#4226
Narrated Al-Bara Bin Azib:During the Ghazwa of Khaibar, the Prophet (ﷺ) ordered us to throw away the meat of the donkeys whether it was still raw or cooked. He did not allow us to eat it later on
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو ابن ابی زائدہ نے خبر دی ‘ کہا ہم عاصم کونے خبر دی ‘ انہیں عامر نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ پالتو گدھوں کا گوشت ہم پھینک دیں ‘ کچا بھی اور پکا ہوا بھی ‘ پھر ہمیں اس کے کھانے کا کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم نہیں دیا۔
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ أَنْ نُلْقِيَ الْحُمُرَ الأَهْلِيَّةَ نِيئَةً وَنَضِيجَةً، ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْنَا بِأَكْلِهِ بَعْدُ.
#4227
Narrated Ibn `Abbas:I do not know whether the Prophet (ﷺ) forbade the eating of donkey-meat (temporarily) because they were the beasts of burden for the people, and he disliked that their means of transportation should be lost, or he forbade it on the day of Khaibar permanently
مجھ سے محمد بن ابی الحسین نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے میرے والد نے ‘ ان سے ابوعاصم نے بیان کیا ‘ ان سے عامر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں کہ آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے کا گوشت کھانے سے اس لیے منع کیا تھا کہ اس سے بوجھ ڈھونے والے کا کام لیا جاتا ہے اور آپ نے پسند نہیں فرمایا کہ بوجھ ڈھونے والے جانور ختم ہو جائیں یا آپ نے صرف غزوہ خیبر کے موقع پر پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت کی تھی۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لاَ أَدْرِي أَنَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ كَانَ حَمُولَةَ النَّاسِ، فَكَرِهَ أَنْ تَذْهَبَ حَمُولَتُهُمْ، أَوْ حَرَّمَهُ فِي يَوْمِ خَيْبَرَ، لَحْمَ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ.
#4228
Narrated Ibn `Umar:On the day of Khaibar, Allah's Messenger (ﷺ) divided (the war booty of Khaibar) with the ratio of two shares for the horse and one-share for the foot soldier. (The sub-narrator, Nafi` explained this, saying, "If a man had a horse, he was given three shares and if he had no horse, then he was given one share)
ہم سے حسن بن اسحاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زائدہ نے بیان کیا ‘ ان سے عبیداللہ بن عمر نے ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر میں ( مال غنیمت سے ) سواروں کو دو حصے دیئے تھے اور پیدل فوجیوں کو ایک حصہ ‘ اس کی تفسیر نافع نے اس طرح کی ہے اگر کسی شخص کے ساتھ گھوڑا ہوتا تو اسے تین حصے ملتے تھے اور اگر گھوڑا نہ ہوتا تو صرف ایک حصہ ملتا تھا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ خَيْبَرَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ، وَلِلرَّاجِلِ سَهْمًا. قَالَ فَسَّرَهُ نَافِعٌ فَقَالَ إِذَا كَانَ مَعَ الرَّجُلِ فَرَسٌ فَلَهُ ثَلاَثَةُ أَسْهُمٍ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ فَرَسٌ فَلَهُ سَهْمٌ.
#4229
Narrated Jubair bin Mut`im:`Uthman bin `Affan and I went to the Prophet (ﷺ) and said, "You had given Banu Al-Muttalib from the Khumus of Khaibar's booty and left us in spite of the fact that we and Banu Al-Muttalib are similarly related to you." The Prophet (ﷺ) said, "Banu Hashim and Banu Al-Muttalib only are one and the same." So the Prophet (ﷺ) did not give anything to Banu `Abd Shams and Banu Nawfal
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے یونس نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے سعید بن مسیب نے اور انہیں جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے عرض کیا کہ آپ نے بنو مطلب کو تو خیبر کے خمس میں سے عنایت فرمایا ہے اور ہمیں نظر انداز کر دیا ہے حالانکہ آپ سے قرابت میں ہم اور وہ برابر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یقیناً بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہیں۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو ( خمس میں سے ) کچھ نہیں دیا تھا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ مَشَيْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْنَا أَعْطَيْتَ بَنِي الْمُطَّلِبِ مِنْ خُمْسِ خَيْبَرَ، وَتَرَكْتَنَا، وَنَحْنُ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ مِنْكَ. فَقَالَ " إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَىْءٌ وَاحِدٌ ". قَالَ جُبَيْرٌ وَلَمْ يَقْسِمِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَبَنِي نَوْفَلٍ شَيْئًا.
#4230
Narrated Abu Musa:The news of the migration of the Prophet (from Mecca to Medina) reached us while we were in Yemen. So we set out as emigrants towards him. We were (three) I and my two brothers. I was the youngest of them, and one of the two was Abu Burda, and the other, Abu Ruhm, and our total number was either 53 or 52 men from my people. We got on board a boat and our boat took us to Negus in Ethiopia. There we met Ja`far bin Abi Talib and stayed with him. Then we all came (to Medina) and met the Prophet (ﷺ) at the time of the conquest of Khaibar. Some of the people used to say to us, namely the people of the ship, "We have migrated before you." Asma' bint 'Umais who was one of those who had come with us, came as a visitor to Hafsa, the wife of the Prophet (ﷺ). She had migrated along with those other Muslims who migrated to Negus. `Umar came to Hafsa while Asma' bint 'Umais was with her. `Umar, on seeing Asma,' said, "Who is this?" She said, "Asma' bint 'Umais," `Umar said, "Is she the Ethiopian? Is she the sea-faring lady?" Asma' replied, "Yes." `Umar said, "We have migrated before you (people of the boat), so we have got more right than you over Allah's Messenger (ﷺ) " On that Asma' became angry and said, "No, by Allah, while you were with Allah's Messenger (ﷺ) who was feeding the hungry ones amongst you, and advised the ignorant ones amongst you, we were in the far-off hated land of Ethiopia, and all that was for the sake of Allah's Messenger (ﷺ) . By Allah, I will neither eat any food nor drink anything till I inform Allah's Messenger (ﷺ) of all that you have said. There we were harmed and frightened. I will mention this to the Prophet (ﷺ) and will not tell a lie or curtail your saying or add something to it
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے برید بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے متعلق خبر ملی تو ہم یمن میں تھے۔ اس لیے ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہجرت کی نیت سے نکل پڑے۔ میں اور میرے دو بھائی ‘ میں دونوں سے چھوٹا تھا۔ میرے ایک بھائی کا نام ابوبردہ رضی اللہ عنہ تھا اور دوسرے کا ابو رہم۔ انہوں نے کہا کہ کچھ اوپر پچاس یا انہوں نے یوں بیان کیا کہ تریپن ( 53 ) یا باون ( 52 ) میری قوم کے لوگ ساتھ تھے۔ ہم کشتی پر سوار ہوئے لیکن ہماری کشتی نے ہمیں نجاشی کے ملک حبشہ میں لا ڈالا۔ وہاں ہماری ملاقات جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ہو گئی ‘ جو پہلے ہی مکہ سے ہجرت کر کے وہاں پہنچ چکے تھے۔ ہم نے وہاں انہیں کے ساتھ قیام کیا ‘ پھر ہم سب مدینہ ساتھ روانہ ہوئے۔ یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت پہنچے جب آپ خیبر فتح کر چکے تھے۔ کچھ لوگ ہم کشتی والوں سے کہنے لگے کہ ہم نے تم سے پہلے ہجرت کی ہے اور اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا جو ہمارے ساتھ مدینہ آئی تھیں ‘ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں ‘ ان سے ملاقات کے لیے وہ بھی نجاشی کے ملک میں ہجرت کرنے والوں کے ساتھ ہجرت کر کے چلی گئی تھیں۔ عمر رضی اللہ عنہ بھی حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے۔ اس وقت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا وہیں تھیں۔ جب عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو دریافت فرمایا کہ یہ کون ہیں؟ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ اسماء بنت عمیس۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا اچھا وہی جو حبشہ سے بحری سفر کر کے آئی ہیں۔۔ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جی ہاں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ ہم تم لوگوں سے ہجرت میں آگے ہیں اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم تمہارے مقابلہ میں زیادہ قریب ہیں۔ اسماء رضی اللہ عنہا اس پر بہت غصہ ہو گئیں اور کہا ہرگز نہیں: اللہ کی قسم! تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ہو ‘ تم میں جو بھوکے ہوتے تھے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کھلاتے تھے اور جو ناواقف ہوتے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نصیحت و موعظت کیا کرتے تھے۔ لیکن ہم بہت دور حبشہ میں غیروں اور دشمنوں کے ملک میں رہتے تھے ‘ یہ سب کچھ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کے راستے ہی میں تو کیا اور اللہ کی قسم! میں اس وقت تک نہ کھانا کھاؤں گی نہ پانی پیوں گی جب تک تمہاری بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ کہہ لوں۔ ہمیں اذیت دی جاتی تھی ‘ دھمکایا ڈرایا جاتا تھا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کروں گی اور آپ سے اس کے متعلق پوچھوں گی۔ اللہ کی قسم نہ میں جھوٹ بولوں گی ‘ نہ کج روی اختیار کروں گی اور نہ کسی ( خلاف واقعہ بات کا ) اضافہ کروں گی۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَلَغَنَا مَخْرَجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ، فَخَرَجْنَا مُهَاجِرِينَ إِلَيْهِ أَنَا، وَأَخَوَانِ لِي أَنَا أَصْغَرُهُمْ، أَحَدُهُمَا أَبُو بُرْدَةَ، وَالآخَرُ أَبُو رُهْمٍ ـ إِمَّا قَالَ بِضْعٌ وَإِمَّا قَالَ ـ فِي ثَلاَثَةٍ وَخَمْسِينَ أَوِ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ رَجُلاً مِنْ قَوْمِي، فَرَكِبْنَا سَفِينَةً، فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ، فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا جَمِيعًا، فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، وَكَانَ أُنَاسٌ مِنَ النَّاسِ يَقُولُونَ لَنَا ـ يَعْنِي لأَهْلِ السَّفِينَةِ ـ سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ، وَدَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ، وَهْىَ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَنَا، عَلَى حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم زَائِرَةً، وَقَدْ كَانَتْ هَاجَرَتْ إِلَى النَّجَاشِيِّ فِيمَنْ هَاجَرَ، فَدَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ وَأَسْمَاءُ عِنْدَهَا، فَقَالَ عُمَرُ حِينَ رَأَى أَسْمَاءَ مَنْ هَذِهِ قَالَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ. قَالَ عُمَرُ الْحَبَشِيَّةُ هَذِهِ الْبَحْرِيَّةُ هَذِهِ قَالَتْ أَسْمَاءُ نَعَمْ. قَالَ سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ، فَنَحْنُ أَحَقُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْكُمْ. فَغَضِبَتْ وَقَالَتْ كَلاَّ وَاللَّهِ، كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُطْعِمُ جَائِعَكُمْ، وَيَعِظُ جَاهِلَكُمْ، وَكُنَّا فِي دَارِ أَوْ فِي أَرْضِ الْبُعَدَاءِ الْبُغَضَاءِ بِالْحَبَشَةِ، وَذَلِكَ فِي اللَّهِ وَفِي رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم وَايْمُ اللَّهِ، لاَ أَطْعَمُ طَعَامًا، وَلاَ أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى أَذْكُرَ مَا قُلْتَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ كُنَّا نُؤْذَى وَنُخَافُ، وَسَأَذْكُرُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَسْأَلُهُ، وَاللَّهِ لاَ أَكْذِبُ وَلاَ أَزِيغُ وَلاَ أَزِيدُ عَلَيْهِ.
#4231
So when the Prophet (ﷺ) came, she said, "O Allah's Prophet `Umar has said so-and-so." He said (to Asma'), "What did you say to him?" Asma' said, "I told him so-and-so." The Prophet (ﷺ) said, "He (i.e. `Umar) has not got more right than you people over me, as he and his companions have (the reward of) only one migration, and you, the people of the boat, have (the reward of) two migrations." Asma' later on said, "I saw Abu Musa and the other people of the boat coming to me in successive groups, asking me about this narration, and to them nothing in the world was more cheerful and greater than what the Prophet (ﷺ) had said about them." Narrated Abu Burda:Asma' said, "I saw Abu Musa requesting me to repeat this narration again and again
چنانچہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو انہوں نے عرض کیا: یا نبی اللہ! عمر رضی اللہ عنہ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ پھر تم نے انہیں کیا جواب دیا؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے انہیں یہ یہ جواب دیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ وہ تم سے زیادہ مجھ سے قریب نہیں ہیں۔ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو صرف ایک ہجرت حاصل ہوئی اور تم کشتی والوں نے دو ہجرتوں کا شرف حاصل کیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس واقعہ کے بعد ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اور تمام کشتی والے میرے پاس گروہ در گروہ آنے لگے اور مجھ سے اس حدیث کے متعلق پوچھنے لگے۔ ان کے لیے دنیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان کے متعلق اس ارشاد سے زیادہ خوش کن اور باعث فخر اور کوئی چیز نہیں تھی۔
فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ عُمَرَ قَالَ كَذَا وَكَذَا. قَالَ " فَمَا قُلْتِ لَهُ ". قَالَتْ قُلْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا. قَالَ " لَيْسَ بِأَحَقَّ بِي مِنْكُمْ، وَلَهُ وَلأَصْحَابِهِ هِجْرَةٌ وَاحِدَةٌ، وَلَكُمْ أَنْتُمْ أَهْلَ السَّفِينَةِ هِجْرَتَانِ ". قَالَتْ فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ يَأْتُونِي أَرْسَالاً، يَسْأَلُونِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، مَا مِنَ الدُّنْيَا شَىْءٌ هُمْ بِهِ أَفْرَحُ وَلاَ أَعْظَمُ فِي أَنْفُسِهِمْ مِمَّا قَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم. قَالَ أَبُو بُرْدَةَ قَالَتْ أَسْمَاءُ فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى وَإِنَّهُ لَيَسْتَعِيدُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنِّي.
#4232
Narrated Abu Burda:Abu Musa said, "The Prophet (ﷺ) said, "I recognize the voice of the group of Al- Ashariyun, when they recite the Qur'an, when they enter their homes at night, and I recognize their houses by (listening) to their voices when they are reciting the Qur'an at night although I have not seen their houses when they came to them during the day time. Amongst them is Hakim who, on meeting the cavalry or the enemy, used to say to them (i.e. the enemy). My companions order you to wait for them
ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ مجھ سے اس حدیث کو باربار سنتے تھے۔ ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب میرے اشعری احباب رات میں آتے ہیں تو میں ان کی قرآن کی تلاوت کی آواز پہچان جاتا ہوں۔ اگرچہ دن میں ‘ میں نے ان کی اقامت گاہوں کو نہ دیکھا ہو لیکن جب رات میں وہ قرآن پڑھتے ہیں تو ان کی آواز سے میں ان کی اقامت گاہوں کو پہچان لیتا ہوں۔ میرے انہی اشعری احباب میں ایک مرد دانا بھی ہے کہ جب کہیں اس کی سواروں سے مڈبھیڑ ہو جاتی ہے یا آپ نے فرمایا کہ دشمن سے ‘ تو ان سے کہتا ہے کہ میرے دوستوں نے کہا ہے کہ تم تھوڑی دیر کے لیے ان کا انتظار کر لو۔
قَالَ أَبُو بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لأَعْرِفُ أَصْوَاتَ رُفْقَةِ الأَشْعَرِيِّينَ بِالْقُرْآنِ، حِينَ يَدْخُلُونَ بِاللَّيْلِ، وَأَعْرِفُ مَنَازِلَهُمْ مِنْ أَصْوَاتِهِمْ بِالْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ، وَإِنْ كُنْتُ لَمْ أَرَ مَنَازِلَهُمْ حِينَ نَزَلُوا بِالنَّهَارِ، وَمِنْهُمْ حَكِيمٌ، إِذَا لَقِيَ الْخَيْلَ ـ أَوْ قَالَ الْعَدُوَّ ـ قَالَ لَهُمْ إِنَّ أَصْحَابِي يَأْمُرُونَكُمْ أَنْ تَنْظُرُوهُمْ ".
#4233
Narrated Abu Musa:We came upon the Prophet (ﷺ) after he had conquered Khaibar. He then gave us a share (from the booty), but apart from us he did not give to anybody else who did not attend the Conquest
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم نے حفص بن غیاث سے سنا ‘ ان سے برید بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ خیبر کی فتح کے بعد ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مال غنیمت میں ) ہمارا بھی حصہ لگایا۔ آپ نے ہمارے سوا کسی بھی ایسے شخص کا حصہ مال غنیمت میں نہیں لگایا جو فتح کے وقت ( اسلامی لشکر کے ساتھ ) موجود نہ رہا ہو۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَ حَفْصَ بْنَ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ أَنِ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، فَقَسَمَ لَنَا، وَلَمْ يَقْسِمْ لأَحَدٍ لَمْ يَشْهَدِ الْفَتْحَ غَيْرَنَا.
#4234
Narrated Abu Huraira:When we conquered Khaibar, we gained neither gold nor silver as booty, but we gained cows, camels, goods and gardens. Then we departed with Allah's Messenger (ﷺ) to the valley of Al-Qura, and at that time Allah's Messenger (ﷺ) had a slave called Mid`am who had been presented to him by one of Banu Ad-Dibbab. While the slave was dismounting the saddle of Allah's Messenger (ﷺ) an arrow the thrower of which was unknown, came and hit him. The people said, "Congratulations to him for the martyrdom." Allah's Apostle said, "No, by Him in Whose Hand my soul is, the sheet (of cloth) which he had taken (illegally) on the day of Khaibar from the booty before the distribution of the booty, has become a flame of Fire burning him." On hearing that, a man brought one or two leather straps of shoes to the Prophet and said, "These are things I took (illegally)." On that Allah's Messenger (ﷺ) said, "This is a strap, or these are two straps of Fire
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا ‘ ان سے امام مالک بن انس نے بیان کیا ‘ ان سے ثور نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن مطیع کے مولیٰ سالم نے بیان کیا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ جب خیبر فتح ہوا تو مال غنیمت میں سونا اور چاندی نہیں ملا تھا بلکہ گائے ‘ اونٹ ‘ سامان اور باغات ملے تھے پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی القریٰ کی طرف لوٹے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مدعم نامی غلام تھا جو بنی ضباب کے ایک صحابی نے آپ کو ہدیہ میں دیا تھا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کجاوہ اتار رہا تھا کہ کسی نامعلوم سمت سے ایک تیر آ کر ان کے لگا۔ لوگوں نے کہا مبارک ہو: شہادت! لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہرگز نہیں ‘ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو چادر اس نے خیبر میں تقسیم سے پہلے مال غنیمت میں سے چرائی تھی وہ اس پر آگ کا شعلہ بن کر بھڑک رہی ہے۔ یہ سن کر ایک دوسرے صحابی ایک یا دو تسمے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یہ میں نے اٹھا لیے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بھی جہنم کا تسمہ بنتا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ثَوْرٌ، قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ، مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ افْتَتَحْنَا خَيْبَرَ، وَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلاَ فِضَّةً، إِنَّمَا غَنِمْنَا الْبَقَرَ وَالإِبِلَ وَالْمَتَاعَ وَالْحَوَائِطَ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى وَادِي الْقُرَى، وَمَعَهُ عَبْدٌ لَهُ يُقَالُ لَهُ مِدْعَمٌ، أَهْدَاهُ لَهُ أَحَدُ بَنِي الضِّبَابِ، فَبَيْنَمَا هُوَ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَهُ سَهْمٌ عَائِرٌ حَتَّى أَصَابَ ذَلِكَ الْعَبْدَ، فَقَالَ النَّاسُ هَنِيئًا لَهُ الشَّهَادَةُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَصَابَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا ". فَجَاءَ رَجُلٌ حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِشِرَاكٍ أَوْ بِشِرَاكَيْنِ، فَقَالَ هَذَا شَىْءٌ كُنْتُ أَصَبْتُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " شِرَاكٌ أَوْ شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ ".
#4235
Narrated `Umar bin Al-Khattab:By Him in Whose Hand my soul is, were I not afraid that the other Muslims might be left in poverty, I would divide (the land of) whatever village I may conquer (among the fighters), as the Prophet (ﷺ) divided the land of Khaibar. But I prefer to leave it as a (source of) a common treasury for them to distribute its revenue amongst themselves
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے زید نے خبر دی ‘ انہیں ان کے والد نے اور انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے کہا ہاں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر اس کا خطرہ نہ ہوتا کہ بعد کی نسلیں بے جائیداد رہ جائیں گی اور ان کے پاس کچھ نہ ہو گا تو جو بھی بستی میرے زمانہ خلافت میں فتح ہوتی ‘ میں اسے اسی طرح تقسیم کر دیتا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی تقسیم کی تھی۔ میں ان مفتوحہ اراضی کو بعد میں آنے والے مسلمانوں کے لیے محفوظ چھوڑے جا رہا ہوں تاکہ وہ اسے تقسیم کرتے رہیں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي زَيْدٌ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْلاَ أَنْ أَتْرُكَ آخِرَ النَّاسِ بَبَّانًا لَيْسَ لَهُمْ شَىْءٌ، مَا فُتِحَتْ عَلَىَّ قَرْيَةٌ إِلاَّ قَسَمْتُهَا كَمَا قَسَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ، وَلَكِنِّي أَتْرُكُهَا خِزَانَةً لَهُمْ يَقْتَسِمُونَهَا.
#4236
Narrated `Umar:But for the other Muslims (i.e. coming generations) I would divide (the land of) whatever villages the Muslims might conquer (among the fighters), as the Prophet (ﷺ) divided (the land of) Khaibar
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن مہدی نے بیان کیا ‘ ان سے امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ نے ‘ ان سے زید بن اسلم نے ‘ ان سے ان کے والد نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اگر بعد میں آنے والے مسلمانوں کا خیال نہ ہوتا تو جو بستی بھی میرے دور میں فتح ہوتی ‘ میں اسے اسی طرح تقسیم کر دیتا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی تقسیم کر دی تھی۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَوْلاَ آخِرُ الْمُسْلِمِينَ مَا فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ قَرْيَةٌ إِلاَّ قَسَمْتُهَا، كَمَا قَسَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ.
#4237
Narrated 'Anbasa bin Sa`id:Abu Huraira came to the Prophet (ﷺ) and asked him (for a share from the Khaibar booty). On that, one of the sons of Sa`id bin Al-`As said to him, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Do not give him." Abu Huraira then said (to the Prophet (ﷺ) ) "This is the murderer of Ibn Qauqal." Sa`id's son said, "How strange! A guinea pig coming from Qadum Ad-Dan
مجھ سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے زہری سے سنا اور ان سے اسماعیل بن امیہ نے سوال کیا تھا تو انہوں نے بیان کیا کہ مجھے عنبسہ بن سعید نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے ( خیبر کی غنیمت میں سے ) حصہ مانگا۔ سعید بن عاص کے ایک لڑکے ( ابان بن سعید رضی اللہ عنہ ) نے کہا: یا رسول اللہ! انہیں نہ دیجئیے۔ اس پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ شخص تو ابن قوقل کا قاتل ہے۔ ابان رضی اللہ عنہ اس پر بولے حیرت ہے اس «وبر» ( بلی سے چھوٹا ایک جانور ) پر جو قدوم الضان پہاڑی سے اتر آیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، وَسَأَلَهُ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ قَالَ أَخْبَرَنِي عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ، قَالَ لَهُ بَعْضُ بَنِي سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ لاَ تُعْطِهِ. فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ هَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلٍ. فَقَالَ وَاعَجَبَاهْ لِوَبْرٍ تَدَلَّى مِنْ قَدُومِ الضَّأْنِ.
#4238
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) sent Aban from Medina to Najd as the commander of a Sariya. Aban and his companions came to the Prophet (ﷺ) at Khaibar after the Prophet (ﷺ) had conquered it, and the reins of their horses were made of the fire of date palm trees. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Do not give them a share of the booty." On that, Aban said (to me), "Strange! You suggest such a thing though you are what you are, O guinea pig coming down from the top of Ad-Da'n (a lotus tree)!" On that the Prophet said, "O Aban, sit down!" and did not give them any share
اور زبیدی سے روایت ہے کہ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ انہیں عنبسہ بن سعید نے خبر دی ‘ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کو خبر دے رہے تھے کہ ابان رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سریہ پر مدینہ سے نجد کی طرف بھیجا تھا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ابان رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ خیبر فتح ہو چکا تھا۔ ان لوگوں کے گھوڑے تنگ چھال ہی کے تھے ‘ ( یعنی انہوں نے مہم میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کی تھی ) ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! غنیمت میں ان کا حصہ نہ لگایئے۔ اس پر ابان رضی اللہ عنہ بولے اے وبر! تیری حیثیت تو صرف یہ کہ قدوم الضان کی چوٹی سے اتر آیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابان! بیٹھ جا! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کا حصہ نہیں لگایا۔
وَيُذْكَرُ عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُخْبِرُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِي قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَانَ عَلَى سَرِيَّةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ قِبَلَ نَجْدٍ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَدِمَ أَبَانُ وَأَصْحَابُهُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِخَيْبَرَ، بَعْدَ مَا افْتَتَحَهَا، وَإِنَّ حُزْمَ خَيْلِهِمْ لَلِيفٌ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لاَ تَقْسِمْ لَهُمْ. قَالَ أَبَانُ وَأَنْتَ بِهَذَا يَا وَبْرُ تَحَدَّرَ مِنْ رَأْسِ ضَأْنٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَانُ اجْلِسْ " فَلَمْ يَقْسِمْ لَهُمْ.
#4239
Narrated Sa`id:Aban bin Sa`id came to the Prophet (ﷺ) and greeted him. Abu Huraira said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! This (Aban) is the murderer of Ibn Qauqal." (On hearing that), Aban said to Abu Huraira, "How strange your saying is! You, a guinea pig, descending from Qadum Dan, blaming me for (killing) a person whom Allah favored (with martyrdom) with my hand, and whom He forbade to degrade me with his hand
سعید نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے میرے دادا نے خبر دی اور انہیں ابان بن سعید رضی اللہ عنہ نے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بولے کہ یا رسول اللہ! یہ تو ابن قوقل کا قاتل ہے اور ابان رضی اللہ عنہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا حیرت ہے اس «وبر» پر جو قدوم الضان سے ابھی اترا ہے اور مجھ پر عیب لگاتا ہے ایک ایسے شخص پر کہ جس کے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں ( ابن قوقل رضی اللہ عنہ کو ) عزت دی اور ایسا نہ ہونے دیا کہ ان کے ہاتھ سے مجھے ذلیل کرتا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَدِّي، أَنَّ أَبَانَ بْنَ سَعِيدٍ، أَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلٍ. وَقَالَ أَبَانُ لأَبِي هُرَيْرَةَ وَاعَجَبًا لَكَ وَبْرٌ تَدَأْدَأَ مِنْ قَدُومِ ضَأْنٍ. يَنْعَى عَلَىَّ امْرَأً أَكْرَمَهُ اللَّهُ بِيَدِي، وَمَنَعَهُ أَنْ يُهِينَنِي بِيَدِهِ.
#4240
Narrated `Aisha:Fatima the daughter of the Prophet (ﷺ) sent someone to Abu Bakr (when he was a caliph), asking for her inheritance of what Allah's Messenger (ﷺ) had left of the property bestowed on him by Allah from the Fai (i.e. booty gained without fighting) in Medina, and Fadak, and what remained of the Khumus of the Khaibar booty. On that, Abu Bakr said, "Allah's Messenger (ﷺ) said, "Our property is not inherited. Whatever we leave, is Sadaqa, but the family of (the Prophet) Muhammad can eat of this property.' By Allah, I will not make any change in the state of the Sadaqa of Allah's Messenger (ﷺ) and will leave it as it was during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ), and will dispose of it as Allah's Messenger (ﷺ) used to do." So Abu Bakr refused to give anything of that to Fatima. So she became angry with Abu Bakr and kept away from him, and did not task to him till she died. She remained alive for six months after the death of the Prophet. When she died, her husband `Ali, buried her at night without informing Abu Bakr and he said the funeral prayer by himself. When Fatima was alive, the people used to respect `Ali much, but after her death, `Ali noticed a change in the people's attitude towards him. So `Ali sought reconciliation with Abu Bakr and gave him an oath of allegiance. `Ali had not given the oath of allegiance during those months (i.e. the period between the Prophet's death and Fatima's death). `Ali sent someone to Abu Bakr saying, "Come to us, but let nobody come with you," as he disliked that `Umar should come, `Umar said (to Abu Bakr), "No, by Allah, you shall not enter upon them alone " Abu Bakr said, "What do you think they will do to me? By Allah, I will go to them' So Abu Bakr entered upon them, and then `Ali uttered Tashah-hud and said (to Abu Bakr), "We know well your superiority and what Allah has given you, and we are not jealous of the good what Allah has bestowed upon you, but you did not consult us in the question of the rule and we thought that we have got a right in it because of our near relationship to Allah's Messenger (ﷺ) ." Thereupon Abu Bakr's eyes flowed with tears. And when Abu Bakr spoke, he said, "By Him in Whose Hand my soul is to keep good relations with the relatives of Allah's Messenger (ﷺ) is dearer to me than to keep good relations with my own relatives. But as for the trouble which arose between me and you about his property, I will do my best to spend it according to what is good, and will not leave any rule or regulation which I saw Allah's Messenger (ﷺ) following, in disposing of it, but I will follow." On that `Ali said to Abu Bakr, "I promise to give you the oath of allegiance in this afternoon." So when Abu Bakr had offered the Zuhr prayer, he ascended the pulpit and uttered the Tashah-hud and then mentioned the story of `Ali and his failure to give the oath of allegiance, and excused him, accepting what excuses he had offered; Then `Ali (got up) and praying (to Allah) for forgiveness, he uttered Tashah-hud, praised Abu Bakr's right, and said, that he had not done what he had done because of jealousy of Abu Bakr or as a protest of what Allah had favored him with. `Ali added, "But we used to consider that we too had some right in this affair (of rulership) and that he (i.e. Abu Bakr) did not consult us in this matter, and therefore caused us to feel sorry." On that all the Muslims became happy and said, "You have done the right thing." The Muslims then became friendly with `Ali as he returned to what the people had done (i.e. giving the oath of allegiance to Abu Bakr)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ بِنْتَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكَ، وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا الْمَالِ ". وَإِنِّي وَاللَّهِ لاَ أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ فَهَجَرَتْهُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ، وَعَاشَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ، دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلاً، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عَلَيْهَا، وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وَجْهٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتِ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ، فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ، وَلَمْ يَكُنْ يُبَايِعُ تِلْكَ الأَشْهُرَ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنِ ائْتِنَا، وَلاَ يَأْتِنَا أَحَدٌ مَعَكَ، كَرَاهِيَةً لِمَحْضَرِ عُمَرَ. فَقَالَ عُمَرُ لاَ وَاللَّهِ لاَ تَدْخُلُ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَمَا عَسَيْتَهُمْ أَنْ يَفْعَلُوا بِي، وَاللَّهِ لآتِيَنَّهُمْ. فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ، فَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ فَقَالَ إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا فَضْلَكَ، وَمَا أَعْطَاكَ، اللَّهُ وَلَمْ نَنْفَسْ عَلَيْكَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكَ، وَلَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالأَمْرِ، وَكُنَّا نَرَى لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَصِيبًا. حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي، وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الأَمْوَالِ، فَلَمْ آلُ فِيهَا عَنِ الْخَيْرِ، وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلاَّ صَنَعْتُهُ. فَقَالَ عَلِيٌّ لأَبِي بَكْرٍ مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةُ لِلْبَيْعَةِ. فَلَمَّا صَلَّى أَبُو بَكْرٍ الظُّهْرَ رَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَتَشَهَّدَ وَذَكَرَ شَأْنَ عَلِيٍّ، وَتَخَلُّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ، وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، ثُمَّ اسْتَغْفَرَ، وَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَكْرٍ، وَحَدَّثَ أَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَى أَبِي بَكْرٍ، وَلاَ إِنْكَارًا لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ، وَلَكِنَّا نَرَى لَنَا فِي هَذَا الأَمْرِ نَصِيبًا، فَاسْتَبَدَّ عَلَيْنَا، فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا، فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ وَقَالُوا أَصَبْتَ. وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَلِيٍّ قَرِيبًا، حِينَ رَاجَعَ الأَمْرَ الْمَعْرُوفَ.
#4241
Narrated `Aisha:Fatima the daughter of the Prophet (ﷺ) sent someone to Abu Bakr (when he was a caliph), asking for her inheritance of what Allah's Messenger (ﷺ) had left of the property bestowed on him by Allah from the Fai (i.e. booty gained without fighting) in Medina, and Fadak, and what remained of the Khumus of the Khaibar booty. On that, Abu Bakr said, "Allah's Messenger (ﷺ) said, "Our property is not inherited. Whatever we leave, is Sadaqa, but the family of (the Prophet) Muhammad can eat of this property.' By Allah, I will not make any change in the state of the Sadaqa of Allah's Messenger (ﷺ) and will leave it as it was during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ), and will dispose of it as Allah's Messenger (ﷺ) used to do." So Abu Bakr refused to give anything of that to Fatima. So she became angry with Abu Bakr and kept away from him, and did not task to him till she died. She remained alive for six months after the death of the Prophet. When she died, her husband `Ali, buried her at night without informing Abu Bakr and he said the funeral prayer by himself. When Fatima was alive, the people used to respect `Ali much, but after her death, `Ali noticed a change in the people's attitude towards him. So `Ali sought reconciliation with Abu Bakr and gave him an oath of allegiance. `Ali had not given the oath of allegiance during those months (i.e. the period between the Prophet's death and Fatima's death). `Ali sent someone to Abu Bakr saying, "Come to us, but let nobody come with you," as he disliked that `Umar should come, `Umar said (to Abu Bakr), "No, by Allah, you shall not enter upon them alone " Abu Bakr said, "What do you think they will do to me? By Allah, I will go to them' So Abu Bakr entered upon them, and then `Ali uttered Tashah-hud and said (to Abu Bakr), "We know well your superiority and what Allah has given you, and we are not jealous of the good what Allah has bestowed upon you, but you did not consult us in the question of the rule and we thought that we have got a right in it because of our near relationship to Allah's Messenger (ﷺ) ." Thereupon Abu Bakr's eyes flowed with tears. And when Abu Bakr spoke, he said, "By Him in Whose Hand my soul is to keep good relations with the relatives of Allah's Messenger (ﷺ) is dearer to me than to keep good relations with my own relatives. But as for the trouble which arose between me and you about his property, I will do my best to spend it according to what is good, and will not leave any rule or regulation which I saw Allah's Messenger (ﷺ) following, in disposing of it, but I will follow." On that `Ali said to Abu Bakr, "I promise to give you the oath of allegiance in this after noon." So when Abu Bakr had offered the Zuhr prayer, he ascended the pulpit and uttered the Tashah-hud and then mentioned the story of `Ali and his failure to give the oath of allegiance, and excused him, accepting what excuses he had offered; Then `Ali (got up) and praying (to Allah) for forgiveness, he uttered Tashah-hud, praised Abu Bakr's right, and said, that he had not done what he had done because of jealousy of Abu Bakr or as a protest of that Allah had favored him with. `Ali added, "But we used to consider that we too had some right in this affair (of rulership) and that he (i.e. Abu Bakr) did not consult us in this matter, and therefore caused us to feel sorry." On that all the Muslims became happy and said, "You have done the right thing." The Muslims then became friendly with `Ali as he returned to what the people had done (i.e. giving the oath of allegiance to Abu Bakr)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ بِنْتَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكَ، وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا الْمَالِ ". وَإِنِّي وَاللَّهِ لاَ أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ فَهَجَرَتْهُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ، وَعَاشَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ، دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلاً، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عَلَيْهَا، وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وَجْهٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتِ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ، فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ، وَلَمْ يَكُنْ يُبَايِعُ تِلْكَ الأَشْهُرَ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنِ ائْتِنَا، وَلاَ يَأْتِنَا أَحَدٌ مَعَكَ، كَرَاهِيَةً لِمَحْضَرِ عُمَرَ. فَقَالَ عُمَرُ لاَ وَاللَّهِ لاَ تَدْخُلُ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَمَا عَسَيْتَهُمْ أَنْ يَفْعَلُوا بِي، وَاللَّهِ لآتِيَنَّهُمْ. فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ، فَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ فَقَالَ إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا فَضْلَكَ، وَمَا أَعْطَاكَ، اللَّهُ وَلَمْ نَنْفَسْ عَلَيْكَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكَ، وَلَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالأَمْرِ، وَكُنَّا نَرَى لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَصِيبًا. حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي، وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الأَمْوَالِ، فَلَمْ آلُ فِيهَا عَنِ الْخَيْرِ، وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلاَّ صَنَعْتُهُ. فَقَالَ عَلِيٌّ لأَبِي بَكْرٍ مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةُ لِلْبَيْعَةِ. فَلَمَّا صَلَّى أَبُو بَكْرٍ الظُّهْرَ رَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَتَشَهَّدَ وَذَكَرَ شَأْنَ عَلِيٍّ، وَتَخَلُّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ، وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، ثُمَّ اسْتَغْفَرَ، وَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَكْرٍ، وَحَدَّثَ أَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَى أَبِي بَكْرٍ، وَلاَ إِنْكَارًا لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ، وَلَكِنَّا نَرَى لَنَا فِي هَذَا الأَمْرِ نَصِيبًا، فَاسْتَبَدَّ عَلَيْنَا، فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا، فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ وَقَالُوا أَصَبْتَ. وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَلِيٍّ قَرِيبًا، حِينَ رَاجَعَ الأَمْرَ الْمَعْرُوفَ.
#4242
Narrated `Aisha:When Khaibar was conquered, we said, "Now we will eat our fill of dates
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے حرمی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے عمارہ نے خبر دی ‘ انہیں عکرمہ نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب خیبر فتح ہوا تو ہم نے کہا اب کھجوروں سے ہمارا جی بھر جائے گا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا حَرَمِيٌّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَارَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ وَلَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ قُلْنَا الآنَ نَشْبَعُ مِنَ التَّمْرِ.
#4243
Narrated Ibn `Umar:We did not eat our fill except after we had conquered Khaibar
ہم سے حسن نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے قرہ بن حبیب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب تک خیبر فتح نہیں ہوا تھا ہم تنگی میں تھے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ مَا شَبِعْنَا حَتَّى فَتَحْنَا خَيْبَرَ.
#4244
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri and Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) appointed a man as the ruler of Khaibar who later brought some Janib (i.e. dates of good quality) to the Prophet. On that, Allah's Messenger (ﷺ) said (to him). "Are all the dates of Khaibar like this?" He said, "No, by Allah, O Allah's Messenger (ﷺ)! But we take one Sa of these (dates of good quality) for two or three Sa's of other dates (of inferior quality)." On that, Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not do so, but first sell the inferior quality dates for money and then with that money, buy Janib
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي، هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلاً عَلَى خَيْبَرَ، فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ". فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ {وَالصَّاعَيْنِ} بِالثَّلاَثَةِ. فَقَالَ " لاَ تَفْعَلْ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا ".
#4245
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri and Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) appointed a man as the ruler of Khaibar who later brought some Janib (i.e. dates of good quality) to the Prophet. On that, Allah's Messenger (ﷺ) said (to him). "Are all the dates of Khaibar like this?" He said, "No, by Allah, O Allah's Messenger (ﷺ)! But we take one Sa of these (dates of good quality) for two or three Sa's of other dates (of inferior quality)." On that, Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not do so, but first sell the inferior quality dates for money and then with that money, buy Janib
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي، هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلاً عَلَى خَيْبَرَ، فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ". فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ {وَالصَّاعَيْنِ} بِالثَّلاَثَةِ. فَقَالَ " لاَ تَفْعَلْ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا ".
#4246
Abu Sa`id and Abu Huraira said:"The Prophet (ﷺ) made the brother of Bani Adi from the Ansar as the ruler of Khaibar
وَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ، وَأَبَا، هُرَيْرَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ أَخَا بَنِي عَدِيٍّ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى خَيْبَرَ فَأَمَّرَهُ عَلَيْهَا. وَعَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ مِثْلَهُ
#4247
Abu Sa`id and Abu Huraira said:"The Prophet (ﷺ) made the brother of Bani Adi from the Ansar as the ruler of Khaibar
وَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ، وَأَبَا، هُرَيْرَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ أَخَا بَنِي عَدِيٍّ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى خَيْبَرَ فَأَمَّرَهُ عَلَيْهَا. وَعَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ مِثْلَهُ
#4248
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) gave (the land of) Khaibar to the Jews (of Khaibar) on condition that they would work on it and cultivate it and they would have half of its yield
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے ان سے عبداللہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر ( کی زمین و باغات وہاں کے ) یہودیوں کے پاس ہی رہنے دیئے تھے کہ وہ ان میں کام کریں اور بوئیں جوتیں اور انہیں ان کی پیداوار کا آدھا حصہ ملے گا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَعْطَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ الْيَهُودَ أَنْ يَعْمَلُوهَا وَيَزْرَعُوهَا، وَلَهُمْ شَطْرُ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا.
#4249
Narrated Abu Huraira:When Khaibar was conquered, a (cooked) sheep containing poison, was given as a present to Allah's Apostle
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے سعید نے بیان کیا ‘ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ خیبر کی فتح کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( ایک یہودی عورت کی طرف سے ) بکری کے گوشت کا ہدیہ پیش کیا گیا جس میں زہر ملا ہوا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَاةٌ فِيهَا سُمٌّ.
#4250
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) appointed Usama bin Zaid as the commander of some people. Those people criticized his leadership. The Prophet (ﷺ) said, "If you speak ill of his leadership, you have already spoken ill of his father's leadership before. By Allah, he deserved to be a Commander, and he was one of the most beloved persons to me and now this (i.e. Usama) is one of the most beloved persons to me after him
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک جماعت کا امیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو بنایا۔ ان کی امارت پر بعض لوگوں کو اعتراض ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج تم کو اس کی امارت پر اعتراض ہے تم ہی کچھ دن پہلے اس کے باپ کی امارت پر اعتراض کر چکے ہو۔ حالانکہ اللہ کی قسم وہ امارت کے مستحق و اہل تھے۔ اس کے علاوہ وہ مجھے سب سے زیادہ عزیز تھے جس طرح یہ اسامہ رضی اللہ عنہ ان کے بعد مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُسَامَةَ عَلَى قَوْمٍ، فَطَعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ، فَقَالَ " إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ، فَقَدْ طَعَنْتُمْ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ، وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ كَانَ خَلِيقًا لِلإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ بَعْدَهُ ".