#901
Daif
Abu Hurairah reported the Prophet(ﷺ) as saying:when one of you prostrates himself, he should not stretch out his forearms( on the ground) like a dog and he should join both of his thighs
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اپنے دونوں ہاتھ کتے کی طرح نہ بچھائے اور چاہیئے کہ اپنی دونوں رانوں کو ملا کر رکھے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَفْتَرِشْ يَدَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ وَلْيَضُمَّ فَخِذَيْهِ " .
#902
Daif
Narrated AbuHurayrah: The Companions of the Prophet (ﷺ) complained to the Prophet (ﷺ) about the hardship when they kept their forearms far away from their sides while prostrating. He said: Take help with the elbows (by spreading them on the ground and sticking them to the sides)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ سے شکایت کی کہ جب لوگ پھیل کر سجدہ کرتے ہیں تو سجدے میں ہمیں تکلیف ہوتی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زانو ( گھٹنے ) سے مدد لے لیا کرو ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ اشْتَكَى أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَشَقَّةَ السُّجُودِ عَلَيْهِمْ إِذَا انْفَرَجُوا فَقَالَ " اسْتَعِينُوا بِالرُّكَبِ " .
#903
Sahih
Narrated Abdullah ibn Umar: Sa'id ibn Ziyad ibn Subayh al-Hanafi said: I prayed by the side of Ibn Umar and I put my hands on my waist. When he finished his prayer, He said: This is a cross in prayer; the Messenger of Allah (ﷺ) used to forbid it
زیاد بن صبیح حنفی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بغل میں نماز پڑھی، اور اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ لیے، جب آپ نماز پڑھ چکے تو کہا: یہ ( کمر پر ہاتھ رکھنا ) نماز میں صلیب ( سولی ) کی شکل ہے ۱؎، اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع فرماتے تھے۲؎۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ صُبَيْحٍ الْحَنَفِيِّ، قَالَ صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ فَوَضَعْتُ يَدَىَّ عَلَى خَاصِرَتَىَّ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ هَذَا الصَّلْبُ فِي الصَّلاَةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنْهُ .
#904
Sahih
Narrated Abdullah ibn ash-Shikhkhir: I saw the Messenger of Allah (ﷺ) praying and a sound came from his breast like the rumbling of a mill owing to weeping
عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ کے سینے سے رونے کی وجہ سے چکی کی آواز کے مانند آواز آتی تھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلاَّمٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ - أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَفِي صَدْرِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الرَّحَى مِنَ الْبُكَاءِ صلى الله عليه وسلم .
#905
Hasan
Zaid b. Khalid al-Juhani reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:Anyone who performs ablution and performs his ablution well, and then he offers two rak’ahs of prayers in a way that he does not forget ( anything in it), will be forgiven all his past sins
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے ان میں وہ بھولے نہیں ۱؎ تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لاَ يَسْهُو فِيهِمَا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
#906
Sahih
Uqbah. B Amir al-Juhani reported the Messenger of Allah(ﷺ) as saying:Any one performs ablution and performs the ablution perfectly and then offers two rak’ahs of prayers concentrating on them with his heart and face but paradise will necessarily fall to his lot
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے اور اپنے دل اور چہرے کو پوری طرح سے متوجہ کر کے دو رکعت نماز ادا کرے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ يُقْبِلُ بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ عَلَيْهِمَا إِلاَّ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " .
#907
Hasan
مسور بن یزید مالکی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں قرآت کر رہے تھے، ( یحییٰ کی روایت میں ہے کبھی مسور نے یوں کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں قرآت کر رہے تھے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آیتیں چھوڑ دیں، انہیں نہیں پڑھا ( نماز کے بعد ) ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فلاں فلاں آیتیں چھوڑ دی ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھے یاد کیوں نہیں دلایا؟ ۔ سلیمان نے اپنی روایت میں کہا کہ: میں یہ سمجھتا تھا کہ وہ منسوخ ہو گئی ہیں -سلیمان کی روایت میں ہے کہ مجھ سے یحییٰ بن کثیر ازدی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم سے مسور بن یزید اسدی مالکی نے بیان کیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، اس میں قرآت کی تو آپ کو شبہ ہو گیا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے؟ ، ابی نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں ( لقمہ دینے سے ) کس چیز نے روک دیا؟ ۔
#908
Daif
Narrated Ali ibn AbuTalib: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Ali, do not instruct the imam during the prayer. Abu Dawud said: The narrator Abu Ishaq heard only for traditions from al-Harith, this tradition is not one of them
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی! تم نماز میں امام کو لقمہ مت دیا کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابواسحاق نے حارث سے صرف چار حدیثیں سنی ہیں اور حدیث ان میں سے نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عَلِيُّ لاَ تَفْتَحْ عَلَى الإِمَامِ فِي الصَّلاَةِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو إِسْحَاقَ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الْحَارِثِ إِلاَّ أَرْبَعَةَ أَحَادِيثَ لَيْسَ هَذَا مِنْهَا .
#909
Daif
Narrated AbuDharr: The Prophet (ﷺ) said: Allah, the Most High, continues to turn favourably towards a servant while he is engaged in prayer as long as he does not look to the side (by turning the neck), but if he does so, He turns away from him
ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ حالت نماز میں بندے پر اس وقت تک متوجہ رہتا ہے جب تک کہ وہ ادھر ادھر نہیں دیکھتا ہے، پھر جب وہ ادھر ادھر دیکھنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لیتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الأَحْوَصِ، يُحَدِّثُنَا فِي مَجْلِسِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَزَالُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مُقْبِلاً عَلَى الْعَبْدِ وَهُوَ فِي صَلاَتِهِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ فَإِذَا الْتَفَتَ انْصَرَفَ عَنْهُ " .
#910
Sahih
‘A’ishah said:I asked the Messenger of Allah(ﷺ) about looking to the sides during prayer. He said: It is something which the devil snatches from a servant’s prayers
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آدمی کے نماز کے ادھر ادھر دیکھنے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بندے کی نماز سے شیطان کا اچک لینا ہے ( یعنی اس کے ثواب میں سے ایک حصہ اڑا لیتا ہے ) ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنِ الأَشْعَثِ، - يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْتِفَاتِ الرَّجُلِ فِي الصَّلاَةِ فَقَالَ " إِنَّمَا هُوَ اخْتِلاَسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلاَةِ الْعَبْدِ " .
#911
Sahih
Abu sa’I al-Khudri said:The mark of earth was seen on the forehead and nose of the Messenger of Allah(ﷺ) who had led the people I prayer. Abu Ali said: Abu Dawud did not recite this tradition when he recited his collection(of sunan) for the fourth time
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی، جس سے آپ کی پیشانی اور ناک پر مٹی کے نشانات دیکھے گئے۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رُئِيَ عَلَى جَبْهَتِهِ وَعَلَى أَرْنَبَتِهِ أَثَرُ طِينٍ مِنْ صَلاَةٍ صَلاَّهَا بِالنَّاسِ . قَالَ أَبُو عَلِيٍّ هَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَقْرَأْهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْعَرْضَةِ الرَّابِعَةِ .
#912
Sahih
Jabir b. Samurah said(this is the version of the narrator ‘Uthman):The Messenger of Allah(ﷺ) entered the mosque and saw there some people praying raising their hand towards the heaven. (This Is the common version: ) He said : People must stop raising their eyes to the heaven. The narrator Musaddad said: During prayer, otherwise their sight will be taken away
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ نماز میں اپنے ہاتھ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں انہیں چاہیئے کہ اس سے باز آ جائیں ورنہ ( ہو سکتا ہے کہ ) ان کی نگاہیں ان کی طرف واپس نہ لوٹیں یعنی بینائی جاتی رہے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، - وَهَذَا حَدِيثُهُ وَهُوَ أَتَمُّ - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ الطَّائِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، - قَالَ عُثْمَانُ - قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسْجِدَ فَرَأَى فِيهِ نَاسًا يُصَلُّونَ رَافِعِي أَيْدِيهِمْ إِلَى السَّمَاءِ - ثُمَّ اتَّفَقَا - فَقَالَ " لَيَنْتَهِيَنَّ رِجَالٌ يَشْخَصُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ - قَالَ مُسَدَّدٌ فِي الصَّلاَةِ - أَوْ لاَ تَرْجِعُ إِلَيْهِمْ أَبْصَارُهُمْ " .
#913
Sahih
Anas b. Malik reported the Messenger of Allah (ﷺ) assaying :What is the matter that people raise their (Upwards) in prayer. He then said sternly: They should stop doing that, otherwise their sight will be snatched away
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کا کیا حال ہے جو نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں؟ ، پھر اس سلسلہ میں آپ نے بڑی سخت بات کہی، اور فرمایا: لوگ اس سے باز آ جائیں ورنہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں گی ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُمْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ فِي صَلاَتِهِمْ " . فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ " لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ " .
#914
Sahih
Aishah said :the Messenger of Allah (ﷺ) once prayed with a sheet of cloth upon him. It had prints and paintings. He said: The prints of this (sheet) distracted my attention; take it to Abu Jahm and bring a blanket to me
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش و نگار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس چادر کے نقش و نگار نے نماز سے غافل کر دیا، اسے ابوجہم کے پاس لے جاؤ ( ابوجہم ہی نے وہ چادر آپ کو تحفہ میں دی تھی ) اور ان سے میرے لیے ان کی انبجانی چادر لے آؤ ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلاَمٌ فَقَالَ " شَغَلَتْنِي أَعْلاَمُ هَذِهِ اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّتِهِ " .
#915
Hasan
The above-mentioned tradition has also been narrated by ‘A’ishah through a different chain of transmitters. This version adds:He (the prophet) took a kind of sheet of cloth known as kurdi which belongs to Abu Jahm. The people told him; Messenger of Allah, the (former) sheet of cloth was better than this kind of kurdi sheet
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہم کی کر دی چادر لے لی، تو آپ سے کہا گیا: اللہ کے رسول! وہ ( باریک نقش و نگار والی ) چادر اس ( کر دی چادر ) سے اچھی تھی ۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ - قَالَ سَمِعْتُ هِشَامًا، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، بِهَذَا الْخَبَرِ قَالَ وَأَخَذَ كُرْدِيًّا كَانَ لأَبِي جَهْمٍ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْخَمِيصَةُ كَانَتْ خَيْرًا مِنَ الْكُرْدِيِّ .
#916
Sahih
Narrated Sahl ibn al-Hanzaliyyah: The iqamah for the morning prayer was pronounced and the Messenger of Allah (ﷺ) began to offer prayer while he was looking at the mountain-pass. (AbuDawud elaborated that the Prophet had sent a horseman to the mountain-pass at night in order to keep watch)
سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نماز یعنی فجر کے لیے تکبیر کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے لگے اور آپ گھاٹی کی طرف کنکھیوں سے دیکھتے جاتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: آپ نے رات میں نگرانی کے لیے ایک گھڑ سوار گھاٹی کی طرف بھیج رکھا تھا۔
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سَلاَّمٍ - عَنْ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلاَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي السَّلُولِيُّ، - هُوَ أَبُو كَبْشَةَ - عَنْ سَهْلِ ابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ، قَالَ ثُوِّبَ بِالصَّلاَةِ - يَعْنِي صَلاَةَ الصُّبْحِ - فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَهُوَ يَلْتَفِتُ إِلَى الشِّعْبِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَانَ أَرْسَلَ فَارِسًا إِلَى الشِّعْبِ مِنَ اللَّيْلِ يَحْرُسُ .
#917
Sahih
Abu Qatadah said:The Messenger of Allah (ﷺ) was leading the people in prayer with Umamah daughter of Zainab daughter of the Messenger of Allah(ﷺ) (in his lap). When he prostrated, he put her down and when he got up(after prostration) he lifted her up
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور اپنی نواسی امامہ بنت زینب کو کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جاتے تو انہیں اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا وَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا .
#918
Sahih
Narrated AbuQatadah: We were sitting in the mosque when the Messenger of Allah (ﷺ) came upon us carrying Umamah daughter of Abul'As ibn ar-Rabi'. Her mother was Zaynab daughter of the Messenger of Allah (ﷺ). She (Umamah) was a child and he (the Prophet) was carrying her on his shoulder. The Messenger of Allah (ﷺ) led (the people) in prayer while she was on his shoulder. When he bowed he put her down and took her up when he got up. He kept on doing so until he finished his prayer
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ آپ امامہ بنت ابوالعاص بن ربیع کو اپنے کندھے اٹھائے ہوئے تھے، امامہ کی والدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا تھیں، امامہ ابھی چھوٹی بچی تھیں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر تھیں، جب آپ رکوع کرتے تو انہیں اتار دیتے پھر جب کھڑے ہوتے تو انہیں دوبارہ اٹھا لیتے، اسی طرح کرتے ہوئے آپ نے اپنی پوری نماز ادا کی۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ، يَقُولُ بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ جُلُوسٌ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَحْمِلُ أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ وَأُمُّهَا زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ صَبِيَّةٌ يَحْمِلُهَا عَلَى عَاتِقِهِ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ عَلَى عَاتِقِهِ يَضَعُهَا إِذَا رَكَعَ وَيُعِيدُهَا إِذَا قَامَ حَتَّى قَضَى صَلاَتَهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ بِهَا .
#919
Sahih
Abu Qatadah al-Ansari said:I saw the Messenger of Allah(ﷺ) leading the people in prayer with Umamah daughter of Abu al-As on his neck (shoulder). When he prostrated, he put her down. Abu Dawud said: The narrator Makhramah did not hear from his father except one tradition
ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے دیکھا اور آپ کی نواسی امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہا آپ کی گردن پر سوار تھیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جاتے تو انہیں اتار دیتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ الأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي لِلنَّاسِ وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ عَلَى عُنُقِهِ فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَلَمْ يَسْمَعْ مَخْرَمَةُ مِنْ أَبِيهِ إِلاَّ حَدِيثًا وَاحِدًا .
#920
Daif
Abu Qatadah, a Companion of the Messenger of Allah(ﷺ), said:While we were waiting for the Messenger of Allah(ﷺ) for the noon or afternoon prayer, and Bilal had already called him for prayer, he came upon us with Umamah daughter of Abu al-As and daughter of his daughter on his neck. The Messenger of Allah (ﷺ) stood at the place of prayer and we stood behind him and she(Umamah) (all this time) was in her place. He uttered the takbir and we also uttered. When the Messenger of Allah(ﷺ) intended to bow, he took her and put her down, and then he bowed and prostrated till he finished his prostration. He then got up and took her and returned he to her place. The Messenger of Allah(ﷺ) kept on doing that in every rak’ah until he finished his prayer. May peace be upon him
صحابی رسول ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم لوگ ظہر یا عصر میں نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے اور بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کے لیے بلا چکے تھے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف لائے اور اس حال میں کہ ( آپ کی نواسی ) امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہما جو آپ کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کی بیٹی تھیں آپ کی گردن پر سوار تھیں تو آپ اپنی جگہ پر کھڑے ہوئے اور ہم لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے اور وہ اپنی جگہ پر اسی طرح بیٹھی رہیں، جیسے بیٹھی تھیں، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہا تو ہم لوگوں نے بھی «الله أكبر» کہا یہاں تک کہ جب آپ نے رکوع کرنا چاہا تو انہیں اتار کر نیچے بٹھا دیا، پھر رکوع اور سجدہ کیا، یہاں تک کہ جب آپ سجدے سے فارغ ہوئے پھر ( دوسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوئے تو انہیں اٹھا کر ( اپنی گردن پر ) اسی جگہ بٹھا لیا، جہاں وہ پہلے بیٹھی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر ہر رکعت میں ایسا ہی کرتے رہے یہاں تک کہ آپ نماز سے فارغ ہوئے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ - عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلصَّلاَةِ فِي الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ وَقَدْ دَعَاهُ بِلاَلٌ لِلصَّلاَةِ إِذْ خَرَجَ إِلَيْنَا وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ بِنْتُ ابْنَتِهِ عَلَى عُنُقِهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مُصَلاَّهُ وَقُمْنَا خَلْفَهُ وَهِيَ فِي مَكَانِهَا الَّذِي هِيَ فِيهِ قَالَ فَكَبَّرَ فَكَبَّرْنَا قَالَ حَتَّى إِذَا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَرْكَعَ أَخَذَهَا فَوَضَعَهَا ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ سُجُودِهِ ثُمَّ قَامَ أَخَذَهَا فَرَدَّهَا فِي مَكَانِهَا فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ بِهَا ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ حَتَّى فَرَغَ مِنْ صَلاَتِهِ .
#921
Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: Kill the two black things during prayer, the snake and scorpion
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں دونوں کالوں ( یعنی ) سانپ اور بچھو کو ( اگر دیکھو تو ) قتل کر ڈالو ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوا الأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلاَةِ الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ " .
#922
Hasan
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) was praying with his door bolted. I came and asked to have the door opened. He walked and opened the door for me. He then returned to his place for prayer. He (the narrator Urwah) mentioned that the door faced the qiblah
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، دروازہ بند تھا تو میں آئی اور دروازہ کھلوانا چاہا تو آپ نے ( حالت نماز میں ) چل کر میرے لیے دروازہ کھولا اور مصلی ( نماز کی جگہ ) پر واپس لوٹ گئے ۱؎۔ اور عروہ نے ذکر کیا کہ آپ کے گھر کا دروازہ قبلہ کی سمت میں تھا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، - وَهَذَا لَفْظُهُ - قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ - حَدَّثَنَا بُرْدٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ أَحْمَدُ - يُصَلِّي وَالْبَابُ عَلَيْهِ مُغْلَقٌ فَجِئْتُ فَاسْتَفْتَحْتُ - قَالَ أَحْمَدُ - فَمَشَى فَفَتَحَ لِي ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُصَلاَّهُ . وَذَكَرَ أَنَّ الْبَابَ كَانَ فِي الْقِبْلَةِ .
#923
Sahih
‘Abd Allah(b. Mas’ud) said:We used to salute the Messenger of Allah(ﷺ) while he was engaged in prayer and he would respond to our salutation, but when we returned from the Negas, we saluted him and he did not respond to us. He said : Prayer demands one’s whole attention
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے اس حال میں کہ آپ نماز میں ہوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سلام کا جواب دیتے تھے، لیکن جب ہم نجاشی ( بادشاہ حبشہ ) کے پاس سے لوٹ کر آئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا اور فرمایا: نماز ( خود ) ایک شغل ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي الصَّلاَةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا وَقَالَ " إِنَّ فِي الصَّلاَةِ لَشُغْلاً " .
#924
Hasan Sahih
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: We used to salute during prayer and talk about our needs. I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and found him praying. I saluted him, but he did not respond to me. I recalled what happened to me in the past and in the present. When the Messenger of Allah (ﷺ) finished his prayer, he said to me: Allah, the Almighty, creates new command as He wishes, and Allah, the Exalted, has sent a fresh command that you must not talk during prayer. He then returned my salutation
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( پہلے ) ہم نماز میں سلام کیا کرتے تھے اور کام کاج کی باتیں کر لیتے تھے، تو ( ایک بار ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا تو مجھے پرانی اور نئی باتوں کی فکر دامن گیر ہو گئی ۱؎، جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے، نیا حکم نازل کرتا ہے، اب اس نے نیا حکم یہ دیا ہے کہ نماز میں باتیں نہ کرو ، پھر آپ نے میرے سلام کا جواب دیا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا نُسَلِّمُ فِي الصَّلاَةِ وَنَأْمُرُ بِحَاجَتِنَا فَقَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ السَّلاَمَ فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدُثَ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصَّلاَةَ قَالَ " إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ وَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ قَدْ أَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ أَنْ لاَ تَكَلَّمُوا فِي الصَّلاَةِ " . فَرَدَّ عَلَىَّ السَّلاَمَ .
#925
Sahih
Narrated Suhayb: I passed by the Messenger of Allah (ﷺ) who was praying. I saluted him and he returned it by making a sign. The narrator said: I do not know but that he said: He made a sign with his finger. This is the version reported by Qutaybah
صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اس حال میں آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اشارہ سے سلام کا جواب دیا۔ نابل کہتے ہیں: مجھے یہی معلوم ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے«إشارة بأصبعه» کا لفظ کہا ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کے اشارہ سے سلام کا جواب دیا، یہ قتیبہ کی روایت کے الفاظ ہیں۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ اللَّيْثَ، حَدَّثَهُمْ عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ نَابِلٍ، صَاحِبِ الْعَبَاءِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ صُهَيْبٍ، أَنَّهُ قَالَ مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ إِشَارَةً . قَالَ وَلاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ قَالَ إِشَارَةً بِأُصْبُعِهِ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ .