#1826
Sahih
Ibn ‘Umar reported that the Prophet(ﷺ) as saying A woman in the sacred state (wearing ihram) must not be veiled or wear gloves
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: محرم عورت نہ تو منہ پر نقاب ڈالے اور نہ دستانے پہنے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَدِينِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمُحْرِمَةُ لاَ تَنْتَقِبُ وَلاَ تَلْبَسُ الْقُفَّازَيْنِ " .
#1827
Hasan Sahih
‘Abd Allaah bin Umar said that he heard the Apostle of Allaah(ﷺ) prohibiting women in the sacred state (wearing ihram) to wear gloves, veil(their faces) and to wear clothes with dye of waras or saffron on them. But afterwards they can wear any kind of clothing they like dyed yellow or silk or jewelry or trousers or shirts or shoes. Abu Dawud said ‘Abdah and Muhammad bin Ishaq narrated this tradition from Muhammad bin Ishaq up to the words “And to wear clothes with dye of waras or saffron on them”. They did not mention the words after them
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے عورتوں کو حالت احرام میں دستانے پہننے، نقاب اوڑھنے، اور ایسے کپڑے پہننے سے جن میں ورس یا زعفران لگا ہو منع فرمایا، البتہ ان کے علاوہ جو رنگین کپڑے چاہے پہنے جیسے زرد رنگ والے کپڑے، یا ریشمی کپڑے، یا زیور، یا پائجامہ، یا قمیص، یا کرتا، یا موزہ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو عبدہ بن سلیمان اور محمد بن سلمہ نے ابن اسحاق سے ابن اسحاق نے نافع سے حدیث «وما مس الورس والزعفران من الثياب» تک روایت کیا ہے اور اس کے بعد کا ذکر ان دونوں نے نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ فَإِنَّ نَافِعًا مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَنِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى النِّسَاءَ فِي إِحْرَامِهِنَّ عَنِ الْقُفَّازَيْنِ وَالنِّقَابِ وَمَا مَسَّ الْوَرْسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثِّيَابِ وَلْتَلْبَسْ بَعْدَ ذَلِكَ مَا أَحَبَّتْ مِنْ أَلْوَانِ الثِّيَابِ مُعَصْفَرًا أَوْ خَزًّا أَوْ حُلِيًّا أَوْ سَرَاوِيلَ أَوْ قَمِيصًا أَوْ خُفًّا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ نَافِعٍ عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ إِلَى قَوْلِهِ وَمَا مَسَّ الْوَرْسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثِّيَابِ . وَلَمْ يَذْكُرَا مَا بَعْدَهُ .
#1828
Sahih
Nafi' said Ibn ‘Umar felt cold and said Throw a garment over me, ‘Nafi. I threw a hooded cloak over him. Thereupon he said Are you throwing this over me when the Apostle of Allaah(ﷺ) has forbidden those who are in sacred state to wear it?
نافع کہتے ہیں کہ کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سردی محسوس کی تو انہوں نے کہا: نافع! میرے اوپر کپڑا ڈال دو، میں نے ان پر برنس ڈال دی، تو انہوں نے کہا: تم میرے اوپر یہ ڈال رہے ہو حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو اس کے پہننے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ وَجَدَ الْقُرَّ فَقَالَ أَلْقِ عَلَىَّ ثَوْبًا يَا نَافِعُ . فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ بُرْنُسًا فَقَالَ تُلْقِي عَلَىَّ هَذَا وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَلْبَسَهُ الْمُحْرِمُ
#1829
Sahih
Ibn ‘Abbas said I heard the Apostle of Allaah(ﷺ) say When one who is wearing ihram cannot get a lower garment(loin cloth) he may ear trousers and when he cannot get sandals he may wear shoes. Abu Dawud said This is the tradition narrated by the narrators of Makkah. Its narrator from Basrah is Jabir bin Zaid. He mentioned only trousers and omitted the mention of cutting of the shoes
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: پاجامہ وہ پہنے جسے ازار نہ ملے اور موزے وہ پہنے جسے جوتے نہ مل سکیں ۔ ( ابوداؤد کہتے ہیں یہ اہل مکہ کی حدیث ہے ۱؎ اس کا مرجع بصرہ میں جابر بن زید ہیں ۲؎ اور جس چیز کے ساتھ وہ منفرد ہیں وہ سراویل کا ذکر ہے اور اس میں موزے کے سلسلہ میں کاٹنے کا ذکر نہیں ) ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لاَ يَجِدُ الإِزَارَ وَالْخُفُّ لِمَنْ لاَ يَجِدُ النَّعْلَيْنِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا حَدِيثُ أَهْلِ مَكَّةَ وَمَرْجِعُهُ إِلَى الْبَصْرَةِ إِلَى جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ وَالَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ مِنْهُ ذِكْرُ السَّرَاوِيلِ وَلَمْ يَذْكُرِ الْقَطْعَ فِي الْخُفِّ .
#1830
Sahih
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:We were proceeding to Mecca along with the Prophet (ﷺ). We pasted on our foreheads the perfume known as sukk at the time of wearing ihram. When one of us perspired, it (the perfume) came down on her face. The Prophet (ﷺ) saw it but did not forbid it
عائشہ بنت طلحہ کا بیان ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا ہے کہ وہ کہتی ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نکلتے تو ہم اپنی پیشانی پر خوشبو کا لیپ لگاتے تھے جب پسینہ آتا تو وہ خوشبو ہم میں سے کسی کے منہ پر بہہ کر آ جاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دیکھتے لیکن منع نہ کرتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْجُنَيْدِ الدَّامَغَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، - رضى الله عنها - حَدَّثَتْهَا قَالَتْ كُنَّا نَخْرُجُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى مَكَّةَ فَنُضَمِّدُ جِبَاهَنَا بِالسُّكِّ الْمُطَيَّبِ عِنْدَ الإِحْرَامِ فَإِذَا عَرِقَتْ إِحْدَانَا سَالَ عَلَى وَجْهِهَا فَيَرَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلاَ يَنْهَاهَا .
#1831
Hasan
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Salim ibn Abdullah said: Abdullah ibn Umar used to do so, that is to say, he would cut the shoes of a woman who put on ihram; then Safiyyah, daughter of AbuUbayd, reported to him that Aisha (may Allah be pleased with her) narrated to her that the Messenger of Allah (ﷺ) gave licence to women in respect of the shoes (i.e. women are not required to cut the shoes). He, therefore, abandoned it
میں نے ابن شہاب سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایسا ہی کرتے تھے یعنی محرم عورت کے موزوں کو کاٹ دیتے ۱؎، پھر ان سے صفیہ بنت ابی عبید نے بیان کیا کہ ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ن تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ۱۷۸۶۷ ) ، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ۲/۲۹، ۳۵، ۶/۳۵ ) ( حسن ) ( محمد بن اسحاق کی یہ روایت معنعن نہیں ہے بلکہ اسے انہوں نے زہری سے بالمشافہہ اخذ کیا ہے، اس لئے حسن ہے)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ ذَكَرْتُ لاِبْنِ شِهَابٍ فَقَالَ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ - كَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ - يَعْنِي يَقْطَعُ الْخُفَّيْنِ لِلْمَرْأَةِ الْمُحْرِمَةِ - ثُمَّ حَدَّثَتْهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ كَانَ رَخَّصَ لِلنِّسَاءِ فِي الْخُفَّيْنِ فَتَرَكَ ذَلِكَ .
#1832
Sahih
Al Bara’ (bin Azib) said When the Apostle of Allaah(ﷺ) concluded the treaty with the people of Al Hudaibiyyah, they stipulated that they (the Muslims) would not enter (Makkah) except with the bag of armament (julban al-silah). I asked what is julban al-silah? He replied:The bag with its contents
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ والوں سے صلح کی تو آپ نے ان سے اس شرط پر مصالحت کی کہ مسلمان مکہ میں جلبان السلاح کے ساتھ ہی داخل ہوں گے ۱؎ تو میں نے ان سے پوچھا: «جلبان السلاح» کیا ہے؟ انہوں نے کہا: «جلبان السلاح» میان کا نام ہے اس چیز سمیت جو اس میں ہو۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ لَمَّا صَالَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ صَالَحَهُمْ عَلَى أَنْ لاَ يَدْخُلُوهَا إِلاَّ بِجُلْبَانِ السِّلاَحِ فَسَأَلْتُهُ مَا جُلْبَانُ السِّلاَحِ قَالَ الْقِرَابُ بِمَا فِيهِ .
#1833
Daif
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Riders would pass us when we accompanied the Messenger of Allah (ﷺ) while we were in the sacred state (wearing ihram). When they came by us, one of us would let down her outer garment from her head over her face, and when they had passed on, we would uncover our faces
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سوار ہمارے سامنے سے گزرتے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھے ہوتے، جب سوار ہمارے سامنے آ جاتے تو ہم اپنے نقاب اپنے سر سے چہرے پر ڈال لیتے اور جب وہ گزر جاتے تو ہم اسے کھول لیتے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ الرُّكْبَانُ يَمُرُّونَ بِنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُحْرِمَاتٌ فَإِذَا حَاذَوْا بِنَا سَدَلَتْ إِحْدَانَا جِلْبَابَهَا مِنْ رَأْسِهَا إِلَى وَجْهِهَا فَإِذَا جَاوَزُونَا كَشَفْنَاهُ .
#1834
Sahih
Umm al Hussain said We performed the Farewell Pilgrimage along with the Prophet(ﷺ) . I saw Usamah and Bilal one of them holding the halter of the she-Camel of the Prophet(ﷺ), while the other raising his garment and sheltering from the heat till he had thrown pebbles at the jamrah of the ‘Aqabah
ام حصین رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کیا تو میں نے اسامہ اور بلال رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ ان میں سے ایک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار پکڑے ہوئے تھے، اور دوسرے اپنا کپڑا اٹھائے تھے تاکہ وہ آپ پر دھوپ سے سایہ کر سکیں ۱؎ یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ، حَدَّثَتْهُ قَالَتْ، حَجَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَجَّةَ الْوَدَاعِ فَرَأَيْتُ أُسَامَةَ وَبِلاَلاً وَأَحَدُهُمَا آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ لِيَسْتُرَهُ مِنَ الْحَرِّ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ .
#1835
Sahih
Ibn ‘Abbas said The Prophet(ﷺ) had himself cupped when he was in the sacred state(wearing ihram)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور آپ حالت احرام میں تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ .
#1836
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) had himself cupped in his head when he was in the sacred state (wearing ihram due to a disease from which he was suffering)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیماری کی وجہ سے جو آپ کو تھی اپنے سر میں پچھنا لگوایا اور آپ احرام باندھے ہوئے تھے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فِي رَأْسِهِ مِنْ دَاءٍ كَانَ بِهِ .
#1837
Sahih
Narrated Anas ibn Malik: The Messenger of Allah (ﷺ) had himself cupped on the surface of his foot because of a pain in it while he was in the sacred state (wearing ihram). Abu Dawud said: I heard Ahmad say: "Ibn Abi 'Arubah narrated it in Mursal form". Meaning from Qatadah
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درد کی وجہ سے جو آپ کو تھا اپنے قدم کی پشت پر پچھنا لگوایا، آپ احرام باندھے ہوئے تھے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد کو کہتے سنا کہ ابن ابی عروبہ نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے یعنی قتادہ سے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمِ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِهِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ قَالَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ أَرْسَلَهُ يَعْنِي عَنْ قَتَادَةَ .
#1838
Sahih
Nubaih bin Wahb said ‘Umar bin ‘Ubaid Allah bin Ma’mar had a complaint in his eyes. He sent (someone) to Aban bin ‘Uthman - the narrator Sufyan said that he was the chief of pilgrims during the season of Hajj – asking him what he should do with them. He said Apply aloes to them, for I heard ‘Uthaman narrating this on the authority of the Apostle of Allaah(ﷺ)
نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ مر بن عبیداللہ بن معمر کی دونوں آنکھیں دکھنے لگیں تو انہوں نے ابان بن عثمان کے پاس ( پوچھنے کے لیے اپنا آدمی ) بھیجا کہ وہ اپنی آنکھوں کا کیا علاج کریں؟ ( سفیان کہتے ہیں: ابان ان دونوں حج کے امیر تھے ) تو انہوں نے کہا: ان دونوں پر ایلوا کا لیپ لگا لو، کیونکہ میں نے عثمان سے سنا ہے وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کر رہے تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ اشْتَكَى عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ عَيْنَيْهِ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ - قَالَ سُفْيَانُ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَوْسِمِ - مَا يَصْنَعُ بِهِمَا قَالَ اضْمِدْهُمَا بِالصَّبِرِ فَإِنِّي سَمِعْتُ عُثْمَانَ - رضى الله عنه - يُحَدِّثُ ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#1839
Daif
The aforesaid tradition has also been transmitted by Nubaih bin Wahb through a different chain of narrators
اس سند سے بھی نبیہ بن وہب سے یہی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ .
#1840
Sahih
‘Abd Allah bin Hunain said ‘Abd Allah bin Abbas and Miswar bin Makhramah differed amongst themselves (on the question of washing the head in the sacred state) at al Abwa. ‘Ibn Abbas said A pilgrim in the sacred state (while wearing ihram) can wash his head. Al Miswar said A pilgrim in the sacred state(wearing ihram) cannot wash his head. ‘Abd Allah bin Abbas then sent him (‘Abd Allah bin Hunain) to Abu Ayyub Al Ansari. He found him taking a bath between two woods erected at the edge of the well and he was hiding himself with a cloth (curtain). He (the narrator) said I saluted him. He asked Who is this? I said I am ‘Abd Allah bin Hunain. ‘Abd Allah bin Abbas has sent me to you asking you how the Apostle of Allaah(ﷺ) used to wash his head while he was wearing ihram. Abu Ayyub then put his hand on the cloth and removed it till his head appeared to me. He then said to a person who was pouring water on him:Pour water. He poured water on his head and Abu Ayyub moved his head with his hands. He carried his hands forward and backward. He then said I saw him doing similarly
عبداللہ بن حنین سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کے مابین مقام ابواء میں اختلاف ہو گیا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: محرم سر دھو سکتا ہے، مسور نے کہا: محرم سر نہیں دھو سکتا، تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں ( ابن حنین کو ) ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تو آپ نے انہیں دو لکڑیوں کے درمیان کپڑے کی آڑ لیے ہوئے نہاتے پایا، ابن حنین کہتے ہیں: میں نے سلام کیا تو انہوں نے پوچھا: کون؟ میں نے کہا: میں عبداللہ بن حنین ہوں، مجھے آپ کے پاس عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھیجا ہے کہ میں آپ سے معلوم کروں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں اپنے سر کو کیسے دھوتے تھے؟ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا اور اسے اس قدر جھکایا کہ مجھے ان کا سر نظر آنے لگا، پھر ایک آدمی سے جو ان پر پانی ڈال رہا تھا، کہا: پانی ڈالو تو اس نے ان کے سر پر پانی ڈالا، پھر ایوب نے اپنے ہاتھوں سے سر کو ملا، اور دونوں ہاتھوں کو آگے لائے اور پیچھے لے گئے اور بولے ایسا ہی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، اخْتَلَفَا بِالأَبْوَاءِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ وَقَالَ الْمِسْوَرُ لاَ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ فَأَرْسَلَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ فَوَجَدَهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ وَهُوَ يُسْتَرُ بِثَوْبٍ قَالَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ��َقَالَ مَنْ هَذَا قُلْتُ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُنَيْنٍ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ قَالَ فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ حَتَّى بَدَا لِي رَأْسُهُ ثُمَّ قَالَ لإِنْسَانٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ اصْبُبْ . قَالَ فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ حَرَّكَ أَبُو أَيُّوبَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ صلى الله عليه وسلم .
#1841
Sahih
Nubaih bin Wahb brother of Banu Abd Al Dar said ‘Umar bin Ubaid Allah sent someone to Aban bin Uthman bin Affan asking him (to participate in the marriage ceremony). Aban in those days was the chief of the pilgrims and both were in the sacred state (wearing ihram). I want to give the daughter of Shaibah bin Jubair to Talhah bin Umar in marriage. I wish that you may attend it. Aban refused and said I heard my father ‘Uthman bin Affan narrating a tradition from the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying A pilgrim may not marry and give someone in marriage in the sacred state(while wearing ihram)
نبیہ بن وہب جو بنی عبدالدار کے فرد ہیں سے روایت ہے کہ عمر بن عبیداللہ نے انہیں ابان بن عثمان بن عفان کے پاس بھیجا، ابان اس وقت امیر الحج تھے، وہ دونوں محرم تھے، وہ ان سے پوچھ رہے تھے کہ میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں طلحہ بن عمر کا شیبہ بن جبیر کی بیٹی سے نکاح کر دوں، میں چاہتا ہوں کہ تم بھی اس میں شریک رہو، ابان نے اس پر انکار کیا اور کہا کہ میں نے اپنے والد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: محرم نہ خود نکاح کرے اور نہ کسی دوسرے کا نکاح کرائے ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، أَخِي بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ يَسْأَلُهُ وَأَبَانُ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْحَاجِّ وَهُمَا مُحْرِمَانِ إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أُنْكِحَ طَلْحَةَ بْنَ عُمَرَ ابْنَةَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ فَأَرَدْتُ أَنْ تَحْضُرَ ذَلِكَ . فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَبَانُ وَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ أَبِي عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلاَ يُنْكَحُ " .
#1842
Sahih
The aforesaid tradition has also been transmitted by Aban bin ‘Uthman on the authority of ‘Uthman from the Apostle of Allaah(ﷺ) in a similar manner. This version adds “And he should not make a betrothal”
اس سند سے بھی عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا پھر راوی نے اسی کے مثل ذکر کیا البتہ اس میں انہوں نے «ولا يخطب» ( نہ شادی کا پیغام دے ) کے لفظ کا اضافہ کیا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ، حَدَّثَهُمْ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ مَطَرٍ، وَيَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ مِثْلَهُ زَادَ " وَلاَ يَخْطُبُ " .
#1843
Sahih
Yazid bin Al Asamm, Maimunah’s nephew said on Maimunah’s authority The Apostle of Allaah(ﷺ) married me when we were not in the sacred state at Sarif
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا، اور ہم اس وقت مقام سرف میں حلال تھے ( یعنی احرام نہیں باندھے تھے)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ابْنِ أَخِي، مَيْمُونَةَ عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ حَلاَلاَنِ بِسَرِفَ .
#1844
Sahih
Ibn ‘Abbas said The Prophet(ﷺ) married Maimunah while he was in the sacred state(wearing ihram)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے حالت احرام میں نکاح کیا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ .
#1845
Sahih Maqtu
Sa’id bin Al Musayyib said There is a misunderstanding on the part of Ibn ‘Abbas about the marriage (of the Prophet) with Maimunah while he was in the sacred state
سعید بن مسیب کہتے ہیں ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ) حالت احرام میں نکاح کے سلسلے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کو وہم ہوا ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ وَهِمَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي تَزْوِيجِ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ .
#1846
Sahih
Ibn ‘Umar said The Prophet (ﷺ) was asked as to which of the creatures could be killed by a pilgrim in the sacred state. He said there are five creatures which it is not a sin for anyone to kill, outside or inside the sacred area. The Scorpion, the Crow, the Rat, the Kite and the biting Dog
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ محرم کون کون سا جانور قتل کر سکتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ جانور ہیں جنہیں حل اور حرم دونوں جگہوں میں مارنے میں کوئی حرج نہیں: بچھو، چوہیا، چیل، کوا اور کاٹ کھانے والا کتا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَمَّا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوَابِّ فَقَالَ " خَمْسٌ لاَ جُنَاحَ فِي قَتْلِهِنَّ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ الْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْحِدَأَةُ وَالْغُرَابُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " .
#1847
Hasan Sahih
Abu Hurairah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying There are five(creatures) the killing of which is lawful in the sacred territory. The Snake, the Scorpion, the Kite, the Rat and the biting Dog
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں حرم میں بھی مارنا حلال ہے: سانپ، بچھو، کوا، چیل، چوہیا، اور کاٹ کھانے والا کتا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَمْسٌ قَتْلُهُنَّ حَلاَلٌ فِي الْحَرَمِ الْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْحِدَأَةُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " .
#1848
Daif
Narrated AbuSa'id al-Khudri: The Prophet (ﷺ) was asked which of the creatures a pilgrim in sacred state could kill. He replied: The snake, the scorpion, the rat; he should drive away the pied crow, but should not kill it; the biting dog, the kite, and any wild animal which attacks (man)
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: محرم کون کون سا جانور مار سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: سانپ، بچھو، چوہیا کو ( مار سکتا ہے ) اور کوے کو بھگا دے، اسے مارے نہیں، اور کاٹ کھانے والے کتے، چیل اور حملہ کرنے والے درندے کو ( مار سکتا ہے ) ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ الْبَجَلِيُّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَمَّا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ قَالَ " الْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفُوَيْسِقَةُ وَيَرْمِي الْغُرَابَ وَلاَ يَقْتُلُهُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْحِدَأَةُ وَالسَّبُعُ الْعَادِي " .
#1849
Sahih
Abdullah ibn al-Harith reported on the authority of his father al-Harith:(My father) al-Harith was the governor of at-Ta'if under the caliph Uthman. He prepared food for Uthman which contained birds and the flesh of wild ass. He sent it to Ali (may Allah be pleased with him). When the Messenger came to him he was beating leaves for camels and shaking them off with his hand. He said to him: Eat it. He replied: Give it to the people who are not in sacred state; we are wearing ihram. I adjure the people of Ashja' who are present here. Do you know that a man presented a wild ass to the Messenger of Allah (ﷺ) while he was in ihram? But he refused to eat from it. They said: Yes
عبداللہ بن حارث سے روایت ہے (حارث طائف میں عثمان رضی اللہ عنہ کے خلیفہ تھے) وہ کہتے ہیں حارث نے عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے کھانا تیار کیا، اس میں چکور ۱؎، نر چکور اور نیل گائے کا گوشت تھا، وہ کہتے ہیں: انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا چنانچہ قاصد ان کے پاس آیا تو دیکھا کہ وہ اپنے اونٹوں کے لیے چارہ تیار کر رہے ہیں، اور اپنے ہاتھ سے چارا جھاڑ رہے تھے جب وہ آئے تو لوگوں نے ان سے کہا: کھاؤ، تو وہ کہنے لگے: لوگوں کو کھلاؤ جو حلال ہوں ( احرام نہ باندھے ہوں ) میں تو محرم ہوں تو انہوں نے کہا: میں قبیلہ اشجع کے ان لوگوں سے جو اس وقت یہاں موجود ہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے نیل گائے کا پاؤں ہدیہ بھیجا تو آپ نے کھانے سے انکار کیا کیونکہ آپ حالت احرام میں تھے؟ لوگوں نے کہا: ہاں۲؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ الْحَارِثُ، خَلِيفَةَ عُثْمَانَ عَلَى الطَّائِفِ فَصَنَعَ لِعُثْمَانَ طَعَامًا فِيهِ مِنَ الْحَجَلِ وَالْبَعَاقِيبِ وَلَحْمِ الْوَحْشِ قَالَ فَبَعَثَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَجَاءَهُ الرَّسُولُ وَهُوَ يَخْبِطُ لأَبَاعِرَ لَهُ فَجَاءَهُ وَهُوَ يَنْفُضُ الْخَبَطَ عَنْ يَدِهِ فَقَالُوا لَهُ كُلْ . فَقَالَ أَطْعِمُوهُ قَوْمًا حَلاَلاً فَإِنَّا حُرُمٌ . فَقَالَ عَلِيٌّ رضى الله عنه أَنْشُدُ اللَّهَ مَنْ كَانَ هَا هُنَا مِنْ أَشْجَعَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَهْدَى إِلَيْهِ رَجُلٌ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ قَالُوا نَعَمْ .
#1850
Sahih
Ibn ‘Abbas said Zaid bin ‘Arqam do you know that the limb of a game was presented to the Apostle of Allaah(ﷺ) but he did not accept it. He said “We are wearing ihram”. He replied, Yes
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا: زید بن ارقم! کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکار کا دست ہدیہ دیا گیا تو آپ نے اسے قبول نہیں کیا، اور فرمایا: ہم احرام باندھے ہوئے ہیں؟ ، انہوں نے جواب دیا: ہاں ( معلوم ہے ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ يَا زَيْدُ بْنَ أَرْقَمَ هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُهْدِيَ إِلَيْهِ عُضْوُ صَيْدٍ فَلَمْ يَقْبَلْهُ وَقَالَ " إِنَّا حُرُمٌ " . قَالَ نَعَمْ .