#651
Sahih
This tradition has also been transmitted through a chain by Bakr b. ‘Abd Allah. This version has the word Khubuth (filth) and in two places the word Khubuthan (filth)
بکر بن عبداللہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث ( مرسلاً ) روایت کی ہے، اس میں لفظ: «فيهما خبث» ہے، اور دونوں جگہ«خبث» ہی ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى، - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا قَالَ " فِيهِمَا خَبَثًا " . قَالَ فِي الْمَوْضِعَيْنِ " خَبَثًا " .
#652
Sahih
Narrated Aws ibn Thabit al-Ansari: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Act differently from the Jews, for they do not pray in their sandals or their shoes
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود کی مخالفت کرو، کیونکہ نہ وہ اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے ہیں اور نہ اپنے موزوں میں ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ مَيْمُونٍ الرَّمْلِيِّ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَالِفُوا الْيَهُودَ فَإِنَّهُمْ لاَ يُصَلُّونَ فِي نِعَالِهِمْ وَلاَ خِفَافِهِمْ " .
#653
Hasan Sahih
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: I saw the Messenger of Allah (ﷺ) praying both barefooted and wearing sandals
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ ننگے پاؤں نماز پڑھتے اور جوتے پہن کر بھی۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي حَافِيًا وَمُنْتَعِلاً .
#654
Hasan Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: When any of you prays, he should not place his sandals on his right side or on his left so as to be on the right side of someone else, unless no one is at his left, but should place them between his feet
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے جوتے ( اتار کر ) نہ داہنی طرف رکھے اور نہ بائیں طرف، کیونکہ یہ دوسری مصلی کا داہنا ہے، سوائے اس کے کہ اس کے بائیں طرف کوئی نہ ہو اور چاہیئے کہ وہ انہیں اپنے دونوں پاؤں کے بیچ میں رکھے ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ أَبُو عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلاَ يَضَعْ نَعْلَيْهِ عَنْ يَمِينِهِ وَلاَ عَنْ يَسَارِهِ فَتَكُونَ عَنْ يَمِينِ غَيْرِهِ إِلاَّ أَنْ لاَ يَكُونَ عَنْ يَسَارِهِ أَحَدٌ وَلْيَضَعْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ " .
#655
Sahih
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:when any of you prays and takes off his sandals, he should not harm anyone by them. He should place them between his feet or pray with them on
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے اور اپنے جوتے اتارے تو ان کے ذریعہ کسی کو تکلیف نہ دے، چاہیئے کہ انہیں اپنے دونوں پاؤں کے بیچ میں رکھ لے یا انہیں پہن کر نماز پڑھے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَلاَ يُؤْذِ بِهِمَا أَحَدًا لِيَجْعَلْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَوْ لِيُصَلِّ فِيهِمَا " .
#656
Sahih
Maimunah bint al-Harith reported :the Messenger of Allah (ﷺ) used to pray while. I was by his side in the state of menstruation. Sometime his cloth would touch me when he prostrated. He would pray on a small mat
عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے اور میں آپ کے سامنے ہوتی اور حائضہ ہوتی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو بسا اوقات آپ کا کپڑا مجھ سے لگ جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم چھوٹی چٹائی پر نماز پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَأَنَا حِذَاءَهُ وَأَنَا حَائِضٌ وَرُبَّمَا أَصَابَنِي ثَوْبُهُ إِذَا سَجَدَ وَكَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ .
#657
Sahih
Anas b. Malik reported:A man from the Ansar said: I am a corpulent man-and he was (actually) a fat man; I cannot pray along with you. He prepared food for him and invited him to his house. (he said) (please) pray (here) so that I may see how you pray, and then I would follow you. They (the people) washed one side of their mat. He (the prophet) then got up and prayed two Rak’ahs. Ibn al-Jarud asked Anas b. Malik: would he (the prophet) say the forenoon prayer? He replied: I did not see him offering this prayer except that day
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بھاری بھر کم آدمی ہوں – وہ بھاری بھر کم تھے بھی، میں آپ کے ساتھ نماز نہیں پڑھ سکتا ہوں، انصاری نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ کو اپنے گھر بلایا اور کہا: آپ یہاں نماز پڑھ دیجئیے تاکہ میں آپ کو دیکھ لوں کہ آپ کس طرح نماز پڑھتے ہیں؟ تو میں آپ کی پیروی کیا کروں، پھر ان لوگوں نے اپنی ایک چٹائی کا کنارہ دھویا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی۔ راوی کہتے ہیں: فلاں بن جارود نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے آپ کو کبھی اسے پڑھتے نہیں دیکھا سوائے اس دن کے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ ضَخْمٌ - وَكَانَ ضَخْمًا - لاَ أَسْتَطِيعُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ - وَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا وَدَعَاهُ إِلَى بَيْتِهِ - فَصَلِّ حَتَّى أَرَاكَ كَيْفَ تُصَلِّي فَأَقْتَدِيَ بِكَ . فَنَضَحُوا لَهُ طَرَفَ حَصِيرٍ كَانَ لَهُمْ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ . قَالَ فُلاَنُ بْنُ الْجَارُودِ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَكَانَ يُصَلِّي الضُّحَى قَالَ لَمْ أَرَهُ صَلَّى إِلاَّ يَوْمَئِذٍ .
#658
Sahih
Anas b. Malik said; the prophet (ﷺ) used to visit Umm Sulaim. Sometimes the time for prayer would come and he would pray on out carpet that was really a mat. She (Umm Sulaim) used to wash it with water
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم رضی اللہ عنہا کی زیارت کے لیے آتے تھے، تو کبھی نماز کا وقت ہو جاتا تو آپ ہماری ایک چٹائی پر جسے ہم پانی سے دھو دیتے تھے نماز ادا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ الذَّرَّاعُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَزُورُ أُمَّ سُلَيْمٍ فَتُدْرِكُهُ الصَّلاَةُ أَحْيَانًا فَيُصَلِّي عَلَى بِسَاطٍ لَنَا وَهُوَ حَصِيرٌ نَنْضَحُهُ بِالْمَاءِ .
#659
Daif
Narrated Al-Mughirah ibn Shu'bah: The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray on a mat and on a tanned skin
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی اور دباغت دیئے ہوئے چمڑوں پر نماز پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - بِمَعْنَى الإِسْنَادِ وَالْحَدِيثِ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي عَلَى الْحَصِيرِ وَالْفَرْوَةِ الْمَدْبُوغَةِ .
#660
Sahih
Anas b. Malik said:we used to pray along with the Messenger of Allah (ﷺ) in intense heat. When any of us could not rest his face on bare ground while prostrating due to intense heat he spread his cloth and would prostrate on it
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سخت گرمی میں نماز پڑھتے تھے، تو جب ہم میں سے کوئی اپنی پیشانی زمین پر نہیں ٹیک پاتا تھا تو اپنا کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کرتا تھا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ - حَدَّثَنَا غَالِبٌ الْقَطَّانُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شِدَّةِ الْحَرِّ فَإِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدُنَا أَنْ يُمَكِّنَ وَجْهَهُ مِنَ الأَرْضِ بَسَطَ ثَوْبَهُ فَسَجَدَ عَلَيْهِ .
#661
Sahih
jabir b. Samurah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:Why do you stand in rows as the angels do in the presence of their Lord? We asked: how do the angles stand in rows in the presence of their Lord? He replied: they make the first row complete and keep close together in the row
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اس طرح صف بندی کیوں نہیں کرتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس کرتے ہیں؟ ، ہم نے عرض کیا: فرشتے اپنے رب کے پاس کس طرح صف بندی کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے اگلی صف پوری کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے سے خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشَ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، فِي الصُّفُوفِ الْمُقَدَّمَةِ فَحَدَّثَنَا عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرْفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلاَئِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَلَّ وَعَزَّ " . قُلْنَا وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلاَئِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ " يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْمُقَدَّمَةَ وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ " .
#662
Sahih
Al-Nu’man b. Bashir said:the Messenger of Allah (ﷺ) paid attention to the people and said three times; straighten your rows (in prayer); by Allah, you must straighten your rows, or Allah will certainly put your faces in contrary directions. I then saw that every person stood in prayer keeping his shoulder close to that of the other, and his knee close to that of the other, and his ankle close to that of the other
ابوالقاسم جدلی کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم لوگ اپنی صفیں درست کرو – یہ ( جملہ آپ نے تاکید کے طور پر ) تین بار کہا- اللہ کی قسم تم لوگ اپنی صفیں درست کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں پھوٹ ڈال دے گا ، نعمان بن بشیر کہتے ہیں: تو میں نے آدمی کو اپنے ساتھی کے مونڈھے سے مونڈھا، گھٹنے سے گھٹنا اور ٹخنے سے ٹخنہ ملا کر کھڑا ہوتے دیکھا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ الْجَدَلِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ فَقَالَ " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ " . ثَلاَثًا " وَاللَّهِ لَتُقِيمُنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ " . قَالَ فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يُلْزِقُ مَنْكِبَهُ بِمَنْكِبِ صَاحِبِهِ وَرُكْبَتَهُ بِرُكْبَةِ صَاحِبِهِ وَكَعْبَهُ بِكَعْبِهِ .
#663
Sahih
Al-Nu’man b. Bashir said:the prophet (ﷺ) used to straighten us in the rows of prayer as the arrow is straightened, until he thought that we had learned it from him and understood it. One day he turned towards us, and shoulders in order, and say; Do not be irregular. And he would say: Allah and his Angels bless those who near the first rows
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفیں درست کیا کرتے تھے، جیسے تیر درست کیے جاتے ہیں ( اور یہ سلسلہ برابر جاری رہا ) یہاں تک کہ آپ کو یقین ہو گیا کہ ہم نے اسے آپ سے خوب اچھی طرح سیکھ اور سمجھ لیا ہے، تو ایک روز آپ متوجہ ہوئے، اتنے میں دیکھا کہ ایک شخص اپنا سینہ صف سے آگے نکالے ہوئے ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنی صفیں برابر رکھو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان اختلاف پیدا کر دے گا ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُسَوِّينَا فِي الصُّفُوفِ كَمَا يُقَوَّمُ الْقِدْحُ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنْ قَدْ أَخَذْنَا ذَلِكَ عَنْهُ وَفَقِهْنَا أَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ بِوَجْهِهِ إِذَا رَجُلٌ مُنْتَبِذٌ بِصَدْرِهِ فَقَالَ " لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ " .
#664
Sahih
Narrated Al-Bara' ibn Azib: The Messenger of Allah (ﷺ) used to pass through the row from one side to the other; he used to set out chests and shoulders in order, and say: Do not be irregular. And he would say: Allah and His angels bless those who are near the first rows
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کے اندر ایک طرف سے دوسری طرف جاتے اور ہمارے سینوں اور مونڈھوں پر ہاتھ پھیرتے تھے ( یعنی ہمارے سینوں اور مونڈھوں کو برابر کرتے تھے ) ، اور فرماتے تھے: ( صفوں سے ) آگے پیچھے مت ہونا، ورنہ تمہارے دل مختلف ہو جائیں گے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اللہ تعالیٰ اگلی صفوں پر اپنی رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے دعا کرتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَأَبُو عَاصِمِ بْنِ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ الْيَامِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَخَلَّلُ الصَّفَّ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَى نَاحِيَةٍ يَمْسَحُ صُدُورَنَا وَمَنَاكِبَنَا وَيَقُولُ " لاَ تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ " . وَكَانَ يَقُولُ " إِنَّ اللَّهَ وَمَلاَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الأُوَلِ " .
#665
Sahih
Narrated An-Nu'man ibn Bashir: The Messenger of Allah (ﷺ) used to straighten our rows when we stood up to pray, and when we were straight, he said: Allah is most great (takbir)
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفیں درست فرماتے، پھر جب ہم لوگ سیدھے ہو جاتے تو آپ «الله أكبر» کہتے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَغِيرَةَ - عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُسَوِّي صُفُوفَنَا إِذَا قُمْنَا لِلصَّلاَةِ فَإِذَا اسْتَوَيْنَا كَبَّرَ .
#666
Sahih
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet (ﷺ) said: Set the rows in order, stand shoulder to shoulder, close the gaps, be pliant in the hands of your brethren, and do not leave openings for the devil. If anyone joins up a row, Allah will join him up, but if anyone breaks a row, Allah will cut him off. Abu Dawud said: The name of Abu Shjrah is Kathir b. Murrah
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ( قتیبہ کی روایت میں جسے انہوں نے ابوزاہریہ سے، اور ابوزاہریہ نے ابوشجرہ ( کثیر بن مرہ ) سے روایت کیا ہے، ابن عمر کا ذکر نہیں ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنی صفیں درست کرو، اور اپنے کندھے ایک دوسرے کے مقابل میں رکھو، اور ( صفوں کے اندر کا ) شگاف بند کرو، اور اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہو جاؤ اور شیطان کے لیے خالی جگہ نہ چھوڑو، جو شخص صف کو ملائے گا، اللہ تعالیٰ اسے ملائے گا، اور جو شخص صف کو کاٹے گا اللہ تعالیٰ اسے کاٹ دے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «لينوا بأيدي إخوانكم» کا مطلب ہے کہ جب کوئی شخص صف کی طرف آئے اور اس میں داخل ہونا چاہے تو ہر ایک کو چاہیئے کہ اس کے لیے اپنے کندھے نرم کر دے یہاں تک کہ وہ صف میں داخل ہو جائے۔
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، - وَحَدِيثُ ابْنِ وَهْبٍ أَتَمُّ - عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، - قَالَ قُتَيْبَةُ عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ أَبِي شَجَرَةَ، لَمْ يَذْكُرِ ابْنَ عُمَرَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَقِيمُوا الصُّفُوفَ وَحَاذُوا بَيْنَ الْمَنَاكِبِ وَسُدُّوا الْخَلَلَ وَلِينُوا بِأَيْدِي إِخْوَانِكُمْ " . لَمْ يَقُلْ عِيسَى " بِأَيْدِي إِخْوَانِكُمْ " . " وَلاَ تَذَرُوا فُرُجَاتٍ لِلشَّيْطَانِ وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَهُ اللَّهُ وَمَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَهُ اللَّهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو شَجَرَةَ كَثِيرُ بْنُ مُرَّةَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَمَعْنَى " وَلِينُوا بِأَيْدِي إِخْوَانِكُمْ " . إِذَا جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الصَّفِّ فَذَهَبَ يَدْخُلُ فِيهِ فَيَنْبَغِي أَنْ يُلَيِّنَ لَهُ كُلُّ رَجُلٍ مَنْكِبَيْهِ حَتَّى يَدْخُلَ فِي الصَّفِّ .
#667
Sahih
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet (ﷺ) said: Stand close together in your rows, bring them near one another, and stand neck to neck, for by Him in Whose hand my soul is, I see the devil coming in through openings in the row just like a small black sheep
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ صفوں میں خوب مل کر کھڑے ہو، اور ایک صف دوسری صف سے نزدیک رکھو، اور گردنوں کو بھی ایک دوسرے کے مقابل میں رکھو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں شیطان کو دیکھتا ہوں وہ صفوں کے بیچ میں سے گھس آتا ہے، گویا وہ بکری کا بچہ ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رُصُّوا صُفُوفَكُمْ وَقَارِبُوا بَيْنَهَا وَحَاذُوا بِالأَعْنَاقِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ " .
#668
Sahih
Anas reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying :Straighten your rows for the straightening of the rows is part of perfecting the prayer
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنی صفیں درست رکھو کیونکہ صف کی درستگی تکمیل نماز میں سے ہے ( یعنی اس کے بغیر نماز ادھوری رہتی ہے ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " سَوُّوا صُفُوفَكُمْ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلاَةِ " .
#669
Daif
Muhammad b. Muslim b. al-Sa’ib said:one day I prayed by the side of Anas b. Malik. He said ; Do you know why this stick is placed here ? I said : No, by Allah. He said; The Messenger of Allah (ﷺ) used to put his hand upon it and say: Keep straight and straighten your rows
صاحب مقصورہ محمد بن مسلم بن سائب کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بغل میں نماز پڑھی، تو انہوں نے کہا: کیا تم کو معلوم ہے کہ یہ لکڑی کیوں بنائی گئی ہے، میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے اس کا علم نہیں، انس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اپنا ہاتھ رکھتے تھے، اور فرماتے تھے: برابر ہو جاؤ، اور اپنی صفیں سیدھی رکھو ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ السَّائِبِ، صَاحِبِ الْمَقْصُورَةِ قَالَ صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَوْمًا فَقَالَ هَلْ تَدْرِي لِمَ صُنِعَ هَذَا الْعُودُ فَقُلْتُ لاَ وَاللَّهِ . قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَضَعُ يَدَهُ عَلَيْهِ فَيَقُولُ " اسْتَوُوا وَعَدِّلُوا صُفُوفَكُمْ " .
#670
Daif
This tradition has also ben transmitted by Anas through a different chain of transmitters. This version goes:when the Messenger of Allah (ﷺ) stood for prayer, he took it (the stick) in his right hand and turning (to the right side) said; keep straight and straighten your rows. He then took it in his left hand and said; keep straight and straighten your rows
اس سند سے بھی انس رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اس لکڑی کو اپنے داہنے ہاتھ سے پکڑتے، پھر ( نمازیوں کی طرف ) متوجہ ہوتے، اور فرماتے: سیدھے ہو جاؤ، اپنی صفیں درست کر لو ، پھر اسے بائیں ہاتھ سے پکڑتے اور فرماتے: سیدھے ہو جاؤ اور اپنی صفیں درست کر لو ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَنَسٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ أَخَذَهُ بِيَمِينِهِ ثُمَّ الْتَفَتَ فَقَالَ " اعْتَدِلُوا سَوُّوا صُفُوفَكُمْ " . ثُمَّ أَخَذَهُ بِيَسَارِهِ فَقَالَ " اعْتَدِلُوا سَوُّوا صُفُوفَكُمْ " .
#671
Sahih
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet (ﷺ) said: Complete the front row, then the one that comes next, and if there is any incompleteness, let it be in the last row
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے اگلی صف پوری کرو، پھر اس کے بعد والی کو، اور جو کچھ کمی رہ جائے وہ پچھلی صف میں رہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ - عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَتِمُّوا الصَّفَّ الْمُقَدَّمَ ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ فَمَا كَانَ مِنْ نَقْصٍ فَلْيَكُنْ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ " .
#672
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: The best of you are those whose shoulders are soft in prayer
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو نماز میں اپنے مونڈھوں کو نرم رکھنے والے ہیں ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جعفر بن یحییٰ کا تعلق اہل مکہ سے ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمِّي، عُمَارَةُ بْنُ ثَوْبَانَ عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خِيَارُكُمْ أَلْيَنُكُمْ مَنَاكِبَ فِي الصَّلاَةِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ .
#673
Sahih
Narrated AbdulHamid ibn Mahmud: I offered the Friday prayer along with Anas ibn Malik. We were pushed to the pillars (due to the crowd of people). We, therefore, stopped forward and backward. Anas then said: We used to avoid it (setting a row between the pillars) during the time of the Messenger of Allah (ﷺ)
عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کے دن نماز پڑھی ( جگہ کی تنگی اور ہجوم کے سبب سے ) ہم ستونوں کے بیچ میں کھڑے ہونے پر مجبور کر دیئے گئے، تو ہم آگے پیچھے ہونے لگے، اس پر انس نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس سے بچتے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَحْمُودٍ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَدُفِعْنَا إِلَى السَّوَارِي فَتَقَدَّمْنَا وَتَأَخَّرْنَا فَقَالَ أَنَسٌ كُنَّا نَتَّقِي هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#674
Sahih
Abu Ma’sud reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:let those of your who are sedate and prudent be near me, then those who are next to them, then those who are next to them
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے عقلمند اور باشعور لوگ میرے قریب رہیں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لِيَلِنِي مِنْكُمْ أُولُو الأَحْلاَمِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ " .
#675
Sahih
This tradition has also been transmitted by ‘Abd Allah (b. Mas’ud) through a different chain of narrators. This version adds:“Do not be irregular, so have your hearts irregular, and beware of tumult such as found in market”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں اس میں اتنا اضافہ ہے: تم لوگ صف میں آگے پیچھے نہ رہو، ورنہ تمہارے دلوں میں بھی اختلاف ہو جائے گا، اور تم ( مسجدوں میں ) بازاروں جیسے شور و غل سے بچو ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ . وَزَادَ " وَلاَ تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ وَإِيَّاكُمْ وَهَيْشَاتِ الأَسْوَاقِ " .