#4526
Shadh
Narrated 'Abu Salamah b. 'Abd al-Rahman and Sulaiman b. Yasar: On the authority of some men of the Ansar : The Prophet (ﷺ) said to the Jews and started with them: Fifty of you should take the oaths. But they refused (to take the oaths). He then said to the Ansar: Prove your claim. They said: Do we take the oaths without seeing, Messenger of Allah? The Messenger of Allah (ﷺ) then imposed the blood-wit on the Jews because he (the slain) was found among them
انصار کے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے یہود سے کہا: تم میں سے پچاس لوگ قسم کھائیں تو انہوں نے انکار کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے کہا: تم اپنا حق ثابت کرو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم ایسی بات پر قسم کھائیں جسے ہم نے دیکھا نہیں ہے؟ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت یہود سے دلوائی اس لیے کہ وہ انہیں کے درمیان پایا گیا تھا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رِجَالٍ، مِنَ الأَنْصَارِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِلْيَهُودِ وَبَدَأَ بِهِمْ " يَحْلِفُ مِنْكُمْ خَمْسُونَ رَجُلاً " . فَأَبَوْا فَقَالَ لِلأَنْصَارِ " اسْتَحِقُّوا " . قَالُوا نَحْلِفُ عَلَى الْغَيْبِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَجَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دِيَةً عَلَى يَهُودَ لأَنَّهُ وُجِدَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ .
#4527
Sahih
Narrated Anas:A girl was found with her head crushed between two stones. She was asked: Who has done this to you ? Is it so and so ? Is it so and so, until a Jew was named, and she gave a sign with her head. The Jew was caught ad he admitted. So the Prophet (ﷺ) gave command that his head should be crushed with stones
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لونڈی ملی جس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا تھا، اس سے پوچھا گیا: کس نے تیرے ساتھ یہ کیا ہے؟ کیا فلاں نے؟ کیا فلاں نے؟ یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا: ہاں، اس پر اس یہودی کو پکڑا گیا، تو اس نے اعتراف کیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی پتھر سے کچل دیا جائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ جَارِيَةً، وُجِدَتْ، قَدْ رُضَّ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَقِيلَ لَهَا مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا أَفُلاَنٌ أَفُلاَنٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ .
#4528
Sahih
Narrated Anas: A Jew killed a girl of the Ansar for her ornaments. He then threw her in a well, and crushed her head with stones. He was then arrested and brought to the Prophet (ﷺ). He ordered regarding him that he should be stoned to death. He was then stoned till he died. Abu Dawud said: It has been transmitted by Ibn Juraij from Ayyub in a similar way
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے انصار کی ایک لونڈی کو اس کے زیور کی وجہ سے قتل کر دیا، پھر اسے ایک کنوئیں میں ڈال کر اس کا سر پتھر سے کچل دیا، تو اسے پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے رجم کر دیا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے تو اسے رجم کر دیا گیا یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے ایوب سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ يَهُودِيًّا، قَتَلَ جَارِيَةً مِنَ الأَنْصَارِ عَلَى حُلِيٍّ لَهَا ثُمَّ أَلْقَاهَا فِي قَلِيبٍ وَرَضَخَ رَأْسَهَا بِالْحِجَارَةِ فَأُخِذَ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ حَتَّى يَمُوتَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَيُّوبَ نَحْوَهُ .
#4529
Sahih
Narrated Anas:A girl was wearing silver ornaments. A Jew crushed her head with a stone. The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon her when she had some breath. He said to her: Who has killed you ? Had so and so killed you ? She replied: No, making a sign with her head. He again asked: Who has killed you ? Has so and so killed you ? She replied: No, making a sign with her head. He again asked: Has so and so killed you ? She said: Yes, making sign with her head. The Messenger of Allah (ﷺ) commanded regarding him, and he was killed between two stones
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لونڈی اپنے زیور پہنے ہوئی تھی اس کے سر کو ایک یہودی نے پتھر سے کچل دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے، ابھی اس میں جان باقی تھی، آپ نے اس سے پوچھا: تجھے کس نے قتل کیا ہے؟ فلاں نے تجھے قتل کیا ہے؟ اس نے اپنے سر کے اشارے سے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: تجھے کس نے قتل کیا؟ فلاں نے قتل کیا ہے؟ اس نے پھر سر کے اشارے سے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: کیا فلاں نے کیا ہے؟ اس نے سر کے اشارہ سے کہا: ہاں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، تو اسے دو پتھروں کے درمیان ( کچل کر ) مار ڈالا گیا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَسٍ أَنَّ جَارِيَةً، كَانَ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ لَهَا فَرَضَخَ رَأْسَهَا يَهُودِيٌّ بِحَجَرٍ فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبِهَا رَمَقٌ فَقَالَ لَهَا " مَنْ قَتَلَكِ فُلاَنٌ قَتَلَكِ " . فَقَالَتْ لاَ . بِرَأْسِهَا . قَالَ " مَنْ قَتَلَكِ فُلاَنٌ قَتَلَكِ " . قَالَتْ لاَ . بِرَأْسِهَا . قَالَ " فُلاَنٌ قَتَلَكِ " . قَالَتْ نَعَمْ . بِرَأْسِهَا فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُتِلَ بَيْنَ حَجَرَيْنِ .
#4530
Sahih
Narrated Qays ibn Abbad : I and Ashtar went to Ali and said to him: Did the Messenger of Allah (ﷺ) give you any instruction about anything for which he did not give any instruction to the people in general? He said: No, except what is contained in this document of mine. Musaddad said: He then took out a document. Ahmad said: A document from the sheath of his sword. It contained: The lives of all Muslims are equal; they are one hand against others; the lowliest of them can guarantee their protection. Beware, a Muslim must not be killed for an infidel, nor must one who has been given a covenant be killed while his covenant holds. If anyone introduces an innovation, he will be responsible for it. If anyone introduces an innovation or gives shelter to a man who introduces an innovation (in religion), he is cursed by Allah, by His angels, and by all the people. Musaddad said: Ibn AbuUrubah's version has: He took out a document
قیس بن عباد سے کہتے ہیں کہ میں اور اشتر دونوں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ہم نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کوئی خاص بات بتائی ہے جو عام لوگوں کو نہ بتائی ہو؟ وہ بولے: نہیں، سوائے اس چیز کے جو میری اس کتاب میں ہے۔ مسدد کہتے ہیں: پھر انہوں نے ایک کتاب نکالی، احمد کے الفاظ یوں ہیں اپنی تلوار کے غلاف سے ایک کتاب ( نکالی ) اس میں یہ لکھا تھا: سب مسلمانوں کا خون برابر ہے اور وہ غیروں کے مقابل ( باہمی نصرت و معاونت میں ) گویا ایک ہاتھ ہیں، اور ان میں کا ایک ادنی بھی ان کے امان کا پاس و لحاظ رکھے گا ۱؎، آگاہ رہو! کہ کوئی مومن کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی کوئی ذمی معاہد جب تک وہ معاہد ہے قتل کیا جائے گا، اور جو شخص کوئی نئی بات نکالے گا تو اس کی ذمے داری اسی کے اوپر ہو گی، اور جو نئی بات نکالے گا، یا نئی بات نکالنے والے کسی شخص ( بدعتی ) کو پناہ دے گا تو اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ مسدد کہتے ہیں: ابن ابی عروبہ سے منقول ہے کہ انہوں نے ایک کتاب نکالی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ، قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَالأَشْتَرُ، إِلَى عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقُلْنَا هَلْ عَهِدَ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً قَالَ لاَ إِلاَّ مَا فِي كِتَابِي هَذَا - قَالَ مُسَدَّدٌ قَالَ - فَأَخْرَجَ كِتَابًا - وَقَالَ أَحْمَدُ كِتَابًا مِنْ قِرَابِ سَيْفِهِ - فَإِذَا فِيهِ " الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ أَلاَ لاَ يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلاَ ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا فَعَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " . قَالَ مُسَدَّدٌ عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ فَأَخْرَجَ كِتَابًا .
#4531
Hasan Sahih
Narrated 'Amr b. Suh'aib: On his father's authority, said that his grandfather reported the Messenger of Allah (ﷺ) said, mentioning the tradition similar to the one transmitted by Ali. This version adds: The most distant of them gives protection as from all, those who are strong among them send back (spoil) to those who are weak among them, and their expeditions sending it back to those who are at home
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: … پھر راوی نے علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ان کا ادنی شخص بھی امان دے سکتا ہے اور مال غنیمت میں عمدہ جانور اور کمزور جانور والے دونوں برابر ہیں، جو لشکر سے باہر نکلے اور لڑے اور وہ جو لشکر میں بیٹھا رے دونوں برابر ہیں۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَلِيٍّ زَادَ فِيهِ " وَيُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ وَيَرُدُّ مُشِدُّهُمْ عَلَى مُضْعِفِهِمْ وَمُتَسَرِّيهِمْ عَلَى قَاعِدِهِمْ " .
#4532
Sahih
Narrated Abu Hurairah:That Sa'd b. 'Ubadah said: Messenger of Allah! If a man finds a man with his wife, should he kill him ? The Messenger of Allah (ﷺ) said: No. Sa'd : Why not, by Him who has honoured you with truth ? The Prophet (ﷺ) said: Listen to what your chief is saying. The narrator 'Abd al-Wahhab said: (Listen) to what Sa'd is saying
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں سعد نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ عزت دی ( میں تو اسے قتل کر دوں گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! جو تمہارے سردار کہہ رہے ہیں ( عبدالوہاب کے الفاظ ہیں، ( سنو ) جو سعد کہہ رہے ہیں ) ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، - الْمَعْنَى وَاحِدٌ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يَجِدُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ " . قَالَ سَعْدٌ بَلَى وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ . قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ " . قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ " إِلَى مَا يَقُولُ سَعْدٌ " .
#4533
Sahih
Narrated Abu Hurairah:That Sa'd b. 'Ubadah said to the Messenger of Allah (ﷺ) : What do you think if I find with my wife a man ; should I give him some time until I bring four witnesses ?" He said: "Yes
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: بتائیے اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں تو کیا چار گواہ لانے تک اسے مہلت دوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرَأَيْتَ لَوْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلاً أُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ قَالَ " نَعَمْ " .
#4534
Sahih
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Prophet (ﷺ) sent AbuJahm ibn Hudhayfah as a collector of zakat. A man quarrelled with him about his sadaqah (i.e. zakat), and AbuJahm struck him and wounded his head. His people came to the Prophet (ﷺ) and said: Revenge, Messenger of Allah! The Prophet (ﷺ) said: You may have so much and so much. But they did not agree. He again said: You may have so much and so much. But they did not agree. He again said: You may have so much and so much. So they agreed. The Prophet (ﷺ) said: I am going to address the people in the afternoon and tell them about your consent. They said: Yes. Addressing (the people), the Messenger of Allah (ﷺ) said: These people of faith came to me asking for revenge. I presented them with so much and so much and they agreed. Do you agree? They said: No. The immigrants (muhajirun) intended (to take revenge) on them. But the Messenger of Allah (ﷺ) commanded them to refrain and they refrained. He then called them and increased (the amount), and asked: Do you agree? They replied: Yes. He said: I am going to address the people and tell them about your consent. They said: Yes. The Prophet (ﷺ) addressed and said: Do you agree? They said: Yes
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہم بن حذیفہ کو زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا، ایک شخص نے اپنی زکاۃ کے سلسلہ میں ان سے جھگڑا کر لیا، ابوجہم نے اسے مارا تو اس کا سر زخمی ہو گیا، تو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اللہ کے رسول! قصاص دلوائیے، اس پر آپ نے ان سے فرمایا: تم اتنا اور اتنا لے لو لیکن وہ لوگ راضی نہیں ہوئے، تو آپ نے فرمایا: اچھا اتنا اور اتنا لے لو وہ اس پر بھی راضی نہیں ہوئے تو آپ نے فرمایا: اچھا اتنا اور اتنا لے لو اس پر وہ رضامند ہو گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج شام کو میں لوگوں کے سامنے خطبہ دوں گا اور انہیں تمہاری رضا مندی کی خبر دوں گا لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، اور فرمایا: قبیلہ لیث کے یہ لوگ قصاص کے ارادے سے میرے پاس آئے ہیں تو میں نے ان کو اتنا اور اتنا مال پیش کیا اس پر یہ راضی ہو گئے ہیں ( پھر آپ نے انہیں مخاطب کر کے پوچھا: ) بتاؤ کیا تم لوگ راضی ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، تو مہاجرین ان پر جھپٹے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان سے باز رہنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ رک گئے، پھر آپ نے انہیں بلایا، اور کچھ اضافہ کیا پھر پوچھا: کیا اب تم راضی ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: میں لوگوں کو خطاب کروں گا، اور انہیں تمہاری رضا مندی کے بارے میں بتاؤں گا لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب کیا، اور پوچھا: کیا تم راضی ہو؟ وہ بولے: ہاں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ أَبَا جَهْمِ بْنَ حُذَيْفَةَ مُصَدِّقًا فَلاَجَّهُ رَجُلٌ فِي صَدَقَتِهِ فَضَرَبَهُ أَبُو جَهْمٍ فَشَجَّهُ فَأَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا الْقَوَدَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَكُمْ كَذَا وَكَذَا " . فَلَمْ يَرْضَوْا فَقَالَ " لَكُمْ كَذَا وَكَذَا " . فَلَمْ يَرْضَوْا فَقَالَ " لَكُمْ كَذَا وَكَذَا " . فَرَضُوا . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي خَاطِبٌ الْعَشِيَّةَ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ " . فَقَالُوا نَعَمْ . فَخَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنَّ هَؤُلاَءِ اللَّيْثِيِّينَ أَتَوْنِي يُرِيدُونَ الْقَوَدَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِمْ كَذَا وَكَذَا فَرَضُوا أَرَضِيتُمْ " . قَالُوا لاَ . فَهَمَّ الْمُهَاجِرُونَ بِهِمْ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَكُفُّوا عَنْهُمْ فَكَفُّوا ثُمَّ دَعَاهُمْ فَزَادَهُمْ فَقَالَ " أَرَضِيتُمْ " . فَقَالُوا نَعَمْ . قَالَ " إِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ " . قَالُوا نَعَمْ . فَخَطَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَرَضِيتُمْ " . قَالُوا نَعَمْ .
#4535
Sahih
Narrated Anas:A girl was found with her head crushed between two stoned. She was asked: Who did it with you ? Was it so and so ? Was it so and so ? Until the Jew was named. Thereupon she gave a sign with her head. The Jew was arrested and he admitted. So the Prophet (ﷺ) gave command that his head should be crushed with stones
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک لڑکی ملی جس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا تھا، اس سے پوچھا گیا: تمہارے ساتھ یہ کس نے کیا؟ کیا فلاں نے؟ کیا فلاں نے؟ یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا، تو اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا: ہاں، چنانچہ اس یہودی کو پکڑا گیا، اس نے اقبال جرم کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر پتھر سے کچل دیا جائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ جَارِيَةً، وُجِدَتْ، قَدْ رُضَّ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَقِيلَ لَهَا مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا أَفُلاَنٌ أَفُلاَنٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ .
#4536
Daif
Narrated AbuSa'id al-Khudri: When the Messenger of Allah (ﷺ) was distributing something, a man came towards him and bent down on him. The Messenger of Allah (ﷺ) struck him with a bough and his face was wounded. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: Come and take retaliation. He said: no, I have forgiven, Messenger of Allah
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم کر رہے تھے کہ اسی دوران ایک شخص آیا اور آپ کے اوپر جھک گیا تو اس کے چہرے پر خراش آ گئی تو آپ نے ایک لکڑی جو آپ کے پاس تھی اسے چبھو دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: آؤ قصاص لے لو ۱؎ وہ بولا: اللہ کے رسول! میں نے معاف کر دیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرٍو، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْسِمُ قَسْمًا أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعُرْجُونٍ كَانَ مَعَهُ فَجُرِحَ بِوَجْهِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَعَالَ فَاسْتَقِدْ " . فَقَالَ بَلْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ .
#4537
Daif
Narrated Abu Firas: 'Umar b. al-Khattab (ra) addressed us and said: I did not send my collectors (of zakat) so that they strike your bodies and that they take your property. If that is done with someone and he appeals to me, I shall take retaliation on him. Amr ibn al-'As said: If any man (i.e. governor) inflicts disciplinary punishment on his subjects, would you take retaliation on him too? He said: Yes, by Him in Whose hand my soul is, I shall take retaliation on him. I saw that the Messenger of Allah (ﷺ) has given retaliation on himself
ابوفراس کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہم سے خطاب کیا اور کہا: میں نے اپنے گورنر اس لیے نہیں بھیجے کہ وہ تمہاری کھالوں پہ ماریں، اور نہ اس لیے کہ وہ تمہارے مال لیں، لہٰذا اگر کسی کے ساتھ ایسا سلوک ہو تو وہ اسے مجھ تک پہنچائے، میں اس سے اسے قصاص دلواؤں گا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر کوئی شخص اپنی رعیت کو تادیباً سزا دے تو اس پر بھی آپ اس سے قصاص لیں گے، وہ بولے: ہاں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس سے قصاص لوں گا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنی ذات سے قصاص دلایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ، قَالَ خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضى الله عنه فَقَالَ إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ عُمَّالِي لِيَضْرِبُوا أَبْشَارَكُمْ وَلاَ لِيَأْخُذُوا أَمْوَالَكُمْ فَمَنْ فُعِلَ بِهِ ذَلِكَ فَلْيَرْفَعْهُ إِلَىَّ أَقُصُّهُ مِنْهُ قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لَوْ أَنَّ رَجُلاً أَدَّبَ بَعْضَ رَعِيَّتِهِ أَتَقُصُّهُ مِنْهُ قَالَ إِي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ أَقُصُّهُ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقَصَّ مِنْ نَفْسِهِ .
#4538
Daif
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Prophet (ﷺ) Said: The disputants should refrain from taking retaliation. The one who is nearer should forgive first and then the one who is next to him, even if (the one who forgives) were a woman. Abu Dawud said: I have been informed that forgiving by women in the case of murder is permissible if a woman were one of the heirs (of the slain). I have been told on the authority of Abu 'Ubaid about the meaning of the word yanhajizu, that is, they should refrain from retaliation
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑنے والوں پر لازم ہے کہ وہ قصاص لینے سے باز رہیں، پہلے جو سب سے قریبی ہے وہ معاف کرے، پھر اس کے بعد والے خواہ وہ عورت ہی ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ عورتوں کا قتل کے سلسلے میں قصاص معاف کر دینا جائز ہے جب وہ مقتول کے اولیاء میں سے ہوں، اور مجھے ابو عبید کے واسطے سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کے قول «ينحجزوا» کے معنی قصاص سے باز رہنے کے ہیں۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ حِصْنًا، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ، يُخْبِرُ عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " عَلَى الْمُقْتَتِلِينَ أَنْ يَنْحَجِزُوا الأَوَّلَ فَالأَوَّلَ وَإِنْ كَانَتِ امْرَأَةً " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ بَلَغَنِي أَنَّ عَفْوَ النِّسَاءِ فِي الْقَتْلِ جَائِزٌ إِذَا كَانَتْ إِحْدَى الأَوْلِيَاءِ وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ فِي قَوْلِهِ " يَنْحَجِزُوا " . يَكُفُّوا عَنِ الْقَوَدِ .
#4539
Sahih
Tawus, in his version said:If anyone is killed. Ibn 'Ubaid in his version said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: If anyone is killed in error (blindly) when people are throwing stones, or by beating with whips, or striking with a stick, it is accidental and the compensation for accidental death is due. But if anyone is killed deliberately, retaliation is due. Ibn 'Ubaid in his version: Retaliation of the man is due. The agreed version then goes: If anyone comes in (between the two parties) to prevent it, Allah's curse and anger will rest on him, and neither supererogatory nor obligatory acts will be accepted from him. The version of the tradition of Sufyan is more perfect
طاؤس کہتے ہیں کہ جو مارا جائے، اور ابن عبید کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی کسی لڑائی یا دنگے میں جو لوگوں میں چھڑ گئی ہو غیر معروف پتھر، کوڑے، یا لاٹھی سے مارا جائے ۱؎ تو وہ قتل خطا ہے، اور اس کی دیت قتل خطا کی دیت ہو گی، اور جو قصداً مارا جائے تو اس میں قصاص ہے ( البتہ ابن عبید کی روایت میں ہے کہ ) اس میں ہاتھ کا قصاص ہے، ۲؎ ( پھر دونوں کی روایت ایک ہے کہ ) جو کوئی اس کے بیچ بچاؤ میں پڑے ۳؎ تو اس پر اللہ کی لعنت، اور اس کا غضب ہو، اس کی نہ توبہ قبول ہو گی اور نہ فدیہ، یا اس کے فرض قبول ہوں گے نہ نفل اور سفیان کی حدیث زیادہ کامل ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - وَهَذَا حَدِيثُهُ - عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ مَنْ قُتِلَ . وَقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّا فِي رَمْىٍ يَكُونُ بَيْنَهُمْ بِحِجَارَةٍ أَوْ ضَرْبٍ بِالسِّيَاطِ أَوْ ضَرْبٍ بِعَصًا فَهُوَ خَطَأٌ وَعَقْلُهُ عَقْلُ الْخَطَإِ وَمَنْ قُتِلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدٌ " . وَقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ " قَوَدُ يَدٍ " . ثُمَّ اتَّفَقَا " وَمَنْ حَالَ دُونَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ " . وَحَدِيثُ سُفْيَانَ أَتَمُّ .
#4540
Sahih
Narrated Ibn 'Abbas:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: He then mentioned the rest of the tradition to the same effect as mentioned by Sufyan
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، آگے راوی نے سفیان کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي غَالِبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ .
#4541
Hasan
Narrated 'Amr b. Suh'aib: On his father's authority, said that his grandfather reported the Messenger of Allah (ﷺ) gave judgment that if anyone is killed accidentally, his blood-wit should be one hundred camels: thirty she-camels which had entered their second year, thirty she-camels which had entered their third year, thirty she-camels which had entered their fourth year, and ten male camels which had entered their third year
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: جو غلطی سے مارا گیا تو اس کی دیت سو اونٹ ہے تیس بنت مخاض ۱؎ تیس بنت لبون ۲؎ تیس حقے ۳؎ اور دس نر اونٹ جو دو برس کے ہو چکے ہوں ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى أَنَّ مَنْ قُتِلَ خَطَأً فَدِيَتُهُ مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ ثَلاَثُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ وَثَلاَثُونَ بِنْتَ لَبُونٍ وَثَلاَثُونَ حِقَّةً وَعَشْرَةٌ بَنِي لَبُونٍ ذَكَرٍ .
#4542
Hasan
Narrated 'Amr b. Suh'aib: On his father's authority, said that his grandfather reported that the value of the blood-money at the time of the Messenger of Allah (ﷺ) was eight hundred dinars or eight thousand dirhams, and the blood-money for the people of the Book was half of that for Muslims. He said: This applied till Umar (Allah be pleased with him) became caliph and he made a speech in which he said: Take note! Camels have become dear. So Umar fixed the value for those who possessed gold at one thousand dinars, for those who possessed silver at twelve thousand (dirhams), for those who possessed cattle at two hundred cows, for those who possessed sheep at two thousand sheep, and for those who possessed suits of clothing at two hundred suits. He left the blood-money for dhimmis (protected people) as it was, not raising it in proportion to the increase he made in the blood-wit
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیت کی قیمت ۱؎ آٹھ سو دینار، یا آٹھ ہزار درہم تھی، اور اہل کتاب کی دیت اس وقت مسلمانوں کی دیت کی آدھی تھی، پھر اسی طرح حکم چلتا رہا، یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا، اور فرمایا: سنو، اونٹوں کی قیمت بڑھ گئی ہے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے سونے والوں پر ایک ہزار دینار، اور چاندی والوں پر بارہ ہزار ( درہم ) دیت ٹھہرائی، اور گائے بیل والوں پر دو سو گائیں، اور بکری والوں پر دو ہزار بکریاں، اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑوں کی دیت مقرر کی، اور ذمیوں کی دیت چھوڑ دی، ان کی دیت میں ( مسلمانوں کی دیت کی طرح ) اضافہ نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ كَانَتْ قِيمَةُ الدِّيَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَمَانَمِائَةِ دِينَارٍ أَوْ ثَمَانِيَةَ آلاَفِ دِرْهَمٍ وَدِيَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ يَوْمَئِذٍ النِّصْفُ مِنْ دِيَةِ الْمُسْلِمِينَ قَالَ فَكَانَ ذَلِكَ كَذَلِكَ حَتَّى اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ أَلاَ إِنَّ الإِبِلَ قَدْ غَلَتْ . قَالَ فَفَرَضَهَا عُمَرُ عَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفَ دِينَارٍ وَعَلَى أَهْلِ الْوَرِقِ اثْنَىْ عَشَرَ أَلْفًا وَعَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَىْ بَقَرَةٍ وَعَلَى أَهْلِ الشَّاءِ أَلْفَىْ شَاةٍ وَعَلَى أَهْلِ الْحُلَلِ مِائَتَىْ حُلَّةٍ . قَالَ وَتَرَكَ دِيَةَ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَرْفَعْهَا فِيمَا رَفَعَ مِنَ الدِّيَةِ .
#4543
Daif
Narrated Ata' ibn AbuRabah: The Messenger of Allah (ﷺ) gave judgment that blood-wit for those who possessed camels should be one hundred camels, and for those who possessed cattle two hundred cows, and for those who possessed sheep one thousand sheep, and for those who possessed suits of clothing two hundred suits, and for those who possessed wheat something which the narrator Muhammad (ibn Ishaq) did not remember
عطا بن ابی رباح سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کے سلسلے میں فیصلہ فرمایا کہ اونٹ والوں پر سو اونٹ، گائے بیل والوں پر دو سو گائیں، بکری والوں پر دو ہزار بکریاں، اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑے کپڑے، اور گیہوں والوں پر بھی کچھ مقرر کیا جو محمد ( محمد بن اسحاق ) کو یاد نہیں رہا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي الدِّيَةِ عَلَى أَهْلِ الإِبِلِ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ وَعَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَىْ بَقَرَةٍ وَعَلَى أَهْلِ الشَّاءِ أَلْفَىْ شَاةٍ وَعَلَى أَهْلِ الْحُلَلِ مِائَتَىْ حُلَّةٍ وَعَلَى أَهْلِ الْقَمْحِ شَيْئًا لَمْ يَحْفَظْهُ مُحَمَّدٌ .
#4544
Daif
Abu Dawud said:I read out to Sa'id b. Ya'qub al-Taliqini who said: Abu Tumailah transmitted to us, saying: Muhammad b. Ishaq transmitted to us saying: 'Ata reported Jabir b. 'Abd Allah as saying: The Messenger of Allah (ﷺ) fixed; and he mentioned the tradition like that of Musa; he said: And those who possess corn food should pay something which I do not remember
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کیا پھر راوی نے ایسے ہی ذکر کیا جیسے موسیٰ کی روایت میں ہے البتہ اس میں اس طرح ہے کہ طَعام والوں پر کچھ مقرر کیا جو کہ مجھ کو یاد نہیں رہا۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَرَأْتُ عَلَى سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ ذَكَرَ عَطَاءٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ مُوسَى . قَالَ وَعَلَى أَهْلِ الطَّعَامِ شَيْئًا لاَ أَحْفَظُهُ .
#4545
Daif
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: The Prophet (ﷺ) said: The blood-wit for accidental killing should be twenty she-camels which had entered their fourth year, twenty she-camels which had entered their fifth year, twenty she-camels which had entered their second year, twenty she-camels which had entered their third year, and twenty male camels which had entered their second year. It does not beyond Ibn Mas'ud
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل خطا کی دیت میں بیس حقے، بیس جزعے، بیس بنت مخاض، بیس بنت لبون اور بیس ابن مخاض ہیں اور یہی عبداللہ بن مسعود کا قول ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فِي دِيَةِ الْخَطَإِ عِشْرُونَ حِقَّةً وَعِشْرُونَ جَذَعَةً وَعِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ وَعِشْرُونَ بِنْتَ لَبُونٍ وَعِشْرُونَ بَنِي مَخَاضٍ ذُكُرٌ " . وَهُوَ قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ .
#4546
Daif
Narrated Abdullah ibn Abbas: A man of Banu Adi was killed. The Prophet (ﷺ) fixed his blood-wit at the rate of twelve thousand (dirhams). Abu Dawud said: Ibn 'Uyainah transmitted it from 'Amr, from 'Ikrimah, from the Prophet (ﷺ), and he did not mention Ibn 'Abbas
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بنی عدی کے ایک شخص کو قتل کر دیا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت بارہ ہزار ٹھہرائی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن عیینہ نے عمرو سے، عمرو نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اس میں انہوں نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ بَنِي عَدِيٍّ قُتِلَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم دِيَتَهُ اثْنَىْ عَشَرَ أَلْفًا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَذْكُرِ ابْنَ عَبَّاسٍ .
#4547
Hasan
Narrated Abdullah ibn Amr: (Musaddad's version has): The Messenger of Allah (ﷺ) made a speech on the day of the conquest of Mecca, and said: Allah is Most Great, three times. He then said: There is no god but Allah alone: He fulfilled His promise, helped His servant, and alone defeated the companies. (The narrator said:) I have remembered from Musaddad up to this. Then the agreed version has: Take note! All the merits mentioned in pre-Islamic times, and the claim made for blood or property are under my feet, except the supply of water to the pilgrims and the custody of the Ka'bah. He then said: The blood-money for unintentional murder which appears intentional, such as is done with a whip and a stick, is one hundred camels, forty of which are pregnant. Musaddad's version is more accurate
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مسدد کی روایت کے مطابق ) فتح مکہ کے دن مکہ میں خطبہ دیا، آپ نے تین بار اللہ اکبر کہا، پھر فرمایا: «لا إله إلا الله وحده صدق وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده» اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ تنہا ہے، اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی، اور تنہا لشکروں کو شکست دی ( یہاں تک کہ حدیث مجھ سے صرف مسدد نے بیان کی ہے صرف انہیں کے واسطہ سے میں نے اسے یاد کیا ہے اور اس کے بعد سے اخیر حدیث تک سلیمان اور مسدد دونوں نے مجھ سے بیان کیا ہے آگے یوں ہے ) سنو! وہ تمام فضیلتیں جو جاہلیت میں بیان کی جاتی تھیں اور خون یا مال کے جتنے دعوے کئے جاتے تھے وہ سب میرے پاؤں تلے ہیں ( یعنی لغو اور باطل ہیں ) سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اور بیت اللہ کی خدمت کے ( یہ اب بھی ان کے ہی سپرد رہے گی جن کے سپر د پہلے تھی پھر فرمایا: سنو! قتل خطا یعنی قتل شبہ عمد کوڑے یا لاٹھی سے ہونے کی دیت سو اونٹ ہے جن میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں گی جن کے پیٹ میں بچے ہوں ( اور مسدد والی روایت زیادہ کامل ہے ) ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطَبَ يَوْمَ الْفَتْحِ بِمَكَّةَ فَكَبَّرَ ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ " . إِلَى هَا هُنَا حَفِظْتُهُ عَنْ مُسَدَّدٍ ثُمَّ اتَّفَقَا " أَلاَ إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تُذْكَرُ وَتُدْعَى مِنْ دَمٍ أَوْ مَالٍ تَحْتَ قَدَمَىَّ إِلاَّ مَا كَانَ مِنْ سِقَايَةِ الْحَاجِّ وَسِدَانَةِ الْبَيْتِ " . ثُمَّ قَالَ " أَلاَ إِنَّ دِيَةَ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ مَا كَانَ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلاَدُهَا " . وَحَدِيثُ مُسَدَّدٍ أَتَمُّ .
#4548
Daif
The tradition mentioned above has also been transmitted by Khalid through the same chain of narrators to the same effect
اس سند سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ مَعْنَاهُ .
#4549
Daif
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn 'Umar from the Prophet (ﷺ) to the same effect. This version has:The Messenger of Allah (ﷺ) addressed on the day of Conquest, or he said: On the conquest of Mecca on the ladder of the House or of the Ka'bah. Abu Dawud said: In a similar way of Ibn 'Uyainah also transmitted it from 'Ali b. Zaid, from al-Qasim b. Rab'iah, from Ibn 'Umar, from the Prophet (ﷺ) ; and Ayyub al-Sukhtiyani transmitted it from al-Qasim b. Rabi'ah from 'Abd Allah b. 'Amr like the tradition of Khalid. Hammad b. Salamah also transmitted it from 'Ali b. Zaid, from Ya'qub al-Sadusi, on the authority of 'Abd Allah b. 'Amr from the Prophet (ﷺ). The statements of Zaid and of Abu Musa are similar to the tradition of the Prophet (ﷺ) and to the tradition of 'Umar (Allah be pleased with him)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح کے دن یا فتح مکہ کے دن بیت اللہ یا کعبہ کی سیڑھی پر خطبہ دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن عیینہ نے بھی اسی طرح علی بن زید سے، علی بن زید نے قاسم بن ربیعہ سے، قاسم نے ابن عمر سے اور ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، اور اسے ایوب سختیانی نے قاسم بن ربیعہ سے، قاسم نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے خالد کی حدیث کے مثل روایت کی ہے۔ نیز اسے حماد بن سلمہ نے علی بن زید سے، علی بن زید نے یعقوب سدوسی سے، سدوسی نے عبداللہ بن عمرو سے، اور عبداللہ بن عمرو نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور زید اور ابوموسیٰ کا قول نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اور عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مثل ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْفَتْحِ أَوْ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى دَرَجَةِ الْبَيْتِ أَوِ الْكَعْبَةِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَذَا رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ أَيْضًا عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَرَوَاهُ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مِثْلَ حَدِيثِ خَالِدٍ وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يَعْقُوبَ السَّدُوسِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَوْلُ زَيْدٍ وَأَبِي مُوسَى مِثْلُ حَدِيثِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَحَدِيثِ عُمَرَ رضى الله عنه .
#4550
Daif Isnaad
Narrated Mujahid:'Umar gave judgement that bloodwit for quasi-intentional murder should be thirty she-camels in their fourth year, thirty she-camels in their fifth year, and forty pregnant she-camels in their sixth year up to the ninth
مجاہد کہتے ہیں عمر نے قتل شبہ عمد میں تیس حقہ، تیس جزعہ، چالیس گابھن اونٹنیوں ( جو چھ برس سے نو برس تک کی ہوں ) کی دیت کا فیصلہ کیا۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ قَضَى عُمَرُ فِي شِبْهِ الْعَمْدِ ثَلاَثِينَ حِقَّةً وَثَلاَثِينَ جَذَعَةً وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً مَا بَيْنَ ثَنِيَّةٍ إِلَى بَازِلِ عَامِهَا .