#1276
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: Some reliable people testified before me, and among them was Umar ibn al-Khattab, and most reliable in my eyes was Umar: The Prophet of Allah (ﷺ) said: There is no prayer after the dawn prayer until the sun rises; and there is no prayer after the 'Asr prayer until the sun sets
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے پاس کئی پسندیدہ لوگوں نے گواہی دی ہے، جن میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے اور میرے نزدیک عمران میں سب سے پسندیدہ شخص تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے کوئی نماز نہیں، اور نہ عصر کے بعد سورج ڈوبنے سے پہلے کوئی نماز ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ صَلاَةَ بَعْدَ صَلاَةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلاَ صَلاَةَ بَعْدَ صَلاَةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ " .
#1277
Sahih
Narrated Amr ibn Anbasah as-Sulami: I asked: Messenger of Allah, in which part of night the supplication is more likely to be accepted? He replied: In the last part: Pray as much as you like, for the prayer is attended by the angels and it is recorded till you offer the dawn prayer; then stop praying when the sun is rising till it has reached the height of one or two lances, for it rises between the two horns of the Devil, and the infidels offer prayer for it (at that time). Then pray as much as you like, because the prayer is witnessed and recorded till the shadow of a lance be- comes equal to it. Then cease prayer, for at that time the Hell-fire is heated up and doors of Hell are opened. When the sun declines, pray as much as you like, for the prayer is witnessed till you pray the afternoon prayer; then cease prayer till the sun sets, for it sets between the horns of the Devil, and (at that time) the infidels offer prayer for it. He narrated a lengthy tradition. Abbas said: AbuSalam narrated this tradition in a similar manner from AbuUmamah. If I have made a mistake unintentionally, I beg pardon of Allah and repent to Him
عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! رات کے کس حصے میں دعا زیادہ قبول ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کے آخری حصے میں، اس وقت جتنی نماز چاہو پڑھو، اس لیے کہ ان میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور فجر پڑھنے تک ( ثواب ) لکھے جاتے ہیں، اس کے بعد سورج نکلنے تک رک جاؤ یہاں تک کہ وہ ایک یا دو نیزے کے برابر بلند ہو جائے، اس لیے کہ سورج شیطان کی دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے اور کافر ( سورج کے پجاری ) اس وقت اس کی پوجا کرتے ہیں، پھر تم جتنی نماز چاہو پڑھو، اس لیے کہ اس نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور ( ثواب ) لکھے جاتے ہیں، یہاں تک کہ جب نیزے کا سایہ اس کے برابر ہو جائے تو ٹھہر جاؤ، اس لیے کہ اس وقت جہنم دہکائی جاتی ہے اور اس کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، پھر جب سورج ڈھل جائے تو تم جتنی نماز چاہو پڑھو، اس لیے کہ اس وقت بھی فرشتے حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ تم عصر پڑھ لو تو سورج ڈوبنے تک ٹھہر جاؤ، اس لیے کہ وہ شیطان کی دو سینگوں کے بیچ ڈوبتا ہے، اور کافر اس کی پوجا کرتے ہیں ، انہوں نے ایک لمبی حدیث بیان کی۔ عباس کہتے ہیں: ابوسلام نے اسی طرح مجھ سے ابوامامہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے، البتہ نادانستہ مجھ سے جو بھول ہو گئی ہو تو اس کے لیے میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع ہوتا ہوں۔
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي سَلاَّمٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ، أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ اللَّيْلِ أَسْمَعُ قَالَ " جَوْفُ اللَّيْلِ الآخِرُ فَصَلِّ مَا شِئْتَ فَإِنَّ الصَّلاَةَ مَشْهُودَةٌ مَكْتُوبَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الصُّبْحَ ثُمَّ أَقْصِرْ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَتَرْتَفِعَ قِيْسَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَىْ شَيْطَانٍ وَتُصَلِّي لَهَا الْكُفَّارُ ثُمَّ صَلِّ مَا شِئْتَ فَإِنَّ الصَّلاَةَ مَشْهُودَةٌ مَكْتُوبَةٌ حَتَّى يَعْدِلَ الرُّمْحُ ظِلَّهُ ثُمَّ أَقْصِرْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ تُسْجَرُ وَتُفْتَحُ أَبْوَابُهَا فَإِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ فَصَلِّ مَا شِئْتَ فَإِنَّ الصَّلاَةَ مَشْهُودَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ ثُمَّ أَقْصِرْ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَىْ شَيْطَانٍ وَيُصَلِّي لَهَا الْكُفَّارُ " . وَقَصَّ حَدِيثًا طَوِيلاً قَالَ الْعَبَّاسُ هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلاَّمٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ إِلاَّ أَنْ أُخْطِئَ شَيْئًا لاَ أُرِيدُهُ فَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ .
#1278
Sahih
Narrated Abdullah ibn Umar: Yasar, the client of Ibn Umar, said: Ibn Umar saw me praying after the break of dawn. He said: O Yasar, the Messenger of Allah (ﷺ) came to us while we were offering this prayer. He (the Prophet) said: Those who are present should inform those who are absent: Do not offer any prayer after (the break of) dawn except two rak'ahs
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام یسار کہتے ہیں کہ مجھے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فجر طلوع ہونے کے بعد نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: یسار! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل کر آئے، اور ہم یہ نماز پڑھ رہے تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے موجود لوگ غیر حاضر لوگوں کو بتا دیں کہ فجر ( طلوع ) ہونے کے بعد فجر کی دو سنتوں کے علاوہ اور کوئی نماز نہ پڑھو ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا قُدَامَةُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ يَسَارٍ، مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ قَالَ رَآنِي ابْنُ عُمَرَ وَأَنَا أُصَلِّي، بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَقَالَ يَا يَسَارُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نُصَلِّي هَذِهِ الصَّلاَةَ فَقَالَ " لِيُبَلِّغْ شَاهِدُكُمْ غَائِبَكُمْ لاَ تُصَلُّوا بَعْدَ الْفَجْرِ إِلاَّ سَجْدَتَيْنِ " .
#1279
Sahih
Al-Aswad and Masruq said:We bear witness that 'Aishah said: Not a day passed but the Prophet (ﷺ) prayed two rak'ahs after the 'Asr prayer
اسود اور مسروق کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کوئی دن ایسا نہیں ہوتا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد دو رکعت نہ پڑھتے رہے ہوں ۱؎۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، وَمَسْرُوقٍ، قَالاَ نَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ - رضى الله عنها - أَنَّهَا قَالَتْ مَا مِنْ يَوْمٍ يَأْتِي عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ .
#1280
Daif
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Dhakwan, the client of Aisha, reported on the authority of Aisha: The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray after the afternoon prayer but prohibited others from it; and he would fast continuously but forbid others to do so
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ذکوان سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( خود تو ) عصر کے بعد نماز پڑھتے تھے اور ( دوسروں کو ) اس سے منع فرماتے، اور پے در پے روزے بھی رکھتے تھے اور ( دوسروں کو ) مسلسل روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ ذَكْوَانَ، مَوْلَى عَائِشَةَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْعَصْرِ وَيَنْهَى عَنْهَا وَيُوَاصِلُ وَيَنْهَى عَنِ الْوِصَالِ .
#1281
Sahih
Narrated 'Abd Allah al-Muzani:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Pray two rak'ahs before the Maghrib prayer. He then said (again): Pray two rak'ahs before the Maghrib prayer, it applies to those who wish to do so. That was because he feared that the people might treat it as sunnah
عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو ، پھر فرمایا: مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو جس کا جی چاہے ، یہ اس اندیشے سے فرمایا کہ لوگ اس کو ( راتب ) سنت نہ بنا لیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْحُسَيْنِ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ " . ثُمَّ قَالَ " صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ لِمَنْ شَاءَ " . خَشْيَةَ أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُنَّةً .
#1282
Sahih
Narrated Anas b. Malik :I offered two rak'ahs of prayer before the Maghrib prayer (i.e. obligatory) during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). I (narrator al-Mukhtar b. Fulful) asked Anas: Did the Messenger of Allah (ﷺ) se you ? He replied: Yes, but he neither commanded us nor forbade us (to do so)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں۔ مختار بن فلفل کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یہ نماز پڑھتے دیکھا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے ہم کو دیکھا تو نہ اس کا حکم دیا اور نہ اس سے منع کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّازُ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ قُلْتُ لأَنَسٍ أَرَآكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ رَآنَا فَلَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا .
#1283
Sahih
Narrated 'Abd Allah b. Mughaffal:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Between the two adhans there is a prayer, between the two adhans there is prayer for one who desires (to offer)
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے، ہر دو اذانوں ۱؎کے درمیان نماز ہے، اس شخص کے لیے جو چاہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاَةٌ بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاَةٌ لِمَنْ شَاءَ " .
#1284
Daif
Narrated Tawus: Ibn 'Umar was asked about praying two rak'ahs before the Maghrib prayer. He replied: I did not see anyone praying them during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). He (Ibn Umar) permitted to pray two rak'ahs after the Asr prayer. Abu Dawud said: I heard Yahya b. Ma'in say: The correct name of the narrator Abu Shu'aib is the Shu'aib. Shu'bah made a mistake in narrating his name
طاؤس کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مغرب کے پہلے دو رکعت سنت پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ نماز پڑھتے کسی کو نہیں دیکھا، البتہ آپ نے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے کی رخصت دی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن معین کو کہتے سنا ہے کہ ( ابوشعیب کے بجائے ) وہ شعیب ہے یعنی شعبہ کو ان کے نام میں وہم ہو گیا ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي شُعَيْبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ، قَبْلَ الْمَغْرِبِ فَقَالَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّيهِمَا . وَرَخَّصَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ هُوَ شُعَيْبٌ يَعْنِي وَهِمَ شُعْبَةُ فِي اسْمِهِ .
#1285
Sahih
Narrated Abu Dharr: The Prophet (ﷺ) as saying: In the morning alms are due for every bone in man's body. His salutation to everyone he meets is alms, his enjoining good is alms, his forbidding what is evil is alms, the removal of harmful thing from the way is alms, to have sexual intercourse with one's wife if alms, and two rak'ahs which one prays in the Duha serve instead of that. Abu Dawud said: The tradition narrated by 'Abbad is more perfect (than the version narrated by Musaddad). Musaddad did not mention in his version "the command (of good) and the prohibition (of evil)". Instead, he added in his version saying: "Such and such." Ibn Ma'na added in his version: "They (the people) said: Messenger of Allah, how is that one of us fulfills his desire and still there are alms for him (i.e. is rewarded)? He replied: What do you think if you had unlawful sexual intercourse, would he not have been a sinner ?
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کے ہر جوڑ پر صبح ہوتے ہی ( بطور شکرانے کے ) ایک صدقہ ہوتا ہے، اب اگر وہ کسی ملنے والے کو سلام کرے تو یہ ایک صدقہ ہے، کسی کو بھلائی کا حکم دے تو یہ بھی صدقہ ہے، برائی سے روکے یہ بھی صدقہ ہے، راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹا دے تو یہ بھی صدقہ ہے، اپنی بیوی سے صحبت کرے تو یہ بھی صدقہ ہے البتہ ان سب کے بجائے اگر دو رکعت نماز چاشت کے وقت پڑھ لے تو یہ ان سب کی طرف سے کافی ہے ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عباد کی روایت زیادہ کامل ہے اور مسدد نے امر و نہی کا ذکر نہیں کیا ہے، ان کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ فلاں اور فلاں چیز بھی صدقہ ہے اور ابن منیع کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم میں سے ایک شخص اپنی ( بیوی سے ) شہوت پوری کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ( کیوں نہیں ) اگر وہ کسی حرام جگہ میں شہوت پوری کرتا تو کیا وہ گنہگار نہ ہوتا۲؎؟ ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، - الْمَعْنَى - عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلاَمَى مِنِ ابْنِ آدَمَ صَدَقَةٌ تَسْلِيمُهُ عَلَى مَنْ لَقِيَ صَدَقَةٌ وَأَمْرُهُ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ وَنَهْيُهُ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَإِمَاطَتُهُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ وَبُضْعَةُ أَهْلِهِ صَدَقَةٌ وَيُجْزِئُ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ رَكْعَتَانِ مِنَ الضُّحَى " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدِيثُ عَبَّادٍ أَتَمُّ وَلَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ الأَمْرَ وَالنَّهْىَ زَادَ فِي حَدِيثِهِ وَقَالَ كَذَا وَكَذَا وَزَادَ ابْنُ مَنِيعٍ فِي حَدِيثِهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدُنَا يَقْضِي شَهْوَتَهُ وَتَكُونُ لَهُ صَدَقَةٌ قَالَ " أَرَأَيْتَ لَوْ وَضَعَهَا فِي غَيْرِ حِلِّهَا أَلَمْ يَكُنْ يَأْثَمُ " .
#1286
Sahih
Abu al-Aswad al-Dailani said:While we were present with Abu Dharr, he said: In the morning, alms are due for him, ever fast is alms, every pilgrimage is alms, every utterance of "Glory to be Allah" is alms, every utterance of "Allah is most great" is alms, every utterance of "Praise be to Allah" is alms. The Messenger of Allah (ﷺ) recounted all such good works. He then said: Two rak'ahs which one prays in the Duha serve instead of that
ابوالاسود الدولی کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ اسی دوران آپ نے کہا: ہر روز صبح ہوتے ہی تم میں سے ہر شخص کے جوڑ پر ایک صدقہ ہے، تو اس کے لیے ہر نماز کے بدلہ ایک صدقہ ( کا ثواب ) ہے، ہر روزہ کے بدلہ ایک صدقہ ( کا ثواب ) ہے، ہر حج ایک صدقہ ہے، اور ہر تسبیح ایک صدقہ ہے، ہر تکبیر ایک صدقہ ہے، اور ہر تحمید ایک صدقہ ہے، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نیک اعمال کا شمار کیا پھر فرمایا: ان سب سے تمہیں بس چاشت کی دو رکعتیں کافی ہیں ۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ أَبِي ذَرٍّ قَالَ " يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلاَمَى مِنْ أَحَدِكُمْ فِي كُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ فَلَهُ بِكُلِّ صَلاَةٍ صَدَقَةٌ وَصِيَامٍ صَدَقَةٌ وَحَجٍّ صَدَقَةٌ وَتَسْبِيحٍ صَدَقَةٌ وَتَكْبِيرٍ صَدَقَةٌ وَتَحْمِيدٍ صَدَقَةٌ " . فَعَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ هَذِهِ الأَعْمَالِ الصَّالِحَةِ ثُمَّ قَالَ " يُجْزِئُ أَحَدَكُمْ مِنْ ذَلِكَ رَكْعَتَا الضُّحَى " .
#1287
Daif
Narrated Mu'adh ibn Anas al-Juhani: The Prophet (ﷺ) said: If anyone sits in his place of prayer when he finishes the dawn prayer till he prays the two rak'ahs of the forenoon, saying nothing but what is good, his sins will be forgiven even if they are more than the foam of the sea
معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص فجر کے بعد چاشت کے وقت تک اسی جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے پھر چاشت کی دو رکعتیں پڑھے اس دوران سوائے خیر کے کوئی اور بات زبان سے نہ نکالے تو اس کی تمام خطائیں معاف کر دی جائیں گی وہ سمندر کے جھاگ سے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ قَعَدَ فِي مُصَلاَّهُ حِينَ يَنْصَرِفُ مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ حَتَّى يُسَبِّحَ رَكْعَتَىِ الضُّحَى لاَ يَقُولُ إِلاَّ خَيْرًا غُفِرَ لَهُ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ " .
#1288
Hasan
Narrated AbuUmamah: The Prophet (ﷺ) said: Prayer followed by a prayer with no idle talk between the two is recorded in Illiyyun
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک نماز کے بعد دوسری نماز کی ادائیگی اور ان دونوں کے درمیان میں کوئی بیہودہ اور فضول کام نہ کرنا ایسا عمل ہے جو علیین میں لکھا جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " صَلاَةٌ فِي أَثَرِ صَلاَةٍ لاَ لَغْوَ بَيْنَهُمَا كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ " .
#1289
Sahih
Narrated Nu'aym ibn Hammar: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Allah, the Exalted, says: Son of Adam, do not be helpless in performing four rak'ahs for Me at the beginning of the day: I will supply what you need till the end of it
نعیم بن ہمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! اپنے دن کے شروع کی چار رکعتیں ۱؎ ترک نہ کر کہ میں دن کے آخر تک تجھ کو کافی ہوں گا یعنی تیرا محافظ رہوں گا ۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ أَبِي شَجَرَةَ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا ابْنَ آدَمَ لاَ تُعْجِزْنِي مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ فِي أَوَّلِ نَهَارِكَ أَكْفِكَ آخِرَهُ " .
#1290
Daif
Narrated Umm Hani ibn AbuTalib: The Messenger of Allah (ﷺ) prayed on the day of the Conquest (of Mecca) eight rak'ahs saluting after every two rak'ahs. Abu Dawud said: Ahmad b. Salih said that the Messenger of Allah offered prayer in the forenoon on the day of the Conquest of Mecca, and he narrated something similar. Ibn al-Sarh reported that Umm Hani said: The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon me. This version does not mention the prayer in the forenoon
ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز چاشت کی نماز آٹھ رکعت پڑھی، آپ ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے تھے۔ احمد بن صالح کی روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز چاشت کی نماز پڑھی، پھر انہوں نے اسی کے مثل ذکر کیا۔ ابن سرح کی روایت میں ہے کہ ام ہانی کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اس میں انہوں نے چاشت کی نماز کا ذکر نہیں کیا ہے، باقی روایت ابن صالح کی روایت کے ہم معنی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْفَتْحِ صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْفَتْحِ صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى فَذَكَرَ مِثْلَهُ . قَالَ ابْنُ السَّرْحِ إِنَّ أُمَّ هَانِئٍ قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَذْكُرْ سُبْحَةَ الضُّحَى بِمَعْنَاهُ .
#1291
Sahih
Narrated Ibn Abi Laila:No one told us that the Prophet (ﷺ) had offered Duha prayer except Umm Hani. She said that the Prophet (ﷺ) had taken bath in her house on the day of the Conquest of Mecca and prayed eight rak'ahs. But no one saw him afterwards praying these rak'ahs
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ کسی نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہے سوائے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے، انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز ان کے گھر میں غسل فرمایا اور آٹھ رکعتیں ادا کیں، پھر اس کے بعد کسی نے آپ کو یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ مَا أَخْبَرَنَا أَحَدٌ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الضُّحَى غَيْرَ أُمِّ هَانِئٍ فَإِنَّهَا ذَكَرَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ اغْتَسَلَ فِي بَيْتِهَا وَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ فَلَمْ يَرَهُ أَحَدٌ صَلاَّهُنَّ بَعْدُ .
#1292
Sahih
Narrated 'Abd Allah b. Shaqiq:I asked 'Aishah: Did the Messenger of Allah (ﷺ) pray in the Duha? She replied: No, except when he returned from his journey. I then asked: Did the Messenger of Allah (ﷺ) recite the surahs combining each other? She said: He would do so in the mufassal surahs
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، سوائے اس کے کہ جب آپ سفر سے آتے۔ میں نے عرض کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو سورتیں ملا کر پڑھتے تھے؟ آپ نے کہا: مفصل کی سورتیں ( ملا کر پڑھتے تھے ) ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الضُّحَى فَقَالَتْ لاَ إِلاَّ أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ . قُلْتُ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرِنُ بَيْنَ السُّورَتَيْنِ قَالَتْ مِنَ الْمُفَصَّلِ .
#1293
Sahih
Narrated 'Aishah, wife of Prophet (ﷺ):The Messenger of Allah (ﷺ) never offered prayer in the forenoon, but I offer it. The Messenger of Allah (ﷺ) would give up an action, though he liked it to do, lest the people should continue it and it is prescribed for them
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، لیکن میں اسے پڑھتی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات ایک عمل کو چاہتے ہوئے بھی اسے محض اس ڈر سے ترک فرما دیتے تھے کہ لوگوں کے عمل کرنے سے کہیں وہ ان پر فرض نہ ہو جائے۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ مَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ وَإِنِّي لأُسَبِّحُهَا وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ .
#1294
Sahih
Narrated Simak:I asked Jabir b. Samurah: Did you sit in the company of the Messenger of Allah (ﷺ) ? He replied: Yes, very often. He would not stand from the place he prayed the dawn prayer till the sunrise. When the sun rose, he would stand (to pray Duha)
سماک کہتے ہیں میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالست ( ہم نشینی ) کرتے تھے؟ آپ نے کہا: ہاں اکثر ( آپ کی مجلسوں میں رہتا تھا ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس جگہ نماز فجر ادا کرتے، وہاں سے اس وقت تک نہیں اٹھتے جب تک سورج نکل نہ آتا، جب سورج نکل آتا تو آپ ( نماز اشراق کے لیے ) کھڑے ہوتے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالاَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، قَالَ قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ كَثِيرًا فَكَانَ لاَ يَقُومُ مِنْ مُصَلاَّهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ الْغَدَاةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ صلى الله عليه وسلم .
#1295
Sahih
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet (ﷺ) said: Prayer by night and day should consist of pairs of rak'ahs
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَارِقِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " صَلاَةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى " .
#1296
Daif
Narrated Muttalib: The Prophet (ﷺ) said: Prayer is to be offered in two rak'ahs; and you should recite the tashahhud at the end of two rak'ahs, and express your distress and humility and raise your hands and say praying: O Allah, O Allah. He who does not do so does not offer a perfect prayer. Abu Dawud was asked about offering prayer at night in two rak'ahs. He said: They may be two if you like and four if you like
مطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز دو دو رکعت ہے، اس طرح کہ تم ہر دو رکعت کے بعد تشہد پڑھو اور پھر اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ ظاہر کرو اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگو اور کہو: اے اللہ! اے اللہ!، جس نے ایسا نہیں کیا یعنی دل نہ لگایا، اور اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ کا اظہار نہ کیا تو اس کی نماز ناقص ہے ۔ ابوداؤد سے رات کی نماز دو دو رکعت ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا: چاہو تو دو دو پڑھو اور چاہو تو چار چار۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الصَّلاَةُ مَثْنَى مَثْنَى أَنْ تَشَهَّدَ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَأَنْ تَبَاءَسَ وَتَمَسْكَنَ وَتُقْنِعَ بِيَدَيْكَ وَتَقُولَ اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَهِيَ خِدَاجٌ " . سُئِلَ أَبُو دَاوُدَ عَنْ صَلاَةِ اللَّيْلِ مَثْنَى قَالَ إِنْ شِئْتَ مَثْنَى وَإِنْ شِئْتَ أَرْبَعًا .
#1297
Sahih
Narrated Abdullah Ibn Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) said to al-Abbas ibn AbdulMuttalib: Abbas, my uncle, shall I not give you, shall I not present to you, shall I not donate to you, shall I not produce for you ten things? If you act upon them, Allah will forgive you your sins, first and last, old and new, involuntary and voluntary, small and great, secret and open. These are the ten things: you should pray four rak'ahs, reciting in each one Fatihat al-Kitab and a surah. When you finish the recitation of the first rak'ah you should say fifteen times while standing: "Glory be to Allah", "Praise be to Allah", "There is no god but Allah", "Allah is most great". Then you should bow and say it ten times while bowing. Then you should raise your head after bowing and say it ten times. Then you should kneel down in prostration and say it ten times while prostrating yourself. Then you should raise your head after prostration and say it ten times. Then you should prostrate yourself and say it ten times. Then you should raise your head after prostrating and say it ten times in every rak'ah. You should do that in four rak'ahs. If you can observe it once daily, do so; if not, then once weekly; if not, then once a month; if not, then once a year; if not, then once in your lifetime
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے عباس! اے میرے چچا! کیا میں آپ کو عطا نہ کروں؟ کیا میں آپ کو بھلائی نہ پہنچاؤں؟ کیا میں آپ کو نہ دوں؟ کیا میں آپ کو دس ایسی باتیں نہ بتاؤں جب آپ ان پر عمل کرنے لگیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے پچھلے، نئے پرانے، جانے انجانے، چھوٹے بڑے، چھپے اور کھلے، سارے گناہ معاف کر دے گا، وہ دس باتیں یہ ہیں: آپ چار رکعت نماز پڑھیں، ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور کوئی ایک سورۃ پڑھیں، جب پہلی رکعت کی قرآت کر لیں تو حالت قیام ہی میں پندرہ مرتبہ «سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر» کہیں، پھر رکوع کریں تو یہی کلمات حالت رکوع میں دس بار کہیں، پھر جب رکوع سے سر اٹھائیں تو یہی کلمات دس بار کہیں، پھر جب سجدہ میں جائیں تو حالت سجدہ میں دس بار یہی کلمات کہیں، پھر سجدے سے سر اٹھائیں تو یہی کلمات دس بار کہیں، پھر ( دوسرا ) سجدہ کریں تو دس بار کہیں اور پھر جب ( دوسرے ) سجدے سے سر اٹھائیں تو دس بار کہیں، تو اس طرح یہ ہر رکعت میں پچہتر بار ہوا، یہ عمل آپ چاروں رکعتوں میں کریں، اگر پڑھ سکیں تو ہر روز ایک مرتبہ اسے پڑھیں، اور اگر روزانہ نہ پڑھ سکیں تو ہر جمعہ کو ایک بار پڑھ لیں، ایسا بھی نہ کر سکیں تو ہر مہینے میں ایک بار، یہ بھی ممکن نہ ہو تو سال میں ایک بار اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پھر عمر بھر میں ایک بار پڑھ لیں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ " يَا عَبَّاسُ يَا عَمَّاهُ أَلاَ أُعْطِيكَ أَلاَ أَمْنَحُكَ أَلاَ أَحْبُوكَ أَلاَ أَفْعَلُ بِكَ عَشْرَ خِصَالٍ إِذَا أَنْتَ فَعَلْتَ ذَلِكَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ ذَنْبَكَ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ قَدِيمَهُ وَحَدِيثَهُ خَطَأَهُ وَعَمْدَهُ صَغِيرَهُ وَكَبِيرَهُ سِرَّهُ وَعَلاَنِيَتَهُ عَشْرَ خِصَالٍ أَنْ تُصَلِّيَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةً فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ وَأَنْتَ قَائِمٌ قُلْتَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً ثُمَّ تَرْكَعُ فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ رَاكِعٌ عَشْرًا ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ثُمَّ تَهْوِي سَاجِدًا فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ سَاجِدٌ عَشْرًا ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ فَتَقُولُهَا عَشْرًا فَذَلِكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ تَفْعَلُ ذَلِكَ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصَلِّيَهَا فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً فَافْعَلْ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي عُمُرِكَ مَرَّةً " .
#1298
Hasan Sahih
Narrated Abdullah ibn Amr: AbulJawza' said: A man who attended the company of the Prophet (ﷺ) narrated to me (it is thought that he was Abdullah ibn Amr): The Prophet (ﷺ) said to me: Come to me tomorrow; I shall give you something, I shall give you something, I shall reward you something, I shall donate something to you. I thought that he would give me some present. He said (to me when I came to him): When the day declines, stand up and pray four rak'ahs. He then narrated something similar. This version adds: Do not stand until you glorify Allah ten times, and praise Him ten times, and exalt Him ten times, and say, "There is no god but Allah" ten times. Then you should do that in four rak'ahs. If you are the greatest sinner on earth, you will be forgiven (by Allah) on account of this (prayer). I asked: If I cannot pray this the appointed hour, (what should I do)? He replied: Pray that by night or by day (at any time). Abu Dawud said: Habban b. Hilal is the maternal uncle of Hilal al-Ra'i. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by al-Mustamir b. al-Riyyan from Ibn al-Jawza' from 'Abd Allah b. 'Amr without referring to the Prophet (ﷺ), - narrated as a statement of 'Abd Allah b. 'Amr himself (mauquf). This has also been narrated by Rawh b. al-Musayyab, and Ja'far b. Sulaiman from 'Amr b. Malik al-Nakri from Abu al-Jauza' from Ibn 'Abbas as his own statement (and not the statement of the Prophet). But the version of Rawh has the words: "The tradition of the Prophet (ﷺ)
ابوالجوزاء کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک ایسے شخص نے جسے شرف صحبت حاصل تھا حدیث بیان کی ہے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما تھے، انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل تم میرے پاس آنا، میں تمہیں دوں گا، عنایت کروں گا اور نوازوں گا ، میں سمجھا کہ آپ مجھے کوئی عطیہ عنایت فرمائیں گے ( جب میں کل پہنچا تو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سورج ڈھل جائے تو کھڑے ہو جاؤ اور چار رکعت نماز ادا کرو ، پھر ویسے ہی بیان کیا جیسے اوپر والی حدیث میں گزرا ہے، البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ: پھر تم سر اٹھاؤ یعنی دوسرے سجدے سے تو اچھی طرح بیٹھ جاؤ اور کھڑے مت ہو یہاں تک کہ دس دس بار تسبیح و تحمید اور تکبیر و تہلیل کر لو پھر یہ عمل چاروں رکعتوں میں کرو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اہل زمین میں سب سے بڑے گنہگار ہو گے تو بھی اس عمل سے تمہارے گناہوں کی بخشش ہو جائے گی ، میں نے عرض کیا: اگر میں اس وقت یہ نماز ادا نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو رات یا دن میں کسی وقت ادا کر لو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حبان بن ہلال: ہلال الرای کے ماموں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے مستمر بن ریان نے ابوالجوزاء سے انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ نیز اسے روح بن مسیب اور جعفر بن سلیمان نے عمرو بن مالک نکری سے، عمرو نے ابوالجوزاء سے ابوالجوزاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی موقوفاً روایت کیا ہے، البتہ راوی نے روح کی روایت میں «فقال حديث عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم» ( تو ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی ) کے جملے کا اضافہ کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ الأُبُلِّيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ أَبُو حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ، كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ يُرَوْنَ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " ائْتِنِي غَدًا أَحْبُوكَ وَأُثِيبُكَ وَأُعْطِيكَ " . حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ يُعْطِينِي عَطِيَّةً قَالَ " إِذَا زَالَ النَّهَارُ فَقُمْ فَصَلِّ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ " . فَذَكَرَ نَحْوَهُ قَالَ " تَرْفَعُ رَأْسَكَ - يَعْنِي مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ - فَاسْتَوِ جَالِسًا وَلاَ تَقُمْ حَتَّى تُسَبِّحَ عَشْرًا وَتَحْمَدَ عَشْرًا وَتُكَبِّرَ عَشْرًا وَتُهَلِّلَ عَشْرًا ثُمَّ تَصْنَعُ ذَلِكَ فِي الأَرْبَعِ رَكَعَاتٍ " . قَالَ " فَإِنَّكَ لَوْ كُنْتَ أَعْظَمَ أَهْلِ الأَرْضِ ذَنْبًا غُفِرَ لَكَ بِذَلِكَ " . قُلْتُ فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أُصَلِّيَهَا تِلْكَ السَّاعَةَ قَالَ " صَلِّهَا مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ خَالُ هِلاَلٍ الرَّائِيِّ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مَوْقُوفًا وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَجَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيِّ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ وَقَالَ فِي حَدِيثِ رَوْحٍ فَقَالَ حَدِيثُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
#1299
Sahih
Narrated 'Urwah b. Ruwaim:That an al-Ansari narrated to him: The Messenger of Allah (ﷺ) said to Ja'far. He then narrated the tradition in like manner. This version has the words: "In the second prostration of the first rak'ah" in addition to the words transmitted by Mahdi b. Maimun (in the previous tradition)
عروہ بن رویم کہتے ہیں کہ مجھ سے انصاری نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر سے یہی حدیث بیان فرمائی، پھر انہوں نے انہی لوگوں کی طرح ذکر کیا، البتہ اس میں ہے: پہلی رکعت کے دوسرے سجدہ میں بھی یہی کہا جیسے مہدی بن میمون کی حدیث میں ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ، رُوَيْمٍ حَدَّثَنِي الأَنْصَارِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِجَعْفَرٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ فَذَكَرَ نَحْوَهُمْ قَالَ فِي السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ مِنَ الرَّكْعَةِ الأُولَى كَمَا قَالَ فِي حَدِيثِ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ .
#1300
Hasan
Narrated Ka'b ibn Ujrah: The Prophet (ﷺ) came to the mosque of Banu AbdulAshhal. He prayed the sunset prayer there. When they finished the prayer, he saw them praying the supererogatory prayer after it. He said: This is the prayer to be offered in the houses
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عبدالاشہل کی مسجد میں آئے اور اس میں مغرب ادا کی، جب لوگ نماز پڑھ چکے تو آپ نے ان کو دیکھا کہ نفل پڑھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو گھروں کی نماز ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنِي أَبُو مُطَرِّفٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْفِطْرِيُّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَتَى مَسْجِدَ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ فَصَلَّى فِيهِ الْمَغْرِبَ فَلَمَّا قَضَوْا صَلاَتَهُمْ رَآهُمْ يُسَبِّحُونَ بَعْدَهَا فَقَالَ " هَذِهِ صَلاَةُ الْبُيُوتِ " .