#2576
Narrated Abu Huraira:Whenever a meal was brought to Allah's Messenger (ﷺ), he would ask whether it was a gift or Sadaqa (something given in charity). If he was told that it was Sadaqa, he would tell his companions to eat it, but if it was a gift, he would hurry to share it with them
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا انہوں نے محمد بن زیاد سے اور وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کوئی کھانے کی چیز لائی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرماتے یہ تحفہ ہے یا صدقہ؟ اگر کہا جاتا کہ صدقہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب سے فرماتے کہ کھاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود نہ کھاتے اور اگر کہا جاتا کہ تحفہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی ہاتھ بڑھاتے اور صحابہ کے ساتھ اسے کھاتے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم "إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ سَأَلَ عَنْهُ أَهَدِيَّةٌ أَمْ صَدَقَةٌ فَإِنْ قِيلَ صَدَقَةٌ. قَالَ لأَصْحَابِهِ كُلُوا. وَلَمْ يَأْكُلْ، وَإِنْ قِيلَ هَدِيَّةٌ. ضَرَبَ بِيَدِهِ صلى الله عليه وسلم فَأَكَلَ مَعَهُمْ ".
#2577
Narrated Anas bin Malik:Some meat was brought to the Prophet (ﷺ) and it was said that the meat had been given in charity to Barirah. He said, "It was Sadaqa for Barirah but a gift for us
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ گوشت پیش کیا گیا اور یہ بتایا گیا کہ یہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو کسی نے بطور صدقہ کے دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ان کے لیے یہ صدقہ ہے اور ہمارے لیے ( جب ان کے یہاں سے پہنچا تو ) ہدیہ ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِلَحْمٍ فَقِيلَ تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ قَالَ " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ ".
#2578
Narrated `Aisha:I intended to buy Barirah but her masters stipulated that her Wala should be for them. When the Prophet was told about it, he said to me, "Buy and manumit her, as the Wala' is for the liberator." Once Barirah was given some meat, and the Prophet (ﷺ) asked, "What is this?" I said, "It has been given to Barirah in charity." He said, "It is sadaqa for her but a gift for us." Barirah was given the option (to stay with her husband or to part with him). `Abdur-Rahman (a sub-narrator) wondered, "Was her husband a slave or a free man?" Shu`ba (another sub-narrator) said, "I asked `Abdur-Rahman whether her husband was a slave or a free man. He replied that he did not know whether he was a slave or a free man
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا عبدالرحمٰن بن قاسم سے، شعبہ نے کہا کہ میں نے یہ حدیث عبدالرحمٰن سے سنی تھی اور انہوں نے قاسم سے روایت کی، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو ( آزاد کرنے کے لیے ) خریدنا چاہا۔ لیکن ان کے مالکوں نے ولاء کی شرط اپنے لیے لگائی۔ جب اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تو انہیں خرید کر آزاد کر دے، ولاء تو اسی کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ اور بریرہ رضی اللہ عنہا کے یہاں ( صدقہ کا ) گوشت آیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اچھا یہ وہی ہے جو بریرہ کو صدقہ میں ملا ہے۔ یہ ان کے لیے تو صدقہ ہے لیکن ہمارے لیے ( چونکہ ان کے گھر سے بطور ہدیہ ملا ہے ) ہدیہ ہے اور ( آزادی کے بعد بریرہ کو ) اختیار دیا گیا تھا ( کہ اگر چاہیں تو اپنے نکاح کو فسخ کر سکتی ہیں ) عبدالرحمٰن نے پوچھا بریرہ رضی اللہ عنہ کے خاوند ( مغیث رضی اللہ عنہ ) غلام تھے یا آزاد؟ شعبہ نے بیان کیا کہ میں نے عبدالرحمٰن سے ان کے خاوند کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں وہ غلام تھے یا آزاد۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ سَمِعْتُهُ مِنْهُ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ، وَأَنَّهُمُ اشْتَرَطُوا وَلاَءَهَا، فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ". وَأُهْدِيَ لَهَا لَحْمٌ، فَقِيلَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم هَذَا تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ ". وَخُيِّرَتْ. قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ زَوْجُهَا حُرٌّ أَوْ عَبْدٌ قَالَ شُعْبَةُ سَأَلْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ عَنْ زَوْجِهَا. قَالَ لاَ أَدْرِي أَحُرٌّ أَمْ عَبْدٌ
#2579
Narrated Um 'Atiyya:Once the Prophet (ﷺ) went to `Aisha and asked her whether she had something (to eat). She said that she had nothing except the mutton which Um 'Atiyya had sent to (Barirah) in charity. The Prophet (ﷺ) said that it had reached its destination (i.e. it is no longer an object of charity)
ہم سے ابوالحسن محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو خالد بن عبداللہ نے خبر دی، انہیں خالد حذاء نے حفصہ بنت سیرین سے کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے گئے اور دریافت فرمایا، کیا کوئی چیز ( کھانے کی ) تمہارے پاس ہے؟ انہوں نے کہا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے یہاں جو آپ نے صدقہ کی بکری بھیجی تھی، اس کا گوشت انہوں نے بھیجا ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اپنی جگہ پہنچ چکی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ فَقَالَ " عِنْدَكُمْ شَىْءٌ ". قَالَتْ لاَ، إِلاَّ شَىْءٌ بَعَثَتْ بِهِ أُمُّ عَطِيَّةَ مِنَ الشَّاةِ الَّتِي بُعِثَ إِلَيْهَا مِنَ الصَّدَقَةِ. قَالَ " إِنَّهَا قَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا ".
#2580
Narrated `Aisha:The people used to send gifts to the Prophet (ﷺ) on the day of my turn. Um Salama said: "My companions (the wives of the Prophet (ﷺ) Other than Aisha) gathered and they complained about it. So I informed the Prophet about it on their behalf, but he remained silent
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ہشام سے، ان سے ان کے والد نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ لوگ تحائف بھیجنے کے لیے میری باری کا انتظار کیا کرتے تھے۔ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا میری سوکنیں ( امہات المؤمنین رضوان اللہ علیہن ) جمع تھیں اس وقت انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( بطور شکایت لوگوں کی اس روش کا ) ذکر کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ النَّاسُ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمُ يَوْمِي. وَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ إِنَّ صَوَاحِبِي اجْتَمَعْنَ. فَذَكَرَتْ لَهُ، فَأَعْرَضَ عَنْهَا.
#2581
Narrated `Urwa from `Aisha:The wives of Allah's Messenger (ﷺ) were in two groups. One group consisted of `Aisha, Hafsa, Safiyya and Sauda; and the other group consisted of Um Salama and the other wives of Allah's Messenger (ﷺ). The Muslims knew that Allah's Messenger (ﷺ) loved `Aisha, so if any of them had a gift and wished to give to Allah's Messenger (ﷺ), he would delay it, till Allah's Messenger (ﷺ) had come to `Aisha's home and then he would send his gift to Allah's Messenger (ﷺ) in her home. The group of Um Salama discussed the matter together and decided that Um Salama should request Allah's Messenger (ﷺ) to tell the people to send their gifts to him in whatever wife's house he was. Um Salama told Allah's Messenger (ﷺ) of what they had said, but he did not reply. Then they (those wives) asked Um Salama about it. She said, "He did not say anything to me." They asked her to talk to him again. She talked to him again when she met him on her day, but he gave no reply. When they asked her, she replied that he had given no reply. They said to her, "Talk to him till he gives you a reply." When it was her turn, she talked to him again. He then said to her, "Do not hurt me regarding Aisha, as the Divine Inspirations do not come to me on any of the beds except that of Aisha." On that Um Salama said, "I repent to Allah for hurting you." Then the group of Um Salama called Fatima, the daughter of Allah's Messenger (ﷺ) and sent her to Allah's Messenger (ﷺ) to say to him, "Your wives request to treat them and the daughter of Abu Bakr on equal terms." Then Fatima conveyed the message to him. The Prophet (ﷺ) said, "O my daughter! Don't you love whom I love?" She replied in the affirmative and returned and told them of the situation. They requested her to go to him again but she refused. They then sent Zainab bint Jahsh who went to him and used harsh words saying, "Your wives request you to treat them and the daughter of Ibn Abu Quhafa on equal terms." On that she raised her voice and abused `Aisha to her face so much so that Allah's Messenger (ﷺ) looked at `Aisha to see whether she would retort. `Aisha started replying to Zainab till she silenced her. The Prophet (ﷺ) then looked at `Aisha and said, "She is really the daughter of Abu Bakr
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید بن ابی اویس نے، ان سے سلیمان نے ہشام بن عروہ سے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج دو گروہ میں تھیں۔ ایک میں عائشہ، حفصہ، صفیہ اور سودہ رضوان اللہ علیہن اور دوسری میں ام سلمہ اور بقیہ تمام ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہن تھیں۔ مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ محبت کا علم تھا اس لیے جب کسی کے پاس کوئی تحفہ ہوتا اور وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا تو انتظار کرتا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی باری ہوتی تو تحفہ دینے والے صاحب اپنا تحفہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجتے۔ اس پر ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی جماعت کی ازواج مطہرات نے آپس میں مشورہ کیا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کریں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے فرما دیں کہ جسے آپ کے یہاں تحفہ بھیجنا ہو وہ جہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں وہیں بھیجا کرے۔ چنانچہ ان ازواج کے مشورہ کے مطابق انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر ان خواتین نے پوچھا تو انہوں نے بتا دیا کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ازواج مطہرات نے کہا کہ پھر ایک مرتبہ کہو۔ انہوں نے بیان کیا پھر جب آپ کی باری آئی تو دوبارہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۔ اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا کوئی جواب ہی نہیں دیا۔ ازواج نے اس مرتبہ ان سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مسئلہ پر بلواؤ تو سہی۔ جب ان کی باری آئی تو انہوں نے پھر کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ فرمایا۔ عائشہ کے بارے میں مجھے تکلیف نہ دو۔ عائشہ کے سوا اپنی بیویوں میں سے کسی کے کپڑے میں بھی مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر انہوں نے عرض کیا، آپ کو ایذا پہنچانے کی وجہ سے میں اللہ کے حضور میں توبہ کرتی ہوں۔ پھر ان ازواج مطہرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور ان کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ کہلوایا کہ آپ کی ازواج ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے بارے میں اللہ کے لیے آپ سے انصاف چاہتی ہیں۔ چنانچہ انہوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میری بیٹی! کیا تم وہ پسند نہیں کرتی جو میں پسند کروں؟ انہوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں، اس کے بعد وہ واپس آ گئیں اور ازواج کو اطلاع دی۔ انہوں نے ان سے پھر دوبارہ خدمت نبوی میں جانے کے لیے کہا۔ لیکن آپ نے دوبارہ جانے سے انکار کیا تو انہوں نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو بھیجا۔ وہ خدمت نبوی میں حاضر ہوئیں تو انہوں نے سخت گفتگو کی اور کہا کہ آپ کی ازواج ابوقحافہ کی بیٹی کے بارے میں آپ سے اللہ کے لیے انصاف مانگتی ہیں اور ان کی آواز اونچی ہو گئی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا وہیں بیٹھی ہوئی تھیں۔ انہوں نے ( ان کے منہ پر ) انہیں بھی برا بھلا کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھنے لگے کہ وہ کچھ بولتی ہیں یا نہیں۔ راوی نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی بول پڑیں اور زینب رضی اللہ عنہا کی باتوں کا جواب دینے لگیں اور آخر انہیں خاموش کر دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ یہ ابوبکر کی بیٹی ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ آخر کلام فاطمہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ سے متعلق ہشام بن عروہ نے ایک اور شخص سے بیان کیا ہے۔ انہوں نے زہری سے روایت کی اور انہوں نے محمد بن عبدالرحمٰن سے اور ابومروان نے بیان کیا کہ ہشام سے اور انہوں نے عروہ سے کہ لوگ تحائف بھیجنے کے لیے عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا انتظار کیا کرتے تھے اور ہشام کی ایک روایت قریش کے ایک صاحب اور ایک دوسرے صاحب سے جو غلاموں میں سے تھے، بھی ہے۔ وہ زہری سے نقل کرتے ہیں اور وہ محمد بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام سے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا جب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ( اندر آنے کی ) اجازت چاہی تو میں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی خدمت میں موجود تھی۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ نِسَاءَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كُنَّ حِزْبَيْنِ فَحِزْبٌ فِيهِ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ وَصَفِيَّةُ وَسَوْدَةُ، وَالْحِزْبُ الآخَرُ أُمُّ سَلَمَةَ وَسَائِرُ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ قَدْ عَلِمُوا حُبَّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَائِشَةَ، فَإِذَا كَانَتْ عِنْدَ أَحَدِهِمْ هَدِيَّةٌ يُرِيدُ أَنْ يُهْدِيَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخَّرَهَا، حَتَّى إِذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِ عَائِشَةَ بَعَثَ صَاحِبُ الْهَدِيَّةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِ عَائِشَةَ، فَكَلَّمَ حِزْبُ أُمِّ سَلَمَةَ، فَقُلْنَ لَهَا كَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكَلِّمُ النَّاسَ، فَيَقُولُ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَدِيَّةً فَلْيُهْدِهِ إِلَيْهِ حَيْثُ كَانَ مِنْ بُيُوتِ نِسَائِهِ، فَكَلَّمَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ بِمَا قُلْنَ، فَلَمْ يَقُلْ لَهَا شَيْئًا، فَسَأَلْنَهَا. فَقَالَتْ مَا قَالَ لِي شَيْئًا. فَقُلْنَ لَهَا فَكَلِّمِيهِ. قَالَتْ فَكَلَّمَتْهُ حِينَ دَارَ إِلَيْهَا أَيْضًا، فَلَمْ يَقُلْ لَهَا شَيْئًا، فَسَأَلْنَهَا. فَقَالَتْ مَا قَالَ لِي شَيْئًا. فَقُلْنَ لَهَا كَلِّمِيهِ حَتَّى يُكَلِّمَكِ. فَدَارَ إِلَيْهَا فَكَلَّمَتْهُ. فَقَالَ لَهَا " لاَ تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ، فَإِنَّ الْوَحْىَ لَمْ يَأْتِنِي، وَأَنَا فِي ثَوْبِ امْرَأَةٍ إِلاَّ عَائِشَةَ ". قَالَتْ فَقَالَتْ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ مِنْ أَذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. ثُمَّ إِنَّهُنَّ دَعَوْنَ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَرْسَلْنَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَقُولُ إِنَّ نِسَاءَكَ يَنْشُدْنَكَ اللَّهَ الْعَدْلَ فِي بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ. فَكَلَّمَتْهُ. فَقَالَ " يَا بُنَيَّةُ، أَلاَ تُحِبِّينَ مَا أُحِبُّ ". قَالَتْ بَلَى. فَرَجَعَتْ إِلَيْهِنَّ، فَأَخْبَرَتْهُنَّ. فَقُلْنَ ارْجِعِي إِلَيْهِ. فَأَبَتْ أَنْ تَرْجِعَ، فَأَرْسَلْنَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ، فَأَتَتْهُ فَأَغْلَظَتْ، وَقَالَتْ إِنَّ نِسَاءَكَ يَنْشُدْنَكَ اللَّهَ الْعَدْلَ فِي بِنْتِ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ. فَرَفَعَتْ صَوْتَهَا، حَتَّى تَنَاوَلَتْ عَائِشَةَ. وَهْىَ قَاعِدَةٌ، فَسَبَّتْهَا حَتَّى إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيَنْظُرُ إِلَى عَائِشَةَ هَلْ تَكَلَّمُ قَالَ فَتَكَلَّمَتْ عَائِشَةُ تَرُدُّ عَلَى زَيْنَبَ، حَتَّى أَسْكَتَتْهَا. قَالَتْ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى عَائِشَةَ، وَقَالَ " إِنَّهَا بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ ". قَالَ الْبُخَارِيُّ الْكَلاَمُ الأَخِيرُ قِصَّةُ فَاطِمَةَ يُذْكَرُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ رَجُلٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ. وَقَالَ أَبُو مَرْوَانَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ عُرْوَةَ كَانَ النَّاسُ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ. وَعَنْ هِشَامٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، وَرَجُلٍ مِنَ الْمَوَالِي، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ قَالَتْ عَائِشَةُ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَأْذَنَتْ فَاطِمَةُ.
#2582
Narrated 'Azra bin Thabit Al-Ansari:When I went to Thumama bin `Abdullah, he gave me some perfume and said that Anas would not reject the gifts of perfume. Anas said: The Prophet (ﷺ) used not to reject the gifts of perfume
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے عزرہ بن ثابت انصاری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ثمامہ بن عبداللہ نے بیان کیا، عزرہ نے کہا کہ میں ثمامہ بن عبداللہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے خوشبو عنایت فرمائی اور بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ خوشبو کو واپس نہیں کرتے تھے۔ ثمامہ نے کہا کہ انس رضی اللہ عنہ کا گمان تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوشبو کو واپس نہیں فرمایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَيْهِ فَنَاوَلَنِي طِيبًا، قَالَ كَانَ أَنَسٌ ـ رضى الله عنه ـ لاَ يَرُدُّ الطِّيبَ. قَالَ وَزَعَمَ أَنَسٌ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ لاَ يَرُدُّ الطِّيبَ.
#2583
Narrated Al-Miswar bin Makhrama and Marwan:When the delegates of the tribe of Hawazin came to the Prophet (ﷺ) he stood up amongst the people, Glorified and Praised Allah as He deserved, and said, "Then after: Your brethren have come to you with repentance and I see it logical to return to them their captives; so whoever amongst you likes to do that as a favor, then he can do it, and whoever of you like to stick to his share till we give him his right from the very first Fai (war booty) (1) which Allah will bestow on us, then (he can do so)." The people replied, "We do that (to return the captives) willingly as a favor for your sake
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ ذَكَرَ عُرْوَةُ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، رضى الله عنهما وَمَرْوَانَ أَخْبَرَاهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ قَامَ فِي النَّاسِ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ جَاءُونَا تَائِبِينَ، وَإِنِّي رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا ". فَقَالَ النَّاسُ طَيَّبْنَا لَكَ.
#2584
Narrated Al-Miswar bin Makhrama and Marwan:When the delegates of the tribe of Hawazin came to the Prophet (ﷺ) he stood up amongst the people, Glorified and Praised Allah as He deserved, and said, "Then after: Your brethren have come to you with repentance and I see it logical to return to them their captives; so whoever amongst you likes to do that as a favor, then he can do it, and whoever of you like to stick to his share till we give him his right from the very first Fai (war booty) (1) which Allah will bestow on us, then (he can do so)." The people replied, "We do that (to return the captives) willingly as a favor for your sake
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ ذَكَرَ عُرْوَةُ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، رضى الله عنهما وَمَرْوَانَ أَخْبَرَاهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ قَامَ فِي النَّاسِ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ جَاءُونَا تَائِبِينَ، وَإِنِّي رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا ". فَقَالَ النَّاسُ طَيَّبْنَا لَكَ.
#2585
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) used to accept gifts and used to give something in return
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَيُثِيبُ عَلَيْهَا. لَمْ يَذْكُرْ وَكِيعٌ وَمُحَاضِرٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ.
#2586
Narrated An-Nu`man bin Bashir:that his father took him to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "I have given this son of mine a slave." The Prophet asked, "Have you given all your sons the like?" He replied in the negative. The Prophet (ﷺ) said, "Take back your gift then
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ابن شہاب سے، وہ حمید بن عبدالرحمٰن اور محمد بن نعمان بن بشیر سے اور ان سے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے کہا ان کے والد انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام بطور ہبہ دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کیا ایسا ہی غلام اپنے دوسرے لڑکوں کو بھی دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں، تو آپ نے فرمایا کہ پھر ( ان سے بھی ) واپس لے لے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ، أَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلاَمًا. فَقَالَ " أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهُ ". قَالَ لاَ. قَالَ " فَارْجِعْهُ ".
#2587
Narrated 'Amir:I heard An-Nu`man bin Bashir on the pulpit saying, "My father gave me a gift but `Amra bint Rawaha (my mother) said that she would not agree to it unless he made Allah's Messenger (ﷺ) as a witness to it. So, my father went to Allah's Messenger (ﷺ) and said, 'I have given a gift to my son from `Amra bint Rawaha, but she ordered me to make you as a witness to it, O Allah's Messenger (ﷺ)!' Allah's Messenger (ﷺ) asked, 'Have you given (the like of it) to everyone of your sons?' He replied in the negative. Allah's Messenger (ﷺ) said, 'Be afraid of Allah, and be just to your children.' My father then returned and took back his gift
ہم سے حامد بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا حصین سے، وہ عامر سے کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے سنا وہ منبر پر بیان کر رہے تھے کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دیا، تو عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا ( نعمان کی والدہ ) نے کہا کہ جب تک آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ نہ بنائیں میں راضی نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ ( حاضر خدمت ہو کر ) انہوں نے عرض کیا کہ عمرہ بنت رواحہ سے اپنے بیٹے کو میں نے ایک عطیہ دیا تو انہوں نے کہا کہ پہلے میں آپ کو اس پر گواہ بنا لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اسی جیسا عطیہ تم نے اپنی تمام اولاد کو دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کو قائم رکھو۔ چنانچہ وہ واپس ہوئے اور ہدیہ واپس لے لیا۔
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ـ رضى الله عنهما ـ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ أَعْطَانِي أَبِي عَطِيَّةً، فَقَالَتْ عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ لاَ أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي أَعْطَيْتُ ابْنِي مِنْ عَمْرَةَ بِنْتِ رَوَاحَةَ عَطِيَّةً، فَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " أَعْطَيْتَ سَائِرَ وَلَدِكَ مِثْلَ هَذَا ". قَالَ لاَ. قَالَ " فَاتَّقُوا اللَّهَ، وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلاَدِكُمْ ". قَالَ فَرَجَعَ فَرَدَّ عَطِيَّتَهُ.
#2588
Narrated Az-Zuhri:Ubaidullah bin `Abdullah told me that `Aisha had said, "When the Prophet (ﷺ) became sick and his condition became serious, he requested his wives to allow him to be treated in my house, and they allowed him. He came out leaning on two men while his feet were dragging on the ground. He was walking between Al-`Abbas and another man." 'Ubaidullah said, "When I informed Ibn `Abbas of what `Aisha had said, he asked me whether I knew who was the second man whom `Aisha had not named. I replied in the negative. He said, 'He was `Ali bin Abi Talib
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری بڑھی اور تکلیف شدید ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے میرے گھر میں ایام مرض گزارنے کی اجازت چاہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیویوں نے اجازت دے دی تو آپ اس طرح تشریف لائے کہ دونوں قدم زمین پر رگڑ کھا رہے تھے۔ آپ اس وقت عباس رضی اللہ عنہ اور ایک اور صاحب کے درمیان تھے۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کا ذکر ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کیا۔ تو انہوں نے مجھ سے پوچھا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے جن کا نام نہیں لیا، جانتے ہو وہ کون تھے؟ میں نے کہا کہ نہیں؟ آپ نے فرمایا کہ وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَاشْتَدَّ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي، فَأَذِنَّ لَهُ، فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، تَخُطُّ رِجْلاَهُ الأَرْضَ، وَكَانَ بَيْنَ الْعَبَّاسِ، وَبَيْنَ رَجُلٍ آخَرَ. فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَذَكَرْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ، فَقَالَ لِي وَهَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ قُلْتُ لاَ. قَالَ هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ.
#2589
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) said, "One who takes back his gift (which he has already given) is like a dog that swallows its vomit
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن طاؤس نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنا ہبہ واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے پھر چاٹ جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ، ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ ".
#2590
Narrated Asma:Once I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have no property except what has been given to me by Az-Zubair (i.e. her husband). May I give in charity?" The Prophet (ﷺ) said, "Give in charity and do not withhold it; otherwise Allah will withhold it back from you
ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے، ان سے عباد بن عبداللہ نے اور ان سے اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے پاس صرف وہی مال ہے جو ( میرے شوہر ) زبیر نے میرے پاس رکھا ہوا ہے تو کیا میں اس میں سے صدقہ کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”صدقہ کرو، جوڑ کے نہ رکھو، کہیں تم سے بھی۔ ( اللہ کی طرف سے نہ ) روک لیا جائے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَسْمَاءَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي مَالٌ إِلاَّ مَا أَدْخَلَ عَلَىَّ الزُّبَيْرُ فَأَتَصَدَّقُ. قَالَ " تَصَدَّقِي، وَلاَ تُوعِي فَيُوعَى عَلَيْكِ ".
#2591
Narrated Asma:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Give (in charity) and do not give reluctantly lest Allah should give you in a limited amount; and do not withhold your money lest Allah should withhold it from you
ہم سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے فاطمہ بنت منذر نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”خرچ کیا کر، گنا نہ کر، تاکہ تمہیں بھی گن کے نہ ملے اور جوڑ کے نہ رکھو، تاکہ تم سے بھی اللہ تعالیٰ ( اپنی نعمتوں کو ) نہ چھپا لے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَنْفِقِي وَلاَ تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ، وَلاَ تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ ".
#2592
Narrated Kuraib:the freed slave of Ibn `Abbas, that Maimuna bint Al-Harith told him that she manumitted a slave-girl without taking the permission of the Prophet. On the day when it was her turn to be with the Prophet, she said, "Do you know, O Allah's Messenger (ﷺ), that I have manumitted my slave-girl?" He said, "Have you really?" She replied in the affirmative. He said, "You would have got more reward if you had given her (i.e. the slave-girl) to one of your maternal uncles
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، ان سے لیث نے، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ان سے بکیر نے، ان سے ابن عباس کے غلام کریب نے اور انہیں (ام المؤمنین) میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے ایک لونڈی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لیے بغیر آزاد کر دی۔ پھر جس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باری آپ کے گھر آنے کی تھی، انہوں نے خدمت نبوی میں عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو معلوم بھی ہوا، میں نے ایک لونڈی آزاد کر دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اچھا تم نے آزاد کر دیا؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہاں! فرمایا کہ اگر اس کے بجائے تم نے اپنے ننھیال والوں کو دی ہوتی تو تمہیں اس سے بھی زیادہ ثواب ملتا۔ اس حدیث کو بکیر بن مضر نے عمرو بن حارث سے، انہوں نے بکیر سے، انہوں نے کریب سے روایت کیا کہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے اپنی لونڈی آزاد کر دی۔ اخیر تک۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ ـ رضى الله عنها ـ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا، أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً وَلَمْ تَسْتَأْذِنِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُهَا الَّذِي يَدُورُ عَلَيْهَا فِيهِ قَالَتْ أَشَعَرْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنِّي أَعْتَقْتُ وَلِيدَتِي قَالَ " أَوَفَعَلْتِ ". قَالَتْ نَعَمْ. قَالَ " أَمَا إِنَّكِ لَوْ أَعْطَيْتِيهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لأَجْرِكِ ". وَقَالَ بَكْرُ بْنُ مُضَرَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ كُرَيْبٍ إِنَّ مَيْمُونَةَ أَعْتَقَتْ
#2593
Narrated Aisha:Whenever Allah's Messenger (ﷺ) wanted to go on a journey, he would draw lots as to which of his wives would accompany him. He would take her whose name came out. He used to fix for each of them a day and a night. But Sauda bint Zam`a gave up her (turn) day and night to `Aisha, the wife of the Prophet in order to seek the pleasure of Allah's Messenger (ﷺ) (by that action)
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی زہری سے، وہ عروہ سے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی ازواج کے لیے قرعہ اندازی کرتے اور جن کا قرعہ نکل آتا انہیں کو اپنے ساتھ لے جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی طریقہ تھا کہ اپنی تمام ازواج کے لیے ایک ایک دن اور رات کی باری مقرر کر دی تھی، البتہ ( آخر میں ) سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دی تھی، اس سے ان کا مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا حاصل کرنی تھی۔
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ، وَكَانَ يَقْسِمُ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا، غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا، لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَبْتَغِي بِذَلِكَ رِضَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
#2594
Narrated Maimuna, the wife of the Prophet (ﷺ) that she manumitted her slave-girl and the Prophet (ﷺ) said to her, "You would have got more reward if you had given the slave-girl to one of your maternal uncles
اور بکر بن مضر نے عمرو بن حارث سے، انہوں نے بکیر سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب سے ( بیان کیا کہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ایک لونڈی آزاد کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ”اگر وہ تمہارے ننھیال والوں کو دی جاتی تو تمہیں زیادہ ثواب ملتا۔“
وَقَالَ بَكْرٌ عَنْ عَمْرٍو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً لَهَا فَقَالَ لَهَا " وَلَوْ وَصَلْتِ بَعْضَ أَخْوَالِكِ كَانَ أَعْظَمَ لأَجْرِكِ ".
#2595
Narrated Aisha:I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have two neighbors; which of them should I give a gift to?" The Prophet (ﷺ) said, "(Give) to the one whose door is nearer to you
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ابوعمران جونی سے، ان سے بنو تیم بن مرہ کے ایک صاحب طلحہ بن عبداللہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میری دو پڑوسی ہیں، تو مجھے کس کے گھر ہدیہ بھیجنا چاہئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کا دروازہ تم سے قریب ہو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ ـ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي جَارَيْنِ فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي قَالَ " إِلَى أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا ".
#2596
Narrated `Abdullah bin `Abbas:That he heard As-Sa'b bin Jath-thama Al-Laithi, who was one of the companions of the Prophet, saying that he gave the meat of an onager to Allah's Messenger (ﷺ) while he was at a place called Al-Abwa' or Waddan, and was in a state of Ihram. The Prophet (ﷺ) did not accept it. When the Prophet (ﷺ) saw the signs of sorrow on As-Sa'b's face because of not accepting his present, he said (to him), "We are not returning your present, but we are in the state of Ihram." (See Hadith No)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ انہوں نے صعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے تھے۔ ان کا بیان تھا کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک گورخر ہدیہ کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مقام ابواء یا مقام ودان میں تھے اور محرم تھے۔ آپ نے وہ گورخر واپس کر دیا۔ صعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر ( ناراضی کا اثر ) ہدیہ کی واپسی کی وجہ سے دیکھا، تو فرمایا ”ہدیہ واپس کرنا مناسب تو نہ تھا لیکن بات یہ ہے کہ ہم احرام باندھے ہوئے ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيَّ،، وَكَانَ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُخْبِرُ أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِمَارَ وَحْشٍ وَهْوَ بِالأَبْوَاءِ ـ أَوْ بِوَدَّانَ ـ وَهْوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ، قَالَ صَعْبٌ فَلَمَّا عَرَفَ فِي وَجْهِي رَدَّهُ هَدِيَّتِي قَالَ " لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ، وَلَكِنَّا حُرُمٌ ".
#2597
Narrated Abu Humaid Al-Sa`idi:The Prophet (ﷺ) appointed a man from the tribe of Al-Azd, called Ibn 'Utbiyya for collecting the Zakat. When he returned he said, "This (i.e. the Zakat) is for you and this has been given to me as a present." The Prophet (ﷺ) said, "Why hadn't he stayed in his father's or mother's house to see whether he would be given presents or not? By Him in Whose Hands my life is, whoever takes something from the resources of the Zakat (unlawfully) will be carrying it on his neck on the Day of Resurrection; if it be a camel, it will be grunting; if a cow, it will be mooing; and if a sheep, it will be bleating." The Prophet then raised his hands till we saw the whiteness of his armpits, and he said thrice, "O Allah! Haven't I conveyed Your Message (to them)?
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، زہری سے، وہ عروہ بن زبیر سے، وہ ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے کہ قبیلہ ازد کے ایک صحابی کو جنہیں ابن اتبیہ کہتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ وصول کرنے کے لیے عامل بنایا۔ پھر جب وہ واپس آئے تو کہا کہ یہ تم لوگوں کا ہے ( یعنی بیت المال کا ) اور یہ مجھے ہدیہ میں ملا ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اپنے والد یا اپنی والدہ کے گھر میں کیوں نہ بیٹھا رہا۔ دیکھتا وہاں بھی انہیں ہدیہ ملتا ہے یا نہیں۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اس ( مال زکوٰۃ ) میں سے اگر کوئی شخص کچھ بھی ( ناجائز ) لے لے گا تو قیامت کے دن اسے وہ اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے آئے گا۔ اگر اونٹ ہے تو وہ اپنی آواز نکالتا ہوا آئے گا، گائے ہے تو وہ اپنی اور اگر بکری ہے تو وہ اپنی آواز نکالتی ہو گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغل مبارک کی سفیدی بھی دیکھ لی ( اور فرمایا ) اے اللہ! کیا میں نے تیرا حکم پہنچا دیا۔ اے اللہ! کیا میں نے تیرا حکم پہنچا دیا۔ تین مرتبہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا ) ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً مِنَ الأَزْدِ يُقَالُ لَهُ ابْنُ اللُّتْبِيَّةِ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ هَذَا لَكُمْ، وَهَذَا أُهْدِيَ لِي. قَالَ " فَهَلاَّ جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ أَوْ بَيْتِ أُمِّهِ، فَيَنْظُرَ يُهْدَى لَهُ أَمْ لاَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْهُ شَيْئًا إِلاَّ جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى رَقَبَتِهِ، إِنْ كَانَ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةً تَيْعَرُ ـ ثُمَّ رَفَعَ بِيَدِهِ، حَتَّى رَأَيْنَا عُفْرَةَ إِبْطَيْهِ ـ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ثَلاَثًا ".
#2598
Narrated Jabir:The Prophet (ﷺ) said to me, "I will give you so much (the Prophet (ﷺ) pointed thrice with his hands) when funds of Bahrain will come to me." But the Prophet (ﷺ) died before the money reached him. (When it came) Abu Bakr ordered an announcer to announce that whoever had a money claim on the Prophet (ﷺ) or was promised to be given something, should come to Abu Bakr. I went to Abu Bakr and told him that the Prophet (ﷺ) had promised to give me so much. On that Abu Bakr gave me three handfuls (of money)
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن المنکدر نے بیان کیا، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ آپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے وعدہ فرمایا، اگر بحرین کا مال ( جزیہ کا ) آیا تو میں تمہیں اتنا اتنا تین لپ مال دوں گا۔ لیکن بحرین سے مال آنے سے پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات فرما گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک منادی سے یہ اعلان کرنے کے لیے کہا کہ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی وعدہ ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا کوئی قرض ہو تو وہ ہمارے پاس آئے۔ چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں گیا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔ تو انہوں نے تین لپ بھر کر مجھے دئیے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعْتُ جَابِرًا ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَوْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا ثَلاَثًا ". فَلَمْ يَقْدَمْ حَتَّى تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم، فَأَمَرَ أَبُو بَكْرٍ مُنَادِيًا فَنَادَى مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عِدَةٌ أَوْ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنَا. فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَعَدَنِي. فَحَثَى لِي ثَلاَثًا.
#2599
Narrated Al-Miswar bin Makhrama:Allah's Messenger (ﷺ) distributed some cloaks but did not give anything thereof to Makhrama. Makhrama said (to me), "O son! accompany me to Allah's Messenger (ﷺ)." When I went with him, he said, "Call him to me." I called him (i.e. the Prophet (ﷺ) ) for my father. He came out wearing one of those cloaks and said, "We kept this (cloak) for you, (Makhrama)." Makhrama looked at the cloak and said, "Makhrama is pleased," (or the Prophet (ﷺ) said), "Is Makhrama pleased?
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ابن ابی ملیکہ سے اور وہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ رضی اللہ عنہ کو اس میں سے ایک بھی نہیں دی۔ انہوں نے ( مجھ سے ) کہا، بیٹے چلو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلیں۔ میں ان کے ساتھ چلا۔ پھر انہوں نے کہا کہ اندر جاؤ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ میں آپ کا منتظر کھڑا ہوا ہوں، چنانچہ میں اندر گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت انہیں قباؤں میں سے ایک قباء پہنے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے یہ تمہارے لیے چھپا رکھی تھی، لو اب یہ تمہاری ہے۔ مسور نے بیان کیا کہ ( میرے والد ) مخرمہ رضی اللہ عنہ نے قباء کی طرف دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مخرمہ! خوش ہو یا نہیں؟“
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقْبِيَةً، وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ مِنْهَا شَيْئًا، فَقَالَ مَخْرَمَةُ يَا بُنَىَّ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَقَالَ ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي. قَالَ فَدَعَوْتُهُ لَهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ، وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا، فَقَالَ " خَبَأْنَا هَذَا لَكَ ". قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ رَضِيَ مَخْرَمَةُ.
#2600
Narrated Abu Huraira:A man came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "I am ruined." The Prophet (ﷺ) asked, "What do you mean?" He said, "I had a sexual intercourse with my wife during Ramadan (while fasting)." The Prophet (ﷺ) asked him, "Can you manumit a slave?" He replied in the negative. He then asked him, "Can you fast for two successive months continuously" He replied in the negative. The Prophet (ﷺ) then asked him, "Can you feed sixty poor persons?" He replied in the negative. In the meantime an Ansari came with a basket full of dates. The Prophet (ﷺ) said to the man, "Take it and give it in charity (as an expiation of your sin)." The man said "Should I give it to some people who are poorer than we O Allah's Messenger (ﷺ)? By Him Who has sent you with the Truth, there is no family between Medina's two mountains poorer than we." Allah's Messenger (ﷺ) told him to take it and provide his family with it
ہم سے محمد بن محبوب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا زہری سے، وہ حمید بن عبدالرحمٰن سے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ میں تو ہلاک ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ”کیا بات ہوئی؟“ عرض کیا کہ رمضان میں میں نے اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ”تمہارے پاس کوئی غلام ہے؟“ کہا کہ نہیں۔ پھر دریافت فرمایا ”کیا دو مہینے پے در پے روزے رکھ سکتے ہو؟“ کہا کہ نہیں۔ پھر دریافت فرمایا ”کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا دے سکتے ہو؟“ اس پر بھی جواب تھا کہ نہیں۔ بیان کیا کہ اتنے میں ایک انصاری عرق لائے۔ ( عرق کھجور کے پتوں کا بنا ہوا ایک ٹوکرا ہوتا تھا جس میں کھجور رکھی جاتی تھی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا ”اسے لے جا اور صدقہ کر دے“ انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! کیا اپنے سے زیادہ ضرورت مند پر صدقہ کر دوں؟ اور اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ سارے مدینے میں ہم سے زیادہ محتاج اور کوئی گھرانہ نہیں ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر جا، اپنے ہی گھر والوں کو کھلا دے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ هَلَكْتُ. فَقَالَ " وَمَا ذَاكَ ". قَالَ وَقَعْتُ بِأَهْلِي فِي رَمَضَانَ. قَالَ " تَجِدُ رَقَبَةً ". قَالَ لاَ. قَالَ " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ". قَالَ لاَ. قَالَ " فَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ". قَالَ لاَ. قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ بِعَرَقٍ ـ وَالْعَرَقُ الْمِكْتَلُ ـ فِيهِ تَمْرٌ فَقَالَ " اذْهَبْ بِهَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ ". قَالَ عَلَى أَحْوَجَ مِنَّا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا. قَالَ " اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ ".