#3051
Narrated Salama bin Al-Akwa`:"An infidel spy came to the Prophet (ﷺ) while he was on a journey. The spy sat with the companions of the Prophet (ﷺ) and started talking and then went away. The Prophet (ﷺ) said (to his companions), 'Chase and kill him.' So, I killed him." The Prophet (ﷺ) then gave him the belongings of the killed spy (in addition to his share of the war booty)
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابو عمیس عتبہ بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے ایاس بن سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے ‘ ان سے ان کے باپ (سلمہ رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفر میں مشرکوں کا ایک جاسوس آیا۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ ہوازن کے لیے تشریف لے جا رہے تھے ) وہ جاسوس صحابہ کی جماعت میں بیٹھا ‘ باتیں کیں ‘ پھر وہ واپس چلا گیا ‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے تلاش کر کے مار ڈالو۔ چنانچہ اسے ( سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے ) قتل کر دیا ‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہتھیار اور اوزار قتل کرنے والے کو دلوا دئیے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَيْنٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَهْوَ فِي سَفَرٍ، فَجَلَسَ عِنْدَ أَصْحَابِهِ يَتَحَدَّثُ ثُمَّ انْفَتَلَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اطْلُبُوهُ وَاقْتُلُوهُ ". فَقَتَلَهُ فَنَفَّلَهُ سَلَبَهُ.
#3052
Narrated `Amr bin Maimun:`Umar (after he was stabbed), instructed (his would-be-successor) saying, "I urge him (i.e. the new Caliph) to take care of those non-Muslims who are under the protection of Allah and His Apostle in that he should observe the convention agreed upon with them, and fight on their behalf (to secure their safety) and he should not over-tax them beyond their capability
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ انہیں حصین بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے عمرو بن میمون نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ( وفات سے تھوڑی دیر پہلے ) فرمایا کہ میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو اس کی وصیت کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ( ذمیوں سے ) جو عہد ہے اس کو وہ پورا کرے اور یہ کہ ان کی حمایت میں ان کے دشمنوں سے جنگ کرے اور ان کی طاقت سے زیادہ کوئی بوجھ ان پر نہ ڈالا جائے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ وَأُوصِيهِ بِذِمَّةِ اللَّهِ وَذِمَّةِ رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُوفَى لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ، وَأَنْ يُقَاتَلَ مِنْ وَرَائِهِمْ، وَلاَ يُكَلَّفُوا إِلاَّ طَاقَتَهُمْ.
#3053
Narrated Sa`id bin Jubair:Ibn `Abbas said, "Thursday! What (great thing) took place on Thursday!" Then he started weeping till his tears wetted the gravels of the ground . Then he said, "On Thursday the illness of Allah's Messenger (ﷺ) was aggravated and he said, "Fetch me writing materials so that I may have something written to you after which you will never go astray." The people (present there) differed in this matter and people should not differ before a prophet. They said, "Allah's Messenger (ﷺ) is seriously sick.' The Prophet (ﷺ) said, "Let me alone, as the state in which I am now, is better than what you are calling me for." The Prophet (ﷺ) on his death-bed, gave three orders saying, "Expel the pagans from the Arabian Peninsula, respect and give gifts to the foreign delegates as you have seen me dealing with them." I forgot the third (order)" (Ya'qub bin Muhammad said, "I asked Al-Mughira bin `Abdur-Rahman about the Arabian Peninsula and he said, 'It comprises Mecca, Medina, Al-Yama-ma and Yemen." Ya'qub added, "And Al-Arj, the beginning of Tihama)
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے سلیمان احول نے ‘ ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جمعرات کے دن ‘ اور معلوم ہے جمعرات کا دن کیا ہے؟ پھر آپ اتنا روئے کہ کنکریاں تک بھیگ گئیں۔ آخر آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں شدت اسی جمعرات کے دن ہوئی تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ قلم دوات لاؤ ‘ تاکہ میں تمہارے لیے ایک ایسی کتاب لکھوا جاؤں کہ تم ( میرے بعد اس پر چلتے رہو تو ) کبھی گمراہ نہ ہو سکو اس پر صحابہ میں اختلاف ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نبی کے سامنے جھگڑنا مناسب نہیں ہے۔ صحابہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( بیماری کی شدت سے ) ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا ‘ اب مجھے میری حالت پر چھوڑ دو ‘ میں جس حال میں اس وقت ہوں وہ اس سے بہتر ہے جو تم کرانا چاہتے ہو۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت تین وصیتیں فرمائی تھیں۔ یہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے باہر کر دینا۔ دوسرے یہ کہ وفود سے ایسا ہی سلوک کرتے رہنا ‘ جیسے میں کرتا رہا ( ان کی خاطرداری ضیافت وغیرہ ) اور تیسری ہدایت میں بھول گیا۔ اور یعقوب بن محمد نے بیان کیا کہ میں نے مغیرہ بن عبدالرحمٰن سے جزیرہ عرب کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہا مکہ ‘ مدینہ ‘ یمامہ اور یمن ( کا نام جزیرہ عرب ) ہے۔ اور یعقوب نے کہا کہ عرج سے تہامہ شروع ہوتا ہے ( عرج مکہ اور مدینہ کے راستے میں ایک منزل کا نام ہے ) ۔
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ قَالَ يَوْمُ الْخَمِيسِ، وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ثُمَّ بَكَى حَتَّى خَضَبَ دَمْعُهُ الْحَصْبَاءَ فَقَالَ اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَعُهُ يَوْمَ الْخَمِيسِ فَقَالَ " ائْتُونِي بِكِتَابٍ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا ". فَتَنَازَعُوا وَلاَ يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ فَقَالُوا هَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. قَالَ " دَعُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونِي إِلَيْهِ ". وَأَوْصَى عِنْدَ مَوْتِهِ بِثَلاَثٍ " أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ ". وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ. وَقَالَ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ سَأَلْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ. فَقَالَ مَكَّةُ وَالْمَدِينَةُ وَالْيَمَامَةُ وَالْيَمَنُ. وَقَالَ يَعْقُوبُ وَالْعَرْجُ أَوَّلُ تِهَامَةَ.
#3054
Narrated Ibn `Umar:`Umar saw a silken cloak being sold in the market and he brought it to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Buy this cloak and adorn yourself with it on the `Id festivals and on meeting the delegations." Allah's Messenger (ﷺ) replied, "This is the dress for the one who will have no share in the Hereafter (or, this is worn by one who will have no share in the Hereafter)." After sometime had passed, Allah's Messenger (ﷺ) sent a silken cloak to `Umar. `Umar took it and brought it to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! You have said that this is the dress of that who will have no share in the Hereafter (or, this is worn by one who will have no share in the Hereafter), yet you have sent me this!" The Prophet (ﷺ) said," I have sent it) so that you may sell it or fulfill with it some of your needs
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ بازار میں ایک ریشمی جوڑا فروخت ہو رہا ہے۔ پھر اسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور عرض کیا یا رسول اللہ! یہ جوڑا آپ خرید لیں اور عید اور وفود کی ملاقات پر اس سے اپنی زیبائش فرمایا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ان لوگوں کا لباس ہے جن کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں یا ( آپ نے یہ جملہ فرمایا ) اسے تو وہی لوگ پہن سکتے ہیں جن کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں۔ پھر اللہ نے جتنے دنوں چاہا عمر رضی اللہ عنہ خاموش رہے۔ پھر جب ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا تو عمر رضی اللہ عنہ اسے لے کر خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے تو یہ فرمایا تھا کہ یہ ان کا لباس ہے جن کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں ‘ یا ( عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی بات اس طرح دہرائی کہ ) اسے وہی لوگ پہن سکتے ہیں جن کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں۔ اور پھر آپ نے یہی میرے پاس ارسال فرما دیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( میرے بھیجنے کا مقصد یہ تھا کہ ) تم اسے بیچ لو ‘ یا ( فرمایا کہ ) اس سے اپنی کوئی ضرورت پوری کر سکو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ وَجَدَ عُمَرُ حُلَّةَ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ فِي السُّوقِ فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْتَعْ هَذِهِ الْحُلَّةَ فَتَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَلِلْوُفُودِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ، أَوْ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ ". فَلَبِثَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ، فَأَقْبَلَ بِهَا عُمَرُ حَتَّى أَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ " إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ أَوْ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لا خَلاَقَ لَهُ ". ثُمَّ أَرْسَلْتَ إِلَىَّ بِهَذِهِ فَقَالَ " تَبِيعُهَا، أَوْ تُصِيبُ بِهَا بَعْضَ حَاجَتِكَ ".
#3055
Narrated Ibn 'Umar: Umar and a group of the companions of the Prophet (ﷺ) set out with the Prophet to Ibn Saiyad. He found him playing with some boys near the hillocks of Bani Maghala. Ibn Saiyad at that time was nearing his puberty. He did not notice (the Prophet's presence) till the Prophet (ﷺ) stroked him on the back with his hand and said, "Ibn Saiyad! Do you testify that I am Allah's Messenger (ﷺ)?" Ibn Saiyad looked at him and said, "I testify that you are the Apostle of the illiterates." Then Ibn Saiyad asked the Prophet. "Do you testify that I am the apostle of Allah?" The Prophet (ﷺ) said to him, "I believe in Allah and His Apostles." Then the Prophet (ﷺ) said (to Ibn Saiyad). "What do you see?" Ibn Saiyad replied, "True people and false ones visit me." The Prophet said, "Your mind is confused as to this matter." The Prophet (ﷺ) added, " I have kept something (in my mind) for you." Ibn Saiyad said, "It is Ad-Dukh." The Prophet (ﷺ) said (to him), "Shame be on you! You cannot cross your limits." On that 'Umar said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Allow me to chop his head off." The Prophet (ﷺ) said, "If he should be him (i.e. Ad-Dajjal) then you cannot overpower him, and should he not be him, then you are not going to benefit by murdering him
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں سالم بن عبداللہ نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت جن میں عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ‘ ابن صیاد ( یہودی لڑکا ) کے یہاں جا رہی تھی۔ آخر بنو مغالہ ( ایک انصاری قبیلے ) کے ٹیلوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے اسے ان لوگوں نے پا لیا ‘ ابن صیاد بالغ ہونے کے قریب تھا۔ اسے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا ) پتہ نہیں ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس کے قریب پہنچ کر ) اپنا ہاتھ اس کی پیٹھ پر مارا ‘ اور فرمایا کیا تو اس کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھا ‘ پھر کہنے لگا۔ ہاں! میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ان پڑھوں کے نبی ہیں۔ اس کے بعد اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ آپ نے اس کا جواب ( صرف اتنا ) دیا کہ میں اللہ اور اس کے ( سچے ) انبیاء پر ایمان لایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ‘ تو کیا دیکھتا ہے؟ اس نے کہا کہ میرے پاس ایک خبر سچی آتی ہے تو دوسری جھوٹی بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ حقیقت حال تجھ پر مشتبہ ہو گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا ”اچھا میں نے تیرے لیے اپنے دل میں ایک بات سوچی ہے ( بتا وہ کیا ہے؟ ) “ ابن صیاد بولا کہ دھواں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ذلیل ہو ‘ کمبخت! تو اپنی حیثیت سے آگے نہ بڑھ سکے گا۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ‘ یا رسول اللہ! مجھے اجازت ہو تو میں اس کی گردن مار دوں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر یہ وہی ( دجال ) ہے تو تم اس پر قادر نہیں ہو سکتے اور اگر دجال نہیں ہے تو اس کی جان لینے میں کوئی خیر نہیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ انْطَلَقَ فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ حَتَّى وَجَدُوهُ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ، وَقَدْ قَارَبَ يَوْمَئِذٍ ابْنُ صَيَّادٍ يَحْتَلِمُ، فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ". فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الأُمِّيِّينَ. فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ " قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَاذَا تَرَى ". قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ. قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " خُلِطَ عَلَيْكَ الأَمْرُ ". قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا ". قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ هُوَ الدُّخُّ. قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ ". قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي فِيهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ. قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنْ يَكُنْهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْهُ فَلاَ خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ ".
#3056
Narrated Ibn Umar: (Later on) Allah's Messenger (ﷺ) (once again) went along with Ubai bin Ka'b to the garden of date-palms where Ibn Saiyad was staying. When the Prophet entered the garden, he started hiding himself behind the trunks of the date-palms as he wanted to hear something from Ibn Saiyad before the latter could see him. Ibn Saiyad was lying in his bed, covered with a velvet sheet from where his murmurs were heard. Ibn Saiyad's mother saw the Prophet (ﷺ) while he was hiding himself behind the trunks of the date-palms. She addressed Ibn Saiyad, "O Saf!" (And this was his name). Ibn Saiyad got up. The Prophet (ﷺ) said, "Had this woman let him to himself, he would have revealed the reality of his case." Then the Prophet (ﷺ) got up amongst the people, glorifying Allah as He deserves, he mentioned Ad-Dajjal, saying, "I warn you about him (i.e. Ad-Dajjal) and there is no prophet who did not warn his nation about him, and Noah warned his nation about him, but I tell you a statement which no prophet informed his nation of. You should understand that he is a one-eyed man and Allah is not one-eyed
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ( ایک مرتبہ ) ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کھجور کے باغ میں تشریف لائے جس میں ابن صیاد موجود تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں داخل ہو گئے تو کھجور کے تنوں کی آڑ لیتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھنے لگے۔ آپ چاہتے یہ تھے کہ اسے آپ کی موجودگی کا احساس نہ ہو سکے اور آپ اس کی باتیں سن لیں۔ ابن صیاد اس وقت اپنے بستر پر ایک چادر اوڑھے پڑا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا۔ اتنے میں اس کی ماں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا کہ آپ کھجور کے تنوں کی آڑ لے کر آگے آ رہے ہیں اور اسے آگاہ کر دیا کہ اے صاف! یہ اس کا نام تھا۔ ابن صیاد یہ سنتے ہی اچھل پڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ اگر اس کی ماں نے اسے یوں ہی رہنے دیا ہوتا تو حقیقت کھل جاتی۔
قَالَ ابْنُ عُمَرَ انْطَلَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ يَأْتِيَانِ النَّخْلَ الَّذِي فِيهِ ابْنُ صَيَّادٍ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ النَّخْلَ طَفِقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَهْوَ يَخْتِلُ ابْنَ صَيَّادٍ أَنْ يَسْمَعَ مِنِ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ، وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْزَةٌ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، فَقَالَتْ لاِبْنِ صَيَّادٍ أَىْ صَافِ ـ وَهْوَ اسْمُهُ ـ فَثَارَ ابْنُ صَيَّادٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ ". وَقَالَ سَالِمٌ قَالَ ابْنُ عُمَرَ ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ " إِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ قَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ، لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ، وَلَكِنْ سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلاً لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ، تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ".
#3057
Narrated Ibn Umar: (Later on) Allah's Messenger (ﷺ) (once again) went along with Ubai bin Ka'b to the garden of date-palms where Ibn Saiyad was staying. When the Prophet entered the garden, he started hiding himself behind the trunks of the date-palms as he wanted to hear something from Ibn Saiyad before the latter could see him. Ibn Saiyad was lying in his bed, covered with a velvet sheet from where his murmurs were heard. Ibn Saiyad's mother saw the Prophet (ﷺ) while he was hiding himself behind the trunks of the date-palms. She addressed Ibn Saiyad, "O Saf!" (And this was his name). Ibn Saiyad got up. The Prophet (ﷺ) said, "Had this woman let him to himself, he would have revealed the reality of his case." Then the Prophet (ﷺ) got up amongst the people, glorifying Allah as He deserves, he mentioned Ad-Dajjal, saying, "I warn you about him (i.e. Ad-Dajjal) and there is no prophet who did not warn his nation about him, and Noah warned his nation about him, but I tell you a statement which no prophet informed his nation of. You should understand that he is a one-eyed man and Allah is not one-eyed
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ( ایک مرتبہ ) ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کھجور کے باغ میں تشریف لائے جس میں ابن صیاد موجود تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں داخل ہو گئے تو کھجور کے تنوں کی آڑ لیتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھنے لگے۔ آپ چاہتے یہ تھے کہ اسے آپ کی موجودگی کا احساس نہ ہو سکے اور آپ اس کی باتیں سن لیں۔ ابن صیاد اس وقت اپنے بستر پر ایک چادر اوڑھے پڑا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا۔ اتنے میں اس کی ماں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا کہ آپ کھجور کے تنوں کی آڑ لے کر آگے آ رہے ہیں اور اسے آگاہ کر دیا کہ اے صاف! یہ اس کا نام تھا۔ ابن صیاد یہ سنتے ہی اچھل پڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ اگر اس کی ماں نے اسے یوں ہی رہنے دیا ہوتا تو حقیقت کھل جاتی۔
قَالَ ابْنُ عُمَرَ انْطَلَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ يَأْتِيَانِ النَّخْلَ الَّذِي فِيهِ ابْنُ صَيَّادٍ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ النَّخْلَ طَفِقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَهْوَ يَخْتِلُ ابْنَ صَيَّادٍ أَنْ يَسْمَعَ مِنِ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ، وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْزَةٌ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، فَقَالَتْ لاِبْنِ صَيَّادٍ أَىْ صَافِ ـ وَهْوَ اسْمُهُ ـ فَثَارَ ابْنُ صَيَّادٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ ". وَقَالَ سَالِمٌ قَالَ ابْنُ عُمَرَ ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ " إِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ قَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ، لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ، وَلَكِنْ سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلاً لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ، تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ".
#3058
Narrated Usama bin Zaid:I asked the Prophet (ﷺ) during his Hajj, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Where will you stay tomorrow?" He said, "Has `Aqil left for us any house?" He then added, "Tomorrow we will stay at Khaif Bani Kinana, i.e. Al-Muhassab, where (the Pagans of) Quraish took an oath of Kufr (i.e. to be loyal to heathenism) in that Bani Kinana got allied with Quraish against Bani Hashim on the terms that they would not deal with the members of this tribe or give them shelter." (Az-Zuhri said, "Khaif means valley.") (See Hadith No. 659, Vol)
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی انہیں زہری نے ‘ انہیں علی بن حسین نے ‘ انہیں عمرو بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اور ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر عرض کیا ‘ یا رسول اللہ! کل آپ ( مکہ میں ) کہاں قیام فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑا ہی کب ہے۔ پھر فرمایا کہ کل ہمارا قیام حنیف بن کنانہ کے مقام محصب میں ہو گا ‘ جہاں پر قریش نے کفر پر قسم کھائی تھی۔ واقعہ یہ ہوا تھا کہ بنی کنانہ اور قریش نے ( یہیں پر ) بنی ہاشم کے خلاف اس بات کی قسمیں کھائی تھیں کہ ان سے خرید و فروخت کی جائے اور نہ انہیں اپنے گھروں میں آنے دیں۔ زہری نے کہا کہ خیف وادی کو کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا فِي حَجَّتِهِ. قَالَ " وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلاً ". ثُمَّ قَالَ "نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ الْمُحَصَّبِ، حَيْثُ قَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْكُفْرِ ". وَذَلِكَ أَنَّ بَنِي كِنَانَةَ حَالَفَتْ قُرَيْشًا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنْ لاَ يُبَايِعُوهُمْ وَلاَ يُئْوُوهُمْ. قَالَ الزُّهْرِيُّ وَالْخَيْفُ الْوَادِي.
#3059
Narrated Aslam:`Umar bin Al-Khattab appointed a freed slave of his, called Hunai, manager of the Hima (i.e. a pasture devoted for grazing the animals of the Zakat or other specified animals). He said to him, "O Hunai! Don't oppress the Muslims and ward off their curse (invocations against you) for the invocation of the oppressed is responded to (by Allah); and allow the shepherd having a few camels and those having a few sheep (to graze their animals), and take care not to allow the livestock of `Abdur-Rahman bin `Auf and the livestock of (`Uthman) bin `Affan, for if their livestock should perish, then they have their farms and gardens, while those who own a few camels and those who own a few sheep, if their livestock should perish, would bring their dependents to me and appeal for help saying, 'O chief of the believers! O chief of the believers!' Would I then neglect them? (No, of course not). So, I find it easier to let them have water and grass rather than to give them gold and silver (from the Muslims' treasury). By Allah, these people think that I have been unjust to them. This is their land, and during the pre-Islamic period, they fought for it and they embraced Islam (willingly) while it was in their possession. By Him in Whose Hand my life is! Were it not for the animals (in my custody) which I give to be ridden for striving in Allah's Cause, I would not have turned even a span of their land into a Hima
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ‘ ان سے زید بن اسلم نے ‘ ان سے ان کے والد نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہنی نامی اپنے ایک غلام کو ( سرکاری ) چراگاہ کا حاکم بنایا ‘ تو انہیں یہ ہدایت کی ‘ اے ہنی! مسلمانوں سے اپنے ہاتھ روکے رکھنا ( ان پر ظلم نہ کرنا ) اور مظلوم کی بددعا سے ہر وقت بچتے رہنا ‘ کیونکہ مظلوم کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اور ہاں ابن عوف اور ابن عفان اور ان جیسے ( امیر صحابہ ) کے مویشیوں کے بارے میں تجھے ڈرتے رہنا چاہئے۔ ( یعنی ان کے امیر ہونے کی وجہ سے دوسرے غریبوں کے مویشیوں پر چراگاہ میں انہیں مقدم نہ رکھنا ) کیونکہ اگر ان کے مویشی ہلاک بھی ہو جائیں گے تو یہ رؤسا اپنے کھجور کے باغات اور کھیتوں سے اپنی معاش حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن گنے چنے اونٹوں اور گنی چنی بکریوں کا مالک ( غریب ) کہ اگر اس کے مویشی ہلاک ہو گئے ‘ تو وہ اپنے بچوں کو لے کر میرے پاس آئے گا ‘ اور فریاد کرے گا: یا امیرالمؤمنین! یا امیرالمؤمنین! تو کیا میں انہیں چھوڑ دوں گا ( یعنی ان کو پالنا ) تمہارا باپ نہ ہو؟ اس لیے ( پہلے ہی سے ) ان کیلئے چارے اور پانی کا انتظام کر دینا میرے لیے اس سے زیادہ آسان ہے کہ میں ان کیلئے سونے چاندی کا انتظام کروں اور اللہ کی قسم! وہ ( اہل مدینہ ) یہ سمجھتے ہوں گے کہ میں نے ان کے ساتھ زیادتی کی ہے کیونکہ یہ زمینیں انہیں کی ہیں۔ انہوں نے جاہلیت کے زمانہ میں اس کے لیے لڑائیاں لڑیں ہیں اور اسلام لانے کے بعد بھی ان کی ملکیت کو بحال رکھا گیا ہے۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر وہ اموال ( گھوڑے وغیرہ ) نہ ہوتے جن پر جہاد میں لوگوں کو سوار کرتا ہوں تو ان کے علاقوں میں ایک بالشت زمین کو بھی میں چراگاہ نہ بناتا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ اسْتَعْمَلَ مَوْلًى لَهُ يُدْعَى هُنَيًّا عَلَى الْحِمَى فَقَالَ يَا هُنَىُّ، اضْمُمْ جَنَاحَكَ عَنِ الْمُسْلِمِينَ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ مُسْتَجَابَةٌ، وَأَدْخِلْ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَرَبَّ الْغُنَيْمَةِ، وَإِيَّاىَ وَنَعَمَ ابْنِ عَوْفٍ، وَنَعَمَ ابْنِ عَفَّانَ، فَإِنَّهُمَا إِنْ تَهْلِكْ مَاشِيَتُهُمَا يَرْجِعَا إِلَى نَخْلٍ وَزَرْعٍ، وَإِنَّ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَرَبَّ الْغُنَيْمَةِ إِنْ تَهْلِكْ مَاشِيَتُهُمَا يَأْتِنِي بِبَنِيهِ فَيَقُولُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. أَفَتَارِكُهُمْ أَنَا لاَ أَبَا لَكَ فَالْمَاءُ وَالْكَلأُ أَيْسَرُ عَلَىَّ مِنَ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، وَايْمُ اللَّهِ، إِنَّهُمْ لَيَرَوْنَ أَنِّي قَدْ ظَلَمْتُهُمْ، إِنَّهَا لَبِلاَدُهُمْ فَقَاتَلُوا عَلَيْهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَأَسْلَمُوا عَلَيْهَا فِي الإِسْلاَمِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلاَ الْمَالُ الَّذِي أَحْمِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا حَمَيْتُ عَلَيْهِمْ مِنْ بِلاَدِهِمْ شِبْرًا.
#3060
Narrated Hudhaifa:The Prophet (ﷺ) said (to us), " List the names of those people who have announced that they are Muslims." So, we listed one thousand and five hundred men. Then we wondered, "Should we be afraid (of infidels) although we are one thousand and five hundred in number?" No doubt, we witnessed ourselves being afflicted with such bad trials that one would have to offer the prayer alone in fear. Narrated Al-A`mash: "We (listed the Muslims and) found them five hundred." And Abu Muawiya said, "Between six hundred to seven hundred
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے اعمش نے ‘ ان سے ابووائل نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو لوگ اسلام کا کلمہ پڑھ چکے ہیں ان کے نام لکھ کر میرے پاس لاؤ۔“ چنانچہ ہم نے ڈیڑھ ہزار مردوں کے نام لکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ہماری تعداد ڈیڑھ ہزار ہو گئی ہے۔ اب ہم کو کیا ڈر ہے۔ لیکن تم دیکھ رہے ہو کہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ) ہم فتنوں میں اس طرح گھر گئے کہ اب مسلمان تنہا نماز پڑھتے ہوئے بھی ڈرنے لگا ہے۔ ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ ان سے ابوحمزہ نے اور ان سے اعمش نے ( مذکورہ بالا سند کے ساتھ ) کہ ہم نے پانچ سو مسلمانوں کی تعداد لکھی ( ہزار کا ذکر اس روایت میں نہیں ہوا ) اور ابومعاویہ نے ( اپنی روایت میں ) یوں بیان کیا ‘ کہ چھ سو سے سات سو تک۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اكْتُبُوا لِي مَنْ تَلَفَّظَ بِالإِسْلاَمِ مِنَ النَّاسِ ". فَكَتَبْنَا لَهُ أَلْفًا وَخَمْسَمِائَةِ رَجُلٍ، فَقُلْنَا نَخَافُ وَنَحْنُ أَلْفٌ وَخَمْسُمِائَةٍ فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا ابْتُلِينَا حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيُصَلِّي وَحْدَهُ وَهْوَ خَائِفٌ. حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، فَوَجَدْنَاهُمْ خَمْسَمِائَةٍ. قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ مَا بَيْنَ سِتِّمِائَةٍ إِلَى سَبْعِمِائَةٍ.
#3061
Narrated Ibn `Abbas:A man came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have enlisted in the army for such-andsuch Ghazwa, and my wife is leaving for Hajj." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Go back and perform Hajj with your wife
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے ابن جریج نے ‘ ان سے عمرو بن دینار نے ‘ ان سے ابومعبد نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! میرا نام فلاں جہاد میں جانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ ادھر میری بیوی حج کرنے جا رہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جا اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کر آ۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا، وَامْرَأَتِي حَاجَّةٌ. قَالَ " ارْجِعْ فَحُجَّ مَعَ امْرَأَتِكَ ".
#3062
Narrated Az-Zuhri:as follows in Hadith 297. Narrated Abu Huraira: We were in the company of Allah's Messenger (ﷺ) in a Ghazwa, and he remarked about a man who claimed to be a Muslim, saying, "This (man) is from the people of the (Hell) Fire." When the battle started, the man fought violently till he got wounded. Somebody said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! The man whom you described as being from the people of the (Hell) Fire fought violently today and died." The Prophet (ﷺ) said, "He will go to the (Hell) Fire." Some people were on the point of doubting (the truth of what the Prophet had said) while they were in this state, suddenly someone said that he was still alive but severely wounded. When night fell, he lost patience and committed suicide. The Prophet (ﷺ) was informed of that, and he said, "Allah is Greater! I testify that I am Allah's Slave and His Apostle." Then he ordered Bilal to announce amongst the people: 'None will enter Paradise but a Muslim, and Allah may support this religion (i.e. Islam) even with a disobedient man
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے (دوسری سند) مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ انہیں معمر نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں ابن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے متعلق جو اپنے کو مسلمان کہتا تھا ‘ فرمایا کہ یہ شخص دوزخ والوں میں سے ہے۔ جب جنگ شروع ہوئی تو وہ شخص ( مسلمانوں کی طرف ) بڑی بہادری کے ساتھ لڑا اور وہ زخمی بھی ہو گیا۔ صحابہ نے عرض کیا ‘ یا رسول اللہ! جس کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ وہ دوزخ میں جائے گا۔ آج تو وہ بڑی بے جگری کے ساتھ لڑا ہے اور ( زخمی ہو کر ) مر بھی گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اب بھی وہی جواب دیا کہ جہنم میں گیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ کہ ممکن تھا کہ بعض لوگوں کے دل میں کچھ شبہ پیدا ہو جاتا۔ لیکن ابھی لوگ اسی غور و فکر میں تھے کہ کسی نے بتایا کہ ابھی وہ مرا نہیں ہے۔ البتہ زخم کاری ہے۔ پھر جب رات آئی تو اس نے زخموں کی تاب نہ لا کر خودکشی کر لی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اکبر! میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ‘ اور انہوں نے لوگوں میں اعلان کر دیا کہ مسلمان کے سوا جنت میں کوئی اور داخل نہیں ہو گا اور اللہ تعالیٰ کبھی اپنے دین کی امداد کسی فاجر شخص سے بھی کرا لیتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَحَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ شَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ يَدَّعِي الإِسْلاَمَ " هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ ". فَلَمَّا حَضَرَ الْقِتَالُ قَاتَلَ الرَّجُلُ قِتَالاً شَدِيدًا، فَأَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، الَّذِي قُلْتَ إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَإِنَّهُ قَدْ قَاتَلَ الْيَوْمَ قِتَالاً شَدِيدًا وَقَدْ مَاتَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِلَى النَّارِ ". قَالَ فَكَادَ بَعْضُ النَّاسِ أَنْ يَرْتَابَ، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ إِذْ قِيلَ إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ، وَلَكِنَّ بِهِ جِرَاحًا شَدِيدًا. فَلَمَّا كَانَ مِنَ اللَّيْلِ لَمْ يَصْبِرْ عَلَى الْجِرَاحِ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ فَقَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ". ثُمَّ أَمَرَ بِلاَلاً فَنَادَى بِالنَّاسِ " إِنَّهُ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلاَّ نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ ".
#3063
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) delivered a sermon and said, "Zaid received the flag and was martyred, then Ja`far took it and was martyred, then `Abdullah bin Rawaha took it and was martyred, and then Khalid bin Al-Walid took it without being appointed, and Allah gave him victory." The Prophet (ﷺ) added, "I am not pleased (or they will not be pleased) that they should remain (alive) with us," while his eyes were shedding tears
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن علیہ نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب نے ‘ ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مدینہ میں ) غزوہ موتہ کے موقع پر خطبہ دیا ‘ ( جب کہ مسلمان سپاہی موتہ کے میدان میں داد شجاعت دے رہے تھے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب اسلامی عَلم ( جھنڈا ) زید بن حارثہ نے سنبھالا اور انہیں شہید کر دیا گیا، پھر جعفر نے عَلم اپنے ہاتھ میں اٹھا لیا اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے۔ اب عبداللہ بن رواحہ نے عَلم تھاما ‘ یہ بھی شہید کر دیئے گئے۔ آخر خالد بن ولید نے کسی نئی ہدایت کے بغیر اسلامی عَلم اٹھا لیا ہے۔ اور ان کے ہاتھ پر فتح حاصل ہو گئی ‘ اور میرے لیے اس میں کوئی خوشی کی بات نہیں تھی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ کہ ان کے لیے کوئی خوشی کی بات نہیں تھی کہ وہ ( شہداء ) ہمارے پاس زندہ ہوتے۔ ( کیونکہ شہادت کے بعد وہ جنت میں عیش کر رہے ہیں ) اور انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَهَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ غَيْرِ إِمْرَةٍ فَفُتِحَ عَلَيْهِ، وَمَا يَسُرُّنِي ـ أَوْ قَالَ مَا يَسُرُّهُمْ ـ أَنَّهُمْ عِنْدَنَا ". وَقَالَ وَإِنَّ عَيْنَيْهِ لَتَذْرِفَانِ.
#3064
Narrated Anas: The people of the tribes of Ril, Dhakwan, 'Usaiya and Bani Lihyan came to the Prophet (ﷺ) and claimed that they had embraced Islam, and they requested him to support them with some men to fight their own people. The Prophet (ﷺ) supported them with seventy men from the Ansar whom we used to call Al-Qurra'(i.e. Scholars) who (out of piety) used to cut wood during the day and pray all the night. So, those people took the (seventy) men till they reached a place called Bi'r-Ma'una where they betrayed and martyred them. So, the Prophet (ﷺ) invoked evil on the tribe of Ril, Dhakwan and Bani Lihyan for one month in the prayer. Narrated Qatada: Anas told us that they (i.e. Muslims) used to recite a Quranic Verse concerning those martyrs which was:-- "O Allah! Let our people be informed on our behalf that we have met our Lord Who has got pleased with us and made us pleased." Then the Verse was cancelled
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن ابی عدی اور سہل بن یوسف نے بیان کیا ‘ ان سے سعید بن ابی عروبہ نے ‘ ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رعل ‘ ذکوان ‘ عصیہ اور بنو لحیان قبائل کے کچھ لوگ آئے اور یقین دلایا کہ وہ لوگ اسلام لا چکے ہیں اور انہوں نے اپنی کافر قوم کے مقابل امداد اور تعلیم و تبلیغ کے لیے آپ سے مدد چاہی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر انصاریوں کو ان کے ساتھ کر دیا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ کہ ہم انہیں قاری کہا کرتے تھے۔ وہ لوگ دن میں جنگل سے لکڑیاں جمع کرتے اور رات میں نماز پڑھتے رہتے۔ یہ حضرات ان قبیلہ والوں کے ساتھ چلے گئے ‘ لیکن جب بئرمعونہ پر پہنچے تو انہیں قبیلہ والوں نے ان صحابہ کے ساتھ دغا کی اور انہیں شہید کر ڈالا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک ( نماز میں ) قنوت پڑھی اور رعل و ذکوان اور بنو لحیان کے لیے بددعا کرتے رہے۔ قتادہ نے کہا کہ ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ( ان شہداء کے بارے میں ) قرآن مجید میں ہم یہ آیت یوں پڑھتے رہے ”ہاں! ہماری قوم ( مسلم ) کو بتا دو کہ ہم اپنے رب سے جا ملے۔ اور وہ ہم سے راضی ہو گیا ہے اور ہمیں بھی اس نے خوش کیا ہے۔“ پھر یہ آیت منسوخ ہو گئی تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَسَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَتَاهُ رِعْلٌ وَذَكْوَانُ وَعُصَيَّةُ وَبَنُو لِحْيَانَ، فَزَعَمُوا أَنَّهُمْ قَدْ أَسْلَمُوا، وَاسْتَمَدُّوهُ عَلَى قَوْمِهِمْ، فَأَمَدَّهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِسَبْعِينَ مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ أَنَسٌ كُنَّا نُسَمِّيهِمُ الْقُرَّاءَ، يَحْطِبُونَ بِالنَّهَارِ وَيُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ، فَانْطَلَقُوا بِهِمْ حَتَّى بَلَغُوا بِئْرَ مَعُونَةَ غَدَرُوا بِهِمْ وَقَتَلُوهُمْ، فَقَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَبَنِي لِحْيَانَ. قَالَ قَتَادَةُ وَحَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّهُمْ قَرَءُوا بِهِمْ قُرْآنًا أَلاَ بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا بِأَنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا. ثُمَّ رُفِعَ ذَلِكَ بَعْدُ.
#3065
Narrated Abu Talha:Whenever the Prophet (ﷺ) conquered some people, he would stay in their town for three days
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا ‘ ان سے سعید نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی قوم پر فتح حاصل ہوتی، تو میدان جنگ میں تین رات قیام فرماتے۔ روح بن عبادہ کے ساتھ اس حدیث کو معاذ اور عبدالاعلیٰ نے بھی روایت کیا۔ دونوں نے کہا ہم سے سعید نے بیان کیا انہوں نے قتادہ سے ‘ انہوں نے انس سے ‘ انہوں نے ابوطلحہ سے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ ذَكَرَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلاَثَ لَيَالٍ. تَابَعَهُ مُعَاذٌ وَعَبْدُ الأَعْلَى حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
#3066
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) performed `Umra, setting out from Al-Ji'rana where he distributed the war booty of Hunain
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے اور انہیں انس رضی اللہ عنہ نے خبر دی ‘ آپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام جعرانہ سے ‘ جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا تھا ‘ عمرہ کا احرام باندھا تھا۔
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسًا، أَخْبَرَهُ قَالَ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْجِعْرَانَةِ، حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ.
#3067
Narrated Nafi' (ra):A horse of Ibn 'Umar fled and the enemy took it. Then the Muslims conquered the enemy and the horse was returned to him during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ). And also, once a slave of Ibn 'Umar (ra) fled and joined the Byzantines, and when the Muslims conquered them, Khalid bin Al-Walid returned the slave to him after the death of the Prophet (ﷺ)
اور عبداللہ بن نمیر نے کہا ‘ کہ ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ان کا ایک گھوڑا بھاگ گیا تھا اور دشمنوں نے اس کو پکڑ لیا تھا۔ پھر مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہوا تو ان کا گھوڑا انہیں واپس کر دیا گیا۔ یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کا ہے۔ اسی طرح ان کے ایک غلام نے بھاگ کر روم میں پناہ حاصل کر لی تھی۔ پھر جب مسلمانوں کو اس ملک پر غلبہ حاصل ہوا تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کا غلام انہیں واپس کر دیا۔ یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کا ہے۔
قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ ذَهَبَ فَرَسٌ لَهُ، فَأَخَذَهُ الْعَدُوُّ، فَظَهَرَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ فَرُدَّ عَلَيْهِ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَأَبَقَ عَبْدٌ لَهُ فَلَحِقَ بِالرُّومِ، فَظَهَرَ عَلَيْهِمُ الْمُسْلِمُونَ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بَعْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
#3068
Narrated Nafi`:Once a slave of Ibn `Umar fled and joined the Byzantine. Khalid bin Al-Walid got him back and returned him to `Abdullah (bin `Umar). Once a horse of Ibn `Umar also ran away and followed the Byzantines, and he (i.e. Khalid) got it back and returned it to `Abdullah
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ‘ ان سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا ‘ انہیں نافع نے خبر دی کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک غلام بھاگ کر روم کے کافروں میں مل گیا تھا۔ پھر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں ( اسلامی لشکر نے ) اس پر فتح پائی اور خالد رضی اللہ عنہ نے وہ غلام انکو واپس کر دیا۔ اور یہ کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک گھوڑا بھاگ کر روم پہنچ گیا تھا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو جب روم پر فتح ہوئی ‘ تو انہوں نے یہ گھوڑا بھی عبداللہ کو واپس کر دیا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدًا، لاِبْنِ عُمَرَ أَبَقَ فَلَحِقَ بِالرُّومِ، فَظَهَرَ عَلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَرَدَّهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ، وَأَنَّ فَرَسًا لاِبْنِ عُمَرَ عَارَ فَلَحِقَ بِالرُّومِ، فَظَهَرَ عَلَيْهِ فَرَدُّوهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ. قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ عَارَ مُشْتَقٌّ مِنْ الْعَيْرِ وَهُوَ حِمَارُ وَحْشٍ أَيْ هَرَبَ
#3069
Narrated Ibn `Umar:That he was riding a horse on the day, the Muslims fought (against the Byzantines), and the commander of the Muslim army was Khalid bin Al-Walid who had been appointed by Abu Bakr. The enemy took the horse away, and when the enemy was defeated, Khalid returned the horse to him
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ‘ ان سے موسیٰ بن عقبہ نے ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جس دن اسلامی لشکر کی مڈبھیڑ ( رومیوں سے ) ہوئی تو وہ ایک گھوڑے پر سوار تھے۔ سالار فوج ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر گھوڑے کو دشمنوں نے پکڑ لیا ‘ لیکن جب انہیں شکست ہوئی تو خالد رضی اللہ عنہ نے گھوڑا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو واپس کر دیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما أَنَّهُ كَانَ عَلَى فَرَسٍ يَوْمَ لَقِيَ الْمُسْلِمُونَ، وَأَمِيرُ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، بَعَثَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَأَخَذَهُ الْعَدُوُّ، فَلَمَّا هُزِمَ الْعَدُوُّ رَدَّ خَالِدٌ فَرَسَهُ.
#3070
Narrated Jabir bin `Abdullah:I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We have slaughtered a young sheep of ours and have ground one Sa of barley. So, I invite you along with some persons." So, the Prophet (ﷺ) said in a loud voice, "O the people of the Trench! Jabir has prepared "Sur" so come along
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ‘ انہیں حنظلہ بن ابی سفیان نے خبر دی ‘ انہیں سعید بن میناء نے خبر دی ‘ کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ آپ نے بیان کیا ‘ کہ میں نے ( جنگ خندق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھوکا پا کر چپکے سے ) عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے ایک چھوٹا سا بکری کا بچہ ذبح کیا ہے۔ اور ایک صاع جو کا آٹا پکوایا ہے۔ اس لیے آپ دو چار آدمیوں کو ساتھ لے کر تشریف لائیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بآواز بلند فرمایا ”اے خندق کھودنے والو! جابر نے دعوت کا کھانا تیار کر لیا ہے۔ آؤ چلو ‘ جلدی چلو۔“
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَبَحْنَا بُهَيْمَةً لَنَا، وَطَحَنْتُ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، فَتَعَالَ أَنْتَ وَنَفَرٌ، فَصَاحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " يَا أَهْلَ الْخَنْدَقِ، إِنَّ جَابِرًا قَدْ صَنَعَ سُؤْرًا، فَحَىَّ هَلاً بِكُمْ ".
#3071
Narrated Um Khalid:(the daughter of Khalid bin Sa`id) I went to Allah's Messenger (ﷺ) with my father and I was wearing a yellow shirt. Allah's Messenger (ﷺ) said, "Sanah, Sanah!" (`Abdullah, the narrator, said that 'Sanah' meant 'good' in the Ethiopian language). I then started playing with the seal of Prophethood (in between the Prophet's shoulders) and my father rebuked me harshly for that. Allah's Messenger (ﷺ) said, "Leave her," and then Allah's Messenger (ﷺ) (invoked Allah to grant me a long life) by saying (thrice), "Wear this dress till it is worn out and then wear it till it is worn out, and then wear it till it is worn out." (The narrator adds, "It is said that she lived for a long period, wearing that (yellow) dress till its color became dark because of long wear
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ انہیں خالد بن سعید نے ‘ انہیں ان کے والد نے اور ان سے ام خالد بنت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے والد کے ساتھ حاضر ہوئی ‘ میں اس وقت ایک زرد رنگ کی قمیص پہنے ہوئے تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا ”سنہ سنہ“ عبداللہ نے کہا یہ لفظ حبشی زبان میں عمدہ کے معنے میں بولا جاتا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں مہر نبوت کے ساتھ ( جو آپ کے پشت پر تھی ) کھیلنے لگی تو میرے والد نے مجھے ڈانٹا ‘ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مت ڈانٹو ‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام خالد کو ( درازی عمر کی ) دعا دی کہ اس قمیص کو خوب پہن اور پرانی کر ‘ پھر پہن اور پرانی کر ‘ اور پھر پہن اور پرانی کر ‘ عبداللہ نے کہا کہ چنانچہ یہ قمیص اتنے دنوں تک باقی رہی کہ زبانوں پر اس کا چرچا آ گیا۔
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَتْ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ أَبِي وَعَلَىَّ قَمِيصٌ أَصْفَرُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " سَنَهْ سَنَهْ ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَهْىَ بِالْحَبَشِيَّةِ حَسَنَةٌ. قَالَتْ فَذَهَبْتُ أَلْعَبُ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ، فَزَبَرَنِي أَبِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " دَعْهَا ". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ " أَبْلِي وَأَخْلِفِي، ثُمَّ أَبْلِي وَأَخْلِفِي، ثُمَّ أَبْلِي وَأَخْلِفِي ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَبَقِيَتْ حَتَّى ذَكَرَ.
#3072
Narrated Abu Huraira:Al-Hasan bin 'Ali took a date from the dates of the Sadaqa and put it in his mouth. The Prophet (ﷺ) said (to him) in Persian, "Kakh, kakh! (i.e. Don't you know that we do not eat the Sadaqa (i.e. what is given in charity) (charity is the dirt of the people)
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن زیاد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے صدقہ کی کھجور میں سے ( جو بیت المال میں آئی تھی ) ایک کھجور اٹھا لی اور اپنے منہ کے قریب لے گئے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فارسی زبان کا یہ لفظ کہہ کر روک دیا کہ «كخ كخ» کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم صدقہ نہیں کھایا کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، أَخَذَ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْفَارِسِيَّةِ " كَخٍ كَخٍ، أَمَا تَعْرِفُ أَنَّا لاَ نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ ".
#3073
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) got up amongst us and mentioned Al Ghulul, emphasized its magnitude and declared that it was a great sin saying, "Don't commit Ghulul for I should not like to see anyone amongst you on the Day of Resurrection, carrying over his neck a sheep that will be bleating, or carrying over his neck a horse that will be neighing. Such a man will be saying: 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Intercede with Allah for me,' and I will reply, 'I can't help you, for I have conveyed Allah's Message to you Nor should I like to see a man carrying over his neck, a camel that will be grunting. Such a man will say, 'O Allah's Apostle! Intercede with Allah for me, and I will say, 'I can't help you for I have conveyed Allah's Message to you,' or one carrying over his neck gold and silver and saying, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Intercede with Allah for me,' and I will say, 'I can't help you for I have conveyed Allah's Message to you,' or one carrying clothes that will be fluttering, and the man will say, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Intercede with Allah for me.' And I will say, 'I can't help you, for I have conveyed Allah's Message to you
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ‘ ان سے ابوحیان نے بیان کیا ‘ ان سے ابوزرعہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب فرمایا اور غلول ( خیانت ) کا ذکر فرمایا ‘ اس جرم کی ہولناکی کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تم میں کسی کو بھی قیامت کے دن اس حالت میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر بکری لدی ہوئی ہو اور وہ چلا رہی ہو یا اس کی گردن پر گھوڑا لدا ہوا ہو اور وہ چلا رہا ہو اور وہ شخص مجھ سے کہے کہ یا رسول اللہ! میری مدد فرمائیے۔ لیکن میں یہ جواب دے دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ میں تو ( اللہ کا پیغام ) تم تک پہنچا چکا تھا۔ اور اس کی گردن پر اونٹ لدا ہوا ہو اور چلا رہا ہو اور وہ شخص کہے کہ یا رسول اللہ! میری مدد فرمائیے۔ لیکن میں یہ جواب دے دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا ‘ میں اللہ کا پیغام تمہیں پہنچا چکا تھا ‘ یا ( وہ اس حال میں آئے کہ ) وہ اپنی گردن پر سونا ‘ چاندی ‘ اسباب لادے ہوئے ہو اور وہ مجھ سے کہے کہ یا رسول اللہ! میری مدد فرمایئے ‘ لیکن میں اس سے یہ کہہ دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا ‘ میں اللہ تعالیٰ کا پیغام تمہیں پہنچا چکا تھا۔ یا اس کی گردن پر کپڑے کے ٹکڑے ہوں جو اسے حرکت دے رہے ہوں اور وہ کہے کہ یا رسول اللہ! میری مدد کیجئے اور میں کہہ دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا ‘ میں تو ( اللہ کا پیغام ) پہلے ہی پہنچا چکا تھا۔ اور ایوب سختیانی نے بھی ابوحیان سے روایت کیا ہے گھوڑا لادے دیکھوں جو ہنہنا رہا ہو۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو زُرْعَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَامَ فِينَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَهُ وَعَظَّمَ أَمْرَهُ قَالَ " لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ شَاةٌ لَهَا ثُغَاءٌ عَلَى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهُ حَمْحَمَةٌ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَغِثْنِي. فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ. وَعَلَى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ، يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي. فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ. وَعَلَى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ، فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي. فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ. أَوْ عَلَى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ، فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي. فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ ". وَقَالَ أَيُّوبُ عَنْ أَبِي حَيَّانَ فَرَسٌ لَهُ حَمْحَمَةٌ.
#3074
Narrated `Abdullah bin `Amr:There was a man who looked after the family and the belongings of the Prophet (ﷺ) and he was called Karkara. The man died and Allah's Messenger (ﷺ) said, "He is in the '(Hell) Fire." The people then went to look at him and found in his place, a cloak he had stolen from the war booty
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو نے ‘ ان سے سالم بن ابی الجعد نے ‘ ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان و اسباب پر ایک صاحب مقرر تھے ‘ جن کا نام کرکرہ تھا۔ ان کا انتقال ہو گیا ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تو جہنم میں گیا۔ صحابہ انہیں دیکھنے گئے تو ایک عباء جسے خیانت کر کے انہوں نے چھپا لیا تھا ان کے یہاں ملی۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ محمد بن سلام نے ( ابن عیینہ سے نقل کیا اور ) کہا یہ لفظ «كركرة» بفتح کاف ہے اور اسی طرح منقول ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ كَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ كِرْكِرَةُ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هُوَ فِي النَّارِ ". فَذَهَبُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَوَجَدُوا عَبَاءَةً قَدْ غَلَّهَا. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ ابْنُ سَلاَمٍ كَرْكَرَةُ، يَعْنِي بِفَتْحِ الْكَافِ، وَهْوَ مَضْبُوطٌ كَذَا.
#3075
Narrated Abaya bin Rifaa:My grandfather, Rafi` said, "We were in the company of the Prophet (ﷺ) at DhulHulaifa, and the people suffered from hunger. We got some camels and sheep (as booty) and the Prophet (ﷺ) was still behind the people. They hurried and put the cooking pots on the fire. (When he came) he ordered that the cooking pots should be upset and then he distributed the booty (amongst the people) regarding ten sheep as equal to one camel. Then a camel fled and the people chased it till they got tired, as they had a few horses (for chasing it). So a man threw an arrow at it and caused it to stop (with Allah's Permission). On that the Prophet (ﷺ) said, 'Some of these animals behave like wild beasts, so, if any animal flees from you, deal with it in the same way." My grandfather asked (the Prophet (ﷺ) ), "We hope (or are afraid) that we may meet the enemy tomorrow and we have no knives. Can we slaughter our animals with canes?" Allah's Messenger (ﷺ) replied, "If the instrument used for killing causes the animal to bleed profusely and if Allah's Name is mentioned on killing it, then eat its meat (i.e. it is lawful) but don't use a tooth or a nail and I am telling you the reason: A tooth is a bone (and slaughtering with a bone is forbidden ), and a nail is the slaughtering instrument of the Ethiopians
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ وضاح شکری نے بیان کیا ‘ ان سے سعید بن مسروق نے ‘ ان سے عبایہ بن رفاعہ نے اور ان سے ان کے دادا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مقام ذوالحلیفہ میں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑاؤ کیا۔ لوگ بھوکے تھے۔ ادھر غنیمت میں ہمیں اونٹ اور بکریاں ملی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کے پیچھے حصے میں تھے۔ لوگوں نے ( بھوک کے مارے ) جلدی کی ہانڈیاں چڑھا دیں۔ بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان ہانڈیوں کو اوندھا دیا گیا پھر آپ نے غنیمت کی تقسیم شروع کی دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر رکھا اتفاق سے مال غنیمت کا ایک اونٹ بھاگ نکلا۔ لشکر میں گھوڑوں کی کمی تھی۔ لوگ اسے پکڑنے کے لیے دوڑے لیکن اونٹ نے سب کو تھکا دیا۔ آخر ایک صحابی ( خود رافع رضی اللہ عنہ ) نے اسے تیر مارا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اونٹ جہاں تھا وہیں رہ گیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان ( پالتو ) جانوروں میں بھی جنگلی جانوروں کی طرح بعض دفعہ وحشت ہو جاتی ہے۔ اس لیے اگر ان میں سے کوئی قابو میں نہ آئے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔ عبایہ کہتے ہیں کہ میرے دادا ( رافع رضی اللہ عنہ ) نے خدمت نبوی میں عرض کیا ‘ کہ ہمیں امید ہے یا ( یہ کہا کہ ) خوف ہے کہ کل کہیں ہماری دشمن سے مڈبھیڑ نہ ہو جائے۔ ادھر ہمارے پاس چھری نہیں ہے۔ تو کیا ہم بانس کی کھپچیوں سے ذبح کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو چیز خون بہا دے اور ذبح کرتے وقت اس پر اللہ تعالیٰ کا نام بھی لیا گیا ہو ‘ تو اس کا گوشت کھانا حلال ہے۔ البتہ وہ چیز ( جس سے ذبح کیا گیا ہو ) دانت اور ناخن نہ ہونا چاہئے۔ تمہارے سامنے میں اس کی وجہ بھی بیان کرتا ہوں دانت تو اس لیے نہیں کہ وہ ہڈی ہے اور ناخن اس لیے نہیں کہ وہ حبشیوں کی چھری ہیں۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ جَدِّهِ، رَافِعٍ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِذِي الْحُلَيْفَةِ، فَأَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ وَأَصَبْنَا إِبِلاً وَغَنَمًا، وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ، فَعَجِلُوا فَنَصَبُوا الْقُدُورَ، فَأَمَرَ بِالْقُدُورِ فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ قَسَمَ فَعَدَلَ عَشَرَةً مِنَ الْغَنَمِ بِبَعِيرٍ، فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ، وَفِي الْقَوْمِ خَيْلٌ يَسِيرٌ فَطَلَبُوهُ فَأَعْيَاهُمْ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَجُلٌ بِسَهْمٍ، فَحَبَسَهُ اللَّهُ فَقَالَ " هَذِهِ الْبَهَائِمُ لَهَا أَوَابِدُ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا نَدَّ عَلَيْكُمْ فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا ". فَقَالَ جَدِّي إِنَّا نَرْجُو ـ أَوْ نَخَافُ ـ أَنْ نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى، أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ فَقَالَ " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ فَكُلْ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ ".