#1626
Sahih
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: The Prophet (ﷺ) said: He who begs (from people) when he is affluent will come on the Day of Resurrection with scrapes, scratchings, or lacerations on his face. He was asked: What constitutes affluence, Messenger of Allah? He replied:It is fifty dirhams or its value in gold. The narrator Yahya said: Abdullah ibn Sufyan said to Sufyan: I remember that Shu'bah does not narrate from Hakim ibn Jubayr. Sufyan said: Zubayr transmitted to us this tradition from Muhammad ibn AbdurRahman ibn Yazid
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو سوال کرے اور اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے اس سوال سے مستغنی اور بے نیاز کرتی ہو تو قیامت کے روز اس کے چہرے پر خموش یا خدوش یا کدوح یعنی زخم ہوں گے ، لوگوں نے سوال کیا: اللہ کے رسول! کتنے مال سے آدمی غنی ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچاس درہم یا اس کی قیمت کے بقدر سونے ہوں ۔ یحییٰ کہتے ہیں: عبداللہ بن عثمان نے سفیان سے کہا: مجھے یاد ہے کہ شعبہ حکیم بن جبیر سے روایت نہیں کرتے ۱؎ تو سفیان نے کہا: ہم سے اسے زبید نے محمد بن عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ سَأَلَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُمُوشٌ - أَوْ خُدُوشٌ - أَوْ كُدُوحٌ - فِي وَجْهِهِ " . فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْغِنَى قَالَ " خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ " . قَالَ يَحْيَى فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ لِسُفْيَانَ حِفْظِي أَنَّ شُعْبَةَ لاَ يَرْوِي عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ سُفْيَانُ فَقَدْ حَدَّثَنَاهُ زُبَيْدٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ .
#1627
Sahih
‘Ata’ b. Yasar said :A man from Banu Asad said : I and my family alighted at Baqi al-Gharqad. My wife said to me : Go the Messenger of Allah(ﷺ) and beg something from him for our eating, and made a mention of there need. So I went to the Messenger of Allah(May peace be upon him). I found with a man who was begging from him and he was saying to him: I have nothing to give you. The man turned away from him in anger while he was saying: By my life, you give anyone you wish. The Messenger of Allah(May peace be upon him) said : He’s anger with me, for I have nothing to give him. If any of you begs when he has an Uqiyah or its equivalent, he has begged immoderately. The man of Banu Asad said : So I said : The she camel of ours is better than an uqiyah, while an uqiyah is equivalent to 40 Dirhams. I therefore returned and did not beg from him. Afterwards some barley and raisins where brought to the Messenger of Allah (May peace be upon him). He gave us a share from them (or as he reported)till Allah, the Exalted, made us self-sufficient(i.e well off). Abu Dawud said: Al-Thawri narrated it as Malik narrated
بنی اسد کے ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں اور میری بیوی بقیع غرقد میں جا کر اترے، میری بیوی نے مجھ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور ہمارے لیے کچھ مانگ کر لاؤ جو ہم کھائیں، پھر وہ لوگ اپنی محتاجی کا ذکر کرنے لگے، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو مجھے آپ کے پاس ایک شخص ملا، وہ آپ سے مانگ رہا تھا اور آپ اس سے کہہ رہے تھے: میرے پاس کچھ نہیں ہے جو میں تجھے دوں، آخر وہ ناراض ہو کر یہ کہتے ہوئے چلا گیا کہ میری عمر کی قسم، تم جسے چاہتے ہو دیتے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میرے اوپر اس لیے غصہ ہو رہا ہے کیونکہ اسے دینے کے لیے میرے پاس کچھ نہیں ہے، تم میں سے جو سوال کرے اور اس کے پاس ایک اوقیہ ( چالیس درہم ) یا اس کے برابر مالیت ہو تو وہ الحاح کے ساتھ سوال کرنے کا مرتکب ہوتا ہے ۱؎ ، اسدی کہتے ہیں: میں نے ( اپنے جی میں ) کہا: ہماری اونٹنی تو اوقیہ سے بہتر ہے، اوقیہ تو چالیس ہی درہم کا ہوتا ہے، وہ کہتے ہیں: چنانچہ میں لوٹ آیا اور آپ سے کچھ بھی نہیں مانگا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو اور منقی آیا، آپ نے اس میں سے ہمیں بھی حصہ دیا، «أو كما قال» یہاں تک کہ اللہ نے ہمیں غنی کر دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ثوری نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے جیسے مالک نے کیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَنَّهُ قَالَ نَزَلْتُ أَنَا وَأَهْلِي، بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَقَالَ لِي أَهْلِي اذْهَبْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلْهُ لَنَا شَيْئًا نَأْكُلُهُ فَجَعَلُوا يَذْكُرُونَ مِنْ حَاجَتِهِمْ فَذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ رَجُلاً يَسْأَلُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ أَجِدُ مَا أُعْطِيكَ " . فَتَوَلَّى الرَّجُلُ عَنْهُ وَهُوَ مُغْضَبٌ وَهُوَ يَقُولُ لَعَمْرِي إِنَّكَ لَتُعْطِي مَنْ شِئْتَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَغْضَبُ عَلَىَّ أَنْ لاَ أَجِدَ مَا أُعْطِيهِ مَنْ سَأَلَ مِنْكُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عَدْلُهَا فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا " . قَالَ الأَسَدِيُّ فَقُلْتُ لَلَقِحَةٌ لَنَا خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ وَالأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا . قَالَ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ فَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ ذَلِكَ شَعِيرٌ أَوْ زَبِيبٌ فَقَسَمَ لَنَا مِنْهُ - أَوْ كَمَا قَالَ - حَتَّى أَغْنَانَا اللَّهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَكَذَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ كَمَا قَالَ مَالِكٌ .
#1628
Hasan
Narrated AbuSa'id al-Khudri: The Prophet (ﷺ) said: If anyone begs when he has something equivalent to an uqiyah in value, he has begged immoderately. So I said: My she-camel, Yaqutah, is better than an uqiyah. The version of Hisham goes: "better than forty dirhams. So I returned and did not beg anything from him." Hisham added in his version: "An uqiyah during the time of the Messenger of Allah (ﷺ) was equivalent to forty dirhams
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو سوال کرے حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ ہو تو اس نے الحاف کیا ، میں نے ( اپنے جی میں ) کہا: میری اونٹنی یاقوتہ ایک اوقیہ سے بہتر ہے۔ ( ہشام کی روایت میں ہے: چالیس درہم سے بہتر ہے ) ، چنانچہ میں لوٹ آیا اور میں نے آپ سے کچھ نہیں مانگا ۱؎۔ ہشام کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ اوقیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چالیس درہم کا ہوتا تھا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ " مَنْ سَأَلَ وَلَهُ قِيمَةُ أُوقِيَّةٍ فَقَدْ أَلْحَفَ " . فَقُلْتُ نَاقَتِي الْيَاقُوتَةُ هِيَ خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ . قَالَ هِشَامٌ خَيْرٌ مِنْ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا فَرَجَعْتُ فَلَمْ أَسْأَلْهُ شَيْئًا زَادَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ وَكَانَتِ الأُوقِيَّةُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا .
#1629
Sahih
Narrated Sahl ibn Hanzaliyyah: Uyaynah ibn Hisn and Aqra' ibn Habis came to the Messenger of Allah (ﷺ). They begged from him. He commanded to give them what they begged. He ordered Mu'awiyah to write a document to give what they begged. Aqra' took his document, wrapped it in his turban, and went away. As for Uyaynah, he took his document and came to the Prophet (ﷺ) at his home, and said to him: Muhammad, do you see me? I am taking a document to my people, but I do not know what it contains, just like the document of al-Mutalammis. Mu'awiyah informed the Messenger of Allah (ﷺ) of his statement. Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: He who begs (from people) when he has sufficient is simply asking for a large amount of Hell-fire. (An-Nufayl (a transmitter) said elsewhere: "embers of Hell".) They asked: Messenger of Allah, what is a sufficiency? (Elsewhere an-Nufayl said: What is a sufficiency which makes begging unfitting?) He replied: It is that which would provide a morning and an evening meal. (Elsewhere an-Nufayl said: It is when one has enough for a day and night, or for a night and a day.) He (an-Nufayl) narrated to us this tradition briefly in the words that I have mentioned
ابوکبشہ سلولی کہتے ہیں ہم سے سہل بن حنظلیہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس آئے، انہوں نے آپ سے مانگا، آپ نے انہیں ان کی مانگی ہوئی چیز دینے کا حکم دیا اور معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان دونوں کے لیے خط لکھ دیں جو انہوں نے مانگا ہے، اقرع نے یہ خط لے کر اسے اپنے عمامے میں لپیٹ لیا اور چلے گئے لیکن عیینہ خط لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: محمد! کیا آپ چاہتے ہیں کہ اپنی قوم کے پاس ایسا خط لے کر جاؤں جو متلمس ۱؎ کے صحیفہ کی طرح ہو، جس کا مضمون مجھے معلوم نہ ہو؟ معاویہ نے ان کی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو سوال کرے اس حال میں کہ اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے سوال سے بے نیاز کر دیتی ہو تو وہ جہنم کی آگ زیادہ کرنا چاہ رہا ہے ۔ ( ایک دوسرے مقام پر نفیلی نے جہنم کی آگ کے بجائے جہنم کا انگارہ کہا ہے ) ۔ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کس قدر مال آدمی کو غنی کر دیتا ہے؟ ( نفیلی نے ایک دوسرے مقام پر کہا: غنی کیا ہے، جس کے ہوتے ہوئے سوال نہیں کرنا چاہیئے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتنی مقدار جسے وہ صبح و شام کھا سکے ۔ ایک دوسری جگہ میں نفیلی نے کہا: اس کے پاس ایک دن اور ایک رات یا ایک رات اور ایک دن کا کھانا ہو، نفیلی نے اسے مختصراً ہم سے انہیں الفاظ کے ساتھ بیان کیا جنہیں میں نے ذکر کیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ السَّلُولِيِّ، حَدَّثَنَا سَهْلُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ، قَالَ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ وَالأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَسَأَلاَهُ فَأَمَرَ لَهُمَا بِمَا سَأَلاَ وَأَمَرَ مُعَاوِيَةَ فَكَتَبَ لَهُمَا بِمَا سَأَلاَ فَأَمَّا الأَقْرَعُ فَأَخَذَ كِتَابَهُ فَلَفَّهُ فِي عِمَامَتِهِ وَانْطَلَقَ وَأَمَّا عُيَيْنَةُ فَأَخَذَ كِتَابَهُ وَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَكَانَهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَتَرَانِي حَامِلاً إِلَى قَوْمِي كِتَابًا لاَ أَدْرِي مَا فِيهِ كَصَحِيفَةِ الْمُتَلَمِّسِ . فَأَخْبَرَ مُعَاوِيَةُ بِقَوْلِهِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ سَأَلَ وَعِنْدَهُ مَا يُغْنِيهِ فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنَ النَّارِ " . وَقَالَ النُّفَيْلِيُّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ " مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ " . فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا يُغْنِيهِ وَقَالَ النُّفَيْلِيُّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ وَمَا الْغِنَى الَّذِي لاَ تَنْبَغِي مَعَهُ الْمَسْأَلَةُ قَالَ " قَدْرُ مَا يُغَدِّيهِ وَيُعَشِّيهِ " . وَقَالَ النُّفَيْلِيُّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ " أَنْ يَكُونَ لَهُ شِبَعُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ أَوْ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ " . وَكَانَ حَدَّثَنَا بِهِ مُخْتَصِرًا عَلَى هَذِهِ الأَلْفَاظِ الَّتِي ذُكِرَتْ .
#1630
Daif
Narrated Ziyad ibn al-Harith as-Suda'i: I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and swore allegiance to him, and after telling a long story he said: Then a man came to him and said: Give me some of the sadaqah (alms). The Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah is not pleased with a Prophet's or anyone else's decision about sadaqat till He has given a decision about them Himself. He has divided those entitled to them into eight categories, so if you come within those categories, I shall give you what you desire
زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے بیعت کی، پھر ایک لمبی حدیث ذکر کی، اس میں انہوں نے کہا: آپ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: مجھے صدقے میں سے دیجئیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اللہ تعالیٰ صدقے کے سلسلے میں نہ پیغمبر کے اور نہ کسی اور کے حکم پر راضی ہوا بلکہ خود اس نے اس سلسلے میں حکم دیا اور اسے آٹھ حصوں میں بانٹ دیا اب اگر تم ان آٹھوں ۱؎ میں سے ہو تو میں تمہیں تمہارا حق دوں گا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيَّ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَايَعْتُهُ فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلاً قَالَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ أَعْطِنِي مِنَ الصَّدَقَةِ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يَرْضَ بِحُكْمِ نَبِيٍّ وَلاَ غَيْرِهِ فِي الصَّدَقَاتِ حَتَّى حَكَمَ فِيهَا هُوَ فَجَزَّأَهَا ثَمَانِيَةَ أَجْزَاءٍ فَإِنْ كُنْتَ مِنْ تِلْكَ الأَجْزَاءِ أَعْطَيْتُكَ حَقَّكَ " .
#1631
Sahih
Abu Hurairah reported Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :The poor man(miskin) is not one who is admitted (by the people) with one or two dates or with one or two morsels but is one, who does not beg anything from his people and is not taken notice of so that alms may be given to him
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک کھجور یا دو کھجور یا ایک دو لقمہ در بدر پھرائے، بلکہ مسکین وہ ہے جو لوگوں سے سوال نہ کرتا ہو، اور نہ ہی لوگ اسے سمجھ پاتے ہوں کہ وہ مدد کا مستحق ہے کہ اسے دیں ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَالأُكْلَةُ وَالأُكْلَتَانِ وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لاَ يَسْأَلُ النَّاسَ شَيْئًا وَلاَ يَفْطِنُونَ بِهِ فَيُعْطُونَهُ " .
#1632
Maqtu
Narrated AbuHurayrah: The Messenger of Allah (ﷺ) said something similar as mentioned in the preceding tradition. This version adds: But the poor man (miskin) who abstains from begging from the people is one (according to the version of Musaddad who does not get enough so that he may not beg from the people, nor is his need known to the people, so that alms be given to him. This is the one who has been deprived. Musaddad did not mention the words "one who avoids begging from the people." Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Muhammad bin Thawr and 'Abd al-Razzaq on the authority of Ma'mar. They mentioned that the word "deprived" is the statement of al-Zuhri, and this is more sound)
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مروی ہے اس میں ہے: لیکن مسکین سوال کرنے سے بچنے والا ہے، مسدد نے اپنی روایت میں اتنا بڑھایا ہے کہ ( مسکین وہ ہے ) جس کے پاس اتنا نہ ہو جتنا اس کے پاس ہوتا ہے جو سوال نہیں کرتا ہے، اور نہ ہی اس کی محتاجی کا حال لوگوں کو معلوم ہوتا ہو کہ اس پر صدقہ کیا جائے، اسی کو محروم کہتے ہیں، اور مسدد نے «المتعفف الذي لا يسأل»کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث محمد بن ثور اور عبدالرزاق نے معمر سے روایت کی ہے اور ان دونوں نے «فذاك المحروم» کو زہری کا کلام بتایا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو كَامِلٍ - الْمَعْنَى - قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ قَالَ " وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الْمُتَعَفِّفُ " . زَادَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِهِ " لَيْسَ لَهُ مَا يَسْتَغْنِي بِهِ الَّذِي لاَ يَسْأَلُ وَلاَ يُعْلَمُ بِحَاجَتِهِ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ فَذَاكَ الْمَحْرُومُ " . وَلَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ " الْمُتَعَفِّفُ الَّذِي لاَ يَسْأَلُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ جَعَلاَ الْمَحْرُومَ مِنْ كَلاَمِ الزُّهْرِيِّ وَهَذَا أَصَحُّ .
#1633
Sahih
Narrated Ubaydullah ibn Adl ibn al-Khiyar: Two men informed me that they went to the Prophet (ﷺ) when he was at the Farewell Pilgrimage while he was distributing the sadaqah and asked him for some of it. He looked us up and down, and seeing that we were robust, he said: If you wish, I shall give you something, but there is nothing spare in it for a rich man or for one who is strong and able to earn a living
عبیداللہ بن عدی بن خیار رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ دو آدمیوں نے مجھے خبر دی ہے کہ وہ حجۃ الوداع میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ تقسیم فرما رہے تھے، انہوں نے بھی آپ سے مانگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھا کر ہمیں دیکھا اور پھر نظر جھکا لی، آپ نے ہمیں موٹا تازہ دیکھ کر فرمایا: اگر تم دونوں چاہو تو میں تمہیں دے دوں لیکن اس میں مالدار کا کوئی حصہ نہیں اور نہ طاقتور کا جو مزدوری کر کے کما سکتا ہو ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، قَالَ أَخْبَرَنِي رَجُلاَنِ، أَنَّهُمَا أَتَيَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ يَقْسِمُ الصَّدَقَةَ فَسَأَلاَهُ مِنْهَا فَرَفَعَ فِينَا الْبَصَرَ وَخَفَضَهُ فَرَآنَا جَلْدَيْنِ فَقَالَ " إِنْ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُكُمَا وَلاَ حَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ وَلاَ لِقَوِيٍّ مُكْتَسِبٍ " .
#1634
Sahih
Narrated Abdullah ibn Amr : The Prophet (ﷺ) said: Sadaqah may not be given to a rich man or to one who has strength and is sound in limbs. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Sufyan from Sa'd bin Ibrahim like the tradition narrated by Ibrahim. The version of Shu'bah from Sa'd has: "for a man who has strength and is robust." The other version of this tradition from the Prophet (ﷺ) have the words "for a man who has strength and is robust." Others have "for a man who has strength and is sound in limbs." 'Ata bin Zuhair said that he had met 'Abd Allah bin 'Amr who said: "Sadaqah is not lawful for a strong man nor for a man who has strength and is sound in limbs
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ مالدار کے لیے حلال نہیں اور نہ طاقتور اور مضبوط آدمی کے لیے ( حلال ہے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سفیان نے سعد بن ابراہیم سے ایسے ہی روایت کیا ہے جیسے ابراہیم نے کہا ہے نیز اسے شعبہ نے سعد سے روایت کیا ہے، اس میں «لذي مرة سوي» کے بجائے «لذي مرة قوي» کے الفاظ ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی بعض روایات میں «لذي مرة قوي» اور بعض میں «لذي مرة سوي» کے الفاظ ہیں۔ عطا بن زہیر کہتے ہیں: عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا: «إن الصدقة لا تحل لقوي ولا لذي مرة سوي» ۔
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الأَنْبَارِيُّ الْخُتَّلِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ رَيْحَانَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلاَ لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ كَمَا قَالَ إِبْرَاهِيمُ وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ سَعْدٍ قَالَ " لِذِي مِرَّةٍ قَوِيٍّ " . وَالأَحَادِيثُ الأُخَرُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بَعْضُهَا " لِذِي مِرَّةٍ قَوِيٍّ " . وَبَعْضُهَا " لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ " . وَقَالَ عَطَاءُ بْنُ زُهَيْرٍ إِنَّهُ لَقِيَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَقَالَ إِنَّ الصَّدَقَةَ لاَ تَحِلُّ لِقَوِيٍّ وَلاَ لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ .
#1635
Sahih
Narrated Ata ibn Yasar: The Prophet (ﷺ) said: Sadaqah may not be given to rich man, with the exception of five classes: One who fights in Allah's path, or who collects it, or a debtor, or a man who buys it with his money, or a man who has a poor neighbour who has been given sadaqah and gives a present to the rich man
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مالدار کے لیے صدقہ لینا حلال نہیں سوائے پانچ لوگوں کے: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے، یا زکاۃ کی وصولی کا کام کرنے والے کے لیے، یا مقروض کے لیے، یا ایسے شخص کے لیے جس نے اسے اپنے مال سے خرید لیا ہو، یا ایسے شخص کے لیے جس کا کوئی مسکین پڑوسی ہو اور اس مسکین پر صدقہ کیا گیا ہو پھر مسکین نے مالدار کو ہدیہ کر دیا ہو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلاَّ لِخَمْسَةٍ لِغَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ لِعَامِلٍ عَلَيْهَا أَوْ لِغَارِمٍ أَوْ لِرَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ أَوْ لِرَجُلٍ كَانَ لَهُ جَارٌ مِسْكِينٌ فَتُصُدِّقَ عَلَى الْمِسْكِينِ فَأَهْدَاهَا الْمِسْكِينُ لِلْغَنِيِّ " .
#1636
Sahih
The aforesaid tradition has also been transmitted by abu-Said al-Khudri to the same effect to a different chain of narrators, attributing it to the Messenger of Allah (May peace be upon him). Abu-Dawud said :Ibn ‘Uyainah reported from Zaid, from whom Malik narrated and Thwari narrated from Zaid that an authentic narrator reported from the Messenger of Allah (May peace be upon him)
اس سند سے بھی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے ابن عیینہ نے زید سے اسی طرح روایت کیا جیسے مالک نے کہا ہے اور ثوری نے اسے زید سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے ایک ثقہ راوی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کیا ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ زَيْدٍ كَمَا قَالَ مَالِكٌ وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي الثَّبْتُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
#1637
Daif
Abu-Said reported :Messenger of Allah (May peace be upon him) said : Sadaqah is not lawful for a rich person except what comes as a result of Jihad or what a poor neighbor gifts you out of the sadaqah given to him, or he entertains you in a feast. Abu-Dawud said : This has been transmitted by Abu- Said through a different chain of narrators in a similar way
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مالدار کے لیے صدقہ حلال نہیں سوائے اس کے کہ وہ اللہ کی راہ میں ہو یا مسافر ہو یا اس کا کوئی فقیر پڑوسی ہو جسے صدقہ کیا گیا ہو پھر وہ تمہیں ہدیہ دیدے یا تمہاری دعوت کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے فراس اور ابن ابی لیلیٰ نے عطیہ سے، عطیہ نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے اور ابوسعید نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عِمْرَانَ الْبَارِقِيِّ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلاَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوِ ابْنِ السَّبِيلِ أَوْ جَارٍ فَقِيرٍ يُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ فَيُهْدِي لَكَ أَوْ يَدْعُوكَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ فِرَاسٌ وَابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ .
#1638
Sahih
Basheer b. Yasar said that a man from the Ansar called Sahi b. abu-Hatmah told him that Messenger of Allah (May peace be upon him) gave one Hundred camels to him a blood-wit from among the camels of sadaqah, i.e a blood-wit for the Ansari who was killed at Khaibar
بشیر بن یسار کہتے ہیں کہ انصار کے ایک آدمی نے انہیں خبر دی جس کا نام سہل بن ابی حثمہ تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقے کے اونٹوں میں سے سو اونٹ ان کو دیت کے دیئے یعنی اس انصاری کی دیت جو خیبر میں قتل کیا گیا تھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، زَعَمَ أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَدَاهُ بِمِائَةٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ - يَعْنِي دِيَةَ الأَنْصَارِيِّ الَّذِي قُتِلَ بِخَيْبَرَ .
#1639
Sahih
Narrated Samurah ibn Jundub: The Prophet (ﷺ) said: Acts of begging are lacerations with which a man disfigures his face, so he who wishes may preserve his self-respect, and he who wishes may abandon it; but this does not apply to one who begs from a ruler, or in a situation which makes it necessary
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوال کرنا آدمی کا اپنے چہرے کو زخم لگانا ہے تو جس کا جی چاہے اپنے چہرے پر ( نشان زخم ) باقی رکھے اور جس کا جی چاہے اسے ( مانگنا ) ترک کر دے، سوائے اس کے کہ آدمی حاکم سے مانگے یا کسی ایسے مسئلہ میں مانگے جس میں کوئی اور چارہ کار نہ ہو ۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمَسَائِلُ كُدُوحٌ يَكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ إِلاَّ أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ ذَا سُلْطَانٍ أَوْ فِي أَمْرٍ لاَ يَجِدُ مِنْهُ بُدًّا " .
#1640
Sahih
Qabisah b. Mukhiriq al-Hilali said :I became a guarantor for a payment, and I came to Messenger of Allah (May peace be upon him). He said: Wait till I receive the sadaqah and I shall order it to be given to you. He then said : Begging, Qabisah, is allowable only to one of three classes: a man who has become a guarantor for a payment to whom begging is allowed till he gets it, after which he must stop (begging); a man who has been stricken by a calamity and it destroys his property to whom begging is allowed till he gets what will support life (or he said, what will provide a reasonable subsistence); and a man who has been smitten by poverty, about whom three intelligent members of his people confirm by saying: So and so has been smitten by poverty, to such a person begging is allowed till be gets what will support life (or he said, what will provide a reasonable subsistence), after which he must stop (begging). Any other reason for begging, Qabisah, is forbidden, and one who engages in such consumes it as a thing which is forbidden
قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک قرضے کا ضامن ہو گیا، چنانچہ ( مانگنے کے لے ) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے فرمایا: قبیصہ! رکے رہو یہاں تک کہ ہمارے پاس کہیں سے صدقے کا مال آ جائے تو ہم تمہیں اس میں سے دیں ، پھر فرمایا: قبیصہ! سوائے تین آدمیوں کے کسی کے لیے مانگنا درست نہیں: ایک اس شخص کے لیے جس پر ضمانت کا بوجھ پڑ گیا ہو، اس کے لیے مانگنا درست ہے اس وقت تک جب تک وہ اسے پا نہ لے، اس کے بعد اس سے باز رہے، دوسرے وہ شخص ہے جسے کوئی آفت پہنچی ہو، جس نے اس کا مال تباہ کر دیا ہو، اس کے لیے بھی مانگتا درست ہے یہاں تک کہ وہ اتنا سرمایہ پا جائے کہ گزارہ کر سکے، تیسرے وہ شخص ہے جو فاقے سے ہو اور اس کی قوم کے تین عقلمند آدمی کہنے لگیں کہ فلاں کو فاقہ ہو رہا ہے، اس کے لیے بھی مانگنا درست ہے یہاں تک کہ وہ اتنا مال پا جائے جس سے وہ گزارہ کر سکے، اس کے بعد اس سے باز آ جائے، اے قبیصہ! ان صورتوں کے علاوہ مانگنا حرام ہے، جو مانگ کر کھاتا ہے گویا وہ حرام کھا رہا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِيَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي كِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيُّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلاَلِيِّ، قَالَ تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَقِمْ يَا قَبِيصَةُ حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا " . ثُمَّ قَالَ " يَا قَبِيصَةُ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لاَ تَحِلُّ إِلاَّ لأَحَدِ ثَلاَثَةٍ رَجُلٌ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ " . أَوْ قَالَ " سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ " . " وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُولَ ثَلاَثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ قَدْ أَصَابَتْ فُلاَنًا الْفَاقَةُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ - أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ - ثُمَّ يُمْسِكُ وَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الْمَسْأَلَةِ يَا قَبِيصَةُ سُحْتٌ يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا " .
#1641
Daif
Narrated Anas ibn Malik: A man of the Ansar came to the Prophet (ﷺ) and begged from him. He (the Prophet) asked: Have you nothing in your house? He replied: Yes, a piece of cloth, a part of which we wear and a part of which we spread (on the ground), and a wooden bowl from which we drink water. He said: Bring them to me. He then brought these articles to him and he (the Prophet) took them in his hands and asked: Who will buy these? A man said: I shall buy them for one dirham. He said twice or thrice: Who will offer more than one dirham? A man said: I shall buy them for two dirhams. He gave these to him and took the two dirhams and, giving them to the Ansari, he said: Buy food with one of them and hand it to your family, and buy an axe and bring it to me. He then brought it to him. The Messenger of Allah (ﷺ) fixed a handle on it with his own hands and said: Go, gather firewood and sell it, and do not let me see you for a fortnight. The man went away and gathered firewood and sold it. When he had earned ten dirhams, he came to him and bought a garment with some of them and food with the others. The Messenger of Allah (ﷺ) then said: This is better for you than that begging should come as a spot on your face on the Day of Judgment. Begging is right only for three people: one who is in grinding poverty, one who is seriously in debt, or one who is responsible for compensation and finds it difficult to pay
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کہ ایک انصاری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مانگنے کے لیے آیا، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے گھر میں کچھ نہیں ہے؟ ، بولا: کیوں نہیں، ایک کمبل ہے جس میں سے ہم کچھ اوڑھتے ہیں اور کچھ بچھا لیتے ہیں اور ایک پیالا ہے جس میں ہم پانی پیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ دونوں میرے پاس لے آؤ ، چنانچہ وہ انہیں آپ کے پاس لے آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا: یہ دونوں کون خریدے گا؟ ، ایک آدمی بولا: انہیں میں ایک درہم میں خرید لیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ایک درہم سے زیادہ کون دے رہا ہے؟ ، دو بار یا تین بار، تو ایک شخص بولا: میں انہیں دو درہم میں خریدتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وہ دونوں چیزیں دے دیں اور اس سے درہم لے کر انصاری کو دے دئیے اور فرمایا: ان میں سے ایک درہم کا غلہ خرید کر اپنے گھر میں ڈال دو اور ایک درہم کی کلہاڑی لے آؤ ، وہ کلہاڑی لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس میں ایک لکڑی ٹھونک دی اور فرمایا: جاؤ لکڑیاں کاٹ کر لاؤ اور بیچو اور پندرہ دن تک میں تمہیں یہاں نہ دیکھوں ، چنانچہ وہ شخص گیا، لکڑیاں کاٹ کر لاتا اور بیچتا رہا، پھر آیا اور دس درہم کما چکا تھا، اس نے کچھ کا کپڑا خریدا اور کچھ کا غلہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے لیے بہتر ہے اس سے کہ قیامت کے دن مانگنے کی وجہ سے تمہارے چہرے میں کوئی داغ ہو، مانگنا صرف تین قسم کے لوگوں کے لیے درست ہے: ایک تو وہ جو نہایت محتاج ہو، خاک میں لوٹتا ہو، دوسرے وہ جس کے سر پر گھبرا دینے والے بھاری قرضے کا بوجھ ہو، تیسرے وہ جس پر خون کی دیت لازم ہو اور وہ دیت ادا نہ کر سکتا ہو اور اس کے لیے وہ سوال کرے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الأَخْضَرِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَسْأَلُهُ فَقَالَ " أَمَا فِي بَيْتِكَ شَىْءٌ " . قَالَ بَلَى حِلْسٌ نَلْبَسُ بَعْضَهُ وَنَبْسُطُ بَعْضَهُ وَقَعْبٌ نَشْرَبُ فِيهِ مِنَ الْمَاءِ . قَالَ " ائْتِنِي بِهِمَا " . فَأَتَاهُ بِهِمَا فَأَخَذَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ وَقَالَ " مَنْ يَشْتَرِي هَذَيْنِ " . قَالَ رَجُلٌ أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمٍ . قَالَ " مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ " . مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا قَالَ رَجُلٌ أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمَيْنِ . فَأَعْطَاهُمَا إِيَّاهُ وَأَخَذَ الدِّرْهَمَيْنِ وَأَعْطَاهُمَا الأَنْصَارِيَّ وَقَالَ " اشْتَرِ بِأَحَدِهِمَا طَعَامًا فَانْبِذْهُ إِلَى أَهْلِكَ وَاشْتَرِ بِالآخَرِ قَدُومًا فَأْتِنِي بِهِ " . فَأَتَاهُ بِهِ فَشَدَّ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عُودًا بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ لَهُ " اذْهَبْ فَاحْتَطِبْ وَبِعْ وَلاَ أَرَيَنَّكَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا " . فَذَهَبَ الرَّجُلُ يَحْتَطِبُ وَيَبِيعُ فَجَاءَ وَقَدْ أَصَابَ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ فَاشْتَرَى بِبَعْضِهَا ثَوْبًا وَبِبَعْضِهَا طَعَامًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَذَا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَجِيءَ الْمَسْأَلَةُ نُكْتَةً فِي وَجْهِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لاَ تَصْلُحُ إِلاَّ لِثَلاَثَةٍ لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ أَوْ لِذِي غُرْمٍ مُفْظِعٍ أَوْ لِذِي دَمٍ مُوجِعٍ " .
#1642
Sahih
Awf b. Malik said :We were with Messenger of Allah (May peace be upon him), seven or eight or nine. He said : Do you take the oath of allegiance to the Messenger of Allah (May peace be upon him), and we shortly took the oath of allegiance. We said: we have already taken the oath of allegiance to you. He repeated the same words three times. We then stretched our hands and took the oath of allegiance to him. A man (or us) said : We took the oath of allegiance to you; now on what should we take the oath of allegiance, Messenger of Allah ? He replied: That you should worship Allah, do not associate anything with Him, offer five times prayer, listen and obey. He uttered a word quietly : And do not beg from the people. When the whip fell on the ground, none of that group asked anyone to pick up the whip for him. Abu Dawud said : The version of Hisham was not narrated by anyone except Sa'id
ابومسلم خولانی کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے پیارے اور امانت دار دوست عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم سات، آٹھ یا نو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ نے فرمایا: کیا تم لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت نہیں کرو گے؟ ، جب کہ ہم ابھی بیعت کر چکے تھے، ہم نے کہا: ہم تو آپ سے بیعت کر چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جملہ تین بار دہرایا چنانچہ ہم نے اپنے ہاتھ بڑھا دئیے اور آپ سے بیعت کی، ایک شخص بولا: اللہ کے رسول! ہم ابھی بیعت کر چکے ہیں؟ اب کس بات کی آپ سے بیعت کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بات کی کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے، پانچوں نمازیں پڑھو گے اور ( حکم ) سنو گے اور اطاعت کرو گے ، ایک بات آپ نے آہستہ سے فرمائی، فرمایا: لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو گے ، چنانچہ ان لوگوں میں سے بعض کا حال یہ تھا کہ اگر ان کا کوڑا زمین پر گر جاتا تو وہ کسی سے اتنا بھی سوال نہ کرتے کہ وہ انہیں ان کا کوڑا اٹھا کر دیدے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام کی حدیث سعید کے علاوہ کسی اور نے بیان نہیں کی۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ رَبِيعَةَ، - يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ - عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلاَنِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي الْحَبِيبُ الأَمِينُ، أَمَّا هُوَ إِلَىَّ فَحَبِيبٌ وَأَمَّا هُوَ عِنْدِي فَأَمِينٌ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَبْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً أَوْ تِسْعَةً فَقَالَ " أَلاَ تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " . وَكُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِبَيْعَةٍ قُلْنَا قَدْ بَايَعْنَاكَ حَتَّى قَالَهَا ثَلاَثًا فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا فَبَايَعْنَاهُ فَقَالَ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَدْ بَايَعْنَاكَ فَعَلاَمَ نُبَايِعُكَ قَالَ " أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلاَ تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَتُصَلُّوا الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَتَسْمَعُوا وَتُطِيعُوا " . وَأَسَرَّ كَلِمَةً خُفْيَةً قَالَ " وَلاَ تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا " . قَالَ فَلَقَدْ كَانَ بَعْضُ أُولَئِكَ النَّفَرِ يَسْقُطُ سَوْطُهُ فَمَا يَسْأَلُ أَحَدًا أَنْ يُنَاوِلَهُ إِيَّاهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدِيثُ هِشَامٍ لَمْ يَرْوِهِ إِلاَّ سَعِيدٌ .
#1643
Sahih
Thawban, the client of the Messenger of Allah (May peace be upon him), reported him as saying :If anyone guarantees me that he will not beg from people, I will guarantee him Paradise. Thawban said : I (will not beg). He never asked anyone for anything
ثوبان رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرے گا اور میں اسے جنت کی ضمانت دوں؟ ، ثوبان نے کہا: میں ( ضمانت دیتا ہوں ) ، چنانچہ وہ کسی سے کوئی چیز نہیں مانگتے تھے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ وَكَانَ ثَوْبَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ تَكَفَّلَ لِي أَنْ لاَ يَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا وَأَتَكَفَّلَ لَهُ بِالْجَنَّةِ " . فَقَالَ ثَوْبَانُ أَنَا . فَكَانَ لاَ يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا .
#1644
Sahih
Abu Said al-Khudri said :Some of the Ansar begged from the Messenger of Allah (May peace be upon him) and he gave them something. They later begged from him again and he gave them something so that what he had was exhausted. He then said :What I have I shall never store away from you but Allah will strengthen the abstinence of him who abstains, will give a satisfaction to him who wants to be satisfied, and will strengthen the endurance of him who shows endurance. No one has been given a more ample gift than endurance
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے انہیں دیا، انہوں نے پھر مانگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دیا، یہاں تک کہ جو کچھ آپ کے پاس تھا، ختم ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جو بھی مال ہو گا میں اسے تم سے بچا کے رکھ نہ چھوڑوں گا، لیکن جو سوال سے بچنا چاہتا ہے اللہ اسے بچا لیتا ہے، جو بے نیازی چاہتا ہے اللہ اسے بے نیاز کر دیتا ہے، جو صبر کی توفیق طلب کرتا ہے اللہ اسے صبر عطا کرتا ہے، اور اللہ نے صبر سے زیادہ وسعت والی کوئی نعمت کسی کو نہیں دی ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ نَاسًا، مِنَ الأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَاهُمْ ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ حَتَّى إِذَا نَفِدَ مَا عِنْدَهُ قَالَ " مَا يَكُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ وَمَا أَعْطَى اللَّهُ أَحَدًا مِنْ عَطَاءٍ أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ " .
#1645
Sahih
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: The Prophet (ﷺ) said: If one who is afflicted with poverty refers it to me, his poverty will not be brought to an end; but if one refers it to Allah, He will soon give him sufficiency, either by a speedy death or by a sufficiency which comes later
ابن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے فاقہ پہنچے اور وہ لوگوں سے اسے ظاہر کر دے تو اس کا فاقہ ختم نہیں ہو گا، اور جو اس کو اللہ سے ظاہر کرے ( یعنی اللہ سے اس کے دور ہونے کی دعا مانگے ) تو قریب ہے کہ اسے اللہ بے پروا کر دے یا تو جلد موت دے کر یا جلد مالدار کر کے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ح حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حَبِيبٍ أَبُو مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، - وَهَذَا حَدِيثُهُ - عَنْ بَشِيرِ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ طَارِقٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُهُ وَمَنْ أَنْزَلَهَا بِاللَّهِ أَوْشَكَ اللَّهُ لَهُ بِالْغِنَى إِمَّا بِمَوْتٍ عَاجِلٍ أَوْ غِنًى عَاجِلٍ " .
#1646
Daif
Narrated Ibn al-Firasi: Al-Firasi asked the Messenger of Allah (ﷺ): May I beg, Messenger of Allah? The Prophet (ﷺ) said: No, but if there is no escape from it, beg from the upright
ابن الفراسی سے روایت ہے کہ فراسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا! اللہ کے رسول! کیا میں سوال کروں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں اور اگر سوال کرنا ضروری ہی ہو تو نیک لوگوں سے سوال کرو ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مَخْشِيٍّ، عَنِ ابْنِ الْفِرَاسِيِّ، أَنَّ الْفِرَاسِيَّ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَسْأَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ وَإِنْ كُنْتَ سَائِلاً لاَ بُدَّ فَاسْأَلِ الصَّالِحِينَ " .
#1647
Sahih
Ibn al-Saidi said :Umar employed me to collect the sadaqah. When I finished doing so and gave it to him, he ordered payment to be given to me. I said: I did only for Allah’s sake, and my reward will come from Allah. He said: Take what you are given, for I acted (as a collector) during the time of the Messenger of Allah (May peace be upon him) and he assigned me a payment. Thereupon, I said the same kind of thing as you have said, to which Messenger of Allah (May peace be upon him) said: When you are given something without asking for it, you should use it for your own purpose and as sadaqah
ابن ساعدی کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقے پر عامل مقرر کیا تو جب میں اس کام سے فارغ ہوا اور اسے ان کے حوالے کر دیا تو انہوں نے میرے لیے محنتانے ( اجرت ) کا حکم دیا، میں نے عرض کیا: میں نے یہ کام اللہ کے لیے کیا اور میرا بدلہ اللہ کے ذمہ ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو تمہیں دیا جا رہا ہے اسے لے لو، میں نے بھی یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دینا چاہا تو میں نے بھی وہی بات کہی جو تم نے کہی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تمہیں کوئی چیز بغیر مانگے ملے تو اس میں سے کھاؤ اور صدقہ کرو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ السَّاعِدِيِّ، قَالَ اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ - رضى الله عنه - عَلَى الصَّدَقَةِ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا وَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ فَقُلْتُ إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ وَأَجْرِي عَلَى اللَّهِ . قَالَ خُذْ مَا أُعْطِيتَ فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَمَّلَنِي فَقُلْتُ مِثْلَ قَوْلِكَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَهُ فَكُلْ وَتَصَدَّقْ " .
#1648
Shadh
Abd Allah b. ‘Umar reported that the Messenger of Allah (May peace be upon him) said when he was on the pulpit speaking of sadaqah and abstention from it and begging :the upper hand is better than the lower one, the upper being the one which bestows and the lower which begs. Abu Dawud said : The version of this tradition narrated by Ayyub from Nafi is disputed. The narrator `Abd al-Warith said in his version : `The upper hand is the one which abstains from begging;” but most of the narrators have narrated from Hammad b. Zaid from Ayyub the words “ The upper hand is the one which bestows.” A narrator from Hammad said in his version “the one which abstains from begging.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپ منبر پر تھے صدقہ کرنے کا، سوال سے بچنے اور مانگنے کا ذکر کر رہے تھے کہ: اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور اوپر والا ہاتھ ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرنے والا ہاتھ ہے، اور نیچے والا ہاتھ سوال کرنے والا ہاتھ ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں ایوب کی نافع سے روایت پر اختلاف کیا گیا ہے ۱؎، عبدالوارث نے کہا: «اليد العليا المتعففة» ( اوپر والا ہاتھ وہ ہے جو مانگنے سے بچے ) ، اور اکثر رواۃ نے حماد بن زیدی سے روایت میں:«اليد العليا المنفقة» نقل کیا ہے ( یعنی اوپر والا ہاتھ دینے والا ہاتھ ہے ) اور ایک راوی نے حماد سے «المتعففة» روایت کی ۲؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ مِنْهَا وَالْمَسْأَلَةَ " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَالْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ وَالسُّفْلَى السَّائِلَةُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ اخْتُلِفَ عَلَى أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ عَبْدُ الْوَارِثِ " الْيَدُ الْعُلْيَا الْمُتَعَفِّفَةُ " . وَقَالَ أَكْثَرُهُمْ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ " الْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ " . وَقَالَ وَاحِدٌ عَنْ حَمَّادٍ " الْمُتَعَفِّفَةُ " .
#1649
Sahih
Narrated Malik ibn Nadlah: The Prophet (ﷺ) said: Hands are of three types: Allah's hand is the upper one; the bestower's hand is the one near it; the beggar's hand is the lower one. So bestow what is surplus, and do not submit yourself to the demand of your soul
مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاتھ تین طرح کے ہیں: اللہ کا ہاتھ جو سب سے اوپر ہے، دینے والے کا ہاتھ جو اس کے بعد ہے اور لینے والے کا ہاتھ جو سب سے نیچے ہے، لہٰذا جو ضرورت سے زائد ہو اسے دے دو اور اپنے نفس کی بات مت مانو ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو الزَّعْرَاءِ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الأَيْدِي ثَلاَثَةٌ فَيَدُ اللَّهِ الْعُلْيَا وَيَدُ الْمُعْطِي الَّتِي تَلِيهَا وَيَدُ السَّائِلِ السُّفْلَى فَأَعْطِ الْفَضْلَ وَلاَ تَعْجِزْ عَنْ نَفْسِكَ " .
#1650
Sahih
Narrated AbuRafi': The Prophet (ﷺ) sent a man of the Banu Makhzum to collect sadaqah. He said to AbuRafi': Accompany me so that you may get some of it. He said: (I cannot take it) until I go to the Prophet (ﷺ) and ask him. Then he went to him and asked him. He said: The sadaqah is not lawful for us, and the client of a people is treated as one of them
ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا ، اس نے ابورافع سے کہا : میرے ساتھ چلو اس میں سے کچھ تمہیں بھی مل جائے گا ، انہوں نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر پوچھ لوں ، چنانچہ وہ آپ کے پاس آئے اور دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قوم کا غلام انہیں ۱؎ میں سے ہوتا ہے اور ہمارے لیے صدقہ لینا حلال نہیں “ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ رَجُلاً عَلَى الصَّدَقَةِ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَقَالَ لأَبِي رَافِعٍ اصْحَبْنِي فَإِنَّكَ تُصِيبُ مِنْهَا . قَالَ حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَسْأَلَهُ فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ " مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَإِنَّا لاَ تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ " .