#3501
Sahih
Narrated Anas ibn Malik: During the time of the Messenger of Allah (ﷺ) a man used to buy (goods), and he was weak in his intellect. His people came to the Prophet of Allah (ﷺ) and said: Prophet of Allah, stop so-and-so (to make a bargain) for he buys (goods), but he is weak in his intellect. So the Prophet (ﷺ) called on him and forbade him to make a bargain. He said: Prophet of Allah, I cannot keep away myself from business transactions. Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: If you cannot give up making a bargain , then say: Take , and give, and there is no attempt to deceive
انس بن مالک رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خرید و فروخت کرتا تھا، لیکن اس کی گرہ ( معاملہ کی پختگی میں ) کمی و کمزوری ہوتی تھی تو اس کے گھر والے اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! فلاں ( کے خرید و فروخت ) پر روک لگا دیجئیے، کیونکہ وہ سودا کرتا ہے لیکن اس کی سودا بازی کمزور ہوتی ہے ( جس سے نقصان پہنچتا ہے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے خرید و فروخت کرنے سے منع فرما دیا، اس نے کہا: اللہ کے نبی! مجھ سے خرید و فروخت کئے بغیر رہا نہیں جاتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا اگر تم خرید و فروخت چھوڑ نہیں سکتے تو خرید و فروخت کرتے وقت کہا کرو: نقدا نقدا ہو، لیکن اس میں دھوکا دھڑی نہیں چلے گی ۱؎ ۔ اور ابوثور کی روایت میں ( «أخبرنا سعيد» کے بجائے ) «عن سعيد» ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَرُزِّيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو ثَوْرٍ الْكَلْبِيُّ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - قَالَ مُحَمَّدٌ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ - أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ فَأَتَى أَهْلُهُ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ احْجُرْ عَلَى فُلاَنٍ فَإِنَّهُ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَنَهَاهُ عَنِ الْبَيْعِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي لاَ أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ كُنْتَ غَيْرَ تَارِكٍ الْبَيْعَ فَقُلْ هَاءَ وَهَاءَ وَلاَ خِلاَبَةَ " . قَالَ أَبُو ثَوْرٍ عَنْ سَعِيدٍ .
#3502
Daif
Narrated 'Amr b. Suh'aib: On his father's authority, said that his grandfather told that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade the type of transactions in which earnest money was paid. Malik said: This means, as we think--Allah better knows-that a man buys a slave or hires an animal, and he says: I give you a dinar on condition that if I give up the transaction or hire, what I gave you is yours
عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عربان سے منع فرمایا ہے۔ امام مالک کہتے ہیں: جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں، اور اللہ بہتر جانتا ہے، اس کے معنی یہ ہیں کہ آدمی ایک غلام یا لونڈی خریدے یا جانور کو کرایہ پر لے پھر بیچنے والے یا کرایہ دینے والے سے کہے کہ میں تجھے ( مثلاً ) ایک دینار اس شرط پر دیتا ہوں کہ اگر میں نے یہ سامان یا کرایہ کی سواری نہیں لی تو یہ جو ( دینار ) تجھے دے چکا ہوں تیرا ہو جائے گا ( اور اگر لے لیا تو یہ دینار قیمت یا کرایہ میں کٹ جائے گا ) ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ . قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ - فِيمَا نَرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ - أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الْعَبْدَ أَوْ يَتَكَارَى الدَّابَّةَ ثُمَّ يَقُولُ أُعْطِيكَ دِينَارًا عَلَى أَنِّي إِنْ تَرَكْتُ السِّلْعَةَ أَوِ الْكِرَاءَ فَمَا أَعْطَيْتُكَ لَكَ .
#3503
Sahih
Narrated Hakim ibn Hizam: Hakim asked (the Prophet): Messenger of Allah, a man comes to me and wants me to sell him something which is not in my possession. Should I buy it for him from the market? He replied: Do not sell what you do not possess
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آدمی آتا ہے اور مجھ سے اس چیز کی بیع کرنا چاہتا ہے جو میرے پاس موجود نہیں ہوتی، تو کیا میں اس سے سودا کر لوں، اور بازار سے لا کر اسے وہ چیز دے دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چیز تمہارے پاس موجود نہ ہو اسے نہ بیچو ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَأْتِينِي الرَّجُلُ فَيُرِيدُ مِنِّي الْبَيْعَ لَيْسَ عِنْدِي أَفَأَبْتَاعُهُ لَهُ مِنَ السُّوقِ فَقَالَ " لاَ تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ " .
#3504
Hasan Sahih
Narrated 'Amr b. Suh'aib: On his father's authority, said that his grandfather 'Abd Allah b. 'Amr reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: The proviso of a loan combined with a sale is not allowable, nor two conditions relating to one transaction, nor profit arising from something which is not in one's charge, nor selling what is not in your possession
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ادھار اور بیع ایک ساتھ جائز نہیں ۱؎ اور نہ ہی ایک بیع میں دو شرطیں درست ہیں ۲؎ اور نہ اس چیز کا نفع لینا درست ہے، جس کا وہ ابھی ضامن نہ ہوا ہو، اور نہ اس چیز کی بیع درست ہے جو سرے سے تمہارے پاس ہو ہی نہیں ۳؎ ( کیونکہ چیز کے سامنے آنے کے بعد اختلاف اور جھگڑا پیدا ہو سکتا ہے ) ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِيهِ، حَتَّى ذَكَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ وَلاَ شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ وَلاَ رِبْحُ مَا لَمْ تَضْمَنْ وَلاَ بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ " .
#3505
Sahih Hadith
Narrated Jabir bin ‘Abdullah :I sold it, that is, camel, to the Prophet (ﷺ), but I made the stipulation that I should be allowed to ride it to home. At the end he (the Prophet) said: Do you think that I made this transaction with you so that I take your camel ? Take your camel and its price; both are yours
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اسے ( یعنی اپنا ) اونٹ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیچا اور اپنے سامان سمیت سوار ہو کر اپنے اہل تک پہنچنے کی شرط لگا لی، اور اخیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو کہ میں قیمت کم کرا رہا ہوں تاکہ کم ہی پیسے میں تمہارے اونٹ ہڑپ کر لے جاؤں، جاؤ تم اپنا اونٹ بھی لے جاؤ اور اونٹ کی قیمت بھی، یہ دونوں چیزیں تمہاری ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - عَنْ زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بِعْتُهُ - يَعْنِي بَعِيرَهُ - مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَاشْتَرَطْتُ حُمْلاَنَهُ إِلَى أَهْلِي قَالَ فِي آخِرِهِ " تُرَانِي إِنَّمَا مَاكَسْتُكَ لأَذْهَبَ بِجَمَلِكَ خُذْ جَمَلَكَ وَثَمَنَهُ فَهُمَا لَكَ " .
#3506
Daif
Narrated Uqbah ibn Amir: The Prophet (ﷺ) said: The contractual obligation of a slave is three days
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( بایع پر ) غلام و لونڈی کے عیب کی جواب دہی کی مدت تین دن ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " عُهْدَةُ الرَّقِيقِ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ " .
#3507
Daif
The tradition mentioned above has also been transmitted by Qatadah through a different chain of narrators to the same effect. This version adds:"If he finds defect (in the slave) within three days, he may return it without evidence; if he finds a defect after three days, he will be required to produce evidence that he (the slave) had the defect when he bought it." Abu Dawud said: This explanation is from the words of Qatadah
اس سند سے بھی قتادہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ اگر تین دن کے اندر ہی اس میں کوئی عیب پائے تو وہ اسے بغیر کسی گواہ کے لوٹا دے گا، اور اگر تین دن بعد اس میں کوئی عیب نکلے تو اس سے اس بات پر بینہ ( گواہ ) طلب کیا جائے گا، کہ جب اس نے اسے خریدا تھا تو اس میں یہ بیماری اور یہ عیب موجود تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ تفسیر قتادہ کے کلام کا ایک حصہ ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ زَادَ إِنْ وَجَدَ دَاءً فِي الثَّلاَثِ اللَّيَالِي رُدَّ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ وَإِنْ وَجَدَ دَاءً بَعْدَ الثَّلاَثِ كُلِّفَ الْبَيِّنَةَ أَنَّهُ اشْتَرَاهُ وَبِهِ هَذَا الدَّاءُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا التَّفْسِيرُ مِنْ كَلاَمِ قَتَادَةَ .
#3508
Hasan
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Profit follows responsibility
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خراج ضمان سے جڑا ہوا ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ " .
#3509
Hasan
Narrated Makhlad ibn Khufaf al-Ghifari: I and some people were partners in a slave. I employed him on some work in the absence of one of the partners. He got earnings for me. He disputed me and the case of his claim to his share in the earnings to a judge, who ordered me to return the earnings (i.e. his share) to him. I then came to Urwah ibn az-Zubayr, and related the matter to him. Urwah then came to him and narrated to him a tradition from the Messenger of Allah (ﷺ) on the authority of Aisha: Profit follows responsibility
(مخلد بن خفاف) غفاری کہتے ہیں میرے اور چند لوگوں کے درمیان ایک غلام مشترک تھا، میں نے اس غلام سے کچھ کام لینا شروع کیا اور ہمارا ایک حصہ دار موجود نہیں تھا اس غلام نے کچھ غلہ کما کر ہمیں دیا تو میرا شریک جو غائب تھا اس نے مجھ سے جھگڑا کیا اور معاملہ ایک قاضی کے پاس لے گیا، اس قاضی نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کے حصہ کا غلہ اسے دے دوں، پھر میں عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اسے بیان کیا، تو عروہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور ان سے وہ حدیث بیان کی جو انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی تھی آپ نے فرمایا: منافع اس کا ہو گا جو ضامن ہو گا ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ الْغِفَارِيِّ، قَالَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ أُنَاسٍ شَرِكَةٌ فِي عَبْدٍ فَاقْتَوَيْتُهُ وَبَعْضُنَا غَائِبٌ فَأَغَلَّ عَلَىَّ غَلَّةً فَخَاصَمَنِي فِي نَصِيبِهِ إِلَى بَعْضِ الْقُضَاةِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَرُدَّ الْغَلَّةَ فَأَتَيْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ فَحَدَّثْتُهُ فَأَتَاهُ عُرْوَةُ فَحَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ " .
#3510
Hasan
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: A man bought a slave, and he remained with him as long as Allah wished him to remain. He then found defect in him. He brought his dispute with him to the Prophet (ﷺ) and he returned him to him. The man said: Messenger of Allah, my slave earned some wages. The Messenger of Allah (ﷺ) then said: Profit follows responsibility. Abu Dawud said: This chain of narrators (of this version) is not reliable
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے ایک غلام خریدا، وہ غلام جب تک اللہ کو منظور تھا اس کے پاس رہا، پھر اس نے اس میں کوئی عیب پایا تو اس کا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام بائع کو واپس کرا دیا، تو بائع کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس نے میرے غلام کے ذریعہ کمائی کی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خراج ( منافع ) اس شخص کا حق ہے جو ضامن ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ سند ویسی ( قوی ) نہیں ہے ( جیسی سندوں سے کوئی حدیث ثابت ہوتی ہے)
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ رَجُلاً، ابْتَاعَ غُلاَمًا فَأَقَامَ عِنْدَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُقِيمَ ثُمَّ وَجَدَ بِهِ عَيْبًا فَخَاصَمَهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرَدَّهُ عَلَيْهِ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدِ اسْتَغَلَّ غُلاَمِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا إِسْنَادٌ لَيْسَ بِذَاكَ .
#3511
Sahih
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: Muhammad ibn al-Ash'ath said: Al-Ash'ath bought slaves of booty from Abdullah ibn Mas'ud for twenty thousand (dirhams. Abdullah asked him for payment of their price. He said: I bought them for ten thousand (dirhams). Abdullah said: Appoint a man who may adjudicate between me and you. Al-Ash'ath said: (I appoint) you between me and yourself. Abdullah said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If both parties in a business transaction differ (on the price of an article), and they have witness between them, the statement of the owner of the article will be accepted (as correct) or they may annul the transaction
محمد بن اشعث کہتے ہیں اشعث نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے خمس کے غلاموں میں سے چند غلام بیس ہزار میں خریدے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اشعث سے ان کی قیمت منگا بھیجی تو انہوں نے کہا کہ میں نے دس ہزار میں خریدے ہیں تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کسی شخص کو چن لو جو ہمارے اور تمہارے درمیان معاملے کا فیصلہ کر دے، اشعث نے کہا: آپ ہی میرے اور اپنے معاملے میں فیصلہ فرما دیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب بائع اور مشتری ( بیچنے اور خریدنے والے ) دونوں کے درمیان ( قیمت میں ) اختلاف ہو جائے اور ان کے درمیان کوئی گواہ موجود نہ ہو تو صاحب مال و سامان جو بات کہے وہی مانی جائے گی، یا پھر دونوں بیع کو فسخ کر دیں ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْسِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الأَشْعَثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ اشْتَرَى الأَشْعَثُ رَقِيقًا مِنْ رَقِيقِ الْخُمُسِ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بِعِشْرِينَ أَلْفًا فَأَرْسَلَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَيْهِ فِي ثَمَنِهِمْ فَقَالَ إِنَّمَا أَخَذْتُهُمْ بِعَشْرَةِ آلاَفٍ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَاخْتَرْ رَجُلاً يَكُونُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ . قَالَ الأَشْعَثُ أَنْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِكَ . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ فَهُوَ مَا يَقُولُ رَبُّ السِّلْعَةِ أَوْ يَتَتَارَكَانِ " .
#3512
Sahih
Al-Qasim b. 'Abd al-Rahman reported on the authority of his father:Ibn Mas'ud sold slaves to al-Ash'ath b. Qais. He then narrated the rest of the tradition to the same effect with some variation of words
قاسم بن عبدالرحمٰن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے ایک غلام اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے ہاتھ بیچا، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث الفاظ کی کچھ کمی و بیشی کے ساتھ بیان کی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، بَاعَ مِنَ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ رَقِيقًا فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَالْكَلاَمُ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ .
#3513
Sahih
Narrated Jabir:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: There is the right of option regarding everything which is shared, whether a dwelling or a garden. It is not lawful to sell before informing one's partner, but if he sells without informing him, he has the greatest right to it
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شفعہ ۱؎ ہر مشترک چیز میں ہے، خواہ گھر ہو یا باغ کی چہار دیواری، کسی شریک کے لیے درست نہیں ہے کہ وہ اسے اپنے شریک کو آگاہ کئے بغیر بیچ دے، اور اگر بغیر آگاہ کئے بیچ دیا تو شریک اس کے لینے کا زیادہ حقدار ہے یہاں تک کہ وہ اسے دوسرے کے ہاتھ بیچنے کی اجازت دیدے ۲؎ ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ شِرْكٍ رَبْعَةٍ أَوْ حَائِطٍ لاَ يَصْلُحُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ فَإِنْ بَاعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ حَتَّى يُؤْذِنَهُ " .
#3514
Sahih
Narrated Jabir bin ‘Abdullah :The Messenger of Allah (ﷺ) decreed the right to buy the neighboring property applicable to everything which is not divided, but when boundaries are fixed and separate roads made, there is no option
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ ہر اس چیز میں رکھا ہے، جو تقسیم نہ ہوئی ہو، لیکن جب حد بندیاں ہو گئی ہوں، اور راستے الگ الگ نکا ل دئیے گئے ہوں تو اس میں شفعہ نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ إِنَّمَا جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الشُّفْعَةَ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلاَ شُفْعَةَ .
#3515
Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: When land has been divided and boundaries have been set up, there is no right of pre-emption in it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب زمین کا بٹوارہ ہو چکا ہو اور ہر ایک کی حد بندی کر دی گئی ہو تو پھر اس میں شفعہ نہیں رہا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَوْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَوْ عَنْهُمَا جَمِيعًا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا قُسِّمَتِ الأَرْضُ وَحُدَّتْ فَلاَ شُفْعَةَ فِيهَا " .
#3516
Sahih
Narrated Abu Rafi':The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: A neighbor has the best claim to the house or land of the neighbor
ابورافع رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: پڑوسی اپنے سے لگے ہوئے مکان یا زمین کا زیادہ حقدار ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ، سَمِعَ أَبَا رَافِعٍ، سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ " .
#3517
Sahih
Narrated Samurah: The Prophet (ﷺ) said: A neighbour has the best claim to the house or land of the neighbour
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھر کا پڑوسی پڑوسی کے گھر اور زمین کا زیادہ حقدار ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِدَارِ الْجَارِ أَوِ الأَرْضِ " .
#3518
Sahih
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: The neighbour is most entitled to the right of pre-emption, and he should wait for its exercise even if he is absent, when the two properties have one road
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑوسی اپنے پڑوسی کے شفعہ کا زیادہ حقدار ہے، اگر وہ موجود نہ ہو گا تو شفعہ میں اس کا انتظار کیا جائے گا، جب دونوں ہمسایوں کے آنے جانے کا راستہ ایک ہو ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْجَارُ أَحَقُّ بِشُفْعَةِ جَارِهِ يُنْتَظَرُ بِهَا وَإِنْ كَانَ غَائِبًا إِذَا كَانَ طَرِيقُهُمَا وَاحِدًا " .
#3519
Sahih
Narrated Abu Hurairah:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: If anyone becomes insolvent and the man (i.e. creditor) finds his very property with him, he is more entitled to it than anyone else
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی مفلس ہو جائے، پھر کوئی آدمی اپنا مال اس کے پاس ہو بہو پائے تو وہ ( دوسرے قرض خواہوں کے مقابل میں ) اسے واپس لے لینے کا زیادہ مستحق ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، - الْمَعْنَى - عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَيُّمَا رَجُلٍ أَفْلَسَ فَأَدْرَكَ الرَّجُلُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ " .
#3520
Sahih
Narrated AbuBakr ibn AbdurRahman ibn al-Harith ibn Hisham: The Prophet (ﷺ) said: If a man sells (his) property and the man who buys it becomes insolvent, and the seller does not receive the price of the property he had sold, but finds his very property with him (i.e. the buyer), he is more entitled to it (than others). If the buyer dies, then the owner of the property is equal to the creditors
ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اپنا سامان بیچا اور خریدار مفلس ہو گیا، اور بیچنے والے نے اپنے مال کی کوئی قیمت نہ پائی ہو، اور اس کا سامان خریدار کے پاس بعینہٖ موجود ہو تو وہ اپنا سامان واپس لے لینے کا زیادہ حقدار ہے، اور اگر خریدار مر گیا ہو تو سامان والا دوسرے قرض خواہوں کی طرح ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ مَتَاعًا فَأَفْلَسَ الَّذِي ابْتَاعَهُ وَلَمْ يَقْبِضِ الَّذِي بَاعَهُ مِنْ ثَمَنِهِ شَيْئًا فَوَجَدَ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ وَإِنْ مَاتَ الْمُشْتَرِي فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ " .
#3521
Sahih
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Bakr b. 'Adb al-Rahman b. al-Harith b. Hisham from Messenger of Allah (ﷺ) through a different chain of narrators to the same effect as narrated by Malik. This version adds:"If he paid something from the price (of the property), then he will be equal to the creditors in it
یونس، ابن شہاب سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ مجھے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ ۔ ۔ پھر آگے انہوں نے مالک کی حدیث جیسی روایت ذکر کی، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ اگر مشتری اس مال کی کسی قدر قیمت دے چکا ہے، تو وہ مال والا دوسرے قرض خواہوں کے برابر ہو گا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ وَهْبٍ - أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ زَادَ " وَإِنْ قَضَى مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ فِيهَا " .
#3522
Sahih
A similar tradition (to the No. 3513) has been transmitted by AbuHurayrah from the Prophet (ﷺ). This version has:If he paid something from its price, then he will be equal to the creditors in the remaining price. If a man dies and he has the very property of a man (i.e. seller), he is equal to the creditors whether he (the buyer) pays him (the price) or not. Abu Dawud said: Malik's version of this tradition is sounder
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے: اگر بائع نے اس کی قیمت میں سے کچھ پا لیا ہے تو باقی قرض کے سلسلہ میں وہ دیگر قرض خواہوں کی طرح ہو گا، اور جو شخص مر گیا اور اس کے پاس کسی شخص کی بعینہٖ کوئی چیز نکلی تو اس میں سے اس نے کچھ وصول کیا ہو یا نہ کیا ہو، ہر حال میں وہ دوسرے قرض خواہوں کے برابر ہو گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک کی روایت ( بہ نسبت زبیدی کی روایت کے ) زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، - يَعْنِي الْخَبَائِرِيَّ - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ - عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، - قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ أَبُو الْهُذَيْلِ الْحِمْصِيُّ - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ قَالَ " فَإِنْ كَانَ قَضَاهُ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ وَأَيُّمَا امْرِئٍ هَلَكَ وَعِنْدَهُ مَتَاعُ امْرِئٍ بِعَيْنِهِ اقْتَضَى مِنْهُ شَيْئًا أَوْ لَمْ يَقْتَضِ فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدِيثُ مَالِكٍ أَصَحُّ .
#3523
Daif
Umar ibn Khaldah said:We came to AbuHurayrah who had become insolvent. He said: I shall decide between you on the basis of the decision of the Messenger of Allah (ﷺ): If anyone becomes insolvent or dies and the man (the seller) finds his very property with him, he is more entitled to it (than others)
عمر بن خلدہ کہتے ہیں ہم اپنے ایک ساتھی کے مقدمہ میں جو مفلس ہو گیا تھا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے کہا: میں تمہارا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو مفلس ہو گیا، یا مر گیا، اور بائع نے اپنا مال اس کے پاس بعینہ موجود پایا تو وہ بہ نسبت اور قرض خواہوں کے اپنا مال واپس لے لینے کا زیادہ حقدار ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، هُوَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي الْمُعْتَمِرِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ خَلْدَةَ، قَالَ أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِي صَاحِبٍ لَنَا أَفْلَسَ فَقَالَ لأَقْضِيَنَّ فِيكُمْ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَفْلَسَ أَوْ مَاتَ فَوَجَدَ رَجُلٌ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .
#3524
Hasan
Narrated Amir ash-Sha'bi: The Prophet (ﷺ) said: If anyone finds an animal whose owners were helpless to provide fodder to it and so they turned it out (of their house), and he took it and looked after it, it will belong to him. Abu Dawud said: This is the tradition of Hammad. It is more plain and perfect
عامر شعبی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی ایسا جانور پائے جسے اس کے مالک نے ناکارہ و بوڑھا سمجھ کر دانا و چارہ سے آزاد کر دیا ہو، وہ اسے ( کھلا پلا کر، اور علاج معالجہ کر کے ) تندرست کر لے تو وہ جانور اسی کا ہو جائے گا ۔ عبیداللہ بن حمید بن عبدالرحمٰن حمیری نے کہا: تو میں نے عامر شعبی سے پوچھا: یہ حدیث آپ نے کس سے سنی؟ انہوں نے کہا: میں نے ( ایک نہیں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ سے سنی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حماد کی حدیث ہے، اور یہ زیادہ واضح اور مکمل ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، - قَالَ عَنْ أَبَانَ، أَنَّ عَامِرًا الشَّعْبِيَّ، - حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ وَجَدَ دَابَّةً قَدْ عَجَزَ عَنْهَا أَهْلُهَا أَنْ يَعْلِفُوهَا فَسَيَّبُوهَا فَأَخَذَهَا فَأَحْيَاهَا فَهِيَ لَهُ " . قَالَ فِي حَدِيثِ أَبَانَ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَقُلْتُ عَمَّنْ قَالَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا حَدِيثُ حَمَّادٍ وَهُوَ أَبْيَنُ وَأَتَمُّ .
#3525
Hasan
Narrated ash-Sha'bi: The Prophet (ﷺ) said: If anyone leaves an animal at a place of perishing and another man brings it to life, it belongs to him who brings it to life
شعبی سے روایت ہے، وہ اس حدیث کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو شخص کوئی جانور مر کھپ جانے کے لیے چھوڑ دے اور اسے کوئی دوسرا شخص ( کھلا پلا کر ) تندرست کر لے، تو وہ اسی کا ہو گا جس نے اسے ( کھلا پلا کر ) صحت مند بنایا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حَمَّادٍ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " مَنْ تَرَكَ دَابَّةً بِمُهْلِكٍ فَأَحْيَاهَا رَجُلٌ فَهِيَ لِمَنْ أَحْيَاهَا " .