#451
Sahih
Abd Allah b. 'Umar reported:The mosque (of the Prophet) during his lifetime was built with bricks, its roof with branches of the palm-tree, and its pillars with palm-wood, as Mujahid said: Abu Bakr did not add anything to it. But 'Umar added to it; he built as it was built during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ) with bricks and branches, and he changed its pillars. Mujahid said: Its pillars were made of wood. 'Uthman changed it altogether with increasing addition. He built its walls with decorated stone and lime. And he built the pillars with decorated stone and its roof with teak. Mujahid said: Its roof was made of teak. Abu Dawud said: Al-Qassah means lime used as mortar
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد نبوی کچی اینٹوں اور کھجور کی شاخوں سے بنائی گئی تھی، مجاہد کہتے ہیں: اس کے ستون کھجور کی لکڑی کے تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا، البتہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں اضافہ کیا، اور اس کی تعمیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنائی ہوئی بنیادوں کے مطابق کچی اینٹوں اور کھجور کی شاخوں سے کی اور اس کے ستون بھی نئی لکڑی کے لگائے، مجاہد کی روایت میں «عمده خشبا» کے الفاظ ہیں، پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی عمارت میں تبدیلی کی اور اس میں بہت سارے اضافے کئے، اس کی دیواریں منقش پتھروں اور گچ ( چونا ) سے بنوائیں، اس کے ستون منقش پتھروں کے بنوائے اور اس کی چھت ساگوان کی لکڑی کی بنوائی۔ مجاہد کی روایت میں «وسقفه الساج» کے بجائے «وسقفه بالساج» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حدیث میں مذکور ( «قصة» ) کے معنی گچ کے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، وَمُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، - وَهُوَ أَتَمُّ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمَسْجِدَ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَبْنِيًّا بِاللَّبِنِ وَالْجَرِيدِ - قَالَ مُجَاهِدٌ وَعَمَدُهُ مِنْ خَشَبِ النَّخْلِ - فَلَمْ يَزِدْ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ شَيْئًا وَزَادَ فِيهِ عُمَرُ وَبَنَاهُ عَلَى بِنَائِهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِاللَّبِنِ وَالْجَرِيدِ وَأَعَادَ عَمَدَهُ - قَالَ مُجَاهِدٌ عُمُدَهُ خَشَبًا - وَغَيَّرَهُ عُثْمَانُ فَزَادَ فِيهِ زِيَادَةً كَثِيرَةً وَبَنَى جِدَارَهُ بِالْحِجَارَةِ الْمَنْقُوشَةِ وَالْقَصَّةِ وَجَعَلَ عَمَدَهُ مِنْ حِجَارَةٍ مَنْقُوشَةٍ وَسَقَّفَهُ بِالسَّاجِ . قَالَ مُجَاهِدٌ وَسَقْفُهُ السَّاجُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الْقَصَّةُ الْجِصُّ .
#452
Daif
Ibn 'Umar reported:The pillars of the mosque of the Prophet (ﷺ) during the life time of the Messenger of Allah (ﷺ) were made of the trunks of the palm-tree; they covered from the above by twigs of the palm-tree; they decayed during the caliphate of Abu Bakr. He built it afresh with trunks and twigs of the palm-tree. But they again decayed during the caliphate of 'Uthman. He, therefore, built it with bricks. That survives until today
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد نبوی کے ستون کھجور کی لکڑی کے تھے، اس کے اوپر کھجور کی شاخوں سے سایہ کر دیا گیا تھا، پھر وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں بوسیدہ ہو گئی تو انہوں نے اس کو کھجور کے تنوں اور اس کی ٹہنیوں سے بنوایا، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں وہ بھی بوسیدہ ہو گئی تو انہوں نے اسے پکی اینٹوں سے بنوا دیا، جو اب تک باقی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ مَسْجِدَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم كَانَتْ سَوَارِيهِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ جُذُوعِ النَّخْلِ أَعْلاَهُ مُظَلَّلٌ بِجَرِيدِ النَّخْلِ ثُمَّ إِنَّهَا نَخِرَتْ فِي خِلاَفَةِ أَبِي بَكْرٍ فَبَنَاهَا بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَبِجَرِيدِ النَّخْلِ ثُمَّ إِنَّهَا نَخِرَتْ فِي خِلاَفَةِ عُثْمَانَ فَبَنَاهَا بِالآجُرِّ فَلَمْ تَزَلْ ثَابِتَةً حَتَّى الآنَ .
#453
Sahih
Anas b. Malik reported:Messenger of Allah (ﷺ) came over to Medina and encamped at the upper side of Medina among the tribe known as Banu 'Amr b. 'Awf. He stayed among them for fourteen days. He then sent someone to call Banu al-Najjar. They came to him hanging their swords from the necks. Anas then said: As if I am looking at the Messenger of Allah (ﷺ) sitting on his mount and Abu Bakr seated behind him, and Banu al-Najjar standing around him. He descended in the courtyard of Abu Ayyub. The Messenger of Allah (ﷺ) would say his prayer in the folds of the sheep and goats. He commanded us to build a mosque. He then sent for Banu al-Najjar and said to them: Banu al-Najjar, sell this land of yours to me for some price. They replied: By Allah, we do not want any price (from you) except from Allah. Anas said: I tell what this land contained. It contained the graves of the disbelievers, dung-hills, and some trees of date-palm. The Messenger of Allah (ﷺ) commanded and the graves of the disbelievers were dug open, and the trees of the date-palm were cut off. The wood of the date-palm were erected in front of the mosque ; the door-steps wre built of stone. They were reciting verses carrying the stones. The Prophet (ﷺ) also joined them (in reciting verses) saying: O Allah, there is no good except the good of the Hereafter. So grant you aid to the Ansar and the Muhajirah
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ شہر کے بالائی حصہ میں ایک محلہ میں اترے، جسے بنی عمرو بن عوف کا محلہ کہا جاتا تھا، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم چودہ دن تک قیام پذیر رہے، پھر آپ نے بنو نجار کے لوگوں کو بلوایا تو وہ اپنی تلواریں لٹکائے آئے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہیں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سوار ہیں، اور بنو نجار کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد ہیں یہاں تک کہ آپ ابوایوب رضی اللہ عنہ کے مکان کے صحن میں اترے، جس جگہ نماز کا وقت آ جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ لیتے تھے، بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد بنانے کا حکم فرمایا اور بنو نجار کے لوگوں کو بلوایا، ( وہ آئے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے بنو نجار! تم مجھ سے اپنے اس باغ کی قیمت لے لو ، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اس کی قیمت اللہ ہی سے چاہتے ہیں۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس باغ میں جو چیزیں تھیں وہ میں تمہیں بتاتا ہوں: اس میں مشرکوں کی قبریں تھیں، ویران جگہیں، کھنڈرات اور کھجور کے درخت تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا، مشرکوں کی قبریں کھود کر پھینک دی گئیں، ویران جگہیں اور کھنڈر ہموار کر دیئے گئے، کھجور کے درخت کاٹ ڈالے گئے، ان کی لکڑیاں مسجد کے قبلے کی طرف قطار سے لگا دی گئیں اور اس کے دروازے کی چوکھٹ کے دونوں بازو پتھروں سے بنائے گئے، لوگ پتھر اٹھاتے جاتے تھے اور اشعار پڑھتے جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے اور فرماتے تھے: «اللهم لا خير إلا خير الآخره فانصر الأنصار والمهاجره» اے اللہ! بھلائی تو دراصل آخرت کی بھلائی ہے تو تو انصار و مہاجرین کی مدد فرما۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ فَنَزَلَ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ فِي حَىٍّ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشَرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِينَ سُيُوفَهُمْ - فَقَالَ أَنَسٌ - فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفَهُ وَمَلأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَإِنَّهُ أَمَرَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ فَأَرْسَلَ إِلَى بَنِي النَّجَّارِ فَقَالَ " يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا " . فَقَالُوا وَاللَّهِ لاَ نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلاَّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ . قَالَ أَنَسٌ وَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ لَكُمْ كَانَتْ فِيهِ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ وَكَانَتْ فِيهِ خِرَبٌ وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ وَبِالْخِرَبِ فَسُوِّيَتْ وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةَ الْمَسْجِدِ وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً وَجَعَلُوا يَنْقُلُونَ الصَّخْرَ وَهُمْ يَرْتَجِزُونَ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَعَهُمْ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ لاَ خَيْرَ إِلاَّ خَيْرُ الآخِرَهْ فَانْصُرِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ
#454
Sahih
Anas b. Malik said:The Mosque (of the Prophet) was built in the land of Banu al-Najjar which contained crops, palm trees and graves of the disbelievers. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Sell it to me for some price. They (Banu al-Najjar) replied: We do not want (any price). The palm-trees were cut off, and the crops removed and the graves of the disbelievers dug opened. He then narrated the rest of the tradition. But this version has the word "forgive" in the verse, instead of the word "help". Musa said: 'Abd al-Warith also narrated this tradition in a like manner. The version of 'Abd al-Warith has the word "dung-hill" (instead of crop), and he asserted that he narrated this tradition to Hammad
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی کی جگہ پر قبیلہ بنو نجار کا ایک باغ تھا، اس میں کچھ کھیت، کچھ کھجور کے درخت اور مشرکوں کی قبریں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: مجھ سے اس کی قیمت لے لو ، انہوں نے کہا: ہم اس کی قیمت نہیں چاہتے، تو کھجور کے درخت کاٹے گئے، کھیت برابر کئے گئے اور مشرکین کی قبریں کھدوائی گئیں، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، مگر اس حدیث میں لفظ «فانصر» کی جگہ لفظ «فاغفر» ہے ( یعنی اے اللہ! تو انصار و مہاجرین کو بخش دے ) ۔ موسیٰ نے کہا: ہم سے عبدالوارث نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے اور عبدالوارث «خرث» کے بجائے «خرب» ( ویرانے ) کی روایت کرتے ہیں، عبدالوارث کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہی حماد سے یہ حدیث بیان کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ مَوْضِعُ الْمَسْجِدِ حَائِطًا لِبَنِي النَّجَّارِ فِيهِ حَرْثٌ وَنَخْلٌ وَقُبُورُ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ثَامِنُونِي بِهِ " . فَقَالُوا لاَ نَبْغِي بِهِ ثَمَنًا . فَقُطِعَ النَّخْلُ وَسُوِّيَ الْحَرْثُ وَنُبِشَ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ " فَاغْفِرْ " . مَكَانَ " فَانْصُرْ " . قَالَ مُوسَى وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بِنَحْوِهِ وَكَانَ عَبْدُ الْوَارِثِ يَقُولُ خِرَبٌ وَزَعَمَ عَبْدُ الْوَارِثِ أَنَّهُ أَفَادَ حَمَّادًا هَذَا الْحَدِيثَ .
#455
Sahih
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to build mosques in different localities (i.e. in the locality of each tribe separately) and that they should be kept clean and be perfumed
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر اور محلہ میں مسجدیں بنانے، انہیں پاک صاف رکھنے اور خوشبو سے بسانے کا حکم دیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِبِنَاءِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ وَأَنْ تُنَظَّفَ وَتُطَيَّبَ .
#456
Sahih
Samurah reported that he wrote (a letter) to his sons:After (praising Allah and blessing the Prophet) that: The Messenger of Allah (ﷺ) used to command us to build mosques in our localities and keep them well and clean
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بیٹے ( سلیمان ) کو لکھا: حمد و صلاۃ کے بعد معلوم ہونا چاہیئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے گھروں اور محلوں میں مسجدیں بنانے اور انہیں درست اور پاک و صاف رکھنے کا حکم دیتے تھے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ، حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ أَبِيهِ، سَمُرَةَ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى ابْنِهِ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْمُرُنَا بِالْمَسَاجِدِ أَنْ نَصْنَعَهَا فِي دِيَارِنَا وَنُصْلِحَ صَنْعَتَهَا وَنُطَهِّرَهَا .
#457
Daif
Narrated Maymunah ibn Sa'd: I said: Messenger of Allah, tell us the legal injunction about (visiting) Bayt al-Muqaddas (the dome of the Rock at Jerusalem). The Messenger of Allah (ﷺ) said: go and pray there. All the cities at that time were effected by war. If you cannot visit it and pray there, then send some oil to be used in the lamps
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آزاد کردہ لونڈی میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ بیت المقدس کے سلسلے میں ہمیں حکم دیجئیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم وہاں جاؤ اور اس میں نماز پڑھو ، اس زمانے میں ان شہروں میں لڑائی پھیلی ہوئی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم وہاں نہ جا سکو اور نماز نہ پڑھ سکو تو تیل ہی بھیج دو کہ اس کی قندیلوں میں جلایا جا سکے ۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، عَنْ مَيْمُونَةَ، مَوْلاَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْتِنَا فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقَالَ " ائْتُوهُ فَصَلُّوا فِيهِ " . - وَكَانَتِ الْبِلاَدُ إِذْ ذَاكَ حَرْبًا - فَإِنْ لَمْ تَأْتُوهُ وَتُصَلُّوا فِيهِ فَابْعَثُوا بِزَيْتٍ يُسْرَجُ فِي قَنَادِيلِهِ " .
#458
Daif
Abu al-Walid said:I asked Ibn 'Umar about the gravel spread pin the mosque. He replied: One night the rain fell and the earth was moistened. A man was bringing the gravel (broken stones) in his cloth and spreading it beneath him. When the Messenger of Allah (ﷺ) finished his prayer, he said: How fine it is
ابوالولید سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مسجد کی کنکریوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ایک رات بارش ہوئی، زمین گیلی ہو گئی تو لوگ اپنے کپڑوں میں کنکریاں لا لا کر اپنے نیچے بچھانے لگے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو فرمایا: کتنا اچھا کام ہے یہ ۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ تَمَّامِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سُلَيْمٍ الْبَاهِلِيُّ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْحَصَى الَّذِي، فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ مُطِرْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ فَأَصْبَحَتِ الأَرْضُ مُبْتَلَّةً فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَأْتِي بِالْحَصَى فِي ثَوْبِهِ فَيَبْسُطُهُ تَحْتَهُ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصَّلاَةَ قَالَ " مَا أَحْسَنَ هَذَا " .
#459
Sahih Maqtu
Abu Salih said:It was said that when a man removed gravels from the mosque, they adjured him
ابوصالح کہتے ہیں کہ کہا جاتا تھا: جب آدمی کنکریوں کو مسجد سے نکالتا ہے تو وہ اسے قسم دلاتی ہیں ( کہ ہمیں نہ نکالو ) ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ كَانَ يُقَالُ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا أَخْرَجَ الْحَصَى مِنَ الْمَسْجِدِ يُنَاشِدُهُ .
#460
Daif
Abu Hurairah reported (Abu Bakr said that in his opinion he narrated this tradition from the Prophet):The gravels adjure the person when removes them from the mosque
ابوبدر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنکری اس شخص کو قسم دلاتی ہے جو اس کو مسجد سے نکالتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَبُو بَكْرٍ، - يَعْنِي الصَّاغَانِيَّ - حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - قَالَ أَبُو بَدْرٍ - أُرَاهُ قَدْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْحَصَاةَ لَتُنَاشِدُ الَّذِي يُخْرِجُهَا مِنَ الْمَسْجِدِ " .
#461
Daif
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet (ﷺ) said: The rewards of my people were presented before me, so much so that even the reward for removing a mote by a person from the mosque was presented to me. The sins of my people were also presented before me. I did not find a sin greater than that of a person forgetting the Qur'anic chapter or verse memorised by him
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر میری امت کے ثواب پیش کئے گئے یہاں تک کہ وہ تنکا بھی جسے آدمی مسجد سے نکالتا ہے، اور مجھ پر میری امت کے گناہ پیش کئے گئے تو میں نے دیکھا کہ اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں کہ کسی کو قرآن کی کوئی سورت یا آیت یاد ہو پھر وہ اسے بھلا دے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْخَزَّازُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " عُرِضَتْ عَلَىَّ أُجُورُ أُمَّتِي حَتَّى الْقَذَاةُ يُخْرِجُهَا الرَّجُلُ مِنَ الْمَسْجِدِ وَعُرِضَتْ عَلَىَّ ذُنُوبُ أُمَّتِي فَلَمْ أَرَ ذَنْبًا أَعْظَمَ مِنْ سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ أَوْ آيَةٍ أُوتِيَهَا رَجُلٌ ثُمَّ نَسِيَهَا " .
#462
Sahih
Ibn 'Umar reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:If we left this door for women (it would have been better). Nafi' said: Ibn 'Umar did not enter (the door) until his death. The other except 'Abd al-Warith said: This was said by 'Umar (and not by Ibn 'Umar) and that is more correct
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ہم اس دروازے کو عورتوں کے لیے چھوڑ دیں ( تو بہتر ہے ) ۱؎۔ نافع کہتے ہیں: تو ابن عمر رضی اللہ عنہما تاحیات اس دروازے سے مسجد میں داخل نہیں ہوئے۔ عبدالوارث کے علاوہ دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے ) یہ عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ تَرَكْنَا هَذَا الْبَابَ لِلنِّسَاءِ " . قَالَ نَافِعٌ فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ ابْنُ عُمَرَ حَتَّى مَاتَ . وَقَالَ غَيْرُ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ عُمَرُ وَهُوَ أَصَحُّ .
#463
Daif
This tradition has been reported by 'Umar b. al-Khattab through a different chain of narrators. He narrated it to the same effect and that is more correct
نافع سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بات کہی اور یہی زیادہ صحیح ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه - فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَهُوَ أَصَحُّ .
#464
Daif
Nafi said :‘Umar b. al-Khattab used to prohibit (men) to enter through the door reserved for women
نافع سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ( مردوں کو ) عورتوں کے دروازہ سے داخل ہونے سے منع کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - حَدَّثَنَا بَكْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ - عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَنْهَى أَنْ يُدْخَلَ، مِنْ بَابِ النِّسَاءِ .
#465
Sahih
Abu Usaid al-Ansari reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:when any of you enters the mosque he should invoke blessing on the prophet (ﷺ) and then he should say: O Allah, open to me the gates of thy mercy. And when he goes out, he should say: O Allah, I ask thee out of Thine abundance
ابوحمید یا ابواسید انصاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے پھر یہ دعا پڑھے: «اللهم افتح لي أبواب رحمتك» اے اللہ! مجھ پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے، پھر جب نکلے تو یہ کہے: «اللهم إني أسألك من فضلك» اے اللہ! میں تیرے فضل کا طالب ہوں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ، أَوْ أَبَا أُسَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ لْيَقُلِ اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ فَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ " .
#466
Sahih
Haiwah b. Shuraih reported :I met ‘Uqbah b. Muslim and said to him: it has been reported to me that someone has narrated to you from the prophet (ﷺ) that when he entered the mosque, he would say: I seek refuge in Allah, the Magnificent, and in His noble face, and in his eternal domain, from the accursed Devil. He asked : is it so much only? I said: Yes. He said: when anyone says so. The devil says: he is protected from me all the day long
حیوہ بن شریح کہتے ہیں کہ میں عقبہ بن مسلم سے ملا تو میں نے ان سے کہا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ نے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں تشریف لے جاتے تو فرماتے: «أعوذ بالله العظيم وبوجهه الكريم وسلطانه القديم من الشيطان الرجيم» ( میں اللہ عظیم کی، اس کی ذات کریم کی اور اس کی قدیم بادشاہت کی مردود شیطان سے پناہ چاہتا ہوں ) تو عقبہ نے کہا: کیا بس اتنا ہی؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: جب مسجد میں داخل ہونے والا آدمی یہ کہتا ہے تو شیطان کہتا ہے: اب وہ میرے شر سے دن بھر کے لیے محفوظ کر لیا گیا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ لَقِيتُ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ فَقُلْتُ لَهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ حَدَّثْتَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ قَالَ " أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " . قَالَ أَقَطُّ قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ قَالَ الشَّيْطَانُ حُفِظَ مِنِّي سَائِرَ الْيَوْمِ .
#467
Sahih
Abu Qatadah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying; when any one of you enters the mosque, he should pray two RAKAHS before sitting down
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں آئے تو اسے چاہیئے کہ وہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں ( تحیۃ المسجد ) پڑھ لے ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُصَلِّ سَجْدَتَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَجْلِسَ " .
#468
Sahih
This tradition has been narrated by Abu Qatadah through a different chain of transmitters to the same effect from the prophet (ﷺ). This version adds:then he may remain sitting (after praying two RAKAHS) or may go for his work
اس سند سے بھی ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے، اس میں اتنا زیادہ ہے کہ پھر اس کے بعد چاہے تو وہ بیٹھا رہے یا اپنی ضرورت کے لیے چلا جائے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِهِ زَادَ " ثُمَّ لْيَقْعُدْ بَعْدُ إِنْ شَاءَ أَوْ لِيَذْهَبْ لِحَاجَتِهِ " .
#469
Sahih
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying; The angels invoke blessings on any of you who remains sitting at the place where he says his prayers so long as he is defiled (needs ablution) or stands up, saying:O Allah, forgives him; O Allah, have mercy on him
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے تم میں سے ہر ایک شخص کے لیے دعائے خیر و استغفار کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اس جگہ میں جہاں اس نے نماز پڑھی ہے بیٹھا رہتا ہے، جب تک کہ وہ وضو نہ توڑ دے یا اٹھ کر چلا نہ جائے، فرشتے کہتے ہیں: «اللهم اغفر له اللهم ارحمه» اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمَلاَئِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلاَّهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ مَا لَمْ يُحْدِثْ أَوْ يَقُمِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ " .
#470
Sahih
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying; one is considered to be at prayer so long as one is detained by prayer:Nothing prevents one from going home to one’s family except prayer
اسی سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک شخص برابر نماز ہی میں رہتا ہے جب تک نماز اس کو روکے رہے یعنی اپنے گھر والوں کے پاس واپس جانے سے اسے نماز کے علاوہ کوئی اور چیز نہ روکے ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَةٍ مَا كَانَتِ الصَّلاَةُ تَحْبِسُهُ لاَ يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْقَلِبَ إِلَى أَهْلِهِ إِلاَّ الصَّلاَةُ " .
#471
Sahih
Abu Hurairah reported the apostle of Allah (May peace be upon him) as saying; The servant (of Allah) is considered to he at prayer so long as he remains at the place of prayer waiting for prayer. The angels say:O Allah, forgive him? O Allah, take mercy on him, until he turns away, or he is defiled. He was asked: what is meant by defilement? He replied: he breaks wind gently or loudly
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ برابر نماز ہی میں رہتا ہے، جب تک اپنے مصلی میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرتا رہے، فرشتے کہتے ہیں: اے اللہ! تو اسے بخش دے، اے اللہ! تو اس پر رحم فرما، جب تک کہ وہ نماز سے فارغ ہو کر گھر نہ لوٹ جائے، یا حدث نہ کرے ۔ عرض کیا گیا: حدث سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( حدث یہ ہے کہ وہ ) بغیر آواز کے یا آواز کے ساتھ ہوا خارج کرے ( یعنی وضو توڑ دے ) ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلاَةٍ مَا كَانَ فِي مُصَلاَّهُ يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ تَقُولُ الْمَلاَئِكَةُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ حَتَّى يَنْصَرِفَ أَوْ يُحْدِثَ " . فَقِيلَ مَا يُحْدِثُ قَالَ يَفْسُو أَوْ يَضْرِطُ .
#472
Hasan
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying; one shall have the thing the for which one comes to the mosque
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں جو جس کام کے لیے آئے گا وہی اس کا نصیب ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ الأَزْدِيُّ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ الْعَنْسِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَتَى الْمَسْجِدَ لِشَىْءٍ فَهُوَ حَظُّهُ " .
#473
Sahih
Abu Hurairah reported:I heard the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying; if anyone hears a man crying out in the mosque about something he has lost, he should say: May Allah not restore it to you, for the mosque were not built for this
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص کسی کو مسجد میں گمشدہ چیز ڈھونڈتے سنے تو وہ کہے: اللہ تجھے ( اس گمشدہ چیز کو ) واپس نہ لوٹائے، کیونکہ مسجدیں اس کام کے لیے نہیں بنائی گئی ہیں ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، - يَعْنِي ابْنَ شُرَيْحٍ - قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الأَسْوَدِ، - يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ - يَقُولُ أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، مَوْلَى شَدَّادٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ سَمِعَ رَجُلاً يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَقُلْ لاَ أَدَّاهَا اللَّهُ إِلَيْكَ فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا " .
#474
Sahih
Anas b. Malik reported the Prophet(ﷺ) as saying:Spitting in the mosque is a sin and it is expiated by burying the spittle
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ تم اسے ( مٹی ) میں چھپا دو ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، وَشُعْبَةُ، وَأَبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " التَّفْلُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهُ أَنْ تُوَارِيَهُ " .
#475
Sahih
Anas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Spitting in the mosque is a sin and it is expiated by burying the spittle
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس پر مٹی ڈال دو ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْبُزَاقُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا " .