#2376
Daif
Narrated A man from the Companions: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Neither vomiting, nor emission, nor cupping breaks the fast of the one who is fasting
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قے کی اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا، اور نہ اس شخص کا جس کو احتلام ہو گیا، اور نہ اس شخص کا جس نے پچھنا لگایا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِهِ عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُفْطِرُ مَنْ قَاءَ وَلاَ مَنِ احْتَلَمَ وَلاَ مَنِ احْتَجَمَ " .
#2377
Daif
Narrated Ma'bad b. Hudhah: The Prophet (ﷺ) commanded to apply collyrium mixed with musk at the time of sleep. He said: A man who is fasting should abstain from it. Abu Dawud said: Yahya b. Ma'in said to me: This tradition about the use of collyrium is munkar (i.e. contradicts the sound traditions on the subject)
معبد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک ملا ہوا سرمہ سوتے وقت لگانے کا حکم دیا اور فرمایا: روزہ دار اس سے پرہیز کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھ سے یحییٰ بن معین نے کہا کہ یہ یعنی سرمہ والی حدیث منکر ہے۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ هَوْذَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ أَمَرَ بِالإِثْمِدِ الْمُرَوَّحِ عِنْدَ النَّوْمِ وَقَالَ " لِيَتَّقِهِ الصَّائِمُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ لِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ هُوَ حَدِيثٌ مُنْكَرٌ يَعْنِي حَدِيثَ الْكَحْلِ .
#2378
Hasan
Ubaid Allah b. Abu Bakr b. Anas reported on the authority of Anas b. Malik that he used to apply collyrium when he was fasting
عبیداللہ بن ابی بکر بن انس کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سرمہ لگاتے تھے اور روزے سے ہوتے تھے۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ كَانَ يَكْتَحِلُ وَهُوَ صَائِمٌ .
#2379
Hasan
Al-A'mash said:I did not see any of our companions who abominated the use of collyrium by a man who fasting. Ibrahim would permit the man who was fasting to apply collyrium with aloes
اعمش کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی روزے دار کے سرمہ لگانے کو ناپسند کرتے نہیں دیکھا اور ابراہیم نخعی روزے دار کو «صبر» ( ایک قسم کا سرمہ ہے ) کے سرمے کی اجازت دیتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِنَا يَكْرَهُ الْكَحْلَ لِلصَّائِمِ وَكَانَ إِبْرَاهِيمُ يُرَخِّصُ أَنْ يَكْتَحِلَ الصَّائِمُ بِالصَّبِرِ .
#2380
Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: if one has a sudden attack of vomiting while one is fasting, no atonement is required of him, but if he vomits intentionally he must make atonement
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو قے ہو جائے اور وہ روزے سے ہو تو اس پر قضاء نہیں، ہاں اگر اس نے قصداً قے کی تو قضاء کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حفص بن غیاث نے بھی ہشام سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ ذَرَعَهُ قَىْءٌ وَهُوَ صَائِمٌ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ وَإِنِ اسْتَقَاءَ فَلْيَقْضِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ أَيْضًا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ هِشَامٍ مِثْلَهُ .
#2381
Sahih
Narrated Ma'dan b. Talhah:That Abu ad-Darda' narrated to him: The Messenger of Allah (ﷺ) vomited and broke his fast. Then I met Thawban, the client of the Messenger of Allah (ﷺ), in the mosque in Damascus, I said (to him): Abu al-Darda has told me that the Messenger of Allah (ﷺ) vomited and broke his fast. He said: He spoke the truth ; and I poured out water for his ablution (ﷺ)
معدان بن طلحہ کا بیان ہے کہ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قے ہوئی تو آپ نے روزہ توڑ ڈالا، اس کے بعد دمشق کی مسجد میں میری ملاقات ثوبان رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے کہا کہ ابوالدرداء نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قے ہو گئی تو آپ نے روزہ توڑ دیا اس پر ثوبان نے کہا: ابوالدرداء نے سچ کہا اور میں نے ہی ( اس وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی ڈالا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، عَنْ يَحْيَى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ، أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَاءَ فَأَفْطَرَ فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَقُلْتُ إِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ حَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَاءَ فَأَفْطَرَ . قَالَ صَدَقَ وَأَنَا صَبَبْتُ لَهُ وَضُوءَهُ صلى الله عليه وسلم .
#2382
Sahih
Narrated 'Aishah:The Messenger of Allah (ﷺ) used to kiss and embrace while he was fasting, but he was the one of you who had most control over his desire
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے اور چمٹ کر سوتے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش پر سب سے زیادہ قابو رکھنے والے تھے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَ لإِرْبِهِ .
#2383
Sahih
Narrated 'Aishah:The Prophet (ﷺ) used to kiss (me) during the month of fasting
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے مہینے میں بوسہ لیتے ( لے لیا کرتے ) تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُ فِي شَهْرِ الصَّوْمِ .
#2384
Sahih
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) used to kiss me when he was fasting and when I was fasting
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا بوسہ لیتے اور آپ روزے سے ہوتے اور میں بھی روزے سے ہوتی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ الْقُرَشِيَّ - عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَنَا صَائِمَةٌ .
#2385
Sahih
Narrated Umar ibn al-Khattab: I got excited, so I kissed while I was fasting, I then said: Messenger of Allah, I have done a big deed; I kissed while I was fasting. He said: What do you think if you rinse your mouth with water while you are fasting. The narrator Isa ibn Hammad said in his version: I said to him: There is no harm in it. Then both of them agreed on the version: He said: Then what?
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں خوش ہوا تو میں نے بوسہ لیا اور میں روزے سے تھا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے تو آج بہت بڑی حرکت کر ڈالی، روزے کی حالت میں بوسہ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھلا بتاؤ اگر تم روزے کی حالت میں پانی سے کلی کر لو ( تو کیا ہوا ) ، میں نے کہا: اس میں تو کچھ حرج نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو بس کوئی بات نہیں ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ هَشِشْتُ فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا قَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ . قَالَ " أَرَأَيْتَ لَوْ مَضْمَضْتَ مِنَ الْمَاءِ وَأَنْتَ صَائِمٌ " . قَالَ عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ فِي حَدِيثِهِ قُلْتُ لاَ بَأْسَ بِهِ . ثُمَّ اتَّفَقَا قَالَ " فَمَهْ " .
#2386
Daif
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Prophet (ﷺ) used to kiss her and suck her tongue when he was fasting
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں ان کا بوسہ لیتے اور ان کی زبان چوستے تھے۔ ابن اعرابی کہتے ہیں: یہ سند صحیح نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ الْعَبْدِيُّ، عَنْ مِصْدَعٍ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ وَيَمُصُّ لِسَانَهَا .
#2387
Hasan Sahih
Narrated AbuHurayrah: A man asked the Prophet (ﷺ) whether one who was fasting could embrace (his wife) and he gave him permission; but when another man came to him, and asked him, he forbade him. The one to whom he gave permission was an old man and the one whom he forbade was a youth
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روزہ دار کے بیوی سے چمٹ کر سونے کے متعلق پوچھا، آپ نے اس کو اس کی اجازت دی، اور ایک دوسرا شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے بھی اسی سلسلہ میں آپ سے پوچھا تو اس کو منع کر دیا، جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تھی، وہ بوڑھا تھا اور جسے منع فرمایا تھا وہ جوان تھا۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، - يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ - أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي الْعَنْبَسِ، عَنِ الأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ فَرَخَّصَ لَهُ وَأَتَاهُ آخَرُ فَسَأَلَهُ فَنَهَاهُ . فَإِذَا الَّذِي رَخَّصَ لَهُ شَيْخٌ وَالَّذِي نَهَاهُ شَابٌّ .
#2388
Sahih
Narrated 'Aishah and Umm Salamah, wives of the Prophet (ﷺ): The Messenger of Allah (ﷺ) would be overtaken by the dawn when he was in a state of sexual defilement. The narrator 'Abd Allah al-Adhrami said in his version: During Ramadan, due to sexual intercourse and no owing to a dream (i.e. nocturnal emission), and would fast. Abu Dawud said: How brief is this sentence uttered by the narrator, this is, "he was overtaken by daw when he was in the state of sexual defilement"? The tradition says: The Prophet (ﷺ) was overtaken by dawn in the state of sexual defilement when he was fasting
ام المؤمنین عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں صبح کرتے۔ عبداللہ اذرمی کی روایت میں ہے: ایسا رمضان میں احتلام سے نہیں بلکہ جماع سے ہوتا تھا، پھر آپ روزہ سے رہتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کتنی کم تر ہے اس شخص کی بات جو یہ یعنی «يصبح جنبا في رمضان» کہتا ہے، حدیث تو ( جو کہ بہت سے طرق سے مروی ہے ) یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہو کر صبح کرتے تھے حالانکہ آپ روزے سے ہوتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الأَذْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُمَا قَالَتَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصْبِحُ جُنُبًا . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ الأَذْرَمِيُّ فِي حَدِيثِهِ فِي رَمَضَانَ مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلاَمٍ ثُمَّ يَصُومُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَمَا أَقَلَّ مَنْ يَقُولُ هَذِهِ الْكَلِمَةَ - يَعْنِي يُصْبِحُ جُنُبًا فِي رَمَضَانَ - وَإِنَّمَا الْحَدِيثُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا وَهُوَ صَائِمٌ .
#2389
Sahih
Narrated 'Aishah, wife of Prophet (ﷺ):A man said to Messenger of Allah (ﷺ): Messenger of Allah, I was overtaken by dawn while I was sexually defiled, and I want to keep fast. The Messenger of Allah (ﷺ) said: I am also overtaken by dawn while I am in the state of sexual defilement ; I also want to keep fast. I take a bath and I keep fast. The man said: Messenger of Allah, you are not like us ; Allah has forgiven you your past and future sins. The Messenger of Allah (ﷺ) became angry and said: I swear by Allah, I hope I shall be the most fearful of you of Allah, and most familiar of you with what I follow
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دروازے پر کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! میں جنابت کی حالت میں صبح کرتا ہوں اور روزہ رکھنا چاہتا ہوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی جنابت کی حالت میں صبح کرتا ہوں اور روزہ رکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں پھر غسل کرتا ہوں اور روزہ رکھ لیتا ہوں ، اس شخص نے کہا: اللہ کے رسول! آپ تو ہماری طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر رکھے ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے اور فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ میں تم میں اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں، اور مجھے کیا کرنا ہے اس بات کو بھی تم سے زیادہ جانتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، - يَعْنِي الْقَعْنَبِيَّ - عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، مَوْلَى عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَجُلاً قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى الْبَابِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَأَنَا أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ فَأَغْتَسِلُ وَأَصُومُ " . فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ لَسْتَ مِثْلَنَا قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " وَاللَّهِ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّبِعُ " .
#2390
Sahih
Narrated Abu Hurairah:A man came to the Prophet (ﷺ) and said: I am undone. He asked him: What has happened to you ? He said: I had intercourse with my wife in Ramadan (while I was fasting). He asked: Can you set a slave free ? He said: No. He again asked: Can you fast for two consecutive months ? He said: No. He asked: Can you provide food for sixty poor people ? He said: No. He said: Sit down. Then a huge basket containing dates ('araq) was brought to the Prophet (ﷺ). He then said to him: Give it as sadaqah (i.e. alms). He said: Messenger of Allah, there is no poorer family than mine between the two lave plains of it (Medina). The Messenger of Allah (ﷺ) laughed so that his eye-teeth became visible, and said: Give it to your family to eat. Musaddad said in another place: "his canine teeth
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں ہلاک ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ایک گردن آزاد کر سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، فرمایا: دو مہینے مسلسل روزے رکھنے کی طاقت ہے؟ کہا: نہیں، فرمایا: ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ ، کہا: نہیں، فرمایا: بیٹھو ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک بڑا تھیلا آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: انہیں صدقہ کر دو ، کہنے لگا: اللہ کے رسول! مدینہ کی ان دونوں سیاہ پتھریلی پہاڑیوں کے بیچ ہم سے زیادہ محتاج کوئی گھرانہ ہے ہی نہیں، اس پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت ظاہر ہو گئے اور فرمایا: اچھا تو انہیں ہی کھلا دو ۔ مسدد کی روایت میں ایک دوسری جگہ «ثناياه» کی جگہ «أنيابه» ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - قَالَ مُسَدَّدٌ - حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ هَلَكْتُ . فَقَالَ " مَا شَأْنُكَ " . قَالَ وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ . قَالَ " فَهَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ رَقَبَةً " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا " . قَالَ لاَ . قَالَ " اجْلِسْ " . فَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ فَقَالَ " تَصَدَّقْ بِهِ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرَ مِنَّا فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ ثَنَايَاهُ قَالَ " فَأَطْعِمْهُ إِيَّاهُمْ " . وَقَالَ مُسَدَّدٌ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ أَنْيَابُهُ .
#2391
Sahih
This tradition has also been transmitted by al-Zuhri through a different chain of narrators to the same effect. Al-Zuhri added in his version:This was a special concession for him. If a man commits this act today, the expiation is necessary for him. Abu Dawud said: Al-Laith b. Sa'd, al-Awza'i, Mansur b. al-Mu'tamir and 'Irak b. Malik have narrated this tradition like the one narrated by Ibn 'Uyainah. Al-Awza'i narrated in his version the words: Beg pardon of Allah
اس سند سے بھی زہری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں زہری نے یہ الفاظ زائد کہے کہ یہ ( کھجوریں اپنے اہل و عیال کو ہی کھلا دینے کا حکم ) اسی شخص کے ساتھ خاص تھا اگر اب کوئی اس گناہ کا ارتکاب کرے تو اسے کفارہ ادا کئے بغیر چارہ نہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے لیث بن سعد، اوزاعی، منصور بن معتمر اور عراک بن مالک نے ابن عیینہ کی روایت کے ہم معنی روایت کیا ہے اور اوزاعی نے اس میں «واستغفر الله» اور اللہ سے بخشش طلب کر کا اضافہ کیا ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِمَعْنَاهُ . زَادَ الزُّهْرِيُّ وَإِنَّمَا كَانَ هَذَا رُخْصَةً لَهُ خَاصَّةً فَلَوْ أَنَّ رَجُلاً فَعَلَ ذَلِكَ الْيَوْمَ لَمْ يَكُنْ لَهُ بُدٌّ مِنَ التَّكْفِيرِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَالأَوْزَاعِيُّ وَمَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ وَعِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ عَلَى مَعْنَى ابْنِ عُيَيْنَةَ . زَادَ الأَوْزَاعِيُّ وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ .
#2392
Sahih
Narrated Abu Hurairah: (A man broke his fast intentionally) during Ramadan. The Messenger of Allah (ﷺ) commanded him to emancipate a slave, or fast for two months, or feed sixty poor men. He said: I cannot provide. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Sit down. Thereafter a huge basket of dates ('araq) was brought to the Messenger of Allah (ﷺ). He said: Take this and give it as sadaqah (alms). He said: Messenger of Allah, there is no poorer than I. The Messenger of Allah (ﷺ) thereupon laughed so that his canine teeth became visible and said: Eat it yourself. Abu Dawud said: Ibn Juraij narrated it from al-Zuhri in the wordings of the narrator Malik that a man broke his fast. This version says: You should either free a slave, or fast for two months, or provide food for sixty poor men
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک غلام آزاد کرنے، یا دو مہینے کا مسلسل روزے رکھنے، یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم فرمایا، وہ شخص کہنے لگا کہ میں تو ( ان میں سے ) کچھ نہیں پاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: بیٹھ جاؤ ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک تھیلا آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں لے لو اور صدقہ کر دو ، وہ کہنے لگا: اللہ کے رسول! مجھ سے زیادہ ضرورت مند تو کوئی ہے ہی نہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت نظر آنے لگے اور اس سے فرمایا: تم ہی اسے کھا جاؤ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے زہری سے مالک کی روایت کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے روزہ توڑ دیا، اس میں ہے «أو تعتق رقبة أو تصوم شهرين أو تطعم ستين مسكينا» ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُعْتِقَ رَقَبَةً أَوْ يَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ أَوْ يُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا . قَالَ لاَ أَجِدُ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اجْلِسْ " . فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ فَقَالَ " خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَحَدٌ أَحْوَجَ مِنِّي . فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ وَقَالَ لَهُ " كُلْهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَلَى لَفْظِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلاً أَفْطَرَ وَقَالَ فِيهِ " أَوْ تُعْتِقَ رَقَبَةً أَوْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ أَوْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا " .
#2393
Sahih
Abu Hurairah said:A man came to the Prophet (ﷺ). He broke his fast during Ramadan. He then narrated the rest of this tradition adding: Then a huge basket containing fifteen sa's of dates was brought to him. He said: Eat it yourself and your family and keep one fast and beg pardon of Allah
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اس نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تھا، آگے اوپر والی حدیث کا ذکر ہے اس میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بڑا تھیلا آیا جس میں پندرہ صاع کے بقدر کھجوریں تھیں، اور اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تم اور تمہارے گھر والے کھاؤ، اور ایک دن کا روزہ رکھ لو، اور اللہ سے بخشش طلب کرو ۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ بِهَذَا الْحَدِيثِ . قَالَ فَأُتِيَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ قَدْرُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا وَقَالَ فِيهِ " كُلْهُ أَنْتَ وَأَهْلُ بَيْتِكَ وَصُمْ يَوْمًا وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ " .
#2394
Sahih
Narrated 'Aishah, wife of Prophet (ﷺ):A man came to the Prophet (ﷺ) during Ramadan in the mosque. He said: Messenger of Allah, I am burnt. The Prophet (ﷺ) asked him what happened to him. He said: I had sexual intercourse with my wife. He said: Give sadaqah (alms). He said: I swear by Allah, I possess nothing with me, and I cannot do this. He said: Sit down. He sat down. While he was waiting, a man came forward driving his donkey loaded with food. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Where is the man who was burnt just now ? Thereupon the man stood up. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Give it as sadaqah (alms). He asked: Messenger of Allah, to others than us ? By Allah. we are hungry, we have nothing (to eat). He said: Eat it yourselves
عباد بن عبداللہ بن زبیر کا بیان ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص رمضان میں مسجد کے اندر آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں تو بھسم ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے؟ کہنے لگا: میں نے اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ کر دو ، وہ کہنے لگا: اللہ کی قسم! میرے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے، اور نہ میرے اندر استطاعت ہے، فرمایا: بیٹھ جاؤ ، وہ بیٹھ گیا، اتنے میں ایک شخص غلے سے لدا ہوا گدھا ہانک کر لایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی بھسم ہونے والا کہاں ہے؟ وہ شخص کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے صدقہ کر دو ، بولا: اللہ کے رسول! کیا اپنے علاوہ کسی اور پر صدقہ کروں؟ اللہ کی قسم! ہم بھوکے ہیں، ہمارے پاس کچھ بھی نہیں، فرمایا: اسے تم ہی کھا لو ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، حَدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَقُولُ أَتَى رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ احْتَرَقْتُ . فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَا شَأْنُهُ قَالَ أَصَبْتُ أَهْلِي . قَالَ " تَصَدَّقْ " . قَالَ وَاللَّهِ مَا لِي شَىْءٌ وَلاَ أَقْدِرُ عَلَيْهِ . قَالَ " اجْلِسْ " . فَجَلَسَ فَبَيْنَمَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ أَقْبَلَ رَجُلٌ يَسُوقُ حِمَارًا عَلَيْهِ طَعَامٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ آنِفًا " . فَقَامَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَصَدَّقْ بِهَذَا " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعَلَى غَيْرِنَا فَوَاللَّهِ إِنَّا لَجِيَاعٌ مَا لَنَا شَىْءٌ . قَالَ " كُلُوهُ " .
#2395
Munkar
The tradition mentioned above has also been transmitted by 'Aishah through a different chain of narrators. This version adds:A huge basket containing twenty sa's (of dates) was brought
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی قصہ مروی ہے لیکن اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسا تھیلا لایا گیا جس میں بیس صاع کھجوریں تھیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ فَأُتِيَ بِعَرَقٍ فِيهِ عِشْرُونَ صَاعًا .
#2396
Daif
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: If anyone breaks his fast one day in Ramadan without a concession granted to him by Allah, a perpetual fast will not atone for it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان میں بغیر کسی شرعی عذر کے ایک دن کا روزہ توڑ دیا تو اس کی قضاء زمانہ بھر کے روزے بھی نہیں کر سکیں گے ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ مُطَوِّسٍ، عَنْ أَبِيهِ، - قَالَ ابْنُ كَثِيرٍ عَنْ أَبِي الْمُطَوِّسِ، عَنْ أَبِيهِ، - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ رُخْصَةٍ رَخَّصَهَا اللَّهُ لَهُ لَمْ يَقْضِ عَنْهُ صِيَامُ الدَّهْرِ " .
#2397
Daif
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators similar to the tradition narrated by Ibn Kathir and Sulaiman. Abu Dawud said:Sufyan and Shu'bah differed among themselves on the name of the narrator Ibn al-Mutawwas and Abu al-Mutawwas
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابن کثیر اور سلیمان کی حدیث نمبر ( ۲۳۹۶ ) کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي حَبِيبٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنِ ابْنِ الْمُطَوِّسِ، - قَالَ فَلَقِيتُ ابْنَ الْمُطَوِّسِ فَحَدَّثَنِي - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ كَثِيرٍ وَسُلَيْمَانَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَاخْتُلِفَ عَلَى سُفْيَانَ وَشُعْبَةَ عَنْهُمَا ابْنُ الْمُطَوِّسِ وَأَبُو الْمُطَوِّسِ .
#2398
Sahih
Narrated Abu Hurairah:A man came to the Prophet (ﷺ) and said: Messenger of Allah, I ate and drank in forgetfulness when I was fasting. Hie said: Allah had fed you and given you drink
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے بھول کر کھا پی لیا، اور میں روزے سے تھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اللہ تعالیٰ نے کھلایا پلایا ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَحَبِيبٌ، وَهِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَكَلْتُ وَشَرِبْتُ نَاسِيًا وَأَنَا صَائِمٌ . فَقَالَ " أَطْعَمَكَ اللَّهُ وَسَقَاكَ " .
#2399
Sahih
Narrated 'Aishah:If I had some part of the fast of Ramadan to make up, I would not be able to atone for it except in Sha'ban
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا: مجھ پر ماہ رمضان کی قضاء ہوتی تھی اور میں انہیں رکھ نہیں پاتی تھی یہاں تک کہ شعبان آ جاتا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - تَقُولُ إِنْ كَانَ لَيَكُونُ عَلَىَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَهُ حَتَّى يَأْتِيَ شَعْبَانُ .
#2400
Sahih
Narrated 'Aishah: The Prophet (ﷺ) as saying: If anyone dies when some fast is due from him (i.e. which he could not keep) his heir must fast on his behalf. Abu Dawud said: This applies to the fast which a man vows ; and this is the opinion of Ahmad b. Hanbal
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کی جانب سے اس کا ولی روزے رکھے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حکم نذر کے روزے کا ہے اور یہی احمد بن حنبل کا قول ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا فِي النَّذْرِ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ .