#3301
Sahih
Narrated Anas b. Malik : The Messenger of Allah (ﷺ) saw a man that he was supported between his sons. He asked about him, and (the people) said: He has taken a vow to walk (on foot). Thereupon he said: Allah has no need that this man should punish himself, and he ordered him to ride. Abu Dawud said: 'Amr b. Abi 'Amir has also narrated a similar tradition from al-A'raj on the authority of Abu Hurairah from the Prophet (ﷺ)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے دونوں بیٹوں کے درمیان ( سہارا لے کر ) چلتے ہوئے دیکھا تو آپ نے اس کے متعلق پوچھا، لوگوں نے بتایا: اس نے ( خانہ کعبہ ) پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے کہ یہ اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالے آپ نے حکم دیا کہ وہ سوار ہو کر جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمرو بن ابی عمرو نے اعرج سے، اعرج نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا : نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ . فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ " . وَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
#3302
Sahih
Narrated Ibn 'Abbas:The Prophet (ﷺ) while going round the Ka'bah passed a man who was led with a ring of bridle in his nose. The Prophet (ﷺ) cut it off with his hand and ordered to lead him by catching his hand
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کا طواف کرتے ہوئے ایک ایسے انسان کے پاس سے گزرے جس کی ناک میں ناتھ ڈال کر لے جایا جا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس کی ناتھ کاٹ دی، اور حکم دیا کہ اس کا ہاتھ پکڑ کر لے جاؤ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي الأَحْوَلُ، أَنَّ طَاوُسًا، أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، : أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ يَقُودُهُ بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ، فَقَطَعَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ وَأَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ .
#3303
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: The sister of Uqbah ibn Amir took a vow that she would perform hajj on foot, and she was unable to do so. The Prophet (ﷺ) said: Allah is not in need of the walking of your sister. She must ride and offer a sacrificial camel
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی اور پیدل جانے کی طاقت نہیں رکھتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے ) کہا: اللہ تعالیٰ کو تمہاری بہن کے پیدل جانے کی پرواہ نہیں، ( تم اپنی بہن سے کہو کہ ) وہ سوار ہو جائیں اور ( نذر کے کفارہ کے طور پر ) ایک اونٹ کی قربانی دے دیں ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِي ابْنَ طَهْمَانَ - عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، : أَنَّ أُخْتَ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ، مَاشِيَةً وَأَنَّهَا لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : " إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ مَشْىِ أُخْتِكَ، فَلْتَرْكَبْ وَلْتُهْدِ بَدَنَةً " .
#3304
Sahih
Narrated Uqbah ibn Amir al-Juhani: Uqbah said to the Prophet (ﷺ): My sister has taken a vow that she will walk to the House of Allah (the Ka'bah). Thereupon he said: Allah will not do anything of the walking of your sister to the House of Allah (i.e. the Ka'bah)
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میری بہن نے بیت اللہ پیدل جانے کی نذر مانی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری بہن کے پیدل بیت اللہ جانے کا اللہ کوئی ثواب نہ دے گا ۔
حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم : إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ . فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لاَ يَصْنَعُ بِمَشْىِ أُخْتِكَ إِلَى الْبَيْتِ شَيْئًا " .
