#4251
Sahih Isnaad Maqtu
Al-Zuhri said:Salah is near Khaibar
ابن شہاب زہری کہتے ہیں اور سلاح خیبر کے قریب ایک جگہ ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ وَسَلاَحُ قَرِيبٌ مِنْ خَيْبَرَ .
#4252
Sahih
Narrated Thawban:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Allah, the Exalted, folded for me the earth, or he said (the narrator is doubtful): My Lord folded for me the earth, so much so that I saw its easts and wests (i.e. the extremities). The kingdom of my community will reach as far as the earth was floded for me. The two treasures, the red and the white, were bestowed on me. I prayed to my Lord that He may not destroy my community by prevailing famine, and not give their control to an enemy who annihilates then en masse except from among themselves. My Lord said to me: Muhammad, If I make a decision, it is not withdrawn ; and I shall not destroy them by prevailing famine, and I shall not give their control to an enemy, except from among themselves, who exterminates them en masse, even if they are stormed from all sides of the earth ; only a section of them will destroy another section, and a section will captive another section. I am afraid about my community of those leaders who will lead astray. When the sword is used among my people, it will not be withdrawn from them till the Day of Resurrection, and the Last Hour will not come before the tribes of my people attach themselves to the polytheists and tribes of my people worship idols. There will be among my people thirty great liars each of them asserting that he is (Allah's) prophet, where as I am the seal of the Prophet s after whom (me) there will be no prophet ; and a section of my people will continue to hold to the truth - (according to the Ibn Isa's version: (will continue to dominate) - the agreed version goes: "and will not be injured by those who oppose them, till Allah's command comes
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین سمیٹ دی یا فرمایا: میرے لیے میرے رب نے زمین سمیٹ دی، تو میں نے مشرق و مغرب کی ساری جگہیں دیکھ لیں، یقیناً میری امت کی حکمرانی وہاں تک پہنچ کر رہے گی جہاں تک زمین میرے لیے سمیٹی گئی، مجھے سرخ و سفید دونوں خزانے دئیے گئے، میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری امت کو کسی عام قحط سے ہلاک نہ کرے، ان پر ان کے علاوہ باہر سے کوئی ایسا دشمن مسلط نہ کرے جو انہیں جڑ سے مٹا دے، اور ان کا نام باقی نہ رہنے پائے، تو میرے رب نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب میں کوئی فیصلہ کر لیتا ہوں تو وہ بدلتا نہیں میں تیری امت کے لوگوں کو عام قحط سے ہلاک نہیں کروں گا، اور نہ ہی ان پر کوئی ایسا دشمن مسلط کروں گا جو ان میں سے نہ ہو، اور ان کو جڑ سے مٹا دے گو ساری زمین کے کافر مل کر ان پر حملہ کریں، البتہ ایسا ہو گا کہ تیری امت کے لوگ خود آپس میں ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے، انہیں قید کریں گے، اور میں اپنی امت پر گمراہ کر دینے والے ائمہ سے ڈرتا ہوں، اور جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو پھر وہ اس سے قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی، اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ میری امت کے کچھ لوگ مشرکین سے مل نہ جائیں اور کچھ بتوں کو نہ پوجنے لگ جائیں، اور عنقریب میری امت میں تیس ( ۳۰ ) کذاب پیدا ہوں گے، ان میں ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا ( ابن عیسیٰ کی روایت میں ہے ) وہ غالب رہے گا، ان کا مخالف ان کو ضرر نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ زَوَى لِيَ الأَرْضَ " . أَوْ قَالَ " إِنَّ رَبِّي زَوَى لِيَ الأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَإِنَّ مُلْكَ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا وَأُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ الأَحْمَرَ وَالأَبْيَضَ وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لأُمَّتِي أَنْ لاَ يُهْلِكَهَا بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ وَلاَ يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ وَإِنَّ رَبِّي قَالَ لِي يَا مُحَمَّدُ إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً فَإِنَّهُ لاَ يُرَدُّ وَلاَ أُهْلِكُهُمْ بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ وَلاَ أُسَلِّطُ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ وَلَوِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مَنْ بَيْنَ أَقْطَارِهَا أَوْ قَالَ بِأَقْطَارِهَا حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضًا وَحَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يَسْبِي بَعْضًا وَإِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ وَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَلاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالْمُشْرِكِينَ وَحَتَّى تَعْبُدَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي الأَوْثَانَ وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ ثَلاَثُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لاَ نَبِيَّ بَعْدِي وَلاَ تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ " . قَالَ ابْنُ عِيسَى " ظَاهِرِينَ " . ثُمَّ اتَّفَقَا " لاَ يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ " .
#4253
Daif
Narrated AbuMalik al-Ash'ari: The Prophet (ﷺ) said: Allah has protected you from three things: that your Prophet should not invoke a curse on you and should all perish, that those who follow what is false should not prevail over those who follow the truth, and that you should not all agree in an error
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے تمہیں تین آفتوں سے بچا لیا ہے: ایک یہ کہ تمہارا نبی تم پر ایسی بدعا نہیں کرے گا کہ تم سب ہلاک ہو جاؤ، دوسری یہ کہ اہل باطل اہل حق پر غالب نہیں آئیں گے، تیسری یہ کہ تم سب گمراہی پر متفق نہیں ہو گے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنِي أَبِي، - قَالَ ابْنُ عَوْفٍ وَقَرَأْتُ فِي أَصْلِ إِسْمَاعِيلَ - قَالَ حَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ، عَنْ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، - يَعْنِي الأَشْعَرِيَّ - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ أَجَارَكُمْ مِنْ ثَلاَثِ خِلاَلٍ أَنْ لاَ يَدْعُوَ عَلَيْكُمْ نَبِيُّكُمْ فَتَهْلِكُوا جَمِيعًا وَأَنْ لاَ يَظْهَرَ أَهْلُ الْبَاطِلِ عَلَى أَهْلِ الْحَقِّ وَأَنْ لاَ تَجْتَمِعُوا عَلَى ضَلاَلَةٍ " .
#4254
Sahih
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: The Prophet (ﷺ) said: The mill of Islam will go round till the year thirty-five, or thirty-six, or thirty-seven; then if they perish, they will have followed the path of those who perished before them, but if their religion is maintained, it will be maintained for seventy years. I asked: Does it mean seventy years which remain or seventy years which are gone by? He replied: It means (seventy years) that are gone by. Abu Dawud said: Those who recorded Khirash, the name of a narrator, are wrong. (The correct name is Hirash)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام کی چکی پینتیس یا چھتیس یا سینتیس سال تک گردش میں رہے گی، پھر اگر وہ ہلاک ہوئے تو ان کی راہ وہی ہو گی جو ان لوگوں کی راہ رہی جو ہلاک ہوئے اور اگر ان کا دین قائم رہا تو ستر سال تک قائم رہے گا میں نے عرض کیا: کیا اس زمانہ سے جو باقی ہے یا اس سے جو گزر گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس زمانہ سے جو گزر گیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ نَاجِيَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تَدُورُ رَحَى الإِسْلاَمِ لِخَمْسٍ وَثَلاَثِينَ أَوْ سِتٍّ وَثَلاَثِينَ أَوْ سَبْعٍ وَثَلاَثِينَ فَإِنْ يَهْلِكُوا فَسَبِيلُ مَنْ هَلَكَ وَإِنْ يَقُمْ لَهُمْ دِينُهُمْ يَقُمْ لَهُمْ سَبْعِينَ عَامًا " . قَالَ قُلْتُ أَمِمَّا بَقِيَ أَوْ مِمَّا مَضَى قَالَ " مِمَّا مَضَى " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ مَنْ قَالَ خِرَاشٍ فَقَدْ أَخْطَأَ .
#4255
Sahih
Narrated Abu Hurairah :The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: The time will become short, knowledge will be decreased, civil strife (fitan) will appear, niggardliness will be case into people's heart, and harj will be prevalent. He was asked: Messenger of Allah! what is it: He replied: Slaughter, slaughter
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمانہ سمٹ جائے گا، علم کم ہو جائے گا، فتنے رونما ہوں گے، لوگوں پر بخیلی ڈال دی جائے گی، اور «هرج» کثرت سے ہو گا آپ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل، قتل ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيَنْقُصُ الْعِلْمُ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيُلْقَى الشُّحُّ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ " . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَّةُ هُوَ قَالَ " الْقَتْلُ الْقَتْلُ " .
#4256
Sahih
Narrated AbuBakrah: The Messenger of Allah (ﷺ) said: There will be a period of commotion in which the one who lies down will be better than the one who sits, and the one who sits is better than the one who stands, and the one who stands is better than the one who walks, and the one who walks is better than the one who runs (to it). He asked: What do you command me to do, Messenger of Allah? He replied: He who has camels should remain with his camels, he who has sheep should remain with his sheep, and he who has land should remain with his land. He asked: If anyone has more of these, (what should he do)? He replied: He should take his sword, strike its edge on a stone, and then escape if he can
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایک ایسا فتنہ رونما ہو گا کہ اس میں لیٹا ہوا شخص بیٹھے ہوئے سے بہتر ہو گا، بیٹھا کھڑے سے بہتر ہو گا، کھڑا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت کے لیے آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس اونٹ ہو وہ اپنے اونٹ سے جا ملے، جس کے پاس بکری ہو وہ اپنی بکری سے جا ملے، اور جس کے پاس زمین ہو تو وہ اپنی زمین ہی میں جا بیٹھے عرض کیا: جس کے پاس اس میں سے کچھ نہ ہو وہ کیا کرے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس اس میں سے کچھ نہ ہو تو اسے چاہیئے کہ اپنی تلوار لے کر اس کی دھار ایک پتھر سے مار کر کند کر دے ( اسے لڑنے کے لائق نہ رہنے دے ) پھر چاہیئے کہ جتنی جلد ممکن ہو سکے وہ ( فتنوں سے ) گلو خلاصی حاصل کرے ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، قَالَ حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ يَكُونُ الْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرًا مِنَ الْجَالِسِ وَالْجَالِسُ خَيْرًا مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ خَيْرًا مِنَ الْمَاشِي وَالْمَاشِي خَيْرًا مِنَ السَّاعِي " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَأْمُرُنِي قَالَ " مَنْ كَانَتْ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ وَمَنْ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ " . قَالَ فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَىْءٌ مِنْ ذَلِكَ قَالَ " فَلْيَعْمِدْ إِلَى سَيْفِهِ فَلْيَضْرِبْ بِحَدِّهِ عَلَى حَرَّةٍ ثُمَّ لِيَنْجُ مَا اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ " .
#4257
Sahih
Narrated Sa'd ibn AbuWaqqas: I asked: Messenger of Allah! tell me if someone enters my house and extends his hands to kill me (what should I do?) The Messenger of Allah (ﷺ) replied: Be like the two sons of Adam. The narrator Yazid (ibn Khalid) then recited the verse: "If thou dost stretch they hand against me to slay me." [5:]
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اس حدیث میں کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ( اس فتنہ و فساد کے زمانہ میں ) اگر کوئی میرے گھر میں گھس آئے، اور اپنا ہاتھ مجھے قتل کرنے کے لیے بڑھائے تو میں کیا کروں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم آدم کے نیک بیٹے ( ہابیل ) کی طرح ہو جاؤ ، پھر یزید نے یہ آیت پڑھی «لئن بسطت إلى يدك» ۱؎۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، عَنْ عَيَّاشٍ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَشْجَعِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَىَّ بَيْتِي وَبَسَطَ يَدَهُ لِيَقْتُلَنِي قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُنْ كَابْنَىْ آدَمَ " . وَتَلاَ يَزِيدُ { لَئِنْ بَسَطْتَ إِلَىَّ يَدَكَ } الآيَةَ .
#4258
Daif Isnaad
Narrated Abdullah ibn Mas'ud ; Khuraym ibn Fatik: The tradition mentioned above (No. 4243) has also been transmitted by Ibn Mas'ud through a different chain of narrators. Ibn Mas'ud said: I heard the Prophet (ﷺ) say: He then mentioned a portion of the tradition narrated by AbuBakrah (No. 4243). This version adds: He (the Prophet) said: All their slain will go to Hell. I (Wabisah) asked: When will this happen Ibn Mas'ud? He replied: This is the period of turmoil (harj) when a man will not be safe from his associates. I asked: What do you command me (to do) if I happen to live during that period? He replied: You should restrain your tongue and hand and stay at home. When Uthman was slain, I recollected this tradition. I then rode (on a camel) and came to Damascus. There I met Khuraym ibn Fatik and mentioned this tradition to him. He swore by Allah, there was no god but He, he had heard it from the Messenger of Allah (ﷺ), as Ibn Mas'ud transmitted it to me (Wabisah)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا پھر انہوں نے ابی بکرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کی بعض باتیں ذکر کیں اس میں یہ اضافہ ہے: اس فتنہ میں جو لوگ قتل کئے جائیں گے وہ جہنم میں جائیں گے اور اس میں مزید یہ ہے کہ میں نے پوچھا: ابن مسعود! یہ فتنہ کب ہو گا؟ کہا: یہ وہ زمانہ ہو گا جب قتل شروع ہو چکا ہو گا، اس طرح سے کہ آدمی اپنے ساتھی سے بھی مامون نہ رہے گا، میں نے عرض کیا: اگر میں یہ زمانہ پاؤں تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: تم اپنی زبان اور ہاتھ روکے رکھنا، اور اپنے گھر کے کمبلوں میں کا ایک کمبل بن جانا ۱؎، پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ قتل کئے گئے تو میرے دل میں یکایک خیال گزرا کہ شاید یہ وہی فتنہ ہو جس کا ذکر ابن مسعود نے کیا تھا، چنانچہ میں سواری پر بیٹھا اور دمشق آ گیا، وہاں خریم بن فاتک سے ملا اور ان سے بیان کیا تو انہوں نے اس اللہ کی قسم کھا کر کہا جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہ اسے انہوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے جیسے ابن مسعود نے اسے مجھ سے بیان کیا تھا۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ وَابِصَةَ الأَسَدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، وَابِصَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فَذَكَرَ بَعْضَ حَدِيثِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ " قَتْلاَهَا كُلُّهُمْ فِي النَّارِ " . قَالَ فِيهِ قُلْتُ مَتَى ذَلِكَ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ تِلْكَ أَيَّامُ الْهَرْجِ حَيْثُ لاَ يَأْمَنُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ . قُلْتُ فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ الزَّمَانُ قَالَ تَكُفُّ لِسَانَكَ وَيَدَكَ وَتَكُونُ حِلْسًا مِنْ أَحْلاَسِ بَيْتِكَ . فَلَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ طَارَ قَلْبِي مَطَارَهُ فَرَكِبْتُ حَتَّى أَتَيْتُ دِمَشْقَ فَلَقِيتُ خُرَيْمَ بْنَ فَاتِكٍ فَحَدَّثْتُهُ فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ لَسَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا حَدَّثَنِيهِ ابْنُ مَسْعُودٍ .
#4259
Sahih
Narrated AbuMusa al-Ash'ari: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Before the Last Hour there will be commotions like pieces of a dark night in which a man will be a believer in the morning and an infidel in the evening, or a believer in the evening and infidel in the morning. He who sits during them will be better than he who gets up and he who walks during them is better than he who runs. So break your bows, cut your bowstrings and strike your swords on stones. If people then come in to one of you, let him be like the better of Adam's two sons
ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے کچھ فتنے ہیں جیسے تاریک رات کی گھڑیاں ( کہ ہر گھڑی پہلی سے زیادہ تاریک ہوتی ہے ) ان فتنوں میں صبح کو آدمی مومن رہے گا، اور شام کو کافر ہو جائے گا، اور شام کو مومن رہے گا، اور صبح کو کافر ہو جائے گا، اس میں بیٹھا شخص کھڑے شخص سے بہتر ہو گا، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا، تو تم ایسے فتنے کے وقت میں اپنی کمانیں توڑ دینا، ان کے تانت کاٹ ڈالنا، اور اپنی تلواروں کی دھار کو پتھروں سے مار کر ختم کر دینا ۱؎، پھر اگر اس پر بھی کوئی تم میں سے کسی پر چڑھ آئے، تو اسے چاہیئے کہ وہ آدم کے نیک بیٹے ( ہابیل ) کے مانند ہو جائے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ، عَنْ هُزَيْلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ بَيْنَ يَدَىِ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي فَكَسِّرُوا قِسِيَّكُمْ وَقَطِّعُوا أَوْتَارَكُمْ وَاضْرِبُوا سُيُوفَكُمْ بِالْحِجَارَةِ فَإِنْ دُخِلَ - يَعْنِي عَلَى أَحَدٍ مِنْكُمْ - فَلْيَكُنْ كَخَيْرِ ابْنَىْ آدَمَ " .
#4260
Daif
Narrated Abdullah ibn Umar: AbdurRahman ibn Samurah said: I was holding the hand of Ibn Umar on one of the ways of Medina. He suddenly came to a hanging head. He said: Unhappy is the one who killed him. When he proceeded, he said: I do not consider him but unfortunate. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If anyone goes to a man of my community in order to kill him, he should say in this way, the one who kills will go to Hell and the one who is killed will go to Paradise. Abu Dawud said: Al-Thawri has transmitted it from 'Awn from 'Abd al-Rahman b. Sumair or Sumairah ; and Laith b. Abu Sulaim transmitted it from 'Awn from 'Abd al-Rahman b. Sumairah. Abu Dawud said: Al-Hasan b. 'Ali said to me: Abu al-Walid transmitted this tradition to us from Abu 'Awanah, and said: It (the name Ibn Samurah) is in my notebook Ibn Sabrah. The people also transmitted it as Samurah and Sumairah. These are wordings of Abu al-Walid
عبدالرحمٰن بن سمرہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ کے راستوں میں سے ایک راستہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑے چل رہا تھا کہ وہ اچانک ایک لٹکے ہوئے سر کے پاس آئے اور کہنے لگے: بدبخت ہے جس نے اسے قتل کیا، پھر جب کچھ اور آگے بڑھے تو کہا: میں تو اسے بدبخت ہی سمجھ رہا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص میری امت میں سے کسی شخص کی طرف چلا تاکہ وہ اسے ( ناحق ) قتل کرے، پھر وہ اسے قتل کر دے تو قتل کرنے والا جہنم میں ہو گا، اور جسے قتل کیا گیا ہے وہ جنت میں ہو گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ سَمُرَةَ - قَالَ كُنْتُ آخِذًا بِيَدِ ابْنِ عُمَرَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ إِذْ أَتَى عَلَى رَأْسٍ مَنْصُوبٍ فَقَالَ شَقِيَ قَاتِلُ هَذَا . فَلَمَّا مَضَى قَالَ وَمَا أَرَى هَذَا إِلاَّ قَدْ شَقِيَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ مَشَى إِلَى رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي لِيَقْتُلَهُ فَلْيَقُلْ هَكَذَا فَالْقَاتِلُ فِي النَّارِ وَالْمَقْتُولُ فِي الْجَنَّةِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُمَيْرٍ أَوْ سُمَيْرَةَ وَرَوَاهُ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ عَوْنٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُمَيْرَةَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ لِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ - يَعْنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ - عَنْ أَبِي عَوَانَةَ وَقَالَ هُوَ فِي كِتَابِي ابْنُ سَبْرَةَ وَقَالُوا سَمُرَةَ وَقَالُوا سُمَيْرَةَ هَذَا كَلاَمُ أَبِي الْوَلِيدِ .
#4261
Sahih
Narrated AbuDharr: The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: O AbuDharr. I replied: At thy service and at thy pleasure, Messenger of Allah. He then mentioned the tradition in which he said: What will you do when there the death of the people (in Medina) and a house will reach the value of a slave (that is, a grave will be sold for a slave). I replied: Allah and His Apostle know best. Or he said: What Allah and His Apostle choose for me. He said: You must show endurance. Or he said; you may endure. He then said to me: What will you do, AbuDharr, when you see the Ahjar az-Zayt covered with blood? I replied: What Allah and His Apostle choose for me. He said: You must go to those who are like-minded. I asked: Should I not take my sword and put it on my shoulder? He replied: you would then associate yourself with the people. I then asked: What do you order me to do? You must stay at home. I asked: (What should I do) if people enter my house and find me? He replied: If you are afraid the gleam of the sword may dazzle you, put the end of your garment over your face in order that (the one who kills you) may bear the punishment of your sins and his. Abu Dawud said: No one mentioned al-Mush'ath in the chain of this tradition except Hammad b. Zaid
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر! میں نے عرض کیا: تعمیل حکم کے لیے حاضر ہوں، اللہ کے رسول! پھر انہوں نے حدیث ذکر کی اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر! اس دن تمہارا کیا حال ہو گا؟ جب مدینہ میں اتنی موتیں ہوں گی کہ گھر یعنی قبر ایک غلام کے بدلہ میں ملے گا؟ ۱؎ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول کو خوب معلوم ہے، یا کہا: اللہ اور اس کے رسول میرے لیے ایسے موقع پر کیا پسند فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: صبر کو لازم پکڑنا یا فرمایا: صبر کرنا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابوذر! میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ارشاد فرمائیں تعمیل حکم کے لیے حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا حال ہو گا جب تم احجار الزیت ۲؎ کو خون میں ڈوبا ہوا دیکھو گے میں نے عرض کیا: جو اللہ اور اس کے رسول میرے لیے پسند فرمائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس جگہ کو لازم پکڑنا جہاں کے تم ہو ۳؎ ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی تلوار لے کر اسے اپنے کندھے پر نہ رکھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو تم ان کے شریک بن جاؤ گے میں نے عرض کیا: پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھر کو لازم پکڑنا میں نے عرض کیا: اگر کوئی میرے گھر میں گھس آئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تلواروں کی چمک تمہاری نگاہیں خیرہ کر دے گی تو تم اپنا کپڑا اپنے چہرے پر ڈال لینا ( اور قتل ہو جانا ) وہ تمہارا اور اپنا دونوں کا گناہ سمیٹ لے گا ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنِ الْمُشَعَّثِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا ذَرٍّ " . قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ " كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ يَكُونُ الْبَيْتُ فِيهِ بِالْوَصِيفِ " . قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ أَوْ قَالَ مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ . قَالَ " عَلَيْكَ بِالصَّبْرِ " . أَوْ قَالَ " تَصْبِرُ " . ثُمَّ قَالَ لِي " يَا أَبَا ذَرٍّ " . قُلْتُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ . قَالَ " كَيْفَ أَنْتَ إِذَا رَأَيْتَ أَحْجَارَ الزَّيْتِ قَدْ غَرِقَتْ بِالدَّمِ " . قُلْتُ مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ . قَالَ " عَلَيْكَ بِمَنْ أَنْتَ مِنْهُ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ آخُذُ سَيْفِي وَأَضَعُهُ عَلَى عَاتِقِي قَالَ " شَارَكْتَ الْقَوْمَ إِذًا " . قُلْتُ فَمَا تَأْمُرُنِي قَالَ " تَلْزَمُ بَيْتَكَ " . قُلْتُ فَإِنْ دُخِلَ عَلَىَّ بَيْتِي قَالَ " فَإِنْ خَشِيتَ أَنْ يَبْهَرَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ فَأَلْقِ ثَوْبَكَ عَلَى وَجْهِكَ يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِهِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَمْ يَذْكُرِ الْمُشَعَّثَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرُ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ .
#4262
Sahih
Narrated AbuMusa al-Ash'ari: The Prophet (ﷺ) said: Before you there will be commotions like pieces of a dark night in which a man will be a believer in the morning and an infidel in the evening. He who sits during them will be better than he who gets up, and he who gets up during them is better than he who walks, and he who walks during them is better than he who runs. They (the people) said: What do you order us to do? He replied: Keep to your houses
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے سامنے فتنے ہوں گے اندھیری رات کی گھڑیوں کی طرح ۱؎ ان میں صبح کو آدمی مومن رہے گا اور شام کو کافر، اور شام کو مومن رہے گا اور صبح کو کافر، اس میں بیٹھا ہوا کھڑے شخص سے بہتر ہو گا، اور کھڑا چلنے والے سے بہتر ہو گا، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا ، لوگوں نے عرض کیا: تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے گھر کا ٹاٹ بن جانا ۲؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي " . قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ " كُونُوا أَحْلاَسَ بُيُوتِكُمْ " .
#4263
Sahih
Narrated Al-Miqdad ibn al-Aswad: I swear by Allah, I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: The happy man is he who avoids dissensions: happy is the man who avoids dissensions; happy is the man who avoids dissensions: but how fine is the man who is afflicted and shows endurance
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قسم اللہ کی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: نیک بخت وہ ہے جو فتنوں سے دور رہا، نیک بخت وہ ہے جو فتنوں سے دور رہا، اور جو اس میں پھنس گیا پھر اس نے صبر کیا تو پھر اس کا کیا کہنا ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ، قَالَ ايْمُ اللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنَ إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنَ إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنَ وَلَمَنِ ابْتُلِيَ فَصَبَرَ فَوَاهًا " .
#4264
Daif
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: There will be civil strife (fitnah) which will render people deaf, dumb and blind regarding what is right. Those who contemplate it will be drawn by it, and giving rein to the tongue during it will be like smiting with the sword
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایک بہرا گونگا اور اندھا فتنہ ہو گا ۱؎ جو اس میں جھانکے گا اسے وہ اپنی لپیٹ میں لے لے گا، اور زبان چلانا اس میں ایسے ہو گا جیسے تلوار چلانا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ خَالِدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " سَتَكُونُ فِتْنَةٌ صَمَّاءُ بَكْمَاءُ عَمْيَاءُ مَنْ أَشْرَفَ لَهَا اسْتَشْرَفَتْ لَهُ وَإِشْرَافُ اللِّسَانِ فِيهَا كَوُقُوعِ السَّيْفِ " .
#4265
Daif
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Prophet (ﷺ) said: There will be civil strife which wipe out the Arabs, and their slain will go to Hell. During it the tongue will be more severe than blows of the sword. Abu Dawud said: Al-Thawri transmitted it from Laith, from Tawus on the authority of Al-A'jam
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایک ایسا فتنہ ہو گا جو پورے عرب کو گھیر لے گا جو اس میں مارے جائیں گے جہنم میں جائیں گے، اس میں زبان کا چلانا تلوار چلانے سے بھی زیادہ سخت ہو گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ رَجُلٍ، يُقَالُ لَهُ زِيَادٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ تَسْتَنْظِفُ الْعَرَبَ قَتْلاَهَا فِي النَّارِ اللِّسَانُ فِيهَا أَشَدُّ مِنْ وَقْعِ السَّيْفِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ لَيْثٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ الأَعْجَمِ .
#4266
Daif
Abd Allah b. 'Abd al-Quddus mentioned in his version:Ziyad, one who has white ears
عبداللہ بن عبدالقدوس نے «عن رجل يقال له زياد» کے بجائے «زیاد سیمین کوش» کہا ہے جس کے معنی سفید کان والا کے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ، قَالَ زِيَادٌ سِيمِينْ كُوشْ .
#4267
Sahih
Narrated Abu Sa’id Al Khudri :The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: A Muslim's best property will soon be sheep which he will take to the tops of the mountains and the places where the rain falls, fleeing with his religion from the civil strife (fitan)
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ مسلمان کا بہتر مال بکریاں ہوں، جنہیں لے کر وہ پہاڑ کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات پر پھرتا اور اپنا دین لے کر وہ فساد اور فتنوں سے بھاگتا ہو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرُ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمًا يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ " .
#4268
Sahih
Ahnaf b. Qais said:I came out with the intention of (participating in) fighting. Abu Bakrah met me and said: Go back, for I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: When two Muslims face each other with their swords, the killer and the slain will go to Hell. He asked: Messenger of Allah, this is the killer (so naturally he should go to Hell), but what is the matter with the slain ? He replied: He intended to kill his companion
احنف بن قیس کہتے ہیں کہ میں لڑائی کے ارادہ سے نکلا ( تاکہ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف لڑوں ) تو مجھے ( راستہ میں ) ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مل گئے، انہوں نے کہا: تم لوٹ جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جب دو مسلمان اپنی تلوار لے کر ایک دوسرے کو مارنے اٹھیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قاتل ( کا جہنم میں جانا ) تو سمجھ میں آتا ہے لیکن کا حال ایسا کیوں ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہا تھا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَيُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ خَرَجْتُ وَأَنَا أُرِيدُ، - يَعْنِي فِي الْقِتَالِ - فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ فَقَالَ ارْجِعْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ قَالَ " إِنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ " .
#4269
Daif
The tradition mentioned above has also been transmitted briefly by al-Hasan through a different chain of narrators to the same effect
اس سند سے بھی حسن سے اسی مفہوم کی حدیث مختصراً مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الْحَسَنِ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ مُخْتَصَرًا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ لِمُحَمَّدٍ - يَعْنِي ابْنَ الْمُتَوَكِّلِ - أَخٌ ضَعِيفٌ يُقَالُ لَهُ الْحُسَيْنُ .
#4270
Sahih
Narrated AbudDarda' and Ubadah ibn as-Samit: Khalid ibn Dihqan said: When we were engaged in the battle of Constantinople at Dhuluqiyyah, a man of the people of Palestine, who was one of their nobility and elite and whose rank was known to them, came forward. He was called Hani ibn Kulthum ibn Sharik al-Kinani. He greeted Abdullah ibn Zakariyya who knew his rank. Khalid said to us: Abdullah ibn AbuZakariyya told us: I heard Umm ad-Darda' say: I heard AbudDarda' say: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: It is hoped that Allah may forgive every sin, except in the case of one who dies a polytheist, or one who purposely kills a believer. Hani ibn Kulthum ar-Rabi' then said: I heard Mahmud ibn ar-Rabi' transmitting a tradition from Ubadah ibn as-Samit who transmitted from the Messenger of Allah (ﷺ) who said: If a man kills a believer unjustly, Allah will not accept any action or duty of his, obligatory or supererogatory. Khalid then said to us: Ibn AbuZakariyya transmitted a tradition to us from Umm ad-Darda' on the authority of AbudDarda' from the Messenger of Allah (ﷺ) who said: A believer will continue to go on quickly and well so long as he does not shed unlawful blood; when he sheds unlawful blood, he becomes slow and heavy-footed. A similar tradition has been transmitted by Hani ibn Kulthum from Mahmud ibn ar-Rabi' on the authority of Ubadah ibn as-Samit from the Messenger of Allah (ﷺ)
خالد بن دہقان کہتے ہیں کہ جنگ قسطنطنیہ میں ہم ذلقیہ ۱؎ میں تھے، اتنے میں فلسطین کے اشراف و عمائدین میں سے ایک شخص آیا، اس کی اس حیثیت کو لوگ جانتے تھے، اسے ہانی بن کلثوم بن شریک کنانی کہا جاتا تھا، اس نے آ کر عبداللہ بن ابی زکریا کو سلام کیا، وہ ان کے مقام و مرتبہ سے واقف تھا، ہم سے خالد نے کہا: تو ہم سے عبداللہ بن زکریا نے حدیث بیان کی عبداللہ بن زکریا نے کہا میں نے ام الدرداء رضی اللہ عنہا سے سنا ہے وہ کہہ رہی تھیں کہ میں نے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، وہ کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: ہر گناہ کو اللہ بخش سکتا ہے سوائے اس کے جو مشرک ہو کر مرے یا مومن ہو کر کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دے ، تو ہانی بن کلثوم نے کہا: میں نے محمود بن ربیع کو بیان کرتے سنا وہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے، اور عبادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے تھے کہ آپ نے فرمایا: جو کسی مومن کو ناحق قتل کرے، پھر اس پر خوش بھی ہو، تو اللہ اس کا کوئی عمل قبول نہ فرمائے گا نہ نفل اور نہ فرض ۔ خالد نے ہم سے کہا: پھر ابن ابی زکریا نے مجھ سے بیان کیا وہ ام الدرداء سے روایت کر رہے تھے، اور وہ ابوالدرداء سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برابر مومن ہلکا پھلکا اور صالح رہتا ہے، جب تک وہ ناحق خون نہ کرے، اور جب وہ ناحق کسی کو قتل کر دیتا ہے تو تھک جاتا اور عاجز ہو جاتا ہے ۔ ہانی بن کلثوم نے بیان کیا، وہ محمود بن ربیع سے، محمود عبادہ بن صامت سے، عبادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، اسی کے ہم مثل روایت کر رہے تھے۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دِهْقَانَ، قَالَ كُنَّا فِي غَزْوَةِ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ بِذُلُقْيَةَ فَأَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ - مِنْ أَشْرَافِهِمْ وَخِيَارِهِمْ يَعْرِفُونَ ذَلِكَ لَهُ يُقَالُ لَهُ هَانِئُ بْنُ كُلْثُومِ بْنِ شَرِيكٍ الْكِنَانِيُّ - فَسَلَّمَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زَكَرِيَّا وَكَانَ يَعْرِفُ لَهُ حَقَّهُ قَالَ لَنَا خَالِدٌ فَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زَكَرِيَّا قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ تَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " كُلُّ ذَنْبٍ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَغْفِرَهُ إِلاَّ مَنْ مَاتَ مُشْرِكًا أَوْ مُؤْمِنٌ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا " . فَقَالَ هَانِئُ بْنُ كُلْثُومٍ سَمِعْتُ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ يُحَدِّثُ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا فَاعْتَبَطَ بِقَتْلِهِ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً " . قَالَ لَنَا خَالِدٌ ثُمَّ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي زَكَرِيَّا عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَزَالُ الْمُؤْمِنُ مُعْنِقًا صَالِحًا مَا لَمْ يُصِبْ دَمًا حَرَامًا فَإِذَا أَصَابَ دَمًا حَرَامًا بَلَّحَ " . وَحَدَّثَ هَانِئُ بْنُ كُلْثُومٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ سَوَاءً .
#4271
Sahih Maqtu
Khalid b. Dihqan said:I asked Yahya b. Yahya al-Ghassani about the word i'tabata bi qatlihi spoken by him (as mentioned in the previous tradition). He said: It means those people who fight during the period of commotion (fitnah), and one of them kills (the other people) presuming that he is in the right, so he does not beg pardon of Allah of that (sin). Abu Dawud said: And he said: The word fa'tabata means "he shed blood profusely
خالد بن دہقان کہتے ہیں میں نے یحییٰ بن یحییٰ غسانی سے قول نبوی «اعتبط بقتلہ» کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے کہا: اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایک دوسرے کو فتنے میں یہ سمجھ کر قتل کرتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں، پھر وہ اللہ سے توبہ و استغفار نہیں کرتے یعنی اس ( قتل ) سے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «اعتبط» اعتبط کے معنی ( ناحق ) خون بہانے کے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُبَارَكٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، أَوْ غَيْرُهُ قَالَ قَالَ خَالِدُ بْنُ دِهْقَانَ سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ يَحْيَى الْغَسَّانِيَّ عَنْ قَوْلِهِ " اعْتَبَطَ بِقَتْلِهِ " . قَالَ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي الْفِتْنَةِ فَيَقْتُلُ أَحَدُهُمْ فَيَرَى أَنَّهُ عَلَى هُدًى لاَ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ - يَعْنِي - مِنْ ذَلِكَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ فَاعْتَبَطَ يَصُبُّ دَمَهُ صَبًّا .
#4272
Daif
Narrated Zayd ibn Thabit: The verse "If a man kills a believer intentionally, his recompense is Hell to abide therein for ever" was revealed six months after the verse "And those who invoke not with Allah any other god, nor slay such life as Allah has made sacred, except for just cause in Surat al-Furqan
خارجہ بن زید کہتے ہیں کہ میں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اسی جگہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ آیت کریمہ «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم خالدا فيها» اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قصداً قتل کر ڈالے تو اس کی سزا جہنم ہے ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ( النساء: ۹۳ ) ( سورۃ الفرقان کی آیت ) «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق» اور جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ نے حرام کر دیا ہے بجز حق کے قتل نہیں کرتے ( الفرقان: ۶۸ ) کے چھ مہینے کے بعد نازل ہوئی ہے۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فِي هَذَا الْمَكَانِ يَقُولُ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا } بَعْدَ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ { وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ } بِسِتَّةِ أَشْهُرٍ .
#4273
Sahih
Sa'id bin Jubair said:I asked Ibn 'Abbas (about the verse relating to intentional homicide in Surat An-Nisa') He said: When the verse "Those who invoke not with Allah any other god, nor slay such life as Allah had made sacred, except for just cause" was revealed, the polytheists of Mecca said: We have killed the soul prohibited by Allah, invoked another god along with Allah for worship, and committed shameful deeds. So Allah revealed the verse "unless he repents, believes, and works righteous deeds, for Allah will change the evil of such persons into good." This is meant for them. As regards the verse "if a man kills a believer intentionally, his recompense is Hell" He said: If a man knows the command of Islam and intentionally kills a believer, his repentance wil not be accepted. I then mentioned it to Mujahid. He said: "Except the one who is ashamed (of his sin)
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو آپ نے کہا: جب سورۃ الفرقان کی آیت «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق» نازل ہوئی تو اہل مکہ کے مشرک کہنے لگے: ہم نے بہت سی ایسی جانیں قتل کی ہیں جنہیں اللہ نے حرام کیا ہے اور ہم نے اللہ کے علاوہ دوسرے معبودوں کو پکارا ہے، اور برے کام کئے ہیں تو اللہ نے«إلا من تاب وآمن وعمل عملا صالحا فأولئك يبدل الله سيئاتهم حسنات» سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان لائیں اور نیک کام کریں تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے ( الفرقان: ۷۰ ) نازل فرمائی تو یہ ان لوگوں کے لیے ہے۔ انہوں نے مزید کہا: اور سورۃ نساء کی آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم» الآیۃ، ایسے وقت کے لیے ہے جب آدمی مسلمان ہو جائے اور شرعی احکام کو جان لے پھر جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کر دے تو ایسے شخص کی سزا جہنم ہو گی، اور اس کی توبہ بھی قبول نہ ہو گی۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے ابن عباس کے اس قول کو مجاہد سے بیان کیا تو انہوں نے اس میں یہ اضافہ کیا سوائے اس شخص کے جو شرمندہ ہو ( یعنی دل سے توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہو گی ) ۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَوْ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَمَّا نَزَلَتِ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ { وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ } قَالَ مُشْرِكُو أَهْلِ مَكَّةَ قَدْ قَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ وَدَعَوْنَا مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَأَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ { إِلاَّ مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلاً صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ } فَهَذِهِ لأُولَئِكَ قَالَ وَأَمَّا الَّتِي فِي النِّسَاءِ { وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ } الآيَةُ قَالَ الرَّجُلُ إِذَا عَرَفَ شَرَائِعَ الإِسْلاَمِ ثُمَّ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ لاَ تَوْبَةَ لَهُ . فَذَكَرْتُ هَذَا لِمُجَاهِدٍ فَقَالَ إِلاَّ مَنْ نَدِمَ .
#4274
Sahih
The tradition mentioned above has also been transmitted by Sa'id b. Jubair from Ibn 'Abbas through a different chain of narrators. Ibn 'Abbas said:The verse: "Those who invoke not with Allah" applied to polytheists. He said: About them another verse, "Say: O my servants who have transgressed against their souls" was also revealed
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی قصہ میں مروی ہے کہ «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر» سے مراد اہل شرک ہیں اور آیت کریمہ «يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله» اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو جاؤ ( الزمر: ۵۳ ) نازل ہوئی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي يَعْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ فِي { الَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ } أَهْلُ الشِّرْكِ قَالَ وَنَزَلَ { يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ } .
#4275
Sahih
Ibn 'Abbas said:No other verse has repealed the verse "If a man kills a believer intentionally
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ «ومن يقتل مؤمنا متعمدا» ( کا حکم باقی ہے ) اسے کسی اور آیت نے منسوخ نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ { وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا } قَالَ مَا نَسَخَهَا شَىْءٌ .