#3951
Narrated Ka`b bin Malik:I never failed to join Allah's Messenger (ﷺ) in any of his Ghazawat except in the Ghazwa of Tabuk. However, I did not take part in the Ghazwa of Badr, but none who failed to take part in it, was blamed, for Allah's Messenger (ﷺ) had gone out to meet the caravans of (Quraish, but Allah caused them (i.e. Muslims) to meet their enemy unexpectedly (with no previous intention)
مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب نے، ان سے عبداللہ بن کعب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے غزوے کئے، میں غزوہ تبوک کے سوا سب میں حاضر رہا۔ البتہ غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکا تھا لیکن جو لوگ اس غزوے میں شریک نہ ہو سکے تھے، ان میں سے کسی پر اللہ نے عتاب نہیں کیا۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے قافلے کو تلاش کرنے کے لیے نکلے تھے۔ ( لڑنے کی نیت سے نہیں گئے تھے ) مگر اللہ تعالیٰ نے ناگہانی مسلمانوں کو ان کے دشمنوں سے بھڑا دیا۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا إِلاَّ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، غَيْرَ أَنِّي تَخَلَّفْتُ عَنْ غَزْوَةِ بَدْرٍ، وَلَمْ يُعَاتَبْ أَحَدٌ تَخَلَّفَ عَنْهَا، إِنَّمَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُرِيدُ عِيرَ قُرَيْشٍ، حَتَّى جَمَعَ اللَّهُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ عَدُوِّهِمْ عَلَى غَيْرِ مِيعَادٍ.
#3952
Narrated Ibn Masud:I witnessed Al-Miqdad bin Al-Aswad in a scene which would have been dearer to me than anything had I been the hero of that scene. He (i.e. Al-Miqdad) came to the Prophet (ﷺ) while the Prophet (ﷺ) was urging the Muslims to fight with the pagans. Al-Miqdad said, "We will not say as the People of Moses said: Go you and your Lord and fight you two. (5.27). But we shall fight on your right and on your left and in front of you and behind you." I saw the face of the Prophet (ﷺ) getting bright with happiness, for that saying delighted him
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، ہم سے اسرائیل بن یونس نے بیان کیا، ان سے مخارق بن عبداللہ بجلی نے، ان سے طارق بن شہاب نے، انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے ایک ایسی بات سنی کہ اگر وہ بات میری زبان سے ادا ہو جاتی تو میرے لیے کسی بھی چیز کے مقابلے میں زیادہ عزیز ہوتی۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مشرکین پر بددعا کر رہے تھے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم وہ نہیں کہیں گے جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہا تھا کہ جاؤ، تم اور تمہارا رب ان سے جنگ کرو، بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں، آگے اور پیچھے جمع ہو کر لڑیں گے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک چمکنے لگا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُخَارِقٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ شَهِدْتُ مِنَ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ مَشْهَدًا، لأَنْ أَكُونَ صَاحِبَهُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا عُدِلَ بِهِ، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ يَدْعُو عَلَى الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ لاَ نَقُولُ كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى {اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلاَ} وَلَكِنَّا نُقَاتِلُ عَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ وَبَيْنَ يَدَيْكَ وَخَلْفَكَ. فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَشْرَقَ وَجْهُهُ وَسَرَّهُ. يَعْنِي قَوْلَهُ.
#3953
Narrated Ibn `Abbas:On the day of the battle of Badr, the Prophet (ﷺ) said, "O Allah! I appeal to You (to fulfill) Your Covenant and Promise. O Allah! If Your Will is that none should worship You (then give victory to the pagans)." Then Abu Bakr took hold of him by the hand and said, "This is sufficient for you." The Prophet came out saying, "Their multitude will be put to flight and they will show their backs
مجھ سے عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا، ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے خالد نے، ان سے عکرمہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی لڑائی کے موقع پر فرمایا تھا کہ اے اللہ! میں تیرے عہد اور وعدہ کا واسطہ دیتا ہوں، اگر تو چاہے ( کہ یہ کافر غالب ہوں تو مسلمانوں کے ختم ہو جانے کے بعد ) تیری عبادت نہ ہو گی۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھام لیا اور عرض کیا بس کیجئے، یا رسول اللہ! اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے سے باہر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر یہ آیت تھی «سيهزم الجمع ويولون الدبر» ”جلد ہی کفار کی جماعت کو ہار ہو گی اور یہ پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلیں گے۔“
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ بَدْرٍ " اللَّهُمَّ أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ ". فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِهِ فَقَالَ حَسْبُكَ. فَخَرَجَ وَهْوَ يَقُولُ {سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ}
#3954
Narrated Ibn `Abbas:The believers who failed to join the Ghazwa of Badr and those who took part in it are not equal (in reward)
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عبدالکریم نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن حارث کے مولیٰ مقسم سے سنا، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے، انہوں نے بیان کیا کہ ( سورۃ نساء کی اس آیت سے ) «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» جہاد میں شرکت کرنے والے اور اس میں شریک نہ ہونے والے برابر نہیں ہو سکتے۔ وہ لوگ مراد ہیں جو بدر کی لڑائی میں شریک ہوئے اور جو اس میں شریک نہیں ہوئے۔
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ، أَنَّهُ سَمِعَ مِقْسَمًا، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ {لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} عَنْ بَدْرٍ، وَالْخَارِجُونَ، إِلَى بَدْرٍ.
#3955
Narrated Al-Bara:I and Ibn `Umar were considered too young to take part in the battle of Badr
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ( بدر کی لڑائی کے موقع پر ) مجھے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کو نابالغ قرار دے دیا گیا تھا۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ اسْتُصْغِرْتُ أَنَا وَابْنُ، عُمَرَ.
#3956
Narrated Al-Bara:I and Ibn `Umar were considered too young (to take part) in the battle of Badr, and the number of the Emigrant warriors were over sixty (men) and the Ansar were over
(دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اور مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا کہا، ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بدر کی لڑائی میں مجھے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو نابالغ قرار دے دیا گیا تھا اور اس لڑائی میں مہاجرین کی تعداد ساٹھ سے کچھ زیادہ تھی اور انصار دو سو چالیسں سے کچھ زیادہ تھے۔
حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ اسْتُصْغِرْتُ أَنَا وَابْنُ عُمَرَ يَوْمَ بَدْرٍ، وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ يَوْمَ بَدْرٍ نَيِّفًا عَلَى سِتِّينَ، وَالأَنْصَارُ نَيِّفًا وَأَرْبَعِينَ وَمِائَتَيْنِ.
#3957
Narrated Al-Bara:The companions of (the Prophet) Muhammad who took part in Badr, told me that their number was that of Saul's (i.e. Talut's) companions who crossed the river (of Jordan) with him and they were over three-hundred-and-ten men. By Allah, none crossed the river with him but a believer. (See Qur'an 2:)
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا کہا، ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا کہا، ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا، کہا کہ میں نے براء رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے جو بدر میں شریک تھے مجھ سے بیان کیا کہ بدر کی لڑائی میں ان کی تعداد اتنی ہی تھی جتنی طالوت علیہ السلام کے ان اصحاب کی تھی جنہوں نے ان کے ساتھ نہر فلسطین کو پار کیا تھا۔ تقریباً تین سو دس۔ براء رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں، اللہ کی قسم! طالوت کے ساتھ نہر فلسطین کو صرف وہی لوگ پار کر سکے تھے جو مومن تھے۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ حَدَّثَنِي أَصْحَابُ، مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا أَنَّهُمْ كَانُوا عِدَّةَ أَصْحَابِ طَالُوتَ الَّذِينَ جَازُوا مَعَهُ النَّهَرَ، بِضْعَةَ عَشَرَ وَثَلاَثَمِائَةٍ. قَالَ الْبَرَاءُ لاَ وَاللَّهِ مَا جَاوَزَ مَعَهُ النَّهَرَ إِلاَّ مُؤْمِنٌ.
