#951
Sahih
‘Abd Allah b. Buraidah said :‘Imran b. Hussain asked the prophet (ﷺ) about the prayer a man offers in sitting condition. He replied: his prayer in standing condition is better than his prayer in sitting condition, and his prayer in sitting condition is half the prayer he offers in standing condition, and his prayer in lying condition is half the prayer he offers in sitting condition
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے والے شخص کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: آدمی کا کھڑے ہو کر نماز پڑھنا بیٹھ کر نماز پڑھنے سے افضل ہے اور بیٹھ کر نماز پڑھنے میں کھڑے ہو کر پڑھنے کے مقابلہ میں نصف ثواب ہے ۱؎ اور لیٹ کر پڑھنے میں بیٹھ کر پڑھنے کے مقابلہ میں نصف ثواب ملتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَلاَةِ الرَّجُلِ قَاعِدًا فَقَالَ " صَلاَتُهُ قَائِمًا أَفْضَلُ مِنْ صَلاَتِهِ قَاعِدًا وَصَلاَتُهُ قَاعِدًا عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلاَتِهِ قَائِمًا وَصَلاَتُهُ نَائِمًا عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلاَتِهِ قَاعِدًا " .
#952
Sahih
‘Imran b. Husain said :I had a fistula; so I asked the prophet (ﷺ). He said: offer prayer in standing condition; if you are unable to do so, then in sitting condition: if you are then at your side(i.e, in lying condition)
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے ناسور تھا ۱؎، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: تم کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر کھڑے ہو کر پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر بیٹھ کر پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو ( لیٹ کر ) پہلو کے بل پڑھو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ كَانَ بِيَ النَّاصُورُ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " صَلِّ قَائِمًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ " .
#953
Sahih
‘A’ishah said :I never saw the Messenger of Allah (ﷺ) reciting the Quraan in his prayer at night in sitting condition until he became old. Then he used to sit in it (the prayer) and recite the Quran until forty or thirty verses remained, then he stood and recited them and prostrated himself
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی نماز کبھی بیٹھ کر پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ عمر رسیدہ ہو گئے تو اس میں بیٹھ کر قرآت کرتے تھے پھر جب تیس یا چالیس آیتیں رہ جاتیں تو انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے پھر سجدہ کرتے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي شَىْءٍ مِنْ صَلاَةِ اللَّيْلِ جَالِسًا قَطُّ حَتَّى دَخَلَ فِي السِّنِّ فَكَانَ يَجْلِسُ فِيهَا فَيَقْرَأُ حَتَّى إِذَا بَقِيَ أَرْبَعُونَ أَوْ ثَلاَثُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا ثُمَّ سَجَدَ .
#954
Sahih
‘A’ishah, wife of the prophet (ﷺ), said:when the prophet (ﷺ) prayed sitting, he recited the Quran in sitting condition. When the amount of his recitation remained about thirty or forty verses he stood up and recited them standing. He then bowed and prostrated and then did so in the second Rak’ah of the prayer. Abu Dawud said: 'Alqamah b. Waqqas narrated this tradition on the authority of 'Aishah from the Prophet (ﷺ) to the same effect
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تو بیٹھ کر قرآت کرتے تھے، پھر جب تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر قرآت رہ جاتی تو کھڑے ہو جاتے، پھر انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے، پھر رکوع کرتے اور سجدہ کرتے، پھر دوسری رکعت میں ( بھی ) اسی طرح کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث علقمہ بن وقاص نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، وَأَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ وَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرُ مَا يَكُونُ ثَلاَثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ عَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
#955
Sahih
‘A’ishah said:The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray standing at night for a long time, and used to pray sitting at night for a long time. When he prayed standing, he bowed standing, and when he prayed sitting, he bowed sitting
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں کبھی دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور کبھی دیر تک بیٹھ کر، جب کھڑے ہو کر پڑھتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ بُدَيْلَ بْنَ مَيْسَرَةَ، وَأَيُّوبَ، يُحَدِّثَانِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي لَيْلاً طَوِيلاً قَائِمًا وَلَيْلاً طَوِيلاً قَاعِدًا فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا .
#956
Sahih
‘Abd Allah b. Shaqiq said:I asked ‘A’ishah whether the Messenger of Allah (ﷺ) recited a whole Surah (of the Quran) in one Rak’ah of the prayer. She replied : (He recited from among) the Mufassal surahs. I asked: Did he pray (at night) sitting? She replied : (he prayed sitting) when the people made him old
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوری سورت ایک رکعت میں پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: ( ہاں ) مفصل کی، پھر میں نے پوچھا: کیا آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: جس وقت لوگوں ( کے کثرت معاملات ) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکستہ ( یعنی بوڑھا ) کر دیا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ السُّورَةَ فِي رَكْعَةٍ قَالَتِ الْمُفَصَّلَ . قَالَ قُلْتُ فَكَانَ يُصَلِّي قَاعِدًا قَالَتْ حِينَ حَطَمَهُ النَّاسُ .
#957
Sahih
Narrated Wa'il ibn Hujr: I said that I should look at the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) how he prays. The Messenger of Allah (ﷺ) stood up and faced the qiblah (i.e. the direction of Ka'bah) and uttered the takbir (Allah is most great); then he raised his hands till he brought them in front of his ears; then he caught hold of his left hand with his right hand (i.e. folded his hands). When he was about to bow, he raised them (his hands) in a like manner. Then he sat, stretched out his left foot (to sit on it), placed his left hand on his left thigh, and kept away the tip of his right elbow from his right thigh, joined two fingers, formed a ring, to do so. And the narrator Bishr made a ring with the thumb and the middle finger
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ نماز کو دیکھوں گا کہ آپ کس طرح نماز پڑھتے ہیں؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز کے لیے ) کھڑے ہوئے تو قبلہ کا استقبال کیا پھر تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہہ کر دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ انہیں پھر اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل کیا پھر اپنا بایاں ہاتھ اپنے داہنے ہاتھ سے پکڑا، پھر جب آپ نے رکوع کرنا چاہا تو انہیں پھر اسی طرح اٹھایا، ( رفع یدین کیا ) وہ کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تو اپنے بائیں پیر کو بچھا لیا اور اپنے بائیں ہاتھ کو اپنی بائیں ران پر رکھا اور اپنی داہنی کہنی کو اپنی داہنی ران سے اٹھائے رکھا اور دونوں انگلیاں ( یعنی چھنگلیا اور اس کے قریب کی انگلی ) بند کر لی اور ( بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے ) حلقہ بنا لیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا۔ اور بشر ( راوی ) نے بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بنا کر اور کلمے کی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ قُلْتُ لأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَيْفَ يُصَلِّي فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَكَبَّرَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا بِأُذُنَيْهِ ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ - قَالَ - ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَحَدَّ مِرْفَقَهُ الأَيْمَنَ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَقَبَضَ ثِنْتَيْنِ وَحَلَّقَ حَلَقَةً وَرَأَيْتُهُ يَقُولُ هَكَذَا وَحَلَّقَ بِشْرٌ الإِبْهَامَ وَالْوُسْطَى وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ .
#958
Sahih
Abdullah bin 'Umar said:"A Sunnah of the prayer is that you should raise your right foot, and make your left foot lie (on the ground)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نماز کی سنت یہ ہے کہ تم اپنا دایاں پیر کھڑا رکھو اور بایاں پیر موڑ کر رکھو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ سُنَّةُ الصَّلاَةِ أَنْ تَنْصِبَ، رِجْلَكَ الْيُمْنَى وَتَثْنِيَ رِجْلَكَ الْيُسْرَى .
#959
Sahih
(There is another chain) reported from Yahya who said:"I heard Al-Qasim saying: "Abdullah bin 'Abdullah informed me that he heard 'Abdullah bin 'Umar saying: "From the Sunnah of the prayer is to lay your left foot on the ground, and raise your right foot
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نماز کی سنت میں سے یہ ہے کہ تم اپنا بایاں پیر بچھائے رکھو اور داہنا پیر کھڑا رکھو۔
حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى، قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ مِنْ سُنَّةِ الصَّلاَةِ أَنْ تُضْجِعَ رِجْلَكَ الْيُسْرَى وَتَنْصِبَ الْيُمْنَى .
#960
Sahih
(There is another chain) from Yahya with his chain and similar (to the previous hadith). Abu Dawud said:Hammad bin Zaid also said (the wording): "From the Sunnah" (narrating) from Yahya just as Jarir did
اس طریق سے بھی یحییٰ سے اسی سند سے اسی کے مثل مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن زید نے یحییٰ سے «من السنة» کا لفظ روایت کیا ہے جیسے جریر نے کہا ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى، أَيْضًا مِنَ السُّنَّةِ كَمَا قَالَ جَرِيرٌ .
#961
Sahih
(There is another chain) from Yahya bin Sa'eed that Al-Qasim bin Muhammad saw them sitting in Tashah-hud, so he mentioned the Hadith
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ قاسم بن محمد نے ( اپنے ساتھیوں کو ) تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت دکھائی پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، أَرَاهُمُ الْجُلُوسَ فِي التَّشَهُّدِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
#962
Daif
It was reported from Ibrahim that he said:"When the Prophet (ﷺ) would sit in the prayer, he would place his left foot horizontally - so much so that the upper-part of his foot became black
ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں ( تشہد کے لیے ) بیٹھتے تو اپنا بایاں پیر بچھاتے یہاں تک کہ آپ کے قدم کی پشت سیاہ ہو گئی تھی۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلاَةِ افْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى حَتَّى اسْوَدَّ ظَهْرُ قَدَمِهِ .
#963
Sahih
Abu Humaid al-sa’idi said (in the presence of ten compansions of the prophet):I am more informed than any of you regarding the manner in which the Messenger of Allah (ﷺ) offered his prayer. They said: Present it. The narrator then reported the tradition, saying: he bent the toes of his feet turning them towards the Qiblah when he prostrated, then he uttered “ Allah is most great,” and raised (his head), and bent his left foot and sat on it, and he did the same in the second Rakah. The narrator then transmitted the tradition, and added: In the prostration (i.e., the Rakah) which ended at the salutation, he sat on the hips at the left side. ahmad (b. Hanbal) added: they said : You are right. This is how he used to pray. They (Ahmed and Musaddad) did not mention in their versions how he sat after offering two rak’ahs of prayer
محمد بن عمرو کہتے کہ میں نے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس اصحاب کی موجودگی میں سنا، اور احمد بن حنبل کی روایت میں ہے کہ محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس اصحاب کی موجودگی میں، جن میں ابوقتادہ بھی تھے، ابوحمید کو یہ کہتا سنا کہ میں تم لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ نماز کو جانتا ہوں، لوگوں نے کہا: تو آپ پیش کیجئے، پھر راوی نے حدیث ذکر کی اس میں ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو پاؤں کی انگلیاں کھلی رکھتے پھر «الله أكبر» کہتے اور سجدے سے سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پاؤں موڑتے اور اس پر بیٹھتے پھر دوسری رکعت میں ایسا ہی کرتے، پھر راوی نے حدیث ذکر کی اس میں ہے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس ( آخری ) سجدے سے فارغ ہوتے جس کے بعد سلام پھیرنا رہتا ہے تو بایاں پاؤں ایک طرف نکال لیتے اور بائیں سرین پر ٹیک لگا کر بیٹھتے۔ احمد نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے: پھر لوگوں نے ان سے کہا: آپ نے سچ کہا، آپ اسی طرح نماز پڑھتے تھے، لیکن ان دونوں نے یہ نہیں ذکر کیا کہ دو رکعت پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح بیٹھے تھے؟ ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ سَمِعْتُهُ فِي، عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - وَقَالَ أَحْمَدُ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ أَبُو قَتَادَةَ - قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالُوا فَاعْرِضْ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . قَالَ وَيَفْتَحُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ وَيَرْفَعُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . قَالَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الأَيْسَرِ . زَادَ أَحْمَدُ قَالُوا صَدَقْتَ هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي وَلَمْ يَذْكُرَا فِي حَدِيثِهِمَا الْجُلُوسَ فِي الثِّنْتَيْنِ كَيْفَ جَلَسَ
#964
Sahih
Muhammad b. ‘Amr b.’Ata’ was sitting in the company of a few Companions of the Messenger of Allah (ﷺ). He then narrated his tradition, but he did not mention the name of Abu Qatadah. He said:When he( the Prophet) sat up the two rak’ahs he sat on his left foot; and when sat up after the last rak’ah he put out his left foot and sat on his hip
محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ ( ایک مجلس میں ) بیٹھے ہوئے تھے، پھر انہوں نے یہی مذکورہ حدیث بیان کی، اور ابوقتادہ کا ذکر نہیں کیا کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت کے بعد ( تشہد کے لیے ) بیٹھتے تو اپنے بائیں پیر پر بیٹھتے اور جب اخیر رکعت کے بعد بیٹھتے تو اپنا بایاں پیر ( دائیں جانب ) آگے نکال لیتے اور اپنے سرین پر بیٹھتے۔
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيِّ، وَيَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا قَتَادَةَ قَالَ فَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ جَلَسَ عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى فَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَةِ الأَخِيرَةِ قَدَّمَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَجَلَسَ عَلَى مَقْعَدَتِهِ .
#965
Sahih
Muhammad b. ‘Amr al-Amir said:I was sitting in the company( of the Companions). He then narrated this tradition saying: When he(the Prophet) sat up after two rak’ahs, he sat on the sole of his left foot and raised his left foot. When he sat up after four rak’ahs, he placed his left hip on the ground and put out his both feet on one side
محمد بن عمرو عامری کہتے ہیں کہ میں ایک مجلس میں تھا، پھر انہوں نے یہی حدیث بیان کی جس میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت پڑھ کر بیٹھتے تو اپنے بائیں قدم کے تلوے پر بیٹھتے اور اپنا داہنا پیر کھڑا رکھتے پھر جب چوتھی رکعت ہوتی تو اپنی بائیں سرین کو زمین سے لگاتے اور اپنے دونوں قدموں کو ایک طرف نکال لیتے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْعَامِرِيِّ، قَالَ كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ فِيهِ فَإِذَا قَعَدَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَعَدَ عَلَى بَطْنِ قَدَمِهِ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى فَإِذَا كَانَتِ الرَّابِعَةُ أَفْضَى بِوَرِكِهِ الْيُسْرَى إِلَى الأَرْضِ وَأَخْرَجَ قَدَمَيْهِ مِنْ نَاحِيَةٍ وَاحِدَةٍ .
#966
Daif
’Abbas or ‘Ayyash b. Sahl al-Sa’id that he attended a company in which his father was also present. He then narrated this tradition saying:He(the Prophet) prostrated himself, he depended on his palms, knees and the toes of his feet. When he sat up, he sat on his hips, and raised his other foot. He then uttered the takbir(Allah is most great) and prostrated himself. He uttered the takbir and stood up and did not sit on his hips. Then he repeated(the same) and offered the second rak’ah; he uttered the takbir in the same manner, and sat up after two rak’ahs. When he was about to stand up, he stood up after saying the takbir. Then he offered the last two rak’ahs. When he saluted, he saluted on his right and left sides. Abu Dawud said: in this tradition there is no mention of sitting on hips and raising hands when he stood after two rak’ahs as narrated by ‘Abu al-Hamid
عباس بن سہل یا عیاش بن سہل ساعدی سے روایت ہے کہ وہ ایک مجلس میں تھے، جس میں ان کے والد سہل ساعدی رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے تو اس مجلس میں انہوں نے ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اپنی دونوں ہتھیلیوں پر اور اپنے دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں کے سروں پر سہارا کیا، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( سجدے سے سر اٹھا کر ) بیٹھے تو تورک کیا یعنی سرین پر بیٹھے اور اپنے دوسرے قدم کو کھڑا رکھا پھر «الله أكبر» کہا اور سجدہ کیا، پھر «الله أكبر» کہہ کر کھڑے ہوئے اور تورک نہیں کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے اور دوسری رکعت پڑھی تو اسی طرح «الله أكبر» کہا، پھر دو رکعت کے بعد بیٹھے یہاں تک کہ جب قیام کے لیے اٹھنے کا ارادہ کرنے لگے تو «الله أكبر» کہہ کر اٹھے، پھر آخری دونوں رکعتیں پڑھیں، پھر جب سلام پھیرا تو اپنی دائیں جانب اور بائیں جانب پھیرا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عیسیٰ بن عبداللہ نے اپنی روایت میں تورک اور دو رکعت پڑھ کر اٹھتے وقت ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا ہے، جس کا ذکر عبدالحمید نے کیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، حَدَّثَنِي زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَبَّاسِ، - أَوْ عَيَّاشِ - بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَبُوهُ فَذُكِرَ فِيهِ قَالَ فَسَجَدَ فَانْتَصَبَ عَلَى كَفَّيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ جَالِسٌ فَتَوَرَّكَ وَنَصَبَ قَدَمَهُ الأُخْرَى ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ ثُمَّ كَبَّرَ فَقَامَ وَلَمْ يَتَوَرَّكْ ثُمَّ عَادَ فَرَكَعَ الرَّكْعَةَ الأُخْرَى فَكَبَّرَ كَذَلِكَ ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَنْهَضَ لِلْقِيَامِ قَامَ بِتَكْبِيرٍ ثُمَّ رَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ الأُخْرَيَيْنِ فَلَمَّا سَلَّمَ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِ مَا ذَكَرَ عَبْدُ الْحَمِيدِ فِي التَّوَرُّكِ وَالرَّفْعِ إِذَا قَامَ مِنْ ثِنْتَيْنِ .
#967
Sahih
‘Abbas b. Sahl said:Abu Humaid, Abu usaid, Sahl b. Sa’d and Muhammad b. Maslamah got together. Then he narrated this tradition. He did not mention the raising of hands when he stood after two rak’ahs, nor did he mention sitting. He said: When he finished (his prostration), he spread his foot (on the ground) and turned the toes of his right feet towards the qiblah(and then he sat on his left foot)
فلیح کہتے ہیں: عباس بن سہل نے مجھے خبر دی ہے کہ ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ اکٹھا ہوئے، پھر انہوں نے یہی حدیث ذکر کی اور دو رکعت پڑھ کر کھڑے ہوتے وقت ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی بیٹھنے کا، وہ کہتے ہیں: یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو گئے پھر بیٹھے اور اپنا بایاں پیر بچھایا اور اپنے داہنے پاؤں کی انگلیاں قبلہ کی جانب کیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، أَخْبَرَنِي فُلَيْحٌ، أَخْبَرَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ وَأَبُو أُسَيْدٍ وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ وَلَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ إِذَا قَامَ مِنْ ثِنْتَيْنِ وَلاَ الْجُلُوسَ قَالَ حَتَّى فَرَغَ ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَأَقْبَلَ بِصَدْرِ الْيُمْنَى عَلَى قِبْلَتِهِ .
#968
Sahih
‘Abd Allah b. Mas’ud said:when we (prayed and) sat up during prayer along the Messenger of Allah (may peach be upon him), we said: “Peace be to Allah before it is supplicated for His servants; peace be to so and so. “The Messenger of Allah (ﷺ) said: Do not say “Peace be to Allah ,”for Allah Himself is peace. When one of you sits(during the prayer), he should say: The adoration of the tongue are due to Allah, and acts of worship and all good things. Peace be upon you, O Prophet, and Allah’s mercy and His blessings. Peace be upon us and upon Allah’s upright servants. When you say that, it reaches every upright servant in heavens and earth or between heavens and earth. I testify that there is no god but Allah, and I testify that Muhammad is His servant and apostle. Then he may choose any supplication which pleases him and offer it
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں بیٹھتے تو یہ کہتے تھے «السلام على الله قبل عباده السلام على فلان وفلان» یعنی اللہ پر سلام ہو اس کے بندوں پر سلام سے پہلے یا اس کے بندوں کی طرف سے اور فلاں فلاں شخص پر سلام ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسا مت کہا کرو کہ اللہ پر سلام ہو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ خود سلام ہے، بلکہ جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو یہ کہے «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين» آداب، بندگیاں، صلاتیں اور پاکیزہ خیرات اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر کیونکہ جب تم یہ کہو گے تو ہر نیک بندے کو خواہ آسمان میں ہو یا زمین میں ہو یا دونوں کے بیچ میں ہو اس ( دعا کے پڑھنے ) کا ثواب پہنچے گا ( پھر یہ کہو ) : «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں پھر تم میں سے جس کو جو دعا زیادہ پسند ہو، وہ اس کے ذریعہ دعا کرے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ، حَدَّثَنِي شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ كُنَّا إِذَا جَلَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الصَّلاَةِ قُلْنَا السَّلاَمُ عَلَى اللَّهِ قَبْلَ عِبَادِهِ السَّلاَمُ عَلَى فُلاَنٍ وَفُلاَنٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَقُولُوا السَّلاَمُ عَلَى اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلاَمُ وَلَكِنْ إِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمْ ذَلِكَ أَصَابَ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ - أَوْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ - أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ لْيَتَخَيَّرْ أَحَدُكُمْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَيَدْعُو بِهِ " .
#969
Daif
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: We did not know what we should say when we sat during prayer. The Messenger of Allah (ﷺ) was taught (by Allah). He then narrated the tradition to the same effect. Sharik reported from Jami', from AbuWa'il on the authority of Abdullah ibn Mas'ud something similar. He said: He used to teach us also some other words, but he did not teach them as he taught us the tashahhud: O Allah, join our hearts, mend our social relationship, guide us to the path of peace, bring us from darkness to light, save us from obscenities, outward or inward, and bless our ears, our eyes, our hearts, our wives, our children, and relent toward us; Thou art the Relenting, the Merciful. And make us grateful for Thy blessing and make us praise it while accepting it and give it to us in full
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم کو معلوم نہ تھا کہ جب ہم نماز میں بیٹھیں تو کیا کہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا، پھر راوی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ شریک کہتے ہیں: ہم سے جامع یعنی ابن شداد نے بیان کیا کہ انہوں نے ابووائل سے اور ابووائل نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل روایت کی ہے اس میں ( اتنا اضافہ ) ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں چند کلمات سکھاتے تھے اور انہیں اس طرح نہیں سکھاتے تھے جیسے تشہد سکھاتے تھے اور وہ یہ ہیں: «اللهم ألف بين قلوبنا وأصلح ذات بيننا واهدنا سبل السلام ونجنا من الظلمات إلى النور وجنبنا الفواحش ما ظهر منها وما بطن وبارك لنا في أسماعنا وأبصارنا وقلوبنا وأزواجنا وذرياتنا وتب علينا إنك أنت التواب الرحيم واجعلنا شاكرين لنعمتك مثنين بها قابليها وأتمها علينا» اے اللہ! تو ہمارے دلوں میں الفت و محبت پیدا کر دے، اور ہماری حالتوں کو درست فرما دے، اور راہ سلامتی کی جانب ہماری رہنمائی کر دے اور ہمیں تاریکیوں سے نجات دے کر روشنی عطا کر دے، آنکھوں، دلوں اور ہماری بیوی بچوں میں برکت عطا کر دے، اور ہماری توبہ قبول فرما لے تو توبہ قبول فرمانے والا اور رحم و کرم کرنے والا ہے، اور ہمیں اپنی نعمتوں پر شکر گزار و ثنا خواں اور اسے قبول کرنے والا بنا دے، اور اے اللہ! ان نعمتوں کو ہمارے اوپر کامل کر دے ۔
حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ، - يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ - عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا لاَ نَدْرِي مَا نَقُولُ إِذَا جَلَسْنَا فِي الصَّلاَةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ عَلِمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ . قَالَ شَرِيكٌ وَحَدَّثَنَا جَامِعٌ، - يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ - عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بِمِثْلِهِ قَالَ وَكَانَ يُعَلِّمُنَا كَلِمَاتٍ وَلَمْ يَكُنْ يُعَلِّمُنَاهُنَّ كَمَا يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ " اللَّهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلاَمِ وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَبَارِكْ لَنَا فِي أَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُلُوبِنَا وَأَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِكَ مُثْنِينَ بِهَا قَابِلِيهَا وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا " .
#970
Shadh
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: Alqamah said that Abdullah ibn Mas'ud caught hold of his hand saying that the Messenger of Allah (ﷺ) caught hold of his (Ibn Mas'ud's) hand and taught him the tashahhud during prayer. He then narrated the (well known ) tradition (of tashahhud). This version adds: When you say this or finish this, then you have completed your prayer. If you want to stand up, then stand, and if you want to remain sitting, then remain sitting
قاسم بن مخیمرہ کہتے ہیں کہ علقمہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑا ( اور انہیں نماز میں تشہد کے کلمات سکھائے ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ان کو نماز میں تشہد کے کلمات سکھائے، پھر راوی نے اعمش کی حدیث کی دعا کے مثل ذکر کیا، اس میں ( اتنا اضافہ ) ہے کہ جب تم نے یہ دعا پڑھ لی یا پوری کر لی تو تمہاری نماز پوری ہو گئی، اگر کھڑے ہونا چاہو تو کھڑے ہو جاؤ اور اگر بیٹھے رہنا چاہو تو بیٹھے رہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، قَالَ أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي فَحَدَّثَنِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَخَذَ بِيَدِهِ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخَذَ بِيَدِ عَبْدِ اللَّهِ فَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلاَةِ فَذَكَرَ مِثْلَ دُعَاءِ حَدِيثِ الأَعْمَشِ " إِذَا قُلْتَ هَذَا أَوْ قَضَيْتَ هَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ صَلاَتَكَ إِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ " .
#971
Sahih
Ibn ‘Umar reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:The adoration of the tongue are due to Allah, and acts of worship, all good things. Peace be upon you, O Prophet, and Allah’s mercy and His blessings. Ibn ‘Umar said: I added: “And Allah’s blessings, peace be upon us, and upon Allah’s upright servants. I testify that there is not god but Allah. “Ibn ‘Umar said: I added to it: He is alone, no one is His associate, and I testify that Muhammad is His servant and His Apostle
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تشہد کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ تشہد یہ ہے: «التحيات لله الصلوات الطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته» آداب بندگیاں، اور پاکیزہ صلاتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اس تشہد میں «وبركاته» اور «وحده لا شريك له» کا اضافہ میں نے کیا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي التَّشَهُّدِ " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ " . قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ زِدْتُ فِيهَا وَبَرَكَاتُهُ . " السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ " . قَالَ ابْنُ عُمَرَ زِدْتُ فِيهَا وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ . " وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " .
#972
Sahih
Narrated AbuMusa al-Ash'ari: Hittan ibn Abdullah ar-Ruqashi said: AbuMusa al-Ash'ari led us in prayer. When he sat at the end of his prayer, one of the people said: Prayer has been established by virtue and purity. When AbuMusa returned (from his prayer or finished his prayer), he gave his attention to the people, and said: Which of you is the speaker of such and such words? The people remained silent. Which of you is the speaker of such and such words? The people remained silent. He said: You might have said them, Hittan. He replied: I did not say them. I was afraid you might punish me. One of the people said: I said them and I did not intend by them (anything) except good. AbuMusa said: Do you not know how you utter (them) in your prayer? The Messenger of Allah (ﷺ) addressed us, and taught us and explained to us our way of doing and taught us our prayer. He said: When you pray a (congregational) prayer, straighten your rows, then one of you should lead you in prayer. When he says the takbir (Allah is Most Great), say the takbir, and when he recites verses "Not of those upon whom is Thy anger, nor of those who err" (i.e. the end of Surah i.), say Amin; Allah will favour you. When he says "Allah is most great," and bows, say "Allah is most great" and bow, for the imam will bow before you, and will raise (his head) before you. The Messenger of Allah (ﷺ) said: This is for that. When he says "Allah listens to the one who praises Him," say: "O Allah, our Lord, to Thee be praise, Allah be praised," Allah will listen to you, for Allah, the Exalted, said by the tongue of His Prophet (ﷺ): "Allah listens to the one who praises Him." When he says "Allah is most great" and prostrates, say: "Allah is most great" and prostrate, for the imam prostrates before you and raises his head before you. The Messenger of Allah (ﷺ) said: This is for that. When he sits, each one of you should say "The adorations of the tongue, all good things, and acts of worship are due to Allah. Peace be upon you, O Prophet, and Allah's mercy and His blessings. Peace be upon us and upon Allah's upright servants. I testify that there is no god but Allah, and I testify that Muhammad is His servant and Apostle." This version of Ahmad does not mention the words "and His blessings" nor the phrase "and I testify"; instead, it has the words "that Muhammad
حطان بن عبداللہ رقاشی کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی تو جب وہ اخیر نماز میں بیٹھنے لگے تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: نماز نیکی اور پاکی کے ساتھ مقرر کی گئی ہے تو جب ابوموسیٰ اشعری نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور پوچھا ( ابھی ) تم میں سے کس نے اس اس طرح کی بات کی ہے؟ راوی کہتے ہیں: تو لوگ خاموش رہے، پھر انہوں نے پوچھا: تم میں سے کس نے اس اس طرح کی بات کی ہے؟ راوی کہتے ہیں: لوگ پھر خاموش رہے تو ابوموسیٰ اشعری نے کہا: حطان! شاید تم نے یہ بات کہی ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے نہیں کہی ہے اور میں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں آپ مجھے ہی سزا نہ دے ڈالیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر ایک دوسرے شخص نے کہا: میں نے کہی ہے اور میری نیت خیر ہی کی تھی، اس پر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ تم اپنی نماز میں کیا کہو؟ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور ہم کو سکھایا اور ہمیں ہمارا طریقہ بتایا اور ہمیں ہماری نماز سکھائی اور فرمایا: جب تم نماز پڑھنے کا قصد کرو، تو اپنی صفوں کو درست کرو، پھر تم میں سے کوئی شخص تمہاری امامت کرے تو جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم آمین کہو، اللہ تم سے محبت فرمائے گا ۱؎ اور جب وہ «الله أكبر» کہے اور رکوع کرے تو تم بھی «الله أكبر» کہو اور رکوع کرو کیونکہ امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہ اس کے برابر ہو گیا ۲؎ اور جب وہ «سمع الله لمن حمده»کہے تو تم «اللهم ربنا لك الحمد» کہو، اللہ تمہاری سنے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی ارشاد فرمایا ہے «سمع الله لمن حمده»یعنی اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اور جب تکبیر کہے اور سجدہ کرے تو تم بھی تکبیر کہو اور سجدہ کرو کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہ اس کے برابر ہو جائے گا، پھر جب تم میں سے کوئی قعدہ میں بیٹھے تو اس کی سب سے پہلی بات یہ کہے: «التحيات الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» آداب، بندگیاں، پاکیزہ خیرات، اور صلاۃ و دعائیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ احمد نے اپنی روایت میں: «وبركاته» کا لفظ نہیں کہا ہے اور نہ ہی «أشهد» کہا بلکہ «وأن محمدا» کہا ہے۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، قَالَ صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ فَلَمَّا جَلَسَ فِي آخِرِ صَلاَتِهِ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أُقِرَّتِ الصَّلاَةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ . فَلَمَّا انْفَتَلَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا فَأَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا فَأَرَمَّ الْقَوْمُ قَالَ فَلَعَلَّكَ يَا حِطَّانُ أَنْتَ قُلْتَهَا . قَالَ مَا قُلْتُهَا وَلَقَدْ رَهِبْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا . قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَنَا قُلْتُهَا وَمَا أَرَدْتُ بِهَا إِلاَّ الْخَيْرَ . فَقَالَ أَبُو مُوسَى أَمَا تَعْلَمُونَ كَيْفَ تَقُولُونَ فِي صَلاَتِكُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا وَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا وَعَلَّمَنَا صَلاَتَنَا فَقَالَ " إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثُمَّ لْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَرَأَ { غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ } فَقُولُوا آمِينَ يُجِبْكُمُ اللَّهُ وَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا فَإِنَّ الإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَتِلْكَ بِتِلْكَ وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعِ اللَّهُ لَكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا فَإِنَّ الإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَتِلْكَ بِتِلْكَ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " . لَمْ يَقُلْ أَحْمَدُ " وَبَرَكَاتُهُ " . وَلاَ قَالَ " وَأَشْهَدُ " . قَالَ " وَأَنَّ مُحَمَّدًا " .
#973
Sahih
This tradition has also been transmitted by Hittan b. ‘Abd Allah al-Ruqashi through a different chain of narrators. This version adds:When he( the imam) recites the Qur’an, keep silence(and listen attentively). And in the tashahhud this version adds after the words “I testify that there is no god but Allah” the words “He is alone, and there is no associate of Him.” Abu Dawud said: His word "And keep silence" is not guarded; it has been narrated by Sulaiman al-Taimi alone in his version
جناب ابو غلاب نے حطان بن عبداللہ رقاشی سے یہ حدیث بیان کی اور اضافہ کیا کہ امام جب قراءت کرے تو خاموش رہو اور تشہد میں «أشهد أن لا إله إلا الله» کے بعد «وحده لا شريك له» اضافہ کیا۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ «فأنصتوا» (یعنی خاموش رہو) کے لفظ محفوظ نہیں ہیں۔ اس حدیث میں صرف سلیمان تیمی ہی اس کو روایت کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي غَلاَّبٍ، يُحَدِّثُهُ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ زَادَ " فَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا " . وَقَالَ فِي التَّشَهُّدِ بَعْدَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ زَادَ " وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَوْلُهُ " فَأَنْصِتُوا " . لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ لَمْ يَجِئْ بِهِ إِلاَّ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ .
#974
Sahih
Ibn ‘Abbas said:The Messenger of Allah( may peace be upon him) used to teach us the tashahhud as he would teach us the Qur’an, and would say: The blessed adoration of the tongue, acts of worship (and) all good things are due to Allah. Peace be upon you, O Prophet, and Allah’s mercy and His blessings. Peace be upon us and upon Allah’s upright servants. I testify that there is no god but Allah, and I testify that Muhammad is Allah’s apostle (peace be upon him)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے تھے جس طرح قرآن سکھاتے تھے، آپ کہا کرتے تھے: «التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا رسول الله» آداب، بندگیاں، پاکیزہ صلاۃ و دعائیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَطَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ وَكَانَ يَقُولُ " التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ " .
#975
Daif
Narrated Samurah ibn Jundub: The Messenger of Allah (ﷺ) commanded us (to recite) when we sit in the middle of the prayer or at its end before the salutation: The adorations of the tongue, all good things, acts of worship, and the Kingdom are due to Allah. Then give salutation to the right side; then salute your reciter (i.e. the imam) and yourselves. Abu Dawud said: Sulaiman b. Musa hails from Kufah and he lives in Damascus. Abu Dawud said: This collection of traditions indicates that al-Hasan (al-Basri) heard traditions from Samurah (b. Jundub)
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے «اما بعد» کے بعد کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ جب تم نماز کے بیچ میں یا اخیر میں بیٹھو تو سلام پھیرنے سے قبل یہ دعا پڑھو: «التحيات الطيبات والصلوات والملك لله» پھر دائیں جانب سلام پھیرو، پھر اپنے قاری پر اور خود اپنے اوپر سلام کرو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ صحیفہ ( جسے سمرہ نے اپنے بیٹے کے پاس لکھ کر بھیجا تھا ) یہ بتا رہا ہے کہ حسن بصری نے سمرہ سے سنا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْ��ِ سَمُرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَمَّا بَعْدُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا كَانَ فِي وَسَطِ الصَّلاَةِ أَوْ حِينَ انْقِضَائِهَا فَابْدَءُوا قَبْلَ التَّسْلِيمِ فَقُولُوا " التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ وَالصَّلَوَاتُ وَالْمُلْكُ لِلَّهِ ثُمَّ سَلِّمُوا عَلَى الْيَمِينِ ثُمَّ سَلِّمُوا عَلَى قَارِئِكُمْ وَعَلَى أَنْفُسِكُمْ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى كُوفِيُّ الأَصْلِ كَانَ بِدِمَشْقَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ دَلَّتْ هَذِهِ الصَّحِيفَةُ عَلَى أَنَّ الْحَسَنَ سَمِعَ مِنْ سَمُرَةَ .