#3305
Sahih
Narrated Jabir ibn Abdullah: A man stood on the day of Conquest (of Mecca) and said: Messenger of Allah, I have vowed to Allah that if He grants conquest of Mecca at your hands, I shall pray two rak'ahs in Jerusalem. He replied: Pray here. He repeated (his statement) to him and he said: Pray here. He again repeated (his statement) to him. He (the Prophet) replied: Pursue your own course, then. Abu Dawud said: A similar tradition has been narrated by 'Abd al-Rahman b. 'Awf from the Prophet (ﷺ)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں نے اللہ سے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے آپ کو مکہ پر فتح نصیب کیا تو میں بیت المقدس میں دو رکعت ادا کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہیں پڑھ لو ( یعنی مسجد الحرام میں اس لیے کہ اس سے افضل ہے اور سہل تر ہے ) ، اس نے پھر وہی بات دہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: یہیں پڑھ لو پھر اس نے ( سہ بارہ ) وہی بات پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تمہاری مرضی ( چاہو تو یہاں پڑھ لو اور بیت المقدس جانا چاہو تو وہاں چلے جاؤ ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، : أَنَّ رَجُلاً، قَامَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ لِلَّهِ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكَ مَكَّةَ أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ رَكْعَتَيْنِ . قَالَ : " صَلِّ هَا هُنَا " ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ فَقَالَ : " صَلِّ هَا هُنَا " ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ فَقَالَ : " شَأْنَكَ إِذًا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رُوِيَ نَحْوُهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
#3306
Daif Isnaad
The tradition mentioned above (No.3299) has also been transmitted by Umar ibn Abd al-Rahman ibn Awf on the authority of his father and the Companions of the Prophet (ﷺ). This version has:"The Prophet (ﷺ) said: By Him Who sent Muhammad with truth, if you prayed here, this would be sufficient for you like the prayer in Jerusalem." Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by al-Ansari, from Ibn-Juraij. He said: Ja'far b. 'Umar and 'Amr b. Hayyah. He said: They transmitted from 'Abd al-Rahman b. 'Awf and from the Companions of the Prophet (ﷺ)
عمر بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بعض صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں اتنا اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر تم یہاں ( یعنی مسجد الحرام میں ) نماز پڑھ لیتے تو تمہارے بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی جگہ پر کافی ہوتا ( وہاں جانے کی ضرورت نہ رہتی ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے انصاری نے ابن جریج سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے حفص بن عمر کے بجائے جعفر بن عمر کہا ہے اور عمرو بن حنۃ کے بجائے عمر بن حیۃ کہا ہے: اور کہا ہے ان دونوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، - الْمَعْنَى - قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ حَفْصَ بْنَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَعَمْرًا، وَقَالَ، عَبَّاسٌ : ابْنَ حَنَّةَ أَخْبَرَاهُ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ رِجَالٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْخَبَرِ . زَادَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ لَوْ صَلَّيْتَ هَا هُنَا لأَجْزَأَ عَنْكَ صَلاَةً فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ الأَنْصَارِيُّ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ فَقَالَ جَعْفَرُ بْنُ عَمْرٍو، وَقَالَ عَمْرُو بْنُ حَيَّةَ وَقَالَ أَخْبَرَاهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَعَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
#3307
Sahih
Narrated Ibn 'Abbas:Sa'd b. 'Ubadah asked the Messenger of Allah (ﷺ): My Mother has died and she could not fulfill her vow which she had taken. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Fulfill it on her behalf
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا اور کہا کہ میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے اور ان کے ذمہ ایک نذر تھی جسے وہ پوری نہ کر سکیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کی جانب سے پوری کر دو ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، : أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ : إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ لَمْ تَقْضِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْضِهِ عَنْهَا " .
#3308
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: A woman made a voyage and vowed that she would fast one month if Allah made her reach her destination with peace and security. Allah made her reach her destination with security but she died before she could fast. Her daughter or sister (the narrator doubted) came to the Messenger of Allah (ﷺ). So he commanded to fast on her behalf
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت بحری سفر پر نکلی اس نے نذر مانی کہ اگر وہ بخیریت پہنچ گئی تو وہ مہینے بھر کا روزہ رکھے گی، اللہ تعالیٰ نے اسے بخیریت پہنچا دیا مگر روزہ نہ رکھ پائی تھی کہ موت آ گئی، تو اس کی بیٹی یا بہن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( مسئلہ پوچھنے ) آئی تو اس کی جانب سے آپ نے اسے روزے رکھنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، : أَنَّ امْرَأَةً، رَكِبَتِ الْبَحْرَ فَنَذَرَتْ إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ أَنْ تَصُومَ شَهْرًا، فَنَجَّاهَا اللَّهُ فَلَمْ تَصُمْ حَتَّى مَاتَتْ، فَجَاءَتِ ابْنَتُهَا أَوْ أُخْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَهَا أَنْ تَصُومَ عَنْهَا .
#3309
Sahih
Narrated Buraidah:A woman came to the Prophet (ﷺ) and said: I gave a slave girl to my mother, but she died and left the salve-girl. He said: Your reward became certain for you, and she (the slave-girl) returned to you as inheritance. She said: She died and one month's fast was due from her. He (the narrator) then mentioned the tradition similar to the one mentioned by 'Amr b. 'Awn
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا: میں نے ایک باندی اپنی والدہ کو دی تھی، اب وہ مر گئیں اور وہی باندی چھوڑ گئیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں تمہارا اجر مل گیا اور باندی بھی تمہیں وراثت میں مل گئی اس نے کہا: وہ مر گئیں اور ان کے ذمہ ایک مہینے کا روزہ تھا، پھر عمرو ( عمرو بن عون ) کی حدیث ( نمبر ۳۳۰۸ ) کی طرح ذکر کیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، بُرَيْدَةَ : أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ : كُنْتُ تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِوَلِيدَةٍ، وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَتَرَكَتْ تِلْكَ الْوَلِيدَةَ . قَالَ : " قَدْ وَجَبَ أَجْرُكِ، وَرَجَعَتْ إِلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ " . قَالَتْ : وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ . فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَمْرٍو .
#3310
Sahih
Narrated Ibn 'Abbas:A woman came to the Prophet (ﷺ) and said (to him) that one month's fast was due from her mother who had died. May I fulfill them on her behalf? He asked: Suppose some debt was due from your mother, would you pay it ? She replied: Yes. He said: So the debt due to Allah is the one which most deserves to be paid
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا کہ میری والدہ کے ذمے ایک مہینے کے روزے تھے کیا میں اس کی جانب سے رکھ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اگر تمہاری والدہ کے ذمہ قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتی؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا قرض تو اور بھی زیادہ ادا کئے جانے کا مستحق ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ سَمِعْتُ الأَعْمَشَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، - الْمَعْنَى - عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، : أَنَّ امْرَأَةً، جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ : إِنَّهُ كَانَ عَلَى أُمِّهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا فَقَالَ : " لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَتَهُ " . قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى " .
#3311
Sahih
Narrated 'Aishah:The Prophet (ﷺ) as saying: If anyone dies when some fast due from him has been unfulfilled, his heir must fast on his behalf
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مر جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ : " مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ " .
#3312
Hasan Sahih
Narrated 'Amr b. Suh'aib: On his father's authority, said that his grandfather said: A woman came to the Prophet (ﷺ) and said: Messenger of Allah, I have taken a vow to play the tambourine over you. He said: Fulfil your vow. She said: And I have taken a vow to perform a sacrifice in such a such a place, a place in which people had performed sacrifices in pre-Islamic times. He asked: For an Idol? She replied: No. He asked: For an image? She replied: No. He said: Fulfil your vow
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی ہے کہ میں آپ کے سر پر دف بجاؤں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( بجا کر ) اپنی نذر پوری کر لو اس نے کہا: میں نے ایسی ایسی جگہ قربانی کرنے کی نذر ( بھی ) مانی ہے جہاں جاہلیت کے زمانہ کے لوگ ذبح کیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا کسی صنم ( بت ) کے لیے؟ اس نے کہا: نہیں، پوچھا: کسی وثن ( بت ) کے لیے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی نذر پوری کر لو ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو قُدَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، : أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَضْرِبَ عَلَى رَأْسِكَ بِالدُّفِّ . قَالَ : " أَوْفِي بِنَذْرِكِ " . قَالَتْ : إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَذْبَحَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا، مَكَانٌ كَانَ يَذْبَحُ فِيهِ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ . قَالَ : " لِصَنَمٍ " . قَالَتْ : لاَ . قَالَ : " لِوَثَنٍ " . قَالَتْ : لاَ . قَالَ : " أَوْفِي بِنَذْرِكِ " .
#3313
Sahih
Narrated Thabit ibn ad-Dahhak: In the time of the Prophet (ﷺ) a man took a vow to slaughter a camel at Buwanah. So he came to the Prophet (ﷺ) and said: I have taken a vow to sacrifice a camel at Buwanah. The Prophet (ﷺ) asked: Did the place contain any idol worshipped in pre-Islamic times? They (the people) said: No. He asked: Was any pre-Islamic festival observed there? They replied: No. The Prophet (ﷺ) said: Fulfil your vow, for a vow to do an act of disobedience to Allah must not be fulfilled, neither must one do something over which a human being has no control
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ثابت بن ضحاک نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ بوانہ ( ایک جگہ کا نام ہے ) میں اونٹ ذبح کرے گا تو وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں نے بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت وہاں تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کفار کی عیدوں میں سے کوئی عید وہاں منائی جاتی تھی؟ لوگوں نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی نذر پوری کر لو البتہ گناہ کی نذر پوری کرنا جائز نہیں اور نہ اس چیز میں نذر ہے جس کا آدمی مالک نہیں ۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو قِلاَبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ، قَالَ : نَذَرَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَنْحَرَ إِبِلاً بِبُوَانَةَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ : إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ إِبِلاً بِبُوَانَةَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : " هَلْ كَانَ فِيهَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاهِلِيَّةِ يُعْبَدُ " . قَالُوا : لاَ . قَالَ : " هَلْ كَانَ فِيهَا عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِهِمْ " . قَالُوا : لاَ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " أَوْفِ بِنَذْرِكَ، فَإِنَّهُ لاَ وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلاَ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ " .
#3314
Sahih
Narrated Maymunah, daughter of Kardam: I went out with my father to see the hajj performed by the Messenger of Allah (ﷺ). I saw the Messenger of Allah (ﷺ). I fixed my eyes on him. My father came near him while he was riding his she-camel. He had a whip like the whip of scribes. I heard the bedouin and the people say: The whip, the whip. My father came near him and held his foot. She said: He admitted his Prophethood and stood and listened to him. He said: Messenger of Allah, I have made a vow that if a son is born to me, I shall slaughter a number of sheep at the end of Buwanah in the dale of hill. The narrator said: I do not know (for certain) that she said: Fifty (sheep). The Messenger of Allah (ﷺ) said: Does it contain any idol? He said: No. Then he said: Fulfil your vow that you have taken for Allah. He then gathered them (i.e. the sheep) and began to slaughter them. A sheep ran away from them. He searched for it saying: O Allah, fulfil my vow on my behalf. So he succeeded (in finding it) and slaughtered it
میمونہ بنت کردم کہتی ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلی، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، اور لوگوں کو کہتے ہوئے سنا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، میں نے آپ پر اپنی نظریں گاڑ دیں، میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہوئے آپ اپنی ایک اونٹنی پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معلمین مکتب کے درہ کے طرح ایک درہ تھا، میں نے بدویوں اور لوگوں کو کہتے ہوئے سنا: شن شن ( درے کی آواز جو تیزی سے مارتے اور گھماتے وقت نکلتی ہے ) تو میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہو گئے اور ( جا کر ) آپ کے قدم پکڑ لیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اعتراف و اقرار کیا، آپ کھڑے ہو گئے اور ان کی باتیں آپ نے توجہ سے سنیں، پھر انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی ہے کہ اگر میرے یہاں لڑکا پیدا ہو گا تو میں بوانہ کی دشوار گزار پہاڑیوں میں بہت سی بکریوں کی قربانی کروں گا۔ راوی کہتے ہیں: میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے پچاس بکریاں کہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا وہاں کوئی بت بھی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اللہ کے لیے جو نذر مانی ہے اسے پوری کرو انہوں نے ( بکریاں ) اکٹھا کیں، اور انہیں ذبح کرنے لگے، ان میں سے ایک بکری بدک کر بھاگ گئی تو وہ اسے ڈھونڈنے لگے اور کہہ رہے تھے اے اللہ! میری نذر پوری کر دے پھر وہ اسے پا گئے تو ذبح کیا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مِقْسَمٍ الثَّقَفِيُّ، مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ قَالَ حَدَّثَتْنِي سَارَّةُ بِنْتُ مِقْسَمٍ الثَّقَفِيِّ، أَنَّهَا سَمِعَتْ مَيْمُونَةَ بِنْتَ كَرْدَمٍ، قَالَتْ : خَرَجْتُ مَعَ أَبِي فِي حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ : رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلْتُ أُبِدُّهُ بَصَرِي، فَدَنَا إِلَيْهِ أَبِي وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ مَعَهُ دِرَّةٌ كَدِرَّةِ الْكُتَّابِ، فَسَمِعْتُ الأَعْرَابَ وَالنَّاسَ يَقُولُونَ : الطَّبْطَبِيَّةَ الطَّبْطَبِيَّةَ، فَدَنَا إِلَيْهِ أَبِي فَأَخَذَ بِقَدَمِهِ قَالَتْ : فَأَقَرَّ لَهُ وَوَقَفَ فَاسْتَمَعَ مِنْهُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ إِنْ وُلِدَ لِي وَلَدٌ ذَكَرٌ أَنْ أَنْحَرَ عَلَى رَأْسِ بُوَانَةَ فِي عَقَبَةٍ مِنَ الثَّنَايَا عِدَّةً مِنَ الْغَنَمِ . قَالَ : لاَ أَعْلَمُ إِلاَّ أَنَّهَا قَالَتْ خَمْسِينَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " هَلْ بِهَا مِنَ الأَوْثَانِ شَىْءٌ " . قَالَ : لاَ . قَالَ : " فَأَوْفِ بِمَا نَذَرْتَ بِهِ لِلَّهِ " . قَالَتْ : فَجَمَعَهَا فَجَعَلَ يَذْبَحُهَا فَانْفَلَتَتْ مِنْهَا شَاةٌ فَطَلَبَهَا، وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ أَوْفِ عَنِّي نَذْرِي . فَظَفِرَهَا فَذَبَحَهَا .
#3315
Sahih
A similar tradition has also been transmitted in brief by Maimunah daughter of Kardam son of Sufyan on the authority of her father through a different chain of narrators. This version adds:(The Prophet asked): Does it contain an idol or was a festival of pre-Islamic times celebrated there ? He replied: No. I said: This mother of mine has taken a vow and walking (is binding on her). May I fulfill it on her behalf ? Sometimes the narrator Bashshar said: May we fulfill in on her behalf ? He said: Yes
میمونہ اپنے والد کردم بن سفیان سے اسی جیسی لیکن اس سے قدرے اختصار کے ساتھ روایت کرتی ہیں آپ نے پوچھا: کیا وہاں کوئی بت ہے یا جاہلیت کی عیدوں میں سے کوئی عید ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: یہ میری والدہ ہیں ان کے ذمہ نذر ہے، اور پیدل حج کرنا ہے، کیا میں اسے ان کی طرف سے پورا کر دوں؟ اور ابن بشار نے کبھی یوں کہا ہے: کیا ہم ان کی طرف سے اسے پورا کر دیں؟ ( جمع کے صیغے کے ساتھ ) آپ نے فرمایا: ہاں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهَا، نَحْوَهُ مُخْتَصَرٌ مِنْهُ شَىْءٌ قَالَ : " هَلْ بِهَا وَثَنٌ أَوْ عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِ الْجَاهِلِيَّةِ " . قَالَ : لاَ . قُلْتُ : إِنَّ أُمِّي هَذِهِ عَلَيْهَا نَذْرٌ وَمَشْىٌ أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا وَرُبَّمَا قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ : أَنَقْضِيهِ عَنْهَا قَالَ : " نَعَمْ " .
#3316
Sahih
Imran b. Husain said:'Adba belonged to a man of Banu 'Aqil. It used to go ahead of pligrims. The man was then captivated. He was brought in chains to the Prophet (ﷺ). The Prophet (ﷺ) was riding on a donkey with a blanket on him. He said: Muhammad, why do you arrest me and capture the one (i.e. the she-camel) which goes ahead of the pilgrims. He replied: We are arresting you on account of the crime committed by your allies Thaqid. Thaqif captivated two persons from among the Companions of the Prophet (ﷺ). He said (whatever he said) I am a Muslim, or he said: I have embraced Islam. When the Prophet (ﷺ) went ahead, he called him: O Muhammed, O Muhammed. Abu Dawud said: I learnt it from the version of the narrator Muhammad b. 'Isa. The Prophet (ﷺ) was compassionate and kind hearted. So he returned to him, and asked: What is the matter with you ? He replied: I am a Muslim. He said: Had you said it when the matter was in your hand, you would have succeeded completely. Abu Dawud said: I then returned to the version of the narrator Sulaiman (b. Harb). He said: Muhammad, I am hungry, so feed me. I am thirsty, so give me water. The Prophet (ﷺ) said: This is your need, or he said: This is his need (the narrator is doubtful). Later on the man was taken back (by Thaqif) as a ransom for the two men (of the Companions of the Prophet). The Prophet (ﷺ) retained 'Adba for his journey. The narrator said: The polytheists raided the pasturing animals of Medina and they took away 'Adba. When they took away 'Adba, they also captivated a Muslim woman. They used to leave their camels in the fields for rest at night. One night they slept and the (Muslim) woman stood up. Any camel on which she put her hand brayed until she came to 'Adba. She came to a she-camel which was docile and experienced. She then rode on her and vowed to Allah that if He saved her, she would sacrifice it. When she came to Medina, the people recognized the she-camel of the Prophet (ﷺ). The Prophet (ﷺ) was then informed about it and he sent for her. She was brought to him and she informed him about her vow. He said: It is a bad return that you have given it. Allah has not saved you, on its (back) that you now sacrifice it. A vow to do an act of disobedience must not be fulfilled, or to do something over which one has no control. Abu Dawud said: This woman was the wife of Abu Dharr
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عضباء ۱؎ بنو عقیل کے ایک شخص کی تھی، حاجیوں کی سواریوں میں آگے چلنے والی تھی، وہ شخص گرفتار کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بندھا ہوا لایا گیا، اس وقت آپ ایک گدھے پر سوار تھے اور آپ ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے، اس نے کہا: محمد! آپ نے مجھے اور حاجیوں کی سواریوں میں آگے جانے والی میری اونٹنی ( عضباء ) کو کس بنا پر پکڑ رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نے تمہارے حلیف ثقیف کے گناہ کے جرم میں پکڑ رکھا ہے ۔ راوی کہتے ہیں: ثقیف نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو شخصوں کو قید کر لیا تھا۔ اس نے جو بات کہی اس میں یہ بات بھی کہی کہ میں مسلمان ہوں، یا یہ کہا کہ میں اسلام لے آیا ہوں، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے ( آپ نے کوئی جواب نہیں دیا ) تو اس نے پکارا: اے محمد! اے محمد! عمران کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رحم دل اور نرم مزاج تھے، اس کے پاس لوٹ آئے، اور پوچھا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: میں مسلمان ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم یہ پہلے کہتے جب تم اپنے معاملے کے مختار تھے تو تم بالکل بچ جاتے اس نے کہا: اے محمد! میں بھوکا ہوں، مجھے کھانا کھلاؤ، میں پیاسا ہوں مجھے پانی پلاؤ۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: یہی تمہارا مقصد ہے یا: یہی اس کا مقصد ہے ۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ دو آدمیوں کے بدلے فدیہ میں دے دیا گیا ۲؎ اور عضباء کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کے لیے روک لیا ( یعنی واپس نہیں کیا ) ۔ پھر مشرکین نے مدینہ کے جانوروں پر حملہ کیا اور عضباء کو پکڑ لے گئے، تو جب اسے لے گئے اور ایک مسلمان عورت کو بھی پکڑ لے گئے، جب رات ہوتی تو وہ لوگ اپنے اونٹوں کو اپنے کھلے میدانوں میں سستانے کے لیے چھوڑ دیتے، ایک رات وہ سب سو گئے، تو عورت ( نکل بھاگنے کے ارادہ ) سے اٹھی تو وہ جس اونٹ پر بھی ہاتھ رکھتی وہ بلبلانے لگتا یہاں تک کہ وہ عضباء کے پاس آئی، وہ ایک سیدھی سادی سواری میں مشاق اونٹنی کے پاس آئی اور اس پر سوار ہو گئی اس نے نذر مان لی کہ اگر اللہ نے اسے بچا دیا تو وہ اسے ضرور قربان کر دے گی۔ جب وہ مدینہ پہنچی تو اونٹنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی حیثیت سے پہچان لی گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی گئی، آپ نے اسے بلوایا، چنانچہ اسے بلا کر لایا گیا، اس نے اپنی نذر کے متعلق بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کتنا برا ہے جو تم نے اسے بدلہ دینا چاہا، اللہ نے اسے اس کی وجہ سے نجات دی ہے تو وہ اسے نحر کر دے، اللہ کی معصیت میں نذر کا پورا کرنا نہیں اور نہ ہی نذر اس مال میں ہے جس کا آدمی مالک نہ ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عورت ابوذر کی بیوی تھیں۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، : قَالَ كَانَتِ الْعَضْبَاءُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي عَقِيلٍ وَكَانَتْ مِنْ سَوَابِقِ الْحَاجِّ قَالَ : فَأُسِرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي وَثَاقٍ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ عَلاَمَ تَأْخُذُنِي وَتَأْخُذُ سَابِقَةَ الْحَاجِّ قَالَ : " نَأْخُذُكَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ ثَقِيفٍ " . قَالَ : وَكَانَ ثَقِيفٌ قَدْ أَسَرُوا رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ : وَقَدْ قَالَ فِيمَا قَالَ : وَأَنَا مُسْلِمٌ أَوْ قَالَ : وَقَدْ أَسْلَمْتُ . فَلَمَّا مَضَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم - قَالَ أَبُو دَاوُدَ : فَهِمْتُ هَذَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى - نَادَاهُ يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ . قَالَ : وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَحِيمًا رَفِيقًا فَرَجَعَ إِلَيْهِ قَالَ : " مَا شَأْنُكَ " . قَالَ : إِنِّي مُسْلِمٌ . قَالَ : " لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلاَحِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى حَدِيثِ سُلَيْمَانَ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي إِنِّي ظَمْآنٌ فَاسْقِنِي . قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : " هَذِهِ حَاجَتُكَ " . أَوْ قَالَ : " هَذِهِ حَاجَتُهُ " . قَالَ : فَفُودِيَ الرَّجُلُ بَعْدُ بِالرَّجُلَيْنِ . قَالَ : وَحَبَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَضْبَاءَ لِرَحْلِهِ - قَالَ - فَأَغَارَ الْمُشْرِكُونَ عَلَى سَرْحِ الْمَدِينَةِ فَذَهَبُوا بِالْعَضْبَاءِ - قَالَ - فَلَمَّا ذَهَبُوا بِهَا وَأَسَرُوا امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ - قَالَ - فَكَانُوا إِذَا كَانَ اللَّيْلُ يُرِيحُونَ إِبِلَهُمْ فِي أَفْنِيَتِهِمْ - قَالَ - فَنُوِّمُوا لَيْلَةً وَقَامَتِ الْمَرْأَةُ فَجَعَلَتْ لاَ تَضَعُ يَدَهَا عَلَى بَعِيرٍ إِلاَّ رَغَا حَتَّى أَتَتْ عَلَى الْعَضْبَاءِ - قَالَ - فَأَتَتْ عَلَى نَاقَةٍ ذَلُولٍ مُجَرَّسَةٍ - قَالَ - فَرَكِبَتْهَا ثُمَّ جَعَلَتْ لِلَّهِ عَلَيْهَا إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ لَتَنْحَرَنَّهَا - قَالَ - فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ عُرِفَتِ النَّاقَةُ نَاقَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، فَجِيءَ بِهَا وَأُخْبِرَ بِنَذْرِهَا فَقَالَ : " بِئْسَمَا جَزَيْتِيهَا " . أَوْ : " جَزَتْهَا " . : " إِنِ اللَّهُ أَنْجَاهَا عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا، لاَ وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلاَ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَالْمَرْأَةُ هَذِهِ امْرَأَةُ أَبِي ذَرٍّ .
#3317
Sahih
Narrated Ka'b ibn Malik: I said: Messenger of Allah, to make my repentance complete I should divest myself of my property as sadaqah (alms) for Allah and His Apostle. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Retain some of your property, for that will be better for you. So he said: I shall retain the portion I have at Khaybar
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ یہ ہے کہ میں اپنے سارے مال سے دستبردار ہو کر اسے اللہ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کر دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کچھ مال اپنے لیے روک لو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے تو میں نے عرض کیا: میں اپنا خیبر کا حصہ اپنے لیے روک لیتا ہوں۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَابْنُ السَّرْحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، - وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ - عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ " . قَالَ فَقُلْتُ : إِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِيَ الَّذِي بِخَيْبَرَ .
#3318
Sahih
Narrated Ka'b bin Malik:To the Messenger of Allah (ﷺ) when his repentance was accepted: I should divest myself of my property. He then mentioned a similar tradition up to the words, "better for you
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب ان کی توبہ قبول ہو گئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں اپنے مال سے دستبردار ہو جاتا ہوں، پھر آگے راوی نے اسی طرح حدیث بیان کی: «خير لك» تک۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ تِيبَ عَلَيْهِ : إِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي . فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَى : " خَيْرٌ لَكَ " .
#3319
Sahih Isnaad
Narrated Ka'b ibn Malik: Ka'b ibn Malik said to AbuLubabah; or someone else whom Allah wished; or to the Prophet (ﷺ): To make my repentance complete I should depart from the house of my people in which I fell into sin, and that I should divest myself of all my property as sadaqah (alms). He said: A third (of your property) will be sufficient for you
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں انہوں نے یا ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے یا کسی اور نے جسے اللہ نے چاہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میری توبہ میں شامل ہے کہ میں اپنے اس گھر سے جہاں مجھ سے گناہ سرزد ہوا ہے ہجرت کر جاؤں اور اپنے سارے مال کو صدقہ کر کے اس سے دستبردار ہو جاؤں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس ایک ثلث کا صدقہ کر دینا تمہیں کافی ہو گا ۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَوْ أَبُو لُبَابَةَ أَوْ مَنْ شَاءَ اللَّهُ : إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي الَّتِي أَصَبْتُ فِيهَا الذَّنْبَ، وَأَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي كُلِّهِ صَدَقَةً . قَالَ : " يُجْزِئُ عَنْكَ الثُّلُثُ " .
#3320
Daif Isnaad
This tradition has also been transmitted by Ibn Ka'b b. Malik through a different chain of narrators. This version has:"He then mentioned the tradition to the same effect. This versions attributes this story to Abu Lubabah." Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Yunus from Ibn Shihab from some of the children of al-Sa'ib son of Abu Lubabah. A similar tradition has also been transmitted by al-Zabidi from al-Zuhri from Husain b. al-Sa'ib son of Abu Lubabah
زہری کہتے ہیں: مجھے ابن کعب بن مالک نے خبر دی ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ ابولبابہ رضی اللہ عنہ تھے پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی اور واقعہ ابولبابہ کا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یونس نے ابن شہاب سے اور ابن شہاب نے سائب بن ابولبابہ کے بیٹوں میں سے کسی سے روایت کیا ہے نیز اسے زبیدی نے زہری سے، زہری نے حسین بن سائب بن ابی لبابہ سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : كَانَ أَبُو لُبَابَةَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَالْقِصَّةُ لأَبِي لُبَابَةَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ بَعْضِ بَنِي السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، وَرَوَاهُ الزُّبَيْدِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ مِثْلَهُ .
#3321
Hasan Sahih
Narrated Ka'b ibn Malik: I said: Messenger of Allah, to make my atonement complete I should divest myself of my all property as sadaqah (alms) for Allah and His apostle. He said: No. I said: The half of it. He said: No. I said: Then a third of it. He said: Yes. I said: I shall retain the portion I have at Khaybar
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے اسی قصہ میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں یہ شامل ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں اپنا سارا مال صدقہ کر دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں میں نے کہا: نصف صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں میں نے کہا: ثلث صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں میں نے کہا: تو میں اپنا خیبر کا حصہ روک لیتا ہوں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، فِي قِصَّتِهِ قَالَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي إِلَى اللَّهِ أَنْ أَخْرُجَ مِنْ مَالِي كُلِّهِ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ صَدَقَةً . قَالَ : " لاَ " . قُلْتُ : فَنِصْفَهُ . قَالَ : " لاَ " . قُلْتُ : فَثُلُثَهُ . قَالَ : " نَعَمْ " . قُلْتُ : فَإِنِّي سَأُمْسِكُ سَهْمِي مِنْ خَيْبَرَ .
#3322
Daif
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: If anyone takes a vow but does not name it, its atonement is the same as that for an oath, if anyone takes a vow to do an act of disobedience, its atonement is the same as that for an oath, if anyone takes a vow he is unable to fulfill, its atonement is the same as that for an oath, but if anyone takes a vow he is able to fulfill, he must do so. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Waki' and others on the authority of 'Abd Allah b. Sa'id b. Abi al-Hind, but they traced it no farther back than Ibn 'Abbas
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غیر نامزد نذر مانے تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے اور جو کسی گناہ کی نذر مانے تو اس کا ( بھی ) کفارہ وہی ہے جو قسم کا ہے، اور جو کوئی ایسی نذر مانے جسے پوری کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے، اور جو کوئی ایسی نذر مانے جسے وہ پوری کر سکتا ہو تو وہ اسے پوری کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وکیع وغیرہ نے اس حدیث کو عبداللہ بن سعید ( بن ابوہند ) سے ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوفاً روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى الأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ : " مَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَمْ يُسَمِّهِ فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا فِي مَعْصِيَةٍ فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا لاَ يُطِيقُهُ فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا أَطَاقَهُ فَلْيَفِ بِهِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ وَكِيعٌ وَغَيْرُهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْهِنْدِ أَوْقَفُوهُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ .
#3323
Sahih
Narrated 'Uqbah bin 'Amir: The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: The atonement for a vow is the same as for an oath. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by 'Amr b. al-Harith from Ka'b b. 'Alqamah, from Ibn Shamasah on the authority of 'Uqbah
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عمرو بن حارث نے کعب بن علقمہ سے انہوں نے ابن شماسہ سے اور ابن شہاب نے عقبہ سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، - يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ - عَنْ مُحَمَّدٍ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنِ ابْنِ شِمَاسَةَ عَنْ عُقْبَةَ .
#3324
Daif
A similar tradition has also been transmitted by 'Uqbah b. 'Amir from the Prophet (ﷺ) through a different chain of narrators
اس سند سے بھی عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْحَكَمِ، حَدَّثَهُمْ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِمَاسَةَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ .
#3325
Sahih
Narrated Ibn 'Umar:That 'Umar said: Messenger of Allah, I took a vow in pre-Islamic times that I would stay in the sacred mosque (Masjid Haram) as a devotion (i'tikaf). The Prophet (ﷺ) said: Fulfill your vow
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے زمانہ جاہلیت میں مسجد الحرام میں ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اپنی نذر پوری کر لو ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ لَيْلَةً . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : " أَوْفِ بِنَذْرِكَ " .