#3958
Narrated Al-Bara:We, the Companions of Muhammad used to say that the number of the warriors of Badr was the same as the number of Saul's companions who crossed the river (of Jordan) with him, and none crossed the river with him but a believer, and they were over three-hundred-and-ten men
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے اسحاق نے، انہوں نے براء رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپس میں یہ گفتگو کرتے تھے کہ اصحاب بدر کی تعداد بھی اتنی ہی تھی جتنی اصحاب طالوت کی۔ جنہوں نے آپ کے ساتھ نہر فلسطین پار کی تھی اور ان کے ساتھ نہر کو پار کرنے والے صرف مومن ہی تھے یعنی تین سو دس سے کچھ زیادہ آدمی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ كُنَّا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم نَتَحَدَّثُ أَنَّ عِدَّةَ أَصْحَابِ بَدْرٍ عَلَى عِدَّةِ أَصْحَابِ طَالُوتَ الَّذِينَ جَاوَزُوا مَعَهُ النَّهَرَ، وَلَمْ يُجَاوِزْ مَعَهُ إِلاَّ مُؤْمِنٌ، بِضْعَةَ عَشَرَ وَثَلاَثَمِائَةٍ.
#3959
Narrated Al-Bara:We used to say that the warriors of Badr were over three-hundred-and-ten, as many as the Companions of Saul who crossed the river with him; and none crossed the river with him but a believer
مجھ سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء رضی اللہ عنہ نے (دوسری سند) اور ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، انہیں سفیان نے خبر دی، انہیں ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم آپس میں یہ گفتگو کیا کرتے تھے کہ جنگ بدر میں اصحاب بدر کی تعداد بھی تین سو دس سے اوپر، کچھ اوپر تھی، جتنی ان اصحاب طالوت کی تعداد تھی جنہوں نے ان کے ساتھ نہر فلسطین پار کی تھی اور اسے پار کرنے والے صرف ایماندار ہی تھے۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ،. وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ أَصْحَابَ بَدْرٍ ثَلاَثُمِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ، بِعِدَّةِ أَصْحَابِ طَالُوتَ الَّذِينَ جَاوَزُوا مَعَهُ النَّهَرَ، وَمَا جَاوَزَ مَعَهُ إِلاَّ مُؤْمِنٌ.
#3960
Narrated `Abdullah bin Mas`ud:The Prophet (ﷺ) faced the Ka`ba and invoked evil on some people of Quraish, on Shaiba bin Rabi`a, `Utba bin Rabi`a, Al-Walid bin `Utba and Abu Jahl bin Hisham. I bear witness, by Allah, that I saw them all dead, putrefied by the sun as that day was a very hot day
ہم سے عمرو بن خالد حرانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا، ہم سے ابواسحاق سبیعی نے بیان کیا، ان سے عمرو بن میمون نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کی طرف منہ کر کے کفار قریش کے چند لوگوں شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ اور ابوجہل بن ہشام کے حق میں بددعا کی تھی۔ میں اس کے لیے اللہ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ( بدر کے میدان میں ) ان کی لاشیں پڑی ہوئی پائیں۔ سورج نے ان کی لاشوں کو بدبودار کر دیا تھا۔ اس دن بڑی گرمی تھی۔
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ اسْتَقْبَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْكَعْبَةَ فَدَعَا عَلَى نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ، عَلَى شَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ. فَأَشْهَدُ بِاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَى، قَدْ غَيَّرَتْهُمُ الشَّمْسُ، وَكَانَ يَوْمًا حَارًّا.
#3961
Narrated `Abdullah That he came across Abu Jahl while he was on the point of death on the day of Badr. Abu Jahl said, "You should not be proud that you have killed me nor I am ashamed of being killed by my own folk
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، ہم کو قیس بن ابوحازم نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ بدر کی لڑائی میں وہ ابوجہل کے قریب سے گزرے ابھی اس میں تھوڑی سی جان باقی تھی اس نے ان سے کہا اس سے بڑا کوئی اور شخص ہے جس کو تم نے مارا ہے؟
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنَا قَيْسٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه أَنَّهُ أَتَى أَبَا جَهْلٍ وَبِهِ رَمَقٌ يَوْمَ بَدْرٍ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ هَلْ أَعْمَدُ مِنْ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ
#3962
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) said, "Who will go and see what has happened to Abu Jahl?" Ibn Mas`ud went and found that the two sons of 'Afra had struck him fatally (and he was in his last breaths). `Abdullah bin Mas`ud said, "Are you Abu Jahl?" And took him by the beard. Abu Jahl said, "Can there be a man superior to one you have killed or one whom his own folk have killed?
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اور دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا، مجھ سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان تیمی نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی ہے جو معلوم کرے کہ ابوجہل کا کیا حشر ہوا؟“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ حقیقت حال معلوم کرنے آئے تو دیکھا کے عفراء کے بیٹوں ( معاذ اور معوذ رضی اللہ عنہما ) نے اسے قتل کر دیا ہے اور اس کا جسم ٹھنڈا پڑا ہے۔ انہوں نے دریافت کیا، کیا تو ہی ابوجہل ہے؟ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کی ڈاڑھی پکڑ لی۔ ابوجہل نے کہا، کیا اس سے بھی بڑا کوئی آدمی ہے جسے تم نے آج قتل کر ڈالا ہے؟ یا ( اس نے یہ کہا کہ کیا اس سے بھی بڑا ) کوئی آدمی ہے جسے اس کی قوم نے قتل کر ڈالا ہے؟ احمد بن یونس نے ( اپنی روایت میں ) «أنت» ابوجھل کے الفاظ بیان کئے ہیں۔ یعنی انہوں نے یہ پوچھا، کیا تو ہی ابوجہل ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، أَنَّ أَنَسًا، حَدَّثَهُمْ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَنْ يَنْظُرُ مَا صَنَعَ أَبُو جَهْلٍ " فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَدَ قَالَ آأَنْتَ أَبُو جَهْلٍ قَالَ فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ. قَالَ وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ أَوْ رَجُلٍ قَتَلَهُ قَوْمُهُ? قَالَ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ أَنْتَ أَبُو جَهْلٍ?
#3963
Narrated Anas bin Malik:(as above Hadith)
حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُثَنَّى، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، نَحْوَهُ.
#3964
Narrated `Abdur-Rahman bin `Auf:(the grandfather of Salih bin Ibrahim) the story of Badr, namely, the narration regarding the sons of 'Afra
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے یوسف بن ماجشون سے یہ حدیث لکھی، انہوں نے صالح بن ابراہیم سے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے صالح کے دادا ( عبدالرحمٰن بن عوفص ) سے، بدر کے بارے میں عفراء کے دونوں بیٹوں کی حدیث مراد لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَتَبْتُ عَنْ يُوسُفَ بْنِ الْمَاجِشُونِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، فِي بَدْرٍ. يَعْنِي حَدِيثَ ابْنَىْ عَفْرَاءَ.
#3965
Narrated Abu Mijlaz:From Qais bin Ubad: `Ali bin Abi Talib said, "I shall be the first man to kneel down before (Allah), the Beneficent to receive His judgment on the day of Resurrection (in my favor)." Qais bin Ubad also said, "The following Verse was revealed in their connection:-- "These two opponents believers and disbelievers) Dispute with each other About their Lord." (22.19) Qais said that they were those who fought on the day of Badr, namely, Hamza, `Ali, 'Ubaida or Abu 'Ubaida bin Al-Harith, Shaiba bin Rabi`a, `Utba and Al-Walid bin `Utba
مجھ سے محمد بن عبداللہ رقاشی نے بیان کیا، ہم سے معتمر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابومجلز نے، ان سے قیس بن عباد نے اور ان سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قیامت کے دن میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جو اللہ تعالیٰ کے دربار میں جھگڑا چکانے کے لیے دو زانو ہو کر بیٹھے گا۔ قیس بن عباد نے بیان کیا کہ انہیں حضرات ( حمزہ، علی اور عبیدہ رضی اللہ عنہم ) کے بارے میں سورۃ الحج کی یہ آیت نازل ہوئی تھی «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ”یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اللہ کے بارے میں لڑائی کی۔“ بیان کیا کہ یہ وہی ہیں جو بدر کی لڑائی میں لڑنے نکلے تھے، مسلمانوں کی طرف سے حمزہ، علی اور عبیدہ یا ابوعبیدہ بن حارث رضوان اللہ علیہم ( اور کافروں کی طرف سے ) شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ تھے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، حَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ قَالَ أَنَا أَوَّلُ، مَنْ يَجْثُو بَيْنَ يَدَىِ الرَّحْمَنِ لِلْخُصُومَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. وَقَالَ قَيْسُ بْنُ عُبَادٍ وَفِيهِمْ أُنْزِلَتْ {هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ} قَالَ هُمُ الَّذِينَ تَبَارَزُوا يَوْمَ بَدْرٍ حَمْزَةُ وَعَلِيٌّ وَعُبَيْدَةُ أَوْ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْحَارِثِ وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَعُتْبَةُ وَالْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ.
#3966
Narrated Abu Dhar:The following Holy Verse:-- "These two opponents (believers & disbelievers) dispute with each other about their Lord," (22.19) was revealed concerning six men from Quraish, namely, `Ali, Hamza, 'Ubaida bin Al-Harith; Shaiba bin Rabi`a, `Utba bin Rabi`a and Al-Walid bin `Utba
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے ابوہاشم نے، ان سے ابومجلز نے، ان سے قیس بن عباد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا آیت کریمہ «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ”یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اللہ کے بارے میں مقابلہ کیا“ قریش کے چھ شخصوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی ( تین مسلمانوں کی طرف کے یعنی علی، حمزہ اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہم اور ( تین کفار کی طرف کے یعنی ) شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ۔
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ نَزَلَتْ {هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ} فِي سِتَّةٍ مِنْ قُرَيْشٍ عَلِيٍّ وَحَمْزَةَ وَعُبَيْدَةَ بْنِ الْحَارِثِ وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ.
#3967
Narrated `Ali:The following Holy Verse:-- "These two opponents (believers and disbelievers) dispute with each other about their Lord." (22.19) was revealed concerning us
ہم سے اسحاق بن ابراہیم صواف نے بیان کیا، ہم سے یوسف بن یعقوب نے بیان کیا، ان کا بنی ضبیعہ کے یہاں آنا جانا تھا اور وہ بنی سدوس کے غلام تھے۔ کہا ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا، ان سے ابومجلز نے اور ان سے قیس بن عباد نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا یہ آیت «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ہمارے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ ـ كَانَ يَنْزِلُ فِي بَنِي ضُبَيْعَةَ وَهْوَ مَوْلًى لِبَنِي سَدُوسَ ـ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ قَالَ عَلِيٌّ ـ رضى الله عنه فِينَا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ }
#3968
Narrated Qais bin Ubad:I heard Abu Dhar swearing that these Holy Verses were revealed in connection with those six persons on the day of Badr
ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، ہم کو وکیع نے خبر دی، انہیں سفیان نے، انہیں ابوہاشم نے، انہیں ابومجلز نے، انہیں قیس بن عباد نے اور انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ قسمیہ بیان کرتے تھے کہ یہ آیت ( «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ) انہیں چھ آدمیوں کے بارے میں، بدر کی لڑائی کے موقع پر نازل ہوئی تھی۔ پہلی حدیث کی طرح راوی نے اسے بھی بیان کیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ـ رضى الله عنه ـ يُقْسِمُ لَنَزَلَتْ هَؤُلاَءِ الآيَاتُ فِي هَؤُلاَءِ الرَّهْطِ السِّتَّةِ يَوْمَ بَدْرٍ. نَحْوَهُ.
#3969
Narrated Qais:I heard Abu Dhar swearing that the following Holy verse:-- "These two opponents (believers and disbelievers) disputing with each other about their Lord," (22.19) was revealed concerning those men who fought on the day of Badr, namely, Hamza, `Ali, Ubaida bin Al-Harith, `Utba and Shaiba----the two sons of Rabi`a-- and Al-Walid bin `Utba
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ہم کو ابوہاشم نے خبر دی، انہیں ابومجلز نے، انہیں قیس نے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ قسمیہ کہتے تھے کہ یہ آیت «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ان کے بارے میں اتری جو بدر کی لڑائی میں مقابلے کے لیے نکلے تھے یعنی حمزہ، علی اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہم ( مسلمانوں کی طرف سے ) اور عتبہ، شیبہ، ربیعہ کے بیٹے اور ولید بن عتبہ ( کافروں کی طرف سے ) ۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يُقْسِمُ قَسَمًا إِنَّ هَذِهِ الآيَةَ {هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ } نَزَلَتْ فِي الَّذِينَ بَرَزُوا يَوْمَ بَدْرٍ حَمْزَةَ وَعَلِيٍّ وَعُبَيْدَةَ بْنِ الْحَارِثِ وَعُتْبَةَ وَشَيْبَةَ ابْنَىْ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ.
#3970
Narrated Abu 'Is-haq:A man asked Al-Bara' and I was listening, "Did `Ali take part in (the battle of) Badr?" Al-Bara' said, "(Yes). he even met (his enemies) in a duel and was clad in two armors (one over the other)
مجھ سے ابوعبداللہ احمد بن سعید نے بیان کیا، ہم سے اسحاق بن منصور سلولی نے بیان کیا، ہم سے ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ یوسف بن اسحاق نے اور ان سے ان کے دادا ابواسحاق سبیعی نے کہ ایک شخص نے براء رضی اللہ عنہ سے پوچھا اور میں سن رہا تھا کہ کیا علی رضی اللہ عنہ بدر کی جنگ میں شریک تھے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں انہوں نے تو مبارزت کی تھی اور غالب رہے تھے۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، سَأَلَ رَجُلٌ الْبَرَاءَ وَأَنَا أَسْمَعُ، قَالَ أَشَهِدَ عَلِيٌّ بَدْرًا قَالَ بَارَزَ وَظَاهَرَ.
#3971
Narrated `Abdur-Rahman bin `Auf:"I had an agreement with Umaiya bin Khalaf (that he would look after my relatives and property in Mecca, and I would look after his relatives and property in Medina)." `Abdur-Rahman then mentioned the killing of Umaiya and his son on the day of Badr, and Bilal said, "Woe to me if Umaiya remains safe (i.e. alive)
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یوسف بن ماجشون نے بیان کیا، ان سے صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، ان سے ان کے والد ابراہیم نے ان کے دادا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ امیہ بن خلف سے ( ہجرت کے بعد ) میرا عہد نامہ ہو گیا تھا۔ پھر بدر کی لڑائی کے موقع پر انہوں نے اس کے اور اس کے بیٹے ( علی ) کے قتل کا ذکر کیا۔ بلال نے ( جب اسے دیکھ لیا تو ) کہا کہ اگر آج امیہ بچ نکلا تو میں آخرت میں عذاب سے بچ نہیں سکوں گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ كَاتَبْتُ أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ، فَذَكَرَ قَتْلَهُ وَقَتْلَ ابْنِهِ، فَقَالَ بِلاَلٌ لاَ نَجَوْتُ إِنْ نَجَا أُمَيَّةُ.
#3972
Narrated 'Abdullah: The Prophet (ﷺ) recited Surat-an-Najm and then prostrated himself, and all who were with him prostrated too. But an old man took a handful of dust and touched his forehead with it saying, "This is sufficient for me." Later on I saw him killed as an infidel
ہم سے عبدان بن عثمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں ابواسحٰق نے، انہیں اسود نے اور انہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک مرتبہ مکہ میں ) سورۃ النجم کی تلاوت کی اور سجدہ تلاوت کیا تو جتنے لوگ وہاں موجود تھے سب سجدہ میں گر گئے۔ سوائے ایک بوڑھے کے کہ اس نے ہتھیلی میں مٹی لے کر اپنی پیشانی پر اسے لگا لیا اور کہنے لگا کہ میرے لیے بس اتنا ہی کافی ہے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں نے اسے دیکھا کہ کفر کی حالت میں وہ قتل ہوا۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَرَأَ {وَالنَّجْمِ} فَسَجَدَ بِهَا، وَسَجَدَ مَنْ مَعَهُ، غَيْرَ أَنَّ شَيْخًا أَخَذَ كَفًّا مِنْ تُرَابٍ فَرَفَعَهُ إِلَى جَبْهَتِهِ فَقَالَ يَكْفِينِي هَذَا. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا.
#3973
Narrated 'Urwa (the son of Az-Zubair): Az-Zubair had three scars caused by the sword, one of which was over his shoulder and I used to insert my fingers in it. He received two of those wounds on the day of Badr and one on the day of Al-Yarmuk. When 'Abdullah bin Zubair was killed, 'Abdul-Malik bin Marwan said to me, "O 'Urwa, do you recognize the sword of Az-Zubair?" I said, "Yes." He said, "What marks does it have?" I replied, "It has a dent in its sharp edge which was caused in it on the day of Badr." 'Abdul- Malik said, "You are right! (i.e. their swords) have dents because of clashing with the regiments of the enemies Then 'Abdul-Malik returned that sword to me (i.e. Urwa). (Hisham, 'Urwa's son said, "We estimated the price of the sword as three-thousand (Dinars) and after that it was taken by one of us (i.e. the inheritors) and I wish I could have had it
مجھے ابراہیم بن موسیٰ نے خبر دی، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہشام نے، ان سے عروہ نے بیان کیا کہ زبیر رضی اللہ عنہ کے جسم پر تلوار کے تین ( گہرے ) زخموں کے نشانات تھے۔ ایک ان کے مونڈھے پر تھا ( اور اتنا گہرا تھا ) کہ میں بچپن میں اپنی انگلیاں ان میں داخل کر دیا کرتا تھا۔ عروہ نے بیان کیا کہ ان میں سے دو زخم بدر کی لڑائی میں آئے تھے اور ایک جنگ یرموک میں۔ عروہ نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو ( حجاج ظالم کے ہاتھوں سے ) شہید کر دیا گیا تو مجھ سے عبدالملک بن مروان نے کہا: اے عروہ! کیا زبیر رضی اللہ عنہ کی تلوار تم پہچانتے ہو؟ میں نے کہا کہ ہاں، پہچانتا ہوں۔ اس نے پوچھا اس کی نشانی بتاؤ؟ میں نے کہا کہ بدر کی لڑائی کے موقع پر اس کی دھار کا ایک حصہ ٹوٹ گیا تھا، جو ابھی تک اس میں باقی ہے۔ عبدالملک نے کہا کہ تم نے سچ کہا ( پھر اس نے نابغہ شاعر کا یہ مصرع پڑھا ) فوجوں کے ساتھ لڑتے لڑتے ان کی تلوارں کی دھاریں کی جگہ سے ٹوٹ گی ہیں“ پھر عبدالملک نے وہ تلوار عروہ کو واپس کر دی ‘ ہشام نے بیان کیا کہ ہمارا اندازہ تھا کہ اس تلوار کی قیمت تین ہزار درہم تھی۔ وہ تلوار ہمارے ایک عزیز ( عثمان بن عروہ ) نے قیمت دے کر لے لی تھی میری بڑی آرزو تھی کہ کاش! وہ تلوار میرے حصے میں آتی۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ كَانَ فِي الزُّبَيْرِ ثَلاَثُ ضَرَبَاتٍ بِالسَّيْفِ، إِحْدَاهُنَّ فِي عَاتِقِهِ، قَالَ إِنْ كُنْتُ لأُدْخِلُ أَصَابِعِي فِيهَا. قَالَ ضُرِبَ ثِنْتَيْنِ يَوْمَ بَدْرٍ، وَوَاحِدَةً يَوْمَ الْيَرْمُوكِ. قَالَ عُرْوَةُ وَقَالَ لِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ حِينَ قُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يَا عُرْوَةُ، هَلْ تَعْرِفُ سَيْفَ الزُّبَيْرِ قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ فَمَا فِيهِ قُلْتُ فِيهِ فَلَّةٌ فُلَّهَا يَوْمَ بَدْرٍ. قَالَ صَدَقْتَ. بِهِنَّ فُلُولٌ مِنْ قِرَاعِ الْكَتَائِبِ ثُمَّ رَدَّهُ عَلَى عُرْوَةَ. قَالَ هِشَامٌ فَأَقَمْنَاهُ بَيْنَنَا ثَلاَثَةَ آلاَفٍ، وَأَخَذَهُ بَعْضُنَا، وَلَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ أَخَذْتُهُ.
#3974
Narrated Hisham:That his father said, "The sword of Az-Zubair was decorated with silver." Hisham added, "The sword of `Urwa was (also) decorated with silver
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا ‘ ان سے علی بن مسہر نے ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے والد عروہ نے بیان کیا کہ زبیر رضی اللہ عنہ کی تلوار پر چاندی کا کام تھا۔ ہشام نے کہا کہ ( میرے والد ) عروہ کی تلوار پر چاندی کا کام تھا۔
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ سَيْفُ الزُّبَيْرِ مُحَلًّى بِفِضَّةٍ. قَالَ هِشَامٌ وَكَانَ سَيْفُ عُرْوَةَ مُحَلًّى بِفِضَّةٍ.
#3975
Narrated `Urwa:On the day of (the battle) of Al-Yarmuk, the companions of Allah's Messenger (ﷺ) said to Az-Zubair, "Will you attack the enemy so that we shall attack them with you?" Az-Zubair replied, "If I attack them, you people would not support me." They said, "No, we will support you." So Az-Zubair attacked them (i.e. Byzantines) and pierced through their lines, and went beyond them and none of his companions was with him. Then he returned and the enemy got hold of the bridle of his (horse) and struck him two blows (with the sword) on his shoulder. Between these two wounds there was a scar caused by a blow, he had received on the day of Badr (battle). When I was a child I used to play with those scars by putting my fingers in them. On that day (my brother) "Abdullah bin Az-Zubair was also with him and he was ten years old. Az-Zubair had carried him on a horse and left him to the care of some men
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا ‘ ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا ‘ انہیں ہشام بن عروہ نے خبر دی ‘ انہیں ان کے والد نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے زبیر رضی اللہ عنہ سے یرموک کی جنگ میں کہا آپ حملہ کرتے تو ہم بھی آپ کے ساتھ حملہ کرتے انہوں نے کہا کہ اگر میں نے ان پر زور کا حملہ کر دیا تو پھر تم لوگ پیچھے رہ جاؤ گے سب بولے کہ ہم ایسا نہیں کریں گے۔ چنانچہ زبیر رضی اللہ عنہ نے دشمن ( رومی فوج ) پر حملہ کیا اور ان کی صفوں کو چیرتے ہوئے آگے نکل گئے۔ اس وقت ان کے ساتھ کوئی ایک بھی ( مسلمان ) نہیں رہا پھر ( مسلمان فوج کی طرف ) آنے لگے تو رومیوں نے ان کے گھوڑے کی لگام پکڑ لی اور مونڈھے پر دو کاری زخم لگائے، جو زخم بدر کی لڑائی کے موقع پر ان کو لگا تھا وہ ان دونوں زخموں کے درمیان میں پڑ گیا تھا۔ عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ جب میں چھوٹا تھا تو ان زخموں میں اپنی انگلیاں ڈال کر کھیلا کرتا تھا۔ عروہ نے بیان کیا کہ یرموک کی لڑائی کے موقع پر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ گئے تھے، اس وقت ان کی عمر کل دس سال کی تھی اس لیے ان کو ایک گھوڑے پر سوار کر کے ایک صاحب کی حفاظت میں دے دیا تھا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَصْحَابَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالُوا لِلزُّبَيْرِ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ أَلاَ تَشُدُّ فَنَشُدَّ مَعَكَ فَقَالَ إِنِّي إِنْ شَدَدْتُ كَذَبْتُمْ. فَقَالُوا لاَ نَفْعَلُ، فَحَمَلَ عَلَيْهِمْ حَتَّى شَقَّ صُفُوفَهُمْ، فَجَاوَزَهُمْ وَمَا مَعَهُ أَحَدٌ، ثُمَّ رَجَعَ مُقْبِلاً، فَأَخَذُوا بِلِجَامِهِ، فَضَرَبُوهُ ضَرْبَتَيْنِ عَلَى عَاتِقِهِ بَيْنَهُمَا ضَرْبَةٌ ضُرِبَهَا يَوْمَ بَدْرٍ. قَالَ عُرْوَةُ كُنْتُ أُدْخِلُ أَصَابِعِي فِي تِلْكَ الضَّرَبَاتِ أَلْعَبُ وَأَنَا صَغِيرٌ. قَالَ عُرْوَةُ وَكَانَ مَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يَوْمَئِذٍ وَهْوَ ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ، فَحَمَلَهُ عَلَى فَرَسٍ وَكَّلَ بِهِ رَجُلاً.