#4201
Daif Isnaad
Narrated Jabir: We used to grow beard long except during the Hajj or 'Umrah. Abu Dawud said: Istihdad means to shave the pubes
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم حج و عمرہ کے سوا ہمیشہ داڑھیوں کو لٹکتا رہنے دیتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «استحداد» کے معنی زیر ناف مونڈنے کے ہیں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ وَقَرَأَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ عَلَى أَبِي الزُّبَيْرِ وَرَوَاهُ أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا نُعْفِي السِّبَالَ إِلاَّ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الاِسْتِحْدَادُ حَلْقُ الْعَانَةِ .
#4202
Hasan Sahih
Amr b. Shu'aib, on his father's authority, told that his grandfather reported the Messenger of Allah (ﷺ) said:Do not pluck out grey hair. If any believer grows a grey hair in Islam, he will have light on the Day of Resurrection. (This is Sufyan's version). Yahya's version says: Allah will record on his behalf a good deed for it, and will blot out a sin for it
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفید بال نہ اکھیڑو، اس لیے کہ جس مسلمان کا کوئی بال حالت اسلام میں سفید ہوا ہو ( سفیان کی روایت میں ہے ) تو وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہو گا ( اور یحییٰ کی روایت میں ہے ) اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھے گا اور اس سے ایک گناہ مٹا دے گا ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - الْمَعْنَى - عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَنْتِفُوا الشَّيْبَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَشِيبُ شَيْبَةً فِي الإِسْلاَمِ " . قَالَ عَنْ سُفْيَانَ " إِلاَّ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . وَقَالَ فِي حَدِيثِ يَحْيَى " إِلاَّ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً " .
#4203
Sahih
Narrated Abu Hurairah:The Prophet (ﷺ) as saying: Jews and Christians do not dye (their beards), so act differently from them
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود و نصاریٰ اپنی داڑھیاں نہیں رنگتے ہیں، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو ، یعنی انہیں خضاب سے رنگا کرو۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لاَ يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ " .
#4204
Sahih
Narrated Jabir bin ‘Abdullah :Abu Quhafah was brought on the day of the conquest of Mecca with head and beard while like hyssop. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Change this something, but avoid black
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ( ابوبکر رضی اللہ عنہ کے والد ) ابوقحافہ کو لایا گیا، ان کا سر اور ان کی داڑھی ثغامہ ( نامی سفید رنگ کے پودے ) کے مانند سفید تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کسی چیز سے بدل دو اور سیاہی سے بچو ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيَاضًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " غَيِّرُوا هَذَا بِشَىْءٍ وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ " .
#4205
Sahih
Narrated AbuDharr: The Prophet (ﷺ) said: The best things with which grey hair are changed are henna and katam
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے اچھی چیز جس سے اس بڑھاپے ( بال کی سفیدی ) کو بدلا جائے حناء ( مہندی ) اور کتم ( وسمہ ) ہے ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَحْسَنَ مَا غُيِّرَ بِهِ هَذَا الشَّيْبُ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ " .
#4206
Sahih
Narrated AbuRimthah: I went with my father to the Prophet (ﷺ). He had locks hanging down as far as the lobes of the ears stained with henna, and he was wearing two green garments
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا تو دیکھا کہ آپ کے سر کے بال کان کی لو تک ہیں، ان میں مہندی لگی ہوئی ہے، اور آپ کے جسم مبارک پر سبز رنگ کی دو چادریں ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ إِيَادٍ - قَالَ حَدَّثَنَا إِيَادٌ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا هُوَ ذُو وَفْرَةٍ بِهَا رَدْعُ حِنَّاءَ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ .
#4207
Sahih
This version adds (to the previous hadith No 4194):My father said to him (the Prophet): Show me what is on your back, for I am a physician. He (the Prophet) said: You are only a soother. Its physician is He Who has created it
اس سند سے ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں مروی ہے کہ میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے آپ اپنی وہ چیز دکھائیں جو آپ کی پشت پر ہے کیونکہ میں طبیب ہوں، آپ نے فرمایا: طبیب تو اللہ ہے، بلکہ تو رفیق ہے ( مریض کو تسکین اور دلاسے دیتا ہے ) طبیب تو وہی ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبْجَرَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، فِي هَذَا الْخَبَرِ قَالَ فَقَالَ لَهُ أَبِي أَرِنِي هَذَا الَّذِي بِظَهْرِكَ فَإِنِّي رَجُلٌ طَبِيبٌ . قَالَ " اللَّهُ الطَّبِيبُ بَلْ أَنْتَ رَجُلٌ رَفِيقٌ طَبِيبُهَا الَّذِي خَلَقَهَا " .
#4208
Sahih
Narrated AbuRimthah: I and my father came to the Prophet (ﷺ). He said to a man or to my father: Who is this? He replied: He is my son. He said: Do not commit a crime on him. He had stained his beard with henna
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے ایک شخص سے یا میرے والد سے پوچھا: یہ کون ہے؟ وہ بولے: میرا بیٹا ہے، آپ نے فرمایا: یہ تمہارا بوجھ نہیں اٹھائے گا، تم جو کرو گے اس کی باز پرس تم سے ہو گی، آپ نے اپنی داڑھی میں مہندی لگا رکھی تھی ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنَا وَأَبِي فَقَالَ لِرَجُلٍ أَوْ لأَبِيهِ " مَنْ هَذَا " . قَالَ ابْنِي . قَالَ " لاَ تَجْنِي عَلَيْهِ " . وَكَانَ قَدْ لَطَخَ لِحْيَتَهُ بِالْحِنَّاءِ .
#4209
Sahih
Thabit said that Anas was asked about the hair-dye of the Prophet (ﷺ). He replied:He did not dye his hair, but Abu Bakr and 'Umar dyed their hair
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خضاب کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو خضاب لگایا ہی نہیں، ہاں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے لگایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ خِضَابِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يَخْضِبْ وَلَكِنْ قَدْ خَضَبَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا .
#4210
Sahih
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet (ﷺ) used to wear tanned leather sandals and dye his beard yellow with wars and saffron, and Ibn 'Umar used to do that too
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھال کی سبتی جوتیاں پہنتے تھے جس پر بال نہیں ہوتے تھے، اور اپنی داڑھی ورس ۱؎ اور زعفران سے رنگتے تھے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَيُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ بِالْوَرْسِ وَالزَّعْفَرَانِ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ .
#4211
Daif
Narrated Abdullah ibn Abbas: When a man who had dyed himself with henna passed by the Prophet (ﷺ), he said: How fine this is! When another man who had dyed himself with henna and katam passed by, he said: This is better than that. Then another man who had dyed himself with yellow dye, passed by, he said: This is better than all that
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک شخص گزرا جس نے مہندی کا خضاب لگا رکھا تھا، تو آپ نے فرمایا: یہ کتنا اچھا ہے پھر ایک اور شخص گزرا جس نے مہندی اور کتم کا خضاب لگا رکھا تھا، تو آپ نے فرمایا: یہ اس سے بھی اچھا ہے اتنے میں ایک تیسرا شخص زرد خضاب لگا کے گزرا تو آپ نے فرمایا: یہ ان سب سے اچھا ہے ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ قَدْ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ فَقَالَ " مَا أَحْسَنَ هَذَا " . قَالَ فَمَرَّ آخَرُ قَدْ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ فَقَالَ " هَذَا أَحْسَنُ مِنْ هَذَا " . قَالَ فَمَرَّ آخَرُ قَدْ خَضَبَ بِالصُّفْرَةِ فَقَالَ " هَذَا أَحْسَنُ مِنْ هَذَا كُلِّهِ " .
#4212
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: At the end of time there will be people who will use this black dye like the crops of doves who will not experience the fragrance of Paradise
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخر زمانے میں کچھ لوگ کبوتر کے سینے کی طرح سیاہ خضاب لگائیں گے وہ جنت کی بو تک نہ پائیں گے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَكُونُ قَوْمٌ يَخْضِبُونَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ بِالسَّوَادِ كَحَوَاصِلِ الْحَمَامِ لاَ يَرِيحُونَ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ " .
#4213
Daif Isnaad
Narrated Thawban: When the Messenger of Allah (ﷺ) went on a journey, the last member of his family he saw was Fatimah, and the first he visited on his return was Fatimah. Once when he returned from an expedition she had hung up a hair-cloth, or a curtain, at her door, and adorned al-Hasan and al-Husayn with silver bracelets. So when he arrived, he did not enter. Thinking that he had been prevented from entering by what he had seen, she tore down the curtain, unfastened the bracelets from the boys and cut them off. They went weeping to the Messenger of Allah (ﷺ), and when he had taken them from them, he said: Take this to so and so's family. Thawban. In Medina, these are my family, and I did not like them to enjoy their good things in the present life. Buy Fatimah a necklace or asb, Thawban, and two ivory bracelets
ثوبان مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر پر تشریف لے جاتے تو اپنے گھر والوں میں سب سے اخیر میں فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملتے اور جب سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کرتے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ سے تشریف لائے، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے دروازے پر ایک ٹاٹ یا پردہ لٹکا رکھا تھا اور حسن و حسین رضی اللہ عنہما دونوں کو چاندی کے دو کنگن پہنا رکھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو گھر میں داخل نہیں ہوئے تو وہ سمجھ گئیں کہ آپ کے اندر آنے سے یہی چیز مانع رہی ہے جو آپ نے دیکھا ہے، تو انہوں نے دروازے سے پردہ اتار دیا، پھر دونوں صاحبزادوں کے کنگن کو اتار لیا، اور کاٹ کر ان کے سامنے ڈال دیا، تو وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روتے ہوئے آئے، آپ نے ان سے کٹے ہوئے ٹکڑے لے کر فرمایا: ثوبان! اسے مدینہ میں فلاں گھر والوں کو جا کر دے آؤ پھر فرمایا: یہ لوگ میرے اہل بیت ہیں مجھے یہ ناپسند ہے کہ یہ اپنے مزے دنیا ہی میں لوٹ لیں، اے ثوبان! فاطمہ کے لیے مونگوں والا ایک ہار اور ہاتھی دانت کے دو کنگن خرید کر لے آؤ ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الشَّامِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْمَنْبِهِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا سَافَرَ كَانَ آخِرُ عَهْدِهِ بِإِنْسَانٍ مِنْ أَهْلِهِ فَاطِمَةَ وَأَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ عَلَيْهَا إِذَا قَدِمَ فَاطِمَةَ فَقَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ لَهُ وَقَدْ عَلَّقَتْ مِسْحًا أَوْ سِتْرًا عَلَى بَابِهَا وَحَلَّتِ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ قُلْبَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ فَقَدِمَ فَلَمْ يَدْخُلْ فَظَنَّتْ أَنَّ مَا مَنَعَهُ أَنْ يَدْخُلَ مَا رَأَى فَهَتَكَتِ السِّتْرَ وَفَكَّكَتِ الْقُلْبَيْنِ عَنِ الصَّبِيَّيْنِ وَقَطَعَتْهُ بَيْنَهُمَا فَانْطَلَقَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُمَا يَبْكِيَانِ فَأَخَذَهُ مِنْهُمَا وَقَالَ " يَا ثَوْبَانُ اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى آلِ فُلاَنٍ " . أَهْلِ بَيْتٍ بِالْمَدِينَةِ " إِنَّ هَؤُلاَءِ أَهْلُ بَيْتِي أَكْرَهُ أَنْ يَأْكُلُوا طَيِّبَاتِهِمْ فِي حَيَاتِهِمُ الدُّنْيَا يَا ثَوْبَانُ اشْتَرِ لِفَاطِمَةَ قِلاَدَةً مِنْ عَصَبٍ وَسِوَارَيْنِ مِنْ عَاجٍ " .
#4214
Sahih
Narrated Anas bin Malik:The Messenger of Allah (ﷺ) wanted to write to some persian rulers. He was told that they would not read a letter without a seal in the form of a silver ring on which he engraved "Muhammad the Messenger of Allah
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض شاہان عجم کو خط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ وہ ایسے خطوط کو جو بغیر مہر کے ہوں نہیں پڑھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ الرُّؤَاسِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَكْتُبَ إِلَى بَعْضِ الأَعَاجِمِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهُمْ لاَ يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلاَّ بِخَاتَمٍ فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ وَنَقَشَ فِيهِ " مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " .
#4215
Sahih Isnaad
The tradition mentioned above has also been transmitted by Anas through a different chain of narrators. This version as transmitted by 'Isa b. Yunus adds:It remained in his hand until he died, in the hand of 'Abu Bakr until he died, in the hand of 'Umar until he died, and in the hand of 'Uthman. When he was near a well, it fell down in it. He ordered to take it out, but it could not be found
اس سند سے بھی انس سے عیسیٰ بن یونس کی روایت کے ہم معنی حدیث مروی ہے، اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ پھر یہ انگوٹھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک آپ کے ہاتھ میں رہی پھر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ ان کی وفات ہو گئی، پھر عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ وہ بھی وفات پا گئے، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی وہ ایک کنویں کے پاس تھے کہ اسی دوران انگوٹھی کنویں میں گر گئی، انہوں نے حکم دیا تو اس کا سارا پانی نکالا گیا لیکن وہ اسے پا نہیں سکے۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، بِمَعْنَى حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ زَادَ فَكَانَ فِي يَدِهِ حَتَّى قُبِضَ وَفِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى قُبِضَ وَفِي يَدِ عُمَرَ حَتَّى قُبِضَ وَفِي يَدِ عُثْمَانَ فَبَيْنَمَا هُوَ عِنْدَ بِئْرٍ إِذْ سَقَطَ فِي الْبِئْرِ فَأَمَرَ بِهَا فَنُزِحَتْ فَلَمْ يُقْدَرْ عَلَيْهِ .
#4216
Sahih
Narrated Anas:The signet-ring of the Prophet (ﷺ) was of silver with an Abyssinian stone
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی، اس کا نگینہ حبشی تھا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسٌ، قَالَ كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ وَرِقٍ فَصُّهُ حَبَشِيٌّ .
#4217
Sahih
Narrated Anas:The signet-ring of the Prophet (ﷺ) was all of silver as was also its stone
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری انگوٹھی چاندی کی تھی، اس کا نگینہ بھی چاندی کا تھا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ فِضَّةٍ كُلُّهُ فَصُّهُ مِنْهُ .
#4218
Sahih
Narrated Ibn 'Umar: The Messenger of Allah (ﷺ) took a signet-ring of gold, and put the stone next the palm of his hand. He engraved on it "Muhammad, the Messenger of Allah". The people then took signet-rings of gold. When he saw that they had taken them (like his ring) he threw it away and said: I shall never wear it. He then fashioned a silver ring and engraved on it "Muhammad, the Messenger of Allah". Then Abu Bakr wore it after him, then 'Umar wore it after Abu Bakr, and the 'Uthman wore it after 'Umar till it fell down in a well called Aris. Abu Dawud said: The people did not disagree on 'Uthman till the signet-rin fell down from his hand
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنائی، اس کے نگینہ کو اپنی ہتھیلی کے پیٹ کی جانب رکھا اور اس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا، تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں، جب آپ نے انہیں سونے کی انگوٹھیاں پہنے دیکھا تو اسے پھینک دیا، اور فرمایا: اب میں کبھی اسے نہیں پہنوں گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی جس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا، پھر آپ کے بعد وہی انگوٹھی ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہنی، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے پھر ان کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ نے پہنی یہاں تک کہ وہ بئراریس میں گر پڑی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان سے لوگوں کا اختلاف اس وقت تک نہیں ہوا جب تک انگوٹھی ان کے ہاتھ میں رہی ( جب وہ گر گئی تو پھر اختلافات اور فتنے رونما ہونے شروع ہو گئے ) ۔
حَدَّثَنَا نُصَيْرُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّهِ وَنَقَشَ فِيهِ " مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " . فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِمَ الذَّهَبِ فَلَمَّا رَآهُمْ قَدِ اتَّخَذُوهَا رَمَى بِهِ وَقَالَ " لاَ أَلْبَسُهُ أَبَدًا " . ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ نَقَشَ فِيهِ " مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " . ثُمَّ لَبِسَ الْخَاتَمَ بَعْدَهُ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ لَبِسَهُ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ ثُمَّ لَبِسَهُ بَعْدَهُ عُثْمَانُ حَتَّى وَقَعَ فِي بِئْرِ أَرِيسَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَلَمْ يَخْتَلِفِ النَّاسُ عَلَى عُثْمَانَ حَتَّى سَقَطَ الْخَاتَمُ مِنْ يَدِهِ .
#4219
Sahih
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn 'Umar through a different chain of narrators from the Prophet (ﷺ). This version adds:He engraved on it "Muhammad, the Messenger of Allah." and said: "No one must engrave anything in the manner of this signet-ring of mine. He then transmitted the rest of the tradition
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس روایت میں مرفوعاً مروی ہے اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «محمد رسول الله» کندہ کرایا، اور فرمایا: کوئی میری اس انگوٹھی کے طرز پر کندہ نہ کرائے پھر راوی نے آگے پوری حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، فِي هَذَا الْخَبَرِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَنَقَشَ فِيهِ " مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " . وَقَالَ " لاَ يَنْقُشْ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِ خَاتَمِي هَذَا " . ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ .
#4220
Daif Isnaad
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn 'Umar through different chain of narrators from the Prophet (ﷺ). This version adds:They searched for it but could not find it. 'Uthman then fashioned a signet-ring and engraved on it "Muhammad, the Messenger of Allah". He used to wear it or stamp with it
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً یہی حدیث مروی ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ لوگوں نے اسے ڈھونڈا لیکن وہ ملی نہیں، تو عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک دوسری انگوٹھی بنوائی، اور اس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا۔ راوی کہتے ہیں: وہ اسی سے مہر لگایا کرتے تھے، یا کہا: اسے پہنا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، بِهَذَا الْخَبَرِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَالْتَمَسُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ فَاتَّخَذَ عُثْمَانُ خَاتَمًا وَنَقَشَ فِيهِ " مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " . قَالَ فَكَانَ يَخْتِمُ بِهِ أَوْ يَتَخَتَّمُ بِهِ .
#4221
Sahih
Anas b. Malik said that he saw a silver signet-ring on the hand of the Prophet (ﷺ) only for a day. The people then fashioned and wore (rings). The Prophet (ﷺ) then threw it away and the people also threw (them.) Abu Dawud said:Ziyad b. Sa'd, Shu'aib and Ibn Musafir transmitted it from al-Zuhri. 'Ali said in their versions: "of silver
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی تو لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں اور پہننے لگے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی پھینک دی تو لوگوں نے بھی پھینک دی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زیاد بن سعد، شعیب اور ابن مسافر نے زہری سے روایت کیا ہے، اور سبھوں نے «من ورق» کہا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، لُوَيْنٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ رَأَى فِي يَدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا فَصَنَعَ النَّاسُ فَلَبِسُوا وَطَرَحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَطَرَحَ النَّاسُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ وَشُعَيْبٌ وَابْنُ مُسَافِرٍ كُلُّهُمْ قَالَ مِنْ وَرِقٍ .
#4222
Munkar
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: The Prophet of Allah (ﷺ) disliked ten things: Yellow colouring, meaning khaluq, dyeing grey hair, trailing the lower garment, wearing a gold signet-ring, a woman decking herself before people who are not within the prohibited degrees, throwing dice, using spells except with the Mu'awwidhatan, wearing amulets, withdrawing the penis before the semen is discharged, in the case of a woman who is wife or not a wife, and having intercourse with a woman who is suckling a child; but he did not declare them to be prohibited. Abu Dawud said: Only the transmitters of Basrah have transmitted this tradition
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس خصلتیں ناپسند فرماتے تھے، زردی یعنی خلوق کو، سفید بالوں کے تبدیل کرنے کو ۱؎، تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کو، سونے کی انگوٹھی پہننے کو، بے موقع و محل اجنبیوں کے سامنے عورتوں کے زیب و زینت کے ساتھ اور بن ٹھن کر نکلنے کو، شطرنج کھیلنے کو، معوذات کے علاوہ سے جھاڑ پھونک کرنے کو، تعویذ اور گنڈے لٹکانے کو اور ناجائز جگہ منی ڈالنے کو، اور بچے کے فساد کو یعنی اسے کمزور کرنے کو اس طرح پر کہ ایام رضاعت میں اس کی ماں سے صحبت کرے البتہ اسے حرام نہیں ٹھہراتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اہل بصرہ اس حدیث کی سند میں منفرد ہیں، واللہ اعلم
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ الرُّكَيْنَ بْنَ الرَّبِيعِ، يُحَدِّثُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، كَانَ يَقُولُ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَكْرَهُ عَشْرَ خِلاَلٍ الصُّفْرَةَ - يَعْنِي الْخَلُوقَ - وَتَغْيِيرَ الشَّيْبِ وَجَرَّ الإِزَارِ وَالتَّخَتُّمَ بِالذَّهَبِ وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّينَةِ لِغَيْرِ مَحِلِّهَا وَالضَّرْبَ بِالْكِعَابِ وَالرُّقَى إِلاَّ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَعَقْدَ التَّمَائِمِ وَعَزْلَ الْمَاءِ لِغَيْرِ أَوْ غَيْرِ مَحِلِّهِ أَوْ عَنْ مَحِلِّهِ وَفَسَادَ الصَّبِيِّ غَيْرَ مُحَرِّمِهِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ انْفَرَدَ بِإِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ أَهْلُ الْبَصْرَةِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ .
#4223
Daif
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: A man came to the Prophet (ﷺ) and he was wearing a signet-ring of yellow copper. He said to him: How is it that I notice the odour of idols in you? So he threw it away, and came wearing an iron signet ring. He (the Prophet) said: What is it that I see you wearing the adornment of the inhabitants of Hell? So he threw it away. He asked: Messenger of Allah, what material I must use? He said: Make it of silver, but do not weigh it as much as a mithqal, The narrator Muhammad did not say: " 'Abd Allah b. Muslim," and al-Hasan did not say: "al-Sulami al-Marwazi
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، وہ پتیل کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا بات ہے، میں تجھ سے بتوں کی بدبو محسوس کر رہا ہوں؟ تو اس نے اپنی انگوٹھی پھینک دی، پھر لوہے کی انگوٹھی پہن کر آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے، میں تجھے جہنمیوں کا زیور پہنے ہوئے دیکھتا ہوں؟ تو اس نے پھر اپنی انگوٹھی پھینک دی، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر کس چیز کی انگوٹھی بنواؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاندی کی بنواؤ اور اسے ایک مثقال سے کم رکھو ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، - الْمَعْنَى - أَنَّ زَيْدَ بْنَ حُبَابٍ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ السُّلَمِيِّ الْمَرْوَزِيِّ أَبِي طَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ شَبَهٍ فَقَالَ لَهُ " مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الأَصْنَامِ " . فَطَرَحَهُ ثُمَّ جَاءَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ " مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ النَّارِ " . فَطَرَحَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ أَىِّ شَىْءٍ أَتَّخِذُهُ قَالَ " اتَّخِذْهُ مِنْ وَرِقٍ وَلاَ تُتِمَّهُ مِثْقَالاً " . وَلَمْ يَقُلْ مُحَمَّدٌ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ . وَلَمْ يَقُلِ الْحَسَنُ السُّلَمِيِّ الْمَرْوَزِيِّ .
#4224
Daif
Iyas b. al-Harith b. al-Mu'aiqib quoting his grandfather said and his grandfather from his mother's side was Abu Dhubab:The signet-ring of the Prophet (ﷺ) was of iron polished with silver. Sometimes it remained in my possession. Al-Mu'ayqib was in charge of the signet-ring of the Prophet (ﷺ)
معیقیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی لوہے کی تھی اس پر چاندی کی پالش تھی کبھی کبھی وہ انگوٹھی میرے ہاتھ میں ہوتی۔ ٍ راوی کہتے ہیں: اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کے امین معیقیب تھے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَزِيَادُ بْنُ يَحْيَى، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالُوا حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ أَبُو عَتَّابٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَكِينٍ، نُوحُ بْنُ رَبِيعَةَ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَيْقِيبِ، وَجَدُّهُ، مِنْ قِبَلِ أُمِّهِ أَبُو ذُبَابٍ عَنْ جَدِّهِ، قَالَ كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ حَدِيدٍ مَلْوِيٌّ عَلَيْهِ فِضَّةٌ . قَالَ فَرُبَّمَا كَانَ فِي يَدِهِ قَالَ وَكَانَ الْمُعَيْقِيبُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
#4225
Sahih
Narrated Ali:The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: Say: O Allah, guide me, and set me right. Remember by guidance (hidayah) the showing of the straight path, and remember by setting right (sadad) the setting right of an arrow. Then pointing to the middle finger and the one next to it, he said: He forbade me to wear a signet-ring on this finger of mine or on this (Asim was doubtful). He forbade me to wear qassiyyah (qasi garments) and mitharah. Abu Burdah said: We asked 'Ali: What is qasiyyah ? He said: These are garments imported to us from Syria or Egypt. They are stripped and marked like citrons. And mitharah was a thing made by women for their husbands
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کہو: اے اللہ! مجھے ہدایت دے، اور درستگی پر قائم رکھ، اور ہدایت سے سیدھی راہ پر چلنے کی نیت رکھو، درستگی سے تیر کی طرح سیدھا رہنے یعنی سیدھی راہ پر جمے رہنے کی نیت کرو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرمایا کہ انگوٹھی اس انگلی یا اس انگلی میں رکھوں انگشت شہادت یعنی کلمہ کی یا درمیانی انگلی میں ( عاصم جو حدیث کے راوی ہیں نے شک کیا ہے ) اور مجھے «قسیہ» اور «میثرہ» سے منع فرمایا۔ ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: «قسیہ» کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ایک قسم کے کپڑے ہیں جو شام یا مصر سے آتے تھے، ان کی دھاریوں میں ترنج ( چکوترہ ) بنے ہوئے ہوتے تھے اور «میثرہ» وہ بچھونا ( بستر ) ہے جسے عورتیں اپنے خاوندوں کے لیے بنایا کرتی تھیں۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قُلِ اللَّهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِّدْنِي وَاذْكُرْ بِالْهِدَايَةِ هِدَايَةَ الطَّرِيقِ وَاذْكُرْ بِالسَّدَادِ تَسْدِيدَكَ السَّهْمَ " . قَالَ وَنَهَانِي أَنْ أَضَعَ الْخَاتَمَ فِي هَذِهِ أَوْ فِي هَذِهِ لِلسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى - شَكَّ عَاصِمٌ - وَنَهَانِي عَنِ الْقَسِّيَّةِ وَالْمِيثَرَةِ . قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَقُلْنَا لِعَلِيٍّ مَا الْقَسِّيَّةُ قَالَ ثِيَابٌ تَأْتِينَا مِنَ الشَّامِ أَوْ مِنْ مِصْرَ مُضَلَّعَةٌ فِيهَا أَمْثَالُ الأُتْرُجِّ قَالَ وَالْمِيثَرَةُ شَىْءٌ كَانَتْ تَصْنَعُهُ النِّسَاءُ لِبُعُولَتِهِنَّ .