#3876
Narrated Abu Musa:We received the news of the departure of the Prophet (to Medina) while we were in Yemen. So we went on board a ship but our ship took us away to An-Najashi (the Negus) in Ethiopia. There we met Ja`far bin Abi Talib and stayed with him till we came (to Medina) by the time when the Prophet (ﷺ) had conquered Khaibar. The Prophet (ﷺ) said, "O you people of the ship! You will have (the reward of) two migrations
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے برید بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ کی اطلاع ملی تو ہم یمن میں تھے۔ پھر ہم کشتی پر سوار ہوئے لیکن اتفاق سے ہوا نے ہماری کشتی کا رخ نجاشی کے ملک حبشہ کی طرف کر دیا۔ ہماری ملاقات وہاں جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ہوئی ( جو ہجرت کر کے وہاں موجود تھے ) ہم انہیں کے ساتھ وہاں ٹھہرے رہے، پھر مدینہ کا رخ کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت ملاقات ہوئی جب آپ خیبر فتح کر چکے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اے کشتی والو! دو ہجرتیں کی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ بَلَغَنَا مَخْرَجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ فَرَكِبْنَا سَفِينَةً فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ، فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا، فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَكُمْ أَنْتُمْ يَا أَهْلَ السَّفِينَةِ هِجْرَتَانِ ".
#3877
Narrated Jabir:When Negus died, the Prophet (ﷺ) said, "Today a pious man has died. So get up and offer the funeral prayer for your brother Ashama
ہم سے ابوربیع سلیمان بن داؤد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے عطاء بن ابی رباح نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جس دن نجاشی ( حبشہ کے بادشاہ ) کی وفات ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آج ایک مرد صالح اس دنیا سے چلا گیا، اٹھو اور اپنے بھائی اصحمہ کی نماز جنازہ پڑھ لو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حِينَ مَاتَ النَّجَاشِيُّ " مَاتَ الْيَوْمَ رَجُلٌ صَالِحٌ، فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَى أَخِيكُمْ أَصْحَمَةَ ".
#3878
Narrated Jabir bin `Abdullah Al-Ansari:Allah's Messenger (ﷺ) led the funeral prayer for the Negus and made us stand in rows behind him and I was in the second or third row
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کے جنازہ کی نماز پڑھی تھی اور ہم صف باندھ کر آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے۔ میں دوسری یا تیسری صف میں تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ عَطَاءً، حَدَّثَهُمْ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ فَصَفَّنَا وَرَاءَهُ فَكُنْتُ فِي الصَّفِّ الثَّانِي أَوِ الثَّالِثِ.
#3879
Narrated Jabir bin `Abdullah:The Prophet (ﷺ) offered the funeral prayer for Ashama, the Negus, with four Takbir
مجھ سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، ان سے سلیم بن حیان نے، کہا ہم سے سعید بن میناء نے بیان کیا، ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحمہ نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی اور چار مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں تکبیر کہی۔ یزید بن ہارون کے ساتھ اس حدیث کو عبدالصمد بن عبدالوارث نے بھی ( سلیم بن حیان ) سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ سَلِيمِ بْنِ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى عَلَى أَصْحَمَةَ النَّجَاشِيِّ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا. تَابَعَهُ عَبْدُ الصَّمَدِ.
#3880
Narrated Abu Huraira:that Allah's Messenger (ﷺ) informed them (i.e. his companions) of the death of Negus, the king of Ethiopia, on the very day on which the latter died, and said, "Ask Allah's Forgiveness for your brother
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد (ابراہیم بن سعد) نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب نے بیان کیا اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دے دی تھی جس دن ان کا انتقال ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اپنے بھائی کی مغفرت کے لیے دعا کرو۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَابْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَخْبَرَهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَعَى لَهُمُ النَّجَاشِيَّ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَقَالَ " اسْتَغْفِرُوا لأَخِيكُمْ ".
#3881
Abu Huraira further said: "Allah's Messenger (ﷺ) made them (i.e. the Muslims) stand in rows at the Musalla (i.e. praying place) and led the funeral prayer for the Negus and said four Takbir
اور صالح سے روایت ہے کہ ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نماز جنازہ کے لیے ) عیدگاہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کو صف بستہ کھڑا کیا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مرتبہ تکبیر کہی تھی۔
وَعَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَفَّ بِهِمْ فِي الْمُصَلَّى، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا.
#3882
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ), while going out for the battle of Hunain, said, "Tomorrow Allah willing, we will encamp at Khaif Bani Kinana where the pagans(of Quraish) took the oath of Kufr (against the Prophet (ﷺ) i.e. to be loyal to heathenism, by boycotting Banu Hashim, the Prophet's folk. (See Hadith)
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین کا قصد کیا تو فرمایا ”ان شاءاللہ کل ہمارا قیام خیف بنی کنانہ میں ہو گا۔“ جہاں مشرکین نے کافر ہی رہنے کے لیے عہد و پیمان کیا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ أَرَادَ حُنَيْنًا " مَنْزِلُنَا غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ، حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ ".
#3883
Narrated Al-Abbas bin `Abdul Muttalib:That he said to the Prophet (ﷺ) "You have not been of any avail to your uncle (Abu Talib) (though) by Allah, he used to protect you and used to become angry on your behalf." The Prophet (ﷺ) said, "He is in a shallow fire, and had It not been for me, he would have been in the bottom of the (Hell) Fire
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، ان سے سفیان ثوری نے، کہا ہم سے عبدالملک بن عمیر نے، ان سے عبداللہ بن حارث نے بیان کیا ان سے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ اپنے چچا ( ابوطالب ) کے کیا کام آئے کہ وہ آپ کی حمایت کیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غصہ ہوتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( اسی وجہ سے ) وہ صرف ٹخنوں تک جہنم میں ہیں اگر میں ان کی سفارش نہ کرتا تو وہ دوزخ کی تہ میں بالکل نیچے ہوتے۔“
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا أَغْنَيْتَ عَنْ عَمِّكَ فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ. قَالَ " هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ، وَلَوْلاَ أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرَكِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ".
#3884
Narrated Al-Musaiyab:When Abu Talib was in his death bed, the Prophet (ﷺ) went to him while Abu Jahl was sitting beside him. The Prophet (ﷺ) said, "O my uncle! Say: None has the right to be worshipped except Allah, an expression I will defend your case with, before Allah." Abu Jahl and `Abdullah bin Umaiya said, "O Abu Talib! Will you leave the religion of `Abdul Muttalib?" So they kept on saying this to him so that the last statement he said to them (before he died) was: "I am on the religion of `Abdul Muttalib." Then the Prophet said, " I will keep on asking for Allah's Forgiveness for you unless I am forbidden to do so." Then the following Verse was revealed:-- "It is not fitting for the Prophet (ﷺ) and the believers to ask Allah's Forgiveness for the pagans, even if they were their near relatives, after it has become clear to them that they are the dwellers of the (Hell) Fire." (9.113) The other Verse was also revealed:-- "(O Prophet!) Verily, you guide not whom you like, but Allah guides whom He will
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزق نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سعید بن مسیب نے اور انہیں ان کے والد مسیب بن حزن صحابی رضی اللہ عنہ نے کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے۔ اس وقت وہاں ابوجہل بھی بیٹھا ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چچا! کلمہ لا الہٰ الا اللہ ایک مرتبہ کہہ دو، اللہ کی بارگاہ میں ( آپ کی بخشش کے لیے ) ایک یہی دلیل میرے ہاتھ آ جائے گی۔“ اس پر ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا: اے ابوطالب! کیا عبدالمطلب کے دین سے تم پھر جاؤ گے! یہ دونوں ان ہی پر زور دیتے رہے اور آخری کلمہ جو ان کی زبان سے نکلا، وہ یہ تھا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر قائم ہوں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ان کے لیے اس وقت تک مغفرت طلب کرتا رہوں گا جب تک مجھے اس سے منع نہ کر دیا جائے گا۔ چنانچہ ( سورۃ براۃ میں ) یہ آیت نازل ہوئی «ما كان للنبي والذين آمنوا أن يستغفروا للمشركين ولو كانوا أولي قربى من بعد ما تبين لهم أنهم أصحاب الجحيم» ”نبی کے لیے اور مسلمانوں کے لیے مناسب نہیں ہے کہ مشرکین کے لیے دعا مغفرت کریں خواہ وہ ان کے ناطے والے ہی کیوں نہ ہوں جب کہ ان کے سامنے یہ بات واضح ہو گئی کہ وہ دوزخی ہیں۔“ اور سورۃ قصص میں یہ آیت نازل ہوئی «إنك لا تهدي من أحببت» ”بیشک جسے آپ چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے۔“
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا طَالِبٍ، لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ دَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ " أَىْ عَمِّ، قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ. كَلِمَةً أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ ". فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ يَا أَبَا طَالِبٍ، تَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَمْ يَزَالاَ يُكَلِّمَانِهِ حَتَّى قَالَ آخِرَ شَىْءٍ كَلَّمَهُمْ بِهِ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْهُ ". فَنَزَلَتْ {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ} وَنَزَلَتْ {إِنَّكَ لاَ تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ}
#3885
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:That he heard the Prophet (ﷺ) when somebody mentioned his uncle (i.e. Abu Talib), saying, "Perhaps my intercession will be helpful to him on the Day of Resurrection so that he may be put in a shallow fire reaching only up to his ankles. His brain will boil from it." Narrated Yazid: (as above, Hadith 224) using the words: "will make his brain boil
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن عبداللہ ابن الہاد نے، ان سے عبداللہ بن خباب نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آپ کے چچا کا ذکر ہو رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شاید قیامت کے دن انہیں میری شفاعت کام آ جائے اور انہیں صرف ٹخنوں تک جہنم میں رکھا جائے جس سے ان کا دماغ کھولے گا۔“ ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابوحازم اور درا وردی نے بیان کیا یزید سے اسی مذکورہ حدیث کی طرح، البتہ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ ابوطالب کے دماغ کا بھیجہ اس سے کھولے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ فَقَالَ " لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُجْعَلُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ، يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ، يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ ". حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ وَالدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ يَزِيدَ بِهَذَا، وَقَالَ تَغْلِي مِنْهُ أُمُّ دِمَاغِهِ.
#3886
Narrated Jabir bin `Abdullah:That he heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "When the people of Quraish did not believe me (i.e. the story of my Night Journey), I stood up in Al-Hijr and Allah displayed Jerusalem in front of me, and I began describing it to them while I was looking at it
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، کہ مجھ سے کہا ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب قریش نے ( معراج کے واقعہ کے سلسلے میں ) مجھ کو جھٹلایا تو میں حطیم میں کھڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے میرے لیے بیت المقدس کو روشن کر دیا اور میں نے اسے دیکھ کر قریش سے اس کے پتے اور نشان بیان کرنا شروع کر دیئے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَمَّا كَذَّبَنِي قُرَيْشٌ قُمْتُ فِي الْحِجْرِ، فَجَلاَ اللَّهُ لِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ، فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ ".
#3887
Narrated Anas bin Malik:Malik bin Sasaa said that Allah's Messenger (ﷺ) described to them his Night Journey saying, "While I was lying in Al-Hatim or Al-Hijr, suddenly someone came to me and cut my body open from here to here." I asked Al-Jarud who was by my side, "What does he mean?" He said, "It means from his throat to his pubic area," or said, "From the top of the chest." The Prophet (ﷺ) further said, "He then took out my heart. Then a gold tray of Belief was brought to me and my heart was washed and was filled (with Belief) and then returned to its original place. Then a white animal which was smaller than a mule and bigger than a donkey was brought to me." (On this Al-Jarud asked, "Was it the Buraq, O Abu Hamza?" I (i.e. Anas) replied in the affirmative). The Prophet (ﷺ) said, "The animal's step (was so wide that it) reached the farthest point within the reach of the animal's sight. I was carried on it, and Gabriel set out with me till we reached the nearest heaven. When he asked for the gate to be opened, it was asked, 'Who is it?' Gabriel answered, 'Gabriel.' It was asked, 'Who is accompanying you?' Gabriel replied, 'Muhammad.' It was asked, 'Has Muhammad been called?' Gabriel replied in the affirmative. Then it was said, 'He is welcomed. What an excellent visit his is!' The gate was opened, and when I went over the first heaven, I saw Adam there. Gabriel said (to me). 'This is your father, Adam; pay him your greetings.' So I greeted him and he returned the greeting to me and said, 'You are welcomed, O pious son and pious Prophet.' Then Gabriel ascended with me till we reached the second heaven. Gabriel asked for the gate to be opened. It was asked, 'Who is it?' Gabriel answered, 'Gabriel.' It was asked, 'Who is accompanying you?' Gabriel replied, 'Muhammad.' It was asked, 'Has he been called?' Gabriel answered in the affirmative. Then it was said, 'He is welcomed. What an excellent visit his is!' The gate was opened. When I went over the second heaven, there I saw Yahya (i.e. John) and `Isa (i.e. Jesus) who were cousins of each other. Gabriel said (to me), 'These are John and Jesus; pay them your greetings.' So I greeted them and both of them returned my greetings to me and said, 'You are welcomed, O pious brother and pious Prophet.' Then Gabriel ascended with me to the third heaven and asked for its gate to be opened. It was asked, 'Who is it?' Gabriel replied, 'Gabriel.' It was asked, 'Who is accompanying you?' Gabriel replied, 'Muhammad.' It was asked, 'Has he been called?' Gabriel replied in the affirmative. Then it was said, 'He is welcomed, what an excellent visit his is!' The gate was opened, and when I went over the third heaven there I saw Joseph. Gabriel said (to me), 'This is Joseph; pay him your greetings.' So I greeted him and he returned the greeting to me and said, 'You are welcomed, O pious brother and pious Prophet.' Then Gabriel ascended with me to the fourth heaven and asked for its gate to be opened. It was asked, 'Who is it?' Gabriel replied, 'Gabriel' It was asked, 'Who is accompanying you?' Gabriel replied, 'Muhammad.' It was asked, 'Has he been called?' Gabriel replied in the affirmative. Then it was said, 'He is welcomed, what an excel lent visit his is!' The gate was opened, and when I went over the fourth heaven, there I saw Idris. Gabriel said (to me), 'This is Idris; pay him your greetings.' So I greeted him and he returned the greeting to me and said, 'You are welcomed, O pious brother and pious Prophet.' Then Gabriel ascended with me to the fifth heaven and asked for its gate to be opened. It was asked, 'Who is it?' Gabriel replied, 'Gabriel.' It was asked. 'Who is accompanying you?' Gabriel replied, 'Muhammad.' It was asked, 'Has he been called?' Gabriel replied in the affirmative. Then it was said He is welcomed, what an excellent visit his is! So when I went over the fifth heaven, there I saw Harun (i.e. Aaron), Gabriel said, (to me). This is Aaron; pay him your greetings.' I greeted him and he returned the greeting to me and said, 'You are welcomed, O pious brother and pious Prophet.' Then Gabriel ascended with me to the sixth heaven and asked for its gate to be opened. It was asked. 'Who is it?' Gabriel replied, 'Gabriel.' It was asked, 'Who is accompanying you?' Gabriel replied, 'Muhammad.' It was asked, 'Has he been called?' Gabriel replied in the affirmative. It was said, 'He is welcomed. What an excellent visit his is!' When I went (over the sixth heaven), there I saw Moses. Gabriel said (to me),' This is Moses; pay him your greetings. So I greeted him and he returned the greetings to me and said, 'You are welcomed, O pious brother and pious Prophet.' When I left him (i.e. Moses) he wept. Someone asked him, 'What makes you weep?' Moses said, 'I weep because after me there has been sent (as Prophet) a young man whose followers will enter Paradise in greater numbers than my followers.' Then Gabriel ascended with me to the seventh heaven and asked for its gate to be opened. It was asked, 'Who is it?' Gabriel replied, 'Gabriel.' It was asked,' Who is accompanying you?' Gabriel replied, 'Muhammad.' It was asked, 'Has he been called?' Gabriel replied in the affirmative. Then it was said, 'He is welcomed. What an excellent visit his is!' So when I went (over the seventh heaven), there I saw Abraham. Gabriel said (to me), 'This is your father; pay your greetings to him.' So I greeted him and he returned the greetings to me and said, 'You are welcomed, O pious son and pious Prophet.' Then I was made to ascend to Sidrat-ul-Muntaha (i.e. the Lote Tree of the utmost boundary) Behold! Its fruits were like the jars of Hajr (i.e. a place near Medina) and its leaves were as big as the ears of elephants. Gabriel said, 'This is the Lote Tree of the utmost boundary) . Behold ! There ran four rivers, two were hidden and two were visible, I asked, 'What are these two kinds of rivers, O Gabriel?' He replied,' As for the hidden rivers, they are two rivers in Paradise and the visible rivers are the Nile and the Euphrates.' Then Al-Bait-ul-Ma'mur (i.e. the Sacred House) was shown to me and a container full of wine and another full of milk and a third full of honey were brought to me. I took the milk. Gabriel remarked, 'This is the Islamic religion which you and your followers are following.' Then the prayers were enjoined on me: They were fifty prayers a day. When I returned, I passed by Moses who asked (me), 'What have you been ordered to do?' I replied, 'I have been ordered to offer fifty prayers a day.' Moses said, 'Your followers cannot bear fifty prayers a day, and by Allah, I have tested people before you, and I have tried my level best with Bani Israel (in vain). Go back to your Lord and ask for reduction to lessen your followers' burden.' So I went back, and Allah reduced ten prayers for me. Then again I came to Moses, but he repeated the same as he had said before. Then again I went back to Allah and He reduced ten more prayers. When I came back to Moses he said the same, I went back to Allah and He ordered me to observe ten prayers a day. When I came back to Moses, he repeated the same advice, so I went back to Allah and was ordered to observe five prayers a day. When I came back to Moses, he said, 'What have you been ordered?' I replied, 'I have been ordered to observe five prayers a day.' He said, 'Your followers cannot bear five prayers a day, and no doubt, I have got an experience of the people before you, and I have tried my level best with Bani Israel, so go back to your Lord and ask for reduction to lessen your follower's burden.' I said, 'I have requested so much of my Lord that I feel ashamed, but I am satisfied now and surrender to Allah's Order.' When I left, I heard a voice saying, 'I have passed My Order and have lessened the burden of My Worshipers
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شب معراج کا واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حطیم میں لیٹا ہوا تھا۔ بعض دفعہ قتادہ نے حطیم کے بجائے حجر بیان کیا کہ میرے پاس ایک صاحب ( جبرائیل علیہ السلام ) آئے اور میرا سینہ چاک کیا۔ قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ یہاں سے یہاں تک۔ میں نے جارود سے سنا جو میرے قریب ہی بیٹھے تھے۔ پوچھا کہ انس رضی اللہ عنہ کی اس لفظ سے کیا مراد تھی؟ تو انہوں نے کہا کہ حلق سے ناف تک چاک کیا ( قتادہ نے بیان کیا کہ ) میں نے انس سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے کے اوپر سے ناف تک چاک کیا، پھر میرا دل نکالا اور ایک سونے کا طشت لایا گیا جو ایمان سے بھرا ہوا تھا، اس سے میرا دل دھویا گیا اور پہلے کی طرح رکھ دیا گیا۔ اس کے بعد ایک جانور لایا گیا جو گھوڑے سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا اور سفید! جارود نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ابوحمزہ! کیا وہ براق تھا؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ اس کا ہر قدم اس کے منتہائے نظر پر پڑتا تھا ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) مجھے اس پر سوار کیا گیا اور جبرائیل مجھے لے کر چلے آسمان دنیا پر پہنچے تو دروازہ کھلوایا، پوچھا گیا کون صاحب ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ جبرائیل ( علیہ السلام ) پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ آپ نے بتایا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ۔ پوچھا گیا، کیا انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں۔ اس پر آواز آئی ( انہیں ) خوش آمدید! کیا ہی مبارک آنے والے ہیں وہ، اور دروازہ کھول دیا۔ جب میں اندر گیا تو میں نے وہاں آدم علیہ السلام کو دیکھا، جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ آپ کے جد امجد آدم علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے۔ میں نے ان کو سلام کیا اور انہوں نے جواب دیا اور فرمایا: خوش آمدید نیک بیٹے اور نیک نبی! جبرائیل علیہ السلام اوپر چڑھے اور دوسرے آسمان پر آئے وہاں بھی دروازہ کھلوایا آواز آئی کون صاحب آئے ہیں؟ بتایا کہ جبرائیل ( علیہ السلام ) پوچھا گیا آپ کے ساتھ اور کوئی صاحب بھی ہیں؟ کہا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ۔ پوچھا گیا کیا آپ کو انہیں بلانے کے لیے بھیجا گیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں۔ پھر آواز آئی انہیں خوش آمدید۔ کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ۔ پھر دروازہ کھلا اور میں اندر گیا تو وہاں یحییٰ اور عیسیٰ علیہما السلام موجود تھے۔ یہ دونوں خالہ زاد بھائی ہیں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ عیسیٰ اور یحییٰ علیہما السلام ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے سلام کیا اور ان حضرات نے میرے سلام کا جواب دیا اور فرمایا خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی! یہاں سے جبرائیل علیہ السلام مجھے تیسرے آسمان کی طرف لے کر چڑھے اور دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ جبرائیل۔ پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ۔ پوچھا گیا کیا انہیں لانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں۔ اس پر آواز آئی انہیں خوش آمدید۔ کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ، دروازہ کھلا اور جب میں اندر داخل ہوا تو وہاں یوسف علیہ السلام موجود تھے۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ یوسف ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا اور فرمایا: خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی! پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے لے کر اوپر چڑھے اور چوتھے آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا کون صاحب ہیں؟ بتایا کہ جبرائیل! پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ۔ پوچھا گیا کیا انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں کہا کہ انہیں خوش آمدید۔ کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ! اب دروازہ کھلا جب میں وہاں ادریس علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ ادریس علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے جواب دیا اور فرمایا خوش آمدید پاک بھائی اور نیک نبی۔ پھر مجھے لے کر پانچویں آسمان پر آئے اور دروازہ کھلوایا پوچھا گیا کون صاحب ہیں؟ جواب دیا کہ جبرائیل پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ۔ پوچھا گیا کہ انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں اب آواز آئی خوش آمدید کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ، یہاں جب میں ہارون علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ ہارون ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب کے بعد فرمایا خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی! یہاں سے لے کر مجھے آگے بڑھے اور چھٹے آسمان پر پہنچے اور دروازہ کھلوایا پوچھا گیا کون صاحب آئے ہیں؟ بتایا کہ جبرائیل، پوچھا گیا آپ کے ساتھ کوئی دوسرے صاحب بھی آئے ہیں؟ جواب دیا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ۔ پوچھا گیا کیا انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں۔ پھر کہا انہیں خوش آمدید کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ۔ میں جب وہاں موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے، میں نے سلام کیا اور انہوں نے جواب کے بعد فرمایا خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی! جب میں آگے بڑھا تو وہ رونے لگے کسی نے پوچھا آپ رو کیوں رہے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا میں اس پر رو رہا ہوں کہ یہ لڑکا میرے بعد نبی بنا کر بھیجا گیا لیکن جنت میں اس کی امت کے لوگ میری امت سے زیادہ ہوں گے۔ پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے لے کر ساتویں آسمان کی طرف گئے اور دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ جبرائیل، پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ۔ پوچھا گیا کیا انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں۔ کہا کہ انہیں خوش آمدید۔ کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ، میں جب اندر گیا تو ابراہیم علیہ السلام تشریف رکھتے تھے۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ آپ کے جد امجد ہیں، انہیں سلام کیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ان کو سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا اور فرمایا خوش آمدید نیک نبی اور نیک بیٹے! پھر سدرۃ المنتہیٰ کو میرے سامنے کر دیا گیا میں نے دیکھا کہ اس کے پھل مقام حجر کے مٹکوں کی طرح ( بڑے بڑے ) تھے اور اس کے پتے ہاتھیوں کے کان کی طرح تھے۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ سدرۃ المنتہیٰ ہے۔ وہاں میں نے چار نہریں دیکھیں دو باطنی اور دو ظاہری۔ میں نے پوچھا اے جبرائیل! یہ کیا ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ جو دو باطنی نہریں ہیں وہ جنت سے تعلق رکھتی ہیں اور دو ظاہری نہریں، نیل اور فرات ہیں۔ پھر میرے سامنے بیت المعمور کو لایا گیا، وہاں میرے سامنے ایک گلاس میں شراب ایک میں دودھ اور ایک میں شہد لایا گیا۔ میں نے دودھ کا گلاس لے لیا تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہی فطرت ہے اور آپ اس پر قائم ہیں اور آپ کی امت بھی! پھر مجھ پر روزانہ پچاس نمازیں فرض کی گئیں میں واپس ہوا اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پوچھا کس چیز کا آپ کو حکم ہوا؟ میں نے کہا کہ روزانہ پچاس وقت کی نمازوں کا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا لیکن آپ کی امت میں اتنی طاقت نہیں ہے۔ اس سے پہلے میرا واسطہ لوگوں سے پڑ چکا ہے اور بنی اسرائیل کا مجھے تلخ تجربہ ہے۔ اس لیے آپ اپنے رب کے حضور میں دوبارہ جائیے اور اپنی امت پر تخفیف کے لیے عرض کیجئے۔ چنانچہ میں اللہ تعالیٰ کے دربار میں دوبارہ حاضر ہوا اور تخفیف کے لیے عرض کی تو دس وقت کی نمازیں کم کر دی گئیں۔ پھر میں جب واپسی میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پھر وہی سوال کیا میں دوبارہ بارگاہ رب تعالیٰ میں حاضر ہوا اور اس مرتبہ بھی دس وقت کی نمازیں کم ہوئیں۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا اور تو انہوں نے وہی مطالبہ کیا میں نے اس مرتبہ بھی بارگاہ رب تعالیٰ میں حاضر ہو کر دس وقت کی نمازیں کم کرائیں۔ موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے پھر گزرا انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا پھر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوا تو مجھے دس وقت کی نمازوں کا حکم ہوا میں واپس ہونے لگا تو آپ نے پھر وہی کہا اب بارگاہ الٰہی میں حاضرہوا تو روزانہ صرف پانچ وقت کی نمازوں کا حکم باقی رہا۔ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو آپ نے دریافت فرمایا اب کیا حکم ہوا؟ میں نے موسیٰ علیہ السلام کو بتایا کہ روزانہ پانچ وقت کی نمازوں کا حکم ہوا ہے۔ فرمایا کہ آپ کی امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی میرا واسطہ آپ سے پہلے لوگوں سے پڑ چکا ہے اور بنی اسرائیل کا مجھے تلخ تجربہ ہے۔ اپنے رب کے دربار میں پھر حاضر ہو کر تخفیف کے لیے عرض کیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رب تعالیٰ سے میں بہت سوال کر چکا اور اب مجھے شرم آتی ہے۔ اب میں بس اسی پر راضی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جب میں وہاں سے گزرنے لگا تو ندا آئی ”میں نے اپنا فریضہ جاری کر دیا اور اپنے بندوں پر تخفیف کر چکا۔“
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدَّثَهُمْ عَنْ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ " بَيْنَمَا أَنَا فِي الْحَطِيمِ ـ وَرُبَّمَا قَالَ فِي الْحِجْرِ ـ مُضْطَجِعًا، إِذْ أَتَانِي آتٍ فَقَدَّ ـ قَالَ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ فَشَقَّ ـ مَا بَيْنَ هَذِهِ إِلَى هَذِهِ ـ فَقُلْتُ لِلْجَارُودِ وَهْوَ إِلَى جَنْبِي مَا يَعْنِي بِهِ قَالَ مِنْ ثُغْرَةِ نَحْرِهِ إِلَى شِعْرَتِهِ، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ مِنْ قَصِّهِ إِلَى شِعْرَتِهِ ـ فَاسْتَخْرَجَ قَلْبِي، ثُمَّ أُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مَمْلُوءَةٍ إِيمَانًا، فَغُسِلَ قَلْبِي ثُمَّ حُشِيَ، ثُمَّ أُوتِيتُ بِدَابَّةٍ دُونَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ أَبْيَضَ ". ـ فَقَالَ لَهُ الْجَارُودُ هُوَ الْبُرَاقُ يَا أَبَا حَمْزَةَ قَالَ أَنَسٌ نَعَمْ، يَضَعُ خَطْوَهُ عِنْدَ أَقْصَى طَرْفِهِ ـ " فَحُمِلْتُ عَلَيْهِ، فَانْطَلَقَ بِي جِبْرِيلُ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَاسْتَفْتَحَ، فَقِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ. قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ. قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ. قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَفَتَحَ، فَلَمَّا خَلَصْتُ، فَإِذَا فِيهَا آدَمُ، فَقَالَ هَذَا أَبُوكَ آدَمُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ. فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ السَّلاَمَ ثُمَّ قَالَ مَرْحَبًا بِالاِبْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ. ثُمَّ صَعِدَ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ فَاسْتَفْتَحَ، قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ. قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ. قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ. قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ. فَفَتَحَ، فَلَمَّا خَلَصْتُ، إِذَا يَحْيَى وَعِيسَى، وَهُمَا ابْنَا الْخَالَةِ قَالَ هَذَا يَحْيَى وَعِيسَى فَسَلِّمْ عَلَيْهِمَا. فَسَلَّمْتُ فَرَدَّا، ثُمَّ قَالاَ مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ. ثُمَّ صَعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ، فَاسْتَفْتَحَ قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ. قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ. قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ. قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ. فَفُتِحَ، فَلَمَّا خَلَصْتُ إِذَا يُوسُفُ. قَالَ هَذَا يُوسُفُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ. فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ، ثُمَّ قَالَ مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الرَّابِعَةَ، فَاسْتَفْتَحَ، قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ. قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ. قِيلَ أَوَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ. قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ. فَفُتِحَ، فَلَمَّا خَلَصْتُ إِلَى إِدْرِيسَ قَالَ هَذَا إِدْرِيسُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ. فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ. ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الْخَامِسَةَ، فَاسْتَفْتَحَ، قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ. قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم. قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ. قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ. فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا هَارُونُ قَالَ هَذَا هَارُونُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ. فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ. ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ السَّادِسَةَ، فَاسْتَفْتَحَ، قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ. قِيلَ مَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ. قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ. قَالَ مَرْحَبًا بِهِ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَلَمَّا خَلَصْتُ، فَإِذَا مُوسَى قَالَ هَذَا مُوسَى فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ. فَلَمَّا تَجَاوَزْتُ بَكَى، قِيلَ لَهُ مَا يُبْكِيكَ قَالَ أَبْكِي لأَنَّ غُلاَمًا بُعِثَ بَعْدِي، يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِهِ أَكْثَرُ مَنْ يَدْخُلُهَا مِنْ أُمَّتِي. ثُمَّ صَعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ. قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ. قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ. قَالَ نَعَمْ. قَالَ مَرْحَبًا بِهِ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَلَمَّا خَلَصْتُ، فَإِذَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ هَذَا أَبُوكَ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ. قَالَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ السَّلاَمَ قَالَ مَرْحَبًا بِالاِبْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ. ثُمَّ رُفِعَتْ لِي سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى، فَإِذَا نَبِقُهَا مِثْلُ قِلاَلِ هَجَرَ، وَإِذَا وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ قَالَ هَذِهِ سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى، وَإِذَا أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ نَهْرَانِ بَاطِنَانِ، وَنَهْرَانِ ظَاهِرَانِ. فَقُلْتُ مَا هَذَانِ يَا جِبْرِيلُ قَالَ أَمَّا الْبَاطِنَانِ، فَنَهَرَانِ فِي الْجَنَّةِ، وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ. ثُمَّ رُفِعَ لِي الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ، ثُمَّ أُتِيتُ بِإِنَاءٍ مِنْ خَمْرٍ، وَإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ وَإِنَاءٍ مِنْ عَسَلٍ، فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ، فَقَالَ هِيَ الْفِطْرَةُ أَنْتَ عَلَيْهَا وَأُمَّتُكَ. ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَىَّ الصَّلَوَاتُ خَمْسِينَ صَلاَةً كُلَّ يَوْمٍ. فَرَجَعْتُ فَمَرَرْتُ عَلَى مُوسَى، فَقَالَ بِمَا أُمِرْتَ قَالَ أُمِرْتُ بِخَمْسِينَ صَلاَةً كُلَّ يَوْمٍ. قَالَ إِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تَسْتَطِيعُ خَمْسِينَ صَلاَةً كُلَّ يَوْمٍ، وَإِنِّي وَاللَّهِ قَدْ جَرَّبْتُ النَّاسَ قَبْلَكَ، وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ، فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ لأُمَّتِكَ. فَرَجَعْتُ، فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ مِثْلَهُ، فَرَجَعْتُ فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ مِثْلَهُ، فَرَجَعْتُ فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ مِثْلَهُ، فَرَجَعْتُ فَأُمِرْتُ بِعَشْرِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ، فَرَجَعْتُ فَقَالَ مِثْلَهُ، فَرَجَعْتُ فَأُمِرْتُ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ بِمَا أُمِرْتَ قُلْتُ أُمِرْتُ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ. قَالَ إِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تَسْتَطِيعُ خَمْسَ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ، وَإِنِّي قَدْ جَرَّبْتُ النَّاسَ قَبْلَكَ، وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ، فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ لأُمَّتِكَ. قَالَ سَأَلْتُ رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ، وَلَكِنْ أَرْضَى وَأُسَلِّمُ ـ قَالَ ـ فَلَمَّا جَاوَزْتُ نَادَى مُنَادٍ أَمْضَيْتُ فَرِيضَتِي وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِي ".
#3888
Narrated Ibn `Abbas:Regarding the Statement of Allah" "And We granted the vision (Ascension to the heavens) which We made you see (as an actual eye witness) was only made as a trial for the people." (17.60) Ibn `Abbas added: The sights which Allah's Messenger (ﷺ) was shown on the Night Journey when he was taken to Bait-ulMaqdis (i.e. Jerusalem) were actual sights, (not dreams). And the Cursed Tree (mentioned) in the Qur'an is the tree of Zaqqum (itself)
(ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ کے ارشاد «وما جعلنا الرؤيا التي أريناك إلا فتنة للناس» اور جو خواب ہم نے آپ کو دکھایا اس سے مقصد صرف لوگوں کا امتحان تھا ) فرمایا کہ اس میں رؤیا سے آنکھ سے دیکھنا ہی مراد ہے۔ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معراج کی رات میں دکھایا گیا تھا جس میں آپ کو بیت المقدس تک لے جایا گیا تھا اور قرآن مجید میں «الشجرة الملعونة» کا ذکر آیا ہے وہ تھوہڑ کا درخت ہے۔
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلاَّ فِتْنَةً لِلنَّاسِ} قَالَ هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ، أُرِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ. قَالَ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ قَالَ هِيَ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ.
#3889
Narrated `Abdullah bin Ka`b:Who was Ka`b's guide when Ka`b turned blind: I heard Ka`b bin Malik narrating: When he remained behind (i.e. did not Join) the Prophet (ﷺ) in the Ghazwa of Tabuk. Ibn Bukair, in his narration stated that Ka`b said, " I witnessed the Al-`Aqaba pledge of allegiance at night with the Prophet (ﷺ) when we jointly agreed to support Islam with all our efforts I would not like to have attended the Badr battle instead of that 'Aqaba pledge although Badr is more well-known than it, amongst the people
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے (دوسری سند) ، امام بخاری نے کہا اور ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عنبسہ بن خالد نے بیان کیا، ہم سے یونس بن یزید نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن کعب نے جب وہ نابینا ہو گئے تو وہ چلتے پھرتے وقت ان کو پکڑ کر لے چلتے تھے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ غزوہ تبوک میں شریک نہ ہونے کا طویل واقعہ بیان کرتے تھے ابن بکیر نے اپنی روایت میں بیان کیا کہ کعب نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عقبہ کی رات میں حاضر تھا جب ہم نے اسلام پر قائم رہنے کا پختہ عہد کیا تھا، میرے نزدیک ( لیلۃالعقبہ کی بیعت ) بدر کی لڑائی میں حاضری سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے اگرچہ لوگوں میں بدر کا چرچہ اس سے زیادہ ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ ـ وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ حِينَ عَمِيَ ـ قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ. بِطُولِهِ، قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ وَلَقَدْ شَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ حِينَ تَوَاثَقْنَا عَلَى الإِسْلاَمِ، وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا مَشْهَدَ بَدْرٍ وَإِنْ كَانَتْ بَدْرٌ، أَذْكَرَ فِي النَّاسِ مِنْهَا.
#3890
Narrated Jabir bin `Abdullah:I was present with my two maternal uncles at Al-`Aqaba (where the pledge of allegiance was given). (Ibn 'Uyaina said, "One of the two was Al-Bara' bin Marur)
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ عمرو بن دینار کہا کرتے تھے کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا انہوں نے بیان کیا کہ میرے دو ماموں مجھے بھی بیعت عقبہ میں ساتھ لے گئے تھے۔ ابوعبداللہ امام بخاری نے کہا کہ ابن عیینہ نے بیان کیا ان میں سے ایک براء بن معرور رضی اللہ عنہ تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ كَانَ عَمْرٌو يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ شَهِدَ بِي خَالاَىَ الْعَقَبَةَ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ أَحَدُهُمَا الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ.
#3891
Narrated Jabir:My father, my two maternal uncles and I were among those who took part in the 'Aqaba Pledge
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، ان سے عطاء نے بیان کیا کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا میں میرے والد اور میرے دو ماموں تینوں بیعت عقبہ کرنے والوں میں شریک تھے۔
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ عَطَاءٌ قَالَ جَابِرٌ أَنَا وَأَبِي، وَخَالِي، مِنْ أَصْحَابِ الْعَقَبَةِ.
#3892
Narrated 'Ubada bin As-Samit:Who had taken part in the battle of Badr with Allah's Messenger (ﷺ) and had been amongst his companions on the night of Al-`Aqaba Pledge: Allah's Messenger (ﷺ), surrounded by a group of his companions said, "Come along and give me the pledge of allegiance that you will not worship anything besides Allah, will not steal, will not commit illegal sexual intercourse will not kill your children, will not utter; slander, invented by yourself, and will not disobey me if I order you to do something good. Whoever among you will respect and fulfill this pledge, will be rewarded by Allah. And if one of you commits any of these sins and is punished in this world then that will be his expiation for it, and if one of you commits any of these sins and Allah screens his sin, then his matter, will rest with Allah: If He will, He will punish him and if He will,. He will excuse him." So I gave the pledge of allegiance to him for these conditions
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے ہمارے بھتیجے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے ان کے چچا نے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ ہمیں ابوادریس عائذ اللہ بن عبداللہ نے خبر دی کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کی لڑائی میں شرکت کی تھی اور عقبہ کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد کیا تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت آپ کے پاس صحابہ کی ایک جماعت تھی، کہ آؤ مجھ سے اس بات کا عہد کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گے، چوری نہ کرو گے، زنا نہ کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہ کرو گے، اپنی طرف سے گھڑ کر کسی پر تہمت نہ لگاؤ گے اور اچھی باتوں میں میری نافرمانی نہ کرو گے، پس جو شخص اپنے اس عہد پر قائم رہے گا اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے اور جس شخص نے اس میں کمی کی اور اللہ تعالیٰ نے اسے چھپا رہنے دیا تو اس کا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے، چاہے تو اس پر سزا دے اور چاہے معاف کر دے۔ عبادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا چنانچہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان امور پر بیعت کی۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ، عَائِذُ اللَّهِ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ـ مِنَ الَّذِينَ شَهِدُوا بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ـ وَمِنْ أَصْحَابِهِ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ " تَعَالَوْا بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لاَ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلاَ تَسْرِقُوا، وَلاَ تَزْنُوا، وَلاَ تَقْتُلُوا أَوْلاَدَكُمْ، وَلاَ تَأْتُونَ بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلاَ تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهِ فِي الدُّنْيَا فَهْوَ لَهُ كَفَّارَةٌ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ، إِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ، وَإِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ ". قَالَ فَبَايَعْتُهُ عَلَى ذَلِكَ.
#3893
Narrated 'Ubada bin As Samit:I was one of the Naqibs who gave the ('Aqaba) Pledge of Allegiance to Allah's Messenger (ﷺ). We gave the pledge of allegiance to him that we would not worship anything other than Allah, would not steal, would not commit illegal sexual intercourse, would not kill a person whose killing Allah has made illegal except rightfully, would not rob each other, and we would not be promised Paradise if we did the above sins, then if we committed one of the above sins, Allah will give His Judgment concerning it
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعید نے، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ان سے ابوالخیر مرثد بن عبداللہ نے، ان سے عبدالرحمٰن صنابحی نے اور ان سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ان نقیبوں میں سے تھا جنہوں نے ( عقبہ کی رات میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ آپ نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا عہد کیا تھا کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، چوری نہیں کریں گے، زنا نہیں کریں گے، کسی ایسے شخص کو قتل نہیں کریں گے جس کا قتل اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، لوٹ مار نہیں کریں گے اور نہ اللہ کی نافرمانی کریں گے جنت کے بدلے میں، اگر ہم اپنے عہد میں پورے اترے۔ لیکن اگر ہم نے اس میں کچھ خلاف کیا تو اس کا فیصلہ اللہ پر ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ قَالَ إِنِّي مِنَ النُّقَبَاءِ الَّذِينَ بَايَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لاَ نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلاَ نَسْرِقَ، وَلاَ نَزْنِيَ، وَلاَ نَقْتُلَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ، وَلاَ نَنْتَهِبَ، وَلاَ نَعْصِيَ بِالْجَنَّةِ إِنْ فَعَلْنَا ذَلِكَ، فَإِنْ غَشِينَا مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا كَانَ قَضَاءُ ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ.
#3894
Narrated Aisha:The Prophet (ﷺ) engaged me when I was a girl of six (years). We went to Medina and stayed at the home of Bani-al-Harith bin Khazraj. Then I got ill and my hair fell down. Later on my hair grew (again) and my mother, Um Ruman, came to me while I was playing in a swing with some of my girl friends. She called me, and I went to her, not knowing what she wanted to do to me. She caught me by the hand and made me stand at the door of the house. I was breathless then, and when my breathing became alright, she took some water and rubbed my face and head with it. Then she took me into the house. There in the house I saw some Ansari women who said, "Best wishes and Allah's Blessing and a good luck." Then she entrusted me to them and they prepared me (for the marriage). Unexpectedly Allah's Apostle came to me in the forenoon and my mother handed me over to him, and at that time I was a girl of nine years of age
مجھ سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح جب ہوا تو میری عمر چھ سال کی تھی، پھر ہم مدینہ ( ہجرت کر کے ) آئے اور بنی حارث بن خزرج کے یہاں قیام کیا۔ یہاں آ کر مجھے بخار چڑھا اور اس کی وجہ سے میرے بال گرنے لگے۔ پھر مونڈھوں تک خوب بال ہو گئے پھر ایک دن میری والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا آئیں۔ اس وقت میں اپنی چند سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھی انہوں نے مجھے پکارا تو میں حاضر ہو گئی۔ مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ میرے ساتھ ان کا کیا ارادہ ہے۔ آخر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر گھر کے دروازہ کے پاس کھڑا کر دیا اور میرا سانس پھولا جا رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں جب مجھے کچھ سکون ہوا تو انہوں نے تھوڑا سا پانی لے کر میرے منہ اور سر پر پھیرا۔ پھر گھر کے اندر مجھے لے گئیں۔ وہاں انصار کی چند عورتیں موجود تھیں، جنہوں نے مجھے دیکھ کر دعا دی کہ خیر و برکت اور اچھا نصیب لے کر آئی ہو۔ میری ماں نے مجھے انہیں کے حوالہ کر دیا اور انہوں نے میری آرائش کی۔ اس کے بعد دن چڑھے اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور انہوں نے مجھے آپ کے سپرد کر دیا میری عمر اس وقت نو سال تھی۔
حَدَّثَنِي فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ خَزْرَجٍ، فَوُعِكْتُ فَتَمَرَّقَ شَعَرِي فَوَفَى جُمَيْمَةً، فَأَتَتْنِي أُمِّي أُمُّ رُومَانَ وَإِنِّي لَفِي أُرْجُوحَةٍ وَمَعِي صَوَاحِبُ لِي، فَصَرَخَتْ بِي فَأَتَيْتُهَا لاَ أَدْرِي مَا تُرِيدُ بِي فَأَخَذَتْ بِيَدِي حَتَّى أَوْقَفَتْنِي عَلَى باب الدَّارِ، وَإِنِّي لأَنْهَجُ، حَتَّى سَكَنَ بَعْضُ نَفَسِي، ثُمَّ أَخَذَتْ شَيْئًا مِنْ مَاءٍ فَمَسَحَتْ بِهِ وَجْهِي وَرَأْسِي ثُمَّ أَدْخَلَتْنِي الدَّارَ فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ فِي الْبَيْتِ فَقُلْنَ عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ، وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ. فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ فَأَصْلَحْنَ مِنْ شَأْنِي، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلاَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضُحًى، فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ.
#3895
Narrated `Aisha:That the Prophet (ﷺ) said to her, "You have been shown to me twice in my dream. I saw you pictured on a piece of silk and some-one said (to me). 'This is your wife.' When I uncovered the picture, I saw that it was yours. I said, 'If this is from Allah, it will be done
ہم سے معلی نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم مجھے دو مرتبہ خواب میں دکھائی گئی ہو۔ میں نے دیکھا کہ تم ایک ریشمی کپڑے میں لپٹی ہوئی ہو اور کہا جا رہا ہے کہ یہ آپ کی بیوی ہیں ان کا چہرہ کھولئے۔ میں نے چہرہ کھول کر دیکھا تو تم تھیں۔ میں نے سوچا کہ اگر یہ خواب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے تو وہ خود اس کو پورا فرمائے گا۔“
حَدَّثَنَا مُعَلًّى، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهَا " أُرِيتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ، أَرَى أَنَّكِ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ وَيَقُولُ هَذِهِ امْرَأَتُكَ فَاكْشِفْ عَنْهَا فَإِذَا هِيَ أَنْتِ فَأَقُولُ إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ ".
#3896
Narrated Hisham's father:Khadija died three years before the Prophet (ﷺ) departed to Medina. He stayed there for two years or so and then he married `Aisha when she was a girl of six years of age, and he consummated that marriage when she was nine years old
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد (عروہ بن زبیر) نے بیان کیا کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کو ہجرت سے تین سال پہلے ہو گئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی وفات کے تقریباً دو سال بعد عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اس وقت ان کی عمر چھ سال تھی جب رخصتی ہوئی تو وہ نو سال کی تھیں۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ تُوُفِّيَتْ خَدِيجَةُ قَبْلَ مَخْرَجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمَدِينَةِ بِثَلاَثِ سِنِينَ، فَلَبِثَ سَنَتَيْنِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ، وَنَكَحَ عَائِشَةَ وَهْىَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، ثُمَّ بَنَى بِهَا وَهْىَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ.
#3897
Narrated Abu Wail:We visited Khabbab who said, "We migrated with the Prophet (ﷺ) for Allah's Sake, so our reward became due and sure with Allah. Some of us passed away without taking anything of their rewards (in this world) and one of them was Mus`ab bin `Umair who was martyred on the day (of the battle) of Uhud leaving a striped woolen cloak. When we covered his head with it, his feet became naked, and when we covered his feet, his head became naked. So Allah's Messenger (ﷺ) ordered us to cover his head and put some Idhkhir (i.e. a special kind of grass) on his feet. (On the other hand) some of us have had their fruits ripened (in this world) and they are collecting them
ہم سے (عبداللہ بن زبیر) حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابووائل شقیق بن سلمہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہجرت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا اجر دے گا۔ پھر ہمارے بہت سے ساتھی اس دنیا سے اٹھ گئے اور انہوں نے ( دنیا میں ) اپنے اعمال کا پھل نہیں دیکھا۔ انہیں میں مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ احد کی لڑائی میں شہید کئے گئے تھے اور صرف ایک دھاری دار چادر چھوڑی تھی۔ ( کفن دیتے وقت ) جب ہم ان کی چادر سے ان کا سر ڈھانکتے تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں ڈھانکتے تو سر کھل جاتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ان کا سر ڈھانک دیں اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دیں۔ ( تاکہ چھپ جائیں ) اور ہم میں ایسے بھی ہیں کہ ( اس دنیا میں بھی ) ان کے اعمال کا میوہ پک گیا، پس وہ اس کو چن رہے ہیں۔
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يَقُولُ عُدْنَا خَبَّابًا فَقَالَ هَاجَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نُرِيدُ وَجْهَ اللَّهِ، فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى، لَمْ يَأْخُذْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا، مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَتَرَكَ نَمِرَةً، فَكُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ بَدَتْ رِجْلاَهُ، وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نُغَطِّيَ رَأْسَهُ، وَنَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ شَيْئًا مِنْ إِذْخِرٍ. وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهْوَ يَهْدِبُهَا.
#3898
Narrated `Umar:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "The reward of deeds depends on the intentions, so whoever emigrated for the worldly benefits or to marry a woman, his emigration was for that for which he emigrated, but whoever emigrated for the Sake of Allah and His Apostle, his emigration is for Allah and His Apostle
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے محمد بن ابراہیم نے، ان سے علقمہ بن ابی وقاص نے، بیان کیا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اعمال نیت پر موقوف ہیں۔ پس جس کا مقصد، ہجرت سے دنیا کمانا ہو وہ اپنے اسی مقصد کو حاصل کر سکے گا یا مقصد، ہجرت سے کسی عورت سے شادی کرنا ہو تو وہ بھی اپنے مقصد تک پہنچ سکے گا۔ لیکن جن کا ہجرت سے مقصد، اللہ اور اس کے رسول کی رضا مندی ہو گی تو اسی کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے سمجھی جائے گی۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ـ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ ـ عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم ".
#3899
Narrated Mujahid bin Jabir Al-Makki:`Abdullah bin `Umar used to say, "There is no more Hijrah (i.e. migration) after the Conquest of Mecca
مجھ سے اسحاق بن یزید دمشقی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدہ بن ابی لبابہ نے بیان کیا، ان سے مجاہد بن جبر مکی نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ فتح مکہ کے بعد ( مکہ سے مدینہ کی طرف ) ہجرت باقی نہیں رہی۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ الْمَكِّيِّ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ كَانَ يَقُولُ لاَ هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ.
#3900
Narrated 'Ata bin Abi Rabah:`Ubaid bin `Umar Al-Laithi and I visited Aisha and asked her about the Hijra (i.e. migration), and she said, "Today there is no (Hijrah) emigration. A believer used to run away with his religion to Allah and His Apostle lest he should be put to trial because of his religion. Today Allah has made Islam triumphant, and today a believer can worship his Lord wherever he likes. But the deeds that are still rewardable (in place of emigration) are Jihad and good intentions." (See Hadith No. 42 Vol)
مجھ سے اوزاعی نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا کہ عبید بن عمیر لیثی کے ساتھ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ہم نے ان سے فتح مکہ کے بعد ہجرت کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب مسلمان اپنے دین کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف عہد کر کے آتا تھا۔ اس خطرہ کی وجہ سے کہ کہیں وہ فتنہ میں نہ پڑ جائے لیکن اب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غالب کر دیا ہے اور آج ( سر زمین عرب میں ) انسان جہاں بھی چاہے اپنے رب کی عبادت کر سکتا ہے، البتہ جہاد اور نیت ثواب باقی ہے۔
وَحَدَّثَنِي الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ زُرْتُ عَائِشَةَ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ فَسَأَلْنَاهَا عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَتْ لاَ هِجْرَةَ الْيَوْمَ، كَانَ الْمُؤْمِنُونَ يَفِرُّ أَحَدُهُمْ بِدِينِهِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَإِلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم مَخَافَةَ أَنْ يُفْتَنَ عَلَيْهِ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَقَدْ أَظْهَرَ اللَّهُ الإِسْلاَمَ، وَالْيَوْمَ يَعْبُدُ رَبَّهُ حَيْثُ شَاءَ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ.