#2851
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) said, "There is a blessing in the fore-heads of horses
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے ابوالتیاح نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گھوڑے کی پیشانی میں برکت بندھی ہوئی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْبَرَكَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ ".
#2852
Narrated `Urwa Al-Bariqi:The Prophet (ﷺ) said, "Good will remain (as a permanent quality) in the foreheads of horses (for Jihad) till the Day of Resurrection, for they bring about either a reward (in the Hereafter) or (war) booty (in this world)
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا، کہا ہم سے عامر نے، کہا ہم سے عروہ بارقی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”خیر و برکت قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ بندھی رہے گی یعنی آخرت میں ثواب اور دنیا میں مال غنیمت ملتا رہے گا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا عُرْوَةُ الْبَارِقِيُّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ ".
#2853
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "If somebody keeps a horse in Allah's Cause motivated by his faith in Allah and his belief in His Promise, then he will be rewarded on the Day of Resurrection for what the horse has eaten or drunk and for its dung and urine
ہم سے علی بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے امام عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا، کہا مجھ کو طلحہ بن ابی سعید نے خبر دی، کہا کہ میں نے سعید مقبری سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس شخص نے اللہ تعالیٰ پر ایمان کے ساتھ اور اس کے وعدہ ثواب کو جانتے ہوئے اللہ کے راستے میں ( جہاد کے لیے ) گھوڑا پالا تو اس گھوڑے کا کھانا، پینا اور اس کا پیشاب و لید سب قیامت کے دن اس کی ترازو میں ہو گا اور سب پر اس کو ثواب ملے گا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا طَلْحَةُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَنِ احْتَبَسَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِيمَانًا بِاللَّهِ وَتَصْدِيقًا بِوَعْدِهِ، فَإِنَّ شِبَعَهُ وَرِيَّهُ وَرَوْثَهُ وَبَوْلَهُ فِي مِيزَانِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
#2854
Narrated `Abdullah bin Abi Qatada:(from his father) Abu Qatada went out (on a journey) with Allah's Messenger (ﷺ) but he was left behind with some of his companions who were in the state of Ihram. He himself was not in the state of Ihram. They saw an onager before he could see it. When they saw the onager, they did not speak anything till Abu Qatada saw it. So, he rode over his horse called Al-Jarada and requested them to give him his lash, but they refused. So, he himself took it and then attacked the onager and slaughtered it. He ate of its meat and his companions ate, too, but they regretted their eating. When they met the Prophet (they asked him about it) and he asked, "Have you some of its meat (left) with you?" Abu Qatada replied, "Yes, we have its leg with us." So, the Prophet (ﷺ) took and ate it
ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے، ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے اور ان سے ان کے باپ نے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( صلح حدیبیہ کے موقع پر ) نکلے۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے تھے۔ ان کے دوسرے تمام ساتھی تو محرم تھے لیکن انہوں نے خود احرام نہیں باندھا تھا۔ ان کے ساتھیوں نے ایک گورخر دیکھا۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے اس پر نظر پڑنے سے پہلے ان حضرات کی نظر اگرچہ اس پر پڑی تھی لیکن انہوں نے اسے چھوڑ دیا تھا لیکن ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اسے دیکھتے ہی اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے، ان کے گھوڑے کا نام جرادہ تھا، اس کے بعد انہوں نے ساتھیوں سے کہا کہ کوئی ان کا کوڑا اٹھا کر انہیں دیدے ( جسے لیے بغیر وہ سوار ہو گئے تھے ) ان لوگوں نے اس سے انکار کیا ( محرم ہونے کی وجہ سے ) اس لیے انہوں نے خود ہی لے لیا اور گورخر پر حملہ کر کے اس کی کونچیں کاٹ دیں انہوں نے خود بھی اس کا گوشت کھایا اور دوسرے ساتھیوں نے بھی کھایا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جب یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا اس کا گوشت تمہارے پاس بچا ہوا باقی ہے؟ ابوقتادہ نے کہا کہ ہاں اس کی ایک ران ہمارے ساتھ باقی ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہ گوشت کھایا۔ گھوڑے کا نام جرادہ تھا، ( اس سے باب کا مطلب ثابت ہوا ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَتَخَلَّفَ أَبُو قَتَادَةَ مَعَ بَعْضِ أَصْحَابِهِ وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَهْوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَرَأَوْا حِمَارًا وَحْشِيًّا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ، فَلَمَّا رَأَوْهُ تَرَكُوهُ حَتَّى رَآهُ أَبُو قَتَادَةَ، فَرَكِبَ فَرَسًا لَهُ يُقَالُ لَهُ الْجَرَادَةُ، فَسَأَلَهُمْ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا، فَتَنَاوَلَهُ فَحَمَلَ فَعَقَرَهُ، ثُمَّ أَكَلَ فَأَكَلُوا، فَنَدِمُوا فَلَمَّا أَدْرَكُوهُ قَالَ " هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَىْءٌ ". قَالَ مَعَنَا رِجْلُهُ، فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَكَلَهَا.
#2855
Narrated Sahl:In our garden there was a horse belonging to the Prophet (ﷺ) called Al-Luhaif or Al-Lukhaif
ہم سے علی بن عبداللہ بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابی بن عباس بن سہل نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے ان کے دادا (سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ) سے بیان کیا کہ ہمارے باغ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک گھوڑا رہتا تھا جس کا نام لحیف تھا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أُبَىُّ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ كَانَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي حَائِطِنَا فَرَسٌ يُقَالُ لَهُ اللُّحَيْفُ. قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ وَقَالَ بَعْضُهُمُ اللُّخَيْفُ
#2856
Narrated Mu`adh:I was a companion rider of the Prophet (ﷺ) on a donkey called 'Ufair. The Prophet (ﷺ) asked, "O Mu`adh! Do you know what Allah's right on His slaves is, and what the right of His slaves on Him is?" I replied, "Allah and His Apostle know better." He said, "Allah's right on His slaves is that they should worship Him (Alone) and should not worship any besides Him. And slave's right on Allah is that He should not punish him who worships none besides Him." I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Should I not inform the people of this good news?" He said, "Do not inform them of it, lest they should depend on it (absolutely)
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن آدم سے سنا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوالحوص نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے عمرو بن میمون نے اور ان سے معاذ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس گدھے پر سوار تھے، میں اس پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ اس گدھے کا نام عفیر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق اپنے بندوں پر کیا ہے؟ اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کا حق اپنے بندوں پر یہ ہے کہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہے کہ جو بندہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے عذاب نہ دے۔“ میں نے کہا یا رسول اللہ! کیا میں اس کی لوگوں کو بشارت نہ دے دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگوں کو اس کی بشارت نہ دو ورنہ وہ خالی اعتماد کر بیٹھیں گے۔ ( اور نیک اعمال سے غافل ہو جائیں گے ) ۔“
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَ يَحْيَى بْنَ آدَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ مُعَاذٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى حِمَارٍ يُقَالُ لَهُ عُفَيْرٌ، فَقَالَ " يَا مُعَاذُ، هَلْ تَدْرِي حَقَّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ ". قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ " فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلاَ يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَحَقَّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لاَ يُعَذِّبَ مَنْ لاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ". فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلاَ أُبَشِّرُ بِهِ النَّاسَ قَالَ " لاَ تُبَشِّرْهُمْ فَيَتَّكِلُوا ".
#2857
Narrated Anas bin Malik:Once there was a feeling of fright in Medina, so the Prophet (ﷺ) borrowed a horse belonging to us called Mandub (and he rode away on it). (When the Prophet (ﷺ) returned) he said, "I have not seen anything of fright and I found it (i.e. this horse) very fast
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ میں نے قتادہ سے سنا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ( ایک رات ) مدینہ میں کچھ خطرہ سا محسوس ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا ( ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا جو آپ کے عزیز تھے ) گھوڑا منگوایا، گھوڑے کا نام مندوب تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”خطرہ تو ہم نے کوئی نہیں دیکھا البتہ اس گھوڑے کو ہم نے سمندر پایا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ، فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَرَسًا لَنَا يُقَالُ لَهُ مَنْدُوبٌ. فَقَالَ " مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا ".
#2858
Narrated `Abdullah bin `Umar:I heard the Prophet (ﷺ) saying. "Evil omen is in three things: The horse, the woman and the house
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں سالم بن عبداللہ نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”نحوست صرف تین چیزوں میں ہوتی ہے۔ گھوڑے میں، عورت میں اور گھر میں۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّمَا الشُّؤْمُ فِي ثَلاَثَةٍ فِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ ".
#2859
Narrated Sahl bin Sa`d As-Saidi:Allah's Messenger (ﷺ) said, "If there is any evil omen in anything, then it is in the woman, the horse and the house
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے امام مالک سے روایت کیا، انہوں نے ابوحازم بن دینار سے، انہوں نے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نحوست اگر ہوتی تو وہ گھوڑے، عورت اور مکان میں ہوتی۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنْ كَانَ فِي شَىْءٍ فَفِي الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالْمَسْكَنِ ".
#2860
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, " Horses are kept for one of three purposes; for some people they are a source of reward, for some others they are a means of shelter and for some others they are a source of sins. The one for whom they are a source of reward, is he who keeps a horse for Allah's Cause (i.e. Jihad) tying it with a long tether on a meadow or in a garden with the result that whatever it eats from the area of the meadow or the garden where it is tied will be counted as good deeds for his benefit, and if it should break its rope and jump over one or two hillocks then all its dung and its foot marks will be written as good deeds for him; and if it passes by a river and drinks water from it even though he had no intention of watering it, even then he will get the reward for its drinking. As for the man for whom horses are a source of sins, he is the one who keeps a horse for the sake of pride and pretense and showing enmity for Muslims: such a horse will be a source of sins for him. When Allah's Messenger (ﷺ) was asked about donkeys, he replied, "Nothing has been revealed to me about them except this unique, comprehensive Verse: "Then anyone who does an atom's (or a small ant's) weight of good shall see it; And anyone who does an atom's (or a small ant's) weight of evil, shall see it
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے ابوصالح سمان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھوڑے کے مالک تین طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ بعض لوگوں کے لیے وہ باعث اجر و ثواب ہیں، بعضوں کے لیے وہ صرف پردہ ہیں اور بعضوں کے لیے وبال جان ہیں۔ جس کے لیے گھوڑا اجر و ثواب کا باعث ہے یہ وہ شخص ہے جو اللہ کے راستے میں جہاد کی نیت سے اسے پالتا ہے پھر جہاں خوب چری ہوتی ہے یا ( یہ فرمایا کہ ) کسی شاداب جگہ اس کی رسی کو خوب لمبی کر کے باندھتا ہے ( تاکہ چاروں طرف چر سکے ) تو گھوڑا اس کی چری کی جگہ سے یا اس شاداب جگہ سے اپنی رسی میں بندھا ہوا جو کچھ بھی کھاتا پیتا ہے مالک کو اس کی وجہ سے نیکیاں ملتی ہیں اور اگر وہ گھوڑا اپنی رسی تڑا کر ایک زغن یا دو زغن لگائے تو اس کی لید اور اس کے قدموں کے نشانوں میں بھی مالک کے لیے نیکیاں ہیں اور اگر وہ گھوڑا نہر سے گزرے اور اس میں سے پانی پی لے تو اگرچہ مالک نے پانی پلانے کا ارادہ نہ کیا ہو پھر بھی اس سے اسے نیکیاں ملتی ہیں، دوسرا شخص وہ ہے جو گھوڑے کو فخر، دکھاوے اور اہل اسلام کی دشمنی میں باندھتا ہے تو یہ اس کے لیے وبال جان ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ پر اس جامع اور منفرد آیت کے سوا ان کے متعلق اور کچھ نازل نہیں ہوا «فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره * ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره» ”جو کوئی ایک ذرہ برابر بھی نیکی کرے گا اس کا بدلہ پائے گا اور جو کوئی ذرہ برابر برائی کرے گا اس کا بدلہ پائے گا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْخَيْلُ لِثَلاَثَةٍ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ، فَأَمَّا الَّذِي لَهُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَطَالَ فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ، فَمَا أَصَابَتْ فِي طِيَلِهَا ذَلِكَ مِنَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ كَانَتْ لَهُ حَسَنَاتٍ، وَلَوْ أَنَّهَا قَطَعَتْ طِيَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَانَتْ أَرْوَاثُهَا وَآثَارُهَا حَسَنَاتٍ لَهُ، وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَمْ يُرِدْ أَنْ يَسْقِيَهَا كَانَ ذَلِكَ حَسَنَاتٍ لَهُ، وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِئَاءً وَنِوَاءً لأَهْلِ الإِسْلاَمِ فَهْىَ وِزْرٌ عَلَى ذَلِكَ ". وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْحُمُرِ، فَقَالَ " مَا أُنْزِلَ عَلَىَّ فِيهَا إِلاَّ هَذِهِ الآيَةُ الْجَامِعَةُ الْفَاذَّةُ {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ * وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ }".
#2861
Narrated Muslim from Abu `Aqil from Abu Al-Mutawakkil An-Naji:I called on Jabir bin `Abdullah Al-Ansari and said to him, "Relate to me what you have heard from Allah's Messenger (ﷺ) ." He said, "I accompanied him on one of the journeys." (Abu `Aqil said, "I do not know whether that journey was for the purpose of Jihad or `Umra.") "When we were returning," Jabir continued, "the Prophet (ﷺ) said, 'Whoever wants to return earlier to his family, should hurry up.' We set off and I was on a black red tainted camel having no defect, and the people were behind me. While I was in that state the camel stopped suddenly (because of exhaustion). On that the Prophet (ﷺ) said to me, 'O Jabir, wait!' Then he hit it once with his lash and it started moving on a fast pace. He then said, 'Will you sell the camel?' I replied in the affirmative when we reached Medina, and the Prophet (ﷺ) went to the Mosque along with his companions. I, too, went to him after tying the camel on the pavement at the Mosque gate. Then I said to him, 'This is your camel.' He came out and started examining the camel and saying, 'The camel is ours.' Then the Prophet (ﷺ) sent some Awaq (i.e. an amount) of gold saying, 'Give it to Jabir.' Then he asked, 'Have you taken the full price (of the camel)?' I replied in the affirmative. He said, 'Both the price and the camel are for you
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعقیل و بشر بن عقبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوالمتوکل ناجی (علی بن داود) نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے، ان میں سے مجھ سے بھی کوئی حدیث بیان کیجئے۔ انہوں نے بیان فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔ ابوعقیل راوی نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں ( یہ سفر ) جہاد کے لیے تھا یا عمرہ کے لیے ( واپس ہوتے ہوئے ) جب ( مدینہ منورہ ) دکھائی دینے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے گھر جلدی جانا چاہے وہ جا سکتا ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ہم آگے بڑھے۔ میں اپنے ایک سیاہی مائل سرخ اونٹ بےداغ پر سوار تھا دوسرے لوگ میرے پیچھے رہ گئے، میں اسی طرح چل رہا تھا کہ اونٹ رک گیا ( تھک کر ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر! اپنا اونٹ تھام لے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کوڑے سے اونٹ کو مارا، اونٹ کود کر چل نکلا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ اونٹ بیچو گے؟ میں نے کہا ہاں! جب مدینہ پہنچے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور ”بلاط“ کے ایک کونے میں، میں نے اونٹ کو باندھ دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یہ آپ کا اونٹ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور اونٹ کو گھمانے لگے اور فرمایا کہ اونٹ تو ہمارا ہی ہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند اوقیہ سونا مجھے دلوایا اور دریافت فرمایا تم کو قیمت پوری مل گئی۔ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب قیمت اور اونٹ ( دونوں ہی ) تمہارے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ، قَالَ أَتَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيَّ، فَقُلْتُ لَهُ حَدِّثْنِي بِمَا، سَمِعْتَ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ سَافَرْتُ مَعَهُ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ـ قَالَ أَبُو عَقِيلٍ لاَ أَدْرِي غَزْوَةً أَوْ عُمْرَةً ـ فَلَمَّا أَنْ أَقْبَلْنَا قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَتَعَجَّلَ إِلَى أَهْلِهِ فَلْيُعَجِّلْ ". قَالَ جَابِرٌ فَأَقْبَلْنَا وَأَنَا عَلَى جَمَلٍ لِي أَرْمَكَ لَيْسَ فِيهِ شِيَةٌ، وَالنَّاسُ خَلْفِي، فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ قَامَ عَلَىَّ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا جَابِرُ اسْتَمْسِكْ ". فَضَرَبَهُ بِسَوْطِهِ ضَرْبَةً، فَوَثَبَ الْبَعِيرُ مَكَانَهُ. فَقَالَ " أَتَبِيعُ الْجَمَلَ ". قُلْتُ نَعَمْ. فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَدَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَسْجِدَ فِي طَوَائِفِ أَصْحَابِهِ، فَدَخَلْتُ إِلَيْهِ، وَعَقَلْتُ الْجَمَلَ فِي نَاحِيَةِ الْبَلاَطِ. فَقُلْتُ لَهُ هَذَا جَمَلُكَ. فَخَرَجَ، فَجَعَلَ يُطِيفُ بِالْجَمَلِ وَيَقُولُ " الْجَمَلُ جَمَلُنَا ". فَبَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَوَاقٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ " أَعْطُوهَا جَابِرًا ". ثُمَّ قَالَ " اسْتَوْفَيْتَ الثَّمَنَ ". قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " الثَّمَنُ وَالْجَمَلُ لَكَ ".
#2862
Narrated Anas bin Malik:There was a feeling of fright in Medina, so the Prophet (ﷺ) borrowed a horse called Mandub belonging 'to Abu Talha and mounted it. (On his return), he said, "I did not see anything of fright and I found this horse very fast
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں قتادہ نے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ مدینہ میں ( ایک رات ) کچھ خوف اور گھبراہٹ ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک گھوڑا مانگ لیا۔ اس گھوڑے کا نام ”مندوب“ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے اور واپس آ کر فرمایا کہ خوف کی تو کوئی بات ہم نے نہیں دیکھی البتہ یہ گھوڑا کیا ہے دریا ہے!۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَزَعٌ، فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَرَسًا لأَبِي طَلْحَةَ، يُقَالُ لَهُ مَنْدُوبٌ فَرَكِبَهُ، وَقَالَ " مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا ".
#2863
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) fixed two shares for the horse and one share for its rider (from the war booty)
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ابواسامہ سے، انہوں نے عبیداللہ عمری سے، انہوں نے نافع سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مال غنیمت سے ) گھوڑے کے دو حصے لگائے تھے اور اس کے مالک کا ایک حصہ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَعَلَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ وَلِصَاحِبِهِ سَهْمًا. وَقَالَ مَالِكٌ يُسْهَمُ لِلْخَيْلِ وَالْبَرَاذِينِ مِنْهَا لِقَوْلِهِ {وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا} وَلاَ يُسْهَمُ لأَكْثَرَ مِنْ فَرَسٍ.
#2864
Narrated Abu 'Is-haq:Somebody asked Al-Bar-a bin `Azib, "Did you flee deserting Allah's Messenger (ﷺ) during the battle of Hunain?" Al-Bara replied, "But Allah's Messenger (ﷺ) did not flee. The people of the Tribe of Hawazin were good archers. When we met them, we attacked them, and they fled. When the Muslims started collecting the war booty, the pagans faced us with arrows, but Allah's Messenger (ﷺ) did not flee. No doubt, I saw him on his white mule and Abu Sufyan was holding its reins and the Prophet (ﷺ) was saying, 'I am the Prophet (ﷺ) in truth: I am the son of `Abdul Muttalib
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سہل بن یوسف نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے ابواسحاق نے کہ ایک شخص نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا حنین کی لڑائی میں آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر چلے گئے تھے؟ براء رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر ثابت قدم رہے۔ ہوازن کے لوگ ( جن سے اس لڑائی میں مقابلہ تھا ) بڑے تیرانداز تھے، جب ہمارا ان سے سامنا ہوا تو شروع میں ہم نے حملہ کر کے انہیں شکست دے دی، پھر مسلمان مال غنیمت پر ٹوٹ پڑے اور دشمن نے تیروں کی ہم پر بارش شروع کر دی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے نہیں ہٹے۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار تھے، ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اس کی لگام تھامے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ شعر فرما رہے تھے «أنا النبي لا كذب أنا ابن عبد المطلب» ”میں نبی ہوں اس میں جھوٹ کا کوئی دخل نہیں، میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں۔“
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ،. قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ لَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَفِرَّ، إِنَّ هَوَازِنَ كَانُوا قَوْمًا رُمَاةً، وَإِنَّا لَمَّا لَقِينَاهُمْ حَمَلْنَا عَلَيْهِمْ فَانْهَزَمُوا، فَأَقْبَلَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى الْغَنَائِمِ وَاسْتَقْبَلُونَا بِالسِّهَامِ، فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَفِرَّ، فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ وَإِنَّهُ لَعَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ آخِذٌ بِلِجَامِهَا، وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَنَا النَّبِيُّ لاَ كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ ".
#2865
Narrated Ibn'`Umar:When the Prophet (ﷺ) put his feet in the stirrup and the she-camel got up carrying him he would start reciting Talbiya at the mosque of Dhul-Hulaifa
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنا پائے مبارک «غرز» ( رکاب ) میں ڈالا اور اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر سیدھی اٹھ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ذوالحلیفہ کے پاس لبیک کہا ( احرام باندھا ) ۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ وَاسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ قَائِمَةً، أَهَلَّ مِنْ عِنْدِ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ.
#2866
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) met them (i.e. the people) while he was riding an unsaddled horse with his sword slung over his shoulder
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر جس پر زین نہیں تھی، سوار ہو کر صحابہ سے آگے نکل گئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک میں تلوار لٹک رہی تھی۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه اسْتَقْبَلَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى فَرَسٍ عُرْىٍ، مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ، فِي عُنُقِهِ سَيْفٌ.
#2867
Narrated Anas bin Malik:Once the people of Medina were frightened, so the Prophet (ﷺ) rode a horse belonging to Abu Talha and it ran slowly, or was of narrow paces. When he returned, he said, "I found your (i.e. Abu Talha's) horse very fast. After that the horse could not be surpassed in running
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک مرتبہ ( رات میں ) اہل مدینہ کو دشمن کا خطرہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک گھوڑے ( مندوب ) پر سوار ہوئے، گھوڑا سست رفتار تھا یا ( راوی نے یوں کہا کہ ) اس کی رفتار میں سستی تھی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو فرمایا کہ ہم نے تو تمہارے اس گھوڑے کو دریا پایا ( یہ بڑا ہی تیز رفتار ہے ) چنانچہ اس کے بعد کوئی گھوڑا اس سے آگے نہیں نکل سکتا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه أَنَّ أَهْلَ، الْمَدِينَةِ فَزِعُوا مَرَّةً، فَرَكِبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَرَسًا لأَبِي طَلْحَةَ كَانَ يَقْطِفُ ـ أَوْ كَانَ فِيهِ قِطَافٌ ـ فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ " وَجَدْنَا فَرَسَكُمْ هَذَا بَحْرًا ". فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ لاَ يُجَارَى.
#2868
Narrated (`Abdullah) bin `Umar:The Prophet (ﷺ) arranged for a horse race amongst the horses that had been made lean to take place between Al-Hafya'' and Thaniyat Al-Wada` (i.e. names of two places) and the horses which had not been made lean from Ath-Thaniyat to the mosque of Bani Zuraiq. I was also amongst those who took part in that horse race. Sufyan, a sub-narrator, said, "The distance between Al-Hafya and Thaniya Al- Wada` is five or six miles; and between Thaniya and the mosque of Bani Zuraiq is one mile
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار کئے ہوئے گھوڑوں کی دوڑ مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک کرائی تھی اور جو گھوڑے تیار نہیں کئے گئے تھے ان کی دوڑ ثنیۃ الوداع سے مسجد زریق تک کرائی تھی۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ گھوڑ دوڑ میں شریک ہونے والوں میں میں بھی تھا۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا کہ حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک پانچ میل کا فاصلہ ہے اور ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق صرف ایک میل کے فاصلے پر ہے۔
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَجْرَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَا ضُمِّرَ مِنَ الْخَيْلِ مِنَ الْحَفْيَاءِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ، وَأَجْرَى مَا لَمْ يُضَمَّرْ مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ وَكُنْتُ فِيمَنْ أَجْرَى. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ. قَالَ سُفْيَانُ بَيْنَ الْحَفْيَاءِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ خَمْسَةُ أَمْيَالٍ أَوْ سِتَّةٌ، وَبَيْنَ ثَنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ مِيلٌ.
#2869
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) arranged for a horse race of the horses which had not been made lean; the area of the race was from Ath-Thaniya to the mosque of Bani Zuraiq. (The sub-narrator said, "`Abdullah bin `Umar was amongst those who participated in that horse race)
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کی دوڑ کرائی تھی جنہیں تیار نہیں کیا گیا تھا اور دوڑ کی حد ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق رکھی تھی اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اس میں شرکت کی تھی۔ ابوعبداللہ نے کہا کہ «أمدا» ( حدیث میں ) حد اور انتہا کے معنی میں ہے۔ ( قرآن مجید میں ہے ) «فطال علیہم الامد» یعنی ”پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی“ جو اسی معنی میں ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضَمَّرْ، وَكَانَ أَمَدُهَا مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ. وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ سَابَقَ بِهَا. قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ أَمَدًا غَايَةً فَطَالَ عَلَيْهِمْ الْأَمَدُ
#2870
Narrated Abu 'Is-haq from Musa bin `Uqba from Nafi` from Ibn `Umar who said:"Allah's Messenger (ﷺ) arranged a horse race amongst the horses that had been made lean, letting them start from Al-Hafya' and their limit (distance of running) was up to Thaniyat-al-Wada`. I asked Musa, 'What was the distance between the two places?' Musa replied, 'Six or seven miles. He arranged a race of the horses which had not been made lean sending them from Thaniyat-al-Wada`, and their limit was up to the mosque of Bani Zuraiq.' I asked, 'What was the distance between those two places?' He replied 'One mile or so.' Ibn `Umar was amongst those who participated in that horse race
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق نے، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کی دوڑ کرائی جنہیں تیار کیا گیا تھا۔ یہ دوڑ مقام حفیاء سے شروع کرائی اور ثنیۃ الوداع اس کی آخری حد تھی ( ابواسحاق راوی نے بیان کیا کہ ) میں نے ابوموسیٰ سے پوچھا اس کا فاصلہ کتنا تھا؟ تو انہوں نے بتایا کہ چھ یا سات میل اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کی بھی دوڑ کرائی جنہیں تیار نہیں کیا گیا تھا۔ ایسے گھوڑوں کی دوڑ ثنیۃ الوداع سے شروع ہوئی اور حد مسجد بنی زریق تھی۔ میں نے پوچھا اس میں کتنا فاصلہ تھا؟ انہوں نے کہا کہ تقریباً ایک میل۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی دوڑ میں شرکت کرنے والوں میں تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ سَابَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي قَدْ أُضْمِرَتْ فَأَرْسَلَهَا مِنَ الْحَفْيَاءِ، وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ. فَقُلْتُ لِمُوسَى فَكَمْ كَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قَالَ سِتَّةُ أَمْيَالٍ أَوْ سَبْعَةٌ. وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضَمَّرْ، فَأَرْسَلَهَا مِنْ ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ، وَكَانَ أَمَدُهَا مَسْجِدَ بَنِي زُرَيْقٍ، قُلْتُ فَكَمْ بَيْنَ ذَلِكَ قَالَ مِيلٌ أَوْ نَحْوُهُ. وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ مِمَّنْ سَابَقَ فِيهَا.
#2871
Narrated Anas:The she camel of the Prophet (ﷺ) was called Al-Adba
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق ابراہیم نے بیان کیا، ان سے حمید نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا نام عضباء تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ كَانَتْ نَاقَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُقَالُ لَهَا الْعَضْبَاءُ.
#2872
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) had a she camel called Al-Adba which could not be excelled in a race. (Humaid, a subnarrator said, "Or could hardly be excelled.") Once a bedouin came riding a camel below six years of age which surpassed it (i.e. Al-`Adba') in the race. The Muslims felt it so much that the Prophet (ﷺ) noticed their distress. He then said, "It is Allah's Law that He brings down whatever rises high in the world
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا۔ کوئی اونٹنی اس سے آگے نہیں بڑھتی تھی یا حمید نے یوں کہا وہ پیچھے رہ جانے کے قریب نہ ہوتی پھر ایک دیہاتی ایک نوجوان ایک قوی اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی سے ان کا اونٹ آگے نکل گیا۔ مسلمانوں پر یہ بڑا شاق گزرا لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ برحق ہے کہ دنیا میں جو چیز بھی بلند ہوتی ہے ( کبھی کبھی ) اسے وہ گراتا بھی ہے۔ موسیٰ نے حماد سے اس کی روایت طول کے ساتھ کی ہے، حماد نے ثابت سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَاقَةٌ تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ لاَ تُسْبَقُ ـ قَالَ حُمَيْدٌ أَوْ لاَ تَكَادُ تُسْبَقُ ـ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ فَسَبَقَهَا، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، حَتَّى عَرَفَهُ فَقَالَ " حَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ لاَ يَرْتَفِعَ شَىْءٌ مِنَ الدُّنْيَا إِلاَّ وَضَعَهُ ". طَوَّلَهُ مُوسَى عَنْ حَمَّادٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
#2873
Narrated `Amr bin Al-Harith:The Prophet (ﷺ) did not leave anything behind him after his death except a white mule, his arms and a piece of land which he left to be given in charity
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( وفات کے بعد ) سوا اپنے سفید خچر کے، اپنے ہتھیار اور اس زمین کے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیرات کر دی تھی اور کوئی چیز نہیں چھوڑی تھی۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ، قَالَ مَا تَرَكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ بَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ وَسِلاَحَهُ وَأَرْضًا تَرَكَهَا صَدَقَةً.
#2874
Narrated Al-Bara:that a man asked him. "O Abu '`Umara! Did you flee on the day (of the battle) of Hunain?" He replied, "No, by Allah, the Prophet (ﷺ) did not flee but the hasty people fled and the people of the Tribe of Hawazin attacked them with arrows, while the Prophet (ﷺ) was riding his white mule and Abu Sufyan bin Al-Harith was holding its reins, and the Prophet (ﷺ) was saying, 'I am the Prophet (ﷺ) in truth, I am the son of `Abdul Muttalib
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا کہ مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کہ ان سے ایک شخص نے پوچھا اے ابوعمارہ! کیا آپ لوگوں نے ( مسلمانوں کے لشکر نے ) حنین کی لڑائی میں پیٹھ پھیر لی تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں اللہ گواہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹھ نہیں پھیری تھی البتہ جلد باز لوگ ( میدان سے ) بھاگ پڑے تھے ( اور وہ لوٹ میں لگ گئے تھے ) قبیلہ ہوازن نے ان پر تیر برسانے شروع کر دئیے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار تھے اور ابوسفیان بن حارث اس کی لگام تھامے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے «أنا النبي لا كذب أنا ابن عبد المطلب » میں نبی ہوں جس میں جھوٹ کا کوئی دخل نہیں۔ میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عُمَارَةَ وَلَّيْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ لاَ، وَاللَّهِ مَا وَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَلَكِنْ وَلَّى سَرَعَانُ النَّاسِ، فَلَقِيَهُمْ هَوَازِنُ بِالنَّبْلِ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا، وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَنَا النَّبِيُّ لاَ كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ"
#2875
Narrated `Aisha:the mother of the faithful believers, I requested the Prophet (ﷺ) to permit me to participate in Jihad, but he said, "Your Jihad is the performance of Hajj
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں معاویہ ابن اسحاق نے، انہیں عائشہ بنت طلحہ نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا جہاد حج ہے۔ اور عبداللہ بن ولید نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا اور ان سے معاویہ نے یہی حدیث نقل کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي الْجِهَادِ. فَقَالَ " جِهَادُكُنَّ الْحَجُّ ". وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بِهَذَا.