#3551
Sahih
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: If anyone is given life-tenancy, it belongs to him and to his descendants. His descendants who inherit him will inherit from it
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے عمر بھر کے لیے کوئی چیز دی گئی تو وہ اس کی ہو گی اور اس کے مرنے کے بعد اس کے اولاد کی ہو گی ۱؎، اس کی اولاد میں سے جو اس کے وارث ہوں گے وہی اس چیز کے بھی وارث ہوں گے ۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي الأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أُعْمِرَ عُمْرَى فَهِيَ لَهُ وَلِعَقِبِهِ يَرِثُهَا مَنْ يَرِثُهُ مِنْ عَقِبِهِ " .
#3552
Daif
The tradition mentioned above has also been narrated by Jabir from the Prophet (ﷺ) to the same effect through a different chain of narrators. Abu Dawud said:A similar tradition has also been transmitted by al-Laith b. Sa'd from al-Zuhri, from Abu Salamah from Jabir
اس سند سے بھی جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے لیث بن سعد نے زہری سے زہری نے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَعُرْوَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَكَذَا رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ .
#3553
Sahih
Narrated Jabir:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: If anyone has property given him in life-tenancy for the use of himself and his descendants, it belongs to the one to whom it is given and does not return to the one who gave it, because he gave a gift which may be inherited
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو عمر بھر کے لیے کوئی چیز دے دی گئی اور اس کے بعد اس کے آنے والوں کے لیے بھی کہہ دی گئی ہو تو وہ عمریٰ اس کے اور اس کی اولاد کے لیے ہے، جس نے دیا ہے اسے واپس نہ ہو گی، اس لیے کہ دینے والے نے اس انداز سے دیا ہے جس میں وراثت شروع ہو گئی ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، - يَعْنِي ابْنَ أَنَسٍ - عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَيُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَإِنَّهَا لِلَّذِي يُعْطَاهَا لاَ تَرْجِعُ إِلَى الَّذِي أَعْطَاهَا لأَنَّهُ أَعْطَى عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ " .
#3554
Daif
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Shihab (Al-Zuhri) through a different chain of narrators and to the same effect. Abu Dawud said:A similar tradition has been transmitted by 'Aqil from Ibn Shihab and by Yazid b. Abi Habib from Shihab. Al-Auza'i's wordings vary from those of Ibn Shihab. Fulaih b. Sulaiman also narrated the tradition like that of Malik
ابن شہاب زہری سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے عقیل اور یزید ابن حبیب نے ابن شہاب سے روایت کیا ہے، اور اوزاعی پر اختلاف کیا گیا ہے کہ کبھی انہوں نے ابن شہاب سے «ولعقبه» کے الفاظ کی روایت کی ہے اور کبھی نہیں اور اسے فلیح بن سلیمان نے بھی مالک کی حدیث کے مثل روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَاخْتُلِفَ، عَلَى الأَوْزَاعِيِّ فِي لَفْظِهِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَرَوَاهُ، فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ مِثْلَ حَدِيثِ مَالِكٍ .
#3555
Sahih
Narrated Jabir bin ‘Abdullah :The life-tenancy which the Messenger of Allah (ﷺ) allowed was only that one should say: It is for you and your descendants. When he says: It is yours as long as you live, it returns to its owner
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جس عمریٰ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی ہے وہ ہے کہ دینے والا کہے کہ یہ تمہاری اور تمہاری اولاد کی ہے ( تو اس میں وراثت جاری ہو گی اور دینے والے کی ملکیت ختم ہو جائے گی ) لیکن اگر دینے والا کہے کہ یہ تمہارے لیے ہے جب تک تم زندہ رہو ( تو اس سے استفادہ کرو ) تو وہ چیز ( اس کے مرنے کے بعد ) اس کے دینے والے کو لوٹا دی جائے گی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ إِنَّمَا الْعُمْرَى الَّتِي أَجَازَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَقُولَ هِيَ لَكَ وَلِعَقِبِكَ . فَأَمَّا إِذَا قَالَ هِيَ لَكَ مَا عِشْتَ . فَإِنَّهَا تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا .
#3556
Sahih
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: Do not give property to go to the survivor and do not give life-tenancy. If anyone is given something to the survivor or given life-tenancy, it goes to his heirs
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رقبیٰ اور عمریٰ نہ کرو جس نے رقبیٰ اور عمریٰ کیا تو یہ جس کو دیا گیا ہے اس کا اور اس کے وارثوں کا ہو جائے گا ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تُرْقِبُوا وَلاَ تُعْمِرُوا فَمَنْ أُرْقِبَ شَيْئًا أَوْ أُعُمِرَهُ فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ " .
#3557
Daif Isnaad
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Messenger of Allah (ﷺ) decided a case of a woman from the Ansar to whom an orchard of date-palms was given by her son. She then died. Her son said: I gave it to her for her life, and she has brothers. Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: It belongs to her during her life and after death. He then said: I gave a sadaqah (charity to her. He replied: It is more unexpected from you)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی ایک عورت کے سلسلہ میں فیصلہ کیا جسے اس کے بیٹے نے کھجور کا ایک باغ دیا تھا پھر وہ مر گئی تو اس کے بیٹے نے کہا کہ یہ میں نے اسے اس کی زندگی تک کے لیے دیا تھا اور اس کے اور بھائی بھی تھے ( جو اپنا حق مانگ رہے تھے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ باغ زندگی اور موت دونوں میں اسی عورت کا ہے پھر وہ کہنے لگا: میں نے یہ باغ اسے صدقہ میں دیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو یہ ( واپسی ) تمہارے لیے اور بھی ناممکن بات ہے ( کہیں صدقہ بھی واپس لیا جاتا ہے ) ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبٍ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ - عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ، عَنْ طَارِقٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي امْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ أَعْطَاهَا ابْنُهَا حَدِيقَةً مِنْ نَخْلٍ فَمَاتَتْ فَقَالَ ابْنُهَا إِنَّمَا أَعْطَيْتُهَا حَيَاتَهَا . وَلَهُ إِخْوَةٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هِيَ لَهَا حَيَاتَهَا وَمَوْتَهَا " . قَالَ كُنْتُ تَصَدَّقْتُ بِهَا عَلَيْهَا . قَالَ " ذَلِكَ أَبْعَدُ لَكَ " .
#3558
Sahih
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: Life-tenancy is lawful for the one to whom it is given and donation of property to go to the survivor is lawful to whom it is given
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمریٰ جس کو دیا گیا ہے اس کے گھر والوں کا ہو جاتا ہے، اور رقبیٰ ۱؎ ( بھی ) اسی کے اہل کا حق ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ صلى الله عليه وسلم " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لأَهْلِهَا وَالرُّقْبَى جَائِزَةٌ لأَهْلِهَا " .
#3559
Hasan Sahih Isnaad
Narrated Zayd ibn Thabit: The Prophet (ﷺ) said: If anyone gives something in life-tenancy, it belongs to the one to whom it is given, in his life and after his death; and do not give property to go to the survivor, for if anyone gives something to to to the survivor, it belongs to him
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی چیز کسی کو عمر بھر کے لیے دی تو وہ چیز اسی کی ہو گئی جسے دی گئی اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی ۔ اور فرمایا: رقبی نہ کرو جس نے رقبیٰ کیا تو وہ میراث کے طریق پر جاری ہو گی ( یعنی اس کے ورثاء کی مانی جائے گی دینے والے کو واپس نہ ملے گی ) ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَعْقِلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ حُجْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا فَهُوَ لِمُعْمَرِهِ مَحْيَاهُ وَمَمَاتَهُ وَلاَ تُرْقِبُوا فَمَنْ أَرْقَبَ شَيئًا فَهُوَ سَبِيلُهُ " .
#3560
Sahih Isnaad Maqtu
Mujahid said:'Umra' means that a man says to another man: It belongs to you so long as you live. When he says that, it belongs to him and to his heirs. Ruqba means that a man says to another: From me and from you
مجاہد کہتے ہیں: عمری یہ ہے کہ کوئی شخص کسی سے کہے کہ یہ چیز تمہاری ہے جب تک تم زندہ رہے، تو جب اس نے ایسا کہہ دیا تو وہ چیز اس کی ہو گئی اور اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء کی ہو گی، اور رقبی یہ ہے کہ آدمی ایک چیز کسی کو دے کر کہے کہ ہم دونوں میں سے جو آخر میں زندہ رہے یہ چیز اس کی ہو گی ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ الْعُمْرَى أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ هُوَ لَكَ مَا عِشْتَ فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ فَهُوَ لَهُ وَلِوَرَثَتِهِ وَالرُّقْبَى هُوَ أَنْ يَقُولَ الإِنْسَانُ هُوَ لِلآخِرِ مِنِّي وَمِنْكَ .
#3561
Daif
Narrated Samurah:The Prophet (ﷺ) as saying: The hand which takes is responsible till it pays. Then al-Hasan forgot and said: (If you give something on loan to a man), he is your depositor ; there is no compensation (for it) on him
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لینے والے ہاتھ کی ذمہ داری ہے کہ جو لیا ہے اسے واپس کرے پھر حسن بھول گئے اور یہ کہنے لگے کہ جس کو تو مانگنے پر چیز دے تو وہ تمہاری طرف سے اس چیز کا امین ہے ( اگر وہ چیز خود سے ضائع ہو جائے تو اس پر کوئی تاوان ( معاوضہ و بدلہ ) نہ ہو گا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، ع��نْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَ " . ثُمَّ إِنَّ الْحَسَنَ نَسِيَ فَقَالَ هُوَ أَمِينُكَ لاَ ضَمَانَ عَلَيْهِ .
#3562
Sahih
Narrated Safwan ibn Umayyah: The Messenger of Allah (ﷺ) borrowed coats of mail from him on the day of (the battle of) Hunayn. He asked: Are you taking them by force. Muhammad? He replied: No, it is a loan with a guarantee of their return. Abu Dawud said: This tradition narrated by Yazid (b. Harun) at Baghdad. There is some change in the tradition narrated by him at Wasit, which is something different
صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی لڑائی کے دن ان سے کچھ زرہیں عاریۃً لیں تو وہ کہنے لگے: اے محمد! کیا آپ زبردستی لے رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں عاریت کے طور پر لے رہا ہوں، جس کی واپسی کی ذمہ داری میرے اوپر ہو گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یزید کی بغداد کی روایت ہے اور واسط ۱؎ میں ان کی جو روایت ہے وہ اس سے مختلف ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعَارَ مِنْهُ أَدْرَاعًا يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ أَغَصْبٌ يَا مُحَمَّدُ فَقَالَ " لاَ بَلْ عَارِيَةٌ مَضْمُونَةٌ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذِهِ رِوَايَةُ يَزِيدَ بِبَغْدَادَ وَفِي رِوَايَتِهِ بِوَاسِطَ تَغَيُّرٌ عَلَى غَيْرِ هَذَا .
#3563
Sahih
Narrated Some people: AbdulAziz ibn Rufay' narrated on the authority of some people from the descendants of Abdullah ibn Safwan who reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Have you weapons, Safwan? He asked: On loan or by force? He replied: No, but on loan. So he lent him coats of mail numbering between thirty and forty! The Messenger of Allah (ﷺ) fought the battle of Hunayn. When the polytheists were defeated, the coats of mail of Safwan were collected. Some of them were lost. The Messenger of Allah (ﷺ) said to Safwan: We have lost some coats of mail from your coats of mail. Should we pay compensation to you? He replied: No. Messenger of Allah, for I have in my heart today what I did not have that day. Abu Dawud said: He lent him before embracing Islam. Then he embraced Islam
عبداللہ بن صفوان کے خاندان کے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے صفوان! کیا تیرے پاس کچھ ہتھیار ہیں؟ انہوں نے کہا: عاریۃً چاہتے ہیں یا زبردستی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبردستی نہیں عاریۃً چنانچہ اس نے آپ کو بطور عاریۃً تیس سے چالیس کے درمیان زرہیں دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی لڑائی لڑی، پھر جب مشرکین ہار گئے اور صفوان رضی اللہ عنہ کی زرہیں اکٹھا کی گئیں تو ان میں سے کچھ زرہیں کھو گئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صفوان! تمہاری زرہوں میں سے ہم نے کچھ زرہیں کھو دی ہیں، تو کیا ہم تمہیں ان کا تاوان دے دیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کے رسول! آج میرے دل میں جو بات ہے ( جو میں دیکھ رہا اور سوچ رہا ہوں ) وہ بات اس وقت نہ تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انہوں نے اسلام لانے سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ زرہیں عاریۃً دی تھیں پھر اسلام لے آئے ( تو اسلام لے آنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون تاوان لیتا؟ ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أُنَاسٍ، مِنْ آلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَا صَفْوَانُ هَلْ عِنْدَكَ مِنْ سِلاَحٍ " . قَالَ عَارِيَةً أَمْ غَصْبًا قَالَ " لاَ بَلْ عَارِيَةً " . فَأَعَارَهُ مَا بَيْنَ الثَّلاَثِينَ إِلَى الأَرْبَعِينَ دِرْعًا وَغَزَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُنَيْنًا فَلَمَّا هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ جُمِعَتْ دُرُوعُ صَفْوَانَ فَفَقَدَ مِنْهَا أَدْرَاعًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِصَفْوَانَ " إِنَّا قَدْ فَقَدْنَا مِنْ أَدْرَاعِكَ أَدْرَاعًا فَهَلْ نَغْرَمُ لَكَ " . قَالَ لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لأَنَّ فِي قَلْبِي الْيَوْمَ مَا لَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَانَ أَعَارَهُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ ثُمَّ أَسْلَمَ .
#3564
Daif
The tradition mentioned above has also been transmitted by 'Ata from some people of the descendants of Safwan saying:The Prophet (ﷺ) borrowed. He then transmitted the rest of the tradition to the same effect
اس سند سے بھی آل صفوان کے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ زرہیں عاریۃً لیں، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ نَاسٍ، مِنْ آلِ صَفْوَانَ قَالَ اسْتَعَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
#3565
Sahih
Narrated AbuUmamah: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) Said: Allah , Most Exalted, has appointed for everyone who has a right what is due to him, and no will be made to an heir, and a woman should not spend anything from her house except with the permission of her husband. He was asked: Even foodgrain, Messenger of Allah? He replied: That is the best of our property. He then said: A loan must be paid back, a she-camel lent for a time for milking must be returned, a debt must be discharged, one who stands surety is held responsible
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ عزوجل نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے تو اب وارث کے واسطے وصیت نہیں ہے، اور عورت اپنے گھر میں شوہر کی اجازت کے بغیر خرچ نہ کرے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کھانا بھی نہ دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ہم مردوں کا بہترین مال ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عاریۃً دی ہوئی چیز کی واپسی ہو گی ( اگر چیز موجود ہے تو چیز، ورنہ اس کی قیمت دی جائے گی ) دودھ استعمال کرنے کے لیے دیا جانے والا جانور ( دودھ ختم ہو جانے کے بعد ) واپس کر دیا جائے گا، قرض کی ادائیگی کی جائے گی اور کفیل ضامن ہے ( یعنی جس قرض کا ذمہ لیا ہے اس کا ادا کرنا اس کے لیے ضروری ہو گا ) ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلاَ وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ وَلاَ تُنْفِقُ الْمَرْأَةُ شَيْئًا مِنْ بَيْتِهَا إِلاَّ بِإِذْنِ زَوْجِهَا " . فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلاَ الطَّعَامَ قَالَ " ذَاكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا " . ثُمَّ قَالَ " الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ " .
#3566
Sahih
Narrated Ya'la ibn Umayyah: The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: When my messengers come to you, give them thirty coats of mail, and thirty camels. I asked: Messenger of Allah, is it a loan with a guarantee of its return, or a loan to be paid back? He replied : It is a loan to be paid back
یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تمہارے پاس میرے فرستادہ پہنچیں تو انہیں تیس زرہیں اور تیس اونٹ دے دینا میں نے کہا: کیا اس عاریت کے طور پر دوں جس کا ضمان لازم آتا ہے یا اس عاریت کے طور پر جو مالک کو واپس دلائی جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مالک کو واپس دلائی جانے والی عاریت کے طور پر ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حبان ہلال الرائی کے ماموں ہیں۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُصْفُرِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَتَتْكَ رُسُلِي فَأَعْطِهِمْ ثَلاَثِينَ دِرْعًا وَثَلاَثِينَ بَعِيرًا " . قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعَارِيَةً مَضْمُونَةً أَوْ عَارِيَةً مُؤَدَّاةً قَالَ " بَلْ مُؤَدَّاةً " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَبَّانُ خَالُ هِلاَلِ الرَّأْىِ .
#3567
Sahih
Anas said: The Messenger of Allah (ﷺ) was with one of his wives. One of the Mothers of faithful sent a bowl containing food through a servant of hers. She struck with her hand and broke the bowl. Ibn al-Muthanna's version has: The Prophet (ﷺ) took the pieces of the bowl, and joined one with the other, and began to collect the food in it, saying: Your mother is jealous. Ibn al-Muthanna added: Eat. They ate till a bowl of the one in whose house he was brought. Abu Dawud said: We then returned to the version of the tradition of Musaddad: He said: Eat. He detained the servant and the bowl till they were free. Then he returned the sound bowl to the messenger and detained the broken one (bowl) in his house
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی کے پاس تھے، امہات المؤمنین میں سے ایک نے اپنے خادم کے ہاتھ آپ کے پاس ایک پیالے میں کھانا رکھ کر بھیجا، تو اس بیوی نے ( جس کے گھر میں آپ تھے ) ہاتھ مار کر پیالہ توڑ دیا ( وہ دو ٹکڑے ہو گیا ) ، ابن مثنیٰ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا لیا اور ایک کو دوسرے سے ملا کر پیالے کی شکل دے لی، اور اس میں کھانا اٹھا کر رکھنے لگے اور فرمانے لگے: تمہاری ماں کو غیرت آ گئی ابن مثنیٰ نے اضافہ کیا ہے ( کہ آپ نے فرمایا: کھاؤ تو لوگ کھانے لگے، یہاں تک کہ جس گھر میں آپ موجود تھے اس گھر سے کھانے کا پیالہ آیا ( اب ہم پھر مسدد کی حدیث کی طرف واپس لوٹ رہے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ اور خادم کو ( جو کھانا لے کر آیا تھا ) اور پیالے کو روکے رکھا، یہاں تک کہ لوگ کھانا کھا کر فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح و سالم پیالہ قاصد کو پکڑا دیا ( کہ یہ لے کر جاؤ اور دے دو ) اور ٹوٹا ہوا پیالہ اپنے اس گھر میں روک لیا ( جس میں آپ قیام فرما تھے ) ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ فَأَرْسَلَتْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ مَعَ خَادِمِهَا بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ قَالَ فَضَرَبَتْ بِيَدِهَا فَكَسَرَتِ الْقَصْعَةَ - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى - فَأَخَذَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْكِسْرَتَيْنِ فَضَمَّ إِحْدَاهُمَا إِلَى الأُخْرَى فَجَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ وَيَقُولُ " غَارَتْ أُمُّكُمْ " . زَادَ ابْنُ الْمُثَنَّى " كُلُوا " . فَأَكَلُوا حَتَّى جَاءَتْ قَصْعَتُهَا الَّتِي فِي بَيْتِهَا ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى لَفْظِ حَدِيثِ مُسَدَّدٍ وَقَالَ " كُلُوا " . وَحَبَسَ الرَّسُولَ وَالْقَصْعَةَ حَتَّى فَرَغُوا فَدَفَعَ الْقَصْعَةَ الصَّحِيحَةَ إِلَى الرَّسُولِ وَحَبَسَ الْمَكْسُورَةَ فِي بَيْتِهِ .
#3568
Daif
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: I saw no one cooking food like Safiyyah. She cooked food for the Messenger of Allah (ﷺ) and sent it. I became angry and broke the vessel. I then asked: Messenger of Allah, what is the atonement for what I have done? He replied: A vessel like (this) vessel and food like (this) food
جسرہ بنت دجاجہ کہتی ہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے صفیہ رضی اللہ عنہا جیسا ( اچھا ) کھانا پکاتے کسی کو نہیں دیکھا، ایک دن انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا پکا کر آپ کے پاس بھیجا ( اس وقت آپ میرے یہاں تھے ) میں غصہ سے کانپنے لگی ( کہ آپ میرے یہاں ہوں اور کھانا کہیں اور سے پک کر آئے ) تو میں نے ( وہ ) برتن توڑ دیا ( جس میں کھانا آیا تھا ) ، پھر میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھ سے جو حرکت سرزد ہو گئی ہے اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برتن کے بدلے ویسا ہی برتن اور کھانے کے بدلے ویسا ہی دوسرا کھانا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي فُلَيْتٌ الْعَامِرِيُّ، عَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دِجَاجَةَ، قَالَتْ قَالَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها مَا رَأَيْتُ صَانِعًا طَعَامًا مِثْلَ صَفِيَّةَ صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَعَامًا فَبَعَثَتْ بِهِ فَأَخَذَنِي أَفْكَلٌ فَكَسَرْتُ الإِنَاءَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَفَّارَةُ مَا صَنَعْتُ قَالَ " إِنَاءٌ مِثْلُ إِنَاءٍ وَطَعَامٌ مِثْلُ طَعَامٍ " .
#3569
Sahih
Narrated Muhayyisah: The she-camel of Bara' ibn Azib entered the garden of a man and did damage to it. The Messenger of Allah (ﷺ) gave decision that the owners of properties are responsible for guarding them by day, and the owners of animals are responsible for guarding them by night
محیصہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہما کی اونٹنی ایک شخص کے باغ میں گھس گئی اور اسے تباہ و برباد کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ کیا کہ دن میں مال والوں پر مال کی حفاظت کی ذمہ داری ہے اور رات میں جانوروں کی حفاظت کی ذمہ داری جانوروں کے مالکان پر ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ نَاقَةً، لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطَ رَجُلٍ فَأَفْسَدَتْهُ عَلَيْهِمْ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى أَهْلِ الأَمْوَالِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ وَعَلَى أَهْلِ الْمَوَاشِي حِفْظَهَا بِاللَّيْلِ .
#3570
Sahih
Narrated Al-Bara' ibn Azib: Al-Bara' had a she-camel which was accustomed to graze the standing crop belonging to the people. She entered a garden and did damage to it. The Messenger of Allah (ﷺ) was informed about it. So he gave decision that the owners of gardens are responsible for guarding them by day, and the owners of the animals are responsible for guarding them by night. Any damage done by animals during the night is a responsibility lying on their owners
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میرے پاس ایک ہرہٹ اونٹنی تھی، وہ ایک باغ میں گھس گئی اور اسے برباد کر دیا، اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی گئی تو آپ نے فیصلہ فرمایا: دن میں باغ کی حفاظت کی ذمہ داری باغ کے مالک پر ہے، اور رات میں جانور کی حفاظت کی ذمہ داری جانور کے مالک پر ہے ۔ ( اگر جانور کے مالک نے رات میں جانور کو آزاد چھوڑ دیا ) اور اس نے کسی کا باغ یا کھیت چر لیا تو نقصان کا معاوضہ جانور کے مالک سے لیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ الأَنْصَارِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ كَانَتْ لَهُ نَاقَةٌ ضَارِيَةٌ فَدَخَلَتْ حَائِطًا فَأَفْسَدَتْ فِيهِ فَكُلِّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا فَقَضَى أَنَّ حِفْظَ الْحَوَائِطِ بِالنَّهَارِ عَلَى أَهْلِهَا وَأَنَّ حِفْظَ الْمَاشِيَةِ بِاللَّيْلِ عَلَى أَهْلِهَا وَأَنَّ عَلَى أَهْلِ الْمَاشِيَةِ مَا أَصَابَتْ مَاشِيَتُهُمْ بِاللَّيْلِ .
#3571
Sahih
Narrated Abu Hurayrah: The Prophet (ﷺ) said: He who has been appointed a judge has been killed without a knife
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قاضی بنا دیا گیا ( گویا ) وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ وَلِيَ الْقَضَاءَ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ " .
#3572
Sahih
Narrated Abu Hurayrah: The Prophet (ﷺ) said: He who has been appointed a judge among the people has been killed without a knife
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص لوگوں کے درمیان قاضی بنا دیا گیا ( گویا ) وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الأَخْنَسِيِّ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، وَالأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ " .
#3573
Sahih
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: The Prophet (ﷺ) said: Judges are of three types, one of whom will go to Paradise and two to Hell. The one who will go to Paradise is a man who knows what is right and gives judgment accordingly; but a man who knows what is right and acts tyrannically in his judgment will go to Hell; and a man who gives judgment for people when he is ignorant will go to Hell. Abu Dawud said: On this subject this is the soundest tradition, that is, the tradition of Ibn Buraidah: Judges are of three types
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک جنتی اور دو جہنمی، رہا جنتی تو وہ ایسا شخص ہو گا جس نے حق کو جانا اور اسی کے موافق فیصلہ کیا، اور وہ شخص جس نے حق کو جانا اور اپنے فیصلے میں ظلم کیا تو وہ جہنمی ہے ۔ اور وہ شخص جس نے نادانی سے لوگوں کا فیصلہ کیا وہ بھی جہنمی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یعنی ابن بریدہ کی تین قاضیوں والی حدیث اس باب میں سب سے صحیح روایت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ السَّمْتِيُّ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْقُضَاةُ ثَلاَثَةٌ وَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ وَاثْنَانِ فِي النَّارِ فَأَمَّا الَّذِي فِي الْجَنَّةِ فَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَقَضَى بِهِ وَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَجَارَ فِي الْحُكْمِ فَهُوَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ قَضَى لِلنَّاسِ عَلَى جَهْلٍ فَهُوَ فِي النَّارِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا أَصَحُّ شَىْءٍ فِيهِ يَعْنِي حَدِيثَ ابْنِ بُرَيْدَةَ " الْقُضَاةُ ثَلاَثَةٌ " .
#3574
Sahih
It was narrated that `Amr bin Al-`As said "The Messenger of Allah said:'If a judge passes a judgment having exerted himself to arrive at what is correct, and he is indeed correct, he will have two rewards. If he passes judgment having exerted himself to arrive at what is correct, but it is incorrect, he will have one reward.'" I narrated it to Abu Bakr bin Hazm and he said: "This is what Abu Salamah narrated to me from Abu Hurairah
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب حاکم ( قاضی ) خوب سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے اور درستگی کو پہنچ جائے تو اس کے لیے دوگنا اجر ہے، اور جب قاضی سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے اور خطا کر جائے تو بھی اس کے لیے ایک اجر ہے ۱؎ ۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کو ابوبکر بن حزم سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے اسی طرح ابوسلمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ " . فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبَا بَكْرِ بْنَ حَزْمٍ فَقَالَ هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
#3575
Daif
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: If anyone seeks the office of judge among Muslims till he gets it and his justice prevails over his tyranny, he will go to Paradise; but the man whose tyranny prevails over his justice will go to Hell
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مسلمانوں کے منصب قضاء کی درخواست کرے یہاں تک کہ وہ اسے پا لے پھر اس کے ظلم پر اس کا عدل غالب آ جائے تو اس کے لیے جنت ہے، اور جس کا ظلم اس کے عدل پر غالب آ جائے تو اس کے لیے جہنم ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مُلاَزِمُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ نَجْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ، يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - وَهُوَ أَبُو كَثِيرٍ - قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ طَلَبَ قَضَاءَ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى يَنَالَهُ ثُمَّ غَلَبَ عَدْلُهُ جَوْرَهُ فَلَهُ الْجَنَّةُ وَمَنْ غَلَبَ جَوْرُهُ عَدْلَهُ فَلَهُ النَّارُ " .