#3626
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) in his fatal illness, called his daughter Fatima and told her a secret because of which she started weeping. Then he called her and told her another secret, and she started laughing. When I asked her about that, she replied, The Prophet (ﷺ) told me that he would die in his fatal illness, and so I wept, but then he secretly told me that from amongst his family, I would be the first to join him, and so I laughed
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، فَسَارَّهَا بِشَىْءٍ فَبَكَتْ، ثُمَّ دَعَاهَا، فَسَارَّهَا فَضَحِكَتْ، قَالَتْ فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ. فَقَالَتْ سَارَّنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُقْبَضُ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَبَكَيْتُ، ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِهِ أَتْبَعُهُ فَضَحِكْتُ.
#3627
Narrated Sa`id bin Jubair:About Ibn `Abbas: `Umar bin Al-Khattab used to treat Ibn `Abbas very favorably `Abdur Rahman bin `Auf said to him. "We also have sons that are equal to him (but you are partial to him.)" `Umar said, "It is because of his knowledge." Then `Umar asked Ibn `Abbas about the interpretation of the Verse:- 'When come the Help of Allah and the conquest (of Mecca) (110.1) Ibn `Abbas said. "It portended the death of Allah's Messenger (ﷺ), which Allah had informed him of." `Umar said, "I do not know from this Verse but what you know
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابی بشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پاس بٹھاتے تھے۔ اس پر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے شکایت کی کہ ان جیسے تو ہمارے لڑکے بھی ہیں۔ لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یہ محض ان کے علم کی وجہ سے ہے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت «إذا جاء نصر الله والفتح» کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تھی جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دی عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جو تم نے سمجھا ہے میں بھی وہی سمجھتا ہوں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ يُدْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ إِنَّ لَنَا أَبْنَاءً مِثْلَهُ. فَقَالَ إِنَّهُ مِنْ حَيْثُ تَعْلَمُ. فَسَأَلَ عُمَرُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ}. فَقَالَ أَجَلُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْلَمَهُ إِيَّاهُ. قَالَ مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلاَّ مَا تَعْلَمُ.
#3628
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) in his fatal illness came out, wrapped with a sheet, and his head was wrapped with an oiled bandage. He sat on the pulpit, and praising and glorifying Allah, he said, "Now then, people will increase but the Ansar will decrease in number, so much so that they, compared with the people, will be just like the salt in the meals. So, if any of you should take over the authority by which he can either benefit some people or harm some others, he should accept the goodness of their good people (i.e. Ansar) and excuse the faults of their wrong-doers." That was the last gathering which the Prophet (ﷺ) attended
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن سلیمان بن حنظلہ بن غسیل نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مرض الوفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، آپ ایک چکنے کپڑے سے سر مبارک پر پٹی باندھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں منبر پر تشریف فرما ہوئے پھر جیسے ہونی چاہیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: امابعد: ( آنے والے دور میں ) دوسرے لوگوں کی تعداد بہت بڑھ جائے گی لیکن انصار کم ہوتے جائیں گے اور ایک زمانہ آئے گا کہ دوسروں کے مقابلے میں ان کی تعداد اتنی کم ہو جائے گی جیسے کھانے میں نمک ہوتا ہے۔ پس اگر تم میں سے کوئی شخص کہیں کا حاکم بنے اور اپنی حکومت کی وجہ سے وہ کسی کو نقصان اور نفع بھی پہنچا سکتا ہو تو اسے چاہیے کہ انصار کے نیکوں ( کی نیکیوں ) کو قبول کرے اور جو برے ہوں ان سے درگزر کر دیا کرے۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری مجلس وعظ تھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ حَنْظَلَةَ بْنِ الْغَسِيلِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ بِمِلْحَفَةٍ قَدْ عَصَّبَ بِعِصَابَةٍ دَسْمَاءَ، حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَيَقِلُّ الأَنْصَارُ، حَتَّى يَكُونُوا فِي النَّاسِ بِمَنْزِلَةِ الْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ، فَمَنْ وَلِيَ مِنْكُمْ شَيْئًا يَضُرُّ فِيهِ قَوْمًا، وَيَنْفَعُ فِيهِ آخَرِينَ، فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ ". فَكَانَ آخِرَ مَجْلِسٍ جَلَسَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم.
#3629
Narrated Abu Bakra:Once the Prophet (ﷺ) brought out Al-Hasan and took him up the pulpit along with him and said, "This son of mine is a Saiyid (i.e. chief) and I hope that Allah will help him bring about reconciliation between two Muslim groups
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حسین جعفی نے بیان کیا، ان سے ابوموسیٰ نے، ان سے امام حسن بصری نے اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسن رضی اللہ عنہ کو ایک دن ساتھ لے کر باہر تشریف لائے اور منبر پر ان کو لے کر چڑھ گئے پھر فرمایا ”میرا یہ بیٹا سید ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں ملاپ کرا دے گا۔“
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَخْرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ الْحَسَنَ فَصَعِدَ بِهِ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ " ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ".
#3630
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) had informed us of the death of Ja`far and Zaid before the news of their death reached us, and his eyes were shedding tears
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر بن ابی طالب اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کی شہادت کی خبر پہلے ہی صحابہ کو سنا دی تھی، اس وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَعَى جَعْفَرًا وَزَيْدًا قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ خَبَرُهُمْ، وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ.
#3631
Narrated Jabir:(Once) the Prophet (ﷺ) said, "Have you got carpets?" I replied, "Whence can we get carpets?" He said, "But you shall soon have carpets." I used to say to my wife, "Remove your carpets from my sight," but she would say, "Didn't the Prophet (ﷺ) tell you that you would soon have carpets?" So I would give up my request
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ( ان کی شادی کے موقع پر ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تمہارے پاس قالین ہیں؟ میں نے عرض کیا، ہمارے پاس قالین کہاں؟ ( ہم غریب لوگ ہیں ) اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یاد رکھو ایک وقت آئے گا کہ تمہارے پاس عمدہ عمدہ قالین ہوں گے۔“ اب جب میں اس سے ( اپنی بیوی سے ) کہتا ہوں کہ اپنے قالین ہٹا لے تو وہ کہتی ہے کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے نہیں فرمایا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب تمہارے پاس قالین ہوں گے۔ چنانچہ میں انہیں وہیں رہنے دیتا ہوں ( اور چپ ہو جاتا ہوں ) ۔
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " هَلْ لَكُمْ مِنْ أَنْمَاطٍ ". قُلْتُ وَأَنَّى يَكُونُ لَنَا الأَنْمَاطُ قَالَ " أَمَا إِنَّهُ سَيَكُونُ لَكُمُ الأَنْمَاطُ ". فَأَنَا أَقُولُ لَهَا ـ يَعْنِي امْرَأَتَهُ ـ أَخِّرِي عَنِّي أَنْمَاطَكِ. فَتَقُولُ أَلَمْ يَقُلِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمُ الأَنْمَاطُ ". فَأَدَعُهَا.
#3632
Narrated `Abdullah bin Mas`ud:Sa`d bin Mu`adh came to Mecca with the intention of performing `Umra, and stayed at the house of Umaiya bin Khalaf Abi Safwan, for Umaiya himself used to stay at Sa`d's house when he passed by Medina on his way to Sham. Umaiya said to Sa`d, "Will you wait till midday when the people are (at their homes), then you may go and perform the Tawaf round the Ka`ba?" So, while Sa`d was going around the Ka`ba, Abu Jahl came and asked, "Who is that who is performing Tawaf?" Sa`d replied, "I am Sa`d." Abu Jahl said, "Are you circumambulating the Ka`ba safely although you have given refuge to Muhammad and his companions?" Sa`d said, "Yes," and they started quarreling. Umaiya said to Sa`d, "Don't shout at Abi-l-Hakam (i.e. Abu Jahl), for he is chief of the valley (of Mecca)." Sa`d then said (to Abu Jahl). 'By Allah, if you prevent me from performing the Tawaf of the Ka`ba, I will spoil your trade with Sham." Umaiya kept on saying to Sa`d, "Don't raise your voice." and kept on taking hold of him. Sa`d became furious and said, (to Umaiya), "Be away from me, for I have heard Muhammad saying that he will kill you." Umaiya said, "Will he kill me?" Sa`d said, "Yes,." Umaiya said, "By Allah! When Muhammad says a thing, he never tells a lie." Umaiya went to his wife and said to her, "Do you know what my brother from Yathrib (i.e. Medina) has said to me?" She said, "What has he said?" He said, "He claims that he has heard Muhammad claiming that he will kill me." She said, By Allah! Muhammad never tells a lie." So when the infidels started to proceed for Badr (Battle) and declared war (against the Muslims), his wife said to him, "Don't you remember what your brother from Yathrib told you?" Umaiya decided not to go but Abu Jahl said to him, "You are from the nobles of the valley (of Mecca), so you should accompany us for a day or two." He went with them and thus Allah got him killed
ہم سے احمد بن اسحٰق نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، ان سے عمرو بن میمون نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ عمرہ کی نیت سے ( مکہ ) آئے اور ابوصفوان امیہ بن خلف کے یہاں اترے۔ امیہ بھی شام جاتے ہوئے ( تجارت وغیرہ کے لیے ) جب مدینہ سے گزرتا تو سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے یہاں قیام کیا کرتا تھا۔ امیہ نے سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: ابھی ٹھہرو، جب دوپہر کا وقت ہو جائے اور لوگ غافل ہو جائیں ( تب طواف کرنا کیونکہ مکہ کے مشرک مسلمانوں کے دشمن تھے ) سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، چنانچہ میں نے جا کر طواف شروع کر دیا۔ سعد رضی اللہ عنہ ابھی طواف کر ہی رہے تھے کہ ابوجہل آ گیا اور کہنے لگا، یہ کعبہ کا طواف کون کر رہا ہے؟ سعد رضی اللہ عنہ بولے کہ میں سعد ہوں۔ ابوجہل بولا: تم کعبہ کا طواف خوب امن سے کر رہے ہو حالانکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے ساتھیوں کو پناہ دے رکھی ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں ٹھیک ہے۔ اس طرح دونوں میں بات بڑھ گئی۔ پھر امیہ نے سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: ابوالحکم ( ابوجہل ) کے سامنے اونچی آواز سے نہ بولو۔ وہ اس وادی ( مکہ ) کا سردار ہے۔ اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم اگر تم نے مجھے بیت اللہ کے طواف سے روکا تو میں بھی تمہاری شام کی تجارت خاک میں ملا دوں گا ( کیونکہ شام جانے کا صرف ایک ہی راستہ ہے جو مدینہ سے جاتا ہے ) بیان کیا کہ امیہ برابر سعد رضی اللہ عنہ سے یہی کہتا رہا کہ اپنی آواز بلند نہ کرو اور انہیں ( مقابلہ سے ) روکتا رہا۔ آخر سعد رضی اللہ عنہ کو اس پر غصہ آ گیا اور انہوں نے امیہ سے کہا۔ چل پرے ہٹ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے تیرے متعلق سنا ہے۔ آپ نے فرمایا تھا کہ تجھ کو ابوجہل ہی قتل کرائے گا۔ امیہ نے پوچھا: مجھے؟ سعد رضی اللہ عنہ کہا: ہاں تجھ کو۔ تب تو امیہ کہنے لگا۔ اللہ کی قسم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جب کوئی بات کہتے ہیں تو وہ غلط نہیں ہوتی پھر وہ اپنی بیوی کے پاس آیا اور اس نے اس سے کہا تمہیں معلوم نہیں، میرے یثربی بھائی نے مجھے کیا بات بتائی ہے؟ اس نے پوچھا: انہوں نے کیا کہا؟ امیہ نے بتایا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کہہ چکے ہیں کہ ابوجہل مجھ کو قتل کرائے گا۔ وہ کہنے لگی۔ اللہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم غلط بات زبان سے نہیں نکالتے۔ پھر ایسا ہوا کہ اہل مکہ بدر کی لڑائی کے لیے روانہ ہونے لگے اور امیہ کو بھی بلانے والا آیا تو امیہ سے اس کی بیوی نے کہا، تمہیں یاد نہیں رہا تمہارا یثربی بھائی تمہیں کیا خبر دے گیا تھا۔ بیان کیا کہ اس یاددہانی پر امیہ نے چاہا کہ اس جنگ میں شرکت نہ کرے۔ لیکن ابوجہل نے کہا: تم وادی مکہ کے رئیس ہو۔ اس لیے کم از کم ایک یا دو دن کے لیے ہی تمہیں چلنا پڑے گا۔ اس طرح وہ ان کے ساتھ جنگ میں شرکت کے لیے نکلا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو قتل کرا دیا۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ انْطَلَقَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ مُعْتَمِرًا ـ قَالَ ـ فَنَزَلَ عَلَى أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ أَبِي صَفْوَانَ، وَكَانَ أُمَيَّةُ إِذَا انْطَلَقَ إِلَى الشَّأْمِ فَمَرَّ بِالْمَدِينَةِ نَزَلَ عَلَى سَعْدٍ، فَقَالَ أُمَيَّةُ لِسَعْدٍ انْتَظِرْ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ، وَغَفَلَ النَّاسُ انْطَلَقْتُ فَطُفْتُ، فَبَيْنَا سَعْدٌ يَطُوفُ إِذَا أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ مَنْ هَذَا الَّذِي يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ فَقَالَ سَعْدٌ أَنَا سَعْدٌ. فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ تَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ آمِنًا، وَقَدْ آوَيْتُمْ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ فَقَالَ نَعَمْ. فَتَلاَحَيَا بَيْنَهُمَا. فَقَالَ أُمَيَّةُ لِسَعْدٍ لاَ تَرْفَعْ صَوْتَكَ عَلَى أَبِي الْحَكَمِ، فَإِنَّهُ سَيِّدُ أَهْلِ الْوَادِي. ثُمَّ قَالَ سَعْدٌ وَاللَّهِ لَئِنْ مَنَعْتَنِي أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ لأَقْطَعَنَّ مَتْجَرَكَ بِالشَّأْمِ. قَالَ فَجَعَلَ أُمَيَّةُ يَقُولُ لِسَعْدٍ لاَ تَرْفَعْ صَوْتَكَ. وَجَعَلَ يُمْسِكُهُ، فَغَضِبَ سَعْدٌ فَقَالَ دَعْنَا عَنْكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم يَزْعُمُ أَنَّهُ قَاتِلُكَ. قَالَ إِيَّاىَ قَالَ نَعَمْ. قَالَ وَاللَّهِ مَا يَكْذِبُ مُحَمَّدٌ إِذَا حَدَّثَ. فَرَجَعَ إِلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ أَمَا تَعْلَمِينَ مَا قَالَ لِي أَخِي الْيَثْرِبِيُّ قَالَتْ وَمَا قَالَ قَالَ زَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدًا يَزْعُمُ أَنَّهُ قَاتِلِي. قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا يَكْذِبُ مُحَمَّدٌ. قَالَ فَلَمَّا خَرَجُوا إِلَى بَدْرٍ، وَجَاءَ الصَّرِيخُ قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ أَمَا ذَكَرْتَ مَا قَالَ لَكَ أَخُوكَ الْيَثْرِبِيُّ قَالَ فَأَرَادَ أَنْ لاَ يَخْرُجَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ إِنَّكَ مِنْ أَشْرَافِ الْوَادِي، فَسِرْ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ، فَسَارَ مَعَهُمْ فَقَتَلَهُ اللَّهُ.
#3633
Narrated `Abdullah:Allah's Messenger (ﷺ) said, "I saw (in a dream) the people assembled in a gathering, and then Abu Bakr got up and drew one or two buckets of water (from a well) but there was weakness in his drawing. May Allah forgive him. Then `Umar took the bucket and in his hands it turned into a very large bucket. I had never seen anyone amongst: the people who could draw the water as strongly as `Umar till all the people drank their fill and watered their camels that knelt down there
مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مغیرہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے ( خواب میں ) دیکھا کہ لوگ ایک میدان میں جمع ہو رہے ہیں۔ ان میں سے ابوبکر رضی اللہ عنہ اٹھے اور ایک کنویں سے انہوں نے ایک یا دو ڈول پانی بھر کر نکالا، پانی نکالنے میں ان میں کچھ کمزوری معلوم ہوتی تھی اور اللہ ان کو بخشے۔ پھر وہ ڈول عمر رضی اللہ عنہ نے سنبھالا۔ ان کے ہاتھ میں جاتے ہی وہ ایک بڑا ڈول ہو گیا میں نے لوگوں میں ان جیسا شہ زور پہلوان اور بہادر انسان ان کی طرح کام کرنے والا نہیں دیکھا ( انہوں نے اتنے ڈول کھینچے ) کہ لوگ اپنے اونٹوں کو بھی پلا پلا کر ان کے ٹھکانوں میں لے گئے۔ اور ہمام نے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے بیان کر رہے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دو ڈول کھینچے۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رَأَيْتُ النَّاسَ مُجْتَمِعِينَ فِي صَعِيدٍ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ، وَفِي بَعْضِ نَزْعِهِ ضَعْفٌ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ أَخَذَهَا عُمَرُ، فَاسْتَحَالَتْ بِيَدِهِ غَرْبًا، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا فِي النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ، حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ ". وَقَالَ هَمَّامٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " فَنَزَعَ أَبُو بَكْرٍ ذَنُوبَيْنِ ".
#3634
Narrated Abu `Uthman:I got the news that Gabriel came to the Prophet (ﷺ) while Um Salama was present. Gabriel started talking (to the Prophet (ﷺ) and then left. The Prophet (ﷺ) said to Um Salama, "(Do you know) who it was?" (or a similar question). She said, "It was Dihya (a handsome person amongst the companions of the Prophet (ﷺ) )." Later on Um Salama said, "By Allah! I thought he was none but Dihya, till I heard the Prophet (ﷺ) talking about Gabriel in his sermon." (The Sub-narrator asked Abu `Uthman, "From where have you heard this narration?" He replied, "From Usama bin Zaid)
ہم سے عباس بن ولید نرسی نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، ان سے ابوعثمان نے بیان کیا کہ مجھے یہ بات معلوم کرائی گئی کہ جبرائیل علیہ السلام ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے باتیں کرتے رہے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں۔ جب جبرائیل علیہ السلام چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ سے فرمایا: معلوم ہے یہ کون صاحب تھے؟ یا ایسے ہی الفاظ ارشاد فرمائے۔ ابوعثمان نے بیان کیا کہ ام سلمہ نے جواب دیا کہ یہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ تھے۔ ام سلمہ نے بیان کیا اللہ کی قسم میں سمجھے بیٹھی تھی کہ وہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ ہیں۔ آخر جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا جس میں آپ جبرائیل علیہ السلام ( کی آمد ) کی خبر دے رہے تھے تو میں سمجھی کہ وہ جبرائیل علیہ السلام ہی تھے۔ یا ایسے ہی الفاظ کہے۔ بیان کیا کہ میں نے ابوعثمان سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث کس سے سنی؟ تو انہوں نے بتایا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنی ہے۔
حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، قَالَ أُنْبِئْتُ أَنَّ جِبْرِيلَ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ أُمُّ سَلَمَةَ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُ ثُمَّ قَامَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لأُمِّ سَلَمَةَ " مَنْ هَذَا ". أَوْ كَمَا قَالَ. قَالَ قَالَتْ هَذَا دِحْيَةُ. قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ ايْمُ اللَّهِ مَا حَسِبْتُهُ إِلاَّ إِيَّاهُ حَتَّى سَمِعْتُ خُطْبَةَ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُخْبِرُ جِبْرِيلَ أَوْ كَمَا قَالَ. قَالَ فَقُلْتُ لأَبِي عُثْمَانَ مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا قَالَ مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ.
#3635
Narrated `Abdullah bin `Umar:The Jews came to Allah's Messenger (ﷺ) and told him that a man and a woman from amongst them had committed illegal sexual intercourse. Allah's Messenger (ﷺ) said to them, "What do you find in the Torah (old Testament) about the legal punishment of Ar-Rajm (stoning)?" They replied, (But) we announce their crime and lash them." `Abdullah bin Salam said, "You are telling a lie; Torah contains the order of Rajm." They brought and opened the Torah and one of them placed his hand on the Verse of Rajm and read the verses preceding and following it. `Abdullah bin Salam said to him, "Lift your hand." When he lifted his hand, the Verse of Rajm was written there. They said, "Muhammad has told the truth; the Torah has the Verse of Rajm. The Prophet (ﷺ) then gave the order that both of them should be stoned to death. (`Abdullah bin `Umar said, "I saw the man leaning over the woman to shelter her from the stones)
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک بن انس نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ یہود، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو بتایا کہ ان کے یہاں ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ رجم کے بارے میں تورات میں کیا حکم ہے؟ وہ بولے یہ کہ ہم انہیں رسوا کریں اور انہیں کوڑے لگائے جائیں۔ اس پر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگ جھوٹے ہو۔ تورات میں رجم کا حکم موجود ہے۔ تورات لاؤ۔ پھر یہودی تورات لائے اور اسے کھولا۔ لیکن رجم سے متعلق جو آیت تھی اسے ایک یہودی نے اپنے ہاتھ سے چھپا لیا اور اس سے پہلے اور اس کے بعد کی عبارت پڑھنے لگا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ذرا اپنا ہاتھ تو اٹھاؤ جب اس نے ہاتھ اٹھایا تو وہاں آیت رجم موجود تھی۔ اب وہ سب کہنے لگے کہ اے محمد! عبداللہ بن سلام نے سچ کہا۔ بیشک تورات میں رجم کی آیت موجود ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان دونوں کو رجم کیا گیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رجم کے وقت دیکھا۔ یہودی مرد اس عورت پر جھکا پڑتا تھا۔ اس کو پتھروں کی مار سے بچاتا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ الْيَهُودَ، جَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرُوا لَهُ أَنَّ رَجُلاً مِنْهُمْ وَامْرَأَةً زَنَيَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ فِي شَأْنِ الرَّجْمِ ". فَقَالُوا نَفْضَحُهُمْ وَيُجْلَدُونَ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ كَذَبْتُمْ، إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ. فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاةِ فَنَشَرُوهَا، فَوَضَعَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ، فَقَرَأَ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا. فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ ارْفَعْ يَدَكَ. فَرَفَعَ يَدَهُ فَإِذَا فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ. فَقَالُوا صَدَقَ يَا مُحَمَّدُ، فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ. فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرُجِمَا. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَجْنَأُ عَلَى الْمَرْأَةِ يَقِيهَا الْحِجَارَةَ.
#3636
Narrated `Abdullah bin Masud:During the lifetime of the Prophet (ﷺ) the moon was split into two parts and on that the Prophet (ﷺ) said, "Bear witness (to this)
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، انہیں ابن ابی نجیح نے، انہیں مجاہد نے، انہیں ابومعمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند کے پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ لوگو اس پر گواہ رہنا۔
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شِقَّتَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اشْهَدُوا ".
#3637
Narrated Anas:That the Meccan people requested Allah's Messenger (ﷺ) to show them a miracle, and so he showed them the splitting of the moon
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مکہ والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ انہیں کوئی معجزہ دکھائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شق قمر کا معجزہ یعنی چاند کا پھٹ جانا ان کو دکھایا۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،. وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً، فَأَرَاهُمُ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ.
#3638
Narrated Ibn `Abbas:The moon was split into two parts during the lifetime of the Prophet
مجھ سے خلف بن خالد قرشی نے بیان کیا، کہا ہم سے بکر بن مضر نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، ان سے عراق بن مالک نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن مسعود نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے تھے۔
حَدَّثَنِي خَلَفُ بْنُ خَالِدٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما أَنَّ الْقَمَرَ، انْشَقَّ فِي زَمَانِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
#3639
Narrated Anas:Once two men from the companions of Allah's Messenger (ﷺ) went out of the house of the Prophet (ﷺ) on a very dark night. They were accompanied by two things that resembled two lamps lighting the way in front of them, and when they parted, each of them was accompanied by one of those two things (lamps) till they reached their homes
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو صحابی ( اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہما ) اٹھ کر ( اپنے گھر ) واپس ہوئے۔ رات اندھیری تھی لیکن دو چراغ کی طرح کی کوئی چیز ان کے آگے روشنی کرتی جاتی تھیں۔ پھر جب یہ دونوں ( راستے میں، اپنے اپنے گھر کی طرف جانے کے لیے ) جدا ہوئے تو وہ چیز دونوں کے ساتھ الگ الگ ہو گئی اور اس طرح وہ اپنے گھر والوں کے پاس پہنچ گئے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَجُلَيْنِ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ وَمَعَهُمَا مِثْلُ الْمِصْبَاحَيْنِ، يُضِيآنِ بَيْنَ أَيْدِيهِمَا، فَلَمَّا افْتَرَقَا صَارَ مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا وَاحِدٌ حَتَّى أَتَى أَهْلَهُ.
#3640
Narrated Al-Mughira bin Shu`ba:The Prophet (ﷺ) said, "Some of my followers will remain victorious (and on the right path) till the Last Day comes, and they will still be victorious
مجھ سے عبداللہ بن ابوالاسود نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ان سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے قیس نے بیان کیا کہ میں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری امت کے کچھ لوگ ہمیشہ غالب رہیں گے، یہاں تک کہ قیامت یا موت آئے گی اس وقت بھی وہ غالب ہی ہوں گے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ، سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَزَالُ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ ".
#3641
Narrated Muawiya:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "A group of people amongst my followers will remain obedient to Allah's orders and they will not be harmed by anyone who will not help them or who will oppose them, till Allah's Order (the Last Day) comes upon them while they are still on the right path
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یزید بن جابر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمیر بن ہانی نے بیان کیا اور انہوں نے معاویہ بن ابی سفیان سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ میری امت میں ہمیشہ ایک گروہ ایسا موجود رہے گا جو اللہ تعالیٰ کی شریعت پر قائم رہے گا، انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرنے والے اور اسی طرح ان کی مخالفت کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی اور وہ اسی حالت پر ہیں گے۔ عمیر نے بیان کیا کہ اس پر مالک بن یخامر نے کہا کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ ہمارے زمانے میں یہ لوگ شام میں ہیں۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ دیکھو یہ مالک بن یخامر یہاں موجود ہیں، جو کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے معاذ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ یہ لوگ شام کے ملک میں ہیں۔
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَزَالُ مِنْ أُمَّتِي أُمَّةٌ قَائِمَةٌ بِأَمْرِ اللَّهِ، لاَ يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ وَلاَ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ ". قَالَ عُمَيْرٌ فَقَالَ مَالِكُ بْنُ يُخَامِرَ قَالَ مُعَاذٌ وَهُمْ بِالشَّأْمِ. فَقَالَ مُعَاوِيَةُ هَذَا مَالِكٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاذًا يَقُولُ وَهُمْ بِالشَّامِ.
#3642
Narrated `Urwa:That the Prophet (ﷺ) gave him one Dinar so as to buy a sheep for him. `Urwa bought two sheep for him with the money. Then he sold one of the sheep for one Dinar, and brought one Dinar and a sheep to the Prophet. On that, the Prophet (ﷺ) invoked Allah to bless him in his deals. So `Urwa used to gain (from any deal) even if he bought dust. (In another narration) `Urwa said, "I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "There is always goodness in horses till the Day of Resurrection." (The subnarrator added, "I saw 70 horses in `Urwa's house.') (Sufyan said, "The Prophet (ﷺ) asked `Urwa to buy a sheep for him as a sacrifice
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَىَّ، يُحَدِّثُونَ عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَعْطَاهُ دِينَارًا يَشْتَرِي بِهِ شَاةً، فَاشْتَرَى لَهُ بِهِ شَاتَيْنِ، فَبَاعَ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ وَجَاءَهُ بِدِينَارٍ وَشَاةٍ، فَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ فِي بَيْعِهِ، وَكَانَ لَوِ اشْتَرَى التُّرَابَ لَرَبِحَ فِيهِ. قَالَ سُفْيَانُ كَانَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ جَاءَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْهُ، قَالَ سَمِعَهُ شَبِيبٌ مِنْ عُرْوَةَ، فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ شَبِيبٌ إِنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ عُرْوَةَ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَىَّ يُخْبِرُونَهُ عَنْهُ. وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْخَيْرُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِي الْخَيْلِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ". قَالَ وَقَدْ رَأَيْتُ فِي دَارِهِ سَبْعِينَ فَرَسًا. قَالَ سُفْيَانُ يَشْتَرِي لَهُ شَاةً كَأَنَّهَا أُضْحِيَّةٌ.
#3643
Narrated `Urwa:That the Prophet (ﷺ) gave him one Dinar so as to buy a sheep for him. `Urwa bought two sheep for him with the money. Then he sold one of the sheep for one Dinar, and brought one Dinar and a sheep to the Prophet. On that, the Prophet (ﷺ) invoked Allah to bless him in his deals. So `Urwa used to gain (from any deal) even if he bought dust. (In another narration) `Urwa said, "I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "There is always goodness in horses till the Day of Resurrection." (The subnarrator added, "I saw 70 horses in `Urwa's house.') (Sufyan said, "The Prophet (ﷺ) asked `Urwa to buy a sheep for him as a sacrifice
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَىَّ، يُحَدِّثُونَ عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَعْطَاهُ دِينَارًا يَشْتَرِي بِهِ شَاةً، فَاشْتَرَى لَهُ بِهِ شَاتَيْنِ، فَبَاعَ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ وَجَاءَهُ بِدِينَارٍ وَشَاةٍ، فَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ فِي بَيْعِهِ، وَكَانَ لَوِ اشْتَرَى التُّرَابَ لَرَبِحَ فِيهِ. قَالَ سُفْيَانُ كَانَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ جَاءَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْهُ، قَالَ سَمِعَهُ شَبِيبٌ مِنْ عُرْوَةَ، فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ شَبِيبٌ إِنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ عُرْوَةَ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَىَّ يُخْبِرُونَهُ عَنْهُ. وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْخَيْرُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِي الْخَيْلِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ". قَالَ وَقَدْ رَأَيْتُ فِي دَارِهِ سَبْعِينَ فَرَسًا. قَالَ سُفْيَانُ يَشْتَرِي لَهُ شَاةً كَأَنَّهَا أُضْحِيَّةٌ.
#3644
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "There is always goodness in horses till the Day of Resurrection
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ نے بیان کیا، انہیں نافع نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر و برکت قیامت تک کے لیے باندھ دی گئی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ".
#3645
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) said, "There is always goodness in horses
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے بیان کیا، اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ برکت باندھ دی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ ".
#3646
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "A horse may be kept for one of three purposes: for a man it may be a source of reward; for another it may be a means of living; and for a third it may be a burden (a source of committing sins). As for the one for whom it is a source of reward, he is the one who keeps his horse for the sake of Jihad in Allah's Cause; he ties it with a long rope on a pasture or in a garden. So whatever its rope allows it to eat, will be regarded as good rewardable deeds (for its owner). And if it breaks off its rope and jumps over one or two hillocks, even its dung will be considered amongst his good deeds. And if it passes by a river and drinks water from it, that will be considered as good deeds for his benefit) even if he has had no intention of watering it. A horse is a shelter for the one who keeps it so that he may earn his living honestly and takes it as a refuge to keep him from following illegal ways (of gaining money), and does not forget the rights of Allah (i.e. paying the Zakat and allowing others to use it for Allah's Sake). But a horse is a burden (and a source of committing sins for him who keeps it out of pride and pretense and with the intention of harming the Muslims." The Prophet (ﷺ) was asked about donkeys. He replied, "Nothing has been revealed to me concerning them except this comprehensive Verse (which covers everything) :--'Then whosoever has done good equal to the weight of an atom (or a small ant), Shall see it (its reward) And whosoever has done evil equal to the weight of an atom (or a small ) ant), Shall see it (Its punishment)
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے ابوصالح سمان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھوڑے تین آدمیوں کے لیے ہیں۔ ایک کے لیے تو وہ باعث ثواب ہیں اور ایک کے لیے وہ معاف یعنی مباح ہیں اور ایک کے لیے وہ وبال ہیں۔ جس کے لیے گھوڑا باعث ثواب ہے یہ وہ شخص ہے جو جہاد کے لیے اسے پالے اور چراگاہ یا باغ میں اس کی رسی کو ( جس سے وہ بندھا ہوتا ہے ) خوب دراز کر دے تو وہ اپنے اس طول و عرض میں جو کچھ بھی چرتا ہے وہ سب اس کے مالک کے لیے نیکیاں بن جاتی ہیں اور اگر کبھی وہ اپنی رسی تڑا کر دو چار قدم دوڑ لے تو اس کی لید بھی مالک کے لیے باعث ثواب بن جاتی ہے اور کبھی اگر وہ کسی نہر سے گزرتے ہوئے اس میں سے پانی پی لے اگرچہ مالک کے دل میں اسے پہلے سے پانی پلانے کا خیال بھی نہ تھا، پھر بھی گھوڑے کا پانی پینا اس کے لیے ثواب بن جاتا ہے۔ اور ایک وہ آدمی جو گھوڑے کو لوگوں کے سامنے اپنی حاجت، پردہ پوشی اور سوال سے بچے رہنے کی غرض سے پالے اور اللہ تعالیٰ کا جو حق اس کی گردن اور اس کی پیٹھ میں ہے اسے بھی وہ فراموش نہ کرے تو یہ گھوڑا اس کے لیے ایک طرح کا پردہ ہوتا ہے اور ایک شخص وہ ہے جو گھوڑے کو فخر اور دکھاوے اور اہل اسلام کی دشمنی میں پالے تو وہ اس کے لیے وبال جان ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس جامع آیت کے سوا مجھ پر گدھوں کے بارے میں کچھ نازل نہیں ہوا «فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره * ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره» ”جو شخص ایک ذرہ کے برابر بھی نیکی کرے گا تو اس کا بھی وہ بدلہ پائے گا اور جو شخص ایک ذرہ کے برابر بھی برائی کرے گا تو وہ اس کا بھی بدلہ پائے گا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْخَيْلُ لِثَلاَثَةٍ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ. فَأَمَّا الَّذِي لَهُ أَجْرٌ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَطَالَ لَهَا فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ، وَمَا أَصَابَتْ فِي طِيَلِهَا مِنَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ كَانَتْ لَهُ حَسَنَاتٍ، وَلَوْ أَنَّهَا قَطَعَتْ طِيَلَهَا، فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ، كَانَتْ أَرْوَاثُهَا حَسَنَاتٍ لَهُ، وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهْرٍ فَشَرِبَتْ، وَلَمْ يُرِدْ أَنْ يَسْقِيَهَا، كَانَ ذَلِكَ لَهُ حَسَنَاتٍ، وَرَجُلٌ رَبَطَهَا تَغَنِّيًا وَسِتْرًا وَتَعَفُّفًا، لَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي رِقَابِهَا وَظُهُورِهَا، فَهِيَ لَهُ كَذَلِكَ سِتْرٌ. وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِيَاءً، وَنِوَاءً لأَهْلِ الإِسْلاَمِ فَهْىَ وِزْرٌ. وَسُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْحُمُرِ فَقَالَ " مَا أُنْزِلَ عَلَىَّ فِيهَا إِلاَّ هَذِهِ الآيَةُ الْجَامِعَةُ الْفَاذَّةُ {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ * وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ}
#3647
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) reached Khaibar in the early morning and the people of Khaibar came out with their spades, and when they saw the Prophet (ﷺ) they said, "Muhammad and his army!" and returned hurriedly to take refuge in the fort. The Prophet (ﷺ) raised his hands and said, "Allah is Greater! Khaibar is ruined ! If we approach a nation, then miserable is the morning of those who are warned
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں صبح سویرے ہی پہنچ گئے۔ خیبر کے یہودی اس وقت اپنے پھاوڑے لے کر ( کھیتوں میں کام کرنے کے لیے ) جا رہے تھے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور یہ کہتے ہوئے کہ محمد لشکر لے کر آ گئے، وہ قلعہ کی طرف بھاگے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھا کر فرمایا ”اللہ اکبر خیبر تو برباد ہوا کہ جب ہم کسی قوم کے میدان میں ( جنگ کے لیے ) اتر جاتے ہیں تو پھر ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہو جاتی ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ صَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ بُكْرَةً وَقَدْ خَرَجُوا بِالْمَسَاحِي، فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ. وَأَحَالُوا إِلَى الْحِصْنِ يَسْعَوْنَ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ وَقَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ".
#3648
Narrated Abu Huraira:I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I hear many narrations from you but I forget them." He said, "Spread your covering sheet." I spread my sheet and he moved both his hands as if scooping something and emptied them in the sheet and said, "Wrap it." I wrapped it round my body, and since then I have never forgotten
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا مجھ سے محمد بن اسماعیل ابن ابی الفدیک نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن ابن ابی ذئب نے، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ سے بہت سی احادیث اب تک سنی ہیں لیکن میں انہیں بھول جاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی چادر پھیلاؤ، میں نے چادر پھیلا دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس میں ایک لپ بھر کر ڈال دی اور فرمایا کہ اسے اپنے بدن سے لگا لو۔ چنانچہ میں نے لگا لیا اور اس کے بعد کبھی کوئی حدیث نہیں بھولا۔
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الْفُدَيْكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ مِنْكَ كَثِيرًا فَأَنْسَاهُ. قَالَ " ابْسُطْ رِدَاءَكَ ". فَبَسَطْتُ فَغَرَفَ بِيَدِهِ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ " ضُمَّهُ " فَضَمَمْتُهُ، فَمَا نَسِيتُ حَدِيثًا بَعْدُ.
#3649
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:"Allah's Messenger (ﷺ) said, "A time will come upon the people, when a group of people will wage a holy war and it will be said, 'Is there amongst you anyone who has accompanied Allah's Messenger (ﷺ)?' They will say, 'Yes.' And so victory will be bestowed on them. Then a time will come upon the people when a group of people will wage a holy war, and it will be said, "Is there amongst you anyone who has accompanied the companions of Allah's Messenger (ﷺ)?' They will say, 'Yes.' And so victory will be bestowed on them. Then a time will come upon the people when a group of people will wage a holy war, and it will be said, "Is there amongst you anyone who has been in the company of the companions of the companions of Allah's Messenger (ﷺ) ?' They will say, 'Yes.' And victory will be bestowed on them
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا اور انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک زمانہ آئے گا کہ اہل اسلام کی جماعتیں جہاد کریں گی تو ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تمہارے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی صحابی بھی ہے؟ وہ کہیں گے کہ ہاں ہیں۔ تب ان کی فتح ہو گی۔ پھر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ مسلمانوں کی جماعتیں جہاد کریں گی اور اس موقع پر یہ پوچھا جائے گا کہ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کی صحبت اٹھانے والے ( تابعی ) بھی موجود ہیں؟ جواب ہو گا کہ ہاں ہیں اور ان کے ذریعہ فتح کی دعا مانگی جائے گی، اس کے بعد ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ مسلمانوں کی جماعتیں جہاد کریں گی اور اس وقت سوال اٹھے گا کہ کیا یہاں کوئی بزرگ ایسے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے شاگردوں میں سے کسی بزرگ کی صحبت میں رہے ہوں؟ جواب ہو گا کہ ہاں ہیں، تو ان کے ذریعہ فتح کی دعا مانگی جائے گی پھر ان کی فتح ہو گی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيَقُولُونَ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُونَ نَعَمْ. فَيُفْتَحُ لَهُمْ. ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُونَ نَعَمْ. فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُونَ نَعَمْ. فَيُفْتَحُ لَهُمْ ".
#3650
Narrated `Imran bin Husain:"Allah's Messenger (ﷺ) said, 'The best of my followers are those living in my generation (i.e. my contemporaries). and then those who will follow the latter" `Imran added, "I do not remember whether he mentioned two or three generations after his generation, then the Prophet (ﷺ) added, 'There will come after you, people who will bear witness without being asked to do so, and will be treacherous and untrustworthy, and they will vow and never fulfill their vows, and fatness will appear among them
مجھ سے اسحٰق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں ابوجمرہ نے، کہا میں نے زہدم بن مضرب سے سنا، کہا کہ میں نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کا سب سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے۔ پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور کے بعد دو زمانوں کا ذکر کیا یا تین کا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے بعد ایک ایسی قوم پیدا ہو گی جو بغیر کہے گواہی دینے کے لیے تیار ہو جایا کرے گی اور ان میں خیانت اور چوری اتنی عام ہو جائے گی کہ ان پر کسی قسم کا بھروسہ باقی نہیں رہے گا۔ اور نذریں مانیں گے لیکن انہیں پورا نہیں کریں گے ( حرام مال کھا کھا کر ) ان پر مٹاپا عام ہو جائے گا۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، سَمِعْتُ زَهْدَمَ بْنَ مُضَرِّبٍ، سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ". قَالَ عِمْرَانُ فَلاَ أَدْرِي أَذَكَرَ بَعْدَ قَرْنِهِ قَرْنَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا " ثُمَّ إِنَّ بَعْدَكُمْ قَوْمًا يَشْهَدُونَ وَلاَ يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَخُونُونَ وَلاَ يُؤْتَمَنُونَ، وَيَنْذُرُونَ وَلاَ يَفُونَ، وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ ".