#2026
Sahih
‘Abd Al Rahman bin Safwan said “I asked ‘Umar bin Al Khattab How did the Apostle of Allaah(ﷺ) do when he entered the Ka’bah? He said “He offered two rak’ahs of prayer.”
عبدالرحمٰن بن صفوان کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ، قَالَ قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ قَالَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ .
#2027
Sahih
‘Abbas said “When the Prophet (ﷺ) came to Makkah he refused to enter the House (the Ka’bah) for there were idols in it. He ordered to take them out and they were taken out. The statues of Abraham and Isma’il were taken out and they had arrows in their hands. Apostle of Allaah(ﷺ) said “May Allaah destroy them! By Allaah, they knew that they never cast lots by arrow. He then entered the House(the Ka’bah) and uttered the takbir (Allaah is most great) in all its sides and corners. He then came out and did not pray
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ آئے تو آپ نے کعبہ میں داخل ہونے سے انکار کیا کیونکہ اس میں بت رکھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ نکال دیئے گئے، اس میں ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کی تصویریں بھی تھیں، وہ اپنے ہاتھوں میں فال نکالنے کے تیر لیے ہوئے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ انہیں ہلاک کرے، اللہ کی قسم انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ان دونوں ( ابراہیم اور اسماعیل ) نے کبھی بھی فال نہیں نکالا ، وہ کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اس کے گوشوں اور کونوں میں تکبیرات بلند کیں، پھر بغیر نماز پڑھے نکل آئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَبَى أَنْ يَدْخُلَ الْبَيْتَ وَفِيهِ الآلِهَةُ فَأَمَرَ بِهَا فَأُخْرِجَتْ قَالَ فَأَخْرَجَ صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَفِي أَيْدِيهِمَا الأَزْلاَمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَاتَلَهُمُ اللَّهُ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمُوا مَا اسْتَقْسَمَا بِهَا قَطُّ " . قَالَ ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِيهِ وَفِي زَوَايَاهُ ثُمَّ خَرَجَ وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ .
#2028
Hasan Sahih
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: I liked to enter the House (the Ka'bah) and pray therein. The Messenger of Allah (ﷺ) caught me by hand and admitted me to al-Hijr. He then said: Pray in al-Hijr when you intend to enter the House (the Ka'bah), for it is a part of the House (the Ka'bah). Your people shortened it when they built the Ka'bah, and they took it out of the House
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری خواہش تھی کہ میں بیت اللہ میں داخل ہو کر اس میں نماز پڑھوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے حطیم میں داخل کر دیا، اور فرمایا: جب تم بیت اللہ میں داخل ہونا چاہو تو حطیم کے اندر نماز پڑھ لیا کرو کیونکہ یہ بھی بیت اللہ ہی کا ایک ٹکڑا ہے، تمہاری قوم کے لوگوں نے جب کعبہ تعمیر کیا تو اسی پر اکتفا کیا تو لوگوں نے اسے بیت اللہ سے خارج ہی کر دیا ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَدْخُلَ الْبَيْتَ فَأُصَلِّيَ فِيهِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِي فَأَدْخَلَنِي فِي الْحِجْرِ فَقَالَ " صَلِّي فِي الْحِجْرِ إِذَا أَرَدْتِ دُخُولَ الْبَيْتِ فَإِنَّمَا هُوَ قِطْعَةٌ مِنَ الْبَيْتِ فَإِنَّ قَوْمَكِ اقْتَصَرُوا حِينَ بَنَوُا الْكَعْبَةَ فَأَخْرَجُوهُ مِنَ الْبَيْتِ " .
#2029
Daif
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Prophet (ﷺ) went out from me, while he was happy, but he returned to me while he was sad. He said: I entered the Ka'bah, I know beforehand about my affair what I have come to know later I would not have entered it. I am afraid I have put my community to hardship
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے نکلے اور آپ خوش تھے پھر میرے پاس آئے اور آپ غمگین تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کعبے کے اندر گیا اگر مجھے وہ بات پہلے معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی ۱؎ تو میں اس میں داخل نہ ہوتا، مجھے اندیشہ ہے کہ میں نے اپنی امت کو زحمت میں ڈال دیا ہے ۲؎ ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا وَهُوَ مَسْرُورٌ ثُمَّ رَجَعَ إِلَىَّ وَهُوَ كَئِيبٌ فَقَالَ " إِنِّي دَخَلْتُ الْكَعْبَةَ وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا دَخَلْتُهَا إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَكُونَ قَدْ شَقَقْتُ عَلَى أُمَّتِي " .
#2030
Sahih
(Al-Aslamiyyah said:I said to Uthman ibn Talhah al-Hajabi): What did the Messenger of Allah (ﷺ) say to you when he called you? He said: (The Prophet said:) I forgot to order you to cover the two horns (of the lamb), for it is not advisable that there should be anything in the House (the Ka'bah) which diverts the attention of the man at prayer. Ibn as-Sarh said: The name of my maternal uncle is Musafi' ibn Shaybah
اسلمیہ کہتی ہیں کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا ۱؎: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو بلایا تو آپ سے کیا کہا؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں یہ بتانا بھول گیا کہ مینڈھے ۲؎ کی دونوں سینگوں کو چھپا دو اس لیے کہ کعبہ میں کوئی چیز ایسی رہنی مناسب نہیں ہے جو نماز پڑھنے والے کو غافل کر دے ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ الْحَجَبِيِّ، حَدَّثَنِي خَالِي، عَنْ أُمِّي، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ الأَسْلَمِيَّةَ، تَقُولُ قُلْتُ لِعُثْمَانَ مَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ دَعَاكَ قَالَ " إِنِّي نَسِيتُ أَنْ آمُرَكَ أَنْ تُخَمِّرَ الْقَرْنَيْنِ فَإِنَّهُ لَيْسَ يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي الْبَيْتِ شَىْءٌ يَشْغَلُ الْمُصَلِّيَ " . قَالَ ابْنُ السَّرْحِ خَالِي مُسَافِعُ بْنُ شَيْبَةَ .
#2031
Sahih
Shaibah bin ‘Uthman said “‘Umar bin Al Khattab was sitting in the place where you are sitting. He said I shall not go out until I distribute the property of The Ka’bah. I said “You will not do it.” He asked “Why?” I said “For the Apostle of Allaah(ﷺ) and Abu Bakr had seen its place and they were more in need of the property than you, but they did not take it out. He (‘Umar) stood up and went out.”
شیبہ بن عثمان کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس جگہ بیٹھے جہاں تم بیٹھے ہو اور کہا: میں باہر نہیں نکلوں گا جب تک کہ کعبہ کا مال ۱؎ ( محتاج مسلمانوں میں ) تقسیم نہ کر دوں، میں نے کہا: آپ ایسا نہیں کر سکتے، فرمایا: کیوں نہیں، میں ضرور کروں گا، میں نے کہا: آپ ایسا نہیں کر سکتے، وہ بولے: کیوں؟ میں نے کہا: اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال کی جگہ دیکھی، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی دیکھ رکھی تھی، اور وہ دونوں اس مال کے آپ سے زیادہ حاجت مند تھے لیکن انہوں نے اسے نہیں نکالا، یہ سن کر عمر کھڑے ہوئے اور باہر نکل آئے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ وَاصِلٍ الأَحْدَبِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ شَيْبَةَ، - يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ - قَالَ قَعَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه - فِي مَقْعَدِكَ الَّذِي أَنْتَ فِيهِ فَقَالَ لاَ أَخْرُجُ حَتَّى أَقْسِمَ مَالَ الْكَعْبَةِ . قَالَ قُلْتُ مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ . قَالَ بَلَى لأَفْعَلَنَّ . قَالَ قُلْتُ مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ . قَالَ لِمَ قُلْتُ لأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ رَأَى مَكَانَهُ وَأَبُو بَكْرٍ - رضى الله عنه - وَهُمَا أَحْوَجُ مِنْكَ إِلَى الْمَالِ فَلَمْ يُخْرِجَاهُ . فَقَامَ فَخَرَجَ .
#2032
Daif
Narrated Az-Zubayr: When we came along with the Messenger of Allah (ﷺ) from Liyyah and we were beside the lote tree, the Messenger of Allah (ﷺ) stopped at the end of al-Qarn al-Aswad opposite to it. He then looked at Nakhb or at its valley. He stopped and all the people stopped. He then said: The game of Wajj and its thorny trees are unlawful made unlawful for Allah. This was before he alighted at at-Ta'if and its fortress for Thaqif
زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیّۃ ۱؎ سے لوٹے اور بیری کے درخت کے پاس پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرن اسود ۲؎ کے دامن میں اس کے بالمقابل کھڑے ہوئے پھر اپنی نگاہ سے نخب ۳؎ کا استقبال کیا ( اور راوی نے کبھی ( «نخبا» کے بجائے «واديه» کا لفظ کہا ) اور ٹھہر گئے تو سارے لوگ ٹھہر گئے تو فرمایا: صیدوج ۴؎ اور اس کے درخت محترم ہیں، اللہ کی طرف سے محترم قرار دیئے گئے ہیں ، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طائف میں اترنے اور ثقیف کا محاصرہ کرنے سے پہلے کی بات ہے۔
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِنْسَانٍ الطَّائِفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ لَمَّا أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ لِيَّةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا عِنْدَ السِّدْرَةِ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي طَرَفِ الْقَرْنِ الأَسْوَدِ حَذْوَهَا فَاسْتَقْبَلَ نَخِبًا بِبَصَرِهِ وَقَالَ مَرَّةً وَادِيَهُ وَوَقَفَ حَتَّى اتَّقَفَ النَّاسُ كُلُّهُمْ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ صَيْدَ وَجٍّ وَعِضَاهَهُ حَرَامٌ مُحَرَّمٌ لِلَّهِ " . وَذَلِكَ قَبْلَ نُزُولِهِ الطَّائِفَ وَحِصَارِهِ لِثَقِيفٍ .
#2033
Sahih
Abu Hurairah reported the Prophet (ﷺ) as saying “Journey should not be made(to visit any masjid) except towards three masjids:The sacred masjid(of Makkah), this masjid of mine and Al Aqsa masjid(in Jerusalem)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کجاوے صرف تین ہی مسجدوں کے لیے کسے جائیں: مسجد الحرام، میری اس مسجد ( یعنی مسجد نبوی ) اور مسجد اقصی کے لیے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلاَّ إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي هَذَا وَالْمَسْجِدِ الأَقْصَى " .
#2034
Sahih
‘Ali said “We wrote down nothing on the authority of the Apostle of Allaah(ﷺ) but the Qur’an and what this document contains.”. He reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “ Madeenah is sacred from A’ir to Thawr so if anyone produces an innovation (in it) or gives protection to an innovator the curse of Allaah, angels and all men will fall upon him and no repentance or ransom will be accepted from him. The protection granted by Muslim is one (even if) the humblest of them grants it. So if anyone breaks a covenant made by a Muslim the curse of Allaah, angels and all men will fall upon him and no repentance or ransom will be accepted from him. If anyone attributes his manumission to people without the permission of his masters the curse of Allaah, angels and all men will fall upon him and no repentance or ransom will be accepted from him
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوائے قرآن کے اور اس کے جو اس صحیفے ۱؎ میں ہے کچھ نہیں لکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ حرام ہے عائر سے ثور تک ( عائر اور ثور دو پہاڑ ہیں ) ، جو شخص مدینہ میں کوئی بدعت ( نئی بات ) نکالے، یا نئی بات نکالنے والے کو پناہ اور ٹھکانا دے تو اس پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہو گا اور نہ کوئی نفل، مسلمانوں کا ذمہ ( عہد ) ایک ہے ( مسلمان سب ایک ہیں اگر کوئی کسی کو امان دیدے تو وہ سب کی طرف سے ہو گی ) اس ( کو نبھانے ) کی ادنی سے ادنی شخص بھی کوشش کرے گا، لہٰذا جو کسی مسلمان کی دی ہوئی امان کو توڑے تو اس پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہو گا اور نہ نفل، اور جو اپنے مولی کی اجازت کے بغیر کسی قوم سے ولاء کرے ۲؎ اس پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہو گا اور نہ نفل ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - قَالَ مَا كَتَبْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ الْقُرْآنَ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ . قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَائِرٍ إِلَى ثَوْرٍ فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلاَ صَرْفٌ وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلاَ صَرْفٌ وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلاَ صَرْفٌ " .
#2035
Sahih
Narrated Ali ibn AbuTalib: The Prophet (ﷺ) said: Its (Medina's) fresh grass is not to be cut, its game is not to be driven away, and things dropped in it are to be picked up by one who publicly announces it, and it is not permissible for any man to carry weapons in it for fighting, and it is not advisable that its trees are cut except what a man cuts for the fodder of his camel
علی رضی اللہ عنہ سے اس قصے میں روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ( یعنی مدینہ ) کی نہ گھاس کاٹی جائے، نہ اس کا شکار بھگایا جائے، اور نہ وہاں کی گری پڑی چیزوں کو اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کی پہچان کرائے، کسی شخص کے لیے درست نہیں کہ وہ وہاں لڑائی کے لیے ہتھیار لے جائے، اور نہ یہ درست ہے کہ وہاں کا کوئی درخت کاٹا جائے سوائے اس کے کہ کوئی آدمی اپنے اونٹ کو چارہ کھلائے ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يُخْتَلَى خَلاَهَا وَلاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلاَ تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلاَّ لِمَنْ أَشَادَ بِهَا وَلاَ يَصْلُحُ لِرَجُلٍ أَنْ يَحْمِلَ فِيهَا السِّلاَحَ لِقِتَالٍ وَلاَ يَصْلُحُ أَنْ يُقْطَعَ مِنْهَا شَجَرَةٌ إِلاَّ أَنْ يَعْلِفَ رَجُلٌ بَعِيرَهُ " .
#2036
Daif
‘Adi bin Zaid said “The Apostle of Allaah(ﷺ) declared Madeenah a protected land a mail-post(three miles) from each side. Its trees are not to be beaten off or to be cut except what is taken from the Camel
عدی بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے ہر جانب ایک ایک برید محفوظ کر دیا ہے ۱؎ نہ وہاں کا درخت کاٹا جائے گا اور نہ پتے توڑے جائیں گے مگر اونٹ کے چارے کے لیے ( بہ قدر ضرورت ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ الْحُبَابِ، حَدَّثَهُمْ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كِنَانَةَ، مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ حَمَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كُلَّ نَاحِيَةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ بَرِيدًا بَرِيدًا لاَ يُخْبَطُ شَجَرُهُ وَلاَ يُعْضَدُ إِلاَّ مَا يُسَاقُ بِهِ الْجَمَلُ .
#2037
Munkar
Narrated Sulayman ibn AbuAbdullah: Sulayman ibn AbuAbdullah said: I saw Sa'd ibn AbuWaqqas seized a man hunting in the sacred territory of Medina which the Messenger of Allah (ﷺ) had declared to be sacred. He took away his clothes from him. His patrons came to him and spoke to him about it, but he replied: The Messenger of Allah (ﷺ) declared this territory to be sacred, saying: If anyone catches someone hunting in it he should take away from him his clothes. So I shall not return to you a provision which the Messenger of Allah (ﷺ) has given me, but if you wish I shall pay you its price
سلیمان بن ابی عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک شخص کو پکڑا جو مدینہ کے حرم میں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم قرار دیا ہے شکار کر رہا تھا، سعد نے اس سے اس کے کپڑے چھین لیے تو اس کے سات ( ۷ ) لوگوں نے آ کر ان سے اس کے بارے میں گفتگو کی، آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرم قرار دیا ہے اور فرمایا ہے: جو کسی کو اس میں شکار کرتے پکڑے تو چاہیئے کہ وہ اس کے کپڑے چھین لے ، لہٰذا میں تمہیں وہ سامان نہیں دوں گا جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دلایا ہے البتہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس کی قیمت دے دوں گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، - يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ - حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ أَخَذَ رَجُلاً يَصِيدُ فِي حَرَمِ الْمَدِينَةِ الَّذِي حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَبَهُ ثِيَابَهُ فَجَاءَ مَوَالِيهِ فَكَلَّمُوهُ فِيهِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَرَّمَ هَذَا الْحَرَمَ وَقَالَ " مَنْ وَجَدَ أَحَدًا يَصِيدُ فِيهِ فَلْيَسْلُبْهُ ثِيَابَهُ " . فَلاَ أَرُدُّ عَلَيْكُمْ طُعْمَةً أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَكِنْ إِنْ شِئْتُمْ دَفَعْتُ إِلَيْكُمْ ثَمَنَهُ .
#2038
Sahih
A client of Sa’ad said “Sa’ad found some slaves from the slaves of Medina cutting the trees of Medina.” So, he took away their property and said to their patrons “I heard the Apostle of Allaah(ﷺ) prohibiting to cut any tree of Medina”. He said “If anyone cuts any one of them, what is taken from him will belong to the one who seizes him.”
سعد رضی اللہ عنہ کے غلام سے روایت ہے کہ سعد نے مدینہ کے غلاموں میں سے کچھ غلاموں کو مدینہ کے درخت کاٹتے پایا تو ان کے اسباب چھین لیے اور ان کے مالکوں سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منع کرتے سنا ہے کہ مدینہ کا کوئی درخت نہ کاٹا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو کوئی اس میں کچھ کاٹے تو جو اسے پکڑے اس کا اسباب چھین لے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ صَالِحٍ، مَوْلَى التَّوْأَمَةِ عَنْ مَوْلًى، لِسَعْدٍ أَنَّ سَعْدًا، وَجَدَ عَبِيدًا مِنْ عَبِيدِ الْمَدِينَةِ يَقْطَعُونَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ فَأَخَذَ مَتَاعَهُمْ وَقَالَ - يَعْنِي لِمَوَالِيهِمْ - سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى أَنْ يُقْطَعَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ شَىْءٌ وَقَالَ " مَنْ قَطَعَ مِنْهُ شَيْئًا فَلِمَنْ أَخَذَهُ سَلَبُهُ " .
#2039
Sahih
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: The leaves should not be beaten off and the trees should not be cut in the protected land of the Messenger of Allah (ﷺ), but the leaves can be beaten off softly
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم سے نہ درخت کاٹے جائیں اور نہ پتے توڑے جائیں البتہ نرمی سے جھاڑ لیے جائیں ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ الْحَارِثِ الْجُهَنِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يُخْبَطُ وَلاَ يُعْضَدُ حِمَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَكِنْ يُهَشُّ هَشًّا رَفِيقًا " .
#2040
Sahih
Ibn ‘Umar said “The Apostle of Allaah(ﷺ) used to visit Quba on foot and riding. Ibn Numair added “and he used to offer two rak’ahs of prayer.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء پیدل اور سوار ( دونوں طرح سے ) آتے تھے ابن نمیر کی روایت میں اور دو رکعت پڑھتے تھے ( کا اضافہ ہے ) ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْتِي قُبَاءً مَاشِيًا وَرَاكِبًا زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ .
#2041
Hasan
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: If any one of you greets me, Allah returns my soul to me and I respond to the greeting
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر جب بھی کوئی سلام بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ میری روح مجھے لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، عَنْ أَبِي صَخْرٍ، حُمَيْدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَىَّ إِلاَّ رَدَّ اللَّهُ عَلَىَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ " .
#2042
Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: Do not make your houses graves, and do not make my grave a place of festivity. But invoke blessings on me, for your blessings reach me wherever you may be
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ۱؎ اور میری قبر کو میلا نہ بناؤ ( کہ سب لوگ وہاں اکٹھا ہوں ) ، اور میرے اوپر درود بھیجا کرو کیونکہ تم جہاں بھی رہو گے تمہارا درود مجھے پہنچایا جائے گا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا وَلاَ تَجْعَلُوا قَبْرِي عِيدًا وَصَلُّوا عَلَىَّ فَإِنَّ صَلاَتَكُمْ تَبْلُغُنِي حَيْثُ كُنْتُمْ " .
#2043
Sahih
Narrated Rabi'ah ibn al-Hudayr: Rabi'ah ibn al-Hudayr said: I did not hear Talhah ibn Ubaydullah narrating any tradition from the Messenger of Allah (ﷺ) except one tradition. I (Rabi'ah ibn AbuAbdurRahman) asked: What is that? He said: We went out along with the Messenger of Allah (ﷺ) who was going to visit the graves of the martyrs. When we ascended Harrah Waqim, and then descended from it, we found there some graves at the turning of the valley. We asked: Messenger of Allah, are these the graves of our brethren? He replied: Graves of our companions. When we came to the graves of martyrs, he said: These are the graves of our brethren
ربیعہ بن ہدیر کہتے ہیں کہ میں نے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو سوائے اس ایک حدیث کے کوئی اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے نہیں سنا، میں نے عرض کیا: وہ کون سی حدیث ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، آپ شہداء کی قبروں کا ارادہ رکھتے تھے جب ہم حرۂ واقم ( ایک ٹیلے کا نام ہے ) پر چڑھے اور اس پر سے اترے تو دیکھا کہ وادی کے موڑ پر کئی قبریں ہیں، ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا ہمارے بھائیوں کی قبریں یہی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے صحابہ کی قبریں ہیں ۱؎ ، جب ہم شہداء کی قبروں کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں ۲؎ ۔
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ الْمَدِينِيُّ، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ رَبِيعَةَ، - يَعْنِي ابْنَ الْهُدَيْرِ - قَالَ مَا سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدِيثًا قَطُّ غَيْرَ حَدِيثٍ وَاحِدٍ . قَالَ قُلْتُ وَمَا هُوَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُرِيدُ قُبُورَ الشُّهَدَاءِ حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى حَرَّةِ وَاقِمٍ فَلَمَّا تَدَلَّيْنَا مِنْهَا وَإِذَا قُبُورٌ بِمَحْنِيَّةٍ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقُبُورُ إِخْوَانِنَا هَذِهِ قَالَ " قُبُورُ أَصْحَابِنَا " . فَلَمَّا جِئْنَا قُبُورَ الشُّهَدَاءِ قَالَ " هَذِهِ قُبُورُ إِخْوَانِنَا " .
#2044
Sahih
Nafi’ reported on the authority of ‘Abd Allah bin ‘Umar “The Apostle of Allaah(ﷺ) made his Camel kneel down at Al Batha which lies in Dhu Al Hulaifa and prayed there. Abd Allah bin ‘Umar too used to do so.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحاء میں جو ذی الحلیفہ میں ہے اونٹ بٹھایا اور وہاں نماز پڑھی، چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَصَلَّى بِهَا فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ .
#2045
Sahih Maqtu
Narrated Malik: One should not exceed al-Mu'arras when one returns to Medina until one prays there as much as one wishes, for I have been informed that the Messenger of Allah (ﷺ) halted there at night. Abu Dawud said: I heard Muhammad b. Ishaq al-Madini say: Al-Mu'arras lies at a distance of six miles from Medina
مالک کہتے ہی جب کوئی مدینہ واپس لوٹے اور معرس پہنچے تو اس کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ آگے بڑھے جب تک کہ نماز نہ پڑھ لے جتنا اس کا جی چاہے اس لیے کہ مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں رات کو قیام کیا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسحاق مدنی کو کہتے سنا: معرس مدینہ سے چھ میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ قَالَ مَالِكٌ لاَ يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يُجَاوِزَ الْمُعَرَّسَ إِذَا قَفَلَ رَاجِعًا إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى يُصَلِّيَ فِيهَا مَا بَدَا لَهُ لأَنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَرَّسَ بِهِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ الْمَدَنِيَّ قَالَ الْمُعَرَّسُ عَلَى سِتَّةِ أَمْيَالٍ مِنَ الْمَدِينَةِ .
#2046
Sahih
‘Alqamah said “I was going with ‘Abd Allaah bin Mas’ud at Mina where ‘Uthman met him and desired to have a talk with him in privacy”. When ‘Abd Allaah (bin Mas’ud) thought there was no need of privacy, he said to me “Come, ‘Alqamah So I came (to him)”. Then ‘Uthman said to him “Should we not marry you, Abu ‘Abd Al Rahman to a virgin girl, so that the power you have lost may return to you?” ‘Abd Allaah (bin Mas’ud) said “If you say that , I heard the Apostle of Allaah(ﷺ) say “ Those of you who can support a wife, should marry, for it keeps you from looking at strange women and preserve from unlawful intercourse, but those who cannot should devote themselves to fasting, for it is a means of suppressing sexual desire
علقمہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ میں چل رہا تھا کہ اچانک ان کی ملاقات عثمان رضی اللہ عنہ سے ہو گئی تو وہ ان کو لے کر خلوت میں گئے، جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے محسوس کیا کہ انہیں ( شادی کی ) ضرورت نہیں ہے تو مجھ سے کہا: علقمہ! آ جاؤ ۱؎ تو میں گیا تو عثمان رضی اللہ عنہ ۲؎ نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا ہم آپ کی شادی ایک کنواری لڑکی سے نہ کرا دیں، شاید آپ کی دیرینہ طاقت و نشاط واپس آ جائے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ ایسی بات کہہ رہے ہیں تو میں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سن چکا ہوں کہ تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھتا ہو اسے نکاح کر لینا چاہیئے کیونکہ یہ نگاہ کو خوب پست رکھنے والی اور شرمگاہ کی خوب حفاظت کرنے والی چیز ہے اور جو تم میں سے اس کے اخراجات کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس پر روزہ ہے، یہ اس کی شہوت کے لیے توڑ ہو گا ۳؎ ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ إِنِّي لأَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِمِنًى إِذْ لَقِيَهُ عُثْمَانُ فَاسْتَخْلاَهُ فَلَمَّا رَأَى عَبْدُ اللَّهِ أَنْ لَيْسَتْ لَهُ حَاجَةٌ قَالَ لِي تَعَالَ يَا عَلْقَمَةُ فَجِئْتُ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ أَلاَ نُزَوِّجُكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِجَارِيَةٍ بِكْرٍ لَعَلَّهُ يَرْجِعُ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ مَا كُنْتَ تَعْهَدُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ " .
#2047
Sahih
Abu Hurairah reported the Prophet (ﷺ) as saying “Women may be married for four reasons:for her property, her ranks, her beauty and her religiosity. So get the one who is religious and prosper (lit. may your hands cleave to the dust).”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورتوں سے نکاح چار چیزوں کی بنا پر کیا جاتا ہے: ان کے مال کی وجہ سے، ان کے حسب و نسب کی وجہ سے، ان کی خوبصورتی کی بنا پر، اور ان کی دین داری کے سبب، تم دیندار عورت سے نکاح کر کے کامیاب بن جاؤ، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تُنْكَحُ النِّسَاءُ لأَرْبَعٍ لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ " .
#2048
Sahih
Jabir bin ‘Abd Allah said “The Apostle of Allaah(ﷺ) said to me “Did you marry?” I said “Yes”. He again said “Virgin or Non Virgin (woman previously married)?” I said “Non Virgin”. He said “Why (did you) not (marry) a virgin with whom you could sport and she could sport with you
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم نے شادی کر لی؟ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنواری سے یا غیر کنواری سے؟ میں نے کہا غیر کنواری سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنواری سے کیوں نہیں کی تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتَزَوَّجْتَ " . قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ " بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا " . فَقُلْتُ ثَيِّبًا . قَالَ " أَفَلاَ بِكْرٌ تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ " .
#2049
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: A man came to the Prophet (ﷺ), and said: My wife does not prevent the hand of a man who touches her. He said: Divorce her. He then said: I am afraid my inner self may covet her. He said: Then enjoy her
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا کہ میری عورت کسی ہاتھ لگانے والے کو نہیں روکتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے سے جدا کر دو ، اس شخص نے کہا: مجھے ڈر ہے میرا دل اس میں لگا رہے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تم اس سے فائدہ اٹھاؤ ۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَتَبَ إِلَىَّ حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي لاَ تَمْنَعُ يَدَ لاَمِسٍ . قَالَ " غَرِّبْهَا " . قَالَ أَخَافُ أَنْ تَتْبَعَهَا نَفْسِي . قَالَ " فَاسْتَمْتِعْ بِهَا " .
#2050
Hasan Sahih
Narrated Ma'qil ibn Yasar: A man came to the Prophet (ﷺ) and said: I have found a woman of rank and beauty, but she does not give birth to children. Should I marry her? He said: No. He came again to him, but he prohibited him. He came to him third time, and he (the Prophet) said: Marry women who are loving and very prolific, for I shall outnumber the peoples by you
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: مجھے ایک عورت ملی ہے جو اچھے خاندان والی ہے، خوبصورت ہے لیکن اس سے اولاد نہیں ہوتی تو کیا میں اس سے شادی کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، پھر وہ آپ کے پاس دوسری بار آیا تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منع فرمایا، پھر تیسری بار آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خوب محبت کرنے والی اور خوب جننے والی عورت سے شادی کرو، کیونکہ ( بروز قیامت ) میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدِ ابْنُ أُخْتِ، مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ عَنْ مَنْصُورٍ، - يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ - عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ وَجَمَالٍ وَإِنَّهَا لاَ تَلِدُ أَفَأَتَزَوَّجُهَا قَالَ " لاَ " . ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَنَهَاهُ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ " تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الأُمَمَ " .