#3801
Sahih
Narrated Jabir ibn Abdullah: I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about the hyena. He replied: It is game, and if one who is wearing ihram (pilgrim's robe) hunts it, he should give a sheep as atonement
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لکڑبگھا ( لگڑ بگڑ ) ۱؎ کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: وہ شکار ہے اور جب محرم اس کا شکار کرے تو اسے ایک دنبے کا دم دینا پڑے گا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الضَّبُعِ فَقَالَ " هُوَ صَيْدٌ وَيُجْعَلُ فِيهِ كَبْشٌ إِذَا صَادَهُ الْمُحْرِمُ " .
#3802
Sahih
Abu Tha’labah al-Khushani said:The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited eating fanged beasts of prey
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھاڑ کھانے والے جانوروں میں سے ہر دانت والے جانور کے کھانے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ .
#3803
Sahih
Ibn ‘Abbas said:The Messenger of Allah(ﷺ) prohibited the eating of every beast of prey with fang, and every bird with a talon
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دانت والے درندے، اور ہر پنجہ والے پرندے کے کھانے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ .
#3804
Sahih
Narrated Al-Miqdam ibn Ma'dikarib: The Prophet (ﷺ) said: Beware, the fanged beast of prey is not lawful, nor the domestic asses, nor the find from the property of a man with whom treaty has been concluded, except that he did not need it. If anyone is a guest of people who provide no hospitality for him, he is entitled to take from them the equivalent of the hospitality due to him
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! دانت والا درندہ حلال نہیں، اور نہ گھریلو گدھا، اور نہ کافر ذمی کا پڑا ہوا مال حلال ہے، سوائے اس مال کے جس سے وہ مستغنی اور بے نیاز ہو، اور جو شخص کسی قوم کے یہاں مہمان بن کر جائے اور وہ لوگ اس کی مہمان نوازی نہ کریں تو اسے یہ حق ہے کہ اس کے عوض وہ اپنی مہمانی کے بقدر ان سے وصول کر لے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَلاَ لاَ يَحِلُّ ذُو نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَلاَ الْحِمَارُ الأَهْلِيُّ وَلاَ اللُّقَطَةُ مِنْ مَالِ مُعَاهِدٍ إِلاَّ أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا وَأَيُّمَا رَجُلٍ ضَافَ قَوْمًا فَلَمْ يَقْرُوهُ فَإِنَّ لَهُ أَنْ يُعْقِبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ " .
#3805
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: On the day of Khaybar the Messenger of Allah (ﷺ) prohibited eating every beast of prey, and every bird with a talon
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن ہر دانت والے درندے اور ہر پنجہ والے پرندے کے کھانے سے منع فرما دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ .
#3806
Daif
Narrated Khalid ibn al-Walid: I went with the Messenger of Allah (ﷺ) to fight at the battle of Khaybar, and the Jews came and complained that the people had hastened to take their protected property (as a booty), so the Messenger of Allah (ﷺ) said: The property of those who have been given a mules, every fanged beast of prey, and every bird with a talon are forbidden for you
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں نے خیبر کا غزوہ کیا، تو یہود آ کر شکایت کرنے لگے کہ لوگوں نے ان کے باڑوں کی طرف بہت جلدی کی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! جو کافر تم سے عہد کر لیں ان کے اموال تمہارے لیے جائز نہیں ہیں سوائے ان کے جو جائز طریقے سے ہوں اور تمہارے لیے گھریلو گدھے، گھوڑے، خچر، ہر دانت والے درندے اور ہر پنجہ والے پرندے حرام ہیں ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ، عَنْ جَدِّهِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ فَأَتَتِ الْيَهُودُ فَشَكَوْا أَنَّ النَّاسَ قَدْ أَسْرَعُوا إِلَى حَظَائِرِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ لاَ تَحِلُّ أَمْوَالُ الْمُعَاهِدِينَ إِلاَّ بِحَقِّهَا وَحَرَامٌ عَلَيْكُمْ حُمُرُ الأَهْلِيَّةِ وَخَيْلُهَا وَبِغَالُهَا وَكُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَكُلُّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ " .
#3807
Daif
Narrated Jabir ibn Abdullah: that the Prophet (ﷺ) forbade payment for a cat. Ibn AbdulMalik said: to eat a cat and to enjoy its price
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کی قیمت سے منع فرمایا۔ ابن عبدالملک کی روایت میں بلی کھانے سے اور اس کی قیمت کھانے سے کے الفاظ ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ زَيْدٍ الصَّنْعَانِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْهِرِّ . قَالَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ أَكْلِ الْهِرِّ وَأَكْلِ ثَمَنِهَا .
#3808
Sahih
Jabir b. ‘Abd Allah said:On the day of Khaibar the Messenger of Allah(ﷺ) forbade us to eat the flesh of domestic asses, and ordered us to eat horse-flesh. ‘Amr said: I informed Abu al-Sha’tha’ about this tradition. He said: Al-Hakam al-Ghifari among us said this, and the” ocean” denied that, intending thereby Ibn’ Abbas
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن گھریلو گدھے کے گوشت کھانے سے منع فرمایا، اور ہمیں گھوڑے کا گوشت کھانے کا حکم دیا۔ عمرو کہتے ہیں: ابوالشعثاء کو میں نے اس حدیث سے باخبر کیا تو انہوں نے کہا: حکم غفاری بھی ہم سے یہی کہتے تھے اور اس «بحر» ( عالم ) نے اس حدیث کا انکار کیا ہے ان کی مراد ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تھی ۱؎۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَسَنٍ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ أَنْ نَأْكُلَ لُحُومَ الْحُمُرِ وَأَمَرَنَا أَنْ نَأْكُلَ لُحُومَ الْخَيْلِ قَالَ عَمْرٌو فَأَخْبَرْتُ هَذَا الْخَبَرَ أَبَا الشَّعْثَاءِ فَقَالَ قَدْ كَانَ الْحَكَمُ الْغِفَارِيُّ فِينَا يَقُولُ هَذَا وَأَبَى ذَلِكَ الْبَحْرُ يُرِيدُ ابْنَ عَبَّاسٍ .
#3809
Daif Isnaad
Narrated Ghalib ibn Abjar: We faced a famine, and I had nothing from my property which I could feed my family ex except a few asses, and the Prophet (ﷺ) forbade the flesh of domestic asses. So I came to the Prophet (ﷺ) and said: Messenger of Allah (may peace be upon) , we are suffering from famine, and I have no property which I feed my family except some fat asses, and you have forbidden the flesh of domestic asses. He said: Feed your family on the fat asses of yours, for I forbade them on account of the animal which feeds on the filth of the town, that is, the animal which feeds on filth. Abu Dawud said: This 'Abd al-Rahman is Ibn Ma'qil. Abu Dawud said: Suh'bah transmitted this tradition from 'Ubaid Abi al-Hasan, from 'Abd al-Rahman bin Maq'il, from'Abd al-Rahman bin Bishr, from some people of Muzainah stating that Abjar, the chief of Muzainah, or Ibn Abjar asked the Prophet (ﷺ)
غالب بن ابجر کہتے ہیں ہمیں قحط سالی لاحق ہوئی اور ہمارے پاس گدھوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا جسے ہم اپنے اہل و عیال کو کھلاتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھریلو گدھوں کے گوشت کو حرام کر چکے تھے، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کو قحط سالی نے آ پکڑا ہے اور ہمارے پاس سوائے موٹے گدھوں کے کوئی مال نہیں جسے ہم اپنے اہل و عیال کو کھلا سکیں اور آپ گھریلو گدھوں کے گوشت کو حرام کر چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے اہل و عیال کو اپنے موٹے گدھے کھلاؤ میں نے انہیں گاؤں گاؤں گھومنے کی وجہ سے حرام کیا ہے یعنی نجاست خور گدھوں کو حرام کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرحمٰن سے مراد ابن معقل ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو شعبہ نے عبیدابوالحسن سے، عبید نے عبدالرحمٰن بن معقل سے عبدالرحمٰن بن معقل نے عبدالرحمٰن بن بشر سے انہوں نے مزینہ کے چند لوگوں سے روایت کیا کہ مزینہ کے سردار ابجر یا ابن ابجر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عُبَيْدٍ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ غَالِبِ بْنِ أَبْجَرَ، قَالَ أَصَابَتْنَا سَنَةٌ فَلَمْ يَكُنْ فِي مَالِي شَىْءٌ أُطْعِمُ أَهْلِي إِلاَّ شَىْءٌ مِنْ حُمُرٍ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَرَّمَ لُحُومَ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَابَتْنَا السَّنَةُ وَلَمْ يَكُنْ فِي مَالِي مَا أُطْعِمُ أَهْلِي إِلاَّ سِمَانُ الْحُمُرِ وَإِنَّكَ حَرَّمْتَ لُحُومَ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ . فَقَالَ " أَطْعِمْ أَهْلَكَ مِنْ سَمِينِ حُمُرِكَ فَإِنَّمَا حَرَّمْتُهَا مِنْ أَجْلِ جَوَالِّ الْقَرْيَةِ " . يَعْنِي الْجَلاَّلَةَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ هَذَا هُوَ ابْنُ مَعْقِلٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عُبَيْدٍ أَبِي الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْقِلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ عَنْ نَاسٍ مِنْ مُزَيْنَةَ أَنَّ سَيِّدَ مُزَيْنَةَ أَبْجَرَ أَوِ ابْنَ أَبْجَرَ سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم .
#3810
Daif
Muhammed b. Sulaiman narrated from Abu Nu’aim, from Mis’ar, from Ibn ‘Ubaid, from Ibn Ma’qil, from two men of Muzainah, one from the other, one of them is ‘Abd Allah b. ‘Amr b. ‘Uwaim, and the other is Ghalib b. al-Abjar. Mis’ar said:I think it was Ghalib who had come to the Prophet(ﷺ) with tradition
ابن معقل مزینہ کے دو آدمیوں سے روایت کرتے ہیں اور ان میں سے ایک شخص دوسرے سے روایت کرتا ہے ایک کا نام عبداللہ بن عمرو بن عویم اور دوسرے کا نام غالب بن أبجر ہے۔ مسعر کہتے ہیں: میرا خیال ہے غالب ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس بات ( قحط والے معاملے ) کو لے کر آئے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنِ ابْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ رَجُلَيْنِ، مِنْ مُزَيْنَةَ أَحَدُهُمَا عَنِ الآخَرِ، أَحَدُهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ عُوَيْمٍ وَالآخَرُ غَالِبُ بْنُ الأَبْجَرِ . قَالَ مِسْعَرٌ أَرَى غَالِبًا الَّذِي أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ .
#3811
Hasan Sahih
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: On the day of Khaybar the Messenger of Allah (may pease be upon him) forbade (eating) the flesh of domestic asses, and the animal which feeds on filth: riding it and eating its flesh
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کے گوشت سے اور نجاست خور جانور کی سواری کرنے اور اس کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ وَعَنِ الْجَلاَّلَةِ عَنْ رُكُوبِهَا وَأَكْلِ لَحْمِهَا .
#3812
Sahih
Abu Ya’fur said:I heard Ibn Abi Awfa say when I asked him about (eating) locusts: I went on six or seven expeditions along with the Messenger of Allah (ﷺ) and we ate them (locusts) along with him
ابویعفور کہتے ہیں میں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا اور میں نے ان سے ٹڈی کے متعلق پوچھا تھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ یا سات غزوات کئے اور ہم اسے آپ کے ساتھ کھایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى، وَسَأَلْتُهُ، عَنِ الْجَرَادِ، فَقَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِتَّ أَوْ سَبْعَ غَزَوَاتٍ فَكُنَّا نَأْكُلُهُ مَعَهُ .
#3813
Daif
Narrated Salman al-Farsi: The Messenger of Allah (ﷺ) was asked about (eating) locusts. He replied: They are the most numerous of Allah's hosts. I neither eat them nor declare them unlawful
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ کے بہت سے لشکر ہیں، نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ اسے حرام کرتا ہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے معتمر نے اپنے والد سلیمان سے، سلیمان نے ابوعثمان سے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، انہوں نے سلمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے ( یعنی مرسلاً روایت کی ہے ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الزِّبْرِقَانِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْجَرَادِ فَقَالَ " أَكْثَرُ جُنُودِ اللَّهِ لاَ آكُلُهُ وَلاَ أُحَرِّمُهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَذْكُرْ سَلْمَانَ .
#3814
Daif
The tradition mentioned above has also been transmitted by Salman through a different chain of narrators. This version goes:Salman said: The Messenger of Allah(ﷺ) was asked about locusts. He replied in a similar way(as mentioned above) saying: The most numerous of Allah’s host. The narrator ‘Ali said: His name is Fa’id, that is the name of al-Awwam. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Hammad b. Salamah, from Abu al-Awwam from Abu uthman, from the Prophet (ﷺ). He did not mention salman (i.e., the companions)
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے ایسے ہی فرمایا: اللہ کے بہت سے لشکر ہیں ۔ علی کہتے ہیں: ان کا یعنی ابوالعوام کا نام فائد ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حماد بن سلمہ نے ابوالعوام سے ابوالعوام نے ابوعثمان سے اور ابوعثمان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا اور سلمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ الْجَزَّارِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ فَقَالَ مِثْلَهُ فَقَالَ " أَكْثَرُ جُنْدِ اللَّهِ " . قَالَ عَلِيٌّ اسْمُهُ فَائِدٌ يَعْنِي أَبَا الْعَوَّامِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَذْكُرْ سَلْمَانَ .
#3815
Daif
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: What the sea throws up and is left by the tide you may eat, but what dies in the sea and floats you must not eat. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Sufyan al-Thawri, Ayyub and Hammad from Abu al-Zubair as the statement of Jabor himself (and not from the Prophet). It has been also transmitted direct from the Prophet (ﷺ) through a weak chain by Abu Dhi'b, from Abu al-Zubair on the authority if Jabir from the Prophet (ﷺ)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمندر جس مچھلی کو باہر ڈال دے یا جس سے سمندر کا پانی سکڑ جائے تو اسے کھاؤ، اور جو اس میں مر کر اوپر آ جائے تو اسے مت کھاؤ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو سفیان ثوری، ایوب اور حماد نے ابو الزبیر سے روایت کیا ہے، اور اسے جابر پر موقوف قرار دیا ہے اور یہ حدیث ایک ضعیف سند سے بھی مروی ہے جو اس طرح ہے: «عن ابن أبي ذئب عن أبي الزبير عن جابر عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم» ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا أَلْقَى الْبَحْرُ أَوْ جَزَرَ عَنْهُ فَكُلُوهُ وَمَا مَاتَ فِيهِ وَطَفَا فَلاَ تَأْكُلُوهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَأَيُّوبُ وَحَمَّادٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَوْقَفُوهُ عَلَى جَابِرٍ وَقَدْ أُسْنِدَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا مِنْ وَجْهٍ ضَعِيفٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
#3816
Hasan Isnaad
Narrated Jabir ibn Samurah: A man alighted at Harrah with his wife and children. A man said (to him): My she-camel has strayed; if you find it, detain it. He found it, but did not find its owner, and it fell ill. His wife said: Slaughter it. But he refused and it died. She said: Skin it so that we may dry its fat and flesh and then eat them. He said: Let me ask the Messenger of Allah (ﷺ). So he came to him (the Prophet) and asked him. He said: Have you sufficient for your needs? He replied: No. He then said: Then eat it. Then its owner came and he told him the story. He said: Why did you not slaughter it? He replied: I was ashamed (or afraid) of you
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے اہل و عیال کے ساتھ حرہ میں قیام کیا، تو ایک شخص نے اس سے کہا: میری ایک اونٹنی کھو گئی ہے اگر تم اسے پانا تو اپنے پاس رکھ لینا، اس نے اسے پا لیا لیکن اس کے مالک کو نہیں پاس کا پھر وہ بیمار ہو گئی، تو اس کی بیوی نے کہا: اسے ذبح کر ڈالو، لیکن اس نے انکار کیا، پھر اونٹنی مر گئی تو اس کی بیوی نے کہا: اس کی کھال نکال لو تاکہ ہم اس کی چربی اور گوشت سکھا کر کھا سکیں، اس نے کہا: جب تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہیں لیتا ایسا نہیں کر سکتا چنانچہ وہ آپ کے پاس آیا اور اس کے متعلق آپ سے دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے پاس کوئی اور چیز ہے جو تجھے ( مردار کھانے سے ) بے نیاز کرے اس شخص نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم کھاؤ ۔ راوی کہتے ہیں: اتنے میں اس کا مالک آ گیا، تو اس نے اسے سارا واقعہ بتایا تو اس نے کہا: تو نے اسے کیوں نہیں ذبح کر لیا؟ اس نے کہا: میں نے تم سے شرم محسوس کی ( اور بغیر اجازت ایسا کرنا میں نے مناسب نہیں سمجھا ) ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، نَزَلَ الْحَرَّةَ وَمَعَهُ أَهْلُهُ وَوَلَدُهُ فَقَالَ رَجُلٌ إِنَّ نَاقَةً لِي ضَلَّتْ فَإِنْ وَجَدْتَهَا فَأَمْسِكْهَا . فَوَجَدَهَا فَلَمْ يَجِدْ صَاحِبَهَا فَمَرِضَتْ فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ انْحَرْهَا . فَأَبَى فَنَفَقَتْ فَقَالَتِ اسْلُخْهَا حَتَّى نُقَدِّدَ شَحْمَهَا وَلَحْمَهَا وَنَأْكُلَهُ . فَقَالَ حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ " هَلْ عِنْدَكَ غِنًى يُغْنِيكَ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَكُلُوهَا " . قَالَ فَجَاءَ صَاحِبُهَا فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ فَقَالَ " هَلاَّ كُنْتَ نَحَرْتَهَا " . قَالَ اسْتَحْيَيْتُ مِنْكَ .
#3817
Daif Isnaad
Narrated Al-Faji' ibn Abdullah al-Amiri: Al-Faji' came to the Messenger of Allah (ﷺ) and asked: Is not dead meat lawful for us? He said: What is your food? We said: Some food in the evening and some in the morning. AbuNu'aym said: Uqbah explained it to me saying: a cup (of milk) in the morning and a cup in the evening; this does not satisfy the hunger. So made the carrion lawful for them in this condition. Abu Dawud said: Ghabuq is a drink in the evening and Sabuh is a drink in the morning
فجیع عامری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پوچھا: مردار میں سے ہمارے لیے کیا حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کھانا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہم شام کو دودھ پیتے ہیں اور صبح کو دودھ پیتے ہیں۔ ابونعیم کہتے ہیں: عقبہ نے مجھ سے اس کی تفسیر یہ کی کہ صبح کو ایک پیالہ پیتے ہیں اور شام کو ایک پیالہ پیتے ہیں میرا کل یہی کھانا ہے قسم ہے میرے والد کی میں بھوکا رہتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی صورت حال میں ان کے لیے مردار کو حلال کر دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «غبوق» کے معنی دن کے آخری حصہ کے ہیں اور «صبوح» کے معنی دن کے شروع حصہ کے ہیں۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ وَهْبِ بْنِ عُقْبَةَ الْعَامِرِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنِ الْفُجَيْعِ الْعَامِرِيِّ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَا يَحِلُّ لَنَا مِنَ الْمَيْتَةِ قَالَ " مَا طَعَامُكُمْ " . قُلْنَا نَغْتَبِقُ وَنَصْطَبِحُ . قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ فَسَّرَهُ لِي عُقْبَةُ قَدَحٌ غُدْوَةً وَقَدَحٌ عَشِيَّةً . قَالَ " ذَاكَ - وَأَبِي - الْجُوعُ " . فَأَحَلَّ لَهُمُ الْمَيْتَةَ عَلَى هَذِهِ الْحَالِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الْغَبُوقُ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ وَالصَّبُوحُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ .
#3818
Daif
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet (ﷺ) said: I wish I had a white loaf made from tawny and softened with clarified butter and milk. A man from among the people got up and getting one brought it. He asked: In which had it been? He replied: In a lizard skin. He said: Take it away. Abu Dawud said: This is a munkar (rejected) tradition. Abu Dawud said: Ayyub, the narrator of this tradition, is not (Ayyub) al-Sakhtiyani
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے گندمی رنگ کے گیہوں کی سفید روٹی جو گھی اور دودھ میں چپڑی ہوئی ہو بہت محبوب ہے تو قوم میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اسے بنا کر آپ کی خدمت میں لایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کس برتن میں تھا؟ اس نے کہا: سانڈا ( سوسمار ) کی کھال کے بنے ہوئے ایک برتن میں تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو اسے اٹھا لے جاؤ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اس حدیث میں وارد ایوب، ایوب سختیانی نہیں ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي خُبْزَةً بَيْضَاءَ مِنْ بُرَّةٍ سَمْرَاءَ مُلَبَّقَةً بِسَمْنٍ وَلَبَنٍ " . فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَاتَّخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ فَقَالَ " فِي أَىِّ شَىْءٍ كَانَ هَذَا " . قَالَ فِي عُكَّةِ ضَبٍّ قَالَ " ارْفَعْهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَأَيُّوبُ لَيْسَ هُوَ السَّخْتِيَانِيَّ .
#3819
Hasan Isnaad
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet (ﷺ) was brought a piece of cheese in Tabuk. He called for a knife, mentioned Allah's name and cut it
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پنیر لائی گئی آپ نے چھری منگائی اور بسم الله پڑھ کر اسے کاٹا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِجُبْنَةٍ فِي تَبُوكَ فَدَعَا بِسِكِّينٍ فَسَمَّى وَقَطَعَ .
#3820
Sahih
Jabir reported the Prophet (ﷺ) as saying:What a good condiment vinegar is
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سرکہ کیا ہی اچھا سالن ہے ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " نِعْمَ الإِدَامُ الْخَلُّ " .
#3821
Sahih
Jabir b. ‘Abd Allah reported the Prophet (ﷺ) as sayings:What a good condiment vinegar is
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سرکہ کیا ہی اچھا سالن ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " نِعْمَ الإِدَامُ الْخَلُّ " .
#3822
Sahih
Jabir b. ‘Abd Allah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as sayings:He who eats garlic or onion must keep away from us. Or he said: must keep away from our mosque or must sit in his house. A dish containing green vegetables was brought to him, and noticing that it had an odour he asked (about it). He was told that it contained some vegetables. He then said: Bring it near, to one of his companion who was with him. When he saw it, he abominated eating it, and said: eat for I hold intimate converse with one with whom you do not. Ahmad b. Salih said: Ibn Wahb explained the word badr as meaning dish
عطا بن ابی رباح کا بیان ہے کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے الگ رہے یا آپ نے فرمایا: ہماری مسجد سے الگ رہے، اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک طبق لایا گیا جس میں کچھ سبزیاں تھیں، آپ نے اس میں بو محسوس کی تو پوچھا: کس چیز کی سبزی ہے؟ تو اس میں جس چیز کی سبزی تھی آپ کو بتایا گیا، تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض ساتھیوں کے پاس لے جانے کو کہا جو آپ کے ساتھ تھے تو جب دیکھا کہ یہ لوگ بھی اسے کھانا ناپسند کر رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کھاؤ کیونکہ میں ایسی ذات سے سرگوشی کرتا ہوں جس سے تم نہیں کرتے ۔ احمد بن صالح کہتے ہیں: ابن وہب نے بدر کی تفسیر طبق سے کی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلاً فَلْيَعْتَزِلْنَا - أَوْ لِيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا - وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ " . وَإِنَّهُ أُتِيَ بِبَدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ مِنَ الْبُقُولِ فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا فَسَأَلَ فَأُخْبِرَ بِمَا فِيهَا مِنَ الْبُقُولِ فَقَالَ " قَرِّبُوهَا " . إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ كَانَ مَعَهُ فَلَمَّا رَآهُ كَرِهَ أَكْلَهَا قَالَ " كُلْ فَإِنِّي أُنَاجِي مَنْ لاَ تُنَاجِي " . قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ بِبَدْرٍ فَسَّرَهُ ابْنُ وَهْبٍ طَبَقٌ
#3823
Daif
Narrated AbuSa'id al-Khudri: The garlic and onions were mentioned before the Messenger of Allah (ﷺ). He was told: The most severe of them is garlic. Would you make it unlawful? The Prophet (ﷺ) said: Eat it, and he who eats it should not come near this mosque until its odour goes away
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لہسن اور پیاز کا ذکر کیا گیا اور عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ان میں سب سے زیادہ سخت لہسن ہے کیا آپ اسے حرام کرتے ہیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کھاؤ اور جو شخص اسے کھائے وہ اس مسجد ( مسجد نبوی ) میں اس وقت تک نہ آئے جب تک اس کی بو نہ جاتی رہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا النَّجِيبِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الثُّومُ وَالْبَصَلُ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَشَدُّ ذَلِكَ كُلِّهِ الثُّومُ أَفَتُحَرِّمُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " كُلُوهُ وَمَنْ أَكَلَهُ مِنْكُمْ فَلاَ يَقْرَبْ هَذَا الْمَسْجِدَ حَتَّى يَذْهَبَ رِيحُهُ مِنْهُ " .
#3824
Sahih
Narrated Hudhayfah ibn al-Yaman: Zirr ibn Hubaysh said: Hudhayfah traced, I think, to the Messenger of Allah (ﷺ) the saying: He who spits in the direction of the qiblah will come on the Day of Resurrection in the state that his saliva will be between his eyes; and he who eats from this noxious vegetable should not come near our mosque, saying it three times
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قبلہ کی جانب تھوکا تو اس کا تھوک قیامت کے دن اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لگا ہوا آئے گا، اور جس نے ان گندی سبزیوں کو کھایا وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَظُنُّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ تَفَلَ تِجَاهَ الْقِبْلَةِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَفْلُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَمَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الْخَبِيثَةِ فَلاَ يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا " . ثَلاَثًا .
#3825
Sahih
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet (ﷺ) said: He who eats from this plant should not come near the mosques
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس درخت ( لہسن ) سے کھائے وہ مسجدوں کے قریب نہ آئے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلاَ يَقْرَبَنَّ الْمَسَاجِدَ " .