#826
Sahih
Narrated AbuHurayrah: When the Messenger of Allah (ﷺ) finished a prayer in which he had recited (the Qur'an) loudly, he asked: Did any of you recite along with me just now? A man replied: Yes, Messenger of Allah. He said: I am wondering what is the matter with me that I have been contended with reciting the Qur'an. He said: When the people heard that from the Messenger of Allah (ﷺ) they ceased reciting (the Qur'an) along with him at the prayers in which he recited aloud. Abu Dawud said: This tradition reported by Ibn Ukaimah has also been narrated by Ma'mar, Yunus, and Usamah b. Zaid on the authority of al-Zuhri similar to the tradition of Malik
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نماز سے جس میں آپ نے بلند آواز سے قرآت کی تھی پلٹے تو فرمایا: کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ ابھی ابھی قرآت کی ہے؟ ، تو ایک آدمی نے عرض کیا: ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: تبھی تو میں ( دل میں ) کہہ رہا تھا کہ کیا ہو گیا ہے کہ قرآن میں میرے ساتھ کشمکش کی جا رہی ہے ۔ زہری کہتے ہیں: جس وقت لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا تو جس نماز میں آپ جہری قرآت کرتے تھے، اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآت کرنے سے رک گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن اکیمہ کی اس حدیث کو معمر، یونس اور اسامہ بن زید نے زہری سے مالک کی حدیث کے ہم معنی روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْصَرَفَ مِنْ صَلاَةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ " هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا " . فَقَالَ رَجُلٌ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ " . قَالَ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيمَا جَهَرَ فِيهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْقِرَاءَةِ مِنَ الصَّلَوَاتِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى حَدِيثَ ابْنِ أُكَيْمَةَ هَذَا مَعْمَرٌ وَيُونُسُ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَلَى مَعْنَى مَالِكٍ .
#827
Sahih
Abu Hurairah said:The Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer, that was, we think, the dawn prayer, He further narrated this tradition up to the words “what is the matter with me that I have been contended with in (the recitation of ) the Qur’an.” Abu Dawud said: Musaddad in his tradition said that Ma’mar said: The people ceased to recite (the Qur’an) at the prayer in which the Messenger of Allah (ﷺ) recited aloud. Ibn al-Sarh said in his version that Ma’mar reported from al-Zuhri on the authority of Abu Hurairah. Then the people ceased (to recite behind the imam). Another version says: Sufyan said: Al-Zuhri spoke a word that I could not hear. Then Ma’mar said: He said: Then people ceased (to recite the Qur’an) Abu Dawud said: This tradition has been narrated by ‘Abd al-Raman b. Ishaq on the authority of al-Zuhri. This version ends at the words: “What is the matter with me that I am contended with in (the recitation of) the Qur’an. Al-Awza’i also narrated it on the authority of al-Zuhri. This version has: Al-Zuhri said: The Muslims took lesson from that and thenceforth they did not recite (the Qur’an) at the prayer in which he (the Prophet) recited aloud. Abu Dawud said: I heard Muhammad b. Yaya b. Faris say: The words “the people ceased to recite (the Qur’an)” is a statement of al-zuhri
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، ہمارا گمان ہے کہ وہ نماز فجر تھی، پھر اسی مفہوم کی حدیث «ما لي أنازع القرآن» تک بیان کی۔ مسدد کی روایت میں ہے کہ معمر نے کہا: تو لوگ اس نماز میں قرآت سے رک گئے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہری قرآت کرتے تھے، اور ابن سرح کی روایت میں ہے کہ معمر نے زہری سے روایت کی ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: «فانتهى الناس» یعنی لوگ ( قرآت سے ) رک گئے، عبداللہ بن محمد زہری کہتے ہیں کہ سفیان نے کہا کہ زہری نے کوئی بات کہی، جسے میں سن نہ سکا تو معمر نے کہا وہ یہی «فانتهى الناس» کا کلمہ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے عبدالرحمٰن بن اسحاق نے زہری سے روایت کیا ہے اور ان کی روایت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «ما لي أنازع القرآن» پر ختم ہے اور اسے اوزاعی نے بھی زہری سے روایت کیا ہے، اس میں یہ ہے کہ زہری نے کہا: اس سے مسلمانوں نے نصیحت حاصل کی، چنانچہ جس نماز میں آپ جہری قرآت کرتے، آپ کے ساتھ قرآت نہیں کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن یحییٰ بن فارس کو کہتے ہو ے سنا ہے کہ «فانتهى الناس» زہری کا کلام ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، وَابْنُ السَّرْحِ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، سَمِعْتُ ابْنَ أُكَيْمَةَ، يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةً نَظُنُّ أَنَّهَا الصُّبْحُ بِمَعْنَاهُ إِلَى قَوْلِهِ " مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ مَعْمَرٌ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِيمَا جَهَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ابْنُ السَّرْحِ فِي حَدِيثِهِ قَالَ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَانْتَهَى النَّاسُ . وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ مِنْ بَيْنِهِمْ قَالَ سُفْيَانُ وَتَكَلَّمَ الزُّهْرِيُّ بِكَلِمَةٍ لَمْ أَسْمَعْهَا فَقَالَ مَعْمَرٌ إِنَّهُ قَالَ فَانْتَهَى النَّاسُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَانْتَهَى حَدِيثُهُ إِلَى قَوْلِهِ " مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ " . وَرَوَاهُ الأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ فِيهِ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَاتَّعَظَ الْمُسْلِمُونَ بِذَلِكَ فَلَمْ يَكُونُوا يَقْرَءُونَ مَعَهُ فِيمَا يَجْهَرُ بِهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ قَالَ قَوْلُهُ فَانْتَهَى النَّاسُ . مِنْ كَلاَمِ الزُّهْرِيِّ .
#828
Sahih
Narrated Imran ibn Husayn: The Prophet (ﷺ) led (us) in the noon prayer, and a man came and recited behind him "Glorify the name of thy Lord, the Most High" (Surah 87). When he finished (the prayer), he said: Which of you recited? They (the people) said: A man (recited). He said: I knew that some one of you confused me in it (in the recitation of the Qur'an). Abu Dawud said: Abu al-Walid said in his version: Shu'bah said: I asked Qatadah: Did Sa'id not say: Listen attentively to the Qur'an? He replied: (Yes), but that applies to prayer in which it (the Qur'an) is recited aloud. Ibn Kathir said in his version: I said to Qatadah: Perhaps he (the Prophet) disliked it (recitation). He said: If he had disliked it, he would have prohibited it
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی تو ایک شخص آیا اور اس نے آپ کے پیچھے «سبح اسم ربك الأعلى» کی قرآت کی، جب آپ فارغ ہوئے تو آپ نے پوچھا: تم میں کس نے قرآت کی ہے؟ ، لوگوں نے کہا: ایک شخص نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسا محسوس ہوا کہ تم میں سے کسی نے مجھے اشتباہ میں ڈال دیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالولید نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ شعبہ نے کہا تو میں نے قتادہ سے پوچھا: کیا سعید کا یہ کہنا نہیں ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو تم خاموش رہو؟ انہوں نے کہا: یہ حکم اس وقت ہے، جب قرآت جہر سے ہو۔ ابن کثیر نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ سے کہا: گویا آپ نے اسے ناپسند کیا تو انہوں نے کہا: اگر آپ کو یہ ناپسند ہوتا، تو آپ اس سے منع فرما دیتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، - الْمَعْنَى - عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الظُّهْرَ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَرَأَ خَلْفَهُ { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى } فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ " أَيُّكُمْ قَرَأَ " . قَالُوا رَجُلٌ . قَالَ " قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ فِي حَدِيثِهِ قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ أَلَيْسَ قَوْلُ سَعِيدٍ أَنْصِتْ لِلْقُرْآنِ قَالَ ذَاكَ إِذَا جَهَرَ بِهِ . وَقَالَ ابْنُ كَثِيرٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ قُلْتُ لِقَتَادَةَ كَأَنَّهُ كَرِهَهُ . قَالَ لَوْ كَرِهَهُ نَهَى عَنْهُ .
#829
Sahih
‘Imran b. Husain reported that the prophet of Allah (ﷺ) led them in the noon prayer. When he finished it, he said:Which of you did recite the surah “ Glorify the name of thy lord, the Most High”(Surah lxxxvii.) A man said: I . He said: I knew that some one of you confused me in it(i.e in the recitation of the Qur’an)
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر پڑھائی، تو جب آپ پلٹے تو فرمایا: تم میں سے کس نے ( ہمارے پیچھے ) سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھی ہے؟ ، تو ایک آدمی نے کہا: میں نے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے محسوس ہوا کہ تم میں سے کسی نے میرے دل میں خلجان ڈال دیا ہے ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِهِمُ الظُّهْرَ فَلَمَّا انْفَتَلَ قَالَ " أَيُّكُمْ قَرَأَ بِـ { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى } " . فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا . فَقَالَ " عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا " .
#830
Sahih
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Messenger of Allah (ﷺ) came to us while we were reciting the Qur'an, and there were among us bedouins and the non-Arabs. He said: Recite, all is well. In the near future there will appear people who will straighten it (the Qur'an) as an arrow is straightened. They will recite it quickly and not slowly (or it means that they will get the reward in this world and not in the Hereafter)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم لوگ قرآن پڑھ رہے تھے اور ہم میں بدوی بھی تھے اور عجمی بھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑھو سب ٹھیک ہے عنقریب کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو اسے ( یعنی قرآن کے الفاظ و کلمات کو ) اسی طرح درست کریں گے جیسے تیر درست کیا جاتا ہے ( یعنی تجوید و قرآت میں مبالغہ کریں گے ) اور اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کے بجائے جلدی جلدی پڑھیں گے ۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَفِينَا الأَعْرَابِيُّ وَالأَعْجَمِيُّ فَقَالَ " اقْرَءُوا فَكُلٌّ حَسَنٌ وَسَيَجِيءُ أَقْوَامٌ يُقِيمُونَهُ كَمَا يُقَامُ الْقِدْحُ يَتَعَجَّلُونَهُ وَلاَ يَتَأَجَّلُونَهُ " .
#831
Hasan Sahih
Sahl b. Sa’d al-Sa’idi said:The Messenger of Allah(ﷺ) one day came out to us while we were reciting the Qur’an. He said: Praise be to Allah. The Book of Allah is one, and among you are the red, and among you are the white and among you are the black. Recite it before there appear people who will recite it and straighten it as an arrow is straightened. They will get their reward for it in this world and will not get it in the Hereafter
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم قرآن کی تلاوت کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الحمداللہ! اللہ کی کتاب ایک ہے اور تم لوگوں میں اس کی تلاوت کرنے والے سرخ، سفید، سیاہ سب طرح کے لوگ ہیں، تم اسے پڑھو قبل اس کے کہ ایسے لوگ آ کر اسے پڑھیں، جو اسے اسی طرح درست کریں گے، جس طرح تیر کو درست کیا جاتا ہے، اس کا بدلہ ( ثواب ) دنیا ہی میں لے لیا جائے گا اور اسے آخرت کے لیے نہیں رکھا جائے گا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، وَابْنُ، لَهِيعَةَ عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ وَفَاءِ بْنِ شُرَيْحٍ الصَّدَفِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا وَنَحْنُ نَقْتَرِئُ فَقَالَ " الْحَمْدُ لِلَّهِ كِتَابُ اللَّهِ وَاحِدٌ وَفِيكُمُ الأَحْمَرُ وَفِيكُمُ الأَبْيَضُ وَفِيكُمُ الأَسْوَدُ اقْرَءُوهُ قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَهُ أَقْوَامٌ يُقِيمُونَهُ كَمَا يُقَوَّمُ السَّهْمُ يَتَعَجَّلُ أَجْرَهُ وَلاَ يَتَأَجَّلُهُ " .
#832
Hasan
Narrated Abdullah ibn AbuAwfa: A man came to the Prophet (ﷺ) and said: I cannot memorise anything from the Qur'an: so teach me something which is sufficient for me. He said: Say Glory be to Allah, and praise be to Allah, and there is no god but Allah, and Allah is most great, and there is no might and no strength but in Allah. :He said: Messenger of Allah, this is for Allah, but what is for me? He said: Say: O Allah have mercy on me, and sustain me, and keep me well, and guide me. When he stood up, he made a sign with his hand (indicating that he had earned a lot). The Messenger of Allah (ﷺ) said: He filed up his hand with virtues
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ میں قرآن سے کچھ یاد نہیں کر سکتا، مجھے کچھ سکھا دیجئیے جو میرے لیے (قراءت قرآن سے) کفایت کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» پڑھا کرو۔“ اللہ پاک ہے، اسی کی تعریف ہے، اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ برائیوں سے بچنا اور نیکی کی توفیق ملنا، اللہ کے سوا کسی سے ممکن نہیں۔ وہ عالی ہے عظمت والا ہے۔“ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! یہ تو اللہ کے لیے ہوا، میرے لیے کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہا کرو «اللهم ارحَمْنِي وارزُقْنِي وعَافِني واهدِنِي» ”اے اللہ! مجھ پر رحم فرما۔ مجھے رزق دے، راحت و عافیت سے نواز اور ہدایت سے سرفراز فرما۔“ چنانچہ جب وہ کھڑا ہوا تو اپنے ہاتھوں سے ایسے اشارہ کیا ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے اپنے ہاتھ خیر سے بھر لیے ہیں۔‘‘
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالاَنِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي لاَ أَسْتَطِيعُ أَنْ آخُذَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا فَعَلِّمْنِي مَا يُجْزِئُنِي مِنْهُ . قَالَ " قُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَمَا لِي قَالَ " قُلِ اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي وَاهْدِنِي " . فَلَمَّا قَامَ قَالَ هَكَذَا بِيَدِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَّا هَذَا فَقَدْ مَلأَ يَدَهُ مِنَ الْخَيْرِ " .
#833
Daif Muquf
Jabir b. ‘Abd Allah said:we used to offer supererogatory prayers and recite supplications while we were standing, and would glorify Allah while bowing and prostrating
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ہم نفل نماز پڑھتے تو قیام و قعود کی حالت میں دعا کرتے اور رکوع و سجود کی حالت میں تسبیح پڑھتے تھے
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، - يَعْنِي الْفَزَارِيَّ - عَنْ حُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي التَّطَوُّعَ نَدْعُو قِيَامًا وَقُعُودًا وَنُسَبِّحُ رُكُوعًا وَسُجُودًا .
#834
Sahih Maqtu
The above-mention tradition has also been transmitted through a different chain of narrators by Humaid, but he did not mention the word “Supererogatory prayer” This version has:Al-Hasan (al-Basri) would recite fatihat al-kitab in the noon and afternoon prayers while he led in prayer or he was behind the imam and would glorify Allah, and would repeatedly say: “Allah is most great” and “ There is no god but Allah” (i.e takbir and tahlil) equal to the amount one recites al-Qaf (Surah 50) and al-Dhariyat(surah)
حمید سے اسی کے مثل مروی ہے، اس میں راوی نے نفل کا ذکر نہیں کیا ہے، اس میں ہے کہ حسن بصری ظہر اور عصر میں خواہ وہ امام ہوں یا امام کے پیچھے ہوں، سورۃ فاتحہ پڑھتے تھے اور سورۃ ق اور سورۃ ذاریات پڑھنے کے بقدر ( وقت میں ) تسبیح و تکبیر اور تہلیل کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، مِثْلَهُ لَمْ يَذْكُرِ التَّطَوُّعَ قَالَ كَانَ الْحَسَنُ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ إِمَامًا أَوْ خَلْفَ إِمَامٍ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَيُسَبِّحُ وَيُكَبِّرُ وَيُهَلِّلُ قَدْرَ ق وَالذَّارِيَاتِ .
#835
Sahih
Mutarrif said:I and ‘Imran b. Husain offered prayer behind ‘All b. AbI Talib(may Allah be pleased with him). When he prostrated, he uttered the takbir (Allah is most great) and when he bowed, he uttered the takbir and when he stood up at the end of two rak’ahs, he uttered the takbir. When we finished our prayer, ‘Imran caught hold of my hand, and said: He has led us in prayer just now like the prayer offered by Muhammed(may peace by upon him)
مطرف کہتے ہیں میں نے اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو جب وہ سجدہ کرتے تو «الله اكبر» کہتے، جب رکوع کرتے تو «الله اكبر» کہتے اور جب دو رکعت پڑھ کر تیسری کے لیے اٹھتے تو «الله اكبر» کہتے، جب ہم فارغ ہوئے تو عمران رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: ابھی انہوں نے ایسی نماز پڑھی ہے ( راوی کو شک ہے ) یا ابھی ہمیں ایسی نماز پڑھائی ہے، جیسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ صَلَّيْتُ أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رضى الله عنه - فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ وَإِذَا رَكَعَ كَبَّرَ وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ فَلَمَّا انْصَرَفْنَا أَخَذَ عِمْرَانُ بِيَدِي وَقَالَ لَقَدْ صَلَّى هَذَا قِبَلَ أَوْ قَالَ لَقَدْ صَلَّى بِنَا هَذَا قِبَلَ صَلاَةِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم .
#836
Sahih
Abu bakr b. ‘Abd al-Rahman and abu Salamah said:Abu Hurairah would utter the takbir in every prayer, whether obligatory or non-obligatory, He would utter the takbir when he stood, and he would utter the takbir when he bowed, then he would say: “Allah listens to him who praises Him”; he then would say before prostrating himself; “ Our Lord, to Thee be praise”; then he would say while falling in prostration: “Allah is most great”; he then would utter the takbir when he raised his head after prostration, and then utter the takbir when he prostrated, and then utter takbir the takbir when he stood up at the end of two rak’ahs after sitting down. He used to do so in every rak’ah until he finished his prayer. Then he would say at the end of the prayer: By Him in Whose hands lies my life, I am closer to the Messenger of Allah(ﷺ) in respect of his prayer. Such was the prayer he used to offer until he departed from the world. Abu Dawud said: Malik, al-Zubaidi and others have narrated so that they form the last words from al-Zuhri on the authority of ‘Ali b, Husain. And this is supported by the version reported by ‘Abd al-A’la from Ma’mar and SHu’aib b. Abi Hamzah on the authority of Al-Zuhri
زہری کہتے ہیں: مجھے ابوبکر بن عبدالرحمٰن اور ابوسلمہ نے خبر دی ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرض ہو یا نفل ہر نماز میں تکبیر کہتے تھے خواہ فرض ہو یا نفل، نماز کے لیے کھڑے ہوتے وقت تکبیر «الله اكبر» ( تکبیر تحریمہ ) کہتے، پھر رکوع کرتے وقت تکبیر «الله اكبر» کہتے، پھر «سمع الله لمن حمده» کہتے، اس کے بعد سجدہ کرنے سے پہلے «ربنا ولك الحمد» کہتے، پھر جب سجدے میں جانے لگتے تو «الله اكبر» کہتے، پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو «الله اكبر» کہتے، پھر جب ( دوسرے ) سجدے میں جاتے تو «الله اكبر»کہتے، جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو «الله اكبر» کہتے، پھر جب دو رکعت پڑھ کر اٹھتے تو «الله اكبر» کہتے، ایسے ہی ہر رکعت میں نماز سے فارغ ہونے تک ( تکبیر ) کہتے ۱؎، پھر جب نماز سے فارغ ہو جاتے تو کہتے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تم میں سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے، اسی طرح آپ کی نماز تھی یہاں تک کہ آپ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس کے آخری ٹکڑے یعنی «إن كانت هذه لصلاته حتى فارق الدنيا» کو مالک اور زبیدی وغیرہ زہری کے واسطہ سے علی بن حسین سے مرسلاً نقل کرتے ہیں اور عبدالاعلی نے بواسطہ معمر زہری کے دونوں شیوخ ابوبکر بن عبدالرحمٰن اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے ذکر کرنے میں شعیب بن ابی حمزہ کی موافقت کی ہے ۲؎۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبِي وَبَقِيَّةُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، كَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ صَلاَةٍ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ وَغَيْرِهَا يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ ثُمَّ يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ يَقُولُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الْجُلُوسِ فِي اثْنَتَيْنِ فَيَفْعَلُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ حَتَّى يَفْرُغَ مِنَ الصَّلاَةِ ثُمَّ يَقُولُ حِينَ يَنْصَرِفُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنْ كَانَتْ هَذِهِ لَصَلاَتُهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا الْكَلاَمُ الأَخِيرُ يَجْعَلُهُ مَالِكٌ وَالزُّبَيْدِيُّ وَغَيْرُهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ وَوَافَقَ عَبْدُ الأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ شُعَيْبَ بْنَ أَبِي حَمْزَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ .
#837
Daif
‘Abd al Rahman b. Abza said that he offered prayer along with the Messenger of Allah(ﷺ) but he did not complete the takbir. Abu Dawud said:This means that when he raised his head after bowing and when he was about to prostrate, he did not utter the takbir, and when he stood up after prostration, he did not utter the takbir
عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ تکبیر مکمل نہیں کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے اور جب سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے اور جب سجدے سے کھڑے ہوتے تو تکبیر نہیں کہتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَابْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عِمْرَانَ، - قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ الشَّامِيِّ وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْعَسْقَلاَنِيُّ - عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ لاَ يُتِمُّ التَّكْبِيرَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ مَعْنَاهُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَأَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ لَمْ يُكَبِّرْ وَإِذَا قَامَ مِنَ السُّجُودِ لَمْ يُكَبِّرْ .
#838
Daif
Narrated Wa'il ibn Hujr: I saw that the Prophet (ﷺ) placed his knees (on the ground) before placing his hands when he prostrated himself. And when he stood up, he raised his hands before his knees
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے گھٹنے ہاتھوں سے پہلے رکھتے ۱؎ اور جب اٹھتے تو اپنے ہاتھ گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم إِذَا سَجَدَ وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ .
#839
Daif
The above-mentioned tradition has also been transmitted by Wa’il b. Hujr through a different chain of narrators. This version has:When he prostrated himself, his knees fell on the ground before his hands had fallen. Hemmam said: This tradition has also been transmitted by ‘Asim b. Kulaib through a different chain of narrators to the same effect. And one of these two versions, and probably the version narrated by Muhammad b. Juhadah, has the words: When he stood up (after prostration), he stood up on his knees taking the support of his thighs
اس سند سے وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت مروی ہے، اس میں ہے کہ جب آپ سجدہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے ہتھیلیوں سے پہلے زمین پر پڑتے۔ ہمام کہتے ہیں: مجھ سے شقیق نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے عاصم بن کلیب نے اور عاصم نے اپنے والد سے کلیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے اور ان دونوں میں سے کسی کی حدیث میں اور میرا غالب گمان یہی ہے کہ محمد بن جحادہ کی حدیث میں یہ ہے: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے تو اپنی ران پر ٹیک لگا کر اپنے دونوں گھٹنوں کے بل اٹھتے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ حَدِيثَ الصَّلاَةِ قَالَ فَلَمَّا سَجَدَ وَقَعَتَا رُكْبَتَاهُ إِلَى الأَرْضِ قَبْلَ أَنْ تَقَعَ كَفَّاهُ . قَالَ هَمَّامٌ وَحَدَّثَنَا شَقِيقٌ قَالَ حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ هَذَا وَفِي حَدِيثِ أَحَدِهِمَا - وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنَّهُ فِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ - وَإِذَا نَهَضَ نَهَضَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَاعْتَمَدَ عَلَى فَخِذِهِ .
#840
Sahih
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:when one of you prostrates himself he must not kneel in the manner of camel, but should put down his hands before his knees
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص سجدہ کرے تو اس طرح نہ بیٹھے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے بلکہ اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں سے پہلے ( زمین پر ) رکھے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَسَنٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَبْرُكْ كَمَا يَبْرُكُ الْبَعِيرُ وَلْيَضَعْ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ " .
#841
Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: (Does) one of you kneel down in his prayer as a camel kneels down (i.e. put his knees before his hands)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ۱؎ تم میں سے ایک شخص اپنی نماز میں بیٹھنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اس طرح بیٹھتا ہے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے؟ ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَسَنٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَتِهِ فَيَبْرُكُ كَمَا يَبْرُكُ الْجَمَلُ " .
#842
Sahih
Abu Qilabah said:Abu sulaiman malik b. al-Huwairith came to our mosque and said: By Allah, I Shall offer prayer; and I do not intend to pray, but I intend to show you how I saw the Messenger of Allah (ﷺ) offering prayer. He (the narrator Ayyub) said: I asked Abu Qilabah: How did he pray? He replied: Like the prayer of this head after the last prostration in the first rak’ah, he used to sit, and then stand up
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ ابوسلیمان مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہماری مسجد میں آئے تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی میں تمہیں نماز پڑھاؤں گا، میرے پیش نظر نماز پڑھانا نہیں بلکہ میں تم لوگوں کو دکھانا چاہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ابوقلابہ سے پوچھا: انہوں نے کس طرح نماز پڑھی؟ تو ابوقلابہ نے کہا: ہمارے اس شیخ- یعنی عمرو بن سلمہ کی طرح، جو ان کے امام تھے اور ابوقلابہ نے ذکر کیا کہ ابوقلابہ نے مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ جب پہلی رکعت کے دوسرے سجدے سے اپنا سر اٹھاتے تو ( تھوڑی دیر ) بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ - عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ جَاءَنَا أَبُو سُلَيْمَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ إِلَى مَسْجِدِنَا فَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لأُصَلِّي بِكُمْ وَمَا أُرِيدُ الصَّلاَةَ وَلَكِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي . قَالَ قُلْتُ لأَبِي قِلاَبَةَ كَيْفَ صَلَّى قَالَ مِثْلَ صَلاَةِ شَيْخِنَا هَذَا يَعْنِي عَمْرَو بْنَ سَلِمَةَ إِمَامَهُمْ وَذَكَرَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الآخِرَةِ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى قَعَدَ ثُمَّ قَامَ .
#843
Sahih
Abu Qilabah said:Abu Sulaiman Malik b. al-Huwairth came to our mosque, and said: By Allah, I Shall offer prayer, though I do not intend to pray; I only intend to show you how I saw the Messenger of Allah(ﷺ) praying. The narrator said: ( He then prayed and ) he sat at the end of the first rak’ah when he raised his head after the last prostration
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ ابو سلیمان مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہماری مسجد میں آئے، انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! میں نماز پڑھوں گا مگر میرے پیش نظر نماز پڑھنا نہیں ہے بلکہ میں چاہتا ہوں کہ میں تمہیں دکھاؤں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے؟ ابوقلابہ کہتے ہیں: پھر وہ پہلی رکعت میں بیٹھے جس وقت انہوں نے اپنا سر دوسرے سجدے سے اٹھایا۔
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ جَاءَنَا أَبُو سُلَيْمَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ إِلَى مَسْجِدِنَا فَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لأُصَلِّي وَمَا أُرِيدُ الصَّلاَةَ وَلَكِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي . قَالَ فَقَعَدَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الآخِرَةِ .
#844
Sahih
Abu Qilabah said:Malik b. al-Huwairith saw that the prophet (may peace by upon him) would not stand at the end of the first or the third rak’ah until he sat down straight
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ اپنی نماز کی طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوتے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم إِذَا كَانَ فِي وِتْرٍ مِنْ صَلاَتِهِ لَمْ يَنْهَضْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا .
#845
Sahih
Tawus said:we asked Ibn ‘Abbas about sitting on heels between the two prostrations. He said: It is the sunnah. We said: We look upon it as a pressure on the foot. He said: This is the sunnah of your Prophet(ﷺ)
طاؤس کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: دونوں سجدوں کے بیچ میں دونوں قدموں پر اقعاء ۱؎ ( سرین کو ایڑیوں پر رکھ کر پنجے کو کھڑا کر کے بیٹھنا ) کیسا ہے؟ تو انہوں نے کہا: یہ سنت ہے۔ طاؤس کہتے ہیں: ہم نے کہا: ہم تو اسے آدمی کے ساتھ زیادتی سمجھتے تھے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ تیرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا، يَقُولُ قُلْنَا لاِبْنِ عَبَّاسٍ فِي الإِقْعَاءِ عَلَى الْقَدَمَيْنِ فِي السُّجُودِ . فَقَالَ هِيَ السُّنَّةُ . قَالَ قُلْنَا إِنَّا لَنَرَاهُ جَفَاءً بِالرَّجُلِ . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هِيَ سُنَّةُ نَبِيِّكَ صلى الله عليه وسلم .
#846
Sahih
Abd Allah b. Abi Awfa said:When the Messenger of Allah (ﷺ) raised his head after bowing, he said: Allah listens to him who praises Him. O Allah, our lord, to Thee be the praise in the heavens and in all the earth, and all that it please Thee to create afterwards. Abu Dawud said: Sufyan al-Thawri and Shu’bah b. al-Hajjaj reported on authority of Ubaid b. al-Hasan: There is no mention of the words “after bowing” in this tradition. Sufyan said: we met al-shaikh ‘Ubaid b. al-Hasan; he did not say the words “bowing” in it. Abu dawud said: Shu’bah narrated this from Abi ‘Ismah, from al-A’mash, on the authority of ‘Ubaid, saying: “after bowing”
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تھے تو «سمع الله لمن حمده اللهم ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد» کہتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان ثوری اور شعبہ بن حجاج نے اس حدیث کو عبید بن لحسن ابوالحسن سے روایت کیا ہے، لیکن اس میں «بعد الركوع» نہیں ہے، سفیان کا کہنا ہے کہ ہم نے اس کے بعد شیخ عبید ابوالحسن سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی اس حدیث میں «بعد الركوع» کے الفاظ نہیں کہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے شعبہ نے ابوعصمہ سے، ابوعصمہ نے اعمش سے اور اعمش نے عبید سے روایت کیا ہے، اس میں «بعد الركوع» کے الفاظ موجود ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ يَقُولُ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَىْءٍ بَعْدُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ عَنْ عُبَيْدٍ أَبِي الْحَسَنِ بِهَذَا الْحَدِيثِ لَيْسَ فِيهِ بَعْدَ الرُّكُوعِ . قَالَ سُفْيَانُ لَقِينَا الشَّيْخَ عُبَيْدًا أَبَا الْحَسَنِ بَعْدُ فَلَمْ يَقُلْ فِيهِ بَعْدَ الرُّكُوعِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِصْمَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عُبَيْدٍ قَالَ " بَعْدَ الرُّكُوعِ " .
#847
Sahih
Abu sa’id al-Khuri said:When the Messenger of Allah (ﷺ) said: “ Allah listens to him who praises Him,” he also said: O Allah, our Lord, to thee be the praise in all heavens. Mu’ammil said( in his version); “ In all the heavens, and in all the earth, and in all that it pleases Thee to create afterwards. O thou Who art worthy of praise and glory, most worthy of what a servant says, and we are all thy servants, no one can withhold what thou givest or give what Thou withholdest. “The narrators then were agreed on the words: “And riches cannot avail a wealthy person with Thee.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «سمع الله لمن حمده» کہنے کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم ربنا لك الحمد ملء السماء» اور مومل کے الفاظ «ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد أهل الثناء والمجد أحق ما قال العبد وكلنا لك عبد لا مانع لما أعطيت» ، محمود نے اپنی روایت میں: «ولا معطي لما منعت» کا اضافہ کیا ہے، پھر:«ولا ينفع ذا الجد منك الجد» میں سب متفق ہیں، بشر نے اپنی روایت میں: «ربنا لك الحمد» کہا «اللهم» نہیں کہا، اور محمود نے«اللهم» نہیں کہا، اور «ربنا لك الحمد» کہا۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، ح وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، كُلُّهُمْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَزَعَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ حِينَ يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ " . قَالَ مُؤَمَّلٌ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَىْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ " . زَادَ مَحْمُودٌ " وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ " . ثُمَّ اتَّفَقُوا - " وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " . قَالَ بِشْرٌ " رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ " . لَمْ يَقُلْ مَحْمُودٌ " اللَّهُمَّ " . قَالَ " رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " .
#848
Sahih
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:When the Imam says: “Allah listens to him who praised Him,” say: “O Allah, our lord, to Thee be the praise, “ for if what anyone says synchronises with what the angels say, he will be forgiven his past sins
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «اللهم ربنا لك الحمد» کہو، کیونکہ جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہو جائے گا اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا قَالَ الإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلاَئِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
#849
Hasan Maqtu
‘Amir said:The people behind the imam should not say: “Allah listens to him who praises Him.” But they should say: “ Our Lord, to Thee be the praise.”
عامر شعبی کہتے ہیں : لوگ امام کے پیچھے: «سمع الله لمن حمده» نہ کہیں، بلکہ «ربنا لك الحمد» کہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ لاَ يَقُولُ الْقَوْمُ خَلْفَ الإِمَامِ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَلَكِنْ يَقُولُونَ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ .
#850
Hasan
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) used to say between the two prostrations: "O Allah, forgive me, have mercy on me, guide me, heal me, and provide for me
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں سجدوں کے درمیان «اللهم اغفر لي وارحمني وعافني واهدني وارزقني» یعنی اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق دے کہتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْعُودٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا كَامِلٌ أَبُو الْعَلاَءِ، حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي " .