیان کیا، انہیں یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ابوسلمہ اور سعید نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شک کرنے کا ہمیں ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ حق ہے، جب انہوں نے عرض کیا تھا کہ اے میرے رب! مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا، اللہ کی طرف سے ارشاد ہوا، کیا تجھ کو یقین نہیں ہے؟ عرض کی یقین ضرور ہے، لیکن میں نے یہ درخواست اس لیے کی ہے کہ میرے دل کو اور اطمینان حاصل ہو جائے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ {رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي}"
#4538
Narrated Ubaid bin Umair:Once `Umar (bin Al-Khattab) said to the companions of the Prophet (ﷺ) "What do you think about this Verse:--"Does any of you wish that he should have a garden?" They replied, "Allah knows best." `Umar became angry and said, "Either say that you know or say that you do not know!" On that Ibn `Abbas said, "O chief of the believers! I have something in my mind to say about it." `Umar said, "O son of my brother! Say, and do not under estimate yourself." Ibn `Abbas said, "This Verse has been set up as an example for deeds." `Umar said, "What kind of deeds?" Ibn `Abbas said, "For deeds." `Umar said, "This is an example for a rich man who does good out of obedience of Allah and then Allah sends him Satan whereupon he commits sins till all his good deeds are lost
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے، انہوں نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے سنا، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے، ابن جریج نے کہا اور میں نے ابن ابی ملیکہ کے بھائی ابوبکر بن ابی ملیکہ سے بھی سنا، وہ عبید بن عمیر سے روایت کرتے تھے کہ ایک دن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے دریافت کیا کہ آپ لوگ جانتے ہو یہ آیت کس سلسلے میں نازل ہوئی ہے «أيود أحدكم أن تكون له جنة» ”کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کا ایک باغ ہو۔“ سب نے کہا کہ اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ بہت خفا ہو گئے اور کہا، صاف جواب دیں کہ آپ لوگوں کو اس سلسلے میں کچھ معلوم ہے یا نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: امیرالمؤمنین! میرے دل میں ایک بات آتی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیٹے! تمہیں کہو اور اپنے کو حقیر نہ سمجھو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا کہ اس میں عمل کی مثال بیان کی گئی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا، کیسے عمل کی؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا کہ عمل کی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ ایک مالدار شخص کی مثال ہے جو اللہ کی اطاعت میں نیک عمل کرتا رہتا ہے۔ پھر اللہ شیطان کو اس پر غالب کر دیتا ہے، وہ گناہوں میں مصروف ہو جاتا ہے اور اس کے اگلے نیک اعمال سب غارت ہو جاتے ہیں۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،. قَالَ وَسَمِعْتُ أَخَاهُ أَبَا بَكْرِ بْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ قَالَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ يَوْمًا لأَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِيمَ تَرَوْنَ هَذِهِ الآيَةَ نَزَلَتْ {أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ} قَالُوا اللَّهُ أَعْلَمُ. فَغَضِبَ عُمَرُ فَقَالَ قُولُوا نَعْلَمُ أَوْ لاَ نَعْلَمُ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي نَفْسِي مِنْهَا شَىْءٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. قَالَ عُمَرُ يَا ابْنَ أَخِي قُلْ وَلاَ تَحْقِرْ نَفْسَكَ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ضُرِبَتْ مَثَلاً لِعَمَلٍ. قَالَ عُمَرُ أَىُّ عَمَلٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِعَمَلٍ. قَالَ عُمَرُ لِرَجُلٍ غَنِيٍّ يَعْمَلُ بِطَاعَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ بَعَثَ اللَّهُ لَهُ الشَّيْطَانَ فَعَمِلَ بِالْمَعَاصِي حَتَّى أَغْرَقَ أَعْمَالَهُ. {فَصُرْهُنَّ} قَطِّعْهُنَّ.
#4539
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "The poor person is not the one for whom a date or two or a morsel or two (of food is sufficient but the poor person is he who does not (beg or) ask the people (for something) or show his poverty at all. Recite if you wish, (Allah's Statement): "They do not beg of people at all
ہم سے سعید ابن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے شریک بن ابی نمر نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار اور عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ انصاری نے بیان کیا اور انہوں نے کہا ہم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک یا دو کھجور، ایک یا دو لقمے در بدر لیے پھریں، بلکہ مسکین وہ ہے جو مانگنے سے بچتا رہے اور اگر تم دلیل چاہو تو ( قرآن سے ) اس آیت کو پڑھ لو «لا يسألون الناس إلحافا» کہ ”وہ لوگوں سے چمٹ کر نہیں مانگتے۔“
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيَّ، قَالاَ سَمِعْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَلاَ اللُّقْمَةُ وَلاَ اللُّقْمَتَانِ. إِنَّمَا الْمِسْكِينُ الَّذِي يَتَعَفَّفُ وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ يَعْنِي قَوْلَهُ {لاَ يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا}"
#4540
Narrated `Aisha:When the Verses of Surat-al-Baqara regarding usury (i.e. Riba) were revealed, Allah's Messenger (ﷺ) recited them before the people and then he prohibited the trade of alcoholic liquors
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ہم سے اعمش نے بیان کیا، ہم سے مسلم نے بیان کیا، ان سے مسروق نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب سود کے سلسلے میں سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پڑھ کر لوگوں کو سنایا اور اس کے بعد شراب کی تجارت بھی حرام قرار پائی۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتِ الآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ.
#4541
Narrated `Aisha:When the last Verses of Surat-al-Baqara were revealed. Allah's Messenger (ﷺ) went out and recited them in the Mosque and prohibited the trade of alcoholic liquors
ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں سلیمان اعمش نے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوالضحیٰ سے سنا، وہ مسروق سے روایت کرتے تھے کہ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا جب سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور مسجد میں انہیں پڑھ کر سنایا اس کے بعد شراب کی تجارت حرام ہو گئی۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى، يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ لَمَّا أُنْزِلَتِ الآيَاتُ الأَوَاخِرُ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَلاَهُنَّ فِي الْمَسْجِدِ، فَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ.
#4542
Narrated `Aisha:When the last Verses of Surat-al-Baqara were revealed, the Prophet (ﷺ) read them in the Mosque and prohibited the trade of alcoholic liquors
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجد میں پڑھ کر سنایا اور شراب کی تجارت حرام قرار دی گئی۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا أُنْزِلَتِ الآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ قَرَأَهُنَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ، وَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ.
#4543
Narrated `Aisha:When the last Verses of Surat-al-Baqara were revealed, Allah's Messenger (ﷺ) stood up and recited them before us and then prohibited the trade of alcoholic liquors
اور ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے منصور اور اعمش نے، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب سورۃ البقرہ کی آخری آیات نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہمیں پڑھ کر سنایا پھر شراب کی تجارت حرام کر دی۔
وَقَالَ لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا أُنْزِلَتِ الآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَرَأَهُنَّ عَلَيْنَا، ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ.
#4544
Narrated Ibn `Abbas:The last Verse (in the Qur'an) revealed to the Prophet (ﷺ) was the Verse dealing with usury (i.e. Riba)
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عاصم بن سلیمان نے، ان سے شعبی نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ آخری آیت جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی وہ سود کی آیت تھی۔
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ آخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم آيَةُ الرِّبَا.
#4545
Narrated Ibn `Umar:This Verse:--"Whether you show what is in your minds or conceal it.." (2.284) was abrogated
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن محمد نفیلی نے بیان کیا، کہا ہم سے مسکین بن بکیر حران نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے خالد حذاء نے، ان سے مروان اصفر نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ آیت «وإن تبدوا ما في أنفسكم أو تخفوه» ”اور جو کچھ تمہارے نفسوں کے اندر ہے اگر تم ان کو ظاہر کر ویا چھپائے رکھو۔“ آخر تک منسوخ ہو گی تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ مَرْوَانَ الأَصْفَرِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّهَا قَدْ نُسِخَتْ {وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ} الآيَةَ.
#4546
Narrated Marwan Al-Asfar:A man from the companions of Allah's Messenger (ﷺ) who I think, was Ibn `Umar said, "The Verse:-- "Whether you show what is in your minds or conceal it...." was abrogated by the Verse following it
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہیں روح بن عبادہ نے خبر دی، انہیں شعبہ نے خبر دی، انہیں خالد حذاء نے، انہیں مروان اصفر نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے، کہا کہ وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ انہوں نے آیت «إن تبدوا ما في أنفسكم أو تخفوه» کے متعلق بتلایا کہ اس آیت کو اس کے بعد کی آیت ( «لا يكلف الله نفسا إلا وسعها» ) نے منسوخ کر دیا ہے۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ مَرْوَانَ الأَصْفَرِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ أَحْسِبُهُ ابْنَ عُمَرَ ـ {إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ} قَالَ نَسَخَتْهَا الآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا.
#4547
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) recited the Verse:-- "It is He who has sent down to you the Book. In it are Verses that are entirely clear, they are the foundation of the Book, others not entirely clear. So as for those in whose hearts there is a deviation (from the Truth ). follow thereof that is not entirely clear seeking affliction and searching for its hidden meanings; but no one knows its hidden meanings but Allah. And those who are firmly grounded in knowledge say: "We believe in it (i.e. in the Qur'an) the whole of it (i.e. its clear and unclear Verses) are from our Lord. And none receive admonition except men of understanding." (3.7) Then Allah's Messenger (ﷺ) said, "If you see those who follow thereof that is not entirely clear, then they are those whom Allah has named [as having deviation (from the Truth)] 'So beware of them
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ہم سے یزید بن ابراہیم تستری نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «هو الذي أنزل عليك الكتاب منه آيات محكمات هن أم الكتاب وأخر متشابهات فأما الذين في قلوبهم زيغ فيتبعون ما تشابه منه ابتغاء الفتنة وابتغاء تأويله» یعنی ”وہ وہی اللہ ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری ہے، اس میں محکم آیتیں ہیں اور وہی کتاب کا اصل دارومدار ہیں اور دوسری آیتیں متشابہ ہیں۔ سو وہ لوگ جن کے دلوں میں چڑ پن ہے۔ وہ اس کے اسی حصے کے پیچھے لگ جاتے ہیں جو متشابہ ہیں، فتنے کی تلاش میں اور اس کی غلط تاویل کی تلاش میں۔“ آخر آیت «أولو الألباب» تک۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہوں تو یاد رکھو کہ یہ وہی لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ( آیت بالا میں ) ذکر فرمایا ہے۔ اس لیے ان سے بچتے رہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ تَلاَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَذِهِ الآيَةَ {هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ} إِلَى قَوْلِهِ {أُولُو الأَلْبَابِ} قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ، فَأُولَئِكَ الَّذِينَ سَمَّى اللَّهُ، فَاحْذَرُوهُمْ ".
#4548
Narrated Sa`id bin Al-Musaiyab:Abu Huraira said, "The Prophet (ﷺ) said, 'No child is born but that, Satan touches it when it is born whereupon it starts crying loudly because of being touched by Satan, except Mary and her son." Abu Huraira then said, "Recite, if you wish: "And I seek Refuge with You (Allah) for her and her offspring from Satan, the outcast
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سعید بن مسیب نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو شیطان اسے پیدا ہوتے ہی چھوتا ہے، جس سے وہ بچہ چلاتا ہے، سوا مریم اور ان کے بیٹے ( عیسیٰ علیہ السلام ) کے۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو «وإني أعيذها بك وذريتها من الشيطان الرجيم» یہ کلمہ مریم علیہ السلام کی ماں نے کہا تھا، اللہ نے ان کی دعا قبول کی اور مریم اور عیسیٰ علیہما السلام کو شیطان کے ہاتھ لگانے سے بچا لیا۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلاَّ وَالشَّيْطَانُ يَمَسُّهُ حِينَ يُولَدُ، فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسِّ الشَّيْطَانِ إِيَّاهُ، إِلاَّ مَرْيَمَ وَابْنَهَا ". ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ }
#4549
Narrated Abu Wail:`Abdullah bin Masud said, "Allah's Messenger (ﷺ) said, 'Whoever takes an oath when asked to do so, in which he may deprive a Muslim of his property unlawfully, will meet Allah Who will be angry with him.' So Allah revealed in confirmation of this statement:--"Verily! Those who Purchase a small gain at the cost of Allah's Covenant and oaths, they shall have no portion in the Hereafter..." (3.77) Then entered Al-Ash'ath bin Qais and said, "What is Abu `Abdur-Rahman narrating to you?" We replied, 'So-and-so." Al-Ash'ath said, "This Verse was revealed in my connection. I had a well in the land of my cousin (and he denied my, possessing it). On that the Prophet (ﷺ) said to me, 'Either you bring forward a proof or he (i.e. your cousin) takes an oath (to confirm his claim)' I said, 'I am sure he would take a (false) oath, O Allah's Messenger (ﷺ).' He said, 'If somebody takes an oath when asked to do so through which he may deprive a Muslim of his property (unlawfully) and he is a liar in his oath, he will meet Allah Who will be angry with him
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ حَلَفَ يَمِينَ صَبْرٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ". فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً أُولَئِكَ لاَ خَلاَقَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ. قَالَ فَدَخَلَ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ وَقَالَ مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قُلْنَا كَذَا وَكَذَا. قَالَ فِيَّ أُنْزِلَتْ كَانَتْ لِي بِئْرٌ فِي أَرْضِ ابْنِ عَمٍّ لِي قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " بَيِّنَتُكَ أَوْ يَمِينُهُ " فَقُلْتُ إِذًا يَحْلِفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ وَهْوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانٌ ".
#4550
Narrated Abu Wail:`Abdullah bin Masud said, "Allah's Messenger (ﷺ) said, 'Whoever takes an oath when asked to do so, in which he may deprive a Muslim of his property unlawfully, will meet Allah Who will be angry with him.' So Allah revealed in confirmation of this statement:--"Verily! Those who Purchase a small gain at the cost of Allah's Covenant and oaths, they shall have no portion in the Hereafter..." (3.77) Then entered Al-Ash'ath bin Qais and said, "What is Abu `Abdur-Rahman narrating to you?" We replied, 'So-and-so." Al-Ash'ath said, "This Verse was revealed in my connection. I had a well in the land of my cousin (and he denied my, possessing it). On that the Prophet (ﷺ) said to me, 'Either you bring forward a proof or he (i.e. your cousin) takes an oath (to confirm his claim)' I said, 'I am sure he would take a (false) oath, O Allah's Messenger (ﷺ).' He said, 'If somebody takes an oath when asked to do so through which he may deprive a Muslim of his property (unlawfully) and he is a liar in his oath, he will meet Allah Who will be angry with him
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ حَلَفَ يَمِينَ صَبْرٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ". فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً أُولَئِكَ لاَ خَلاَقَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ. قَالَ فَدَخَلَ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ وَقَالَ مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قُلْنَا كَذَا وَكَذَا. قَالَ فِيَّ أُنْزِلَتْ كَانَتْ لِي بِئْرٌ فِي أَرْضِ ابْنِ عَمٍّ لِي قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " بَيِّنَتُكَ أَوْ يَمِينُهُ " فَقُلْتُ إِذًا يَحْلِفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ وَهْوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانٌ ".