#3601
Hasan
The tradition mentioned above (No. 3593) has also been transmitted by Sulayman ibn Musa through a different chain of narrators. This version has:The Messenger of Allah (ﷺ) said: The testimony of a deceitful man or woman, of an adulterer and adulteress, and of one who harbours rancour against his brother is not allowable
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیانت کرنے والے مرد اور خیانت کرنے والی عورت کی، زانی مرد اور زانیہ عورت کی اور اپنے بھائی سے کینہ رکھنے والے شخص کی گواہی جائز نہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفِ بْنِ طَارِقٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، بِإِسْنَادِهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلاَ خَائِنَةٍ وَلاَ زَانٍ وَلاَ زَانِيَةٍ وَلاَ ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ " .
#3602
Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: The testimony of a nomad Arab against a townsman is not allowable
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: دیہاتی کی گواہی بستی اور شہر میں رہنے والے شخص کے خلاف جائز نہیں ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَنَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تَجُوزُ شَهَادَةُ بَدَوِيٍّ عَلَى صَاحِبِ قَرْيَةٍ " .
#3603
Sahih
Uqbah bin al-Harith said:"I married Umm Yahya daughter of Abu Ihab. A black woman entered upon us. She said that she had suckled both of us. So I came to the Prophet (ﷺ), and amentioned it to him. He turned away from me. I said (to him): Messenger of Allah! she is a liar. He said: What do you know? She has said what she has said. Separate yourself from her (wife)
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عقبہ بن حارث نے اور میرے ایک دوست نے انہیں کے واسطہ سے بیان کیا اور مجھے اپنے دوست کی روایت زیادہ یاد ہے وہ ( عقبہ ) کہتے ہیں: میں نے ام یحییٰ بنت ابی اہاب سے شادی کی، پھر ہمارے پاس ایک کالی عورت آ کر بولی: میں نے تم دونوں ( میاں، بیوی ) کو دودھ پلایا ہے ۱؎، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے چہرہ پھیر لیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ عورت جھوٹی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا معلوم؟ اسے جو کہنا تھا اس نے کہہ دیا، تم اسے اپنے سے علیحدہ کر دو ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ، وَحَدَّثَنِيهِ صَاحِبٌ، لِي عَنْهُ - وَأَنَا لِحَدِيثِ، صَاحِبِي أَحْفَظُ - قَالَ تَزَوَّجْتُ أُمَّ يَحْيَى بِنْتَ أَبِي إِهَابٍ فَدَخَلَتْ عَلَيْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْنَا جَمِيعًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا لَكَاذِبَةٌ . قَالَ " وَمَا يُدْرِيكَ وَقَدْ قَالَتْ مَا قَالَتْ دَعْهَا عَنْكَ " .
#3604
Daif
The tradition mentioned above has also been transmitted by 'Uqbah bin al-Harith to the same effect through a different chain of narrators. Abu Dawud said:Hammad bin Zaid looked at al-Harith bin 'Umair and said: He is from reliable narrators from Ayyub
اس سند سے بھی ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے، وہ عبید بن ابی مریم سے روایت کرتے ہیں اور وہ عقبہ بن حارث سے، ابن ابی ملیکہ کا کہنا ہے کہ میں نے اسے براہ راست عقبہ سے بھی سنا ہے لیکن عبید کی روایت مجھے زیادہ اچھی طرح یاد ہے، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن زید نے حارث بن عمیر کو دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ ایوب کے ثقہ تلامذہ میں سے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ الْبَصْرِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، كِلاَهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، - وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ، عُقْبَةَ وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ - فَذَكَرَ مَعْنَاهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ نَظَرَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ إِلَى الْحَارِثِ بْنِ عُمَيْرٍ فَقَالَ هَذَا مِنْ ثِقَاتِ أَصْحَابِ أَيُّوبَ .
#3605
Sahih Isnaad
Ash-Sha'bi said:A Muslim was about to die at Daquqa', but he did not find any Muslim to call him for witness to his will. So he called two men of the people of the Book for witness. Then they came to Kufah, and approaching AbuMusa al-Ash'ari they informed him (about his) will. They brought his inheritance and will. Al-Ash'ari said: This is an incident (like) which happened in the time of the Messenger of Allah (ﷺ) and never occurred after him. So he made them to swear by Allah after the afternoon prayer to the effect that they had not misappropriated, nor told a lie, nor changed, nor concealed, nor altered, and that it was the will of the man and his inheritance. He then executed their witness
شعبی کہتے ہیں کہ ایک مسلمان شخص مقام دقوقاء میں مرنے کے قریب ہو گیا اور اسے کوئی مسلمان نہیں مل سکا جسے وہ اپنی وصیت پر گواہ بنائے تو اس نے اہل کتاب کے دو شخصوں کو گواہ بنایا، وہ دونوں کوفہ آئے اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے اسے بیان کیا اور اس کا ترکہ بھی لے کر آئے اور وصیت بھی بیان کی، تو اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تو ایسا معاملہ ہے جو عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں صرف ایک مرتبہ ہوا اور اس کے بعد ایسا واقعہ پیش نہیں آیا، پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو عصر کے بعد قسم دلائی کہ: قسم اللہ کی، ہم نے نہ خیانت کی ہے اور نہ جھوٹ کہا ہے، اور نہ ہی کوئی بات بدلی ہے نہ کوئی بات چھپائی ہے اور نہ ہی کوئی ہیرا پھیری کی، اور بیشک اس شخص کی یہی وصیت تھی اور یہی ترکہ تھا۔ پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کی شہادتیں قبول کر لیں ( اور اسی کے مطابق فیصلہ کر دیا ) ۔
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الْمُسْلِمِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ بِدَقُوقَاءَ هَذِهِ وَلَمْ يَجِدْ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُشْهِدُهُ عَلَى وَصِيَّتِهِ فَأَشْهَدَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقَدِمَا الْكُوفَةَ فَأَتَيَا أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ فَأَخْبَرَاهُ وَقَدِمَا بِتَرِكَتِهِ وَوَصِيَّتِهِ . فَقَالَ الأَشْعَرِيُّ هَذَا أَمْرٌ لَمْ يَكُنْ بَعْدَ الَّذِي كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَأَحْلَفَهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ بِاللَّهِ مَا خَانَا وَلاَ كَذِبَا وَلاَ بَدَّلاَ وَلاَ كَتَمَا وَلاَ غَيَّرَا وَإِنَّهَا لَوَصِيَّةُ الرَّجُلِ وَتَرِكَتُهُ فَأَمْضَى شَهَادَتَهُمَا .
#3606
Sahih
Narrated Abdullah Ibn Abbas: A man from Banu Sahm went out with Tamim ad-Dari and Adi ibn Badda'. The man of Banu Sahm died in the land where no Muslim was present. When they returned with his inheritance, they (the heirs) did not find a silver cup with lines of gold (in his property). The Messenger of Allah (ﷺ) administered on oath to them. The cup was then found (with someone) at Mecca. They said: We have bought it from Tamim and Adi. Then two men from the heirs of the man of Banu Sahm got up and swore saying: Our witness is more reliable than their witness. They said that the cup belonged to their man. He (Ibn Abbas) said: The following verse was revealed about them: "O ye who believe! when death approaches any of you
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بنو سہم کا ایک شخص تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ نکلا تو سہمی ایک ایسی سر زمین میں مر گیا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا، جب وہ دونوں اس کا ترکہ لے کر آئے تو لوگوں نے اس میں چاندی کا وہ گلاس نہیں پایا جس پر سونے کا پتر چڑھا ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قسم دلائی، پھر وہ گلاس مکہ میں ملا تو ان لوگوں نے کہا: ہم نے اسے تمیم اور عدی سے خریدا ہے تو اس سہمی کے اولیاء میں سے دو شخص کھڑے ہوئے اور ان دونوں نے قسم کھا کر کہا کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ معتبر ہے اور گلاس ان کے ساتھی کا ہے۔ راوی کہتے ہیں: یہ آیت: «يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم إذا حضر أحدكم الموت» سورة المائدة: ( ۱۰۶ ) انہی کی شان میں اتری ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَهْمٍ مَعَ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ وَعَدِيِّ بْنِ بَدَّاءَ فَمَاتَ السَّهْمِيُّ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مُسْلِمٌ فَلَمَّا قَدِمَا بِتَرِكَتِهِ فَقَدُوا جَامَ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا بِالذَّهَبِ فَأَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ وُجِدَ الْجَامُ بِمَكَّةَ فَقَالُوا اشْتَرَيْنَاهُ مِنْ تَمِيمٍ وَعَدِيٍّ فَقَامَ رَجُلاَنِ مِنْ أَوْلِيَاءِ السَّهْمِيِّ فَحَلَفَا لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَإِنَّ الْجَامَ لِصَاحِبِهِمْ . قَالَ فَنَزَلَتْ فِيهِمْ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ } الآيَةَ .
#3607
Sahih
Narrated Uncle of Umarah ibn Khuzaymah: The Prophet (ﷺ) bought a horse from a Bedouin. The Prophet (ﷺ) took him with him to pay him the price of his horse. The Messenger of Allah (ﷺ) walked quickly and the Bedouin walked slowly. The people stopped the Bedouin and began to bargain with him for the horse as and they did not know that the Prophet (ﷺ) had bought it. The Bedouin called the Messenger of Allah (ﷺ) saying: If you want this horse, (then buy it), otherwise I shall sell it. The Prophet (ﷺ) stopped when he heard the call of the Bedouin, and said: Have I not bought it from you? The Bedouin said: I swear by Allah, I have not sold it to you. The Prophet (ﷺ) said: Yes, I have bought it from you. The Bedouin began to say: Bring a witness. Khuzaymah ibn Thabit then said: I bear witness that you have bought it. The Prophet (ﷺ) turned to Khuzaymah and said: On what (grounds) do you bear witness? He said: By considering you trustworthy, Messenger of Allah (ﷺ)! The Prophet (ﷺ) made the witness of Khuzaymah equivalent to the witness of two people
عمارہ بن خزیمہ کہتے ہیں: ان کے چچا نے ان سے بیان کیا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے ایک گھوڑا خریدا، آپ اسے اپنے ساتھ لے آئے تاکہ گھوڑے کی قیمت ادا کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی جلدی چلنے لگے، دیہاتی نے تاخیر کر دی، پس کچھ لوگ دیہاتی کے پاس آنا شروع ہوئے اور گھوڑے کا مول بھاؤ کرنے لگے اور وہ لوگ یہ نہ سمجھ سکے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا ہے، چنانچہ دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا اور کہا: اگر آپ اسے خریدتے ہیں تو خرید لیجئے ورنہ میں نے اسے بیچ دیا، دیہاتی کی آواز سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمایا: کیا میں تجھ سے اس گھوڑے کو خرید نہیں چکا؟ دیہاتی نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی، میں نے اسے آپ سے فروخت نہیں کیا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں؟ میں اسے تم سے خرید چکا ہوں پھر دیہاتی یہ کہنے لگا کہ گواہ پیش کیجئے، تو خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بول پڑے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فروخت کر چکے ہو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خزیمہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم کیسے گواہی دے رہے ہو؟ خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کی تصدیق کی وجہ سے، اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دے دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، أَنَّ الْحَكَمَ بْنَ نَافِعٍ، حَدَّثَهُمْ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، أَنَّ عَمَّهُ، حَدَّثَهُ وَهُوَ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ابْتَاعَ فَرَسًا مِنْ أَعْرَابِيٍّ فَاسْتَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِيَقْضِيَهُ ثَمَنَ فَرَسِهِ فَأَسْرَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَشْىَ وَأَبْطَأَ الأَعْرَابِيُّ فَطَفِقَ رِجَالٌ يَعْتَرِضُونَ الأَعْرَابِيَّ فَيُسَاوِمُونَهُ بِالْفَرَسِ وَلاَ يَشْعُرُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ابْتَاعَهُ فَنَادَى الأَعْرَابِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنْ كُنْتَ مُبْتَاعًا هَذَا الْفَرَسَ وَإِلاَّ بِعْتُهُ . فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حِينَ سَمِعَ نِدَاءَ الأَعْرَابِيِّ فَقَالَ " أَوَلَيْسَ قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ " . فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ لاَ وَاللَّهِ مَا بِعْتُكَهُ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " بَلَى قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ " . فَطَفِقَ الأَعْرَابِيُّ يَقُولُ هَلُمَّ شَهِيدًا . فَقَالَ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ أَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَايَعْتَهُ . فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى خُزَيْمَةَ فَقَالَ " بِمَ تَشْهَدُ " . فَقَالَ بِتَصْدِيقِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَهَادَةَ خُزَيْمَةَ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ .
#3608
Sahih
Ibn 'Abbas said:The Messenger of Allah (ﷺ) gave a decision on the basis of an oath and a single witness
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حلف اور ایک گواہ پر فیصلہ کیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ الْحُبَابِ، حَدَّثَهُمْ حَدَّثَنَا سَيْفٌ الْمَكِّيُّ، - قَالَ عُثْمَانُ سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ - عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِيَمِينٍ وَشَاهِدٍ .
#3609
Sahih Maqtu
The tradition mentioned above has also been transmitted by 'Amr bin Dinar through a different chain of narrators and to the same effect. Salamah has in his version:'Amr said: In the rights (of the people)
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے سلمہ نے اپنی حدیث میں یوں کہا کہ: عمرو نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ حقوق میں تھا ( نہ کہ حدود میں ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ . قَالَ سَلَمَةُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ عَمْرٌو فِي الْحُقُوقِ .
#3610
Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) gave a decision on the basis of an oath and a single witness. Abu Dawud said: Al-Rabi' bin Sulaiman al-Mu'adhdhin told me some additional words in this tradition: Al-Shafi'i told me from 'Abd al-'Aziz. I then mentioned it fo Suhail who said: Rabi'ah told me - and he is reliable in my opinion - that I told him this (tradition) and I do not remember it. 'Abd al-'Aziz said: Suhail suffered from some disease which caused him to lose a little of his intelligence, and he forgot some of his traditions. Thereafter Suhail would narrate traditions from Rabi'ah on the authority of his father
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہ کے ساتھ قسم پر فیصلہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ربیع بن سلیمان مؤذن نے مجھ سے اس حدیث میں «قال: أخبرني الشافعي عن عبدالعزيز» کا اضافہ کیا عبدالعزیز دراوردی کہتے ہیں: میں نے اسے سہیل سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: مجھے ربیعہ نے خبر دی ہے اور وہ میرے نزدیک ثقہ ہیں کہ میں نے یہ حدیث ان سے بیان کی ہے لیکن مجھے یاد نہیں۔ عبدالعزیز دراوردی کہتے ہیں: سہیل کو ایسا مرض ہو گیا تھا جس سے ان کی عقل میں کچھ فتور آ گیا تھا اور وہ کچھ احادیث بھول گئے تھے، تو سہیل بعد میں اسے «عن ربیعہ عن أبیہ» کے واسطے سے روایت کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَزَادَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ أَخْبَرَنِي الشَّافِعِيُّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسُهَيْلٍ فَقَالَ أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ - وَهُوَ عِنْدِي ثِقَةٌ - أَنِّي حَدَّثْتُهُ إِيَّاهُ وَلاَ أَحْفَظُهُ . قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ وَقَدْ كَانَ أَصَابَتْ سُهَيْلاً عِلَّةٌ أَذْهَبَتْ بَعْضَ عَقْلِهِ وَنَسِيَ بَعْضَ حَدِيثِهِ فَكَانَ سُهَيْلٌ بَعْدُ يُحَدِّثُهُ عَنْ رَبِيعَةَ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ .
#3611
Sahih
The tradition mentioned above has also been transmitted by Rabi'ah through the chain of Abu Mus'ab and to the same effect. Sulaiman said:I then met Suhail and asked him about this tradition. He said: I do not know it. I said to him: Rabi'ah transmitted it to me from you. He said: If Rabi'ah transmitted it to you from me, then retransmit it from Rabi'ah on my authority
ابومصعب ہی کی سند سے ربیعہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ سلیمان کہتے ہیں میں نے سہیل سے ملاقات کی اور اس حدیث کے متعلق ان سے پوچھا: تو انہوں نے کہا: میں اسے نہیں جانتا تو میں نے ان سے کہا: ربیعہ نے مجھے آپ کے واسطہ سے اس حدیث کی خبر دی ہے تو انہوں نے کہا: اگر ربیعہ نے تمہیں میرے واسطہ سے خبر دی ہے تو تم اسے بواسطہ ربیعہ مجھ سے روایت کرو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ، - يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ - حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، بِإِسْنَادِ أَبِي مُصْعَبٍ وَمَعْنَاهُ . قَالَ سُلَيْمَانُ فَلَقِيتُ سُهَيْلاً فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ مَا أَعْرِفُهُ . فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ رَبِيعَةَ أَخْبَرَنِي بِهِ عَنْكَ . قَالَ فَإِنْ كَانَ رَبِيعَةُ أَخْبَرَكَ عَنِّي فَحَدِّثْ بِهِ عَنْ رَبِيعَةَ عَنِّي .
#3612
Daif
Narrated Zubayb ibn Tha'labah al-Anbari: The Messenger of Allah (ﷺ) sent an army to Banu al-Anbar. They captured them at Rukbah in the suburbs of at-Ta'if and drove them to the Holy Prophet (ﷺ). I rode hurriedly to the Holy Prophet (ﷺ) and said: Peace be on you, Messenger of Allah, and the mercy of Allah and His blessings. Your contingent came to us and arrested us, but we had already embraced Islam and cut the sides of the ears of our cattle. When Banu al-Anbar arrived, the Holy Prophet (ﷺ) said to me: Have you any evidence that you had embraced Islam before you were captured today? I said: Yes. He said: Who is your witness? I said: Samurah, a man from Banu al-Anbar, and another man whom he named. The man testified but Samurah refused to testify. The Holy Prophet (ﷺ) said: He (Samurah) has refused to testify for you, so take an oath with your other witness. I said: Yes. He then dictated an oath to me and I swore to the effect that we had embraced Islam on a certain day, and that we had cut the sides of the ears of the cattle. The Holy Prophet (ﷺ) said: Go and divide half of their property, but do not touch their children. Had Allah not disliked the wastage of action, we should not have taxed you even a rope. Zubayb said: My mother called me and said: This man has taken my mattress. I then went to the Holy Prophet (ﷺ) and informed him. He said to me: Detain him. So I caught him with a garment around his neck, and stood there with him . Then the Holy Prophet (ﷺ) looked at us standing there. He asked: What do you intend (doing) with your captive? I said: I shall let him go free if he returns to this (man) the mattress of his mother which he has taken from her. He said: Prophet of Allah (ﷺ), I no longer have it. He said: The Holy Prophet (ﷺ) took the sword of the man and gave it to me, and said to him: Go and give him some sa's of cereal. So he gave me some sa's of barley
زبیب عنبری کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عنبر کی طرف ایک لشکر بھیجا، تو لشکر کے لوگوں نے انہیں مقام رکبہ۱؎ میں گرفتار کر لیا، اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پکڑ لائے، میں سوار ہو کر ان سے آگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہا: السلام علیک یا نبی اللہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا لشکر ہمارے پاس آیا اور ہمیں گرفتار کر لیا، حالانکہ ہم مسلمان ہو چکے تھے اور ہم نے جانوروں کے کان کاٹ ڈالے تھے ۲؎، جب بنو عنبر کے لوگ آئے تو مجھ سے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس اس بات کی گواہی ہے کہ تم گرفتار ہونے سے پہلے مسلمان ہو گئے تھے؟ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون تمہارا گواہ ہے؟ میں نے کہا: بنی عنبر کا سمرہ نامی شخص اور ایک دوسرا آدمی جس کا انہوں نے نام لیا، تو اس شخص نے گواہی دی اور سمرہ نے گواہی دینے سے انکار کر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمرہ نے تو گواہی دینے سے انکار کر دیا، تم اپنے ایک گواہ کے ساتھ قسم کھاؤ گے؟ میں نے کہا: ہاں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قسم دلائی، پس میں نے اللہ کی قسم کھائی کہ بیشک ہم لوگ فلاں اور فلاں روز مسلمان ہو چکے تھے اور جانوروں کے کان چیر دیئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور ان کا آدھا مال تقسیم کر لو اور ان کی اولاد کو ہاتھ نہ لگانا، اگر اللہ تعالیٰ مجاہدین کی کوششیں بیکار ہونا برا نہ جانتا تو ہم تمہارے مال سے ایک رسی بھی نہ لیتے ۔ زبیب کہتے ہیں: مجھے میری والدہ نے بلایا اور کہا: اس شخص نے تو میرا توشک چھین لیا ہے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے ( صورت حال ) بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اسے پکڑ لاؤ میں نے اسے اس کے گلے میں کپڑا ڈال کر پکڑا اور اس کے ساتھ اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم دونوں کو کھڑا دیکھ کر فرمایا: تم اپنے قیدی سے کیا چاہتے ہو؟ تو میں نے اسے چھوڑ دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اس آدمی سے فرمایا: تو اس کی والدہ کا توشک واپس کرو جسے تم نے اس سے لے لیا ہے اس شخص نے کہا: اللہ کے نبی! وہ میرے ہاتھ سے نکل چکا ہے، وہ کہتے ہیں: تو اللہ کے نبی نے اس آدمی کی تلوار لے لی اور مجھے دے دی اور اس آدمی سے کہا: جاؤ اور اس تلوار کے علاوہ کھانے کی چیزوں سے چند صاع اور اسے دے دو وہ کہتے ہیں: اس نے مجھے ( تلوار کے علاوہ ) جو کے چند صاع مزید دئیے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْبِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ جَدِّيَ الزُّبَيْبَ، يَقُولُ بَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَيْشًا إِلَى بَنِي الْعَنْبَرِ فَأَخَذُوهُمْ بِرُكْبَةٍ مِنْ نَاحِيَةِ الطَّائِفِ فَاسْتَاقُوهُمْ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَكِبْتُ فَسَبَقْتُهُمْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ أَتَانَا جُنْدُكَ فَأَخَذُونَا وَقَدْ كُنَّا أَسْلَمْنَا وَخَضْرَمْنَا آذَانَ النَّعَمِ فَلَمَّا قَدِمَ بَلْعَنْبَرُ قَالَ لِي نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلْ لَكُمْ بَيِّنَةٌ عَلَى أَنَّكُمْ أَسْلَمْتُمْ قَبْلَ أَنْ تُؤْخَذُوا فِي هَذِهِ الأَيَّامِ " . قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ " مَنْ بَيِّنَتُكَ " . قُلْتُ سَمُرَةُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ وَرَجُلٌ آخَرُ سَمَّاهُ لَهُ فَشَهِدَ الرَّجُلُ وَأَبَى سَمُرَةُ أَنْ يَشْهَدَ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ أَبَى أَنْ يَشْهَدَ لَكَ فَتَحْلِفُ مَعَ شَاهِدِكَ الآخَرِ " . قُلْتُ نَعَمْ . فَاسْتَحْلَفَنِي فَحَلَفْتُ بِاللَّهِ لَقَدْ أَسْلَمْنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا وَخَضْرَمْنَا آذَانَ النَّعَمِ . فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اذْهَبُوا فَقَاسِمُوهُمْ أَنْصَافَ الأَمْوَالِ وَلاَ تَمَسُّوا ذَرَارِيَهُمْ لَوْلاَ أَنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ ضَلاَلَةَ الْعَمَلِ مَا رَزَيْنَاكُمْ عِقَالاً " . قَالَ الزُّبَيْبُ فَدَعَتْنِي أُمِّي فَقَالَتْ هَذَا الرَّجُلُ أَخَذَ زِرْبِيَّتِي فَانْصَرَفْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - يَعْنِي فَأَخْبَرْتُهُ - فَقَالَ لِي " احْبِسْهُ " . فَأَخَذْتُ بِتَلْبِيبِهِ وَقُمْتُ مَعَهُ مَكَانَنَا ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْنَا نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمَيْنِ فَقَالَ " مَا تُرِيدُ بِأَسِيرِكَ " . فَأَرْسَلْتُهُ مِنْ يَدِي فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِلرَّجُلِ " رُدَّ عَلَى هَذَا زِرْبِيَّةَ أُمِّهِ الَّتِي أَخَذْتَ مِنْهَا " . فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّهَا خَرَجَتْ مِنْ يَدِي . قَالَ فَاخْتَلَعَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَيْفَ الرَّجُلِ فَأَعْطَانِيهِ . وَقَالَ لِلرَّجُلِ " اذْهَبْ فَزِدْهُ آصُعًا مِنْ طَعَامٍ " . قَالَ فَزَادَنِي آصُعًا مِنْ شَعِيرٍ .
#3613
Daif
Narrated AbuMusa al-Ash'ari: Two men claimed a camel or an animal and brought the case to the Holy Prophet (ﷺ). But as neither of them produced any proof, the Holy Prophet (ﷺ) declared that they should share it equally
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو شخصوں نے ایک اونٹ یا چوپائے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دعویٰ کیا اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چوپائے کو ان کے درمیان تقسیم فرما دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، أَنَّ رَجُلَيْنِ، ادَّعَيَا بَعِيرًا أَوْ دَابَّةً إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَيْسَتْ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَجَعَلَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمَا .
#3614
Hasan
The tradition mentioned above has also been transmitted by Sa'id through a different chain of narrators to the same effect
اس سند سے بھی سعید (ابن ابی عروبۃ) سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ .
#3615
Daif
The tradition mentioned above has also been transmitted by Qatadah through a different chain of narrators to the effect that two men laid claim camel and both of them produced witness so the prophet (peace be upon him) divided it in halves between them
اس سند سے بھی قتادہ سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو آدمیوں نے کسی ایک اونٹ کا دعویٰ کیا، اور دونوں نے دو دو گواہ پیش کئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دونوں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کر دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، بِمَعْنَى إِسْنَادِهِ أَنَّ رَجُلَيْنِ، ادَّعَيَا بَعِيرًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَبَعَثَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا شَاهِدَيْنِ فَقَسَمَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ .
#3616
Sahih
Narrated AbuHurayrah: Two men disputed about some property and brought the case to the Holy Prophet (ﷺ), but neither of them could produce any proof. So the Holy Prophet (ﷺ) said: Cast lots about the oath whatever it may be, whether they like it or dislike it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمی ایک سامان کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے کر گئے اور دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں قسم پر قرعہ اندازی کرو ۱؎ خواہ تم اسے پسند کرو یا ناپسند ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلاَسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلَيْنِ، اخْتَصَمَا فِي مَتَاعٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ مَا كَانَ أَحَبَّا ذَلِكَ أَوْ كَرِهَا " .
#3617
Sahih
Abu hurairah reported the holy prophet (peace be upon him) as saying:When two men dislike the oath or like it,lots will be cost about it. Salamah said on the authority of Ma’mar who said: when the two are compelled to take an oath
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دونوں آدمی قسم کھانے کو برا جانیں، یا دونوں قسم کھانا چاہیں تو قسم کھانے پر قرعہ اندازی کریں ( اور جس کے نام قرعہ نکلے وہ قسم کھا کر اس چیز کو لے لے ) ۔ سلمہ کہتے ہیں: عبدالرزاق کی روایت میں «حدثنا معمر» کے بجائے «أخبرنا معمر» اور «إذا كَرِهَ الاثنان اليمين» کے بجائے «إذا أكره الاثنان على اليمين»ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، - قَالَ أَحْمَدُ قَالَ - حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا كَرِهَ الاِثْنَانِ الْيَمِينَ أَوِ اسْتَحَبَّاهَا فَلْيَسْتَهِمَا عَلَيْهَا " . قَالَ سَلَمَةُ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَقَالَ إِذَا أُكْرِهَ الاِثْنَانِ عَلَى الْيَمِينِ .
#3618
Sahih
The tradition mentioned above has also been transmitted by sa’id b. ‘Urubah through the chain as narrated by Ibn Minhal. This version has :About an animal and they had no proof. So the Messenger of Allah (ﷺ) ordered to cast lots about the oath
سعید بن ابی عروبہ سے ابن منہال کی سند سے اسی کے مثل مروی ہے اس میں «في متاع» کے بجائے «في دابة» کے الفاظ ہیں یعنی دو شخصوں نے ایک چوپائے کے سلسلہ میں جھگڑا کیا اور ان کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قسم پر قرعہ اندازی کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، بِإِسْنَادِ ابْنِ مِنْهَالٍ مِثْلَهُ قَالَ فِي دَابَّةٍ وَلَيْسَ لَهُمَا بَيِّنَةٌ فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ .
#3619
Sahih
Ibn Abi Mulaikah said:Ibn ‘Abbas wrote to me that the Messenger of Allah (ﷺ)had defendant should take an oath
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے میرے پاس لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی علیہ پر قسم کا فیصلہ کیا ہے ( یعنی جب وہ منکر ہو اور مدعی کے پاس گواہ نہ ہو تو وہ قسم کھائے ) ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ كَتَبَ إِلَىَّ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِالْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ .
#3620
Daif Isnaad
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Holy Prophet (ﷺ) said to a man whom he asked to take an oath: Swear by Allah except whom there is no god that you have nothing belonging to him, i.e. the plaintiff
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے قسم کھلائی تو یوں فرمایا: اس اللہ کی قسم کھاؤ جس کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں کہ تیرے پاس اس ( یعنی مدعی کی ) کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابویحییٰ کا نام زیاد کوفی ہے اور وہ ثقہ ہیں۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ - يَعْنِي لِرَجُلٍ حَلَّفَهُ - " احْلِفْ بِاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ مَا لَهُ عِنْدَكَ شَىْءٌ " . يَعْنِي لِلْمُدَّعِي . قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو يَحْيَى اسْمُهُ زِيَادٌ كُوفِيٌّ ثِقَةٌ .
#3621
Sahih
Al-Ash’ath b. Qais said:A Jew and I shared some land and he denied my right, so I took him to the holy prophet (ﷺ). The holy prophet (ﷺ) said to me: Have you have proof. I said: No. He then said to the Jew: Swear an oath I said Messenger of Allah,he will swear an oath and go off my property. So Allah sent down: “Those who barter for a small price Allah’s covenant and their oaths...." to the end of the verse
اشعث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان کچھ ( مشترک ) زمین تھی، یہودی نے میرے حصہ کا انکار کیا، میں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟ میں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے فرمایا: تم قسم کھاؤ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! تب تو یہ قسم کھا کر میرا مال ہڑپ لے گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم» جو لوگ اللہ کا عہد و پیمان دے کر اور اپنی قسمیں کھا کر تھوڑا مال خریدتے ہیں آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ( سورة آل عمران: ۷۷ ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنِ الأَشْعَثِ، قَالَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَلَكَ بَيِّنَةٌ " . قُلْتُ لاَ . قَالَ لِلْيَهُودِيِّ " احْلِفْ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا يَحْلِفَ وَيَذْهَبَ بِمَالِي . فَأَنْزَلَ اللَّهُ { إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ } إِلَى آخِرِ الآيَةِ .
#3622
Sahih
Al-Ash’ath b. Qais said:A men from Kindah and a men from Hadramawt came to the Holy Prophet(ﷺ)with their dispute about a land in the Yemen. The Hadrami said: Messenger of Allah, the this (man)had usurped land belonging to me, and it is his possession. He asked: Have you any proof ?He replied:No, but I can have him swear on oath. Allah knows that it is my land, and father seized it from me. The Kindi was prepared to take oath. He then narrated the rest of the tradition
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک کندی اور ایک حضرمی یمن کی ایک زمین کے سلسلے میں جھگڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! اس ( کندی ) کے باپ نے مجھ سے میری زمین غصب کر لی ہے اور وہ زمین اس کے قبضے میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے حضرمی نے کہا: نہیں لیکن میں اس کو اس بات پر قسم دلاؤں گا کہ وہ نہیں جانتا کہ میری زمین کو اس کے باپ نے مجھ سے غصب کر لیا ہے؟ تو وہ کندی قسم کے لیے آمادہ ہو گیا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ( جو گزر چکی نمبر: ۳۲۴۴ ) ۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي كُرْدُوسٌ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ كِنْدَةَ وَرَجُلاً مِنْ حَضْرَمَوْتَ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي أَرْضٍ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُو هَذَا وَهِيَ فِي يَدِهِ . قَالَ " هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ " . قَالَ لاَ وَلَكِنْ أُحَلِّفُهُ وَاللَّهِ مَا يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُوهُ . فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيُّ يَعْنِي لِلْيَمِينِ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
#3623
Sahih
‘Alqamah b. Wa’il b. Hujr al-Hadrami said on the authority of the father:A man from Hadramaw and a man from kindah came to the Messenger of Allah (ﷺ). The hadrami said: Messenger of Allah, this (man) has seized land which belonged to my father. Al-Kindi said: That is my land in my possession and I cultivate it; he has no right to it. The Holy prophet (may be peace upon him) said to the Hadrami: Have you any proof? We said : No. he (the Prophet)said: Then he will swear an oath for you . He said: Messenger of Allah, he is a reprobate and he would not care to swear to anything and stick at nothing. He said: That is only your recourse
وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک حضرمی اور ایک کندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو حضرمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص نے میرے والد کی زمین مجھ سے چھین لی ہے، کندی نے کہا: یہ تو میری زمین ہے میں اسے جوتتا ہوں اس میں اس کا حق نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے فرمایا: کیا تیرے پاس کوئی گواہ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کندی سے ) فرمایا: تو تیرے لیے قسم ہے تو حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! یہ تو ایک فاجر شخص ہے اسے قسم کی کیا پرواہ؟ وہ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوائے اس کے اس پر تیرا کوئی حق نہیں ۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ كَانَتْ لأَبِي فَقَالَ الْكِنْدِيُّ هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِلْحَضْرَمِيِّ " أَلَكَ بَيِّنَةٌ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَلَكَ يَمِينُهُ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ فَاجِرٌ لَيْسَ يُبَالِي مَا حَلَفَ لَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَىْءٍ . فَقَالَ " لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلاَّ ذَلِكَ " .
#3624
Daif
Abu Hurairah said:The holy Prophet (ﷺ) said to the Jew : I adjure you by Allah Who sent down the Torah to Moses ! do you not find in the Torah(a rule about a man) who commits adultery. He then narrated the rest of the tradition relating to the stoning
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی کہ تم لوگ زانی کے متعلق تورات میں کیا حکم پاتے ہو ۔ اور راوی نے واقعہ رجم سے متعلق پوری حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ، مِنْ مُزَيْنَةَ - وَنَحْنُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعْنِي لِلْيَهُودِ " أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ عَلَى مَنْ زَنَى " . وَسَاقَ الْحَدِيثَ فِي قِصَّةِ الرَّجْمِ .
#3625
Daif
The tradition mentioned above has also been transmitted by al-Zuhri through a different chain of narrator. This version has:A man from Muzainah who followed the knowledge and memorized it to me that sa’id b.al-Musayyab transmitted it. He then mentioned the rest of the tradition to the same effect
اس سند سے بھی زہری سے یہی حدیث اسی طریق سے مروی ہے اس میں ہے کہ مجھ سے مزینہ کے ایک آدمی نے جو علم کا شیدائی تھا اور اسے یاد رکھتا تھا بیان کیا ہے وہ سعید بن مسیب سے بیان کر رہا تھا، پھر راوی نے پوری حدیث اسی مفہوم کی ذکر کی
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى أَبُو الأَصْبَغِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ، مِنْ مُزَيْنَةَ مِمَّنْ كَانَ يَتَّبِعُ الْعِلْمَ وَيَعِيهِ يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ .