#2326
Sahih
Narrated Hudhayfah: The Prophet (ﷺ) said: Do not fast (for Ramadan) before the coming of the month until you sight the moon or complete the number (of thirty days); then fast until you sight the moon or complete the number (of thirty days)
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاند دیکھے بغیر یا مہینے کی گنتی پوری کئے بغیر پہلے ہی روزے رکھنا شروع نہ کر دو، بلکہ چاند دیکھ کر یا گنتی پوری کر کے روزے رکھو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الضَّبِّيُّ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُقَدِّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثُمَّ صُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ سُفْيَانُ وَغَيْرُهُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يُسَمِّ حُذَيْفَةَ .
#2327
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: Do not fast one day or two days just before Ramadan except in the case of a man who has been in the habit or observing a fast (on that day); and do not fast until you sight it (the moon). Then fast until you sight it. If a cloud appears on that day (i.e. 29th of Ramadan) then complete the number thirty (days) and then end the fasting: a month consists of twenty-nine days
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان سے ایک یا دو دن پہلے ہی روزے رکھنے شروع نہ کر دو، ہاں اگر کسی کا کوئی معمول ہو تو رکھ سکتا ہے، اور بغیر چاند دیکھے روزے نہ رکھو، پھر روزے رکھتے جاؤ، ( جب تک کہ شوال کا ) چاند نہ دیکھ لو، اگر اس کے درمیان بدلی حائل ہو جائے تو تیس کی گنتی پوری کرو اس کے بعد ہی روزے رکھنا چھوڑو، اور مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حاتم بن ابی صغیرہ، شعبہ اور حسن بن صالح نے سماک سے پہلی حدیث کے مفہوم کے ہم معنی روایت کیا ہے لیکن ان لوگوں نے «فأتموا العدة ثلاثين» کے بعد «ثم أفطروا» نہیں کہا ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُقَدِّمُوا الشَّهْرَ بِصِيَامِ يَوْمٍ وَلاَ يَوْمَيْنِ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ شَىْءٌ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ وَلاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ ثُمَّ صُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ حَالَ دُونَهُ غَمَامَةٌ فَأَتِمُّوا الْعِدَّةَ ثَلاَثِينَ ثُمَّ أَفْطِرُوا وَ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ وَشُعْبَةُ وَالْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ سِمَاكٍ بِمَعْنَاهُ لَمْ يَقُولُوا " ثُمَّ أَفْطِرُوا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ حَاتِمُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ وَأَبُو صَغِيرَةَ زَوْجُ أُمِّهِ .
#2328
Sahih
Narrated 'Imran bin Husain:The Messenger of Allah (ﷺ) asked a man: Did you fast the last day of Sha'ban ? He replied: No. He said: If you did not observe a fast, you must fast for a day. One of the two narrators said: For two days
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے پوچھا: کیا تم نے شعبان کے کچھ روزے رکھے ہیں ۱؎؟ ، جواب دیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ( رمضان کے ) روزے رکھ چکو تو ایک روزہ اور رکھ لیا کرو ، ان دونوں میں کسی ایک راوی کی روایت میں ہے: دو روزے رکھ لیا کرو ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَسَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلاَءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِرَجُلٍ " هَلْ صُمْتَ مِنْ سَرَرِ شَعْبَانَ شَيْئًا " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمًا " . وَقَالَ أَحَدُهُمَا " يَوْمَيْنِ " .
#2329
Daif
Narrated Mu'awiyah: AbulAzhar al-Mughirah ibn Farwah said: Mu'awiyah stood among the people at Dayr Mustahill lying at the gate of Hims. He said: O people, we sighted the moon on such-and-such day. We shall fast in advance. Anyone who likes to do so may do it. Malik ibn Hubayrah as-Saba'i stood up and asked: Mu'awiyah, did you hear the Messenger of Allah (ﷺ) say something (about this matter), or is this something on the basis of your opinion? He replied: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Fast the month (in the beginning) and in the last
ابوازہر مغیرہ بن فروہ کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے دیر مسحل پر ( جو کہ حمص کے دروازے پر واقع ہے ) ، کھڑے ہو کر لوگوں سے کہا: لوگو! ہم نے چاند فلاں فلاں دن دیکھ لیا ہے اور میں سب سے پہلے روزہ رکھ رہا ہوں، جو شخص روزہ رکھنا چاہے رکھ لے، مالک بن ہبیرہ سبئی نے کھڑے ہو کر ان سے کہا: معاویہ! یہ بات آپ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر کہی ہے، یا آپ کی اپنی رائے ہے؟ جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: رمضان کے مہینے کے روزے رکھو اور آخر شعبان کے ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلاَءِ الزُّبَيْدِيُّ، مِنْ كِتَابِهِ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِي الأَزْهَرِ الْمُغِيرَةِ بْنِ فَرْوَةَ، قَالَ قَامَ مُعَاوِيَةُ فِي النَّاسِ بِدَيْرِ مِسْحَلٍ الَّذِي عَلَى بَابِ حِمْصَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا قَدْ رَأَيْنَا الْهِلاَلَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا وَأَنَا مُتَقَدِّمٌ بِالصِّيَامِ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَفْعَلَهُ فَلْيَفْعَلْهُ . قَالَ فَقَامَ إِلَيْهِ مَالِكُ بْنُ هُبَيْرَةَ السَّبَئِيُّ فَقَالَ يَا مُعَاوِيَةُ أَشَىْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمْ شَىْءٌ مِنْ رَأْيِكَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " صُومُوا الشَّهْرَ وَسِرَّهُ " .
#2330
Maqtu
Sulaiman b. 'Abd al-Rahman al-Dimashqi said about this tradition that al-Walid said:I heard Abu 'Amr al-Auza'i say: The word sirrahu means beginning of the month
سلیمان بن عبدالرحمٰن نے اس حدیث کے سلسلہ میں بیان کیا ہے کہ ولید کہتے ہیں: میں نے ابوعمرو یعنی اوزاعی کو کہتے سنا ہے کہ «سرہ»کے معنی اوائل ماہ کے ہیں۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، - فِي هَذَا الْحَدِيثِ - قَالَ قَالَ الْوَلِيدُ سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو - يَعْنِي الأَوْزَاعِيَّ - يَقُولُ سِرُّهُ أَوَّلُهُ .
#2331
Shadh
Narrated Ahmad b. 'Abd al-Wahid:On the authority of Abu Mushir. He said: Sa'id, that is, Ibn 'Abd al-'Aziz said: The meaning of the word sirraha is "in the beginning of it (the month)
ابومسہر کہتے ہیں سعید یعنی ابن عبدالعزیز کہتے ہیں «سره» کے معنی «أوله» کے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «سره» کے معنی کچھ لوگ «وسطه»کے بتاتے ہیں اور کچھ لوگ «آخره» کے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، قَالَ كَانَ سَعِيدٌ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ - يَقُولُ سِرُّهُ أَوَّلُهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ سِرُّهُ وَسَطُهُ وَقَالُوا آخِرُهُ .
#2332
Sahih
Narrated Kuraib:That Umm al-Fadl, daughter of al-Harith, sent him to Mu'aqiyah in Syria. He said: I came to syria and performed her work. The moon of Ramadan appeared while I was in Syria. We sighted the moon on the night of Friday. When I came to Median towards the end of the month (of Ramadan), Ibn 'Abbas asked me about the moon. He said: When did you sight the moon ? I said: I sighted it on the night of Friday. He asked: Did you sight it yourself ? I said: Yes, and the people sighted it. They fasted and Mu'awiyah also fasted. He said: But we sighted it on the night of saturday. Since then we have been fasting until we complete thirty days or we sight it. Then I said: Are the sighting of the moon by Mu'awiyah and his fasts not sufficient for us? He replied: No. The Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to do so
کریب کہتے ہیں کہ ام الفضل بنت حارث نے انہیں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس شام بھیجا، میں نے ( وہاں پہنچ کر ) ان کی ضرورت پوری کی، میں ابھی شام ہی میں تھا کہ رمضان کا چاند نکل آیا، ہم نے جمعہ کی رات میں چاند دیکھا، پھر مہینے کے آخر میں مدینہ آ گیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے چاند کے متعلق پوچھا کہ تم نے چاند کب دیکھا؟ میں نے جواب دیا کہ جمعہ کی رات میں، فرمایا: تم نے خود دیکھا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، اور لوگوں نے بھی دیکھا ہے، اور روزہ رکھا ہے، معاویہ نے بھی روزہ رکھا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: لیکن ہم نے سنیچر کی رات میں چاند دیکھا ہے لہٰذا ہم چاند نظر آنے تک روزہ رکھتے رہیں گے، یا تیس روزے پورے کریں گے، تو میں نے کہا کہ کیا معاویہ کی رؤیت اور ان کا روزہ کافی نہیں ہے؟ کہنے لگے: نہیں، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ ابْنَةَ الْحَارِثِ، بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ قَالَ فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا فَاسْتُهِلَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ فَرَأَيْنَا الْهِلاَلَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ فَسَأَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلاَلَ فَقَالَ مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ قُلْتُ رَأَيْتُهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ . قَالَ أَنْتَ رَأَيْتَهُ قُلْتُ نَعَمْ وَرَآهُ النَّاسُ وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ . قَالَ لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ فَلاَ نَزَالُ نَصُومُهُ حَتَّى نُكْمِلَ الثَّلاَثِينَ أَوْ نَرَاهُ . فَقُلْتُ أَفَلاَ تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ قَالَ لاَ هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#2333
Sahih Maqtu
Al-Hasan said about a person who was in a certain city. He fasted on Monday, and twp persons bore witness that they had sighted the moon on the night of sunday. He said:That man and the people of his city should not fast as an atonement except that they know (for certain) that the people of a certain city of Muslims had fasted on Sunday. In that case they should keep fast as an atonement
حسن بصری سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو کسی شہر میں ہو اور اس نے دوشنبہ ( پیر ) کے دن کا روزہ رکھ لیا ہو اور دو آدمی اس بات کی گواہی دیں کہ انہوں نے اتوار کی رات چاند دیکھا ہے ( اور اتوار کو روزہ رکھا ہے ) تو انہوں نے کہا: وہ شخص اور اس شہر کے باشندے اس دن کا روزہ قضاء نہیں کریں گے، ہاں اگر معلوم ہو جائے کہ مسلم آبادی والے کسی شہر کے باشندوں نے سنیچر کا روزہ رکھا ہے تو انہیں بھی ایک روزے کی قضاء کرنی پڑے گی ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا الأَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِفِي رَجُلٍ كَانَ بِمِصْرٍ مِنَ الأَمْصَارِ فَصَامَ يَوْمَ الاِثْنَيْنِ وَشَهِدَ رَجُلاَنِ أَنَّهُمَا رَأَيَا الْهِلاَلَ لَيْلَةَ الأَحَدِ فَقَالَ لاَ يَقْضِي ذَلِكَ الْيَوْمَ الرَّجُلُ وَلاَ أَهْلُ مِصْرِهِ إِلاَّ أَنْ يَعْلَمُوا أَنَّ أَهْلَ مِصْرٍ مِنْ أَمْصَارِ الْمُسْلِمِينَ قَدْ صَامُوا يَوْمَ الأَحَدِ فَيَقْضُونَهُ .
#2334
Sahih
Narrated Ammar: AbuIshaq reported on the authority of Silah: We were with Ammar on the day when the appearance of the moon was doubtful. (The meat of) goat was brought to him. Some people kept aloof from (eating) it. Ammar said: He who keeps fast on this day disobeys AbulQasim (i.e. the Prophet) (ﷺ)
صلہ بن زفر کہتے ہیں کہ ہم اس دن میں جس دن کا روزہ مشکوک ہے عمار رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، ان کے پاس ایک ( بھنی ہوئی ) بکری لائی گئی، تو لوگوں میں سے ایک آدمی ( کھانے سے احتراز کرتے ہوئے ) الگ ہٹ گیا اس پر عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے ایسے ( شک والے ) دن کا روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَمَّارٍ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ فَأُتِيَ بِشَاةٍ فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ فَقَالَ عَمَّارٌ مَنْ صَامَ هَذَا الْيَوْمَ فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم .
#2335
Sahih
Narrated Abu Hurairah:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Do not fast one day or two days just before Ramadan, except in the case of a man who has been in the habit of observing the particular fast, for he may fast on that day
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو، ہاں اگر کوئی آدمی پہلے سے روزہ رکھتا آ رہا ہے تو وہ ان دنوں کا روزہ رکھے ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَقَدَّمُوا صَوْمَ رَمَضَانَ بِيَوْمٍ وَلاَ يَوْمَيْنِ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ صَوْمًا يَصُومُهُ رَجُلٌ فَلْيَصُمْ ذَلِكَ الصَّوْمَ " .
#2336
Sahih
Narrated Umm Salamah, Ummul Mu'minin: She never saw the Prophet (ﷺ) fasting the whole month except Sha'ban which he combined with Ramadan
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سال میں کسی مہینے کے مکمل روزے نہ رکھتے سوائے شعبان کے اسے رمضان سے ملا دیتے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنَ السَّنَةِ شَهْرًا تَامًّا إِلاَّ شَعْبَانَ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ .
#2337
Sahih
Narrated AbuHurayrah: AbdulAziz ibn Muhammad said: Abbad ibn Kathir came to Medina and went to the assembly of al-Ala'. He caught hold of his hand and made him stand and said: O Allah, he narrates a tradition from his father on the authority of AbuHurayrah who reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: When the middle of Sha'ban comes, do not fast. Al-Ala' said: O Allah, my father narrated this tradition on the authority of AbuHurayrah from the Prophet (ﷺ)
عبدالعزیز بن محمد کہتے ہیں کہ عباد بن کثیر مدینہ آئے تو علاء کی مجلس کی طرف مڑے اور ( جا کر ) ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں کھڑا کیا پھر کہنے لگے: اے اللہ! یہ شخص اپنے والد سے اور وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نصف شعبان ہو جائے تو روزے نہ رکھو ، علاء نے کہا: اے اللہ! میرے والد نے یہ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے مجھ سے بیان کی ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ثوری، شبل بن علاء، ابو عمیس اور زہیر بن محمد نے علاء سے روایت کیا، نیز ابوداؤد نے کہا: عبدالرحمٰن ( عبدالرحمٰن ابن مہدی ) اس حدیث کو بیان نہیں کرتے تھے، میں نے احمد سے کہا: ایسا کیوں ہے؟ وہ بولے: کیونکہ انہیں یہ معلوم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کو ( روزہ رکھ کر ) رمضان سے ملا دیتے تھے، نیز انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے برخلاف مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میرے نزدیک یہ اس کے خلاف نہیں ہے ۱؎ اسے علاء کے علاوہ کسی اور نے ان کے والد سے روایت نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَدِمَ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الْمَدِينَةَ فَمَالَ إِلَى مَجْلِسِ الْعَلاَءِ فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَأَقَامَهُ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا انْتَصَفَ شَعْبَانُ فَلاَ تَصُومُوا " . فَقَالَ الْعَلاَءُ اللَّهُمَّ إِنَّ أَبِي حَدَّثَنِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَشِبْلُ بْنُ الْعَلاَءِ وَأَبُو عُمَيْسٍ وَزُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعَلاَءِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لاَ يُحَدِّثُ بِهِ قُلْتُ لأَحْمَدَ لِمَ قَالَ لأَنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ وَقَالَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خِلاَفَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَلَيْسَ هَذَا عِنْدِي خِلاَفَهُ وَلَمْ يَجِئْ بِهِ غَيْرُ الْعَلاَءِ عَنْ أَبِيهِ .
#2338
Sahih
Narrated Abdullah ibn Umar: Husayn ibn al-Harith al-Jadli from the tribe of Jadilah Qays said: The governor of Mecca delivered a speech and said: The Messenger of Allah (ﷺ) took a pledge from us that we should perform the rites of hajj after sighting the moon. If we do not sight it and two reliable persons bear witness, we should perform the rites of hajj on the basis of their witness. I then asked al-Husayn ibn al-Harith: Who was the governor of Mecca? He replied: I do not know. He then met me later on and told me: He was al-Harith ibn Hatib, brother of Muhammad ibn Hatib. The governor then said: There is among you a man who is more acquainted with Allah and His Apostle than I. He witnessed this from the Messenger of Allah (ﷺ). He then pointed with his hand to a man. Al-Husayn said: I asked an old man beside me: Who is that man to whom the governor has alluded? He said: "This is Abdullah ibn Umar, and he spoke the truth. He was more acquainted with Allah than he. He (Abdullah ibn Umar) said: For this is what the Messenger of Allah (ﷺ) commanded us (to do)
ابو مالک اشجعی سے روایت ہے کہ ہم سے حسین بن حارث جدلی نے ( جو جدیلہ قیس سے تعلق رکھتے ہیں ) بیان کیا کہ امیر مکہ نے خطبہ دیا پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ عہد لیا کہ ہم چاند دیکھ کر حج ادا کریں، اگر ہم خود نہ دیکھ سکیں اور دو معتبر گواہ اس کی رویت کی گواہی دیں تو ان کی گواہی پر حج ادا کریں، میں نے حسین بن حارث سے پوچھا کہ امیر مکہ کون تھے؟ کہا کہ میں نہیں جانتا، اس کے بعد وہ پھر مجھ سے ملے اور کہنے لگے: وہ محمد بن حاطب کے بھائی حارث بن حاطب تھے پھر امیر نے کہا: تمہارے اندر ایک ایسے شخص موجود ہیں جو مجھ سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول کی باتوں کو جانتے ہیں اور وہ اس حدیث کے گواہ ہیں، اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے ایک شخص کی طرف اشارہ کیا۔ حسین کا بیان ہے کہ میں نے اپنے پاس بیٹھے ایک بزرگ سے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں جن کی طرف امیر نے اشارہ کیا ہے؟ کہنے لگے: یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں اور امیر نے سچ ہی کہا ہے کہ وہ اللہ کو ان سے زیادہ جانتے ہیں، اس پر انہوں نے ( ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ) کہا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا حکم فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَارِثِ الْجَدَلِيُّ، - مِنْ جَدِيلَةِ قَيْسٍ أَنَّ أَمِيرَ مَكَّةَ خَطَبَ ثُمَّ قَالَ عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَنْسُكَ لِلرُّؤْيَةِ فَإِنْ لَمْ نَرَهُ وَشَهِدَ شَاهِدَا عَدْلٍ نَسَكْنَا بِشَهَادَتِهِمَا فَسَأَلْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ الْحَارِثِ مَنْ أَمِيرُ مَكَّةَ قَالَ لاَ أَدْرِي . ثُمَّ لَقِيَنِي بَعْدُ فَقَالَ هُوَ الْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ أَخُو مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ثُمَّ قَالَ الأَمِيرُ إِنَّ فِيكُمْ مَنْ هُوَ أَعْلَمُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ مِنِّي وَشَهِدَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى رَجُلٍ قَالَ الْحُسَيْنُ فَقُلْتُ لِشَيْخٍ إِلَى جَنْبِي مَنْ هَذَا الَّذِي أَوْمَأَ إِلَيْهِ الأَمِيرُ قَالَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ . وَصَدَقَ كَانَ أَعْلَمَ بِاللَّهِ مِنْهُ فَقَالَ بِذَلِكَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#2339
Sahih
Narrated Rib'i b. Hirash:On the authority of a man from the Companions of the Prophet (ﷺ): People differed among themselves on the last day of Ramadan (about the appearance of the moon of Shawwal). Then two bedouins came and witnessed before the Prophet (ﷺ) swearing by Allah that they had sighted moon the previous evening. So the Messenger of Allah (ﷺ) commanded the people to break the fast. The narrator Khalaf has added in his version: "and that they should proceed to the place of prayer (for 'Id)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں رمضان کے آخری دن لوگوں میں ( چاند کی رویت پر ) اختلاف ہو گیا، تو دو اعرابی آئے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اللہ کی قسم کھا کر گواہی دی کہ انہوں نے کل شام میں چاند دیکھا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو افطار کرنے اور عید گاہ چلنے کا حکم دایا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْمُقْرِئُ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ فَقَدِمَ أَعْرَابِيَّانِ فَشَهِدَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِاللَّهِ لأَهَلاَّ الْهِلاَلَ أَمْسِ عَشِيَّةً فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا زَادَ خَلَفٌ فِي حَدِيثِهِ وَأَنْ يَغْدُوا إِلَى مُصَلاَّهُمْ .
#2340
Daif
Narrated Abdullah ibn Abbas: A bedouin came to the Prophet (ﷺ) and said: I have sighted the moon. Al-Hasan added in his version: that is, of Ramadan. He asked: Do you testify that there is no god but Allah? He replied: Yes. He again asked: Do you testify that Muhammad is the Messenger of Allah? He replied: Yes. and he testified that he had sighted the moon. He said: Bilal, announce to the people that they must fast tomorrow
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور اس نے عرض کیا: میں نے چاند دیکھا ہے، ( راوی حسن نے اپنی روایت میں کہا ہے یعنی رمضان کا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعرابی سے پوچھا: کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں؟ اس نے جواب دیا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا اس بات کی بھی گواہی دیتا ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے جواب دیا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَوْرٍ ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، - يَعْنِي الْجُعْفِيَّ - عَنْ زَائِدَةَ، - الْمَعْنَى - عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلاَلَ - قَالَ الْحَسَنُ فِي حَدِيثِهِ يَعْنِي رَمَضَانَ - فَقَالَ " أَتَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " أَتَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " يَا بِلاَلُ أَذِّنْ فِي النَّاسِ فَلْيَصُومُوا غَدًا " .
#2341
Daif
Narrated Ikrimah: Once the people doubted the appearance of the moon of Ramadan, and intended neither to offer the tarawih prayer nor to keep fast. A bedouin came from al-Harrah and testified that he had sighted the moon. He was brought to the Prophet (ﷺ). He asked: Do you testify that there is no god but Allah, and that I am the Messenger of Allah? He said: Yes; and he testified that he had sighted the moon. He commanded Bilal who announced to the people to offer the tarawih prayer and to keep fast
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک بار لوگوں کو رمضان کے چاند ( کی روئیت ) سے متعلق شک ہوا اور انہوں نے یہ ارادہ کر لیا کہ نہ تو تراویح پڑھیں گے اور نہ روزے رکھیں گے، اتنے میں مقام حرہ سے ایک اعرابی آ گیا اور اس نے چاند دیکھنے کی گواہی دی چنانچہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جایا گیا، آپ نے اس سے سوال کیا: کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، اور چاند دیکھنے کی گواہی بھی دی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں منادی کر دیں کہ لوگ تراویح پڑھیں اور روزہ رکھیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ایک جماعت نے سماک سے اور انہوں نے عکرمہ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور سوائے حماد بن سلمہ کے کسی اور نے تراویح پڑھنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّهُمْ شَكُّوا فِي هِلاَلِ رَمَضَانَ مَرَّةً فَأَرَادُوا أَنْ لاَ يَقُومُوا وَلاَ يَصُومُوا فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنَ الْحَرَّةِ فَشَهِدَ أَنَّهُ رَأَى الْهِلاَلَ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَتَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ " . قَالَ نَعَمْ . وَشَهِدَ أَنَّهُ رَأَى الْهِلاَلَ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَنَادَى فِي النَّاسِ أَنْ يَقُومُوا وَأَنْ يَصُومُوا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلاً وَلَمْ يَذْكُرِ الْقِيَامَ أَحَدٌ إِلاَّ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ .
#2342
Sahih
Narrated Abdullah ibn Umar: The people looked for the moon, so I informed the Messenger of Allah (ﷺ) that I had sighted it. He fasted and commanded the people to fast
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی ( لیکن انہیں نظر نہ آیا ) اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ میں نے اسے دیکھا ہے، چنانچہ آپ نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّمَرْقَنْدِيُّ، - وَأَنَا لِحَدِيثِهِ، أَتْقَنُ - قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ تَرَاءَى النَّاسُ الْهِلاَلَ فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي رَأَيْتُهُ فَصَامَهُ وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِيَامِهِ .
#2343
Sahih
Narrated 'Amr b. al-'As:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: The difference between our fasting and that of the people of the Book is eating shortly before dawn
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں سحری کھانے کا فرق ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَىِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ فَصْلَ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ " .
#2344
Sahih
Narrated Al-Irbad ibn Sariyyah: The Messenger of Allah (ﷺ) invited me to a meal shortly before dawn in Ramadan saying: Come to the blessed morning meal
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں سحری کھانے کے لیے بلایا اور یوں کہا: بابرکت «غداء» پر آؤ ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، قَالَ دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى السَّحُورِ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ " هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ " .
#2345
Sahih
Narrated Abu Hurairah:The Prophet (ﷺ) as saying: How good is the believers meal of dates shortly before dawn
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھجور مومن کی کتنی اچھی سحری ہے ۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ أَبُو الْمُطَرِّفِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " نِعْمَ سَحُورُ الْمُؤْمِنِ التَّمْرُ " .
#2346
Sahih
Addressing (the people) Samurah b. Jundub reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:The adhan (call to prayer) of Bilal should not prevent you from taking a meal shortly before dawn, not does the whiteness of horizon (before dawn) in this way (vertically) until it spreads out horizontally
سوادہ قشیری کہتے ہیں کہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں سحری کھانے سے بلال کی اذان ہرگز نہ روکے اور نہ آسمان کے کنارے کی سفیدی ( صبح کاذب ) ہی باز رکھے، جو اس طرح ( لمبائی میں ) ظاہر ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ پھیل جائے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ، يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَمْنَعَنَّ مِنْ سَحُورِكُمْ أَذَانُ بِلاَلٍ وَلاَ بَيَاضُ الأُفُقِ الَّذِي هَكَذَا حَتَّى يَسْتَطِيرَ " .
#2347
Sahih
Narrated 'Abd Allah b. Mas'ud:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: The summons (adhan) of Bilal should not restrain one of you from taking a meal shortly before dawn, for he utters adhan or calls (for prayer) so that the man at prayer may return, and the man asleep may get up. Dawn is not (the whiteness) which indicates thus (in perpendicular) - the narrator Musaddad said: Yahya joined his palms (indicating the spread of whiteness vertically - until it indicates thus - and Yahya spread out two ring-fingers of his (demonstrating the spread of whiteness horizontally)l
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کو بلال کی اذان اس کی سحری سے ہرگز نہ روکے، کیونکہ وہ اذان یا ندا دیتے ہیں تاکہ تم میں قیام کرنے ( تہجد پڑھنے ) والا تہجد پڑھنا بند کر دے، اور سونے والا جاگ جائے، فجر کا وقت اس طرح نہیں ہے ۔ مسدد کہتے ہیں: راوی یحییٰ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں اکٹھی کر کے اور دونوں شہادت کی انگلیاں دراز کر کے اشارے سے سمجھایا یعنی اوپر کو چڑھنے والی روشنی صبح صادق نہیں بلکہ صبح کاذب ہے، یہاں تک اس طرح ہو جائے ( یعنی روشنی لمبائی میں پھیل جائے ) ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ التَّيْمِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَذَانُ بِلاَلٍ مِنْ سَحُورِهِ فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ - أَوْ قَالَ يُنَادِي - لِيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ وَيَنْتَبِهَ نَائِمُكُمْ وَلَيْسَ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا " . قَالَ مُسَدَّدٌ وَجَمَعَ يَحْيَى كَفَّيْهِ حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا وَمَدَّ يَحْيَى بِأُصْبَعَيْهِ السَّبَّابَتَيْنِ .
#2348
Hasan Sahih
Narrated Talq ibn Ali al-Yamami: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Eat and drink; let not the white and ascending light prevent you from (eating and drinking); so eat and drink until the red light spreads horizontally
طلق رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ پیو، اور اوپر کو چڑھنے والی روشنی تمہیں کھانے پینے سے قطعاً نہ روکے اس وقت تک کھاؤ، پیو جب تک کہ سرخی چوڑائی میں نہ پھیل جائے یعنی صبح صادق نہ ہو جائے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُلاَزِمُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلاَ يَهِيدَنَّكُمُ السَّاطِعُ الْمُصْعِدُ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَعْتَرِضَ لَكُمُ الأَحْمَرُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْيَمَامَةِ .
#2349
Sahih
Narrated 'Adi b. Hatim:When the verse "Until the white thread of dawn appear to you distinct from its black thread" was revealed, I took a white rope and a black rope, and placed them beneath my pillow ; and then I looked at them, byt they were not clear to me. So I mentioned it to the Messenger of Allah (ﷺ). He laughed and said: Your pillow is so broad and lengthy ; that is (i.e. means) night and day. The version of the narrator 'Uthman has: That is the blackness of night and whiteness of day
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود» یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے ( سورۃ البقرہ: ۱۸۷ ) نازل ہوئی تو میں نے ایک سفید اور ایک کالی رسی لے کر اپنے تکیے کے نیچے ( صبح صادق جاننے کی غرض سے ) رکھ لی، میں دیکھتا رہا لیکن پتہ نہ چل سکا، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ ہنس پڑے اور کہنے لگے، تمہارا تکیہ تو بڑا لمبا چوڑا ہے، اس سے مراد رات اور دن ہے ۔ عثمان کی روایت میں ہے: اس سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، - الْمَعْنَى - عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ } . قَالَ أَخَذْتُ عِقَالاً أَبْيَضَ وَعِقَالاً أَسْوَدَ فَوَضَعْتُهُمَا تَحْتَ وِسَادَتِي فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَتَبَيَّنْ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَضَحِكَ فَقَالَ " إِنَّ وِسَادَكَ لَعَرِيضٌ طَوِيلٌ إِنَّمَا هُوَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ " . قَالَ عُثْمَانُ " إِنَّمَا هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ " .
#2350
Hasan Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: When any of you hears the summons to prayer while he has a vessel in his hand, he should not lay it down till he fulfils his need
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی جب صبح کی اذان سنے اور ( کھانے پینے کا ) برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اسے اپنی ضرورت پوری کئے بغیر نہ رکھے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمُ النِّدَاءَ وَالإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ فَلاَ يَضَعْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ " .